سیّد احتشام حسین

(1972 – 1912)
پروفیسرسیّد احتشام حسین کی پیدائش قصبہ ماہل، ضلع اعظم گڑھ (یوپی) میں ہوئی۔ یہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے الہ آباد آگئے۔ یہیں ان کا انتقال ہوا۔احتشام حسین کا شمار اردو کے صف اوّل کے نقّادوں میں ہوتا ہے۔ وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنّف تھے۔ ’تنقیدی جائزے‘،’روایت اور بغاوت‘ ،’ادب اور سماج‘،’ذوقِ ادب اور شعور‘ ، ’افکار و مسائل‘ اور ’اعتبارِ نظر‘ ان کی اہم کتابیں ہیں۔انھوں نے امریکہ اور یورپ کا ایک سفر نامہ بھی لکھا ہے۔انھوں نے بچّوں کے لیے’’ اردو کی کہانی‘‘ لکھی۔ اس کتاب میں اردو زبان اور ادب کی تاریخ مختصر طور سے بہت ہی آسان اور دلچسپ انداز میں بیان کی گئی ہے ۔
یہ سبق ان کی کتاب ’اردو کی کہانی‘سے لیا گیا ہے۔
زبانوں کا گھر ، ہندوستان
ہندوستان ایک لمبا چوڑا دیش ہے جس میں کہیں اُونچے پہاڑ اور گہری ندیاں راستہ روکتی ہیں۔ کہیں پھیلے ریگستان ہیں جن میں آبادی کم ہے۔ کہیں زمین سونا اُگلتی ہے، کہیں بنجر ہے اورکچھ پیدا نہیں ہوتا۔ پھر یہاں کے بسنے والوں کو دیکھو تو کالے بھی ہیں اور گورے بھی، خو بصورت بھی ہیں اور بد صورت بھی، لمبے قدوالے بھی ہیں اور چھوٹے قدوالے بھی، جنگلیوں کی طرح زندگی بسر کرنے والے بھی ہیں، اور بڑے بڑے شہروں میں رہنے والے بھی۔ یہاں نہ جانے کتنی طرح کے لوگ ملتے ہیں، اور کتنی طرح کی زبانیں اور بولیاں بولتے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جن کو ہندوستان میں بسے ہوئے پانچ ہزار برس سے بھی زیادہ ہوگئے ۔کچھ ایسے ہیں جو تھوڑے ہی دنوں سے یہاں آباد ہیں۔ ایسے دیش میں عجیب عجیب ڈھنگ کی قومیں ہوں گی اور عجیب عجیب زبانیں، لیکن اِس سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ یہ تو اِس ملک کے بڑے ہونے کی نشانی ہے کہ اِس میں الگ الگ ہونے پر بھی سب کے مل جُل کر رہنے کی گنجائش ہے۔
یہ بتانا کٹھن ہے کہ پانچ ہزار برس پہلے یہاں کون لوگ بستے تھے۔ مگر اب بہت سے لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ اِس زمانے سے یہاں دوٗر دوٗر کے لوگ آنے لگے۔ اتنا سمجھ لینا کچھ مشکل نہیں ہے کہ پہلے دنیا کے زیادہ تر لوگ وحشیوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے اور کھانے پینے کی کھوج میں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں مارے مارے پھرتے تھے۔ جانوروں کا شکار کرتے تھے یا درختوں کے پھل، پتّے اور جڑ کھاکر پیٹ بھرتے تھے۔ اِن میں کے کچھ لوگ یہاں بھی پہنچے۔ اُن کی نسل کے لوگ اب بھی بنگال، بہار ، چھوٹا ناگپور اور وندھیاچل کے پہاڑوں کے قریب پائے جاتے ہیں۔ وہ جو زبان بولتے تھے وہ آج بھی الگ ہے۔ ان میں سے کول اور منڈا قبیلے مشہور ہیں اور اپنی بولیاں بولتے ہیں (یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں ہے جو کوئی بولی بولتی نہ ہو۔ یہی بات تمام انسانوں میں ملتی ہے)۔ اُن کے ہزار ڈیڑھ ہزار برس کے بعد دراوڑ لوگ پچھم کی طرف سے آئے ، وہ لوگ جنھیں دراوڑ کہا جاتا ہے۔ یہاں انھوں نے خوب ترقّی کی، آج بھی مدراس ، میسور ، آندھرا پردیش اور کیرل میں یہی لوگ آبادہیں ۔ تم نے تامل، تیلگو زبانوں کے نام سنے ہوں گے۔ یہ اُنھیں لوگوں کی زبانیں ہیں۔
یہ تو تھا ہندوستان کا حال۔ باہر ایران، چین اور ترکستان وغیرہ میں ایک اور قوم جسے عام طور سے تاریخ میں آریہ کہاجاتا ہے ترقّی کر رہی تھی۔ یہ لوگ بہادر تھے، اچھّی شکل رکھتے تھے، گھوڑے سے کام لینا اور کھیتی کرنا جانتے تھے۔ کوئی ساڑھے تین ہزار برس ہوئے یہ لوگ ہندوستان میں آئے اور انھوں نے یہاں کے پُرانے بسنے والوں کو ہرا کر اتّری بھارت میں اپنا راج قائم کیا۔ان لوگوں نے بہت سی نظمیں، بھجن اور گیت لکھے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ یہ لوگ جو زبان بولتے تھے اُسے آریائی زبان کہتے ہیں۔ سنسکرت اُسی کی ایک شاخ ہے۔ یونانی، جرمن، پُرانے زمانے کی فارسی اور یورپ کی کئی زبانیں اِسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور جب تم آگے بڑھ کر اِن زبانوں کو پڑھوگے تو معلوم ہوگاکہ سب ایک دوسرے سے ملتی جُلتی ہیں۔ زبانوں کی کہانی بڑی لمبی ہے۔ مزے دار ہے مگر یہاں اُس کے بیان کرنے کا موقع نہیں ہے، بس یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سنسکرت اُنھیں ہندوستانی آریوں کی زبان تھی۔تمام لوگ سنسکرت نہیں بول سکتے تھے ۔یہاں پُرانے بسنے والے یا تو اپنی پُرانی بولیاں بولتے تھے یا ملی جُلی زبانیں ۔ دھیرے دھیرے یہ ہوا کہ سنسکرت اُونچے ذات کے ہندوؤں کی زبان ہوکر رہ گئی ، عام لوگ اُس سے دُور ہوگئے۔ یہ لوگ جو زبانیں بولتے تھے اُن کو پراکرت کہتے ہیں۔ پراکرت ایک زبان نہیں تھی بلکہ الگ الگ علاقوں کی الگ الگ پراکرتیں تھیں۔
ہندوستان لمبا چوڑا ملک تو ہے ہی،کسی حصّے میں کوئی پراکرت بولی جاتی تھی کسی میں کوئی ۔اب جو بدھ مت کا مقابلہ کرنے کے لیے سادھو اور سنت پیدا ہوئے تو انھوں نے بھی عام لوگوں پر اپنا اثر ڈالنے کے لیے پراکرتوں ہی میں گیت اور بھجن لکھے اور دھرم کرم کی باتیں کیں۔ اس وقت دوسری پراکرتوں یا زبانوں کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں، اُتّری بھارت میں جو پراکرت بولی جاتی تھی، ہمیں اِسی سے کام ہے۔ اِس پراکرت کو شورسینی کہتے تھے ۔ اُسی کے پیٹ سے وہ بھاشائیں پیدا ہوئیں جن کو ہندوستانی، ہندی اور اُردو کہتے ہیں۔
بنگالی ، مراٹھی، گجراتی، پنجابی، سندھی، آسامی اور اُڑیا بھی نئی آریائی زبانیں ہیں۔ یہ بھی تاریخ کا ایک دلچسپ اتّفاق ہے کہ جب مُسلمان ہندوستان میں آئے تو اِن زبانوں کی بھی ترقّی ہوئی۔
اگر اُوپر لکھی ہوئی باتیں یاد رکھی جائیں تو آگے کی کہانی اور زیادہ سمجھ میں آئے گی۔ اور معلوم ہوگا کہ1000ء کے بعد سے جو نئی زبانیں ہندوستان میں بولی جانے لگیں ، ان میں ایک اُردو زبان بھی ہے۔یہ زبان کہیں باہر سے نہیں آئی، یہیں پیدا ہوئی اور یہیں کے لوگوں نے اُسے ترقّی دی۔اس کی بناوٹ ، اِس کا رنگ روپ سب ہندوستانی ہے، اگر یہ زبان کسی دوسرے ملک میں بھی بولی جانے لگے تو یہ وہاں کی زبان نہیں بن جائے گی۔ ہندوستانی ہی رہے گی۔
(احتشام حسین)