Skip to content
Jaan Pehchan  Chapter-8


میر انیسؔ



c8.1

(1874 – 1802)


میر انیس فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام میر ببر علی تھا۔ ان کے والد میر خلیق بھی ایک معروف مرثیہ گو تھے۔ مرثیہ گوئی کی تاریخ میں میر انیسؔ کا بڑا مرتبہ ہے۔ انیس کے مرثیے کی بہت سی خوبیوں میں بیان کی صفائی ، سلاست اور جذبات نگاری کی خاص اہمیت ہے۔ مناظر فطرت کی تصویر کشی اور ڈرامائی تاثر کوابھارنے میں بھی انھیں بڑی مہارت تھی۔

میر انیسؔ نے مرثیوں کے علاوہ رباعیاں، نوحے اور سلام بھی لکھے ہیں لیکن اردو شاعری کی تاریخ میں وہ اپنے مرثیوں کی ہی وجہ سے ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔



رباعیات


(1)


رُتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہے
وہ دل میں فروتنی کو جا دیتا ہے

کرتے ہیں تہی مغز ثنا آپ اپنی
جو ظرف کہ  خالی ہے صدا دیتا ہے

(2)


دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی
ہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھی

جو آکے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا
جو جاکے نہ آئے وہ جوانی دیکھی


مشق

معنی یاد کیجیے:
رُتبہ           :          مرتبہ، درجہ
فروتنی         :           انکساری، عاجزی
تہی مغز       :         جن کا دماغ خالی ہو، مراد کم عقل لوگ
ثنا             :     تعریف
ظرف         :         برتن
صدا            :        آواز
سرائے         :         مسافروں کے ٹھہرنے کی جگہ
فانی            :   مٹ جانے والا

غور کیجیے:

٭ عربی میں چارکو اربع کہتے ہیں ۔رباعی میں چار مصرعے ہوتے ہیں ، اس لیے اسے رباعی کہا جاتا ہے۔
٭ رباعی کے پہلے ، دوسرے اور آخری مصرعے کا ہم قافیہ ہونا ضروری ہے۔
٭ رباعی کی ایک خاص ہیئت ہوتی ہے اور اس کے اوزان بھی مقرّر ہیں۔

سوچیے اور بتائیے:

1 ۔ دل میں فروتنی کو جگہ کون دیتا ہے؟
2 ۔ اپنی ثنا آپ کون کرتا ہے؟
3 ۔ خالی ظرف کے صدا دینے سے کیا مراد ہے؟
4 ۔ شاعر نے دنیا کو سرائے فانی کیوں کہا ہے؟
5 ۔ بڑھاپا اور جوانی کے لیے شاعر نے کیا فرق بتایا ہے؟

عملی کام:

انیسؔ کے علاوہ دوسرے رباعی گو شعرا کی رباعیاں پڑھیے۔