لوک کہانی
یہ سبق اسپینی زبان کی ایک لوک کہانی پر مشتمل ہے ۔ لوک کہانی کسی معاشرے کے افراد میں سنی سنائی جانے والی ایسی کہانی ہوتی ہے جس میں فطرت ، انسان اور ماحول کی دوسری تفصیلات کے متعلق روایتوں کو اخلاقی تعلیم وتربیت کی خاطرکہانی کے روپ میں بیان کیا جاتا ہے۔
اس کہانی میں خدا پر ایک کسان کے پختہ یقین کو اس ڈھنگ سے پیش کیا گیا ہے کہ اس سے باہمی ہمدردی اورانسان دوستی کی تصویر کشی ہوجاتی ہے۔
خدا کے نام خط
اس وادی کا اکلوتا مکان ایک چھوٹی سی چٹان کے اوپر بنا ہوا تھا۔ وہاں کھڑے ہوکر بہتے ہوئے دریا، مٹر او رچنے کے کھیتوں کو بہ خوبی دیکھا جا سکتا تھا۔ یہ کھیت بڑی عمدہ فصل دیتے تھے ۔ اور انھیں جس چیز کی بے حد ضرورت تھی وہ بارش تھی۔
لین شو اپنی زمین او رکھیتوں کے چپّے چپّے سے واقف تھا۔ وہ آج صبح سے بار بارآسمان دیکھے جا رہا تھا ۔ اس نے تشویش ناک لہجے میں کہا:
’’بی بی! میرا قیاس ہے کہ آج بارش ہوگی‘‘
بی بی! نے جو اس وقت کھانا تیار کررہی تھی ،یہ سن کر جواب دیا:
’’ہاں، آج کسی بھی وقت بارش ہوسکتی ہے اگر رَب چاہے تو ………‘‘
اُس وقت بڑی عمر کے لڑکے کھیتوں میں کام کررہے تھے اور چھوٹے بچّے مکان کے نزدیک کھیل رہے تھے ۔تھوڑی دیر بعد بی بی نے انھیں آوازدی:
’’آجاؤ، سب آجاؤ، کھانا تیار ہے۔‘‘
جب سب مل کر کھانا کھارہے تھے توجیسا کہ لین شو نے قیاس آرائی کی تھی، بارش ہونے لگی۔ بارش کے شفاف قطرے زمین پر برس رہے تھے اور آسمان پر شمال کی جانب سے بادلوں کے پہاڑ چلے آرہے تھے۔ ہوا بھی تیز تھی۔لین شو باہر کھیتوں میں نکل گیا۔ اس کا مقصد اس کے سوا کچھ اور نہ تھا کہ بارش سے پیدا ہونے والی ترنگ کو اپنے تن من میں رواں دواں دیکھے۔ جب وہ گھر میں واپس آیا تو جذباتی اور جوشیلی آواز میں بولا:
’’جو کچھ اس وقت آسمان سے برس رہا ہے وہ بارش کے قطرے نہیں بلکہ سکّے ہیں، بڑے اور چھوٹے ‘‘
پھر اس نے بڑے اطمینان سے یہ بھی کہاکہ غلّے کے کھیت اور مٹر کے نئے نئے کھلے ہوئے پھول بارش کی چادریں اوڑھ کر بہت خوش ہیں۔ ابھی اس نے یہ کہا ہی تھا کہ یک بارگی تندو تیز آندھی اُٹھی پھر بارش کے ساتھ ژالہ باری ہونے لگی۔ اولے واقعی چاندی کے گول گول ڈلوں سے مشابہ تھے۔ بچّوں نے یہ دیکھا تو لپک کر اندرسے باہر آگئے اور انھیں چُننے میں جُٹ گئے ۔ بچّے خوش تھے لیکن ان کا باپ فکرمند ہوکر خود سے کہنے لگا ’’ اب تو معاملہ بگڑنے لگا ہے ، لیکن پھر بھی مجھے امیدہے کہ سب کچھ بہت جلد ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
لیکن سب کچھ ٹھیک نہیں ہوا اور بہت دیر تک اولے گرتے رہے ۔ زمین ایسے سفید ہوگئی ، جیسے اس پر نمک کی چادر بچھادی گئی ہو ۔ درختوں پرایک پتّہ بھی نہ رہا۔ غلّے کے کھیتوں کا ستّیاناس ہوگیا، مٹر کی بیلیں اور پودوں کے تازہ پھول ٹوٹ کر بکھر گئے۔ لین شو پریشان ہوگیا۔ اس نے اپنے بیٹوں سے کہا:
’’ اگران کھیتوں پر ٹڈّی دل نے حملہ کیا ہوتا تو بھی ہمارے پاس اس سے زیادہ بچ رہا ہوتا لیکن اس ژالہ باری نے تو ہمیں مفلس اور قلاش بنا دیا ہے۔ اب ہمارے پاس نہ غلّہ ہے اور نہ سبزی ہے۔ اس سال تو ہمیں فاقے پہ فاقے کرنا ہوں گے۔
وہ تمام لوگ جو وادی کے اس اکلوتے مکان میں رہتے تھے اپنے دِلوں میں ایک ناقابلِ شکست امیدلیے بیٹھے تھے اور ایک اَن دیکھی قوّت پر تکیہ کیے ہوئے تھے۔وہ اپنے آپ سے کہہ رہا تھا:
’’ دل چھوٹا مت کرو، ہمّت مت ہارو۔‘‘
’’اس میں کوئی شک نہیں کہ سب کچھ تباہ ہوگیاہے ۔ لیکن یاد رکھو کہ بھوک سے کوئی نہیں مرتا۔‘‘
لین شو کے تمام خیالات اپنی آخری امید یعنی آسمانی امداد کے گردگھومتے رہے۔ اس کو بچپن ہی سے یہ تعلیم دی گئی تھی کہ سب کا پالن ہار بڑا رحیم اور کریم ہے۔ انسان کے دل کی گہرائیوں کی بات جانتا ہے۔
لین شو اپنے کھیتوں میں بیل کی طرح کام کرتا تھا۔ وہ کچھ لکھنا پڑھنا بھی جانتا تھا۔آئندہ اتوار تک اس نے اپنے آپ کو اس بات کا یہ پختہ یقین دلادیا کہ ایک ان دیکھی محافظ ہستی موجود ہے۔ اس یقین کے بعد اس نے خدا کے نام ایک خط لکھنا شروع کیا ۔

’’ یا ربّی!‘‘
اگر تو نے میری مدد نہیں کی تو میں اور میرا کُنبہ اس سال فاقوں کا شکار ہوجائیں گے۔ اس وقت ایک سو روپیوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ میں کھیتوں کی حالت دوبارہ ٹھیک کر سکوں اور ان میں بُوائی کرسکوں اور نئی فصل کی کٹائی تک زندہ بھی رہ سکوں کیوں کہ ژالہ باری نے ساری فصل تباہ کردی ہے۔‘‘
لفافے پر پتے کی جگہ اس نے یہ الفاظ لکھے:
’’یہ خط خدا کو ملے‘‘
اس کے بعد اس نے لفافے کو بند کیا اور غم گین دل کے ساتھ شہر کی طرف چل دیا۔ ڈاک خانے پہنچ کر اس نے ٹکٹ خریدے لفافے پر چپکائے او رلفافہ سپرد ڈاک کردیا ۔
اس ڈاک خانے کے ایک ڈاکیے نے جو خطوں کی تقسیم کے ساتھ ان کی چھٹائی کا کام کیا کرتا تھا، ہنستے ہوئے یہ لفافہ اپنے افسر کو پیش کردیا۔ اپنی ساری ملازمت کے دوران اس نے اِس پتے پر کبھی ڈاک نہیں پہنچائی تھی۔ پوسٹ ماسٹر ایک خوش مزاج اور درد مند دل کا آدمی تھا وہ بھی اس لفافے کو دیکھ کر بے اختیار ہنسنے لگالیکن قہقہوں کے درمیان وہ یک بارگی، خاموش اور سنجیدہ ہوگیا۔ اس نے لفافہ میز پر رکھ دیا اور کہنے لگا:
’’واہ، واہ! کیا پختہ ایمان ہے ، کاش مجھے بھی ایسا ایمان نصیب ہوتااور میں بھی ایسے ہی یقین کا حامل ہوتا ۔ کیا بات لکھنے والے کی جس نے ایک پختہ امید پر خدا سے خط و کتابت شروع کردی ، واہ، وا‘‘
پھر اس نے سوچا ایسے پختہ ایمان اور امید کو پاش پاش کرنا اچھّا نہیں۔ اس نے اپنے ماتحتوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ خط پڑھا جائے اور اس کا جواب دیا جائے۔جب لفافہ چاک کیا اور خط پڑھا تب اندازہ ہوا کہ اس خط کا جواب کاغذ، قلم ، دوات، روشنائی، درد مندی اور نیک دلی سے کچھ زیادہ کا طلب گار ہے۔اس نے اپنے ماتحتوں کو ساری بات بتاکر چندے کی درخواست کی اور خود بھی ایک اچھّی خاصی رقم پیش کی۔ اس کے عملے نے اس کارِ خیر میں حسبِ توفیق ہاتھ بٹایا۔
لین شو نے جس قدر رقم طلب کی تھی اتنی تو جمع نہ ہوسکی پھر بھی اس کے نصف سے کچھ زیادہ کا انتظام ہو گیا۔ پوسٹ ماسٹر نے تمام نوٹ ایک لفافے میں بند کیے پھر اس پر لین شو کا پتہ تحریر کیا اورایک چِٹھی لکھ کر لفافے میں رکھ دی جس پر دستخط کے طور پر صرف اتنا لکھا تھا۔
’’خُدا‘‘
اگلے اتوار کو پھر لین شو ڈاک خانے میں آیا اور پوچھا کہ کیا اس کے نام کوئی خط آیا ہے ؟ پوسٹ ماسٹر نے لین شو کا خط اس کے حوالے کیا اوراس کارِ خیر کے انجام دینے پر ایک طرح کی خوشی محسوس کی۔ اس کے بعد وہ دروازے کی دراز سے لین شو کی کیفیات دیکھنے لگا۔ اس نے دیکھا کہ نوٹ پاکر لین شو کو کوئی حیرت نہیں ہوئی ہے۔ اس کو تو جیسے اس بات کا پختہ یقین تھا کہ یہ رقم تو اس کو ملنے ہی والی ہے ۔پھر جب اس نے رقم گن لی تو بگڑ گیا اور بڑ بڑانے لگا۔

’’خُدا نے تو ہرگز ایسی غلطی نہیں کی ہوگی او رنہ اُس کے پاس اس چیز کی کمی ہے جو میں نے اس سے خط کے ذریعے طلب کی تھی۔ وہ تو اس سے بھی زیادہ دے سکتا ہے۔‘‘

پھر جیسے ہی خط لیٹر بکس میں گرا تو ڈاکیے نے فوراً ہی اسے نکال لیا۔خط پڑھا گیا، اس میں لکھا تھا۔
’’یاربّی!‘‘
جو رقم میں نے طلب کی تھی، اس میں سے مجھے صرف ستّر روپیے ہی ملے ہیں ۔ باقی رقم بھی فوراً ارسال کریں۔ مجھے اس کی شدید ترین ضرورت ہے۔ لیکن اب باقی رقم ڈاک کے ذریعے ہرگز نہ بھیجیں کیونکہ اس ڈاک خانے کے ملازمین بے ایمان اور بد دیانت ہیں۔‘‘
(گریگوریولو پینز فوآنتے)
مشق
• معنی یاد کیجیے:
قیاس : اندازہ
شُدبُد : سمجھ
شفّاف : صاف
ترنگ : جوش، خوشی
قلّاش : غربت
پاش پاش کرنا : ٹکڑے ٹکڑے کرنا
کارِ خیر : نیک کام
بددیانت : بے ایمان
• غور کیجیے:
٭ نقصان ہوجانے کے باوجود انسان کو ہمّت نہیں ہارنا چاہیے اور نہ ہی نا امید ہونا چاہیے۔
• سوچیے اور بتائیے:
1 ۔ لین شو نے بی بی سے کیا قیاس آرائی کی؟
2 ۔ لین شو بارش میں کھیتوں کی طرف کیوں گیا؟
3 ۔ ژالہ باری سے کیا نقصانات ہوئے؟
4 ۔ لین شو نے خدا کے نام خط میں کیا لکھا؟
5 ۔ لین شو نے لفافے پر کیا پتہ لکھا؟
6 ۔ پوسٹ ماسٹر نے لین شو کا خط پڑھنے کے بعد کیا کیا؟
7 ۔ لین شو نے پہلے خط کا جواب ملنے کے بعد دوسرے خط میں خدا کو کیا لکھا؟
• نیچے لکھے ہوئے لفظوں کوجملوں میں استعمال کیجیے:
اکلوتا ملازمین نیک دلی پختہ یقین تکیہ کرنا پالن ہار
• نیچے لکھے ہوئے لفظو ں کے متضاد لکھیے:
نزدیک تیز شکست پختہ موجود شہر
• واحد کی جمع لکھیے:
مکان چادر روح سبزی افسر خط
• عملی کام:
٭ خدا کے نام لکھے گئے لین شو کے خطوں کو اپنے الفاظ میں لکھیے۔