پروفیسر محمدمجیب

(1985 – 1902)
محمدمجیب لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔اُن کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ 1918 میں سینیر کیمبرج کا امتحان پاس کیا۔ 1919 میں وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ گئے۔ 1922 میں بی ۔ اے آنرس پاس کیا۔لندن میں انھوں نے فرانسیسی اور لاطینی سیکھی۔ وہاں سے برلن گئے اور جرمنی زبان میں بھی کمال حاصل کیا۔
وطن واپسی کے بعد جامعہ ملّیہ اسلامیہ میں استاد مقرر ہوئے ۔1948میں انھوں نے شیخ الجامعہ کی ذمّے داری سنبھالی اور اسی عہدے سے سبکدوش ہوئے۔
انھیں کتب بینی، فنِ تعمیر ، سنگ تراشی، مجسّمہ سازی، مصوّری ، موسیقی اور باغبانی سے دلچسپی تھی۔ علمی میدان میں تاریخ نگاری ان کا پسندیدہ موضوع تھا۔ دنیا کی کہانی(1931)، تاریخِ فلسفۂ سیاست (1936)، تاریخِ تمدن ہند (1957) اور روسی ادب کی تاریخ دو جلدیں (1960) ان کی مشہور تصانیف ہیں۔پروفیسر مجیب کو ادب سے بھی گہری دلچسپی تھی۔ انھوں نے ڈرامے پر خصوصی توجہ دی اور آٹھ ڈرامے لکھے۔ ان میں سے ’کھیتی‘، ’انجام‘، ’خانہ جنگی‘ اور’آزمائش‘ جامعات کے نصاب میں شامل رہے ہیں۔ بچوں کے لیے ایک ڈراما ’’ آؤ ڈراما کریں‘‘ بھی لکھا۔ انھوں نے افسانے بھی لکھے جن میں ’کیمیاگر‘ ،’ باغی‘، ’چراغِ راہ‘، ’اندھیرا ‘ اور’ پتھر‘ مقبول ہوئے۔وہ ایک کامیاب مترجم بھی تھے۔ ان کی قومی، علمی اور ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے انھیں ’پدم بھوشن‘ کا خطاب دیا۔
آدمی کی کہانی
آج کل کے عالم کہتے ہیں کہ ہماری دنیا پہلے آگ کا ایک گو لا تھی، اُس آگ کا نہیں جو ہمارے گھروں میں جلتی ہے ۔یہ ایک اور ہی آگ تھی جو بن جلائے جلی اور بِن بجھائے بُجھ گئی۔شاید یہ وہ چیز تھی جسے ہم بجلی کہتے ہیں۔ لیکن کبھی نہ کبھی دنیا آگ کا گولا تھی ضرور، کیوں کہ ہمیں ایسے ہی لاکھوں، کروڑوں آگ کے گولے آسمان میں چکّر کھاتے دکھائی دیتے ہیں اور ہماری زمین پر اب بھی آتش فشاں پہاڑ جب چاہتے ہیں دہکتی آگ اُگل دیتے ہیں یا زمین کے اندر سے کھولتے پانی کے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں۔ دوسرے آگ کے گولے جو دنیا سے بہت بڑے اور بہت زیادہ پُرانے ہیں، اب تک آگ ہی آگ ہیں۔ دنیا میں یہ آگ ، پانی اور زمین کیوں بن گئی یہ ہمیں نہیں معلوم ۔ بس ہماری قسمت میں کچھ یہی لکھا تھا۔
ہاں تو پھر ایک وقت آیا جب دنیا سرد پڑگئی ۔بھاپ اور دوسری گیسیں پانی ہوگئیں ۔ جو زیادہ ٹھوس حصّہ تھا، وہ چٹان بن گیا۔ یہ سب ہوا کب ؟ آج کل کے عالم زمین کی ساخت سے ، چٹانوں اور دھاتوں سے کچھ حساب لگاسکتے ہیں لیکن یہ حساب سنکھ دس سنکھ برس کے بھی آگے نکل جاتا ہے۔ بے چارے آدمی کی کھوپڑی میں سائنس کایہ حساب سما نہیں سکتا۔
دنیاجب سرد پڑگئی تو کہیں سے سمندر کی تہ میں زندگی کا بیج پہنچ گیا ۔وہاں وہ پھٹا اور پھَلا پھُولا لاکھوں کروڑوں برس میں طرح طرح کے بھیس بدلے۔ آہستہ آہستہ یعنی وہی لاکھوں کروڑوں برس میں اس نے پودوں اورکیڑوں کی صورت میں خشکی کی طرف قدم بڑھایا۔ پانی کے بغیر یعنی سانس لے کر زندہ رہنے کی صلاحیت پیدا کی۔ پودے اونچے ہونے لگے اور سر اٹھاکر آسمان کی طرف لپکے۔ جو کیڑے تھے وہ مچھلی بن کر تیرے ۔ اُتھلے پانی میں پاؤں کے بل چلے، خشک زمین پر رینگنا شروع کیا، ہوا میں پرند بن کر اُڑے ،چوپایوں کا روپ لے کر دوڑنے لگے۔ کہتے ہیں کہ اُتھلے پانی اور خشکی میں زندگی نے جو یہ ابتدائی شکلیں پائیں وہ بڑی بھیانک تھیں۔ چالیس فٹ لمبے مگر مچھ، بیس بیس ہاتھ اونچے ہاتھی، کسی جانور کی گردن اتنی لمبی کہ ہوامیں اڑتے پرندوں کو پکڑلے، کسی کامنہ دُم کے سرے تک سو فٹ سے زیادہ لمباہوگا۔ ان جانوروں کو جو نام دیے گئے ہیں وہ بھی ایسے بھیانک ہیں بَرنٹُو سَورَس ،اِگتھیو سَورَس میگسلو سَورَس وغیرہ لیکن دنیا کو شاید اپنی یہ اولاد پسندنہ تھی۔ یا یہ جانور بڑھتے بڑھتے ایسے بے ڈول ہوگئے کہ زندہ رہنا دشوار ہوگیا ۔ بہر حال وہ غائب ہوگئے اور جب تک آج کل کے سائنس دانوں کو ان کی ہڈّیاں نہیں ملیں کسی کو پتا بھی نہ تھا کہ ایک زمانے میں ایسے دیو اور اژدہے ہماری دنیا میں آباد تھے۔
خشکی پراِن بڑے جانوروں کے بعد جو نئے نمونے نظر آئے وہ تھے تو ایسے ہی ڈراؤ نے مگر ان میں آج کل کے جانوروں کی یہ صفت تھی کہ وہ اپنے بچّوں کو شروع میں دودھ پلا کر پالتے تھے۔ ایسے جانور پہلی قسم کے جانوروں سے زیادہ سخت جان نکلے اوردنیا کی مصیبتوں کو جھیل لے گئے، پھر بھی ان کی بہت سی قسمیں مرمٹیں۔ جو باقی بچیں، ان کے بھی جسموں میں ایسی تبدیلیاں ہوتی رہیں کہ وہ موسم کی سختیوں کو اچھّی طرح برداشت کرسکیں اور دوسرے جانوروں سے اپنی جان بھی بچا سکیں۔اس طرح ترقّی کرتے کرتے جانوروں کی ایک قسم نے ایسی شکل پائی ہوگی جو آدمیوں کی شکل سے کچھ ملتی ہوگی۔ جانوروں کی اس قسم کو آسانی سے بن مانس کہہ سکتے ہیں ۔ ان بن مانسوں نے چار پیروں کی جگہ دو پیروں سے چلنا سیکھا اور اگلے دو پیروں سے پکڑنے، اٹھانے اور پھینکنے کا کام لینے لگے۔ قدرت نے ان کی مدد کی اور ان کے اگلے دو پیر پنجوں کی طرح ہوگئے۔ ان کی زبان بھی کچھ کھُل گئی اور وہ دوسرے جانوروں سے بہت زیادہ ہوشیار ہوگئے۔
یہ سب ہزاروں برس میں ہوا اور پھر کہتے ہیں کہ دنیا کی آب و ہوا بدلی۔ وہ ایسی ٹھنڈی پڑی کہ اس کا بہت سا حصّہ برفستان ہوگیا اور برف کے کھسکتے پھسلتے پہاڑوں نے سب کچھ اپنے تلے روند ڈالا۔ پھر گرمی آہستہ آہستہ بڑھی ۔ برفستان پگھل کر سمندر ہوگئے اور زندگی پھر اُبھری اور پھیلی ۔ اس طرح چار مرتبہ ہوا اور اس وقت زمین میں کئی سوگز نیچے تک ہمیں جو کچھ ملتا ہے وہ اُنھی گرمی اور سردی کے پھیروں کی داستان سناتا ہے۔ اس زمانے میں آپ سمجھ سکتے ہیں کہ بن مانسوں کا بُرا حال ہوا ہوگا۔ ان میں سے بعض کی ایک دو ہڈّیاں برف کے نیچے اور جانوروں کی ہڈّیوں کے ساتھ دفن ہوگئیں اور اب زمین کے اندر بہت دور پڑی ہیں۔جس سے ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ وہ کروڑ یا لاکھ برس پہلے آباد تھے اور ان کے زمانے میں زمین کی کیا صورت تھی۔لیکن انھوں نے اس دوران میں شاید دو چار باتیں سیکھ لی تھیں جو بہت کام کی تھیں۔ کہیں جنگلوں کو جلتے دیکھ کر انھوں نے پتہ لگالیا تھا کہ آگ کیسے جلاتے ہیں اور پھر وہ اپنی کھوہوں اور غاروں میں آگ جلا کر تاپنے لگے اور اس میں جانوروں کا گوشت اور شاید چند پھلوں اور چیزوں کو بھوننے لگے۔ وہ پتھّروں کو گھِس کر ان سے بھونکنے، چھیلنے اورکاٹنے بھی لگے اوراس نے ان کی زندگی کو کچھ اور آسان کردیا۔ آج کل کا علم بتاتاہے کہ ہم اُنھی بن مانسوں کی اولاد ہیں اور جیسے جانور ترقی کرتے کرتے بن مانس ہوئے تھے ویسے ہی بن مانس آدمی ہوگئے۔لیکن آج کا علم بن مانسوں کی کسی ایک قسم سے ہمارا رشتہ نہیں جوڑتا۔ ہیں تو ہم ایک ہی تھیلی کے چٹّے بٹّے لیکن ہم جس خاص نمونے پر بنے ہیں اس کی پہلی مثالیں ابھی تک نہیں ملی ہیں۔
(پروفیسر محمد مجیب)