Skip to content
Jaan Pehchan  Chapter-13

مرزا غالبؔ



c13.1

(1869 – 1797)


مرزااسد اللہ خاں غالبؔ کی ولادت آگرے میں ہوئی ۔ ابھی وہ بچّے ہی تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا۔ ان کے چچا نصر اللہ بیگ نے ان کی پرورش کی۔ شادی کے بعد غالبؔ دہلی آگئے۔ یہاں کے علمی اور ادبی ماحول میں ان کے شعری ذوق کی تربیت ہوئی۔ بہت جلد انھوں نے اپنی الگ پہچان بنالی اور اعلیٰ ادبی مقام حاصل کرلیا۔ غالبؔ نظم اور نثر دونوں پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔ دونوں میں ان کا انداز بہت منفرد اور دل کش ہے۔ 

خیال کی بلندی ، مضمون آفرینی اور شوخی ان کے کلام کی نمایاں خصوصیات ہیں ۔ان کی شاعری میں انسان کے وجود او راس کی دنیا کے گہرے مسئلوں کا بیان ملتا ہے۔ غالبؔ جتنے بڑے مفکّر تھے اتنے ہی بڑے فنکار بھی تھے۔ اپنے کلام کی وسعت کے ساتھ ساتھ غالبؔ اپنی صنّاعی اور اپنی طبّاعی کے لیے بھی ہمشیہ یاد رکھے جائیں گے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ غالب ؔنے جو بلند مرتبہ شاعری میں حاصل کیا وہی مرتبہ ان کی نثر کو بھی حاصل ہے۔ 

’دیوان غالب‘ میں بہ مشکل دو ہزار اشعارہیں لیکن غالب ہندوستان ہی نہیں دنیا کے بڑے شاعروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کے خطوط کے مجموعے ’ اردو معلّیٰ‘ اور ’عودِ ہندی‘ کے نام سے شائع ہوئے ہیں۔


غزل



کوئی اُمید بَر نہیں آتی 

کوئی صورت نظر نہیں آتی


موت کا ایک دن معیّن ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی


آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی

اب کسی بات پر نہیں آتی


ہے کچھ ایسی ہی بات جو چُپ ہوں

ورنہ کیا بات کر نہیں آتی


کعبے کس منھ سے جاؤ گے غالبؔ

شرم تم کو مگر نہیں آتی


( غالبؔ)



مشق


معنی یاد کیجیے:

اُمید بَر آنا :         اُمیدپوری ہونا

صورت  :            تدبیر، طریقہ

معیّن :    طے شدہ

مگر :      شاید

غور کیجیے:

’آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی‘

یہاں ’ آگے‘ کے معنی ’پہلے‘ کے ہیں۔

’ورنہ کیا بات کر نہیں آتی‘

یہاں ’کر‘ کے معنیٰ ہیں ’کرنا‘ ۔ یہ پرانا طریقہ ہے ۔ آج کل اس کا استعمال اس طرح نہیں ہوتا۔

•  سوچیے اور بتائیے:

1 ۔ ’کوئی صورت نظر نہیں آتی‘ سے کیا مراد ہے؟

2 ۔ دوسرے شعر کا مفہوم بیان کیجیے۔

3 ۔ کعبے جانے سے شاعر کو شرم کیوں آتی ہے؟


عملی کام:

٭ اس غزل کے قافیے اپنی کاپی میں لکھیے۔