نئی روشنی
اسکول میں کھانے کا وقفہ تھا۔ کچھ طلبا کھانا لے کر باہر پیڑ کے نیچے جا بیٹھے تھے۔ کچھ اپنی کلاس میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ سبھی حیرت میں تھے۔ روز کی طرح درجہ میں شور بھی نہیں تھا۔ اسلم اور جاوید کی بات چیت صاف سنائی دے رہی تھی۔
اسلم : ماسٹر صاحب کہہ رہے تھے کہ کل سے ہماری کلاس میں ایک ایسا لڑکا پڑھنے آئے گا جو نابینا ہے۔ اسے آج ہی داخلہ ملا ہے۔
جاوید : (حیرت سے) میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ وہ پڑھے گا کیسے؟
(وقفہ ختم ہونے کی گھنٹی بجتی ہے)
اسلم : ماسٹر صاحب آتے ہی ہوں گے۔ انھیں سے پوچھیں گے۔
(ماسٹر صاحب کلاس میں داخل ہوتے ہیں ۔ سبھی طلباان کے احترام میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اسلم اور جاوید سوال کرتے ہیں۔)

اسلم و جاوید : (ایک ساتھ) ماسٹر صاحب معلوم ہوا ہے کہ ایک ایسے لڑکے کو ہماری کلاس میں داخلہ ملا ہے۔ جو دیکھ نہیں سکتاپھر وہ پڑھے گا کیسے؟
ماسٹر صاحب : تم لوگوں نے ٹھیک سُنا ہے۔ محمود کل سے تمھاری کلاس میں آئے گا اور تمھارے ساتھ ہی پڑھے گا۔ تم سب اتنے حیران ہو کر میری طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟ محمود بالکل تم جیسا ہی ہے۔بس وہ دیکھ نہیں سکتا۔ جانتے ہو وہ گذشتہ سال اپنی کلاس میں اوّل آیا تھا۔
اسلم : ماسٹر صاحب! جب محمود کو دکھائی ہی نہیں دیتا تو وہ پڑھتا کس طرح ہے؟
ماسٹر صاحب : محمود اور اُس جیسے بچّے ایک خاص تحریر کے ذریعے پڑھتے ہیں۔ اُسے ’بریل‘ کہتے ہیں۔
جاوید : لیکن ماسٹر صاحب! آنکھوں کے بغیر تحریر کیوں کر پڑھی جا سکتی ہے؟
ماسٹر صاحب : ایک خاص آلے سے موٹے کاغذ پرحروف کو اُبھارا جاتا ہے جنھیں تھوڑی تربیت کے بعداُنگلی سے چھو کر پڑھ سکتے ہیں۔ بریل میں چھ نقطے ہوتے ہیں، جن کو کئی طرح سے ملا کر حُروف اُبھارے جاتے ہیں۔ دنیا کی کوئی بھی زبان اس تحریر میں لکھی اور پڑھی جا سکتی ہے۔ آج اسی کی مدد سے اس طرح کے بچّے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
زاہدہ : یہ تحریر کس نے ایجاد کی ہے؟
ماسٹر صاحب : اس کی ایجاد کرنے والے فرانس کے ’لوئی بریل‘ تھے۔ وہ پیرس کے نزدیک’کوپ بِرے‘ نام کے قصبے میں جنوری1809 میں پیدا ہوئے تھے۔ دو سال کی عمر میں ایک نوکیلا اوزار لگ جانے سے لوئی کی آنکھوں کی روشنی جاتی رہی، مگر لوئی نے ہار نہیں مانی اور کسی نہ کسی طرح تعلیم حاصل کرنے میں لگے رہے۔ اپنی بیس سال کی محنت اور لگن سے انھوں نے اس تحریر کو ایجاد کیا جسے اُنھیں کے نام پر ’بریل‘ تحریر کہا جاتا ہے۔ بچّو! اس تحریر کو ایجاد کر کے لوئی نے نابینا لوگوں کے لیے تعلیم کا راستہ کھول دیا اور ان کی تاریک زندگی میں روشنی کی کرن بکھیر دی۔
اسلم : ماسٹر صاحب! کیا آپ کو بریل تحریر آتی ہے؟ آپ محمود کو کیسے پڑھائیں گے؟ آپ اس کے ہوم ورک کی جانچ کس طرح کریں گے اور پھر امتحان کی کاپی کیسے جانچی جائے گی؟
جاوید : اور پھر وہ ایک کلاس سے دوسری کلاس میں کیسے جائے گا؟
ماسٹر صاحب : محمود بہت محنتی طالب علم ہے۔ ویسے تو اپنا ہوم ورک کسی سے لکھوا کر بھی مجھے دکھا سکتا ہے مگر وہ دوسروں کا سہارا لینا پسند نہیں کرتا۔ وہ آج کل بڑی لگن سے ٹائپ سیکھنے میں لگا ہوا ہے تاکہ وہ ہماری تحریر میں ہی ہوم ورک کر سکے اور امتحان دے سکے۔ رہی آنے جانے کی بات تو ایک بار تم لوگ اسے کلاسوں اور لائبریری وغیرہ کے راستے کو بتا دوگے تو پھر وہ اپنی سفید چھڑی کی مدد سے خود ہی راستہ ڈھونڈ لے گا۔
زاہدہ : سفید چھڑی ہی کیوں؟
ماسٹر صاحب : سفید چھڑی نابینا لوگوں کی پہچان ہے۔ اس چھڑی کو دیکھ کر لوگ اُنھیں راستہ دے دیتے ہیں اور ضرورت ہونے پر اُنھیں ان کی منزل تک پہنچا دیتے ہیں۔
اسلم : کیا محمود اپنی روزی خود کما سکے گا؟
ماسٹر صاحب : محمود اور اس جیسے دوسرے بچّے ہماری ہی طرح تعلیم حاصل کر کے اپنی روزی خود کماتے ہیں۔ وہ کارخانوں میں بڑی مہارت سے مشینوں پر کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ استاد، وکیل اخبار نویس اور موسیقار وغیرہ بن سکتے ہیں۔ آج کل ایسے کئی لوگ اعلیٰ عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ وہ سماج کے لیے مفید بن سکتے ہیں۔ آج وہ سماج پر کوئی بوجھ نہیں ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ہم انھیں اپنے سے الگ نہ سمجھیں۔ ان کے ساتھ سچّے دوست جیسا برتاؤکریں۔ مجھے یقین ہے کہ کلاس کے سبھی طلبا پڑھنے لکھنے میں محمود کی بھرپور مددکریں گے۔ جاوید! کیا تم اور کچھ پوچھنا چاہتے ہو؟
جاوید : ماسٹر صاحب میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا ایسے سبھی بچّے محمود کی طرح ہمارے جیسے اسکول ہی میں پڑھتے ہیں؟
ماسٹر صاحب : نہیں جاوید ایسا نہیں ہے۔ ان کے اسکول الگ ہوتے ہیں جہاں ان کے رہنے کا بھی انتظام ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں تقریباً ڈھائی سو ایسے اسکول ہیں۔ ان اسکولوں میں پڑھنے، لکھنے اور کھیل کود کے ساتھ ساتھ اُنھیں روزگار کے لیے مفید کام بھی سکھائے جاتے ہیں۔ یہ بہت سے کھیلوں میں حصّہ لے سکتے ہیں۔ جیسے کبڈّی، رسّاکشی، تیراکی، دوڑ وغیرہ۔تاش اور شطرنج بھی ان کے پسندیدہ کھیل ہیں۔ کھیلوں کے علاوہ یہ اسکاؤٹنگ، موسیقی اور سیّاحی میں بھی دلچسپی لیتے ہیں۔
اکرم : ماسٹر صاحب! کیا یہ لوگ کرکٹ کھیل سکتے ہیں؟
ماسٹر صاحب : کیوں نہیں۔ کچھ ماہ پہلے ہی دور درشن پر ایسے کھلاڑیوں کو کرکٹ کھیلتے دکھایا گیا تھا۔ ان کے لیے خاص قسم کی گیند بنائی جاتی ہے جس سے آواز نکلتی ہے۔ آواز سن کر ہی کھلاڑی اپنے بلّے سے گیند کو مارتے یاپکڑتے ہیں۔
پرکاش : ان کے لیے اور کیا کیا خاص چیزیں بنائی گئی ہیں؟
ماسٹر صاحب : ان کے لیے انگریزی اور ہندی کا ایسا کمپیوٹر تیار کیا گیا ہے جو بولتا ہے یعنی جس حرف کے بٹن کو دبائیں گے تو کمپیوٹر اسی حرف کو ادا کرے گا۔ پھر وہ سن سن کر جو بھی ٹائپ کریں، وہ سب کچھ خاص پرنٹر کے ذریعے بریل تحریر میں فوراً ان کے سامنے آ جائے گا۔
موہن : ارے واہ! یہ تو بہت مزے دار بات ہوئی۔
ماسٹر صاحب : یہی نہیں، ان لوگوں کی انگلیوں کے پور اور کان بہت زیادہ حسّاس ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ چیزوں کو چھو کر محسوس کرتے ہیں اور سن کر وہ اپنا نصاب یاد کر لیتے ہیں۔ ایک بار سنا ہوا اور ایک بار چھُوا ہوا وہ کبھی نہیں بھولتے اُنھیں دکھائی نہیں دیتا تو کیا ہوا۔ بدلے میں بہت ساری صلاحیتیں ہیں جن سے وہ اپنی زندگی اچھّی طرح گزار سکتے ہیں۔
اسلم : ماسٹر صاحب، آنکھیں خراب کیوں ہوتی ہیں؟
ماسٹر صاحب : کبھی کبھی کھانے میں وٹامن اے کی کمی کی وجہ سے بینائی کم ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے بچّے حادثوں میں اپنی بینائی کھو بیٹھتے ہیں۔بچّو! وٹامن ’اے‘ کی کمی پورا کرنے کے لیے اپنے کھانے میں سبزیاں، گاجر، پیلے پھل، آم، پپیتا، کدو، وغیرہ مناسب مقدار میں استعمال کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی گِلّی ڈنڈا اور پٹاخوں یا نکیلی چیزوں سے اپنی آنکھوں کی خاص طور پر حفاظت کرنا چاہیے۔ کبھی کبھی گندگی سے بھی آنکھیں خراب ہو جاتی ہیں۔ آنکھوں کو ہمیشہ صاف پانی سے دھوتے رہنا چاہیے۔ صاف تولیے یا رومال سے آنکھیں پوچھنی چاہئیں۔ کم روشنی میں نہیں پڑھنا چاہیے اور آنکھوں کی ورزش بھی کرتے رہنا چاہیے۔ ان سب باتوں کا خیال رکھنے سے تمھاری آنکھیں محفوظ رہ سکتی ہیں۔
مشق
• معنی یاد کیجیے:
نابینا : جسے دکھائی نہ دے
تحریر : لکھاوٹ، عبارت
تربیت : پرورش
سیاحی : سفر کرنا، سیر و سیاحت کرنا
حسّاس : زیادہ محسوس کرنے والا
نصاب : پڑھائی کا کورس
صلاحیت : لیاقت،استعداد
ورزش : کسرت
مقدار : اندازہ، وزن
• غور کیجیے:
٭ آنکھیں وٹامن اے کی کمی سے خراب ہو جاتی ہیں۔وٹامن ’اے‘ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہری سبزیاں اور پیلے پھل کھانا چاہیے۔
• سوچیے اور بتائیے:
1۔ کلاس میں بچّے کس بات پر حیرت زدہ تھے؟
2۔ بریل ایجاد کرنے والے کا نام کیا تھا؟
3ـَ۔ بریل کے ذریعے پڑھائی کس طرح ہوتی ہے؟
4۔ لوگ سفید چھڑی کیوں رکھتے ہیں؟
5۔ آنکھوں کی حفاظت کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
• نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:
موسیقار حیرت زدہ مقدار وقفہ اخبار نویس عہدہ آلہ
• اسم کی تعریف آپ کو بتائی جا چکی ہے۔ اس سبق سے پانچ اسم تلاش کرکے لکھیے۔
• خالی جگہوں کو صحیح لفظوں سے بھریے:
1۔ ان کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الگ ہوتے ہیں۔ (گھر، اسکول، ہاسٹل)
2۔ کم روشنی میں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔چاہیے۔(سونا، کھانا، پڑھنا)
3۔ ارے واہ یہ تو بہت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بات ہوگی۔ (خراب، مزے دار، بیکار)
4۔ ان سب باتوں کا خیال رکھنے سے تمھاری آنکھیں…… رہ سکتی ہیں۔ (اچھّی، محفوظ، بہتر)
• عملی کام:
٭ بینائی کی حفاظت کس طرح کی جا سکتی ہے۔ اس پر پانچ جملے لکھیے۔