Skip to content
Jaan Pehchan  Chapter-16 


اقبالؔ


c16.1

(1938 – 1877)  


اقبال کا شمار اردو کے بلند مرتبہ شاعروں اور مفکّروں میں ہوتا ہے۔وہ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ اپنے خیالات کی گیرائی اور شعری صلاحیت کی وجہ سے ان کا نام دنیا بھر میں مشہور ہے۔ انھوں نے بچّوں کے لیے بھی نظمیں کہی ہیں۔ ان کی شاعری دنیا کی عظیم شاعری میں شمار کی جاتی ہے۔اقبال اردو کے سب سے بڑے فلسفی شاعر ہیں۔ بچوں کے لیے انھوں نے جو نظمیں لکھی ہیں ان میں ’’بچّے کی دعا‘‘، ’’قومی ترانہ‘‘، ’’پہاڑ اور گلہری‘‘، ’’جگنو‘‘، ’’ہمدردی‘‘، ’’پرندے کی فریاد‘‘ اور’’ماں کا خواب‘‘وغیرہ بہت مقبول ہوئیں۔

ان نظموں کے ذریعے اقبال نے بچّوں میں بلند خیالی، ایمانداری، سچائی، محبت ، بھائی چارہ، انصاف، بلند کرداری، باہمی ہمدردی، انسانی جذبہ، مل جل کر ساتھ رہنے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے جیسی صفات پیدا کی ہیں۔

اقبال کی کئی کتابیں اردو کے علاوہ فارسی اور انگریزی میں بھی شائع ہوچکی ہیں اور ان کی شاعری کے ترجمے دنیا کی بہت سی زبانوں میں کیے گئے ہیں۔



پہاڑ اور گلہری



کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گِلہری سے

تُجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرے


ذرا سی چیز ہے، اُس پر غرور، کیا کہنا!

یہ عقل اور یہ سمجھ، یہ شعور، کیا کہنا


خدا کی شان ہے، ناچیز، چیز بن بیٹھیں

جو بے شعور ہوں، یوں با تمیز بن بیٹھیں


c16.2


تری بِساط ہے کیا، میری شان کے آگے
زمیں ہے پست، مری آن بان کے آگے

جو بات مجھ میں ہے، تجھ کو وہ ہے نصیب کہاں
بھلا پہاڑ کہاں، جانور غریب کہاں

کہا یہ سُن کے گلہری نے منہ سنبھال ذرا
یہ کچّی باتیں ہیں، دل سے اِنھیں نکال ذرا

جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا پروا
نہیں ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا

ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے
کوئی بڑا، کوئی چھوٹا، یہ اُس کی حِکمت ہے

بڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اُس نے
مجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اُس نے

قدم اُٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میں
نِری بڑائی ہے، خوبی ہے اور کیا تجھ میں

جو تو بڑا ہے، تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو
یہ چھالیا ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو

نہیں ہے چیز نِکَمّی کوئی زمانے میں
کوئی بُرا نہیں قُدرت کے کارخانے میں

( اقبالؔ)


مشق


معنی یاد کیجیے:


شعور : عقل، سمجھ
ناچیز :    معمولی، حقیر
باتمیز :  تمیز دار
بساط     :       حیثیت
پست     :       نیچی، کم درجہ
آن بان   :         شان، بڑائی
حکمت :        تدبیر
نِری :     صِرف
ہنر : کام کرنے کی صلاحیت،فن
نکمّی : بے کار

 •   غور کیجیے:

٭ دنیا میں کوئی چیز اپنے قد کی وجہ سے اہم نہیں ہوتی، اصل اہمیت کام کی ہے۔

•  سوچیے اور بتائیے:

پہاڑ نے گلہری سے ڈوب مرنے کو کیوں کہا؟
گلہری نے پہاڑ کو کیا جواب دیا؟
پہاڑ نے اپنی بڑائی میں کیا کہا؟
کن باتوں سے خدا کی قدرت کا پتا چلتا ہے؟
گلہری ایسا کون سا کام کرسکتی ہے جو پہاڑ کے بس کا نہیں ہے؟

عملی کام:

٭ ’’غرور ؍ شعور‘‘
٭ ’’چیز ؍  تمیز‘‘
٭ ان لفظوں کو بلند آواز سے پڑھ کر معلوم کیجیے کہ ان کی آوازیں آخر میں کیسی ہیں۔ ایسے ہی ایک جیسی آوازوں پر ختم ہونے والے دوسرے الفاظ نظم سے تلاش کر کے اپنی کاپی میں لکھیے۔ استاد سے پوچھیے کہ ایسے لفظوں کو کیا کہتے ہیں؟