Skip to content
Jaan Pehchan  Chapter-17


رضیہ سُلطان



رضیہ سُلطان ہندوستان کی پہلی ملکہ تھی جو دلّی کے تخت پر بیٹھی۔ وہ دہلی کے بادشاہ التتمش کی بیٹی تھی۔ اپنے بہن بھائیوں میں رضیہ سب سے زیادہ ذہین، محنتی اور ہوشیار تھی۔ باپ نے اپنی زندگی ہی میں اسے اپنا جانشین مقرر کر دیا۔ وہ جانتا تھا کہ بیٹے عیش پسند ہیں، بیٹی کے علاوہ کوئی اور حکومت چلانے کی صلاحیّت نہیں رکھتا۔ اس نے اپنے آخری دنوں میں چاندی کے سکّے پر رضیہ کا نام بھی شامل کر لیا تھا۔


c17.1


اَلتُتمِش کی وفات کے بعد دربار میں وزیر نے جب بادشاہ کی وصیّت پڑھ کر سنائی تو تُرک امیروں نے یہ پسند نہیں کیا کہ ایک عورت دلّی کے تخت و تاج کی مالک ہو۔ رضیہ نے یہ دیکھا تو امیروں سے کہا: ’’میرے عورت ہونے پر اعتراض ہے تو میں امن کی خاطر اپنے بھائی رکن الدّین کا نام پیش کرتی ہوں۔ آؤ ہم سب مل کر اس سے وفاداری کا عہد کریں۔‘‘

لیکن حکومت ہاتھ آتے ہی رُکنُ الدّین عیش و آرام میں پڑ گیا۔ اس کی ماں ایک حاسد عورت تھی۔ اس نے دوسری بیگمات اور ان کے بچّوں کو طرح طرح سے پریشان کیا۔ وہ سوتیلی بیٹی رضیہ کی مقبولیت سے جلنے لگی۔ مگر جلد ہی رُکن الدّین اپنی عیش پسندی اور اپنی ماں کی زیادتیوں کی وجہ سے اس قدر بدنام ہو گیا کہ دلّی کے لوگوں نے اس کو گرفتار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

دلّی کے عوام رضیہ کی خوبیوں اور التتمش کی وصیّت سے واقف تھے۔ ان میں ایک بزرگ صوفی کا ظم الدّین زاہد نے رضیہ کی تخت نشینی کا اعلان کر دیا۔ 

تخت نشین ہونے پر رضیہ نے عہد کیا کہ ’’میں عوام کی بھلائی اور سلطنت کی ترقّی کے لیے کام کروں گی۔ میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گی جب تک یہ ثابت نہ کر دوں کہ میں مردوں سے کم نہیں۔‘‘

رضیہ نے تخت نشینی کے بعد نہایت بہادری سے مشکلوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ وہ فوج کی کمان خود سنبھالتی تھی ۔ اس نے بادشاہوں کی طرح ’’قبا‘‘ اور ’’کلاہ‘‘ پہنی۔ اپنے نام کے سکّے جاری کیے۔ سلطنت میں امن قائم کیا، انتظام کو بہتر بنایا اور عوام کی خوش حالی کا ہرطرح سے خیال رکھا۔ تجارت کو فروغ دیا، سڑکیں بنوائیں، درخت لگوائے اور کنویں کھدوائے۔ اس نے مدرسے اور سرکاری کتب خانے بھی قائم کیے۔ رضیہ سلطان کو خود بھی پڑھنے لکھنے کا شوق تھا۔ وہ اچھّی گھوڑ سوار تھی۔اور اسے جنگی اسلحوں کے استعمال کا ہنر بھی آتا تھا۔ اس کی حکومت بنگال سے سندھ تک پھیلی ہوئی تھی۔

رضیہ سلطان باقاعدہ دربار لگاتی تھی۔ اس نے برابری اور بھائی چارے کو عام کیا۔ رضیہ سلطان نے حکومت کے اختیارات کو چالیس امیروں میں بانٹاجن سے وہ ملکی معاملات میں مشورہ کرتی تھی۔ اس نے ’’میر آخور‘‘ کا سب سے بڑا عہدہ ایک حبشی غلام  یاقوت کودیاکیونکہ وہ ایمان دار اور جفاکش تھا۔ یہ اہم عہدہ اب تک صرف تُرک امیروں کو ملتا تھا۔ یہ بات تُرک امیروں کو پسند نہیں آئی۔ انھوں نے رضیہ کو تخت سے اتارنے کی سازش کی اور بھٹنڈا کے گور نر التونیہ کو بہکا کر بغاوت کروا دی۔ جب وہ بغاوت کو کچلنے کے لیے پنجاب میں بھٹنڈا پہنچی تو اس کے سپاہی طویل سفر اور گرمی سے پریشان ہو چکے تھے۔ اگرچہ دونوں فوجوں میں زبردست مقابلہ ہوا مگر رضیہ کی فوج کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔ وہ قید کر لی گئی۔ ادھر دلّی میں سازشیوں نے رضیہ کے بھائی بہرام کو تخت پر بٹھا دیا اور بڑے بڑے عہدے آپس میں بانٹ لیے۔ بہرام کمزور بادشاہ ثابت ہوا۔ التونیہ کوجب اپنی غلطی کا احساس ہواتو اس نے رضیہ سے معافی مانگی اور اپنی وفاداری کا یقین دلایاپھر دونوں کی شادی ہو گئی۔

اب رضیہ اور التونیہ نے دلّی کا تخت واپس لینے کا ارادہ کیا۔ انھوں نے کچھ تُرک امیروں اور راجپوتوں کی مدد سے دلّی پر حملہ کیا۔ مخالف امیروں نے سوچا کہ رضیہ دلّی میں بڑی مقبول ہے اگر اس کی فوجیں یہاں پہنچ گئیں تو اس کے مددگار اٹھ کھڑے ہوں گے اس لیے جنگ دلّی سے دور ہونی چاہیے۔ چنانچہ بہرام کی فوج نے رضیہ کو راستے ہی میں روک دیا۔ شاہی فوج تعداد میں زیادہ تھی اور اس کے پاس بہتر ہتھیار بھی تھے۔ گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ رضیہ نے بڑی ہمّت دکھائی لیکن اسے شکست ہوئی اور اسے قتل کر دیا گیا۔

رضیہ سلطان نے صرف ساڑھے تین سال حکومت کی لیکن اس مختصر مدّت میں اس نے اپنی ہمّت، حوصلے اور حسنِ انتظام سے ثابت کر دیا کہ وہ اعلیٰ درجے کی حکمراں تھی۔



مشق

معنی یاد کیجیے:

واحد : ایک، اکیلا

وصیّت : موت سے پہلے کی جانے والی ہدایت

کُلاہ : ٹوپی

محافظ : حفاظت کرنے والا

صلہ : بدلہ، انعام

جفا کش : محنت کرنے والا

حسنِ انتظام :  اچھا انتظام، کام کرنے کی خوبی

حکمراں : حاکم، حکومت کرنے والا

عالم : علم والا، پڑھا لکھا 


غورکیجیے:

رضیہ سلطان ہندوستان کی پہلی خاتون حکمراں تھی۔
رضیہ سلطان نے اپنے کارناموں سے یہ دکھا دیا کہ عورتیں، مردوں سے کسی طرح کم نہیں ہوتیں۔

 سوچیے اور بتائیے:


رضیہ سلطان کی خوبیاں کیا تھیں؟
رکن الدّین کس کا بیٹا تھا، اُسے کس نے مارا؟
التتمش کی وصیّت کیا تھی؟
تخت نشینی کے بعد رضیہ نے کیا عہد کیا؟
رضیہ نے میر آخور کا عہدہ کسے دیا؟
رضیہ کی فوج کا مقابلہ کس سے ہوا تھا؟
رضیہ سلطان نے کتنے برس حکومت کی؟

نیچے لکھے ہوئے لفظوں سے جملے بنائیے:


ذہن وفاداری عہدہ محافظ

خالی جگہوں کو بھریے:


رضیہ سلطان دہلی کے بادشاہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی بیٹی تھی۔
رضیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کی پہلی ملکہ تھی۔
رضیہ کے شوہر کا نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھا۔
ترک امیروں نے رضیہ کے بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کو تخت پر بٹھا دیا۔
رضیہ سلطان اعلیٰ درجے کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھی۔
 

  واحد کی جمع اور جمع کے واحد لکھیے:


امرا افواج مشکل بیگمات اختیار کتاب

نیچے لکھے ہوئے لفظوں سے مذکّر سے مونّث اور مونّث سے مذکّر بنائیے:


ملکہ عالم بہن بیٹی

•  محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے:


میدان چھوڑنا ہتھیار ڈالنا موت کے گھاٹ اتارنا

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کےمتضاد لکھیے:


بھلائی خوش حالی امن شکست

عملی کام :


٭ بلند آواز سے پڑھیے:
رضیہ سلطان حسنِ انتظام وصیّت التونیہ
حبشی غلام یا قوت