Skip to content
Jaan Pehchan  Chapter-18


رتن سنگھ


c18.1

(1927)


رتن سنگھ قصبہ داؤد، تحصیل نارووال، ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ایک مقامی اسکول میں میٹرک تک تعلیم پائی۔ تقسیم وطن کے بعد ہندوستان چلے آئے ۔ 1962 میں آل انڈیا ریڈیو میں پروگرام ایکزیکیٹو کی حیثیت سے منسلک ہوئے۔ اپنی ملازمت کے دوران انھوں نے جالندھر، بھوپال، لکھنؤ ، جبل پور اور سر ی نگر وغیرہ شہروں میں قیام کیا۔

انھیں شروع سے افسانہ نگاری کا شوق تھا۔ طالب علمی کے دور میں کہانیاں لکھنے لگے۔ بطور افسانہ نگار ان کانام بہت جلد مشہور ہوگیا۔’ پہلی آواز ‘،’پنجرے کا آدمی‘،’کاٹھ کا گھوڑا‘ اور ’پناہ گاہ‘ ان کے افسانوی مجموعے ہیں۔ ان کے دو ناولٹ ’دربدری‘ اور ’اڑن کھٹولہ‘ اور ایک طویل سوانحی نظم ’ہڈ بیتی‘ اردو اور پنجابی میں شائع ہوچکی ہے۔وہ مترجم کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔



کاٹھ کا گھوڑا


اس وقت بُندو کا ٹھیلہ توٹھیلہ خود بندو ایسابے جان کاٹھ کا گھوڑا بن کر رہ گیا ہے جو اپنے آپ نہ ہل سکتا ہے نہ ڈُل سکتا ہے ، نہ آگے بڑھ سکتا ہے۔

اسی لیے ، بندو کی ہی وجہ سے اندھیر دیو کے تنگ بازار میں راستہ قریب قریب بند ہو کر رہ گیا ہے۔ ضرورت سے زیادہ بوجھ سے لداہوا بندو کا ٹھیلہ سڑک پر چڑھائی ہونے کی وجہ سے رُک سا گیا ہے۔رہ رہ کر اگر چلتا بھی ہے تو جوں کی رفتار سے رینگتا ہے اور پھر کھڑا ہوجاتا ہے۔ اس کے پیچھے کاریں، ٹرک، بسیں ، موٹر سائیکل ، اسکوٹر غرض یہ کہ سبھی تیز رفتار گاڑیوں کی لمبی قطار ٹھہر سی گئی ہے اور انہی کے بیچ میں تانگے اور رکشے بھی پھنسے ہوئے ہیں۔


c18.2


ان گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں وزیر، ملک کے بڑے بڑے کارخانے دار، کاروباری سیٹھ ، دفتروں کے افسر، دوکاندار، وردیوں والے فوجی اور پولس والے، سفید کالروں والے بابو، عام آدمی ، سودا سلف خریدنے کے لیے گھروں سے نکلی عورتیں، اسکولوں اور کالجوں کے بچّے ، ڈاکٹر، نرس، انجینیر سبھی کے سبھی ٹھہر گئے ہیں۔ لگتا ہے جیسے بندوکی سست رفتار کی وجہ سے سارے شہر، بلکہ ایک طرح سے کہا جائے تو سارے ملک، ساری دنیا کی رفتار دھیمی پڑگئی ہے۔

یوں تو وزیر اپنی کارمیں بیٹھاکچھ لوگوں سے گفتگو کر رہا ہے۔ لیکن بے چینی سے بار بار گھڑی دیکھ رہا ہے۔کیوں کہ کسی غیر ملکی وفد سے ملنے کا وقت قریب آرہا ہے۔ اس کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ آگے سے راستہ اس طرح بند کیوں ہوگیا ہے۔ اس کا ڈرائیور گھبرایا ہوا بار بار کار سے اتر تا ہے، کچھ دور جا کر دیکھ کر آتا ہے ۔ اور پھر مایوس ہوکر گاڑی میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگتا ہے ۔ وہ لوگ جو کار میں بیٹھے وزیر سے باتیں کر رہے ہیں، دل ہی دل میں خوش ہیں کہ راستہ بند ہونے کی وجہ سے کار کھڑی ہے اور انھیں وزیر کے سامنے اپنی بات رکھنے کا پورا پورا موقعہ مل رہا ہے۔ کارخانے دار اور کاروباری سیٹھ البتّہ کاروں کی گدّیوں پر بیٹھے بے چین ہورہے ہیں۔ ان کے لیے ہر گذرے ہوئے پل کے معنی ہیں لاکھوں کا گھاٹا۔


c18.3

ریلوے کا ایک ڈرائیور بار بار اپنی سائیکل کا اگلا پہیّہ اٹھا اٹھا کر پٹک رہا ہے۔پریشانی کی وجہ سے اس کے ماتھے پر پسینہ آرہا ہے، کیوں کہ جس گاڑی کو لے کر اسے جانا ہے، اس کے جانے کا وقت ہوچکا ہے اور وہ یہاں راستے میں قید ہوکر رہ گیا ہے۔
اسکولوں اور کالجوں کے زیادہ تر بچّے خوش ہیں۔ جتنے پیریڈ نکل جائیں اتنا ہی اچھّاہے لیکن کچھ ایک کو افسوس بھی ہے کہ ان کی پڑھائی پیچھے رہ جائے گی۔
اسی طرح سر پر لوہے کی ٹوپی پہنے ہوئے فوجی بار بار موٹر سائیکل کا ہارن بجارہا ہے لیکن آگے نہیں بڑھ پا رہا ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ اگر دفتر پہنچنے میں دیر ہوگئی تو اس کا کمانڈ نٹ آفیسر چالیس کلو کا وزن پیٹھ پر لدوا کر دس کلو میٹر کا روڈ مارچ کروادے گا۔
لیکن بندوان سب سے بے خبر ہے۔ بے نیاز ہے۔
آج اس سے ٹھیلہ کھنچ بھی نہیں پا رہا۔ ایک تو سیٹھ کے بچّے نے زیادہ بوجھ لاد دیاہے دوسرے اس کے ٹھیلے کا دھرا جام ہورہا ہے۔تیسرے یہ کہ چڑ ھائی کا راستہ ہے اور چوتھے یہ کہ اس کا من ہی نہیں ہورہا ہے ٹھیلہ کھینچنے کا۔ وہی کاٹھ کے گھوڑے والی بات ہورہی ہے جواپنے  آپ سرک نہیں سکتا۔ جب کبھی اس کا من اداس ہوتا ہے تو اس کی کیفیت اس کاٹھ کے گھوڑے جیسی ہوجاتی ہے جسے وہ بچپن میں ایک میلے سے خرید کر بڑادکھی ہوا تھا۔
کاٹھ کا رنگین گھوڑا لے کر جب وہ بڑے فخر سے گلی کے بچّوں کے بیچ گیا تواس نے دیکھا کہ کسی کے پاس چابی والی موٹر تھی جو گھوں گھوں کر تی ہوئی تیز بھاگتی تھی اور کسی کے پاس ریل گاڑی تھی، انجن سمیت اپنے آپ چلنے والی گاڑی ۔ جس کے پاس ایسے دوڑنے والے کھلونے نہیں تھے، ان کے پاس رسّی کے سہارے گھومنے والے رنگین لٹّو تھے۔ تیزی سے گھومتے  ہوئے وہ ایسے لگتے تھے جیسے وہ سارے میدان کو اپنے گھیرے میں لے رہے ہوں۔ ان کھلونوں کے سامنے اُس کا کاٹھ کا گھوڑا ساکت بے جان تھا۔ ویسے بچّوں کے سامنے کھیلتے ہوئے اس نے بھی اپنے گھوڑے کو ٹانگوں کے بیچ پھنسا کر دوڑ نے کا سوانگ کیا تھالیکن دل ہی دل میں وہ جانتا تھا کہ اس کا کھلونا دوسروں کے کھلونے کے سامنے بے کار اور بے معنی ہے ۔ اسی لیے گھر آکر اس نے کاٹھ کے گھوڑے کو چولہے کی آگ میں جھونک دیا تھا۔ لیکن جلنے کے باوجود جیسے وہ بے جان کاٹھ کا گھوڑا اس کی شخصیت کے ساتھ چِپک کر رہ گیا تھا۔ کیونکہ ہوا یہ کہ گلی کے ہی بچے جو اس کے ساتھ کھیلا کرتے تھے ان میں سے کوئی پڑھ لکھ کر منیم بن گیا تھا تو کوئی وکیل۔ کوئی اسکول کا ماسٹر ہوگیا تھا تو کوئی بڑا افسر ۔ اور اس کے برعکس بندو وہی کاٹھ کا گھوڑا ہی رہ گیا۔ باپ ٹھیلا چلاتا تھا تو وہ بھی ٹھیلہ ہی کھینچ رہا ہے۔
وہ اکثر سوچتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ کیسے ہوا کہ ایک ہی گلی میں رہتے ہوئے باقی لوگ آگے بڑھ گئے اور وہ پیچھے رہ گیا۔ ایسا کیوں کر ہوگیا؟ لیکن وہ سوچے بھی تو کیا؟ کاٹھ کا گھوڑا بھلا سوچ ہی کیا سکتا ہے؟
لیکن آج وہی کاٹھ کا گھوڑا یہی سوچ کر اُداس ہورہا ہے کہ اس کے آٹھ نو سال کے لڑکے چندو نے محض اس لیے اسکول جانا بند کردیا ہے کہ وہ اس کے لیے ضرورت کی چیزیں جُٹا نہیں پاتا۔’’ جب میں اپنی زندگی کی گاڑی ٹھیک سے نہیں کھینچ پاتا تو پھر اس ٹھیلے کے بوجھ کو کیوں کھینچوں؟ ‘‘ بندو سوچ رہا ہے۔
اس کے دل نے کہا کہ ٹھیلہ جوپہلے ہی سرک نہیں پارہا ہے اُسے چھوڑ چھاڑ کر الگ کھڑا ہوجاؤں۔ اس کی ہمّت پہلے ہی جواب دے رہی ہے ۔ رہ رہ کر اس کے دل میں خیال اٹھ رہے ہیں کہ ایک دن اس کے چندوکو بھی اسی طرح ٹھیلے کے بوجھ کو کھینچنا پڑے گا۔ اور اس خیال کے ساتھ اُسے اپنی جان ٹوٹتی ہوئی سی محسوس ہو رہی ہے اور اس کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا بھی دشوار ہورہا ہے۔
لیکن اس کے پیچھے جو لوگ کھڑے ہیں وہ اتاؤلے ہورہے ہیں۔بار بار ہارن بجا کر اپنے غصّے کا اظہار کررہے ہیں۔ ان میں سے ایک اس کے پاس آیا اور بولا۔’’ بھیّا جلدی کرو۔ تمھارے پیچھے پوری دنیا رُکی پڑی ہے۔ ‘‘ اٹکی پڑی ہے۔’’اٹکی ہے تو اٹکی رہے۔‘‘ بندو جھنجھلا کر بولا۔’’ جو لوگ تیز جانا چاہتے ہیں ان سے کہو کہ میرے پیروں میں بھی پہّیے لگوادیں۔‘‘
’’بات تو ٹھیک کہتا ہے ۔‘‘ کسی نے کہا۔’’ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ اتنے تیز ہو جائیں کہ وہ ہو اسے باتیں کرنے لگیں اور کچھ کو اتنا مجبور کردیا جائے کہ ان کے لیے ایک قدم اٹھانا بھی دشوار ہوجائے۔‘‘
یہ سب باتیں گاڑیوں کے ہارن کی آوازوں اور لوگوں کے شور میں دبی جارہی ہیں۔
کاٹھ کے گھوڑے میں قدم اٹھانے کی ہمّت نہیں۔ وہ آگے نہیں بڑھ پا رہا ۔ اور اس کے پیچھے بھیڑ میں وہ وزیر رُکا ہوا ہے جسے کسی غیر ملکی وفد سے وقت مقرّرہ پر بات کرنا ہے، وہ ڈرائیور اٹکا ہوا ہے، جسے ملک کے کسی دوسرے شہر کی طرف ریل گاڑی لے کر جانا ہے، اسکول کے وہ بچّے رُکے ہوئے ہیں جو کل کے مالک ہوں گے۔ڈاکٹر، نرس، انجینیرسب کے قدم بندھ کر رہ گئے ہیں۔
اور بندو کاٹھ کا گھوڑا اندھیر دیو کے بازار میں اپنے ٹھیلے کے ساتھ کھڑا ہوگیا ہے۔اس کے پاؤں میں حرکت آئے تو زندگی آگے بڑھے۔
(رتن سنگھ)


مشق

معنی یاد کیجیے:

کاٹھ کا گھوڑا         :         لکڑی کا گھوڑا
وفد                  :        نمائندوں کی جماعت
روڈ مارچ            :         حکم نہ ماننے پر فوجی کی پیٹھ پر بھاری بوجھ لدوا کر سڑک پر دوڑا یا جانا
بے نیاز              :         بے پروا
ساکت               :          بے حرکت
سوانگ               :         خاموش نقل(روپ بدلنا)
برعکس              :          بر خلاف
محض               :          صِرف
مقرّرہ              :          طے شدہ

غور کیجیے:

٭ ہمیں ان اسباب کی تہ تک پہنچنا چاہیے کہ زندگی کی دوڑ میں کچھ لوگ بہت آگے کیوں نکل جاتے ہیں اورکچھ لوگ کیوں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اگر ہمیں ترقی اور پچھڑجانے کے اسباب کا علم ہوجائے تو پھر ہم آسانی سے اپنی کم زوریوں پر قابو پاسکتے ہیں ۔

•   سوچیے اور بتائیے:

1 ۔ بندو کو کاٹھ کا گھوڑا کیوں کہاگیا ہے؟
2 ۔ بندو کی سست رفتاری کا اثر کن کن لوگوں پر پڑا؟
3 ۔ وزیر کی بے چینی کا سبب کیا تھا؟
4 ۔ کاروباریوں کے لیے ’’پَل‘‘ کے معنی لاکھوں کے گھاٹے کے کیوں ہیں؟
5 ۔ چندو کے بارے میں بندو کے ذہن میں کیا خیال آیا؟
6 ۔ پیروں میں پہیّے لگوانے سے بندو کی کیامراد تھی؟

نیچے لکھے ہوئے لفظوں سے جملے بنائیے:


قطار ……………………………………
رفتار ……………………………………
کیفیت ……………………………………
فخر ……………………………………
دشوار ……………………………………
حرکت …………………………………… 

نیچے دیے ہوئے لفظوں سے خالی جگہوں کو بھریے:


حرکت سوانگ رفتار ساکت شخصیت
1 ۔ ساری دنیا کی ……دھیمی پڑگئی۔
2 ۔ ان کھلونوں کے سامنے اس کا کاٹھ کا گھوڑا……بے جان تھا۔
3 ۔ اس نے بھی اپنے گھوڑے کو ٹانگوں کے بیچ پھنسا کر دوڑنے کا…… کیا تھا۔
 4 ۔ وہ بے جان کاٹھ کا گھوڑا اس کی…… سے چپک کر رہ گیا تھا۔
5 ۔ اس کے پاؤں میں ……آئے تو زندگی آگے بڑھے۔

نیچے دیے ہوئے جملوں پر غور کیجیے:

1 ۔ اسکولوں اور کالجوں کے زیادہ تر بچے خوش ہیں۔
2 ۔ ان کے پاس رسّی کے سہارے گھومنے والے رنگین لٹّو تھے۔
3 ۔ کچھ ایک کو افسوس بھی ہے کہ اُن کی پڑھائی پیچھے رہ جائے گی۔
٭ پہلا جملہ ’ہیں‘ پر ختم ہوتا ہے، جو موجودہ زمانے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔جہاں ایسی حالت اور کیفیت واقع ہوتی ہے اُسے ’حال‘ کہتے ہیں۔
٭ دوسرا جملہ ’تھے‘ پر ختم ہوتا ہے ، جو گزرے ہوئے زمانے کی طرف اشارہ کررہا ہے۔جہاں ایسی حالت اور کیفیت واقع ہوتی ہے، اسے ’ماضی‘ کہتے ہیں۔
٭ تیسرا جملہ ’گی‘پر ختم ہوتا ہے، جو آنے والے زمانے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔جہاں ایسی حالت اور کیفیت واقع ہوتی ہے اسے ’مستقبل‘ کہتے ہیں۔

نیچے دیے ہوئے جملوں میں’زمانے ‘ کی نشان دہی کیجیے۔

1 ۔ احمد کل آیا تھا۔ ( )
2 ۔ موہن بازار سے لوٹ آیا ہے۔ ( )
3 ۔ سردی کازمانہ کب آئے گا۔ ( )
4 ۔ گرمی کا موسم جارہا ہے۔ ( )
5 ۔ ہم عید کے دن ملیں گے۔ ( )

عملی کام:

کاٹھ کے گھوڑے کی تصویر بنائیے اور اس میں رنگ بھریے۔