Skip to content
Jaan Pehchan  Chapter-20


ترجمہ


ترجمہ نگاری ایک مشکل فن ہے۔ اس کے لیے ایک سے زائد زبانوں پر یکساں قدرت حاصل ہونا لازمی ہے۔ یہ قدرت لغوی مفاہیم پر نہیں، روز مرّہ، محاورہ اور زبان کے طریقۂ کار پر ہونا بھی ضروری ہے۔ جس زبان سے ترجمہ کیا جا رہا ہے ، اس زبان کے بولنے والوں کی معاشرت اور طرزِ فکرسے واقف ہونا بھی ضروری ہے۔ ان تمام خصوصیات کے بغیر صحیح اور اچھّا ترجمہ ممکن نہیں ہے۔

سبق ’’ اَوَنتی‘‘ ایک جاپانی کہانی کا ترجمہ ہے۔ ’’ اونتی‘‘ ایک حاضر جواب اور ذہین کردار ہے۔ اس کے جوابات پر ہنسی آتی ہے، لیکن وہ مسائل کو حل کرنے کا ہنر بھی جانتا ہے۔ جاپان کا یہ کردار ملّا نصیرالدین سے ملتاجُلتا ہے۔


اَوَنتی

اَوَنتی ایک خوش مزاج اور ہنس مُکھ شخص تھا۔ غریبوں کا تو وہ بہت ہی عزیز دوست تھا۔ اس لیے لوگ اُس سے بڑی محبّت کرتے تھے۔ بعض لوگ اُس سے حسد کرتے تھے اور اُس کو چِڑھانے اور نیچا دکھانے کی تاک میں لگے رہتے تھے۔ لیکن اونتی اپنی سوٗجھ بوٗجھ سے اُلٹا انھیں کو قائل کر دیتا تھا۔

ایک بار اونتی کا مذاق اُڑانے کے لیے ایک آدمی نے اُس سے کہا ’’ اونتی! رات کو سو رہا تھا تو میرا مُنہ کھُلارہ گیا۔ اُسی وقت ایک چوٗہا آیا اور میرے مُنھ میں گھُس کر میرے پیٹ میں چلا گیا۔ اب تمہیں بتاؤ میں کیا کروں۔‘‘


c20.1


اونتی نے فوراً جواب دیا۔ ’’میرے دوست، بس ایک ہی علاج ہے۔ تم ایک زندہ بلّی کو پکڑ کر اُسے نگل جاؤ۔‘‘

ایک بار اونتی کسی دوست کی بارات میں گیا۔ بارات والوں کو بہت اچھّا کھانا کھلایا گیا۔ اونتی نے بھی خوب ڈٹ کر کھاناکھایا۔ کھانا کھاتے وقت اُس نے دیکھا کہ ایک مہمان مٹھائیاں صِرف کھا ہی نہیں رہا ہے بلکہ جیب میں بھی بھرتا جا رہا ہے۔ اونتی بھلا ایسے موقعے پر کب چُوکنے والا تھا۔ وہ اپنی جگہ سے اُٹھا اور چائے کی کیتلی اُٹھا کر اُس مہمان کی جیب میں اُنڈیلنے لگا تو وہ ناراض ہو کر بولے۔’’یہ کیا بدتمیزی ہے؟‘‘ چائے اُنڈیلتے اُنڈیلتے اونتی نے بھولے پن سے جواب دیا۔‘‘ بھائی، میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا رہا ہوں۔ آپ کی جیب نے بہت ساری مٹھائیاں کھائی ہیں اس لیے اُسے پیاس بھی ضرور لگی ہوگی۔ میں اُسے چائے پلا رہا ہوں۔‘‘


c20.2


ایک بار اونتی کے ملک میں تین غیر ملکی تاجر آئے۔ اس ملک کے بادشاہ کے دربار میں آکر انھوں نے یہ خواہش ظاہر کی کہ ہمارے سوالوں کے جواب دیے جائیں۔ وہاں کوئی ان کے سوالوں کا جواب نہ دے سکا۔ یہاں تک کے بادشاہ بھی الجھن میں مبتلا ہو گیا۔ کسی نے بادشاہ کو رائے دی کہ اونتی کو بلایا جائے وہی ان سوالوں کا جواب دے سکتا ہے۔ بادشاہ نے اونتی کو بلانے کی اجازت دے دی۔ ہاتھ میں لاٹھی لیے اپنے گدھے پر سوار اونتی دربار میں حاضر ہوا۔ بادشاہ نے اسے تاجروں کے سوالوں کا جواب دینے کا حکم دیا۔ اونتی نے کہا کہ تاجر اپنے سوال پوچھیں۔ 

پہلے تاجر نے سوال کیا۔’’بتاؤ زمین کا مرکز کہاں ہے؟‘‘

اونتی نے کسی تامّل کے بغیر لاٹھی سے اپنے گدھے کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ ’’ٹھیک وہاں، جہاں میرے گدھے کا اگلا دایاں قدم رکھا ہوا ہے۔ وہیں زمین کا مرکز ہے۔‘‘
اونتی کا جواب سن کر تاجر بہت متعجب ہوا۔ اس نے پوچھا۔’’آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ مرکز وہیں پر ہے اور کسی دوسری جگہ نہیں ہے۔‘‘
’’اگر آپ یقین نہیں کرتے ہیں تو جاکر خود ناپ لیں۔ مرکز اس جگہ سے بال برابر بھی ادھر یا اُدھر نکلے تو میں مان لوں گا کہ میرا جواب غلط ہے۔‘‘ اونتی کے جواب سے تاجر لاجواب ہو گیا۔
اونتی نے اب دوسرے تاجر سے اس کا سوال پوچھا۔ دوسرے تاجر نے کہا۔ ’’کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آسمان میں کتنے تارے ہیں؟‘‘ 
اونتی نے فوراً ہی جواب دیا۔ ’’میرے گدھے کے بدن پر جتنے بال ہیں، آسمان میں ٹھیک اتنے ہی تارے ہیں۔ نہ ایک کم نہ ایک زیادہ۔‘‘

c20.3


تاجر نے پوچھا۔’’آپ یہ کیسے ثابت کر سکتے ہیں؟‘‘

اونتی بولا۔’’یقین نہ آئے تو گن کر دیکھ لو، اگر کم یا زیادہ ہو تو کہنا۔‘‘

تاجر بولا۔ ’’بھلا گدھے کے بال کیسے گنے جا سکتے ہیں؟‘‘

اونتی نے کہا۔’’ تو تمہیں بتاؤ کہ آسمان کے تارے کیوں کر گنے جا سکتے ہیں؟‘‘ بیچارا تاجر کوئی جواب نہ دے سکا، چپ ہو گیا۔

اب تیسرے تاجر کی باری آئی۔ اونتی نے اس سے بھی سوال پوچھنے کو کہا۔ تیسرے تاجر نے اپنے سر کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا: ’’اچھا بتاؤ میرے سر پر کتنے بال ہیں؟‘‘

اونتی نے ہنس کر کہا۔’’اگر تم بتا دو کہ میرے گدھے کی دم میں کتنے بال ہیں تو میں تمھارے سر کے بالوں کی تعداد بتا دوں گا۔‘‘ یہ سن کر تاجر لاجواب ہو گیا اور بغلیں جھانکنے لگا۔

سب درباری اونتی کے جوابات سن کر حیرت میں تھے۔ بادشاہ نے اسے حاضر جوابی اور ہوشیاری کا انعام دیا اور تینوں تاجر اپنا منہ لٹکائے واپس چلے گئے۔

ایک بار ایک غریب مزدور نے ایک سرائے والے سے مرغی کا کباب لے کر کھایا۔ اس دن اس کے پاس پیسے نہ تھے۔ وہ قیمت فوراً نہ دے سکا اور دوسرے دن کا وعدہ کر کے چلا گیا۔ جب وہ دوسرے دن قیمت دینے آیا تو سرائے والے نے اس سے ایک ہزار روپے طلب کیے۔

مزدور کا منہ حیرت سے کھلارہ گیا ’’ایک ہزار روپے‘‘! وہ سرائے والے سے بولا ’’ایک مرغی کے کباب کی قیمت ایک ہزار روپے۔‘‘

کیوں نہیں، تم خود ہی حساب لگا لو۔ اگر تم مرغی نہ کھاتے تو وہ کتنے انڈے دیتی؟ ان انڈوں سے کتنے بچّے نکلتے؟ اور اس طرح جتنے بچے نکلتے ان کی قیمت اتنی ہی ہوتی ہے۔‘‘ سرائے کے مالک نے کہا۔

مزدور نے کہا۔ ’’میں اتنا پیسہ نہیں دوں گا۔‘‘

اس پر دونوں میں جھگڑا ہونے لگا۔ آخر کار وہ عدالت میں پہنچے۔ ’’منصف نے انھیں اگلے دن اپنے اپنے وکیل کے ساتھ آنے کو کہا۔

مزدور نے اونتی کے بارے میں سُن رکھا تھا۔ وہ اونتی کے پاس گیا اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ اونتی نے مزدور سے کہا۔ ’’تم ٹھیک وقت پر عدالت میں پہنچ جانا۔ میں وہیں آ جاؤں گا۔‘‘

اگلے دن ٹھیک وقت پر سرائے کا مالک اور مزدور عدالت میں پہنچے۔ سرائے کے مالک کے وکیل نے وہی پرانی کہانی دہرادی اب مزدورکواپنی حمایت میں کچھ کہناتھا۔لیکن اس وقت تک اونتی وہاں پہنچ نہیں پایاتھاجس سے مزدوربہت پریشان تھا۔

اتنی دیرمیں اونتی وہاں آپہنچا۔اس نے دیرسے پہنچنے کے لیے معافی مانگی اورکہا:آج کھیت میں گیہوں بوناتھا۔اس لیے میں انہیں بھنوانے چلاگیاتھا۔‘‘اس بات پر سب لوگ ہنس پڑے۔

منصف نے اونتی سے پوچھا’’کیاکہیں بھنے ہوئے گیہوں سے بھی پودے اگتے ہیں؟

 اونتی بولا۔’’ آپ ٹھیک کہتے ہیں جناب، بھُنے ہوئے گیہوں سے پودے نہیں اُگ سکتے۔ اسی طرح بھنی ہوئی مرغی بھی انڈے نہیں دے سکتی۔‘‘

منصف کو اونتی کی بات بالکل ٹھیک معلوم ہوئی۔ اس لیے اس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔’’سرائے کے مالک کو صرف ایک مرغی کی قیمت پانے کا اختیار ہے۔‘‘

( ترجمہ جاپانی لوک کہانی )


مشق

معنی یاد کیجیے:


تاجر : تجارت  کرنے والا

تامل : جھجھک

حسد : جلن

متعّجب : حیران ہونا

حمایت : ساتھ دینا

حاضر جوابی : کسی سوال کا فوراً جواب دینا


غورکیجیے


٭ حاضر جوابی اور ذہانت سے انسان کو عزّت اور مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔


سوچیے اور بتائیے:

 1۔ اونتی نے زمین کا مرکز کہاں بتایا؟

آسمان میں کتنے تارے ہیں ،اونتی نے اس سوال کا کیا جواب دیا؟

سرائے والے اور مزدور میں کیا جھگڑا تھا؟

اونتی نے سرائے والے اور مزدور کے جھگڑے کو حل کرنے کے لیے کیا دلیل دی؟


نیچے لکھے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

نیچا دکھانا منہ لٹکانا بغلیں جھانکنا


نیچے لکھے ہوئے لفظوں کی مدد سے خالی جگہوں کو بھریے:

الجھن بلی ناپ بالکل

 1۔ تم ایک زندہ۔۔۔۔۔۔۔۔ کو پکڑ کر اسے نگل جاؤ۔

بادشاہ پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں مبتلا ہو گیا۔

اگر آپ یقین نہیں کرتے ہیں تو جاکرخود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیں۔

مصنف کو اونتی کی بات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹھیک معلوم ہوئی۔


عملی کام:

٭ اَونتی کی حاضر جوابی کے بارے میں چند جملے لکھیے۔