Skip to content
Jaan Pehchan  Chapter-21


حبیب تنویر



c21.1

(2009 - 1923)


حبیب تنویر کا اصل نام حبیب احمد خاں اور تنویر تخلص ہے۔ ادبی اور ثقافتی دنیا میں وہ حبیب تنویر کے نام سے جانے جاتے تھے۔ناگ پور یونیورسٹی سے بی۔اے کرنے کے بعد آل انڈیا ریڈیو میں ملازم ہوگئے۔ ابتدا میں انھوں نے فلمی گیت اورمکالمے لکھے پھر قدسیہ زیدی کے ہندوستانی تھیٹرمیں شامل ہوگئے۔ لندن اور جرمنی میں ڈرامے کی تکنیک پر مہارت حاصل کی۔

انھوں نے بہت سے اردو ڈرامے لکھے، جنھیں بہت سے مشرقی اور مغربی ملکوں میں اسٹیج کیا گیا۔ ان میں ’’سات پیسے‘‘، ’’چرن داس چور‘‘،’’ہرماکی کہانی‘‘،’’آگرہ بازار‘‘،’’ شاجاپور کی شانتی بائی‘‘،’’ مٹی کی گاڑی‘‘ اور’’میرے بعد‘‘ بہت مشہور ہوئے۔ ان کا ایک بڑا کارنامہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے اپنے ڈراموں کے ذریعے چھتیس گڑھ کے لوک کلاکاروں کو قومی سطح پر روشناس کرایا۔

حبیب تنویر کو قومی اور بین الاقوامی سطح کے کئی اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ حکومتِ فرانس نے ان کو اپنی سوانح حیات لکھنے کے لیے اسکالر شپ دینے کا اعلان کیاہے۔ اپنی زندگی کے آخری ایام تک وہ اِسے قلم بند کرنے میں مصروف تھے۔

ہندی، بنگالی ، مراٹھی ، اور یورپ کی کئی زبانوں میں ان کے ڈرامے ترجمہ ہوچکے ہیں۔



کارتوس

ڈرامے کے کردار: کرنل

لیفٹیننٹ

سپاہی

سوار

زمانہ : 1799 

وقت : رات

جگہ : (گورکھ پور کے جنگلوں میں کرنل کالنز کے خیمے کا اندرونی حصّہ۔ دو انگریز بیٹھے باتیں کررہے ہیں کرنل کالنز اور ایک لیفٹیننٹ ۔ خیمے کے باہر چاندنی چھٹکی ہوئی ہے۔ اندر لیمپ جل رہا ہے۔)


کرنل : جنگل کی زندگی بڑی خطرناک ہوتی ہے۔

لیفٹیننٹ : ہفتوں ہوگئے یہاں خیمہ ڈالے ہوئے۔ سپاہی بھی تنگ آگئے ہیں۔ یہ وزیر علی آدمی ہے یا بھوت ؟ ہاتھ ہی نہیں لگتا۔

کرنل : اس کے افسانے سن کر رابن ہڈکے کارنامے یاد آجاتے ہیں۔ انگریزوں کے خلاف اس کے دل میں کس قدر نفرت ہے۔ کوئی پانچ مہینے حکومت کی ہوگی۔ مگر اس پانچ مہینے میں وہ اودھ کے دربار کو انگریزی اثر سے بالکل پاک کردینے میں تقریباً کامیاب ہوگیا تھا۔

لیفٹیننٹ : کرنل کالنز، یہ سعادت علی کون ہے؟

کرنل : آصف الدولہ کا بھائی ہے۔ وزیر علی کا چچا اور اس کا دشمن۔ در اصل نواب آصف الدولہ کے ہاں لڑکے کی کوئی امید نہ تھی۔ وزیر علی کی پیدائش کو سعادت علی نے اپنی موت خیال کیا۔


c21.2


لیفٹیننٹ : مگر سعادت علی کو اودھ کے تخت پربٹھانے میں کیا مصلحت تھی؟

کرنل : سعادت علی ہمارا دوست ہے اور بہت عیش پسند آدمی ہے۔ اس نے ہمیں اپنی آدھی مملکت دے دی۔ اور دس لاکھ روپے نقد، اب وہ بھی مزے کرتا ہے اور ہم بھی۔

لیفٹیننٹ : سنا ہے یہ وزیر علی افغانستان کے بادشاہ شاہ زماں کو ہندوستان پر حملہ کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔

کرنل : افغانستان کو حملے کی دعوت سب سے پہلے اصل میں ٹیپوسلطان نے دی۔ پھر وزیر علی نے بھی اسے دلّی بلایا اور شمس الدولہ نے بھی ۔

لیفٹیننٹ : کون شمس الدولہ؟

کرنل : نواب بنگال کا نسبتی بھائی ۔ بہت خطرناک آدمی ہے۔

لیفٹیننٹ : اس کا تویہ مطلب ہوا کہ کمپنی کے خلاف سارے ہندوستان میں ایک لہر دوڑ گئی ہے۔

کرنل : جی ہاں۔اور اگر یہ کامیاب ہوگئی توبکسر اور پلاسی کے کارنامے دھرے رہ جائیں گے اور کمپنی جو ساکھ لارڈ کلائیو کے ہاتھوں حاصل کرچکی ہے، لارڈ ویلزلی کے ہاتھوں وہ سب کھو بیٹھے گی۔

لیفٹیننٹ : وزیر علی کی آزادی بہت خطر ناک ہے۔ ہمیں کسی نہ کسی طرح اس شخص کو گرفتار کرہی لینا چاہیے۔

کرنل : پوری ایک فوج لیے اس کا پیچھا کررہا ہوں اور برسوں سے وہ ہماری آنکھوں میں دھول ڈالے اِنھی جنگلوں میں پھر رہا ہے اور ہاتھ نہیں آتا۔ اس کے ساتھ چند جاں باز ہیں۔ مٹھّی بھر آدمی مگر یہ دم خم!

لیفٹیننٹ : سنا ہے وزیر علی ذاتی طور سے بہت بہادر آدمی ہے۔

کرنل : بہادر نہ ہوتا تو یوں کمپنی کے وکیل کو قتل کردیتا؟

لیفٹیننٹ : یہ قتل کا کیا قصّہ ہوا تھا کرنل؟

کرنل : قصّہ کیا ہوا تھا؟ وزیر علی کو معزول کرنے کے بعد ہم نے اسے بنارس پہنچا دیا اور تین لاکھ روپے سالانہ وظیفہ مقرر کردیا۔ کچھ مہینے بعد گورنر جنرل نے اسے کلکتے طلب کیا۔وزیر علی کمپنی کے وکیل کے پاس گیا جو بنارس میں رہتا تھا اور اس سے شکایت کی کہ گورنر جنرل اسے کلکتے میں کیوں طلب کرتا ہے۔ وکیل نے شکایت کی پروانہ کی۔ اُلٹا اسے بُرا بھلا سنا دیا۔ وزیر علی کے دل میں یوں بھی انگریزوں کے خلاف نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس نے خنجر سے وکیل کا کام تمام کردیا۔

لیفٹیننٹ : اور بھاگ گیا؟

کرنل : اپنے جاں نثاروں سمیت اعظم گڑھ کی طرف بھاگ گیا۔ اعظم گڑھ کے حکمرانوں نے ان لوگوں کو اپنی حفاظت میں گھا گھرا تک پہنچا دیا۔ اب یہ کارواں جنگلوں میں کئی سال سے بھٹک رہا ہے۔

لیفٹیننٹ : مگر وزیر علی کی اسکیم کیا ہے؟

کرنل : اسکیم یہ ہے کہ کسی طرح نیپال پہنچ جائے، افغانی حملے کا انتظار کرے، اپنی طاقت بڑھائے، سعادت علی کو معزول کرکے خود اودھ پر قبضہ کرلے اور انگریزوں کو ہندوستان سے نکال دے۔

لیفٹیننٹ : نیپال پہنچنا توکوئی ایسا مشکل نہیں۔ ممکن ہے پہنچ گیا ہو۔

کرنل : ہماری فوجیں اور نواب سعادت علی خاں کے سپاہی بڑی سختی سے اس کا پیچھا کررہے ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ انھی جنگلوں میں ہے۔

(ایک گورا سپاہی تیزی سے داخل ہوتا ہے)

گورا سپاہی : سر!
کرنل : (اُٹھ کر)کیا بات ہے؟
گورا سپاہی : دور سے گرد اٹھتی دکھائی دے رہی ہے۔
کرنل : سپاہیوں سے کہہ دو کہ تیار رہیں۔
(سپاہی سلام کرکے چلا جاتا ہے)
لیفٹیننٹ : (جو کھڑکی سے باہردیکھنے میں مصروف تھا)
گرد تو ایسی اڑ رہی ہے جیسے پورا ایک قافلہ چلا آرہا ہے مگر مجھے تو ایک ہی سوار دکھائی دیتا ہے۔
کرنل : (کھڑکی کے پاس جاکر) ہاں ایک ہی سوار ہے۔ سر پٹ گھوڑا دوڑائے چلا آرہا ہے۔
لیفٹیننٹ : اور سیدھا ہماری طرف ہی آتا معلوم ہوتا ہے۔
(کرنل تالی بجا کر سپاہی کو بلاتا ہے)

c21.3

کرنل : (سپاہی سے) سپاہیوں سے کہو اس سوار پر نظر رکھیں کہ یہ کس طرف جارہا ہے۔
(سپاہی سلام کرکے چلا جاتا ہے)
لیفٹیننٹ : شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ تیزی سے اسی طر ف آرہا ہے۔
(ٹاپوں کی آواز بہت قریب آکر رک جاتی ہے)
سوار : (باہر سے) مجھے کرنل سے ملنا ہے۔
گورا سپاہی : (چلا کر) بہت اچھّا۔
سوار : بھئی آہستہ بولو۔
گورا سپاہی : (اندر جاکر) حضور! سوار آپ سے ملنا چاہتا ہے۔
کرنل : بھیج دو۔
لیفٹیننٹ : وزیر علی کاہی کوئی آدمی ہوگا۔ ہم سے مل کر اُسے گرفتار کروانا چاہتا ہوگا۔
کرنل : خاموش (سوار سپاہی کے ساتھ اندر آتا ہے)
سوار : (آتے ہی پکار اٹھتا ہے) تنہائی تنہائی۔
کرنل : یہاں کوئی غیر آدمی نہیں۔ آپ رازِ دل کہہ دیں۔
سوار : دیوار ہم گوش دارد۔ تنہائی۔
(کرنل لیفٹیننٹ اور سپاہی کو اشارہ کرتا ہے۔ دونوں باہر چلے جاتے ہیں) جب کرنل اور سوار خیمے میں تنہا رہ جاتے ہیں تو ذرا وقفے کے بعد سوار چاروں طرف دیکھ کر کہتا ہے۔)
سوار : آپ نے اس مقام پرکیوں خیمہ ڈالا ہے؟
کرنل : کمپنی کا حکم ہے کہ وزیر علی کو گرفتار کیا جائے۔
سوار : لیکن اتنا لاؤلشکر کیا معنی؟
کرنل : گرفتاری میں مدد دینے کے لیے۔
سوار : وزیر علی کی گرفتاری بہت مشکل ہے صاحب!
کرنل : کیوں؟

c21.4

سوار : وہ ایک جاں باز سپاہی ہے۔
کرنل : میں نے بھی سن رکھا ہے۔ آپ کیا چاہتے ہیں؟
سوار : چند کارتوس
کرنل : کس لیے؟
سوار : وزیرعلی کو گرفتار کرنے کے لیے۔
کرنل : واہ !یہ لودس کارتوس۔
سوار : (مسکراتے ہوئے) شکریہ۔
کرنل : آپ کا نام؟
سوار : وزیر علی! آپ نے مجھے کارتوس دیے ہیں، اس لیے آپ کی جاں بخشی کرتا ہوں۔
(یہ کہہ کر باہر نکل جاتا ہے۔ ٹاپوں کا شور سنائی دیتا ہے۔ کرنل سنّاٹے میں ہکّا بکّا کھڑا ہے۔ لیفٹیننٹ اندر آجاتا ہے۔)
لیفٹیننٹ : کون تھا؟
کرنل : (دبی زبان میں اپنے آپ سے ) ایک جاں باز سپاہی۔
(پردہ)
(حبیب تنویر)


مشق


معنی یاد کیجیے:


خیمہ : تنبو، ٹینٹ
جاں باز : بہادر، جان پر کھیل جانے والا
مصلحت : حکمت، پالیسی،
ساکھ : نیک نامی، اعتبار
معزول : تخت یاگدّی سے اتارا ہوا
دیوار ہم گوش دارد: دیوار کے بھی کان ہوتے ہیں
مملکت : حکومت ، سلطنت
رازِ دل : دل کی بات، بھید
وقفہ : مہلت ، تھوڑی سی دیر
لاؤ لشکر : فوج اور اس کا سازو سامان

غور کیجیے:

٭ وطن سے محبت کرنے والے جاں باز تاریخ میں زندہ رہتے ہیں اور ہمیشہ ان کی قدر کی جاتی ہے۔

•  سوچیے اور بتائیے:

1 ۔ وزیر علی کے کارنامے سن کر کس کے کارنامے یاد آتے ہیں؟
2 ۔ سعادت علی کو انگریزوں نے اودھ کے تخت پر کیوں بٹھایا؟
3 ۔ سعادت علی کیسا آدمی تھا؟
4 ۔ کرنل سے کارتوس مانگنے والا سوار کون تھا؟

نیچے دیئے ہوئے لفظوں سے جملے بنائیے:


تخت خلاف پاک بہادر جاں باز وظیفہ اسکیم

جمع کے واحد اور واحد کے جمع بنائیے۔


جنگل شکایات افواج سلاطین وظیفہ وزیر

نیچے لکھے ہوئے جملوں میں صحیح لفظوں سے خالی جگہوں کو بھریے:


1 ۔ سنا ہے یہ وزیر علی افغانستان کے بادشاہ شاہ زماں کوہندوستان پر ………کی دعوت دے رہاہے ۔(حملے، لڑائی)
2 ۔ وزیر علی کے دل میں انگریزوں کے خلاف ………کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔
(نفرت، برائی، محبت)
3 ۔ وزیر علی کی ………بہت مشکل ہے صاحب۔  (معزولی ، جاں بخشی، گرفتاری)

عملی کام:


٭ استادسے تین شہیدانِ وطن کے نام معلوم کرکے لکھیے۔
٭ دو لوگوں کے درمیان کی گفتگو یا بات چیت مکالمہ کہلاتی ہے۔ اس ڈرامے کے پانچ مکالمے یاد کرکے لکھیے۔
٭ اس ڈرامے کو ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسٹیج کیجیے۔