Skip to content
Jaan Pehchan  Chapter-22



بشر نواز


c22.1

(1935)


بشرنواز کا اصل نام بشارت نواز خاں ہے۔ وہ اورنگ آباد میں پیدا ہوئے ۔ وہیں انھوں نے تعلیم حاصل کی ۔ بشر نواز کا تعلق 1960 کے بعد اُبھرنے والے شاعروں کی نسل سے ہے۔اس نسل کے شعرا جدیدیت سے متاثر تھے۔اس کے باوجود انھوں نے کلاسیکی شاعری سے دلچسپی برقرار رکھی ۔ یہی وجہ ہے کہ زبان پر ان کی گرفت مضبوط ہے اور ان کی شاعری میں نئے پن کے ساتھ ساتھ کلاسیکی رنگ بھی ملتا ہے۔ بنیادی طور پر وہ غزل کے شاعر ہیں لیکن نظم گو شاعر کی حیثیت سے بھی معروف ہیں۔

’’رائیگاں‘‘ اور’’اجنبی سمندر‘‘ ان کے شعری مجموعے ہیں۔


قدم بڑھاؤ دوستو!


قدم بڑھاؤ دوستو، قدم بڑھاؤ دوستو

چلو کہ ہم کو منزلیں بُلارہی ہیں دور سے

چلو کہ سارے راستے دُھلے ہوئے ہیں نور سے


چمن کھِلا کھِلا سا ہے

اُفق دُھلا دُھلا سا ہے

دیے جلاؤ راہ میں وطن کا نو سنگھار ہے

نئی نئی بہار ہے

قدم بڑھاؤ دوستو، قدم بڑھاؤ دوستو


سفر کی ابتدا ہے یہ، ابھی رکو نہ راہ میں

پہاڑ ہو کہ غار ہو، نہ لاؤ تم نگاہ میں

c22.2


روِش پرانی چھوڑ کے

قدم قدم سے جوڑ کے

چلے چلو کہ وقت کو تمھارا انتظار ہے

نئی نئی بہار ہے

قدم بڑھاؤ دوستو، قدم بڑھاؤ دوستو


کہو، وطن کی خاک ہی کو گلستاں بنائیں گے

روش روش کو اس چمن کی کہکشاں بنائیں گے


کلی کلی نکھار کے

جلاؤ دیپ پیا ر کے
ہمیں خود اپنے گلستاں پہ آج اختیار ہے
نئی نئی بہار ہے
قدم بڑھاؤ دوستو، قدم بڑھاؤ دوستو

(بشرؔ نواز)


مشق


معنی یاد کیجیے:


افق : جہاں زمین و آسمان ملتے ہوئے نظر آتے ہیں
کہکشاں : ستاروں کا جھُرمُٹ
روش : باغ میں بنا ہوا راستہ،پگڈنڈی،طریقہ
گلستاں : باغ

غور کیجیے:

٭ اس نظم میں لفظ ’روش‘ کا استعمال ایک سے زیادہ مرتبہ ہوا ہے۔ جیسے  I ’ر وش پرانی چھوڑکے‘ II  ’روش روش کو اس چمن کی کہکشاں بنائیں گے‘ پہلے مصرعے میں روش کے معنی ہیں طریقہ اور دوسرے مصرع میں اسے پگڈنڈی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔

•  سوچیے اور بتائیے:

1 ۔ ’قدم بڑھاؤ دوستو‘سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
2 ۔ پہاڑ اور غار کو نگاہ میں نہ لانے کا مطلب کیا ہے؟
3 ۔ اس نظم کے ذریعے شاعر نے کیا پیغام دیا ہے؟

عملی کام:


٭ جس لفظ سے کسی کام کا ہونا یا کرناظاہر ہو، اسے فعل کہتے ہیں جیسے : چلنا، پڑھنا وغیرہ۔ اس نظم میں شامل افعال کی ایک فہرست بنائیے۔
٭ اس نظم کو بلند آواز سے پڑھیے۔