1
حقیقی اعداد REAL NUMBERS
1.1تعارف
نویں کلاس میں آپ نے حقیقی اعداد کی دنیا کی تلاش کی اور غیر ناطق سے آپ کا سابقہ ہوا۔اس باب میں ہم حقیقی اعداد کا مطالعہ جاری رکھیں گے۔سیکشن 1.2اور1.3کو ہم مثبت صحیح اعداد کی دو اہم خصوصیات سے شروع کریں گے جسے اقلیدس کا تقسیم الگورتھم اور حساب کا بنیادی مسئلہ کہتے ہیں ۔
اقلیدس کا تقسیم الگورتھم جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے ،صحیح اعداد کی تقسیم سے متعلق ہے۔ جس کے مطابق کسی مثبت صحیح اعداد aکو دوسرے مثبت صحیح عدد bسے اس طرح تقسیم کیا جا سکتا ہے کہ rباقی بچے اور یہ bسے چھوٹا ہو ۔آپ میں سے بہت سے طلبا اس کو لمبی تقسیم کی حیثیت سے پہچانتے ہیں۔ حالانکہ یہ نتیجہ سمجھنے اور بیان کرنے میں کافی آسان ہے : صحیح اعداد کی تقسیمی خصوصیات سے متعلق اس کے بہت سے استعمال ہیں ۔اس میں سے چند ہی کے بارے میں ہم اس باب میں مطالعہ کریں گے اور خاص طور سے اس کا استعمال ہم دو مثبت صحیح اعداد کا[ذواضعاف اقل مشترک) [(HCFمعلوم کرنے میں کریں گے ۔
دوسری طرف حساب کے بنیادی مسئلے کا تعلق مثبت صحیح اعداد کی ضرب سے ہے ۔آپ پہلے سے ہی واقف ہیں کہ ہر ایک مرکب عدد کو ایک مخصوص طریقے سے مفرد اعداد کے حاصل ضرب کی شکل میں ظاہر کیا جا سکتا ہے ۔یہ اہم حقیقت ہی حساب کا بنیادی مسئلہ ہے ۔یہ نتیجہ بھی سمجھنے اور بیان کرنے میں کافی آسان ہے ۔اور ریاضی کے میدا ن میں اس کے دور رس اور اہم استعمالات ہیں۔ ہم حساب کے بنیادی مسئلے کا استعمال دو اہم استعمالات میں کریں گے۔ اوّلاً ہم کئی اعداد کی غیر ناطقیت کو ثابت کرنے میں اس کا استعمال کریں گے ،جس کا مطالعہ آپ نے نویں جماعت میں کیا ہے۔جیسے
اور
اور ثانیاً اس کا استعمال یہ جاننے کے لیے کریں گے کہ کب ناطق عدد
کا عشری اظہار مختتم ہے اورکب غیر مختتم اور تکراری ہے اور ایسا ہم
کے نسب نما qکے مفرد اجزائے ضربی کو دیکھ کر کر سکتے ہیں آپ دیکھیں گے کہ qکے مفرد اجزائے ضربی
کے عشری پھیلائو کے بارے میں حتمی بات بتاتے ہیں ۔
آئیے اب ہم اپنے مطالعے کو شروع کرتے ہیں ۔
1.2اقلیدس کا تقسیم معاونہ (Euclid’s Division Lemma)
مندرجہ ذیل لوک پہیلی (Folk Puzzle) پر غور کیجئے *
ایک تاجر ایک سڑک کے کنارے انڈے بیچتا ہوا جارہا تھا۔ ایک بیکار آدمی جس کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں تھا ،اس تاجر سے بد کلامی کرنے لگا جس کی وجہ سے دونوں کے درمیان جھگڑا شروع ہو گیا ،اس نے اس ٹوکری کو جس میں انڈے تھے زمین پر پھینک دیا ،جس کی وجہ سے تاجر کے سارے انڈے ٹوٹ گئے ،تاجر نے پنچایت سے التجا کی کہ وہ اس آدمی سے اس کے انڈوں کے پیسے دلوائے ،پنچایت تاجر سے پوچھتی ہے کہ اس کے کتنے انڈے ٹوٹے ،اس نے مندرجہ ذیل جوابات دئے :
اگر جوڑوں میں گنا جائے تو ،ایک باقی بچے گا ؛
اگر تین ،تین کر کے گنا جائے تو دو باقی بچیں گے ؛
اگر چار ،چار کر کے گنے جائیں تو تین باقی بچیں گے ؛
اگر پانچ پانچ کرکے گنے جائیں تو چار باقی بچیں گے ؛
اگر چھ چھ کر کے گنے جائیں تو پانچ باقی بچیں گے؛
اگر سات سات کر کے گنے جائیں تو کچھ باقی نہیں بچتا ؛
میری ٹوکری میں 150سے زیادہ انڈے نہیں آسکتے ۔
بتائیے اس ٹوکری میں کل کتنے انڈے تھے ؟ آئیے ہم اس پہیلی کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں مان لیجئے انڈوں کی تعداد aہے ۔پہیلی کے مطابق aیا تو 150سے کم ہے یا برابر :
اگر سات سات میں گنتے ہیں تو کچھ باقی نہیں بچتا جس کا حساب کی زبان میں مطلب ہے a = 7p + 0،جہاں Pکوئی طبعی عدد ہے ۔اگر چھ چھ کر کے گنیں تو a = 6q +5
اگر پانچ پانچ کر کے گنیں تو 4باقی بچتا ہے ،اس کو ہم لکھتے ہیں a = 5w + 4,جہاںwکوئی طبعی عدد ہے ۔
اگر چار چار کرکے گنیں تو 3باقی بچتا ہے اس کا مطلب ہے a = 4s + 3,جہاں sکوئی طبعی عدد ہے ۔
*رام پال اور دیگرحضرات کے عددی شماریات! (Numeracy Counts)میں شامل پہیلی کی یہ جدید شکل ہے۔
اگر تین تین میں گنیں تو دو باقی بچتا ہے اس کا مطلب ہے, a = 3t + 2جہاں tکوئی طبعی عدد ہے ۔
اگر جوڑوں میں گنتے ہیں تو ایک باقی بچتا ہے اس کا مطلب ہے, a = 2u + 1جہاں uکوئی طبعی عدد ہے ۔
یعنی ہر حالت میں ہمارے پاس ہوتا ہے aاور ایک مثبت صحیح عدد b(ہماری مثال میںbکی قدریں باالترتیب 3،4،5،6،7،اور2میں )جو aکو تقسیم کر کے باقی r(ہماری مثال میں rباالترتیب ہے 5،0، 4، 2،3،اور1)جو bسے چھوٹا ہے، جس لمحہ ہم ایس مساوتیں لکھتے ہیں ہم اقلیدس کے تقسیم کے معاونہ کا استعمال کرتے ہیں جو مسئلہ 1.1میں دیا ہوا ہے ۔
واپس ہم اپنی پہیلی کی طرف آتے ہیں ،کیا آپ کو کچھ اندازہ ہے کہ آپ اس کو کس طرح حل کریں گے ؟ ہاں ! ہم 7کے ایسے اضعاف پر غور کریں گے ،جو تمام شرطوں کو مطمئن کریں ،سعی و خطاکی مدد سے اس کو معلوم ہوگا کہ اس کے پاس 119انڈے تھے ۔
اس بات کو محسوس کرنے کے لئے اقلیدس کا تقسیم کا معاونہ کیا ہے ۔مندرجہ ذیل صحیح اعداد کے جوڑوں پر غور کیجئے
;20,4 ;5,12 ;17,6
جیسا کہ ہم نے مذکورہ بالا مثال میں کیا، ایسے ہر ایک جوڑے کے لیے ہم مندرجہ ذیل تعلق (relations)لکھ سکتے ہیں۔
(17کو 6سے تقسیم کرنے پر باقی 5بچتا ہے )
17=6×2+5
(یہ تعلق بھی صحیح ہے کیونکہ 12 یہ 5سے بڑا ہے )
5=12×0+5
(یہاں 20,4میں 5مرتبہ جاتا ہے اور باقی کچھ نہیں بچتا ہے)
20=4×5+0
یعنی ہر مثبت صحیح اعداد a اور b کی جوڑی کے لیے ہم کو مکمل اعداد q اورr ملتے ہیں جو درج ذیل تعلق (مساوات) کو مطمئن کرتے ہیں۔
نوٹ کیجئے کہ qیا rصفر بھی ہو سکتا ہے ۔
درج ذیل مثبت صحیح اعداد کی جوڑی اور bکے لیے آپ qاور rمعلوم کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ؟
کیا آپ نے یہ بات نوٹ کی کہ qاور rیکتا ہیں ؟یہی صرف ایسے صحیح اعداد میں جو شرط a = bq + r کو مطمئن کرتے ہیں جہاں
آپ نے یہ بھی محسوس کیا ہوگا آپ اتنے سالوں سے جولمبی تقسیم کر رہے ہیں اس کی یہ دوسری شکل ہے اور صحیح اعداد qاورrباالترتیب خارج قسمت اور باقی کہلاتے ہیں اس نتیجے کا ایک رسمی بیان مندرجہ ذیل ہے۔
مسئلہ 1.1:
(اقلیدس کی تقسیم کا معاونہ ) aاور b مثبت صحیح اعدادکے لیے q اور ایسے دو منفرد صحیح اعداد موجود ہوتے ہیں a = bq + r جب کہ
کو مطمئن کرتے ہیں ۔
اس نتیجہ کا انکشاف بہت پہلے ہو چکا تھا ۔لیکن سب سے پہلے اس کو اقلیدس کے عناصر کی کتاب VIIمیں ریکارڈ کیا گیا، اقلیدس کے تقسیم کا الگورتھم کی بنیاد اس معاونہ پر ہے۔
الگو رتھم اُن واضح اقدامات کا وہ سلسلہ ہے جو کسی مسئلہ کے حل کا طریقہ فراہم کرتا ہے ۔
لفظ الگورتھم نویں صدی کے اپرانی ریاضی داں الخوارزمی کے نام سے اخذ کیا گیا ہے۔ درحقیقت ،لفظ الجبرا بھی ان ہی کی لکھی گئی کتاب حساب الجبرا والمقابلہ سے اخذ کیا گیا ہے۔
معاونہ ایک ایسا ثابت شدہ بیان ہے جس کا استعمال کسی دوسرے بیان کو ثابت کرنے میں کیا جاتا ہے ۔
الگو رتھم اُن واضح اقدامات کا وہ سلسلہ ہے جو کسی مسئلہ کے حل کا طریقہ فراہم کرتا ہے ۔
لفظ الگورتھم نویں صدی کے اپرانی ریاضی داں الخوارزمی کے نام سے اخذ کیا گیا ہے۔ درحقیقت ،لفظ الجبرا بھی ان ہی کی لکھی گئی کتاب حساب الجبرا والمقابلہ سے اخذ کیا گیا ہے۔
معاونہ ایک ایسا ثابت شدہ بیان ہے جس کا استعمال کسی دوسرے بیان کو ثابت کرنے میں کیا جاتا ہے ۔

محمد ابن موسی الخوارزمی
(A.D. 780 - 850)
اقلیدس کا تقسیم الگورتھم دیے ہوئے دو مثبت صحیح اعداد کا[اعاد اعظم مشترک) [(HCFمعلوم کرنے کی ایک تکنیک ہے۔ یاد کیجئے کہ دومثبت صحیح اعداد aاور bکا عاد اعظم (HCF) وہ سب سے بڑا مثبت صحیح عدد dہے جوaاور bدونوں کی تقسیم کرتا ہے ۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ الگورتھم کس طرح عمل کرتا ہے ۔اس کے لئے ہم ایک مثال لیتے ہیں مان لیجئے ہمیں صحیح اعداد 455اور 42کا HCF(عاد اعظم مشترک )معلوم کرنا ہے ،ہم بڑے صحیح عدد یعنی 455سے شروع کرتے ہیں ،پھر ہم اقلیدس کے معاونہ کا استعمال کرتے ہیں ، اس سے ہمیں حاصل ہوتا ہے
455 = 42 × 10 + 35
اب مقسوم علیہ 42اور باقی 35پر غور کیجئے اور مندرجہ ذیل حاصل کرنے کے لئے تقسیم کے معاونہ کا استعمال کیجئے
42 = 35 × 1 + 7
اب مقسوم علیہ 35اور باقی 7پر غور کیجئے اور
35=7×5+0
حاصل کرنے کے لیے تقسیم کے معاونہ کا استعمال کیجئے ۔نوٹ کیجئے کہ باقی صفر ہو گیا ہے اس لئے ہم مزید آگے نہیں بڑھ سکتے ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ 455اور 42کا HCFعاد اعظم اس مرحلہ پرمقسوم علیہ ہے یعنی –7اس کی تصدیق آپ 455اور42کے تما م اجزائے ضربی کی فہرست بنا کر کر سکتے ہیں ۔یہ طریقہ کس لئے کام کرتا ہے ؟ یہ مندرجہ ذیل نتیجے کی وجہ سے کام کرتا ہے ۔
اس لئے آئیے اقلیدس کی تقسیم کے الگورتھم کو واضح طور پر بیان کرتے ہیں ۔
دو مثبت صحیح اعداد cاور dکا مشترک عاد اعظم معلوم کرنا ہے جبکہ c > d ہم مندرجہ ذیل اقدام اٹھاتے ہیں۔
قدم 1: cاور d پر اقلیدس کے تقسیم کے معاونہ کا استعمال کیجئے ، اس طرح ہمیں مکمل اعدادq اور rایسے ملتے ہیں کہ
قدم 2: اگر r = 0ہو اور d یہ cاورdکا عاد اعظم مشترک ہے۔ اگر
،تو dاور rپر تقسیم کے معاونہ کا استعمال لیجیے۔
قدم 3: باقی صفر ہونے تک اس عمل کو جاری رکھیے ،اس مرحلہ پر مقسوم علیہ مطلوبہ HCFعاد اعظم مشترک ہوگا یہ الگورتھم کاکا م کرتا ہے کیونکہ
(HCF (c, d)=HCF (d, rجہاں علامت (HCF (c,d،یہ cاورdکے HCF ہے۔
مثال 1: اقلیدس کے الگورتھم کا استعمال کرکے 4052اور12576کا عاد اعظم مشترک (HCF) معلوم کیجئے ۔
حل :
قدم 1: کیونکہ 12576 > 4052، ہم 4052اور12576پر تقسیم کے معاونہ کا استعمال کرکے ہمیں
12576 = 4052 × 3 + 420
یہ حاصل ہوتا ہے۔
قدم 2: کیونکہ باقی
ہم، 4052اور 420پر تقسیم کے معاونہ کا استعمال کرکے ہمیں
4052 = 420 × 9 + 272
یہ حاصل ہوتا ہے۔
قدم 3:ہم نئے مقسوم علیہ 420اور نئے باقی 272,پر غور کرتے ہیں اور تقسیم کے معاونہ کے استعمال کرکے ہمیں
420 = 272 × 1 + 148
یہ حاصل ہوگا۔
ہم نئے قاسم 272اور باقی 148پر غور کرتے ہیں اور تقسیم کے معاونہ کا استعمال کرکے ہمیں
272=148×1+124
یہ حاصل ہوتا ہے۔
ہم نئے مقسوم علیہ148اور باقی 124پر غور کرتے ہیں اور تقسیم کے معاونہ کا استعمال کرکے ہمیں
148=124×1+124
ہوتا ہے۔
ہم نئے مقسوم علیہ124اور نئے باقی 24پر غور کرتے ہیں، اورتقسیم کے معاونہ کے استعمال کرکے ہمیں
124 = 24 × 5 + 4
یہ حاصل ہوتا ہے ۔
اب ہم نئے مقسوم علیہ 24اور نئے باقی 4پر غور کرتے ہیں، اور نئے معاونہ کے استعمال کرکے ہمیں
24=4×6+0
یہ حاصل ہوتا ہے
اب باقی صفر ہو گیا، اس لئے ہمار ا طریقہ (الگورتھم ) رک جاتا ہے۔ کیوں کہ اس مرحلہ پر مقسوم علیہ 4ہے، 12576 اور4052 کا HCF 4ہے ۔
نوٹ کیجئے کہ:
4 = HCF (24, 4) = HCF (124, 24) = HCF (148, 124)
= HCF (272, 148) = HCF (420, 272) = HCF (4052, 420) = HCF (12576, 4052).
اقلید س کا تقسیم کا معاونہ نہ صرف بڑے اعداد کا HCFعاد اعظم مشترک معلوم کرنے میں مفید ہے بلکہ یہ کسی الگورتھم کی وہ پہلی مثال ہے جس کو حل کرنے کے لئے کمپیوٹر نے پروگرامنگ کی ۔
ریمارکس
1۔ اقلیدس کا تقسیم معاونہ اور الگورتھم اس طرح سے باہم مربوط ہیں کہ لوگ اکثر معاونہ کو تقسیم کا الگورتھم کہتے ہیں۔
2۔ حالاں کہ اقلیدس کی تقسیم کا الگورتھم صرف مثبت صحیح اعداد کے لئے بیان کیا جاتا ہے لیکن اس کی توسیع ہم صفر کے علاوہ تمام صحیح اعداد یعنی
کے لئے کر سکتے ہیں ،اس باب میں ہم اس پہلو پر غور نہیں کر یں گے ۔
اعداد کی خصوصیات معلوم کرنے کے لیے اقلیدس کے تقسیم کے معاونہ/ الگورتھم کا مختلف طریقہ سے استعمال ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ ذیل میں دیے گئے ہیں ۔
مثال 2: دکھائیے کے ہر مثبت جفت صحیح عدد جیسا 2q ہوتا ہے اور ہر مثبت طاق عدد 2q+1جیسا ہوتا ہے جہاں qکوئی صحیح عدد ہے۔
حل : مان لیجئے aکوئی مثبت صحیح عدد ہے اور b = 2تب اقلیدس کے الگورتھم کے مطابق a = 2q + r ،کسی صحیح عدد q ≥ 0 کے لئے اور
0 = r
یا
1= r
کیونکہ
اس لئے2q + 1 یا a = 2q
اگر a،2qجیسا ہے تب aایک جفت صحیح عدد ہے ۔مزید ایک مثبت صحیح عدد یا تو جفت ہوتا ہے یا طاق ۔ا س لئے کوئی بھی مثبت طاق عدد 2q + 1جیسا ہوتا ہے ۔
مثال 3: دکھایئے کوئی بھی مثبت طاق صحیح عدد 4q + 1یا 4q + 3جیسا ہوتا ہے جہاں qکوئی صحیح عدد ہے ۔
حل : آئیے شروعات aلے کر کرتے ہیں جہاں aمثبت طاق عدد ہے ہم aاورb = 4پر تقسیم الگورتھم کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ
ممکنہ باقی ہیں 2،1،0اور 3
یعنی aہو سکتا ہے 4q،یا 4q + 2یا 4q + 3جہاں qخارج قسمت ہے
لیکن 4q,a یا 4q + 2نہیں ہو سکتا کیونکہ aطاق ہے (کیونکہ دونوں 2سے تقسیم ہوتے ہیں ) اس لئے کوئی بھی طاق صحیح عدد 4q + 1 یا 4q + 3کی شکل کا ہوتا ہے ۔
مثال 4: ایک حلوائی کے پاس 420کاجو کی برفی اور130بادام کی برفی ہے ۔وہ برفی کو قطاروں میں اس طرح لگانا چاہتا ہے کہ ہر قطار میں برفی کی تعداد یکساں ہو اور ٹرے کا کم سے کم رقبہ استعمال ہو اس مقصد کے لئے ہر قطار میں کتنی برفیاں ہوں گی ؟
حل : اس مسئلہ کو ہم Trial and errorسعی و خط کی مدد سے حل کر سکتے ہیں ۔لیکن اس کو منظم طو ر پر کرنے کے لئے ہم (420,130)کا HCFعاد اعظم مشترک معلوم کرتے ہیں ۔اس طرح سے اس عدد(HCF)سے ہمیں ہر قطار میں موجود برفی کی وہ اعظم تعداد ملے گی جس کی وجہ سے قطاروں کی تعداد کم سے کم ہو ۔اور اسی حالت میںٹرے کا رقبہ کم سے کم استعمال ہوگا ۔
آئیے ،اب اقلیدس کے الگورتھم کا استعمال HCFمعلوم کرنے میں کرتے ہیں ،ہمارے پاس ہے
420 = 130 × 3 + 30
130 = 30 × 4 + 10
30 = 10 × 3 + 0
اس طرح سے 420اور130کا 10HCF ہے
اس طرح سے حلوائی دونوں قسم کی برفیوں کی 10 ، 10کی قطاریں بنائے گا ۔
مشق 1.1
1۔ اقلیدس کے تقسیم کے الگورتھم کو استعمال کر کے مندرجہ ذیل کا HCFمعلوم کیجئے ۔
2۔ دکھائیے کے کوئی بھی مثبت طاق صحیح عدد 6q + 3، 6q + 1 یا6q + 5کی شکل کا ہوتا ہے جہاں qکوئی صحیح عدد ہے ۔
3۔ ایک پریڈ میں 616افراد کی فوج کے ایک د ستے کو 32افرادکے ایک فوجی بنیڈ کے پیچھے چلنا ہے ۔ دونوں گروپوں کو کالموں کی یکساں تعداد میں مارچ کرتا ہے ۔کالموں کی وہ بڑی سے بڑی تعداد معلوم کیجئے جس میں وہ مارچ کر سکتے ہیں؟
4۔ اقلیدس کے تقسیم کے معاونہ کا استعمال کر کے دکھائیے کہ کسی مثبت صحیح عدد کا مربع یا تو 3mیا 3m + 1کی شکل کا ہو گا جہاں mکوئی صحیح عدد ہے ۔
[اشارہ :-مان لیجئے x کوئی مثبت صحیح عدد ہے تب یہ 3q + 1 ،3q یا 3q + 2 کی شکل کا ہوگا ۔اب ان سب کا مربع نکالیے اور دکھائیے کہ کسی بھی مثبت صحیح عدد کا مربع 3m یا 3m +1 کی شکل کا ہوگا ۔
5۔ اقلیدس کے تقسیم کے معاونہ کا استعمال کر کے دکھائیے کہ کسی بھی مثبت صحیح عدد کا کعب 9m،9m + 1یا9m + 8کی شکل کا ہوگا ۔
1.3حساب کا بنیادی مسئلہ
سابقہ کلاسوں میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ کسی بھی طبعی عدد کو آپ اس کے مفرد اجزائے ضربی کی شکل میں لکھ سکتے ہیں ، مثال کے طورپر
اور آگے تک ،آئیے اب ہم طبعی عدد کو ایک دوسرے نظریہ سے دیکھتے ہیں یعنی کیا کسی طبعی عدد کو مفرد اعداد کی ضرب کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے ؟ آئیے دیکھتے ہیں ۔
مفرد اعداد کا کوئی بھی مجموعہ لیجئے جیسے ۔3,2, 7, 11اور23،اگر ہم ان میں کچھ یا تمام اعداد کو ضرب کریں ،جس میں اعداد کی تکرار کی کوئی قید نہیں ہو ،تو ہم مثبت صحیح اعداد کا ایک بہت بڑا مجموعہ حاصل کر سکتے ہیں (د ر حقیقت لا محدود ) آئیے ان میں سے کچھ کی فہرست مندرجہ ذیل میں بتاتے ہیں ۔

اب فرض کر لیجئے کہ آپ کے مفرد اعداد کے مجموعہ میں تمام ممکنہ مفرد اعداد شامل ہیں ۔اس مجموعہ کے سائز کے بارے میں آپ کا کیا اندازہ ہے ؟ کیا اس میں محدود صحیح اعداد ہیں یا لا محدود ؟ در حقیقت اس میں لا محدود مفرد اعداد ہیں ۔اس لئے اگر ہم ان تمام مفرد اعداد اور ان کے تمام ممکنہ حاصل ضربوں پر مشتمل کریں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اس طریقہ سے تمام مرکب اعداد بھی حاصل کر سکتے ہیں؟ آپ کیا سوچتے ہیں ؟ کیا آپ یہ سوچتے ہیں کہ ایک ایسا مرکب عدد ہو سکتا ہے جو مفرد اعداد کی قوتوں (Power)کا حاصل ضرب نہ ہو ؟ اس سے پہلے کہ ہم اس کا جواب دیں آئیے مثبت صحیح اعداد کے اجزائے ضربی بنائیں یعنی اس سے قبل جو ہم نے کیا ہے اس کا بر عکس کریں ۔
ہم اجزائے ضربی کے درخت کا استعمال کرتے ہیں جس سے آپ سب پہلے ہی سے واقف ہیں ۔آئیے کوئی بڑا عدد مان لیجئے ۔32760لیتے ہیں اور اس کے اجزائے ضربی معلوم کرتے ہیں جیسا کہ ذیل شکل میں دکھایا گیا ہے ۔

اس طرح سے ہم نے 32760 کے اجزائے ضربی مفرد اعداد کے حاصل ضرب
2 × 2× 2 × 3 × 3 × 5 × 7×13
کی شکل میں معلوم کیجئے یعنی
32760=2³×3²×5×7×13
یہ مفرد اعداد کی قوتوں کے حاصل ضرب کی شکل ہے ۔ آئیے ایک دوسرا عدد لیتے ہیں جیسے 123456789اس کو ہم
کی طرح لکھ سکتے ہیں بے شک آپ کو جانچ کرنا ہوگا کہ 3803اور 3607مفرد ہیں !(اس کو آپ خود دوسرے بہت سے طبعی اعداد کے لئے کوشش کیجئے ) اس سے ہمیں ایک Conjucture(قیاس) حاصل ہوتا ہے کہ ہر مرکب عدد کو مفرد اعداد کی قوتوں کے حاصل ضرب کی شکل میں لکھا جا سکتا ہے ۔ درحقیقت یہ بیان صحیح ہے اور اسے ہم حساب کا بنیادی مسئلہ کہتے ہیں کیونکہ صحیح اعداد کے مطالعہ کے لئے اس کی بنیاد ی حیثیت ہے۔ آئیے اب ہم رسمی طور پر اس مسئلہ کو بیان کرتے ہیں ۔
مسئلہ 1.2حساب کا بنیادی مسئلہ Fundamental Theorem of Arithmetic) :-
ہر مرکب عدد کو مفرد اعداد کے حاصل ضرب اجزائے ضربی کی شکل میں ظاہر کیا جا سکتا ہے ۔یہ اجزائے ضربی میں( تحلیل ) اظہار منفردہوتا ہے ۔بھلے ہی مفرد اجزائے ضربی کی ترتیب مختلف ہو ۔
حساب کے بنیادی مسئلے کے مطابق ہر مرکب عدد کو مفرد اعداد کے حاصل ضرب کی شکل میں ظاہر کر سکتے ہیں ۔در حقیقت اس میں بھی زیادہ اس مسئلے کی رو سے دیے ہوئے کسی مرکب عدد کے اجزائے ضربی ایک مخصوص( منفرد )طریقہ سے مفرد اعداد کے حاصل ضرب کی شکل میں بنائے جا سکتے ہیں ۔سوائے اس ترتیب کے جس میں مفرد اعداد واقع ہوتے ہیں یعنی کسی بھی دیے ہوئے مرکب کو ایک اور صرف ایک ہی طریقے سے مفرد اعداد کے حاصل ضرب کے طور پر لکھا جا سکتا ہے۔ جب تک کے ہم اس کے مفرد اعداد کی ترتیب پر غور نہیں کرتے ۔مثال کے طور پر ہم 7 × 5 × 3 × 2 اور 2 × 7 × 5 × 3 کو ایک ہی سمجھتے ہیں یا اس کے علاوہ اور بھی کسی ترتیب میں ہوں ۔اس حقیقت کو ہم مندرجہ ذیل شکل میں بیان کرتے ہیں ۔
طبعی اعداد کی مفرد اجزائے ضربی میں تحلیل منفرد (ایکتا) ہے سوا ئے اس کے اجزائے ضربی کی ترتیب کے۔
مسئلہ 1.2کا معادل بیان سب سے پہلے اقلیدس کے عناصر کی کتاب IXمیں موضوعہ 14کے طور پر ریکارڈ کیا گیا ہے ۔بعد میں اسے حساب کے بنیادی مسئلہ کے طور پر جانا جانے لگا ۔لیکن اس کا پہلا صحیح ثبوت کارل فریڈرک گاس (Carl Friedrich Gauss) نے Disquisitiones Arithmeticaeمیں دیا۔ گاس کو اکثر ریاضی کے شہزادے کے طور پر جانا جاتا ہے اور اس کا نام ابھی تک کے دنیا کے 3بڑے ریاضی دانوں میں شامل ہوتا ہے۔ فریڈرک گاس، نیوٹن (Newton) اور ارشمدس(Archimedes) وغیرہ ۔ انہوں نے سائنس اور ریاضی میں بنیادی تعاون دیا ہے ۔

کار فریڈرک گاس
(1777-1855)
عمومی طور پر ایک دیے ہوئے مرکب عدد xکے ہم اجزائے ضربی معلوم کرتے ہیں
جہاں
اعداد ہیں جو بڑھتی ہوئی ترتیب میں لکھے ہیں ۔یعنی
اگر ہم یکساں مفرداعداد کو ملائیں تو ہمیں مفرد اعداد کی قوت حاصل ہوگی مثال کے طور پر ،
جب ہم نے ایک بار طے کر لیا کے ترتیب بڑھتی ہوئی ہوگی تب وہ طریقہ جسمیں سے عدد کے اجزائے ضربی ہوں گے منفر د ہوگا حساب کے بنیادی مسئلے کے ریاضی اور دوسرے میدانوں میں بہت سے استعمال ہیں ۔آئیے کچھ مثالوں پر غور کرتے ہیں۔
مثال 5:اعداد
پر غور کیجئے جہاں nایک طبعی عدد ہے ،جانچ کیجئے کہ آیا nکی کوئی ایسی قدر ہے جن کے لئے
کا اختتام صفر پر ہو
حل : اگر عدد
کسی بھی nکے لیے ہندسہ صفر پر ختم ہوتا ہے تب یہ 5سے تقسیم ہوگا یعنی 4مفر اجزائے ضربی میں مفرد عدد 5شامل ہوگا یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ
اس لئے
کا مفرد جزو ضربی 2ہے ۔اس لئے حساب کے بنیادی مسئلے کی انفرادیت سے یہ طے ہو جاتا ہے کہ
کے مفرد اجزائے ضربی میں 2کے علاوہ کوئی دوسرا مفرد عدد نہیں ہے۔اس لئے ایسا کوئی بھی طبعی عدد nنہیں ہے جس کے لئے
ہندسہ صفر پر ختم ہو ۔
سابقہ کلاسوں میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ حساب کے بنیادی مسئلہ کو استعمال کر کے دو مثبت صحیح اعداد کا HCFعاد اعظم مشترک دو اضفاف اقل اور LCMکیسے معلوم کیا جاتا ہے ۔جبکہ ہم اس مسئلہ کے بارے میں کچھ جانتے نہیں تھے ۔
اس طریقہ کو ہم مفرد اجزائے ضربی کا طریقہ بھی کہتے ہیں ۔آئیے ایک مثال کے ذریعہ اس طریقہ کو دہراتے ہیں
مثال: 6 مفرد اجزائے ضربی کے طریقہ سے 6اور20کا LCMاورHCFمعلوم کیجئے ۔
حل:ہمارے پاس ہے
6=2¹×3¹
اور
20=2×2××5=2²×5¹
آپ معلوم کرسکتے ہیں کہ
2,HCF(6,20)=60
ہےاور
LCM=2×2××3××5=60
ہے جیسا کہ آپ سابقہ کلاسوں میں کرچکے ہیں۔
نوٹ کیجیے کہ2¹=(HCF(6,20اعداد میں موجود ہر ایک مشترک مفرد اجزائے ضربی کی قلیل قوت کا حاصل ضرب۔
5¹×3¹×2²=(LCM(6,20
اعداد میں شامل ہر ایک مفرد اجزاے ضربی کی اعظم قوت کا حاصل ضرب۔
مذکورہ بالا مثال سے آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ
HCF(6,20)×LCM(6,20)=6×20
در حقیقت ہم تصدیق کرسکتے ہیں کہ کسی بھی دو مثبت صحیح اعدادa اورbکے لیے
HCF(a,b)×LCM(a,b)=a×b
اس نتیجہ کے استعمال سے ہم دو مثبت صحیح اعداد کاLCMمعلوم کرسکتے ہیں اگر ہم دونوں مثبت اعداد کاHCFپہلے ہی معلوم کرچکے ہوں۔
مثال7:مفرداجزائے ضربی کے طریقہ سے96اور404 کاHCFمعلوم کیجیے اور پھرLCM بھی معلوم کیجیے۔
حل:96اور404 کےمفرد اجزائے ضربی سے ہمیں ملتا ہے۔
96=25×3, 404=2²×101
اس لیے ان دو صحیح اعداد کا
2²=4HCF
مزید

مثال8: مفرد اجزائے ضربی کے طریقہ کو استعمال کرکے72.6اور120کاHCFاورLCMمعلوم کیجیے۔
حل:ہمارے پاس ہے۔
6=2×3,72=2³×3³,120=2³×3×5
یہاں2¹اور3³مشترک اجزائےضربی2اور3 کی باالترتیب اصغر(سب سے چھوٹی) قوتیں ہیں۔
اس لیے،
HCF(6,2,120)=2¹×3¹=2×3×6
اور5¹مفرد اجزائے ضربی3,2اور5 باالتربیت اعظم قوتیں ہیں جو تینوں اعداد میں شامل ہیں۔
اس لیے،
LCM(6,72,120)=2³×3²×5¹=360
ریمارک:نوٹ کیجیے،
6×72×120≠≠HCF(6,72,120)×LCM(6,72,120)
اس لیے تین اعداد کا حاصل ضرب ان کے HCFFاورLCMکے حاصل ضرب کے برابر نہیں ہے۔
مشق 1.2
.1 مندرجہ ذیل ہر ایک عدد کو اس کے مفرد اجزائے ضربی کے حاصل ضرب کے طو ر پر لکھئے ۔
.2 مندرجہ ذیل صحیح اعداد کے جوڑوں کا HCFاورLCMمعلو م کیجئے اور تصدیق کیجئے کہ
دونوں اعداد کا حاصل ضرب =LCM×HCF
3۔ مفرد اجزائے ضربی کے طریقہ کے استعمال سے مندرجہ ذیل صحیح اعداد کا LCMاور HCFمعلوم کیجئے
4۔دیا ہوا ہے9=(LCM(306,657),HCF(306,657معلوم کیجیے
5-جانچ کیجیے آیا"6کسی طبعی عددnکے لیے ہندسہ صفر پر ختم ہوتا ہے۔
6۔ تشریح کیجیے کہ کیوں
7×11×13+13
اور
7×6×5×4×3×2×1+5
7۔ کھیل کے ایک میدا ن کے چاروں طرف ایک دائری راستہ ہے ۔سونیا میدان کا ایک چکّرلگانے میں 18منٹ لیتی ہے جبکہ روی ایک چکّر12منٹ میں پورا کر لیتا ہے ۔فرض کیجئے کہ دونوں ایک مقام سے ایک ہی سمت میں ایک وقت چلنا شروع کرتے ہیں ۔کتنے منٹ بعد وہ دونوں ابتدا ئی مقام پر دوبارہ ملیں گے ۔
1.4غیر ناطق اعداد پر نظر ثانی
نویں کلاس میں آپ کو غیر ناطق اعداد اور ان کی خصوصیات سے متعارف کرایا گیا تھا ۔آپ نے ان کے وجود کے بارے میں مطالعہ کیا اور آپ نے یہ بھی سیکھا کہ کس طرح دونوں ناطق اور غیر ناطق اعداد مل کر حقیقی اعداد کی تشکیل کرتے ہیں۔آپ نے غیر ناطق اعداد کو عددی خط پر پلاٹ کرنا بھی سیکھا ۔لیکن ہم نے یہ ثابت نہیں کیا کہ یہ غیر ناطق ہیں ۔اس سیکشن میں ہم یہ ثابت کریں گے کہ
اور عمومی طور پر
غیر ناطق ہے جہاں pمفرد ہے ۔ایسے ثبوت میں ہم جس ایک مسئلہ کا استعمال کریں گے وہ ہے حساب کا بنیادی مسئلہ

اس سے پہلے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ
غیر ناطق ہے ۔ہمیں ایک مسئلہ کی ضرورت ہے جبکے ثبوت کی بنیادی حساب کے بنیاد ی مسئلہ پر ہے ۔
مسئلہ1.3: مان لیجیےp ایک مفرد عدد ہےے اگرpیہa²کو تقسیم کرتا ہے تبa,pکو بھی تقسیم کرے گا، جہاںaایک مثبت صحیح عدد ہے۔
*ثبوت:مان لیجیےaکے مفرد اجزائے ضربی مندرجہ ذیل ہیں۔
اس لیے
اب ہمیں دیا ہوا ہے کہ a¹,pکو تقسیم کرتا ہے۔ اس لیے حساب کے بنیادی مسئلے کی رو سے یہ پتہ چلتا ہے کہpیہa²کے مفرد اجزائے ضربی کا ایک جز ہے لیکن حساب کے بنیادی مسئلے کی انفرادیت کو استعمال کرکے ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ a²کے مفرد اجزائے ضربی صرف
ہیں۔ اس لیےp،
فٹ ناٹ
*یہ امتحان کے نقطۂ نظر سے نہیں ہے
اب ہم
کو غیر ناطق ثابت کرنے کے لئے تیار ہیں ۔
اس ثبوت کی بنیادجس تکنیک پر ہے اسے تضاد کا ثبوت ،کہتے ہیں ( اس تکنیک کو ضمیمہ میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے )
مسئلہ 1.4:
غیر ناطق ہے ۔
ثبوت : آئیے فرض کرتے ہیں کہ
ناطق ہے ۔
اس لئے ہم صحیح اعداد rاور
معلوم کر سکتے ہیں جبکہ 
مان لیجئے rاور sمیں ایک کے علاوہ کوئی مشترک جزوضربی ہے تب ہم اس مشترک جز ضربی سے تقسیم کر کے
حاصل کرتے ہیں ۔
جہاں aاور bباہمی مفرد (Coprime)ہیں
اس لئے

لیکن یہ تضاد ہے کیونکہ ہم نے مانا تھا کے aاور bمیں 1کے علاوہ کوئی مشترک جزو ضربی نہیں ہے ۔اس تضاد سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم نے جو مانا تھا وہ غلط تھا یعنی کہ
ناطق ہے غلط ہے۔
اس لئے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ
غیر ناطق ہے
مثال 9: ثابت کیجئے
غیر ناطق ہے
یعنی ہم ایسے صحیح اعداد aاورbمعلوم کر سکتے ہیں جن کے لئے 
مان لیجئے aاورbمیں 1کے علاوہ ایک مشترک جزو ضربی ہے ۔تو ہم اس مشترک جزو ضربی سے تقسیم کر دیتے ہیں اور فرض کرتے ہیں کہ aاورb،ہم مفرد ہیں
اس لیے
دونوں طرف مربع کرنے اور ترتیب دینے پر ملتا ہے
اس لیےa2یہ3 سے تقسیم ہوجائے گا اور مسئلہ1.3کی رو سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ aبھی3سے تقسیم ہوجائے گا۔
اس لیے ہمa=3cلکھ سکتے ہیں جہاںcکو ئی صحیح عدد ہے۔
aکی جگہ رکھنے پر ہمیں ملتا ہے
3b²=9c²
اس کا مطلب ہے کہ b²بھیb سے تقسیم ہوجائے گا۔ اس لیے bبھی3سے تقسیم ہوجائے گا۔(مسئلہ1.3کی رو سے جبp=3)اس لیےaاورbکم سے کم ایک مشترک جزوضربی ہے۔
اس لئے aاورbکم سے کم ایک مشترک جزو ضربی ہے ۔
لیکن یہ اس حقیقت کی نفی کرتا ہے کہ aاورbباہمی مفرد ہیں ۔
اور یہ تضاد اس لئے ہوا کہ ہم نے غلط فرض کیا تھا کہ
غیر ناطق ہے ۔
نویں کلاس میں ہم نے بیان کیا تھا
- کہ ایک ناطق اور غیر ناطق عدد کا حاصل جمع اور فرق غیر ناطق ہوتاہے اور
- ایک غیر صفر اور غیر ناطق عدد کا حاصل ضرب اور حاصل تقسیم غیر ناطق ہوتا ہے۔
یہاں ہم کچھ مخصوص حالات کو ثابت کرتے ہیں۔
مثال10: دکھائیے کہ 
حل: آئیے اس کےبرخلاف فرض کرتے ہیں کہ
ناطق ہے
یعنی ہم دو باہم مفرد اعدادa اورb معلوم کرسکتے ہیں(b≠0)جن کے لیے


ہے اس مساوات کو دوبارہ ترتیب دینے پر ہمیں ملتا ہے
کیونکہaاورbصحیح اعاد ہیں اس لیے
ناطق ہے۔ اور اس لیے
بھی ناطق ہے۔ لیکن یہ اس حقیقت کی نفی کرتاہے کہ
غیر ناطق ہے۔
اس لیے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ
غیر ناطق ہے۔
مثال11: دکھائیے کہ
غیر ناطق ہے۔
حل: اس کے برخلاف ہم مانتے ہیں کہ
ناطق ہے۔
یعنی ہم دو باہم مفرد اعدادaاورbمعلوم کریں گے جس میںb≠0ہو اس طرح کہ
دوبارہ ترتیب دینے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے۔
کیونکہa,3اورbصحیح اعداد ہیں
ناطق ہے اس لیے
بھی ناطق ہوگا۔ لیکن یہ اس حقیقت کی نفی کرتا ہے کہ
غیر ناطق ہے۔
اس لئے ہم نتیجہ نکالتے ہیں کہ
غیر ناطق ہے ۔
مشق 1.3
1۔ ثابت کیجئے
غیر ناطق ہے۔
2۔ ثابت کیجئے کہ
غیر ناطق ہے۰
3۔مندرجہ ذیل کو غیر ناطق ثابت کیجئے۔
1.5ناطق اعداد اور ان کے عشری اظہار پر نظر ثانی
نویں کلاس میں آپ نے پڑھا ہے کہ ناطق اعداد کا عشری پھیلاؤ یا تو مختتم ہے یا غیر مختتم تکراری ہے اس سیکشن میں ہم ایک ناطق عدد
جس کا q≠0ہو اس پر یہ جاننے کے لیے غور کریں گے کہ
کا عشری پھیلاؤ مختتم اور کب غیر مختتم اور تکراری ہے۔ ایسا ہم بہت سی مثالیں لے کر کرتے ہیں ایسے مندرجہ ذیل اعداد پر غور کرتے ہیں۔

جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ تمام اعداد اپنے ناطق اعداد میں ظاہر کئے جا سکتے ہیں جس کا نسب نما 10کی کوئی قوت ہے اسے ہم شمار کنندہ اور نسب نما کے درمیان تمام مشترک اجزائے ضربی کو کینسل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہمیںکیا حاصل ہوتا ہے ۔
کیا آپ کوئی نمونہ (پیٹرن ) دیکھ رہے ہیں جس سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ہم نے ایک حقیقی عدد کو جس کا عشری پھیلائو کو ایک ناطق عدد
جہاں pاورqباہم مفرد ہیں ۔پر مختتم اور نسب نما (یعنی q)کے مفرد اجزائے ضربی صرف 2یا 5یا دونوں کی قوتیں ہیں،اور ہمیں یہ معلوم تھا کے ایسا ہی ہوگا کیونکہ 10کی قوتوں کے صرف 2اور5ہی اجزائے ضربی ہوتے ہیں ۔
حالانکہ ہم نے چند ہی مثالیں لی ہیں لیکن آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کسی بھی حقیقی عدد کو جس کا عشری پھیلاؤ مختتم ہے ایک ایسے ناطق عدد میں ظاہر کر سکتے ہیں جس کے نسب نما کی قوت 10ہو ۔مزید 10کے واحد مفرد اجزائے ضربی 2اور 5ہیں۔ اس طرح سے شمار کنندہ اور نسب نما کے درمیانی یا مشترک اجزائے ضربی کو کینسل کر کے ہم پاتے ہیں کہ ناطق عدد
کی شکل کا ہوگا جہاں qکے مفرد اجزائے ضربی
کی شکل کے ہوں گے جہاں mاورnغیر منفی صحیح اعدا د میں
آئیے اپنے نتیجے کو رسمی طور پر لکھتے ہیں
مسئلہ 1.5:مان لیجئے xایک ناطق عدد ہے جس کا عشری پھیلاؤ مختتم ہے ۔تب xکو
کی شکل میں ظاہر کیا جا سکتا ہے جہاں pاورqباہم مفرد ہیں اورqکے مفرد اجزائے ضربی
کی شکل کے ہیں جہاں mاورnغیر منفی صحیح اعداد ہیں ۔
آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ مسئلہ 1.5میں اگر اس کے معکوس پر غور کریں تو کیا ہوگا ۔
یعنی اگر ہمارے پاس
کی شکل کا ایک ناطق عدد ایسا ہے جس میں qکے مفرد اجزائے ضربی
کی شکل کے ہیں جہاں mاورnغیر منفی صحیح اعداد ہیں تو کیا
کا عشری پھیلاؤمختتم ہے ؟
آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا کوئی واضح وجہ ہے اس کو صحیح سمجھنے کی ،آپ اس بات سے ضرور اتفاق کریں گے کہ
شکل کے کسی بھی ناطق عدد جہاں b،10کی کوئی قوت ہے ،کا عشری پھیلائو مختتم ہوگا ۔
اس لئے یہ ایک دانشمندانہ قدم ہوگا کہ
کی شکل کے ایک ناطق عدد ،جہاں q یہ
کی شکل کا ہے کو ایک متبادل ناطق عدد ہے
کی شکل میں تبدیل کردیں جہاں 10 ,bکی ایک قوت ہو ۔
آئیے ہم مندرجہ بالا مثالوں کی طرف واپس چلتے ہیں عمل کو پیچھے کی طرف لے جاتے ہیں ۔

ان مثالوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہم
کی شکل والے کسی بھی ناطق عدد کو جہاں q یہ
کی شکل کا ہے
کے معادل ناطق عدد میں تبدیل کر سکتے ہیں جہاں 10کی کوئی قوت ہے ۔اس لئے ایسے ناطق اعداد کا عشری پھیلائو مختتم ہوتاہے ۔اسے اپنے نتیجہ کو رسمی طور پر لکھتے ہیں ۔
مسئلہ 1.6:
مان لیجئے
ایک ناطق عدد ہیں تب اس طرح کہ qکی منفرد اجزائے ضربی 2n5m کی شکل کے ہوں گے۔nکا عشری پھیلاؤ ہمیشہ مختتم ہوگا اب ہم ایسے ناطق اعداد کے بارے میں جاننے کے تیار ہیں جن کا عشری پھیلاؤغیر مختتم اور تکراری ہے ۔ایک با ر پھر ہم ایک مثال پر غور کرتے ہیں جو آپ کی نویں جماعت کی نصابی کتاب کے باب 1کی مثال 5ہے۔یعنی یہاں باقی 1,5,4,6,2,3,1,5,4,6,2,3ہیں اور مقسوم علیہ 7
نوٹ کیجئے کہ یہاں نسب نما 7،صاف ظاہر ہے 2n5m کی شکل کا نہیں ہے ۔اس لئے مسئلہ 1.5اور1.6کی روسے
کا عشری پھیلائو مختتم نہیں ہوگا ۔یعنی صفر کبھی بھی باقی کے طور پر نہیں آئے گا ۔(کیوں؟) اور باقی خاص مرتبہ کے بعد اپنے آپ کو دہرانے لگے گا ۔اس لئے ہمیں
ے خارج قسمت میںہندسوں کا ایک بلا ک،جو 142857ہے ملے گا جس کی تکرار ہوتی رہے گی ۔

جو ہم نے
کے مسئلہ میں دیکھا وہ تمام ایسے ناطق اعداد کے لئے درست ہے جو مسئلہ 1.5اور1.6میں نہیں شامل کئے گئے ہیں ۔ایسے اعداد کے لئے ہمارے پاس ایک مسئلہ ہے ۔
مسئلہ 1.7:مان لیجئے
یہاں(p،q(Coprimes) ہیں، ایک ناطق عدد ہے جس میں qکے مفرد اجزائے ضربی qکی شکل کے نہیں ہیں، جہا ں mاور nغیر منفی صحیح اعداد ہیں تب nکا عشری پھیلائو غیر مختتم اور تکراری ہوگا۔
یہاں(p،q(Coprimes) ہیں، ایک ناطق عدد ہے جس میں qکے مفرد اجزائے ضربی qکی شکل کے نہیں ہیں، جہا ں mاور nغیر منفی صحیح اعداد ہیں تب nکا عشری پھیلائو غیر مختتم اور تکراری ہوگا۔ مذکورہ بالا مطالعہ سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ کسی بھی ناطق عدد کا عشری پھیلاؤ یا تو مختتم ہوگا یا غیر مختتم تکراری ۔
مشق 1.4
1۔ لمبی تقسیم کئے بغیر بیان کیجئے کہ مندرجہ ذیل ناطق اعداد کا عشری پھیلاؤ مختتم ہے یا غیر مختتم تکراری ۔

2۔ مذکورہ بالا سوال نمبر 1میں دیئے گئے ان تما م ناطق اعداد کا عشری پھیلاؤ معلوم کیجئے جن کا عشری پھیلاؤ مختتم ہے ۔
3۔ مندرجہ ذیل حقیقی اعداد کا عشری پھیلاؤ نیچے دیا گیا ہے ۔ہر سوال میں بنائیے کہ وہ ناطق ہیں یا نہیں اگر وہ
کی شکل کے ناطق اعداد ہیں تو آپ qکے مفرد اجزائے ضربی کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں ۔
1.6خلاصہ :
اس باب میں آپ نے مندرجہ ذیل نقاط کا مطالعہ کیا ۔
1۔ اقلیدس کا تقسیم کا معاونہ دو مثبت صحیح اعداد aاورbکے لئے ایسے دو مکمل اعداد qاورrکاموجودہوتے ہیں جو
کو مطمئن کرتے ہیں
2۔ اقلید س کی تقسیم کا الگورتھم : اس کی بنیاد اقلیدس کے تقسیم کے معاونہ پر ہے اس کے مطابق دو مثبت صحیح اعداد aاورb، جہاں
کا HCFذیل طریقہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔
قدم 1:qاورrمعلوم کرنے کے لئے تقسیم کے معاونہ کا اطلاق کیجئے
قدم 1:
qاورrمعلوم کرنے کے لئے تقسیم کے معاونہ کا اطلاق کیجئے a=bq+rجہاں 
قدم 2: اگر r = 0 تو b HCFہے اگر r ≠ 0تو bاورrپر اقلیدس کے معاونہ کا استعمال کیجئے۔
قدم 3: اس عمل کو جب تک جاری رکھئے جب تک کہ باقی صفر ہوجائے اس مرحلہ پر مقسوم علیہ
(HCF(a,bہوگا اور HCF(a,b) = HCF (b, r)۔
3۔ حساب کا بنیادی مسئلہ :
ہر مرکب عدد کو مفرد اعداد کے حاصل ضرب کے طور پر ظاہر (اجزائے ضربی میں تحلیل کر سکتے ہیں ،اجزائے ضربی کی یہ تحلیل منفرد ہے بھلے ہی اجزائے ضربی کی ترتیب مختلف ہو ۔
4۔ اگر pمفرد ہے اورpیہa² کو تقسیم کرتا ہے تب a,pکو بھی تقسیم کر ے گا جہاں aایک مثبت صحیح عدد ہے ۔
5۔ ثابت کیجئے کہ غیر
ناطق ہیں ۔
6۔ مان لیجئے ایک ایسا ناطق عدد ہے جس کا عشری پھیلائو مختتم ہے ۔تب ہم کو
کی شکل میں ظاہر کر سکتے ہیں جہاں pاورqباہمی مفرد ہیں اورqکے مفرد اجزائے ضربی 2n5m کی شکل میں mاورnغیرمنفی صحیح اعداد ہیں ۔
7۔ مان لیجئے
ایک ناطق عدد ہے جبکہ qکے مفرد اجزائے ضربی 2n5m کی شکل میں ہیں جہاں mاورnغیر منفی صحیح اعداد ہیں ،تب xکا عشری پھیلائو مختتم ہے ۔
8۔ مان لیجئے
ایک ناطق عدد ہے ،جبکہ qکے مفرد اجزائے ضربی 2n5mکی شکل میں نہیں ہیں جہاں mاورnغیر منفی صحیح اعداد ہیں تبxکا عشری پھیلائو غیر مختتم اور تکراری ہو گا
قارئین کے لیے نوٹ
آپ دیکھ چکے ہیں کہ ,HCF (p, q, r) × LCM (p, q, r) ¹ p × q × r,جہاں p, q, r مثبت صحیح اعداد میں (مثال 8دیکھئے ) جبکہ تین اعداد q,pاورrکے لئے مندرجہ ذیل نتیجہ درست
