4
دودرجی مساواتیں
QUADRATIC EQUATIONS
4.1تعارف
باب 2میں آپ نے مختلف قسم کی کثیر رکنیوں کے بارے میں پڑھا ۔جس میں ایک قسم دو درجی کثیر رکنی بھی تھی جو
کی شکل ہوتی ہے ۔جب ہم اس کثیر رکنی کو صفر کے برابر رکھ دیتے ہیں تو یہ دودرجی مساوات بن جاتی ہے ۔جب ہم بہت سے روزمرہ کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں تو دودرجی مساواتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں ۔مثال کے طور پر ایک خیراتی ٹرسٹ عبادت کے لیے ایک ایسا ہال بنانا چاہتا ہے جس کا کارپیٹ(قالین) کا رقبہ 300مربع میٹر ہو اور اس کی لمبائی چوڑائی کے دوگنے سے 1میٹر زیادہ ہو ۔تو ہال کی لمبائی اور چوڑائی کیا ہوگی ؟ مان لیجئے ہال کی چوڑائی xمیٹر ہے تب اس کی لمبائی ہوگی (2x + 1)میٹر ۔اس مسئلہ کو تصویر ی طور پر ہم نے شکل 4.1میں دکھایا ہے
تصویر 4.1
اب ہال کا رقبہ
مربع میٹر
مربع میٹر
اس لیے (دیا ہوا)
اس لیے 

اس طرح سے ہال کی چوڑائی ،مساوات
جو ایک دودرجی مساوات ہے ،کو مطمئن کریں گی ۔
بہت سے لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ بیبلونین(Babylonians) پہلے وہ لوگ تھے جنھوں نے دو درجی مساواتوں کو حل کیا۔مثال کے طور پر وہ جانتے تھے کیسے دو مثبت اعداد کو معلوم کیا جا سکتا ہے جن کا حاصل جمع مثبت ہو اور حاصل ضرب بھی مثبت ہو اور یہ مسلہ دو درجی مساوات
کو حل کرنے کے معادل ہے ۔یونانی ریاضی داں اقلیدس نے لمبائیاں ،جو ہماری موجودہ اصطلاح میں دو درجی مساوات کا حل ہے ،معلوم کرنے کا جیومیٹریائی طریقہ نکالا ۔دو درجی مساواتوں کو حل کرنے کا سہرا ، قدیم ہندوستانی ریاضی دانوں کے سر جاتا ہے ۔در حقیقت برہم گپتا (598 - 665عیسوی)نے
کی شکل والی دو درجی مساواتوں کا حل کرنے کا ایک صریح فارمولہ دیا ۔بعد میں سری دھرا چاریہ (1025عیسوی)نے ایک فارمولہ معلوم کیا جو اب دودرجی فارمولہ کہلاتا ہے (جیسا کے بھاسکر IIسے کوٹ کیا گیا ہے ) جس سے دودرجی مساواتوں کو کامل مربع کے طریقہ سے حل کیا جاتا ہے ۔ایک عرب ریاضی داں الخورزمی (800عیسوی)نے بھی مختلف قسم کی دو درجی مساواتوں کا مطالعہ کیا Abraham bar Hiyya Ha-Nasiنے اپنی کتاب ‘Liber embadorum’ جو 1145عیسوی میں یورپ میں چھپی میں مختلف دو درجی مساواتوں کا حل دیا ۔
اس باب میں آپ دو درجی مساواتوں کے بارے میں پڑھیں گے اور ان کے حل مختلف طریقوں کے ذریعہ سے معلوم کریں گے۔ آپ روز مرہ کے مسئلوں کو حل کرنے میں اس کے استعمال کے بارے میں بھی سیکھیں گے ۔
4.2دودرجی مساوات
متغیر xمیں دودرجی مساوات وہ مساوات ہے جس کی شکل
کی ہوتی ہے جہاں b,a اورcحقیقی اعداد ہیں اور
مثال کے طور پر
ایک دو درجی مساوات ہے اسی طرح
،
بھی دو درجی مساواتیں ہیں ۔
در حقیقت کوئی بھی p(x)=0کی شکل کی مساوات جہاں (p(xدرجہ 2کی کثیر رکنی ہے ،دو درجی مساوات ہے ۔ لیکن جب ہم (P(xکی ارکان کو درجہ کے حساب سے سے گھٹتی ہوئی ترتیب میں لکھتے ہیں تب ہمیں مساوات کی معیاری شکل حاصل ہو تی ہے۔ یعنی
یہ دو درجی کی معیاری شکل کہلاتی ہے ۔
ہمارے ارد گرد کی دنیا کے ریاضی کے مختلف میدانوں میں ہمیں دو درجی مساواتوں کی بہت سی صورت حال ملیں گی ۔آئیے کچھ مثالوں پر غور کرتے ہیں ۔
مثال 1: مندرجہ ذیل صورت حال کو ریاضیاتی طور پر ظاہر کیجئے ۔
(i) جون اور جیوانتی کے پاس 45ماربل ہیں ۔دونوں 5,5ماربل کھو دیتے ہیں اور ان کے پاس باقی بچے ماربل کا حاصل ضرب 124ہے ۔ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ شروعات میں ان دونوں کے پاس کتنے ماربل تھے ۔
(ii) ایک کاٹج انڈسٹری (cottage industry)ایک دن میں کچھ کھلونے بناتے ہے ۔ہر ایک کھلونہ کو بنانے میں ہواخرچ (روپیوں میں ) ایک دن میں بنے کھلونوں کی تعداد سے 55کم ہے ۔کسی ایک دن کھلونہ بنانے کا کل خرچ 750روپے ہے ۔ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ اس دن کل کتنے کھلونہ بنائے گئے ۔
حل:
(i) مان لیجئے جون کے پاس xماربل تھے
تو جیونتی کے پاس ماربل ہوئے
(45– x)=
(کیوں؟)
جب جون نے 5ماربل کھو دئے تو اس کے پاس بچے ماربل = x – 5
جب 5ماربل کھو گئے تو جیونتی کے پاس بچے کل ماربل
45 – x – 5=
40–x=
اس لیے ان کا حاصل ضرب


(دیا ہوا ہے، کے حاصل ضرب124)
اس لئے جون کے پاس جو ماربل ہوں گے وہ دو درجی مساوات
کو مطمئن کریں گے
جو کہ مسئلہ کا مطلوبہ ریاضیاتی اظہا ر ہے ۔
(ii) مان لیجئے اس دن بنے کھلونوں کی تعداد xہے
اس لئے اس دن ہر ایک کھلونہ بنانے کا خرچ (روپیوں میں) ہے= 55 – x
اس لئے اس دن بنے کھلونوں کا کل خرچ= (x(55 – x

اس لئے اس دن بنے کھلونوں کی تعداد دو درجی مساوات
کو مطمئن کرے گی
جو کے مسئلہ کا مطلوبہ ریاضیاتی اظہار ہے ۔
مثال2: جانچ کیجئے کہ آیا مندرجہ ذیل دو درجی مساواتیں ہیں یا نہیں ۔

حل :

اس لئے دی ہوئی مساوات دودرجی مساوات ہے ۔

یہ
کی شکل کی نہیں ہے اس لئے یہ دو درجی مساوات نہیں ہے ۔

اس لئے یہ دودرجی مساوات ہے ۔

اس لئے یہ دودرجی مساوات ہیں ۔
ریمارک: (ii)کے بارے میں خبردار!اس میں دی ہوئی مساوات دودرجی نظر آرہی ہے لیکن یہ دودرجی نہیں ہے اسی طرح (iv)کی مساوات دیکھنے میں کعبی مساوات نظر آتی ہے (درجہ 3والی مساوات) لیکن یہ دودرجی مساوات نکلی ،جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کسی بھی مساوات کے بارے میں کوئی نظر یہ قائم کرنے سے پہلے اس کو مختصر کر لیجئے ۔
مشق 4.1
1۔ جانچ کیجئے کہ مندرجہ ذیل میں کون سی مساواتیں دودرجی ہیں:

2۔ مندرجہ ذیل صورت حال کو دودرجی مساوات کی شکل میں ظاہر کیجئے ۔
(i) ایک مستطیل کی شکل والے پلاٹ کا رقبہ
ہے ۔ اس پلاٹ کی لمبائی (میٹروں میں ) اس کی چوڑائی کے دگنے سے 1زیادہ ہے ہمیں پلاٹ کی لمبائی اور چوڑائی معلوم کرنے کی ضرورت ہے ۔
(ii) دو لگاتار مثبت صحیح اعداد کا حاصل ضرب 306ہے ۔ہمیں صحیح اعداد معلوم کرنے کی ضرورت ہے ۔
(iii) روہن کی ماں اس سے عمر میں 26سال بڑی ہے ۔3سال بعد ان کی عمروں (سالوں میں ) کا حاصل ضرب 360ہوگا۔ ہم روہن کی موجودہ عمر معلوم کرنا چاہتے ہیں ۔
(iv) ایک ٹرین 480کلو میٹر کا فاصلہ یکساں رفتار سے طے کرتی ہے ۔اگر اس کی رفتار 8کلومیٹر فی گھنٹہکم ہوتی ہے تو وہی فاصلہ طے کرنے میں 3گھنٹہ زیادہ لیتی ہے ہمیں ٹرین کی رفتار معلوم کرنے کی ضرورت ہے ۔
4.3 اجزائے ضربی کے طریقہ سے دودرجی مساوات کا حل
دو درجی مساوات
پر غور کیجئے ۔اگر ہم اس مساوات کی LHSمیں xکی جگہ 1رکھ دیں تو ہمیں ملتا ہے
ہم کہتے ہیں کہ 1دودرجی مساوات کا جزر ہے ۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ 1دو درجی کثیر رکنی
کا صفر ہے۔
عمومی طورپر ایک حقیقی عددaدودرجی مساوات
کا جزر کہلاتا ہے اگر
ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ x =aدودرجی مساوات کا حل ہے یا aدودرجی مساوات کو مطمئن کرتا ہے ۔یہ بات نوٹ کیجئے کہ دو درجی کثیر رکنی
کے صفر اور دو درجی مساوات
کے جزر ایک ہی ہوتے ہیں ۔
باب2میں آپ نے مشاہدہ کیا تھا کے دو درجی کثیر رکنی کے زیادہ سے زیادہ دود صفر ہو سکتے ہیں اس لئے کسی بھی ددورجی مساوات کے زیادہ سے زیادہ دو جزر ہو سکتے ہیں ۔
نویں کلاس میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ وسطی رکن کو منقسم کرکے ہم کس طرح دود رجی کثیر رکنی کے اجزائے ضربی بناتے ہیں ۔ ہم اس علم کو دودرجی مساوات کے جزر معلوم کرنے کے لئے استعمال کریں گے ۔
آئیے دیکھتے ہیں کیسے ۔
مثال 3: اجزائے ضربی کے طریقے سے دودرجی مساوات
کے جزر معلوم کیجئے ۔
حل: آیئے وسطی رکن
میں منقسم کرتے ہیں
اس لیے
اب
کی طرح لکھ سکتے ہیں۔
یعنی یا تو

تصدیق کیجئے یہ دی ہوئی مساوات کے جزر ہیں ۔
نوٹ کیجئے ہم نے
اجزائے ضربی میں تحلیل کر کے دو خطی اجزائے ضربی بنائیے اور ہر جزو ضربی کو صفر کے برابر رکھئے پھرمعلوم کرتے ہیں ۔
مثال4: دو درجی مساوات
کے جزر معلوم کیجئے ۔
حل :ہمارے پاس ہے

ہم جزروں کی تصدیق اس طرح کر سکتے ہیں ،ان کی قدریں مساوات
میں رکھ کر دیکھیں کہ وہ اس کو مطمئن کرتے ہیں یا نہیں ۔
مثال5: دودرجی مساوات
کے جزر معلوم کیجئے۔

اس لیے مساوات کے جزرxکی وہ قدریں ہیں جن کے لیے

اس لیے جزروں کی تکرار ہے، ہر ایک تکراری جزو ضربی
کے لیے
اس لیے

مثال 6: سیکشن 4.1میں لئے گئے عبادت کے ہال کے ابعاد معلوم کیجئے
حل : سیکشن 4.1میں ہم نے پایا تھا کہ اگر ہال کی چوڑائی ,x mتب xمساوات
کو مطمئن کرے گا اجزائے ضربی کے طریقہ کا استعمال کرنے پر ہم مساوات کو لکھتے ہیں ۔

اس لئے دی ہوئی مساوات کے جزر ہیں x = 12یا x = – 12.5کیونکہ xہال کی چوڑائی ہے اس لئے یہ منفی نہیں ہو سکتی اس لئے ہال کی چوڑائی 12میٹرہے اوراس کیلمبائی
25=2x + 1
میٹرہے ۔
مشق4.2
1۔ اجزائے ضربی کے طریقہ سے مندرجہ ذیل دودرجی مساواتوں کو حل کیجئے ۔

2۔ مثال 1میں دئے گئے سوالوں کو حل کیجئے ۔
3۔ دو عدد معلوم کیجئے جن کا حاصل جمع 27ہے اور حاصل ضرب 182ہے ۔
4۔ دو لگاتار مثبت صحیح اعداد معلوم کیجئے جن کے مربعوں کاحاصل جمع 365ہے ۔
5۔ ایک قائم مثلث کا ارتفاع اس کے قاعدہ سے 7سینٹی میٹرکم ہے ۔اگر اس کا وتر 13سینٹی میٹرہے تو باقی دو ضلع معلوم کیجئے ۔
6۔ ایک کاٹج انڈسٹری (cottage industry)ایک دن میں کچھ برتن بناتی ہے ، یہ مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ کسی ایک دن ہر ایک ایک برتن کے بنانے کا خرچ (روپیوں میں ) اس دن بنے برتنوں کے دگنے سے 3زیادہ ہے ۔اگر اس دن برتن بنانے کا کل خرچ 90روپے ہے تو اس دن بنے برتنوں کی کل تعداد اور ہر برتن کا خرچ معلوم کیجئے ۔
4.4 دودرجی مساواتوں کا حل مربع کو مکمل کر کے
پچھلے سیکشن میں آپ نے دودرجی مساوات کے جزر معلوم کرنے کا ایک طریقہ سیکھا ۔اس سیکشن میں ہم ایک اور طریقہ سیکھیں گے ۔
مندرجہ ذیل صورت حال پر غور کیجئے ۔
سنیتا کی دو سال پہلے کی عمر (سالوں میں ) اور چار سال بعد کی عمر کا حاصل ضرب اس کی موجودہ عمر کا دگنا ہے اس کی موجودہ عمر کیا ہے ؟
اس کا جواب دینے کے لئے مان لیجئے اس کی موجودہ عمر (سالوں میں ) xہے تب اس کی دو سال پہلے کی عمر اورچار سال بعد کی عمر کا حاصل ضرب ہو گا
(x – 2) (x + 4)

اس لئے سنیتا کی موجودہ عمر دو درجی مساوات
کو مطمئن کرتی ہے
ہم اس کو
لکھ سکتے ہیں جزر مربع لینے پر x = 3یاx = – 3کیونکہ عمر مثبت صحیح عدد ہے اس لئے x = 3
اس لئے سنیتا کی موجودہ عمر 3سال ہے۔
اب مساوات
پر غور کیجئے ۔اس کو حل کرنے کے لئے ہم
لکھ سکتے ہیں ، جزرالمربع لینے پر ہمیں ملتا ہے
x + 2 = 3یا x + 2 = – 3
اس لئے x = 1یا x = – 5
اس لئے مساوات
کے جزر ہیں 1اور5–
اوپر دی گئی دونوں مثالوں میں وہ رکن جس میں xہے پوری طرح مربع کے انداز ہپے ۔اس لئے ہم نے آسانی سے جزرالمربع لے کر جزر معلوم کر لئے ۔لیکن اگر ہم سے دودرجی مساوات
کے جزر معلوم کرنے کو کہا جائے تو کیا ہوگا ؟ یقینا ہم ایسا کرنے کے لئے اجزائی ضربی کے طریقہ کا استعمال کریں گے جب تک کے ہم یہ نہ جان لیں (کسی طرح) کہ
ہے ۔
اس لئے
کو حل کرنا معادل ہے
کو حل کرنے کے جو ہم دیکھ چکے ہیں کہ بہت آسان ہے اور تیزی سے ہو سکتا ہے ۔در اصل ہم کسی بھی دودرجی مساوات کو
کی شکل میں بدل سکتے ہیں ۔اور پھر ہم آسانی سے جزر معلوم کر سکتے ہیں ۔آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا یہ آسان ہے ۔شکل 4.2دیکھئے ۔

شکل 4.2
عمل ذیل میں دیا گیاہے

اس لئے
کی شکل میں لکھ سکتے ہیں ۔فاصل مربع کے طریقہ سے ،اس کو ہم کامل مربع کا طریقہ کہتے ہیں ۔مختصراً ہم اس کو ذیل میں دکھاتے ہیں :

اب مساوات
پر غور کیجئے ،نوٹ کیجئے کہ
کا ضریب کا حل مربع نہیں ہے ۔اس لئے ہم مساوات کو دونوں طرف3 سے ضرب کرتے ہیں ۔


ریمارک : اس عمل کو دوسرے طریقہ سے ہم ذیل میں دکھاتے ہیں


آئیے اس عمل کی مزید وضاحت کے لئے کچھ مثالیں لیتے ہیں
مثال7: مثال 3میں دی گئی مساوات کو کامل مربع کے طریقے سے حل کیجئے ۔

آئیے حلوں کی تصدیق کرتے ہیں
جو صحیح ہے ، اسی طرح سے آپ تصدیق کر سکتے ہیں کہ x = 1دی ہوئی مساوات کو مطمئن کرتے ہیں ۔مثال 7میں ہم نے مساوات
کو دونوں طرف 2سے تقسیم کیا تھا جس سے ہمیں \
حاصل ہوتا ہے اور پہلا رکن کامل مربع ہو جاتا ہے اور پھر مربع کو مکمل کرتے ہیں ۔اس کے بجائے ہم دونوں طرف 2سے ضرب کر کے پہلے رکن کو
امل مربع بنا کر پھر مکمل کر سکتے ہیں ۔
اس طریقہ کی وضاحت اگلی مثال میں کی گئی ہے ۔
مثال8: مساوات
کے جزر مربع مکمل کرنے (کامل مربع) کے طریقہ سے معلوم کیجئے ۔
حل: مساوات کے دونوں طرف 5سے ضرب کرنے پر ہمیں ملتا ہے ۔
یہ مساوات ایسی ہے جیسے

مثال 9: مربع مکمل کرنے کے طریقہ سے
کے جزر معلوم کیجئے ۔
حل : نوٹ کیجئے کہ
وہی جو

لیکن
کسی بھی حقیقی عدد xکے لئے منفی نہیں ہو سکتا (کیوں؟) اس لئے xکی کوئی ایسی حقیقی قدر نہیں ہے جو دی ہوئی مساوات کو مطمئن کرے ۔اس لئے دی ہوئی مساوات کے حقیقی جزر نہیں ہوں گے ۔
کسی بھی حقیقی عدد xکے لئے منفی نہیں ہو سکتا (کیوں؟) اس لئے xکی کوئی ایسی حقیقی قدر نہیں ہے جو دی ہوئی مساوات کو مطمئن کرے ۔اس لئے دی ہوئی مساوات کے حقیقی جزر نہیں ہوں گے ۔اب آپ نے مربع مکمل کرنے کے طریقہ کی بہت سی مثالیں دیکھ لیں ۔آئیے اب اس طریقہ کو عمومی بناتے ہیں ۔
دو درجی مساوات
پر غور کیجئے ۔دونوں طرف aسے تقسیم کرنے پر ہمیں ملتا ہے

اس لئے دی ہوئی مساوات کے جزر وہی ہوں گے جو مساوات


دو درجی مساوات کے جزر معلوم کرنے کا یہ فارمولہ دودرجی فارمولہ کہلاتا ہے ۔
آئیے کچھ مثالیں لے کر اس فارمولہ کی وضاحت کریں ۔
مثال10: مشق4.1کا سوال نمبر
2 (i)
کو دودرجی فارمولہ کی مدد سے حل کیجئے ۔
حل: مان لیجئے پلاٹ کی چوڑائی xمیٹر ہے تب لمبائی (2x + 1)میٹر ہے تب ہمیں دیا ہوا ہے کہ x(2x + 1) = 528یعنی

اس لئے دودرجی فارمولہ سے ہمیں حل ملتے ہیں ۔

کیونکہ xمنفی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ پلاٹ کی چوڑائی ہے اس لئے پلاٹ کی چوڑائی 16میٹر اور پھر لمبائی 33mہے ۔
آپ ان قدروں کی تصدیق مساوات کو مطمئن کرسکتے ہیں ۔
مثال 11: دو لگاتار (مسلسل ) مثبت طاق صحیح اعداد معلوم کیجئے جن کے مربعوں کا حاصل جمع 290ہے
حل: مان لیجئے دو مثبت صحیح طاق اعداد میں چھوٹا عدد xہے تب دوسرا صحیح عدد x + 2ہوگا ۔سوال کے مطابق

جو کے xمیں ایک دودرجی مساوات ہے ۔
دودرجی فارمولہ کو استعمال کرنے سے ہمیں ملتا ہے ۔

لیکن کیونکہ xایک
مثبت طاق صحیح عدد ہے اس لئے
یعنی x = 11
اس لئے دو مسلسل طاق صحیح اعداد ہیں 11اور13جانچ
مثال12: ایک مستطیل نما پارک کو اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ اس کی چوڑائی اس کی لمبائی سے 3میٹرکم ہو اور اس کا رقبہ پہلے ہی سے بنے مساوی الساقین مثلث نما پارک کے رقبہ سے 4میٹر زیادہ ہے جبکہ مثلث کا قاعدہ وہی ہے جو مستطیل کی چوڑائی ہے اور اس کا ارتفاع 12میٹر ہے ۔اس کی لمبائی اور چوڑائی معلوم کیجئے ۔
حل: مان لیجئے مستطیل نما پارک کی چوڑائی xمیٹر ہے ۔
اس لئے اس کی لمبائی
(x + 3) =
اب مساوی الساقین مثلث کا قاعدہ ہے=mx
اس لیے اس کا رقبہ
ہماری ضرورت کے مطابق

دو درجی فارمولہ کرنے سے ہمیں ملتا ہے

اس لئے پارک کی چوڑائی =4 میٹراور اس کی لمبائی 7میٹرہوگی ۔
تصدیق : مستطیل نما پارک کا رقبہ 
مثلث نما پارک کا رقبہ
مثال 13: دود رجی فارمولہ کی مددسے مندرجہ ذیل دو درجی مساوات کے جزر معلوم کیجئے اگر موجود ہوں ۔
حل :
کیونکہ کسی بھی حقیقی عدد کا مربع منفی نہیں ہو سکتا اس لئے
کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہوگی ۔
اس لئے دی ہوئی مساوات کے حقیقی جذ ر نہیں ہیں ۔

مثال 14: مندرجہ ذیل مساواتوں کے جزر معلوم کیجئے ۔
حل



جیسے کے
,x≠0,2
مساوات کو
(x(x–2
سے ضرب کرنے پر ہمیں حاصل ہوتاہے۔

اس لئے دی ہوئی مساوات
میں تحلیل ہو گئی جو ایک دو درجی مساوات ہے ۔

مثال 15: ایک موٹر بوٹ جب کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں رفتار 18کلومیٹر فی گھنٹہ ہے ۔24کلو میٹر کا فاصلہ ایک ہی مقام تک بہاؤکے خلاف پہنچنے میں 1گھنٹہ زیادہ لیتی ہے بنسبت بہاؤ کے ساتھ چلنے میں۔ پانی کی رفتار معلوم کیجئے ۔
حل: مان لیجئے پانی کی رفتار xکلومیٹر فی گھنٹہ ہے ۔
اس لئے بوٹ کی بہاؤکے خلاف رفتار ہے(18 + x)= کلومیٹر فی گھنٹہ اور بہاؤکے ساتھ بوٹ کی رفتار (18 + x) کلومیٹر فی گھنٹہ بہاؤ کے خلاف جانے میں لیاگیا وقت
گھنٹے
اسی طرح سے بہاؤ کے ساتھ جانے میں لیا گیا وقت
گھنٹے
سوا ل کے مطابق

دو درجی فارمولہ کا استعمال کرنے پر ہمیں حاصل ہوتا ہے

کیونکہ xپانی کی رفتار ہے اس لئے یہ منفی نہیں ہو سکتی اس لئے ہم x = – 54کو نظر انداز کر دیتے ہیں ،اس لئے x = 6 ہمیں پانی کی رفتار ملتی ہے جو 6کلومیٹر فی گھنٹہ ہے ۔
مشق4.3
1۔ مندرجہ ذیل دو درجی مساواتوں کے جزر معلوم کیجئے ،مربع مکمل کرنے کے طریقہ سے ،اگر موجود ہوں ۔

2۔ سوال 1میں دی گئی دو درجی مساوات کے جزر دودرجی فارمولہ سے کیجئے ۔
3۔ مندرجہ ذیل مساواتوں کے جزر معلوم کیجئے ۔
4۔ رحمان کی 3سال پہلے کی عمر اور5سال بعد کی عمر کے مقلوبوں کا حاصل جمع ہے اس کی موجودہ عمر معلوم کیجئے ۔
5۔ ایک کلاس ٹسٹ میں شیفالی کے ریاضی اور انگلش میں حاصل کردہ نمبروں کا حاصل جمع 30ہے ۔اگر اس کے ریاضی میں 2نمبرزیادہ ہوتے اور انگلش میں 3نمبر کم ہوتے تو اس کے نمبروں کا حاصل ضرب 210ہوتا ۔دو مضمون میں اس کے نمبر معلوم کیجئے ۔
6۔ ایک مستطیل نما میدان کا وتر اس کے چھوٹے ضلع سے 60میٹر زیادہ ہے ۔اگر اس کا بڑا ضلع چھوٹے ضلع سے 30میٹر زیادہ ہے تو میدان کے اضلاع معلوم کیجئے ۔
7۔ دو اعداد کے مربعوں کا حاصل فرق 180ہے ۔چھوٹے عدد کا مربع بڑے عدد کا 8گنا ہے ۔دو نمبر معلوم کیجئے ۔
8۔ ایک ٹرین 360کلومیٹر یکساں رفتار سے چلتی ہے ۔اگر اس کی رفتار 5کلومیٹر فی گھنٹہ زیادہ ہوتی تو وہ یہی سفر 1گھنٹہ میں کم میں طے کرتی ۔ٹرین کی رفتار معلوم کیجئے ۔
9۔ پانی کے دونل ایک ٹینککو
گھنٹے میں بھرتے ہیں ۔بڑے قطر والا نل اسی ٹینک کو اکیلے بھرنے میں چھوٹے قطر والے نل سے 10گھنٹہ کم لیتا ہے ۔وہ وقت معلوم کیجئے ،جس میں دونوں نل علیحدہ علیحدہ اسی ٹینک کو بھریں گے ۔
10۔ میسور سے بنگلور تک کا 132کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں ایک ایکسپریس ٹرین سواری گاڑی سے 1گھنٹہ کم لیتی ہے۔ (درمیان میں آنے والے اسٹیشنوں پر رکنے کے وقت نظر انداز کرتے ہوئے ) اگر ایکسپریس ٹرین کی اوسط رفتار سواری گاڑی کی اوسط رفتار سے 11کلومیٹر فی گھنٹہ زیادہ ہے ۔تو دونوں ٹرینوں کی اوسط رفتار معلوم کیجئے ۔
11۔ دو مربعوں
کے رقبہ کا حاصل جمع
۔اگر ان کے احاطوں کا 24میٹرہے تو دونوں مربعوں کے اضلاع معلوم کیجئے۔
4.5جزروں کی قسم
پچھلے سیکشن میں آپ نے دیکھا کہ دودرجی مساوات کے جزر ہیں ۔


اس لئے دونوں
اس مساوات کے جذر ہیں
اس لئے ہم کہتے ہیں کہ وہ درجی مساوات
کے دو مساوی حقیقی جذر ہوتے ہیں۔
اگر
ہے تب کوئی ایسا حقیقی عدد نہیں ہے جس کا مربع b²–4acہو ۔
(b²–4ac)وضاحت کرتا ہے کہ دی گئی دو درجی مساوات
کے حقیقی جذر ہوتے ہیں یا نہیں، اس لیےb²–4ac کو اس دو درجی مساوات کا ممیّز ( discrimanant ) کہتے ہیں۔
کیونکہ b²–4ac کی قدر طے کرتی ہے کہ دو درجی مساوات
کے جذ ر حقیقی ہیں یا نہیں ،b²–4acدو درجی مساوات کی ممیز(Discriminant)کہتے ہیں ۔
اس لئے دو درجی مساوات
کے جزر
(i) مختلف اور حقیقی ہوں گے اگر 
(ii) حقیقی اورمسادی ہوں گے اگر
(iii) حقیقی نہیں ہوں گے اگر 
آئیے کچھ مثالوں پر غور کرتے ہیں ۔
مثال16:دودرجی مساوات
کا ممیز معلوم کیجئے اور پھر اس کے جزروں کو استعمال معلوم کیجئے۔
حل : دی ہوئی مساوات
ی شکل کی ہے جہاں
اس لئے ممیز ہے
اس لئے دی ہوئی مساوات کے حقیقی جزر نہیں ہیں ۔
مثال 17: 13میٹر قطر والے ایک دائری پارک کی باؤنڈری کے ایک نقطہ پر ایک کھمبا اس طرح کھڑا کیا جاتا ہے کہ اس کے قطر کے سرے کے نقطوں AاورBپر موجود دو دروازوں سے اس کے فاصلہ کا فرق 7میٹر ہے ۔کیا ایسا کرنا ممکن ہے ؟ اگر ہاں تو معلوم کیجئے کہ 2دروازوں سے کتنے فاصلہ پر کھمبا کھڑا کیا جائے گا ۔

شکل 4.4
مان لیجئے P،کھمبا کا مطلوبہ مقام ہے ،مان لیجئے کھمبا کا دروازہ Bسے فاصلہ xمیٹرہے یعنی BP = xمیٹر۔اب دونوں دروازوں کے کھمبا سے فاصلوں کا فرق
=AP – BP = 7میٹر (یا BP – AP) اس لئے (AP = (x + 7 میٹر
اب AB = 13میٹراور کیونکہ ABونر ہے

اس لئے دروازہ Bسے کھمبا کا فاصلہxمساوات کو مطمئن کرے گا ۔
اس لئے اگر اس مساوات کے جزر حقیقی ہوئے تو ایسا ممکن ہے کہ کھمبا اس مقام پر لگایا جا سکے ۔یہ دیکھنے کے لئے کہ ایسا ہے آئیے اس کی ممیز (Discriminant)پر غور کیجئے ۔ممیز ہے ۔
اس لئے دی ہوئی دو درجی مساوات کے دو حقیقی جزر ہیں ۔اس لئے پارک کی باؤنڈری پر کھمبا کھڑا کیا جاسکتا ہے ۔
دو درجی مساوات
کو حل کرنے پر ہمیں ملتا ہے ۔

اس لئے x = 5یا– 12–
کیونکہ xدروازہ Bاور کھمبے کے درمیان فاصلہ ہے ۔اس لئے یہ مثبت ہوگا ۔اس لئے x = – 12کو نظر انداز کرنا ہوگا ۔ اس لئے x = 5
اس لئے کھمبہ پارک کی باؤنڈری پر دروازہ Bسے 5میٹرکے فاصلہ پر اور دروازہ Aسے 12میٹرکے فاصلہ پرہوگا ۔
مثال18: مساوات
کا ممیز معلوم کیجئے او رپھر جزروں کی استعمال معلوم کیجئے ۔ان کو معلوم کیجئے اگر یہ حقیقی ہیں۔
حل:یہاں
اس لئے ممیز
اس طرح دی ہوئی دودرجی مساوات کے دو مساوی حقیقی جزر ہیں ۔
مشق 4.4
1۔ مندرجہ ذیل دودرجی مساوات کے جزروں کی natureمعلوم کیجئے ۔اگر جزر موجود ہیں تو ان کو معلوم کیجئے ۔

2۔ kکی وہ قدر معلوم کیجئے جس کے لئے مندرجہ ذیل دو درجی مساوات کے مساوی جزر ہیں ۔
3۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایسا آموں کا باغ ڈیزائن کیا جائے جس کی لمبائی اس کی چوڑائی کی دگنی ہے اور اس کا رقبہ
ہو؟ اگر ایسا ممکن ہے تو اس کی لمبائی اور چوڑائی معلوم کیجئے ۔
4۔ کیا مندرجہ ذیل صورتِ حال ممکن ہے ۔اگر ہے تو ان کی موجودہ عمر معلوم کیجئے ۔
دو دستوں کی عمروں کا حاصل جمع 20سال ہے ۔چار سال پہلے ان کی عمروں کا حاصل ضرب (سالوں میں ) 48تھا ۔
5۔ کیا ایک ایسا مستطیل پارک کا ڈیزائن کرنا ممکن ہے جس کا احاطہ 80میٹرہو اور رقبہ 400مکعب میٹر ؟ اگر ہے تو اس کی لمبائی وچوڑائی معلوم کیجئے ۔
4.6خلاصہ
اس باب میں آپ نے مندرجہ ذیل باتیں سیکھیں ۔
1۔ متغیر xمیں دود رجی مساوات
کی شکل کی ہوتی ہے جہاں b , aاور cحقیقی اعداد ہیں اور
2۔ ایک حقیقی عددaدو درجی مساوات
کا جزر کہلاتا ہے اگر
دو درجی کثیر رکنی
کے صفر اور دودرجی مساوات
کے جزر مساوی ہوتے ہیں ۔
3۔ اگر ہم دو درجی کثیر رکنی
کو دو خطی اجزائے ضربی کے حاصل ضرب کی شکل میں لکھیں تو دو درجی مساوات
کے جزر ہر ایک خطی جزو ضربی کو صفر کے برابر رکھ کر معلوم کر سکتے ہیں ۔
4۔ دو درجی مساوات کو مربع مکمل کر کے ،طریقہ سے بھی حل کیا جا سکتا ہے ۔
5۔ دودرجی فارمولہ :دودرجی مساوات
کے جزر ہیں
6۔ ایک دودرجی مساوات
کے
(i) دو مختلف اور حقیقی جزر ہوں گے اگر
(ii) مساوی جزر ہوں گے اگر 
(iii) حقیقی جزر نہیں ہوں گے اگر