Skip to content
Nawa e urdu  Chapter-3

3


5012_CH03_i01

حیات ا ﷲ انصاری

(1999 – 1911)

حیات ا ﷲانصاری لکھنٔو میں پیدا ہوئے۔1926 میں مدرسہ فرنگی محل سے مشرقی علوم کی سند حاصل کی۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی۔ اے ۔ کیا۔طالب علمی کے دوران ہی قومی تحریکوں میں دل چسپی پیدا ہوگئی تھی۔مہاتما گاندھی سے عقیدت کی بنا پر وہ کانگریس میں شامل ہوئے اور آخر وقت تک کانگریسی رہے۔1937 میں ہفتہ وار اخبار ’ہندوستان‘ جاری کیا۔1944 میں پنڈت جواہر لعل نہرو نے لکھنؤ سے روزنامہ ’’قومی آواز ‘‘ جاری کیا اور انصاری صاحب اس کے پہلے مدیر مقرر ہوئے ۔1966 اور 1982 میں راجیہ سبھا کے رکن رہے۔ حیات اﷲانصاری اور ان کی اہلیہ نے اردو کو اس کا جائز مقام دلانے کے لیے ڈاکٹر ذاکر حسین کے ساتھ ایک دستخطی مہم چلائی تھی۔
حیات ا ﷲ انصاری نے افسانے ،ناولٹ اور ناولوں کے ساتھ ساتھ تنقیدی مضامین بھی لکھے اور غیر اردو داں حضرات کو اردو سکھانے کے لیے ایک قاعدہ ’’دس دن میں اردو‘‘ لکھا۔ 1952 میں لکھنؤ میں تعلیم بالغان کے لیے تعلیم گھر قائم کیا۔ حیات ا ﷲانصاری نے پریم چند کے افسانوں سے متاثر ہوکر افسانے لکھے لیکن ان کے افسانوں کی فضا مختلف ہے ۔ان افسانوں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں مشاہدہ، تخیل اور فکر تینوں ایک دوسرے کے متوازی ہیں ۔ان کے افسانے زندگی کے تمام پہلوؤں کی ترجمانی کرتے ہیں۔
 حیات ا ﷲ انصاری کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’انوکھی مصیبت‘‘1939 میں شائع ہوا۔ اس کے بعد ’’بھرے بازار میں‘‘ ، ’’شکستہ کنگورے‘‘ اور ’’ٹھکانا‘‘ کے عنوان سے ان کے افسانوی مجموعے ،دو ناولٹ ’’مدار ‘‘ اور ’’گھروندا ‘‘ منظر عام پر آئے۔پانچ جلدوں پر مشتمل ضخیم ناول ’’لہوکے پھول ‘‘ چھپا۔’’جدید یت کی سیر‘‘ حیات ا ﷲ انصاری کی تنقیدی کتاب ہے ۔ انھوں نے بچوں کے لیے بھی کہانیاں لکھیں جو ’’ میاں خو خو‘‘ اور ’’کالا دیو ‘‘ کے نام سے شائع ہوچکی ہیں۔


بھیک


کیلاش کی لاری پتھورا گڑھ کے خشک بنجر اور تپتے ہوئے پہاڑوں کے ایک درے سے پار کرکے موتی نگر کی وادی میں داخل ہوئی اور داخل ہوتے ہی منظر اور موسم اور مسافروں کامزاج سب کچھ بدل گیا ۔سامنے ایک طرف نندا دیوی اور ترشول کی برف پوش چوٹیاں چمک رہی تھیں اور دوسری طرف ڈھلواں پہاڑوں پر سیب ، ناشپاتی اور آلوچوں کے باغوں کی ہر یالی تھی جو پہاڑوں کے سلسلوں سے زینہ بزینہ اُترتی ہوئی نیچے جاکر گھنے درختوں اور نامعلوم تاریکیوں میں گم ہوجاتی تھی۔
جب لاری اسٹینڈ پر پہنچی کیلاش اپنی بہنوں سمیت اترا تو اسے ایسا محسوس ہورہا تھاجیسے آج کوئی بہت بڑا تہوار ہے جسے پہاڑ اور ان کی چوٹیاں ،درخت اور چڑیاں آسمان اور سورج یہ سب کے سب انسانوں کے ساتھ مل جل کر منا رہے ہیں۔اس خوش گوار منظر میں کیلاش ایسا کھویا کہ اسے اپنی سخت بیماری کی وجہ سے زندگی کی طرف سے جو مایوسی تھی وہ بالکل دور ہوگئی اور ایسا محسوس ہونے لگا جیسے آسمان کو چومنے والے پہاڑ اشاروں میں کہہ رہے ہیں کہ ہماری شاندار، صاف و شفاف اور دل کش دنیا میں بیماری اور مصیبتوں کا کیا کام۔لاری اسٹینڈ سے ایک سڑک پر بل کھاتی ہوئی جھومتی جھامتی آبادی کی طرف جاتی تھی۔اس نے کیلاش کو ایسا لبھایا کہ وہ نوکر سے جو اسباب کو اٹھوانے میں لگا ہوا تھا یہ کہہ کر کہ میں ڈاک بنگلے کی طرف چلتا ہوں، روانہ ہوگیا ۔راستہ بہت دل کش تھا اور ہر موڑ قدرت کی نت نئی فیا ضیوں سے مالامال تھا۔
کچھ دور نکل کر کیلاش ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔ایک پیالی چائے پی،کچھ دیر سامنے کے منظر سے لطف اٹھایا اور پھر آگے کی طرف چل کھڑا ہوا ۔راستے میں ایک باغ میں ایک آدمی تازے سیبوں کو چیڑ کے بکس میں بند کر رہا تھا ۔اس کے پاس دو مسافر کھڑے تھے جن میں ایک دس گیارہ برس کی خوب صورت سی لڑکی تھی۔ وہ دونوں پھل والے سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے۔
کیلاش ادھر دیکھ رہا تھا کہ اتنے میں پاس سے ایک آواز آئی ۔’’بابوجی۔تھر ماس میں لے چلوں ؟‘‘ کیلاش نے مڑ کر دیکھا ۔بارہ تیرہ برس کی دبلی پتلی لڑکی کھڑی تھی اور بڑی بڑی ، مظلوم اور مایوس آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ۔
تھرماس واقعی کیلاش کو بھاری معلوم ہورہا تھا۔اس نے وہ لڑکی کے حوالے کردیا اور پھر اس فیاضی سے جو قدرت نے اس وادی کے ساتھ دکھلائی تھی پوچھنے لگا۔
’’کہاں رہتی ہو ؟‘‘
لڑکی نے نیچے کی گھنی تاریکیوں کی طرف اشارہ کر کے کہا :
’’وہاں بہت نیچے ۔‘‘
’’ماں باپ کیا کرتے ہیں؟‘‘
’’مرگئے ۔‘‘
’’تم کیا کرتی ہو؟‘‘
’’کچھ نہیں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’بچہ کچھ نہیں کرنے دیتا ۔‘‘
’’بچہ ؟ کیا تمھارا بچہ بھی ہے ؟‘‘
لڑکی اس بد گمانی پر ہنس پڑی اور کہنے لگی ۔
’’میر ا دو برس کا بھائی ہے جو بہت دِق کرتا ہے ۔ہر وقت کھانا مانگتا ہے — رات کو نہ وہ سونے دیتا ہے اور نہ ڈر  — ‘‘
ڈر !! اس وادی میں کس چیز سے؟‘‘
’’میری کٹھریا کا دروازہ ٹوٹا ہوا ہے ۔رات بھر میں ڈرتی رہتی ہوں کہ کوئی آکر ہم کو کھا نہ جائے ۔‘‘ 
کیلاش کے دل میں دَیا اُبل پڑی۔
’’نوکری کرے گی؟‘‘
’’کوئی رکھے تو کیوں نہ کروں۔میں تو بہت محنت سے اس کی سیوا کروں گی۔‘‘
’’اچھا میں رکھوں گا تجھے بھی اور تیرے چھوٹے بھائی کو بھی۔‘‘
لڑکی حیرت زدہ ہوکر کیلاش کو دیکھنے لگی ۔
’’بابو جی — سچ!‘‘
’’ہاں سچ — بالکل سچ۔‘‘
لڑکی تھوڑی دیر تک حیرت زدہ رہی ۔پھر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔اور وہ کیلاش کے پاؤں پر گر پڑی۔اور شکر گزاری سے بابوجی بابوجی کرنے لگی۔اس کے منھ سے اور کچھ نہ نکلا۔
رجنی خوشی کے مارے رات کو سو نہ سکی۔ذرا ذرا دیر کے بعد اس کی آنکھ کھل جاتی تھی اور ہر بار وہ کروٹ لے کر ٹوٹے کواڑوں کی درزوں سے جھانکتی تھی کہ پہاڑوں کے اوپر آسمان پر صبح کی سفیدی تو نہیں نظرآرہی ۔آج اس کا روزانہ والا خوف کہ کہیں رات کو کوئی بھیانک شکل والی چیز اس کی کوٹھڑی کے ٹوٹے پھوٹے دروازے سے گھس کر اس کو اس کے سب بھائی بہنوں کو سوتے میں کھا نہ جائے دور پہاڑوں میں چھپ گیا تھا۔اس کے سامنے سکھ سے بھری ہوئی صبح تھی اور پھر عیش وآرام سے بھرے ہوئے دن اور رات۔
رجنی نے اپنے پانچوں بھائی بہنوں پر نظرڈالی۔جو کمبلوں کے گودڑ کے نیچے ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے بے خبرسورہے تھے۔ رجنی سوچ رہی تھی کہ ذرا دیر میں صبح ہوجائے گی۔اور پھر اپنے بھائی بہنوں کو لے کر پانچ سو فٹ کی چڑھائی چڑھ کر بابوجی کے پاس پہنچ جاؤں گی۔پھر کیا ؟روٹیاں ملیں گی، پہننے کو بھی ملے گا اور رات کو اوڑھنے کو بھی اور ڈر سے بہت دور کسی کوٹھری میں سونے کو جگہ ملے گی۔
آخر صبح قریب آہی گئی اور اس کے دوسال کے دبلے پتلے سوکھے ساکھے بھائی للّونے چیخ مارکر رونا شروع کردیا۔آج رجنی نے سستی نہیں دکھلائی اور جلدی سے اسے پیشاب کرالیا۔ ورنہ ہوتا تو یہ تھا کہ وہ یوں ہی دن چڑھے تک پڑا رہتا تھا اور پھرجب اس کا بستررجنی کو بھیگا ہوا ملتا تھا تو وہ للّوکو دھنک کر رکھ دیتی تھی۔آج رجنی نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ اسے پیشاب کرالیا بلکہ اسے پیار بھی کیا اور بہلایا بھی۔یہ چیز للّوکے لیے کچھ اتنی عجیب سی خوشی لے کر آئی کہ وہ رات بھر کی بھوک کو بھول گیا۔اور اپنی ٹوٹی پھوٹی بولی میں باتیں کرنے لگا۔
جس وقت موتی نگرکی پچھم کی چوٹیوں پر دھوپ کی پہلی چمک نظرآئی ہے، اس وقت تک چھ بچوں کا یہ قافلہ سوفٹ پہاڑ پر چڑھ چکا تھا۔اور بہت تھک چکا تھا۔ہوا ٹھنڈی تھی۔تیز تھی اور مخالف تھی اس وجہ سے بچوں کو خالی پیٹ اوپر چڑھنے میں بہت دشواری ہورہی تھی۔للّوکئی مرتبہ روچکا تھا اور رجنی کے ہاتھ سے اس پر پٹ بھی چکا تھا۔رجنی نے ذرا دیر اسے گود میں بھی لیا تھا لیکن بارہ برس کی لڑکی جسے پیٹ بھر کھانا نہ ملتا ہو کیسے دوسال کے بچے کو لے کر دور تک جاسکتی تھی اس لیے للّو چل سکے یا نہ چل سکے اسے چلنا تو پڑے گا ورنہ رجنی مار مارکر راستے ہی میں ختم کردے گی۔اس وقت تو وہ کچلی ہوئی ناگن کی طرح بپھری ہوئی تھی۔اسے سخت کوفت تھی کہ یہ دوسال کا ہڈیوں کا ڈھانچہ، میں جہاں جاؤں یا جو کام کروں میری راہ میں حائل رہتا ہے۔اب دیکھو اس وقت عیش وآرام کی دنیا صرف چار سوفٹ اوپر ہے۔اگر یہ نہ ہوتا تو میں کب کی وہاں پہنچ چکی ہوتی۔
رجنی کاغصہ دیکھ کر کلّوجو للّو سے دوسال بڑا تھا اور منّی جو چار سال بڑی تھی سہمے ہوئے تھے اور ہانپ ہانپ کر ایک ایک قدم آگے بڑھ رہے تھے۔البتہ تلسی اور رامو رجنی کی طرح تازہ دم تھے بلکہ ان دونوں نے بھی للّو کو باری باری گود میں ذرا ذرا دیر کے لیے اٹھا لیا تھا۔
اس طرح چھوٹے چھوٹے انسانوں کا یہ چھوٹا قافلہ ڈانٹ اور مار، خوف اور آنسو، تھکاوٹ اور ہانپنے، امیدوں اور تمناؤں کے ساتھ پچاس فٹ اوپر چڑھ گیا۔اس جگہ رامو کو ایک چشمے کے پاس پڑا ہوا ایک داغی سیب مل گیا۔لیکن وہ ابھی منھ تک نہیں لے جانے پایا تھا کہ رجنی نے جھپٹ کر اسے چھین لیا اور دانت سے اس کا ایک بڑا سا ٹکڑا کاٹ کر للّو کو دیا۔اور پھر باقی کے دوٹکڑے کرکے کلو اور منی کو۔
کلو اور منی سیب کا ٹکڑا کھاکر، چشمے کا پانی پی کر تازہ دم ہوگئے اور باتیں کرنے لگے۔
کلّو  :  ’’ اوپر پتا اور ماں ملیں گی۔‘‘
منی  :  ’’ نہیں  —  الّو — وہ نہیں— وہ تو مرگئے۔‘‘

5012_CH03_i03

کلو : ’’جومرجاتے ہیں کیاوہ اوپربھی نہیں ملتے؟‘
منی : ’’(بہت سنجیدگی سے)‘‘ وہ کہیں نہیں ملتے۔‘‘ہم لوگ ایک اوربابوجی کے پاس جارہے ہیں جوپتاجی کی طرح روٹی دیں گے۔کپڑے دیں گے اوراوڑھنے کودیں گے۔‘‘
ان دونوں کی باتیں سن کرنہ جانے کیاہواکہ رجنی پگھل سی گئی۔اس نے دونوں کواورپھرللّوکوپیارکیااورکہاکہ’’اب دھیر دھیرے اٹھتے بیٹھتے چلیں گے۔پھرڈھارس دینے لگی کہ اوپرپہنچتے ہی بہت سی روٹیاںملیں گی جن میں گیہوں کی بھی ہوں گی۔گرم کُرتے اورپیجامے ملیں گے،چائے ملے گی،سیب ملیں گے،پھربابوجی کے ساتھ ہم لوگ ان کے دیس چلے جائیں گے جہاں بہت آرام سے رہیں گے۔‘‘
رجنی جس نے آج تک اس وادی کے علاوہ اورکچھ نہیں دیکھاتھا،پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرف دیکھنے لگی اورسوچنے لگی کہ اس پار کی دنیاکیسی ہوگی؟مگرجیسی بھی ہو،وہاں روٹیاں ہوں گی،کرتے پیجامے ہوں گے اورایسے گھرہوں گے جن میں ڈرنہ لگتاہوگا۔
رجنی اب اپنے قافلے کولے کر مزے مزے اوپرچڑھنے لگی۔جتناجتنااوپرچڑھتی جاتی،اس کی خوشی بڑھتی جاتی۔
رجنی کومعلوم تھاکہ کبھی کبھارایسابھی ہوتاہے کہ پہاڑروں میں گھومنے والے دولت مندکسی پہاڑی مردیاعورت کورکھ کراپنے ساتھ میدان میں لے جاتے ہیں جہاںنہ برف پڑتی ہے نہ بھوک ہوتی ہے۔لیکن یہ بات دوردوراس کے تصورمیں نہ تھی کہ میں بھی ان خوش نصیبوں میں ہوسکتی ہوں اورمیرے ساتھ میرے پانچ بہن بھی۔
سورج اوپرچڑھ رہاتھا اوررجنی بھی اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ اوپرچڑھ رہی تھی۔آخرڈاک بنگلہ کی سرخ چھت نے اپنی جھلک دکھلاہی دی۔
کیلاش چائے پی رہاتھااورکھڑکی سے صاف ستھری نندادیوی اوراس کے نیچے کے عظیم الشان پہاڑوں کودیکھ رہاتھاکہ اس کے نوکرنے آکرخبردی۔
’’کل والی لڑکی آئی ہے۔‘‘
’’اوراس کابچہ بھی؟‘‘
’’ایک چھوڑپانچ پانچ بچے ساتھ ہیں۔‘‘
’’پانچ پانچ۔‘‘
نوکر: ’’جی حضور!‘‘
کیلاش نے باہرآکردیکھاتورجنی کھڑی تھی اوراس کے گردبہت سے چھوٹے بڑے،میلے کچیلے،چیڑے چُندھے بچے،ناک سے سُڑسُڑکررہے تھے اورکیچڑسے لت پت آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔
کیلاش نے رجنی کے پاس جاکرسختی سے جواب طلب کیا۔
’’یہ سب کون ہیں؟‘‘
رجنی کیلاش کودیکھ کراتنی خوش ہوئی کہ اس نے اس کی سختی کی طرف ذرابھی توجہ نہیں کی اورچلاکرکہنے لگی۔
’’میں ان سب کولے آئی،اب یہ سب آپ کے پاس رہیں گے یہ منّی ہے،یہ للّوہے،وہ راموہے،وہ کلوہے،وہ تلسی ہے۔‘‘
کیلاش:’’سب تیرے بھائی ہیں؟‘‘
رجنی‘جی ہاں،دوبھائی ہیں اوردوبہنیں ہیں۔
رجنی ذراصاف ستھری تھی اوراس کی صورت میں ایک کشش تھی بچے توسڑی گلی چیزوں کاڈھیرمعلوم ہوتے تھے۔ان کودیکھ کرکیلاش کاجی متلانے لگا۔اورکل والی رومانی فیاضی جورات گزرجانے سے باسی ہوچکی تھی حقیقت پسندی سے بدل گئی اورکیلاش سوچنے لگاکہ رجنی کے ساتھ ایک بچہ ہوتا دوہوتے توممکن تھا،لیکن اتنوںکوکیسے پالاجاسکتاہے؟یہ سب ہمارے چھوٹے سے گھرمیں کیسے رہیں گے،ان کوکھلایااورپہنایاکہاںسے جائے گا؟پھریہ بہتی ہوئی ناکیں،یہ کیچڑبھری آنکھیں،یہ کوئلہ ایسے ہاتھ پاؤں،یہ بواورمیل !!کیلاش کی بہنیں بھی باہرنکل آئی تھیں کہ ہم بھی ذرابھیاکے مہمانوںکودیکھیں۔
وہ بولیں:’’بھیاان سب کولے چلوگے؟
کیلاش یہ سوال سن کرجھنجھلاگیااوررجنی سے کہنے لگا۔
’’تونے کل کیوں نہیں بتلایاکہ تیرے ساتھ اتنی بڑی فوج ہے،سب کومیں کہاں رکھ سکتاہوں؟‘‘
یہ سن کررجنی پربجلی گرپڑی۔اتنی بڑی مایوسی کاسامنااس نے زندگی میں پہلی بارکیاتھا۔اس کاچہرہ بالکل سوکھ گیااورآنکھیں اندرڈوب گئیں مگرمنہ سے کچھ نہ نکل سکا۔اس کے سب بھائی بہنوں کابھی یہی حال ہوا۔کلوتوپھوٹ پھوٹ کررونے لگا۔
رجنی نے اپنی گھنونی فوج کونفرت بھری آنکھوں سے دیکھا۔ایسی نفرت جس کاتقاضایہ تھاکہ ان سب کومارڈالویاخودمرجاؤ۔
پانچ منٹ کے اندراندریہ فوج ناکامی اورنامرادی کواپنے پھٹے دامنوں میں لے کرپسپاہوئی لیکن کیلاش کے لیے آسان نہ تھاکہ ان کویوں رخصت کرتا۔اس کی دَیاجومرگئی تھی پھرکراہنے لگی اورپکارنے لگی کہ کچھ توکرو۔اس پکارسے نجات پانے کے لیے کیلاش نے رجنی کوپکارا۔اوردوروپیے اس کے ہاتھ میں رکھ دیے۔
دوروپیے۔۔اس سے بہت کچھ خریداجاسکتاہے،رجنی اپنی فوج کولے کربازارکی طرف بھاگی اورایک دوکان کے سامنے سب کوپوریاں کھانے اورکھلانے لگی۔پہلے آٹھ آنے کی پوریاں لیں،پھرآٹھ آنے کی اورلیں،پھرچارآنے کی اورلیں،پھراورچارآنے کی۔اس طرح دونوں روپیے ختم ہوگئے۔لیکن نہ بھوک گئی اورنہ کھانے کی حسرت۔
دوپہرکے بعدیہ قافلہ خالی ہاتھ نیچے کی طرف تھکے دل اورتھکے پاؤں کے ساتھ اترنے لگا  اوراس طرح کہ بیٹھ گیاتواٹھنے کی ضرورت ہی نہ محسوس کی۔صبح جن تاریکیوں سے نکل کے آیاتھا،شام کوان ہی کی طرف جارہاتھا۔سورج بھی ڈوبتاجارہاتھا اوروہ لوگ بھی اترتے جارہے تھے مگربالکل خاموشی سے،نہ رونا،نہ ڈانٹنا،نہ اظہارحسرت،نہ ڈھارس گویایہ سب بچے نہیں بوڑھے تھے،اوروہ بھی ہڈی چمڑے کے نہیں،گودڑکے بنے ہوئے۔صرف للو دوایک باررویا مگررجنی کے مارنے نے اس کی بھی آوازبندکردی۔سورج ڈوبنے پریہ لوگ اسی اپنی پرانی کوٹھری میں پہنچے جہاں بھوک تھی اورسردی تھی،خوف تھا اوران تینوں کے سواکچھ نہ تھا۔
پہنچتے ہی تھکی ہوئی تلسی نے آہستہ سے کہا۔’’بھوک لگی ہے۔‘‘پھررامونے بھی کہا،پھرمنی اورکلونے بھی۔دل کی امیدوں کے ساتھ پیٹ کی پوریاں بھی غائب ہوچکی تھیں۔
رجنی بچوں کو اندھیرے اوربھوک اورڈرکی آغوش میں چھوڑکرپڑوسیوں کی دیا کاامتحان کرنے نکل کھڑی ہوئی۔
حیات اللہ انصاری


مشق 


لفظ ومعنی:


بنجر                                                   :         وہ زمین جس میں کچھ پیدانہ ہو
برف پوش چوٹیاں                                              :             برف سے ڈھکی ہوئی چوٹیاں
دل کش                                          :            دل کولبھانے والا
دِق کرنا                                          :            تنگ کرنا،پریشان کرنا
چشمہ                                           :             پانی کاسوتا
حسرت                                                 :             کسی چیزکے نہ ملنے کااحساس
پسپا                                                 :             شکست، ہار

غورکرنے کی بات:

  • یہ افسانہ انسان کی بنیادی ضرورتوں یعنی روٹی،کپڑا اورمکان کے مسائل کے گردگھومتاہے اوریہ ثابت کرتاہے کہ بھوک مٹانے کے لیے کتنی مصیبت اٹھانی پڑتی ہے۔
  • اس افسانے کے مرکزی کرداررجنی میں ہندوستانی عورت کی ممتانظرآتی ہے۔وہ اپنی فاقہ کشی اورمفلسی کے باوجودچھوٹے بہن بھائیوں کے لیے ایثاراورقربانی کی مثال پیش کرتی ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

موتی نگرکی وادی میں داخل ہوتے ہی مسافروں کامزاج کیوں بدل گیا؟
2۔   رجنی کوایسی کون سی خوشی حاصل ہوئی جس کی وجہ سے وہ رات بھرسونہ سکی؟
3۔   پہاڑپرچڑھتے وقت رجنی اوراس کے بہن بھائیوں کے جذبات کیاتھے؟
4۔    کیلاش نے ایساکیاکہاجسے سن کررجنی پربجلی سی گرپڑی؟

عملی کام:

  • افسانے کامرکزی خیال بتائیے۔
  • اس افسانے میں ایک محاورہ استعمال ہواہے’’بجلی گرنا‘‘یہ محاورہ کس موقع پراستعمال ہوتاہے۔ایک یادوجملوں میں استعمال کرکے واضح کیجیے۔
  • اس افسانے کے آخری جملے کی وضاحت کیجیے۔
5012_CH01_i05