
6

سیّدعابدحسین
(1978 – 1896)
ڈاکٹرسیّدعابد حسین کا وطن داعی پور، ضلع فرخ آباد( اترپردیش) تھا۔عابد حسین کی پیدائش بھوپال ( مدھیہ پردیش) میں ہوئی، جہاں اُن کے دادا اور والد ملازمت کرتے تھے۔سیّدعابدحسین کی والدہ کا تعلق لکھنؤ کے ایک تعلقہ دار گھرانے سے تھا۔ اُن کا بچپن داعی پور اور لکھنؤ میں گزرا۔ابتدائی تعلیم گاؤں کے اسکول میں اور ثانوی تعلیم بھوپال میں حاصل کی۔الہ آباد یونیورسٹی سے بی۔اے پاس کیا اور پھر اعلیٰ تعلیم آکسفورڈ یونیورسٹی، برطانیہ اور برلن یونیورسٹی، جرمنی میں حاصل کی۔سیّدعابد حسین نے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔جرمنی سے واپس آکرڈاکٹرذاکرحسین اورپروفیسرمحمدمجیب کے ساتھ جامعہ ملیہّ اسلامیہ میں کام کرنے لگے۔
جامعہ ملّیہ اسلامیہ میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرعابدحسین تصنیف وتالیف کا کام بھی کرتے رہے۔انھوں نے سب سے پہلے 1926 میں ایک ڈراما ’’پردۂ غفلت‘‘ لکھا۔جرمن زبان کی کئی کتابوں کا اردومیں ترجمہ کیا۔جن میں گوئٹے کی ’’فاؤسٹ‘‘ سب سے اہم ہے۔ڈاکٹرعابدحسین نے مہاتما گاندھی کی خودنوشت کا ترجمہ ’’تلاشِ حق‘‘ کے نام سے اور پنڈت جواہرلعل نہرو کی ڈسکوری آف انڈیا کا ترجمہ ’’تلاشِ ہند‘‘ کے نام سے اُردو میں کیا۔اُردو کے علاوہ انگریزی میں بھی کئی کتابیں لکھیں جن میں ’’قومی تہذیب کا مسئلہ‘‘ اور ’’ہندوستانی مسلمان آئینۂ ایام میں‘‘ اردو انگریزی دونوں زبانوں میں شائع ہوئیں۔انھوں نے اردو کے علمی سرمایے میں قابلِ قدر اضافہ کیے۔وہ دو مشہور جرائد ’’اسلام اور عصر جدید‘‘ اور ’’اسلام اینڈ دی موڈرن ایج‘‘ کے بانی مدیر بھی رہے۔
’چوری اور اس کا کفّارہ ‘ گاندھی جی کی آپ بیتی کے اردو ترجمے سے ماخوذ ہے۔
چوری اور اس کا کفّارہ
ہائی اسکول میں جن لڑکوں سے مجھ سے مختلف اوقات میں دوستی رہی ان میں سے دوقلبی دوست کہے جاسکتے ہیں۔ایک سے میری دوستی زیادہ دن نہیں رہی۔میں نے اُسے نہیں چھوڑا بلکہ اُس نے مجھے چھوڑدیا، اس قصور پر کہ میں نے دوسرے سے میل جول پیدا کیا۔اس دوسری دوستی کو میں اپنی زندگی کا ایک الم ناک واقعہ سمجھتا ہوں۔یہ بہت دن قائم رہی۔میں نے اسے اصلاح کے جوش میں شروع کیا تھا۔
میرا یہ رفیق اصل میں میرے منجھلے بھائی کا دوست تھا۔یہ دونوں ہم سبق تھے۔ میں اس کی کمزوریوں سے واقف تھا، مگراسے وفادار دوست سمجھتا تھا۔میری ماں نے، میرے بڑے بھائی نے، میری بیوی نے مجھے متنبہ کیا کہ تمھاری صحبت خراب ہے۔بیوی کی بات تو میں شوہری کے غرور میں کب سنتا تھا، لیکن ماں اور بڑے بھائی کی رائے کے خلاف عمل کرنے کی مجھ میں ہمت نہ تھی۔پھربھی میں نے اُن سے عذر معذرت کی اور کہا ’’میں جانتا ہوں کہ اس میں وہ کمزوریاں ہیں جو آپ نے بتائیں مگر آپ کو اس کی اچھائیوں کی خبر نہیں۔وہ مجھے گمراہ نہیں کرسکتا کیوں کہ میں اس سے اس نیّت سے ملتا ہوں کہ اس کی اصلاح کروں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ اپنے اطوار درست کرے تو بڑا اچھا آدمی ہوجائے گا۔میری التجا ہے کہ آپ میری طرف سے تردُّد نہ کریں۔‘‘
اس سے اُن کا اطمینان تو نہیں ہوا مگرانھوں نے میری توجیہہ مان لی اور مجھے میری راہ چلنے دیا۔آگے چل کر مجھے معلوم ہوا کہ میرا اندازہ غلط تھا۔جو شخص کسی کی اصلاح کرنا چاہتا ہے وہ اُس کے ساتھ شیٖروشکرہوکر نہیں رہ سکتا۔سچّی دوستی روحانی اتحاد کا نام ہے جو اس دنیا میں بہت کم ہوتا ہے۔صرف اُن ہی لوگوں میں جن کی طبیعت ایک سی ہو، دوستی پوری طرح مکمل اور پائدار ہوسکتی ہے۔دوستوں میں ہر ایک کا اثر دوسروں پر پڑتا ہے، اسی لیے دوستی میں اصلاح کی گنجائش بہت کم ہے۔میری رائے میں کسی ایک شخص سے ایک جان دوقالب ہوجانے سے پرہیزکرنا چاہیے، کیوں کہ انسان پر بہ نسبت نیکی کے بدی کا اثرجلد پڑتا ہے اور جو شخص خدا کا دوست ہونا چاہتا ہے اسے لازم ہے کہ یا تو اکیلا رہے یا ساری دنیا سے دوستی کرے۔ممکن ہے کہ میری رائے غلط ہو، مگر مجھے تو قلبی دوستی پیدا کرنے میں ناکامی ہوئی۔
جن دنوں میں میری ملاقات اس دوست سے ہوئی، راج کوٹ میں ’’ریفارم‘‘ کا بڑا زور تھا، اس نے مجھے بتایا کہ ہمارے بہت سے استاد چھُپ کر شراب اور گوشت کا استعمال کرتے ہیں۔اس نے راج کوٹ کے بہت مشہور آدمیوں کے نام بھی لیے جو اس جماعت میں شریک تھے۔اس نے کہا کہ اس زُمرے میں ہائی اسکول کے بعض لڑکے بھی ہیں۔مجھے یہ سن کر تعجب اور رنج ہوا۔
میں بزدل بھی تھا۔مجھے ہر وقت چوروں، بھوتوں اور سانپوں کا کھٹکا رہتا تھا۔رات کو گھر سے باہر قدم رکھنے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔اندھیرے سے میری روح فنا ہوتی تھی۔میرے لیے اندھیرے میں سونا تقریباً ناممکن تھا، کیوں کہ مجھے وہم ہوتا تھا کہ ایک طرف سے بھوت چلے آرہے ہیں، دوسری طرف سے چور، تیسری طرف سے سانپ، بغیر کمرے میں روشنی رکھے مجھے سوتے نہ بنتا تھا۔میں اپنے خوف کو اپنی کمسن بیوی پر کیوں کر ظاہر کرتا؟ میں جانتا تھا کہ ان میں مجھ سے زیادہ ہمت ہے اور مجھے اپنے اوپرشرم آتی تھی۔انھیں سانپوں اور بھوتوں کا کوئی ڈرنہ تھا۔وہ اندھیرے میں ہر جگہ چلی جاتی تھیں۔میرے دوست کو میری ان کمزوریوں کا حال معلوم تھا۔وہ کہتا تھا کہ میں زندہ سانپ ہاتھ پر رکھ سکتاہوں۔چوروں کا مقابلہ کرسکتا ہوں اور بھوتوں کا قائل ہی نہیں ہوں۔
میرے ایک عزیز کو اور مجھے سگریٹ پینے کا چسکا لگ گیا۔یہ بات نہ تھی کہ ہم اس عادت کو اچھا سمجھتے ہوں یا سگریٹ کی خوشبو پر ریجھے ہوں۔ہمیں تو صرف منھ سے دھواں نکالنے میں ایک خیالی لطف آتا تھا۔میرے چچا اس کے عادی تھے اور جب ہم انھیں سگریٹ پیتے دیکھتے تھے تو ہمارا جی چاہتا تھا کہ اُن کی طرح ہم بھی پئیں۔مگرہمارے پاس دام تو تھے نہیں اس لیے ہم نے ابتدا اس طرح کی کہ ہم سگریٹ کے ٹکڑے جو ہمارے چچا پی کر پھینک دیتے تھے چُرا لاتے تھے۔
مگر یہ ٹکڑے ہر وقت نہیں مل سکتے تھے اور ان سے دھواں بھی زیادہ نہیں نکلتا تھا۔اس لیے ہم نے نوکروں کے جیب خرچ میں سے پیسے چراناشروع کیے کہ ہندوستانی سگریٹ خریدیں مگرمصیبت یہ تھی کہ انہیں رکھیں کہاں، کیوں کہ ظاہر ہے کہ ہم بڑوں کے سامنے تو سگریٹ پی نہیں سکتے تھے۔چند ہفتے تک تو ہم کسی نہ کسی طرح ان چرائے ہوئے پیسوں سے کام چلاتے رہے۔اس عرصے میں ہم نے سنا کہ ایک درخت کی ڈال میں مسامات ہوتے ہیں اور اس کے ٹکڑے سگریٹ کی طرح پیے جاسکتے ہیں۔ہم انھیں لے آئے اور پینا شروع کردیا۔
لیکن ان چیزوں سے ہماری تسلّی نہ ہوتی تھی۔آزادی نہ ہونا ہمیں کھلنے لگا۔ہم سے یہ برداشت نہ ہوتا تھا کہ ہم بغیربڑوں کی اجازت کے کچھ نہ کرسکیں۔آخرزندگی سے متنفرہوکر ہم نے خود کشی کی ٹھان لی۔
مگراب یہ سوال تھا کہ خودکشی کیسے کی جائے؟ زہرکھائیں تو زہرکہاں سے لائیں؟ ہم سے کسی نے کہا کہ دھتورے کے بیج زہرِقاتل ہیں۔ہم دوڑے ہوئے جنگل میں گئے اور بیج لے آئے۔ہم نے شام کے وقت کو اس کام کے لیے مبارک سمجھا۔ہم ’’کیدارجی مندر‘‘ میں گئے۔وہاں کے چراغ میں گھی ڈالا۔ ’’درشن‘‘ لیے اور کوئی سونی جگہ ڈھونڈنے لگے۔مگر ہماری ہمت نے جواب دے دیا۔فرض کرو کہ ہم فوراً نہ مرے! اور آخر مرنے سے فائدہ ہی کیا؟ آزادی نہیں ہے تو نہ سہی، اسی حالت کو کیوں نہ برداشت کریں؟ پھر بھی ہم دوتین بیج نگل ہی گئے۔ہم دونوں موت سے ڈرگئے اور ہم نے طے کیا کہ ’’رام جی مندر‘‘ جاکر حواس درست کریں اور خود کشی کا خیال چھوڑدیں۔
مجھے معلوم ہوگیا کہ خودکشی کرنا اتنا سہل نہیں جتنا اس کا ارادہ کرنا اور اس دن سے جب کبھی میں سنتا ہوں کہ فلاں شخص خودکشی کی دھمکی دے رہا ہے تو مجھ پر بہت کم اثر ہوتا ہے۔
خودکشی کے خیال کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم دونوں نے سگریٹ کے ٹکڑے پینا اور سگریٹ کے لیے نوکروں کے پیسے چرانا چھوڑدیا۔جب سے میں بالغ ہوا ہوں مجھے کبھی تمباکو پینے کی خواہش نہیں ہوئی، اور میں اس عادت کو تہذیب کے خلاف، صفائی کے خلاف اورمُضرسمجھتا ہوں۔یہ بات میری سمجھ میں کبھی نہ آئی کہ ساری دنیا میں لوگ تمباکو پینے پر کیوں جان دیتے ہیں۔مجھ سے تو ریل کے ڈبّے میں جہاں تمباکو پینے والے بھرے ہوں نہیں بیٹھا جاتا۔میرا دم گھٹنے لگتا ہے۔
لیکن اس سے کہیں بڑی چوری کا میں کچھ دن بعدمرتکب ہوا جب میں نے پیسے چرائے تو میری عمربارہ تیرہ سال کی بلکہ اس سے بھی کم تھی۔دوسری چوری کے وقت میں پندرہ برس کا تھا۔اس بار میں نے اپنے گوشت کھانے والے بھائی کے بازوبند سے ایک سونے کا ٹکڑا چرایا۔یہ بھائی پچیس روپے کے مقروض تھے۔وہ بازو پر خالص سونے کا بازوبند باندھا کرتے تھے۔اس میں سے ایک ٹکڑا کاٹ لینا کوئی مشکل بات نہ تھی۔
چنانچہ ایسا کیا گیا اور قرض ادا ہوگیا، لیکن اتنا سنگین جرم تھا کہ مجھ سے کسی طرح برداشت نہیں ہوسکتا تھا۔میں نے عہد کرلیا کہ پھر کبھی چوری نہ کروں گا۔میرا یہ بھی ارادہ ہوا کہ اپنے والد کے سامنے جرم کا اعتراف کرلوں مگر ہمت نہ پڑتی تھی۔یہ بات نہ تھی کہ مجھے والد کے ہاتھ سے مار کھانے کا ڈر ہو۔جہاں تک مجھے یاد ہے انھوں نے ہم لوگوں کو کبھی نہیں مارا۔خوف تھا تو یہ کہ انھیں بہت دُکھ ہوگا۔
آخر میں یہ فیصلہ کیا کہ میں اعتراف نامہ لکھ کر اپنے والد کو دوں اور ان سے معافی کی درخواست کروں۔میں نے سارا واقعہ ایک کاغذپر لکھا اور خود لے جاکر انھیں دیا۔اس رُقّعے میں مَیں نے نہ صرف اپنے جرم کا اعتراف کیا بلکہ یہ خواہش بھی کی کہ مجھے اس کی کافی سزا دی جائے اورآخر میں ان سے درخواست کی کہ میرے قصور کے بدلے وہ اپنا دل نہ کڑھائیں۔میں نے اس بات کا عہد کیا کہ پھرکبھی چوری نہ کروں گا۔
میں نے اعتراف نامہ انھیں دیا تو میں کانپ رہا تھا۔وہ ان دنوں ناسور میں مبتلا تھے اور صاحب فراش تھے۔ایک کھرےتخت پر لیٹے رہتے تھے۔میں نے رقعہ انہیں دے دیا اور چوکی کے سامنے بیٹھ گیا۔
انھوں نے اسے اوّل سے آخرتک پڑھا اور موتیوں کے قطرے ٹپ ٹپ اُن کے رخساروں پر اور کاغذپر گرنے لگے۔دم بھر وہ آنکھیں بند کرکے سوچتے رہے اس کے بعد انہوں نے رقعہ پھاڑ کر پھینک دیا۔وہ اسے پڑھنے کے لیے پہلے بیٹھ گئے تھے اب وہ پھرلیٹ گئے۔میں بھی رونے لگا۔میں دیکھ رہا تھا کہ انھیں کیسا دُکھ ہے۔اگرمیں نقّاش ہوتا تو آج اتنے دن کے بعد بھی پورے منظرکی تصویر کھینچ دیتا۔اس واقعہ کی یاد میرے دل میں اب تک تازہ ہے۔
ان محبت کے موتیوں نے میرے دل کو پاک کردیا اور میرے گناہ کو دھوڈالا۔اس محبت کو وہی خوب جانتا ہے جس نے اس کا لطف اٹھایا ہے۔
یہ میرے لیے ’اَہمسا‘ کا عملی سبق تھا۔اس وقت تو مجھے اس میں سوائے باپ کی محبت کے کچھ نظرنہ آتا تھا، مگرآج میں جانتا ہوں کہ یہ خالص ’اہمسا‘ تھا۔جب یہ ’اَہِمسا‘ ہَمہَ گیر ہوجا تا ہے تو جس چیز کو چھوتا ہے اس کی کایا پلٹ دیتا ہے۔اس کی قوت کی کوئی انتہا نہیں ۔
اس طرح کا شاندار عَفو میرے والد کی طبیعت سے بعید تھا ۔میرا خیال تھا کہ وہ خفا ہوجائیں گے ، سر پیٹ لیں گے ۔مجھے سخت سُست کہیں گے ۔لیکن ان کا سکون دیکھ کر حیرت ہوتی تھی اور یقیناً اس کی وجہ یہی تھی کہ میں نے صاف صاف اپنے گناہ کا اعتراف کرلیا ۔گناہ کا پورا اعترف اور آئندہ اس سے باز رہنے کا عہد ،ایسے شخص کے سامنے جو انھیں قبول کرنے کا اہل ہے ،تو بہ کی خالص ترین صورت ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ میرے اس اعتراف سے والد کو میری طرف سے پورا اطمینان ہوگیا اور انھیں مجھ سے جو محبت تھی وہ بے انتہا بڑھ گئی۔ (تلخیص)
مترجم: سیّدعابدحسین
مشق
لفظ و معنی :
کَفّارہ : گناہ یا قصور کا بدلہ جو قصور وار کی طرف سے ادا ہو
قلبی دوست : دلی دوست ،بہت قریبی دوست
متنبہ کیا : خبر دار کیا ، آگاہ کیا
عذر معذرت : کسی قصور یا کمی کی صفائی کے طور پر جو بات کہی جائے
تردُّد : پریشانی،الجھن
توجیہہ : وجہ بیان کرنا ،دلیل دینا
ایک جان دو قالب : انتہائی دوستی، گویا جسم دو ہیں لیکن جان ایک
لغز ش : غلطی ، بھول چوک، گمراہی
مسامات : جِلد کے باریک سوراخ جن سے پسینہ نکلتا ہے
زہرِ قاتل : وہ زہر جس کے کھانے سے انسان مرجائے ،مہلک زہر
مرتکب : کام میں ہاتھ ڈالنا ، قصوروار
صاحبِ فراش : وہ بیمار جو بستر سے نہ اُٹھ سکے
اَہِمسا : اہنسا ، خون خرابے اور توڑ پھوڑ میں یقین نہ رکھنا یا ان باتوں پر عمل نہ کرنا،عد م تشدد
ہمہ گیر : جوسب پر چھایا ہو
عَفو : معافی،درگذر
غور کرنے کی بات:
- یہ مضمون مہاتما گاندھی کی آپ بیتی My Experiments With Truth کے اردو ترجمے’’ تلاشِ حق‘‘ سے لیا گیا ہے۔ مضمون پڑھتے وقت آپ کو کسی بھی سطر پر یہ شبہہ نہیں ہوگا کہ یہ ترجمہ ہے ۔ اچھے اور کامیاب ترجمے کی یہی خوبی ہے کہ اس پر اصل کا گمان ہو۔
- مہاتما گاندھی نے اپنی سوانح لکھتے وقت اپنی شخصی کمزوریوں کو چھپایا نہیں ان پر کسی طرح کا پردہ نہیں ڈالااور کھلے دل سے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کیا اور خود ہی اپنی اصلاح کی ۔ایک اچھی آپ بیتی کی پہلی خوبی یہی ہے کہ اس میں کسی طرح کا تصنع نہ ہو ۔ اس طرح کی آپ بیتیاں پڑھنے والے کے لیے لطف کے ساتھ ساتھ عبرت اور اصلاح کے مواقع بھی فراہم کرتی ہیں۔
سوالوں کے جواب لکھیے:
1۔ ’’انسان پر بہ نسبت نیکی کے بدی کا اثر جلد پڑتا ہے ‘‘، ایسا کیوں ؟ واضح کیجیے۔
2۔ مہاتما گاندھی نے اپنی غلطیوں کے کفارے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا؟
3۔ گاندھی جی کا اعتراف نامہ پڑھ کر ان کے والد پر کیا اثر ہوا؟
عملی کام :
- ایک مضمون لکھیے ۔’’چوری ایک بری عادت ہے۔ ‘‘
- گاندھی جی کی زندگی سے متعلق کتابیں حاصل کرکے ان کا مطالعہ کیجیے۔
