
7

سرسیّداحمدخاں
(1898 - 1817)
سیّد احمد خاں دہلی کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔سیّد احمد نے اپنے زمانے کے اہلِ کمال سے فیض حاصل کیا۔1839 میں انھوں نے انگریزی سرکار کی ملازمت اختیار کی اور اس سلسلے میں مختلف شہروں میں ان کی تقرری ہوئی۔1862 میں جب وہ غازی پور میں تھے، انھوں نے ’سائنٹفک سوسائٹی‘ کے نام سے ایک انجمن بنائی۔اس انجمن کا مقصد ہندوستانیوں میں مختلف علوم، خاص کر سائنسی علوم کے مطالعے کو فروغ دینا تھا۔1869 میں سیّداحمد خاں ایک سال کے لیے انگلستان گئے۔واپس آکر انہوں نے انگریزی کے علمی اور سماجی رسالوں کی طرز پر اپنا ایک رسالہ ’تہذیب الاخلاق‘ جاری کیا۔اس سے اردو میں مضمون نگاری کو بہت ترقی ملی۔
سیّد احمدخاں نے علی گڑھ میں 1857 میں ایک اسکول قائم کیا۔یہ اسکول 1878 میں ’محمڈن اینگلو اورینٹل کالج‘ اور پھر 1920 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں ہندوستان کا ایک نمایاں تعلیمی ادارہ بن گیا۔
1878 میں سیّد احمد خاں کو ’سر‘ کا خطاب ملا۔اس لیے لوگ انھیں ’سرسیّد‘ کے نام سے جانتے ہیں۔سرسیّدآخر عمر تک قومی سرگرمیوں، کالج کی دیکھ بھال اور تصنیف وتالیف میں مشغول رہے۔ان کی متعدد تصانیف میں ’آثارالصّنادید‘، ’اسباب بغاوتِ ہند‘ اور ’سرکشی ضلع بجنور‘ خاص طور پر اہمیت رکھتی ہیں۔ان کے مضامین کئی جلدوں میں شائع ہوئے جن میں سائنس، فلسفہ، مذہب اور تاریخ سے متعلق مضامین ہیں۔
سر سید نے لمبی لمبی تحریروں کے بجائے چند صفحات میں کام کی بات کہنے کا طریقہ رائج کیا۔اردو ایسّے(Essay) اور انشائیہ نگاری کی روایت کو فروغ دینے میں سرسیّداور ان کے رفیقوں نے نمایاں رول ادا کیاہے۔سرسیّداپنے زمانے کے بڑے مصلحین میں شمار کیے جاتے ہیں ۔انھوں نے زندگی کے ہر شعبے میں اصلاح کا بیڑہ اٹھایا۔اپنی قوم کو جدید تعلیم کی طرف مائل کرنے میں وہ ہمیشہ سرگرم رہے۔’عورتوں کے حقوق‘ پر ان کا یہ مضمون بھی ان کی اصلاحی خدمات کی ترجمانی کرتا ہے۔
عورتوں کے حقوق
تربیت یافتہ ملک اِس بات پر بہت غل مچاتے ہیں کہ عورت اور مرد دونوں باعتبارآفرینش کے مساوی ہیں اور دونوں برابر حق رکھتے ہیں۔کوئی وجہ نہیں کہ عورتوں کو مردوں سے کم اورحقیرسمجھا جاوے۔
بایں ہمہ، ہم دیکھتے ہیں کہ جس قدر، قدرومنزلت عورتوں کی مذہب اسلام میں کی گئی ہے اور ان کے حقوق اور ان کے اختیارات کو مردوں کے برابر کیا گیا ہے، اُس قدر آج تک کسی تربیت یافتہ ملک میں نہیں ہے۔مسلمان قانون میں عورتوں کے مردوں کے برابر حقوق اور اختیارات تسلیم کیے گئے ہیں۔
حالت نابالغی میں جس طرح مرد، اسی طرح عورت، بے اختیار اور ناقابلِ معاہدہ متصوّر ہے؛ اِلاّبعد بلوغ وہ بالکل مثلِ مرد کے مختار ہے اور ہر ایک معاہدہ کے لایق ہے۔
جس طرح مرد، اُسی طرح عورت، اپنی شادی کرنے میں مختار ہے۔جس طرح کہ مرد کا بے رضا نکاح نہیں ہوسکتا؛ اسی طرح عورت کی بِلارضا مندی نکاح نہیں ہوسکتا۔
وہ اپنی تمام جائداد کی خودمالِک اور مختار ہے اور ہر طرح اس میں تصرّف کرنے کا اُس کو اختیار حاصل ہے۔
وہ مِثل مرد کے ہر قسم کے معاہدے کی صلاحیت رکھتی ہے؛ اور اس کی ذات ، اور اُس کی جائداد ، اُن معاہدوں اور دستاویزوں کی بابت جواب دہ ہے، جو اُس نے تحریرکی ہوں۔
جو جائداد ، قبل شادی اوربعدشادی اس کی ملکیت میں آئی ہو؛ وہ خود اس کی مالک ہے، اور خود اس کے محاصل کی لینے والی ہے۔
وہ مِثل مرد کے دعویٰ بھی کرسکتی ہے، اور اُس پر بھی دعویٰ ہوسکتا ہے۔
وہ اپنے مال سے ہر ایک جائداد خریدسکتی ہے، اور جوچاہے اُس کو بیع کرسکتی ہے۔وہ مِثل مرد کے ہرقسم کی جائداد کو ہِبہ، اوروصیت اور وقف کرسکتی ہے، وہ رشتہ داروں اور شوہر کی جائداد میں سے بہ ترتیب وراثت ورثہ پاسکتی ہے۔
وہ تمام مذہبی نیکیوں کو جومرد حاصل کرسکتا ہے حاصل کرسکتی ہے۔
وہ تمام گناہوں اور ثواب کے عوض دنیا اور آخرت میں وہی سزاو جزا پاسکتی ہے، جو مردپاسکتا ہے…۔
اِس مقام پر جو ہم کو بحث ہے، وہ صرف مردوں کے عورتوں کے ساتھ حُسنِ سلوک، اورحُسنِ معاشرت اور تواضع اور خاطرداری اور محبت اور پاس خاطر اور اُن کی آسائش اور آرام اور خوشی اورفرحت کی طرف متوجہّ ہونا اور ان کو ہر طرح پرخوش رکھنا، اور بعوض اِس کے کہ عورتوں کو اپنا خدمت گذار تصورکریں، اُن کو اپنا انیس اور جلیس، اور رنج وراحت کا شریک اور اپنے کو اُن کی اور اُن کو اپنی باعثِ مسرت اور تقویت کے سمجھنے پر، بحث ہے بلاشبہ جہاں تک کہ ہم کو معلوم ہے، تربیت یافتہ ملکوں میں عورتوں کے ساتھ یہ تمام مراتب بخوبی برتے جاتے ہیں اور مسلمان ملکوں میں ویسے نہیں برتے جاتے، نعوذُبااللہ منہا!
مہذب قوموں نے، باوجود یہ کہ اُن کے یہاں کا قانون نسبت عورتوں کے نہایت ہی ناقص اور خراب تھا، اپنی عورتوں کی حالت کو نہایت اعلیٰ درجے کی ترقی پرپہنچایا ہے، اور مسلمانوں نے، باوجود یہ کہ اُن کا مذہبی قانون نسبت عورتوں کے، اور اُن کی حالت بہتری کے تمام دنیا کے قوانین سے بہتراور عمدہ تھا مگراُنھوں نے اپنے نا مہذّب ہونے سے ایسا خراب برتاؤ عورتوں کے ساتھ اختیار کیا ہے، جس کے سبب تمام قومیں اُن کی حالت پر ہنستی ہیں اورہماری ذاتی برائیوں کے سبب، اس وجہ سے کہ قوم کی قوم ایک حالت پر ہے اِلاماشاء اللہ اس قوم کے مذہب پر عیب لگاتی ہیں۔
پس اب یہ زمانہ نہیں ہے کہ ہم اِن باتوں کی غیرت نہ کریں اورا پنے چال چلن کو درست نہ کریں؛ اور جیسا کہ مذہب اسلام روشن ہے، خود اپنے چال چلن سے اس کی روشنی کا ثبوت لوگوں کو نہ دکھائیں۔(تلخیص)
سرسیّداحمدخان
مشق
لفظ ومعنی:
آفرینش : پیدائش
با ایں ہمہ : اِن سب کے باوجود۔ان سب کے ہوتے ہوئے، باوجود ان باتوں کے
اِلاّ : اگر،سوائے
معاہدہ : سمجھوتہ، باہم قول وقرار۔
متصوَّر : تصور کیا گیا، سوچا ہوا۔
جواب دہ : ذمہ دار، بازپرس کے قابل
تصّرف : خرچ، استعمال
محاصل : محصول کی جمع، لگان،مالگذاری،نفع
بیع : فروخت، بیچنا
ہِبہ کرنا : عطا کرنا ،وقف کرنا
بَعوض : بدلے میں، جواب میں
انیس : انس رکھنے والا،محبت کرنے والادوست
جلیس : ساتھ بیٹھنے والا، ساتھی دوست
نعوذُبااللہ منہا : ہم اس سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں
تقویت : طاقت، قوت
قوانین : قانون کی جمع، قاعدہ ،دستور، ضابطہ
مہذّب : تہذیب یافتہ
غور کرنے کی بات:
- اس مضمون میں سرسید نے عورتوں کے حقوق پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ مذہب اِسلام میں عورت اورمرد کو برابرکا درجہ دیا گیا ہے۔
سوالوں کے جواب لکھیے:
1۔ اسلام میں عورتوں کو کیا حقوق اور اختیارات دیے گئے ہیں؟
2۔ تربیت یافتہ ملکوں میں عورتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے؟
3۔ مردوں کو عورتوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرنا چاہیے؟
عملی کام:
- ہمارے ملک میں عورتوں کی حالت پرایک مختصر مضمون لکھیے۔
- مختلف شعبوں میں شہرت حاصل کرنے والی پانچ ہندوستانی عورتوں کے نام لکھیے۔
