
8

مولوی عبدالحق
(1961 – 1870)
بابائے اردومولوی عبدالحق اردو زبان کے ان شیدائیوں میں سے تھے جنھوں نے اپنی ساری زندگی اس زبان کی خدمت میں صرف کردی۔ وہ قصبہ ہاپوڑ میں پیدا ہوئے ۔ بچپن ہی سے پڑھنے کا بے حد شوق تھا ۔1894میں ایم ۔اے ۔او۔ کالج علی گڑھ سے بی۔اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد پنجاب اور حیدرآباد میں مختلف عہدوں پر فائز رہے ۔عثمانیہ کالج اورنگ آباد میں بطور پرنسپل کام کیا۔عثمانیہ یونیورسٹی میں شعبۂ اُردو کے پروفیسر اور صدر رہے۔انجمن ترقی اُردو کے سکریٹری مقرر ہوئے اور زندگی بھر اس ادارے کی ترقی اور کامیابی کے لیے جی جان سے کوشش کرتے رہے۔انجمن کی جانب سے مولوی عبدالحق کی ادارت میں ایک سہ ماہی ادبی رسالہ ’’اُردو‘‘ جاری ہوا، جس نے تحقیقی، علمی اور ادبی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔حیدرآباد یونیورسٹی نے ایل۔ایل۔ڈی اور علی گڑھ یونیورسٹی نے ڈی۔لٹ کی اعزازی ڈگریاں دے کر مولوی عبدالحق کی مجموعی خدمات کا اعتراف کیا۔آزادی کے بعدوہ پاکستان چلے گئے اور کراچی میں ان کا انتقال ہوا۔
مولوی عبدالحق ایک محقق ، سوانح نگار ،زبان داں ،لغت نویس،ماہر قواعداور صاحب طرز انشا پرداز تھے ۔ان کی تحریرو ں پر حالیؔ کا سب سے زیادہ اثر ہے ۔ بول چال کی سادہ زبان میں پُر خلوص جذبات کا بے لاگ اظہار کرتے ہیں۔ہربات خوب سوچ سمجھ کر لکھتے ہیں۔عبارت میں الجھائو نہیں،مشکل زبان لکھنے والوں کو وہ اُردو کا دشمن کہتے تھے اور آسان زبان لکھنے پر زور دیتے تھے۔اُردو ادب میں قدیم کتابوں کی تدوین، ترتیب اور اشاعت اُن کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ان کتابوں پر اُن کے مقدمات اُردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔انگریزی اُردو لغت اور اُردو زبان کی قواعد کا بنیادی کام بھی مولوی عبدالحق کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
مخلوط زبان
اردو پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ مخلوط زبان ہے ۔اس سے تو کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ یہ ٹھیٹ ہندوستانی زبان ہے۔ اب رہی یہ بات کہ یہ مخلوط ہے تو مخلوط ہونا کوئی عیب نہیں بلکہ ایک اعتبار سے خوبی ہے۔
یوں تو دنیا میں کوئی زبان خالص نہیں ہرزبان نے کسی نہ کسی زمانے میں دوسری زبانوں سے کچھ نہ کچھ لفظ لیے ہیں یہاں تک کہ جو زبانیں مقدس کہلاتی ہیں وہ بھی اچھوتی نہیں…۔ مخلوط زبا ن میں ہوتا یہ ہے کہ غیرزبان جو کسی قوم کو سیکھنی پڑتی ہے مخلوط نہیں ہوتی بلکہ اس کی اپنی زبان غیرزبان کے میل سے مخلوط ہوجاتی ہے۔بعینہٖ یہی حال مسلمانوں کے آنے کے بعد ہوا، فارسی مخلوط نہیں ہوئی بلکہ مقامی زبان فارسی سے مخلوط ہوکر ایک نئی زبان بن گئی ہے…۔
یہ بھی ایک مسلم ثبوت ہے کہ غیرزبان کے لفظ جو کسی زبان میں داخل ہوجاتے ہیں یا کسی زبان کو مخلوط کرتے ہیں تو اصلی زبان کے صرف ونحوکو ہاتھ نہیں لگاتے ۔یہی صورت اس مخلوط زبان اردو میں پیش آئی کہ فارسی کا اثر اسماء وصفات تک رہا البتہ بعض حروف عطف مثلاً اگر،مگر، اگرچہ، لیکن وغیرہ آگئے اصل صرف ونحوبالکل دیسی زبان کی رہی اور جب ضرورت پڑی فارسی، عربی، لفظوں کو ہندی قالب میں ڈھال کر اپنا لیا۔مثلاً عربی الفاظ بدل، کفن، دفن، قبول سے بدلنا، کفنانا، دفنانا، قبولنا، مصدر بنالیے۔ اسی طرح فارسی سے بخشنا، فرمانا، نوازنا، داغنا وغیرہ بنالیے گئے یہ سب اردو ہوگئے فارسی، عربی نہیں رہے…۔
بدیسی لفظوں سے زبان خراب نہیں ہوتی بلکہ برخلاف اس کے اس میں وسعت، قوت اور شان پیدا ہوجاتی ہے۔یہ سچ ہے کہ بہت سے غیرضروری الفاظ بھی باہر سے آکر داخل ہوجاتے ہیں۔غیرضروری سے میری مراد ان لفظوں سے ہے جن کے ہم معنی لفظ پہلے سے زبان میں موجود ہیں۔ لیکن مترادف الفاظ سے کوئی نقصان نہیں بلکہ زبان میں اضافہ ہوجاتا ہے اور زبان کی فطرت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ ایک مدت کے استعمال کے بعد مترادف الفاظ کے مفہوم میں خودبخود ایسے نازک فرق پیدا ہوجاتے ہیں جس سے زبان کی لطافت بڑھ جاتی ہے اور جو لفظ پہلے غیرضروری سمجھے جاتے تھے ضروری ہوجاتے ہیں۔
یہ خیال بھی صحیح نہیں کہ بدیسی الفاظ سے زبان بوجھل اور بھدی ہوجاتی ہے۔ وہ لفظ جو غیرزبان سے آکرداخل ہوجاتے ہیں وہ اس نوعیت کے ہوتے ہیں کہ زبان میں پوری طرح کھپ جاتے ہیں اور ان کی اجنبیت بالکل جاتی رہتی ہے۔ اس لیے وہ زبان پر بار نہیں ہوتے ۔بلکہ ان میں اور دیسی لفظوں میں آسانی اور وسعت پیدا کرتے ہیں۔
انسانی خیال کی کوئی تھا ہ نہیں اور نہ اس کے تنوع اور وسعت کی کوئی حد ہے۔زبان کیسی ہی وسیع اور بھرپور ہو، خیال کی گہرائیوں اور باریکیوں اور نازک حرفوں کو صحت کے ساتھ ادا کرنے میں قاصر رہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ادا کرنے کے لیے طرح طرح کے جتن کیے جاتے ہیں۔ مترادف الفاظ ایسے موقعوں پر بہت کام آتے ہیں۔ مترادف الفاظ سب ہم معنی نہیں ہوتے۔ ان کے مفہوم اور استعمال میں کچھ نہ کچھ ضرور فرق ہوتا ہے۔ اس لیے ادائے مطالب میں ان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے خاص کر شاعری کے اغراض کے لیے مترادف الفاظ کا کثرت سے ہونا بہت کام آتا ہے۔ شاعر ان کے ذریعہ سے لطیف سے لطیف خیا ل اور نازک سے نازک جذبات کو ادا کرسکتا ہے، پھر اس سے ردیف وقافیے کے لیے بہت سہولت ہوجاتی ہے۔
ادیب اور شاعر کے لیے لفظ کا انتخاب بڑی اہمیت اورقدر وقیمت رکھتا ہے۔ ایک برمحل صحیح لفظ کا انتخاب کلام میں جان ڈال دیتا ہے۔ مخلوط زبان میں انتخاب کی بہت گنجائش ہوتی ہے۔ ذوق ؔکا شعر ہے ؎
مزے جو موت کے عاشق بیاں کبھو کرتے
مسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے
خاصا شعر ہے مگر کوئی خاص بات نہیں ۔میر تقی میرؔ اسی مضمون کو یوں ادا کرتے ہیں ؎
لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا
کب خضرومسیحا نے مرنے کا مزاجانا
یہاں ’کھپا جانا‘‘ کے لفظ نے کیا کام کیا ہے! کوئی دوسرا لفظ رکھ کر دیکھیے یہ بات نہیں آئے گی۔ اسی شعرمیں لذت او رمزہ دومترادف لفظ ہیں۔اگر ایک ہی لفظ دونوں جگہ استعمال ہوتا تو شعرسست اور بے مزہ ہوجاتا ہے ۔
محبت ہے یا کوئی جی کا ہے روگ
سدا میں تو رہتا ہوں بیمار سا
ہماری زبان میں مرض، بیماری ،روگ، عارضہ مترادف ہیں لیکن ایک سچا شاعر یا ادیب خوب سمجھتا ہے کہ کون لفظ کہاں استعمال کرنا چاہیے۔ اسی شعر میں جی کے ساتھ ’’روگ‘‘ کی جگہ ’’مرض‘‘ یا بیمار یہ لطف نہ دے گا۔
غرض فارسی کے میل سے ہماری لغت میں بے بہا اضافہ ہوا ہے۔الفاظ کے ساتھ ساتھ خیالات بھی آجاتے ہیں۔ صرف لفظوں کا ذخیرہ کوئی چیز نہیں۔ بڑی چیز ان کا استعمال ہے جو خیال کے صحیح طورپر ادا کرنے ،مترادفات کے نازک فرق ،خیالات میں صفائی اور صحت بیان پیدا کرنے میں بڑی مدد دیتے ہیں۔ اور یہ نہ بھی ہو تو ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ بار بار ایک لفظ کے ا عادے سے جو بیان میں بھدّاپن آجاتا ہے وہ رفع ہوجاتا ہے اور کلام میں حسن پیدا ہوجاتا ہے۔
اگرزبان کی قدرومنزلت ان مقاصد کے پورا کرنے میں ہے جن کے لیے زبان بنی ہے تو ہمیں اس امر کو ماننا پڑے گا کہ غیرزبان کے الفاظ داخل ہونے سے ہماری زبان کو بے انتہا فائدہ پہنچتا ہے ۔عوام کی زبان یعنی کھڑی بولی جس پراردو کی بنیاد ہے اس قدرمحدود تھی کہ اگر اس میں فارسی عنصر شریک نہ ہوتا تو وہ کبھی علم وادب کے کوچے سے آشنا نہ ہوتی اور اس وقت جو اردو میں اظہارِ خیال کے نئے ڈھنگ پیدا ہوگئے ہیں وہ ان سے محروم رہتی۔
اردو میں ہندی اور فارسی لفظ مل جل کر شیروشکرہوگئے ہیں اور عام بول چال محاوروں اور کہاوتوں میں بے تکلف آگئے ہیں، مثلاً تم کس باغ کی مولی ہو، اشرفیاں لٹیں اور کولوں پر مہر، ایک آنکھ میں شہد ایک آنکھ میں زہر، لاکھ کا گھر خاک ہوگیا ، اللہ کا دیا سرپر، خدا کی لاٹھی میں آوازنہیں ، بداچھا بدنام برا، بدن پر نہیں لتّا پان کھائیں البتہ وغیرہ وغیرہ سیکڑوں کہاوتیں ہیں۔ یہی حال محاوروں کا ہے۔ مثلاً آنکھوں میں خارلگنا، خدالگتی کہنا، آنکھوں پر پردہ پڑجانا، لہولگا کے شہیدوں میں ملنا، اللہ میاں کی گائے ہونا۔
مخلوط زبان میں ایک آسانی مرکب الفاظ کے بنانے میں بھی ہوتی ہے ۔دیکھیے ہندی فارسی کے میل سے کیسے اچھے اچھے مرکب لفظ بن گئے ہیں، مثلاً دل لگی، نیک چلن، جگت استاد،بھتیج داماد، گھر داماد، سمجھدار،گنڈے دار، اگالدان، عجائب گھر، کفن چور، جیب گھڑی، امام باڑہ، منھ زور وغیرہ ہزاروں مرکبات ہیں۔
مخلوط زبانوں کے بننے کے دوران میں ایک اور بات بھی عمل میں آتی ہے جو قابل غورہے۔ یعنی ان میں سے ہر زبان کو اس خیال سے جانیں کہ ایک دوسرے کی بات آسانی سے اور جلد سمجھ میں آجائے۔ اپنی بعض خصوصیات ترک کرنی پڑتی ہیں اور صرف ایسی صورت باقی رکھنی پڑتی ہے جو یا تو مشترک ہوتی ہیں یا جن کا اختیار کرنا دونوں کے لیے سہل ہوتا ہے اور اس طرح دونوں میں توازن سا پیدا ہوجاتا ہے ۔جو فریقین کے لیے سہولت کا باعث ہوتا ہے۔ اردو کے بننے میں بھی یہی ہوا۔ فریقین یعنی ہندوومسلمان دونوں نے اپنی اپنی زبانوں میں کتربیونت کی ۔اپنی مخصوص خصوصیات ترک کیں اور اس قربانی کے بعد جو زبان بنی اسے اختیار کرلیا، جواب بھی ہماری ملکی اور قومی زبان ہے اور ہندوستان کی مشترک اور عام زبان ہونے کا درجہ حاصل کرچکی ہے ، ہم نے اسے قربانی دے کر حاصل کیا ہے، اور کسی کا منھ نہیں ہوسکتا کہ ہم سے چھڑا لے۔
ایک حکیم کا قول ہے کہ غیر اقوام کے لوگوں کو اپنی قوم میں اس طرح جذب کرلینا کہ اپنے اور غیر میں امتیاز نہ رہے، بلاشبہ مشکل کام ہے لیکن غیر زبان کے الفاظ کو اپنی زبان میں اس طرح جذب کرلینا کہ معلوم تک نہ ہوکہ یہ غیر ہیں اس سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔ یہ استعداد اردو میں بہ درجہ کمال موجود ہے اس میں سیکڑوں ہزاروں لفظ غیر زبانوں کے اس طرح گھل مل گئے ہیں کہ بولنے اور پڑھنے والوں کو خبر تک نہیں ہوتی کہ دیسی ہیں یا بدیسی، اپنے ہیں یا پرائے۔
غرض ہماری زبان ایک خوش رنگ اور ہرا بھرا گلدستہ ہے جس میں رنگ برنگ کے خوبصورت پھول اور نازک پتیاں ہیں۔کیا ہم اس وہم سے کہ اس میں گلاب بدیسی ہے اور کچھ پتیاں باہر کے پودوں کی ہیں انہیں نوچ کر پھینک دیں گے؟ اگر کوئی ایسا کرے تو سراسرنادانی ہے۔
مجھے سرتیج بہادرسپرؔو کے اس قول سے حرف بہ حرف اتفاق ہے کہ ’’یہی زبان جسے ہم اردو کہتے ہیں، تنہا وسیلہ ہے جس سے ہندواور مسلمان ایک دوسرے کی تہذیب کو سمجھ سکتے ہیں یہی وہ ذریعہ ہے جس سے ہندو مسلمان میں اتحاد پیدا کیا جاسکتا ہے۔ میرے خیال میں اس سے بڑھ کر کوئی غلطی نہیں ہوسکتی کہ اس زبان کو مٹانے او ر اس رشتے کوتوڑنے کی کوشش کی جائے‘‘۔ (تلخیص)
مولوی عبد الحق
مشق
لفظ و معنی :
مخلوط : مِلاجُلا، ملی جلی
مقدس : پاک
بعینہٖ : بالکل وہی،ویسی ہی
بلاتامل : بلا جھجھک
صرف ونحو : لفظ اور جملے کے قواعد
ہاتھ نہ لگانا : مدد نہ کرنا، ساتھ نہ دینا
اسما : (اسم کی جمع) نام
صفات : (صفت کی جمع) خصوصیات
قالب : جسم ،پیکر
وسعت : پھیلاؤ
لطافت : جو لطیف ہونے کا احساس پیدا کرے
تھاہ : گہرائی
تنوع : رنگا رنگی
لطیف : جو لطف دے سکے
مفہوم : معنی ،مطلب
قاصر : بے بس، مجبور
بَرمحل : بر وقت ،مناسب موقع پر،وقت پر
بے بہا : بہت قیمتی، انمول
صحت بیان : بیان کا صحیح ہونا
اعادہ : دہرانا
رفع کرنا : دور کرنا
قدرومنزلت : عزّت واحترام
شیروشکر ہونا : گھل مل جانا
جذب کرنا : سمولینا
بہ درجہ کمال : بہت بلند درجے پر
وسیلہ : ذریعہ،واسطہ
غور کرنے کی بات:
- مولوی عبدالحق کے اس مضمون سے اردو زبان کی بنیادی خصوصیات پر روشنی پڑتی ہے۔
- اردو زبان کی سب سے بڑی خوبی اس کی وسعت ہے۔ اس میں غیرزبانوں کے بہت سے الفاظ اس طرح گھل مل گئے ہیں کہ بولنے اور پڑھنے والوں کواحساس تک نہیں ہوتا ۔یہ اندازہ لگانا ہمارے لیے مشکل ہوجاتا ہے کہ کون سے الفاظ دیسی ہیں اور کون سے الفاظ بدیسی۔
سوالوں کے جواب لکھیے:
1۔ مخلوط زبان سے کیا مراد ہے؟وضاحت کیجیے۔
2۔ زبان میں’بدیسی الفاظ ‘ داخل ہونے کے کیا فائدے بیان کیے گئے ہیں؟
3۔ اس مضمون میں اردو زبان کی کن خصوصیات پر روشنی ڈالی گئی ہے؟
عملی کام :
- ذیل میں دیے گئے الفاظ اپنے جملوں میں استعمال کیجیے
مخلوط مترادف قدر و منزلت بے بہا
- سبق میں جو محاورے اور کہاوتیں بیان کی گئی ہیں ان کی فہرست بنائیے۔
- اس مضمون میں سر تیج بہادر سپرو نے اردو زبان کے بارے میں جو کہا ہے اسے اپنے لفظوں میں بیان کیجیے۔
