
9

آلِ احمد سُرور
(1911-2002)
آلِ احمد نام ،سُرورؔ تخلص ، بدایوں کے رہنے والے تھے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد سینٹ جونس کالج، آگرہ سے بی۔ایس۔سی اور علی گڑھ مُسلم یونیورسٹی سے پہلے انگریزی اورپھر اردو میں ایم ۔اے کیا۔ 1934 میں علی گڑھ میں انگریزی کے اور 1936میں اردو کے لکچرر مقرر ہوئے۔ ایک سال رضاکالج ، رامپور کے پرنسپل بھی رہے۔بعد میں لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ریڈر کی حیثیت سے کام کیا ۔ 1955 میں پروفیسر کی حیثیت سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی واپس آگئے۔ 1958سے ریٹائرمنٹ تک اسی یونیورسٹی میں شعبۂ اردو کے پروفیسر اور صدر کے فرائض انجام دیے ۔ سرور صاحب 18 برس تک انجمن ترقی اردو(ہند) کے جنرل سکریٹری بھی رہے۔ انھوں نے ’ ہماری زبان ‘اور’اُردو ادب‘ کے مدیر کی حیثیت سے بھی کام کیا ۔
آلِ احمد سرور اردو زبا ن کے صاحب طرز ادیب اور ممتاز نقّاد تھے۔ تنقیدجیسے موضوع کو انھوں نے اپنی دل کش تحریر کے ذریعہ ایک پسندیدہ اور شائستہ فن بنا دیا ٍ ۔سرور صاحب کی تصانیف میں ’’تنقیدی اشارے‘‘ ،’’ نئے اور پرانے چراغ‘‘ ،’’تنقید کیا ہے‘‘، ’’ ادب اور نظریہ‘‘،’’ مسرت سے بصیرت تک‘‘ قابل ذکر ہیں۔’’سلسبیل ‘‘،’’ذوق ِ جنوں ‘‘اور’’ خواب اور خلش ‘‘ان کے شعری مجموعے ہیں۔’’خواب باقی ہیں‘‘سرُور صاحب کی آپ بیتی ہے۔ مضمون ’’چکبست لکھنوی ‘‘سرور صاحب کی ریڈیائی تقریروں کے مجموعے ’’تنقیدی اشارے ‘‘سے ماخوذہے۔
چکبستؔ لکھنوی
چکبست ؔ 1882 میں بمقام فیض آباد پیدا ہوئے۔ بزرگوں کا وطن لکھنؤ تھا، اس لیے وہیں چلے آئے اور تعلیم وہیں حاصل کی۔ شعر وادب کا ذوق گھٹّی میں پڑا تھا اورلکھنوی مذاق رگ رگ میں رچا ہوا تھا۔ 1905 میں کیننگ کا لج سے بی۔اے، ایل ۔ایل ۔بی کرنے کے بعد آپ نے وکالت شروع کی اور اس پیشہ میں آپ کو خاصی کامیابی حاصل ہوئی ۔1926 میں جب آپ کی عمر تقریباً پینتالیس سال کی تھی اچانک انتقال کیا ۔ کاظم حسین محشر نے آپ ہی کے مصرعے سے تاریخ نکالی :
ان کے ہی مصرعے سے تاریخ ہے ہمراہِ عزا
’’موت کیا ہے انھیں اجزا کا پریشاں ہونا ‘‘
چکبستؔ نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہ سرعت سے بدل رہا تھا ۔ ایک طرف قدامت کا رنگ تھا ، جو ابھی سماج پر چھایا ہوا تھا ، اور دوسری طرف نئی تہذیب کی بڑھتی اور چڑھتی ہوئی روشنی تھی جو آہستہ آہستہ اپنا اثر جما رہی تھی ۔ اس ماحول میں طبائع زیادہ مشتعل اور معیار زیادہ سخت تھے۔ کچھ لوگ قدامت پرست تھے، کچھ ایک نئی دنیا کے خواب دیکھ رہے تھے ۔ کچھ ایسے بھی تھے جو تھوڑی سی اصلاح، تھوڑی سی تبدیلی ، تھوڑی سی رفوگری کے قائل تھے۔ چکبستؔ اس آخری طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ اقبالؔ کی زبان میں ان کا قلب ’’مومن ‘‘ اور دماغ ’’کافر‘‘ تھا ۔وہ لکھنؤ کی تہذیب ، تمدّن، معاشرت اور اخلاق کے دلدادہ تھے، مگر اس کے ساتھ زمانے کا رخ دیکھ کر اور روشن خیال اور تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے اصلاح وترمیم کے بھی حامی تھے۔ وہ نہ صرف ایک اچھے شاعر، اچھے نقاّد اور اچھے اہل قلم تھے،بلکہ اچھے انسان بھی تھے۔ وہ اس طبقے سے تعلقّ رکھتے تھے جو صرف عزّت و آرام کی زندگی گزارنے پر قانع نہیں ہوتا، بلکہ قوم کی بہبود اور بہتری کے لیے نہایت نیک خیالات بھی دل میں رکھتا ہے۔یہ نیک خیالات قدرتی طورپر مُعتدِل اور صلح پسند خیالات ہوتے ہیں۔
چکبستؔ جدید دور کے شعرا میں نہایت ممتاز درجہ رکھتے ہیں۔ان کا مجموعۂ کلام ’’صبح وطن‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ہمارے شعر ا اپنے دواوین کے تاریخی نام رکھنے میں اس قدر محورہتے ہیں کہ کلام کی خصوصیت سے اسے کوئی علاقہ نہیں رہتا۔ایک صاحب اپنے دیوان کو ’’بیاض فطرت‘‘ کہتے ہیں، حالاں کہ صحیح نام ’’شیاما سے دو دوباتیں‘‘ ہونا چاہیے تھا، کیوں کہ اس میں بسم اللہ سے تمَّت تک شیاما جلوہ گر ہیں۔خیرتو ’’صبحِ وطن‘‘ چکبستؔ کے رجحان کا صحیح پتہ دیتی ہے، کیوں کہ وطن کی محبت چکبستؔ کے کلام کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔کتاب کے پہلے حصّے میں جو نظمیں ہیں وہ تمام تر وطن اورحُبِ وطن سے متعلق ہیں۔ان میں سے بعض نظمیں سیدھی، صاف اور سہل زبان میں لکھی گئی ہیں ۔وہ نہایت پُراثر اور کافی مشہور ہوچکی ہیں ’’ہمارا وطن دل سے پیارا وطن ‘‘اور ’’وطن کو ہم، وطن ہم کو مبارک‘‘ سے شاید ہی کوئی شخص نا آشنا ہو۔ایک دوسری نظم ’’خاکِ ہند‘‘ میں ہندوستان کی قدیم عظمت اور اس کے مشاہیر کا ذکر کس محبت سے کرتے ہیں ؎
دیوارو در سے اب تک ان کا اثر عیاں ہے
اپنی رگوں میں اب تک ان کا لہو رواں ہے
اب تک اثر میں ڈوبی ناقوس کی فُغاں ہے
فردوس گوش اب تک کیفیتِ اذاں ہے
کشمیر سے عیاں ہے جنّت کا رنگ اب تک
شوکت سے بہہ رہا ہے دریائے گنگ اب تک
قوم کی آزادی سے متعلق چکبستؔ کا نظریہ ہمارے لبرل سیاست دانوں کے تصّور سے ملتا جلتا ہے۔ ’’آوازۂ قوم‘‘ میں فرماتے ہیں ؎
یہ آرزو ہے کہ مہرووفا سے کام رہے
وطن کے باغ میں اپنا ہی انتظام رہے
گلوں کی فکر میں گلچیں نہ صبح وشام رہے
نہ کوئی مرُغِ خوش اِلحاں اسیرِ دام رہے
سریرِ شاہ کا اقبال ہو بہار چمن
رہے چمن کا مُحافظ یہ تاجدارِ چمن
ہندوستانی سپاہیوں کی فوج، دولتِ برطانیہ کی جانب سے، یورپ کی جنگ میں شرکت کے لیے جاتی ہے۔چکبستؔ انھیں یوں بڑھاوا دیتے ہیں۔خدا انیسؔ اور دبیرؔ کی تُربت کو عنبریں کرے! ان کے بعد بھی ان کے رنگ کے نام لیوا باقی رہے ؎
ساحلِ ہند سے جرّارِ وطن جاتے ہیں
کچھ نئی شان سے جانبازِ کُہن جاتے ہیں
رَن میں باندھے ہوئے شمشیروکفن جاتے ہیں
تیغ زن، برق فگِن، قلعہ شِکن جاتے ہیں
سامنے ان کے ظفر برہنہ پا چلتی ہے
ان کی تلوار کے سائے میں قضا چلتی ہے
’’صبح وطن‘‘ کے دوسرے حصّہ میں زیادہ تراصلاحی ومذہبی نظمیں ہیں۔اس میں بھی زیادہ تر مسدّس میں لکھی گئی ہیں اور چکبستؔ نے اس صنفِ سخن کو کامیابی سے نباہا ہے۔
ایک جگہ نوجوان سے خطاب ہوتا ہے ؎
چمنِ عمر ہمیشہ نہ رہے گا شاداب
خُم میں باقی نہ رہے گی یہ جوانی کی شراب
نشّۂ علم میں ہر وقت رہو تم غرقاب
شانِ تعلیم یہی ہے، یہی تہذیب شباب
لے اُڑے دل کو، طبیعت کی روانی وہ ہے
بے پیے نشہ رہے جس میں، جوانی وہ ہے
’’گائے‘‘ پر ایک اچھی نظم لکھی ہے۔اپنی عقیدت کی وجہ بیان کرتے ہیں۔’’دودھ سے تیرے لڑکپن میں زباں دھوئی ہے‘‘ ایک بند ملاحظہ ہو ؎
صاحبِ دل تجھے تصویر وفا کہتے ہیں
چشمۂ فیضِ خدا، مردِ خدا کہتے ہیں
درد مندوں کی مسیحا، شعرا کہتے ہیں
ماں تجھے کہتے ہیں ہندو تو بجا کہتے ہیں
کون ہے جس نے ترے دودھ سے منھ پھیرا ہے
آج اس قوم کی رگ رگ میں لہوٗ تیرا ہے
سب سے دل چسپ نظم ’’لڑکیوں سے خطاب‘‘ لکھی ہے۔چکسبتؔ عورتوں کی آزادی کے بارے میں ’’حدِّادب‘‘ کے قائل تھے۔بچپن میں جو کہانیاں سنتے تھے، ان سب میں ایک چیز مُشترک ہوتی تھی۔ہیرو کو اُس کی بہن یا ماں تین طرف جانے کی اجازت دیتی تھی اور چوتھی طرف کے لیے منع کرتی تھی۔نتیجہ ہمیشہ یکساں نکلتا تھا۔ہرشخص چوتھی سمت کو دوڑتا تھا۔کہیں ہماری لڑکیوں اور عورتوں کا بھی یہی حشرنہ ہو۔بہرحال نظم کے چند شعرملاحظہ فرمائیے ؎
روِشِ خام پہ مردوں کی نہ جانا ہرگز
داغ، تعلیم میں اپنی نہ لگانا ہرگز
رنگ ہے جن میں مگر بوئے وفا کچھ بھی نہیں
ایسے پھولوں سے نہ گھر اپنا سجانا ہرگز
رُخ سے پردے کو ہٹایا تو بہت خوب کیا
پردۂ شرم کو دل سے نہ اُٹھانا ہرگز
دل تمھارا ہے وفاؤں کی پرستش کے لیے
اس محبت کے شِوالے کو نہ ڈھانا ہرگز
اپنے بچّوں کی خبر قوم کے مردوں کو نہیں
یہ ہیں معصوم انھیں بھول نہ جانا ہرگز
ہم تمھیں بھول گئے اس کی سزا پاتے ہیں
تم ذرا اپنے تئیں بھول نہ جانا ہرگز
کسی زبان کی شاعری صرف غِنائیات (گیتوں اور غزلوں) سے مالا مال نہیں ہوتی۔اس میں قدیم مذہبی اور نیم مذہبی داستانوں کی بھی ضرورت ہے۔بڑے افسوس کی بات ہے کہ ’’رامائن‘‘ اور ’’مہابھارت‘‘ کی داستانیں ابھی اردو میں صرف تبرک کے طور پر ملتی ہیں۔ چکبستؔ نے رامائن کا ایک سین کھینچا ہے۔ جس کو پڑھ کر ان کی اس صِنف میں قادرالکلامی معلوم ہوتی ہے۔وہ اس کام کے لیے نہایت موزوں تھے۔ماں کے دل کا اِضطراب اور رام چندر جی کے بن باس پر پریشانی کا حال یوں بیان ہوتا ہے ؎
ایسے بھی نامُراد بہت آئیں گے نظر
گھر جن کے بے چراغ رہے آہ عمر بھر
رہتا مرا بھی نخلِ تمنّا جو بے ثمر
یہ جائے صبر تھی کہ دعا میں نہیں اثر
لیکن یہاں تو بن کے مقدر بگڑ گیا
پھل پھول لا کے باغِ تمنّا اُجڑ گیا
رام چندرجی کا جواب بھی ان کی بلند سیرت اور توکل کے شایانِ شان ہے۔
اپنی نگاہ ہے کرمِ کار ساز پر
صحرا چمن بنے گا وہ ہے مہرباں اگر
جنگل ہو یا پہاڑ سفر ہو کہ ہو حضر
رہتا نہیں وہ حال سے بندے کے بے خبر
اُس کا کرم شریک اگر ہے تو غم نہیں
دامانِ دشت دامنِ مادر سے کم نہیں
تیسرے حصّے میں بیشتر مراثی ہیں۔یہ مرثیے صرف غم کی داستانیں نہیں ہیں ان میں چکبستؔ نے سیرت نگاری کے فرائض بڑی خوبی سے انجام دیے ہیں۔گوکھلےؔ اور تلکؔ کے گرد صرف آنسوؤں کا سیلاب ہی نہیں ، یہ زندہ اور تابندہ بھی نظرآتے ہیں۔اس طرح یہ نظمیں صرف وقتی نہیں رہتیں بلکہ لازوال ہوجاتی ہیں۔ایک رہنما ئے قوم کے ماتم میں لکھتے ہیں ؎
وطن کو تونے سنوارا کس آب وتاب کے ساتھ
سحر کا نور بڑھے جیسے آفتاب کے ساتھ
چُنے رِفاہ کے گل حُسنِ انتخاب کے ساتھ
شباب قوم کا چمکا ترے شباب کے ساتھ
جو آج نشو ونما کا نیا زمانہ ہے
یہ انقلاب تری عمر کا فسانہ ہے
چکبستؔ کی غزلوں میں بھی ان کا پیامی رنگ جھلکتا ہے۔بعض تنگ نظر ممکن ہے انھیں غزل کے حدود سے خارج کردیں، کیوں کہ انھیں مشکل سے کوئی شعر مُعاملہ بندی اور زلفِ گرہ گیر کی مدح میں ملے گا۔ہاں ’’بادہ وساغر‘‘ اور دشنہ وخنجر‘‘ قسم کے بہت سے شعر نظرآئیں گے ؎
فنا نہیں ہے محبت کے رنگ و بوٗ کے لیے
بہارِ عالم فانی رہے، رہے نہ رہے
جنونِ حُبِّ وطن کا مزا شباب میں ہے
لہوٗ میں پھر یہ روانی رہے، رہے نہ رہے
جو مانگنا ہو ابھی مانگ لو وطن کے لیے
یہ آرزو کی جوانی رہے، رہے نہ رہے
مٹنے والوں کی وفا کا یہ سبق یاد رہے
بیڑیاں پاؤں میں ہوں اور دل آزاد رہے
ایک ساغر بھی عنایت نہ ہوا یاد رہے
ساقیا جاتے ہیں محفل تری آباد رہے
زباں کو بند کریں یا مجھے اسیر کریں
مِرے خیال کو بیڑی پنھا نہیں سکتے
یہ کیسی بزم ہے اور کیسے اس کے ساقی ہیں
شراب ہاتھ میں ہے اور پلا نہیں سکتے
نفاق، گَبر و مسلماں کا یوں مِٹا آخر
یہ بُت کو بھول گئے وہ خدا کو بھول گئے
فنا کا ہوش آنا زندگی کا دردِ سر جانا
اجل کیا ہے خُمارِ بادۂ ہستی اُتر جانا
وہی قطرہ لہوٗ کا اشک بن کر کرگیا رُسوا
جسے ہم نے نمک پروردۂ زخمِ جگر جانا
نہ کوئی دوست دشمن ہو شریکِ درد وغم میرا
سلامت میری گردن پر رہے بارِ الم میرا
لکھا یہ داورِ محشر نے میری فردِ عصیاں پر
یہ وہ بندہ ہے جس پر ناز کرتا ہے کرم میرا
اس شعر کی داد ینے کے لیے اقبالؔ کا اسی مضمون کا شعر سُنیے ؎
موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چُن لیے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفِعال کے
اور اصغرؔ بھی اس میدان میں پیچھے نہیں ؎
سنا ہے حشر میں شانِ کرم بے تاب نکلے گی
لگا رکھا ہے سینے سے متاعِ ذوقِ عِصیاں کو
جس کی قفس میں آنکھ کھلی ہو میری طرح
اس کے لیے چمن کی خزاں کیا بہار کیا
ہوگیا ہوں ساری دنیا کے گناہوں میں شریک
جب سے میں نے یہ سُنا ہے اس کی رحمت عام ہے
ہمارے اساتذہ میں کلام کی خوبی کا معیار مشق کی کثرت اور سلسلے کی عظمت تھا۔چنانچہ ایک صاحب کا یہ شعر آپ نے سُنا ہوگا ؎
شاعری کھیل نہیں ہے جسے لڑکا کھیلے
ہم نے پچپن برس اس فن میں ہیں پاپڑ بیلے
غریب چکبستؔ اس معیار کے مطابق شاید طفلِ شیٖرخوارہی ٹھہرا، وہ جوانی ہی میں اس دنیا سے رُخصت ہوا اور اس نے زیادہ تر اپنی طبع رسا کو رہبربنایا۔وہ بہ قولِ خود تخلّص کا بھی دنیا میں گنہگار نہ تھا، ہاں اس میں شاعری کا فطری ذوق تھا، ایک حساس طبیعت تھی اور اُس کے اندازِ بیان میں ایک رعنائی اور رنگینی تھی۔ہمارا جدید اردو ادب اسی رنگینی سے باغ وبہار بنا ہوا ہے۔
آل احمدسرورؔ
مشق
لفظ و معنی :
طبائع : (طبع کی جمع) طبیعتیں
ترمیم : کاٹ چھانٹ، ردّو بدل
بہبود : بہتری، بھلائی
بسم اللہ سے تمّت تک : شروع سے اخیرتک
مشاہیر : (مشہور کی جمع) مشہور لوگ
فغاں : آہ و زاری
فردوس گوش : کانوں کو خوش گوار یا اچھی لگنے والی آواز
عیاں : ظاہر،نمایاں
لبرل (Liberal) : آزاد خیال ،روادار
اسیردام : جال میں پھنسا ہوا
سریر : تخت
اقبال : بلندی
تربت کو عنبریں کرنا : قبر کو عنبر کی خوشبو سے بھر دینا
جر ّار : بہادر
تیغ زن : تلوار چلانے والا
برق فگن : بجلیاں گرانے والا
قلعہ شکن : مراد قلعہ فتح کرنے والا
ظفر : فتح
خُم : شراب کا مٹکا
روشِ خام : غلط راستہ
قادر الکلامی : قدرتِ کلام
توکّل : بھروسہ(خدا پر)، قناعت
کارساز : کاموں کو بنانے والا مراد خدا
حضر : سفر کی ضد، قیام
رفاہ : بھلائی
معاملہ بندی : شعر میں ایسی باتوں اور معاملات کا بیان جو عاشق اور اس کے محبوب کے درمیان ہوتے ہیں
زلف گرہ گیر : بل کھائی ہوئی یا الجھی ہوئی زلف
دشنہ : خنجر، کٹاری
گبر : آتش پرست ، مراد کافر
فردِعصیاں : گناہوں کی فہرست
عرقِ انفعال : شرمندگی کے باعث آنے والا پسینہ
متاع : پونجی
طفلِ شیٖر خوار : دودھ پیتا بچہ
طبعِ رسا : تیز ذہن
غور کرنے کی بات:
- اس مضمون کے مطالعے سے چکبست ایک محب وطن شاعر کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں اس کے علاوہ ان کی شاعری میں اصلاحی پہلو بھی ہیں اور کہیں کہیں فلسفیانہ مضامین بھی شامل ہیں۔
سوالوں کے جواب لکھیے:
1۔ چکبستؔ نے جس ماحول میں آنکھ کھولی تھی وہ ماحول کیا تھا؟
2۔ چکبستؔ کے کلام کی سب سے بڑی خصوصیت کیاہے؟
3۔ اس مضمون میں شامل اشعار میں چکبستؔ ، اقبالؔ اور اصغرؔ تینوں نے کس خیال کو پیش کیا ہے؟ تحریر کیجیے۔
4۔ مسدّس کسے کہتے ہیں؟
عملی کام :
- مندرجہ ذیل کے واحد لکھیے۔
دواوین، طبائع ، مشاہیر ، مراثی
