
10

ابن انشا
(1927-1979)
اصل نام شیرمحمدخاں اورقلمی نام ابن انشا تھا۔جالندھرمیں پیدا ہوئے۔ 1947میں اپنے خاندان کے ساتھ لاہور (پاکستان) آگئے۔ 1952میں کراچی یونیورسٹی سے ایم۔اے کیا۔مختلف سرکاری عہدوں پر فائزرہے۔ابتدا میں روزنامہ امروز، لاہور میں فکاہیہ کالم تحریر کیے۔ بعد میں روزنامہ جنگ کراچی اور اخبار جبل میں بھی کالم لکھے۔شاعراورمزاح نگار کی حیثیت سے شہرت ملی۔ابن انشا اردواور فارسی کے الفاظ کے ساتھ محاورہ، روزمرہ اور انگریزی الفاظ کا استعمال اس برجستگی سے کرتے ہیں کہ طنزو مزاح کے ساتھ تحریر میں ادبی شان پیدا ہوجاتی ہے۔
’’آوارہ گرد کی ڈائری ‘‘،’’دنیا گول ہے‘‘ ،’’چلنا ہو تو چین کو چلیے‘‘ ،’’ابن بطوطہ کے تعاقب میں‘‘ دلچسپ سفرنامے ہیں۔’’قصہ ایک کنوارے کا‘‘، ’’اردو کی آخری کتاب‘‘ اور’’ خمارگندم ‘‘ وغیرہ ان کے مزاحیہ مضامین کے مجموعے ہیں۔
1955میں ان کا شعری مجموعہ ’’چاندنگر‘‘ منظرعام پر آیا۔ابن انشا نے بچوں کے لیے نظمیں بھی لکھیں ’’بلوکابستہ‘‘ کے عنوان سے ان نظموں کا مجموعہ شائع ہوچکا ہے۔
مضمون ’’اشتہارات ضرورت نہیں ہے کے‘‘ ’’ابن انشا کی کتاب ’’خمارِگندم‘‘ سے ماخوذ ہے۔
اشتہارات’ ضرورت نہیں ہے ‘کے
ایک بزرگ اپنے نوکر کو فہمائش کر رہے تھے کہ تم بالکل گھامڑ ہو ۔دیکھو میر صاحب کا نوکر ہے اتنا دور اندیش کہ میر صاحب نے بازار سے بجلی کا بلب منگایا تو اس کے ساتھ ہی ایک بوتل مٹی کے تیل کی اور دو موم بتیاں بھی لے آیا کہ بلب فیوز ہوجائے تو لالٹین سے کام چل سکتا ہے ۔اس کی چمنی ٹوٹ جائے یا بتی ختم ہوجائے تو موم بتی روشن کی جاسکتی ہے ۔تم کو ٹیکسی لینے بھیجا تھا تم آدھے گھنٹے بعد ہاتھ لٹکاتے آگئے ۔کہا کہ جی ٹیکسی تو ملتی نہیں ۔موٹر رکشا کہیے تو لیتا آؤں ۔میر صاحب کا نوکر ہوتا تو موٹر رکشا لے کے آیا ہوتا تاکہ دوبارہ جانے کی ضرورت نہ پڑتی ۔
نوکر بہت شرمندہ ہوا اور آقا کی بات پلے باندھ لی ۔چند دن بعد اتفاق سے آقا پر بخار کا حملہ ہوا تو انھوں نے اسے حکیم صاحب کو لانے کے لیے بھیجا ۔تھوڑی دیر میں حکیم صاحب تشریف لائے ۔تو ان کے پیچھے پیچھے تین آدمی اور تھے جو سلام کرکے ایک طرف کھڑے ہوگئے ۔ایک کی بغل میں کپڑے کا تھان تھا،دوسرے کے ہاتھ میں لوٹا ، اور تیسرے کے کاندھے پر پھاؤ ڑا ۔ آقا نے نوکر سے کہا ۔یہ کون لوگ ہیں میاں۔ نوکر نے تعارف کرایا کہ جناب ویسے توحکیم صاحب بہت حاذق ہیں۔لیکن اللہ کے کاموں میں کون دخل دے سکتا ہے ۔خدا نخواستہ کوئی ایسی ویسی بات ہوجائے تو میں درزی کو لے آیا ہوں اور وہ کفن کا کپڑا ساتھ لایا ہے ۔یہ دوسرے صاحب غسال ہیں اور تیسرے گورکن ۔ایک ساتھ اس لیے لایا کہ بار بار بھاگنا نہ پڑے۔
ایسے ہی ایک بزرگ ہمارے حلقے میں بھی ہیں۔ گلی سے ریڑھی والا ہانک لگاتا گزر رہا تھا کہ انگور ہیں چمن کے ،پپیتے ہیں پیڑ کے پکے ہوئے ۔انھوں نے لڑکا بھیج کر انھیں بلایا اور کہا ’’میاں جی معاف کیجیے ہمیں ضرورت نہیں۔ پھل والا چلا گیا تو ہم نے عرض کیا کہ’’ اس زحمت کی کیا ضرورت تھی، وہ تو جا ہی رہا تھا اسے روکنا کیا ضروری تھا۔‘‘ بولے ’’احتیاط کا تقاضا تھا کہ اس پر بات واضح کردی جائے اور معذرت بھی کی جائے کیوں کہ بیچارہ اتنی دور سے اتنی امید لے کر پھل بیچنے آتا ہے۔دوسرے یہ کہ اسے یہ گمان نہ گزرے کہ اس گھر میں شاید بہرے رہتے ہیں جو اس کی آواز نہیں سن پاتے۔ ‘‘یہی ہمارے دوست ایک روز کار میں ہمارے ساتھ گولی مار سے گزر رہے تھے ایک جگہ لکھا ہے تشریف لائیے ۔ ربڑی ،قلفی اور لسّی تیار ہے ۔انھو ں نے فوراً کار ٹھہرائی اور دوکاندار سے کہا کہ’’ پہلی بات تو یہ کہ ہمارے پاس فرصت نہیں۔ ہم ضروری کام سے جارہے ہیں ۔دوسرے قلفی اور ربڑی ہم نہیں کھاتے اور لسّی کا بھلا یہ کون سا موسم ہے ؟بہر حال تمھاری پیش کش کا شکریہ۔‘‘ وہ تو بیٹھا سنا کیا اور نہ جانے کیا سمجھا کیا ۔کار میں واپس بیٹھے ہوئے ہمارے دوست نے وضاحت کی کہ یہاں کے لوگ ان آداب کو کیا جانیں۔ یہاں تو دعوت نامہ آتا ہے اور اس کے نیچے RSVP لکھا ہوتا ہے کہ جواب سے مطلع فرمائیے۔ جن کو شریک نہیں ہونا ہوتا وہ بھی چپ بیٹھ رہتے ہیں ۔میزبان کو مطلع کرنا ضروری نہیں سمجھتے کہ بندہ حاضر ہونے سے معذور ہے، اس بیچارے کا کھانا ضائع ہوجاتا ہے۔

ہم نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ ہم خود انھیں آداب سے بے بہرہ لوگوں میں سے ہیں۔ لوگ اخبارات میں طرح طرح کے اشتہارات چھپواتے ہیں کہ ہم پڑھ کر ان کی طرف متوجہ ہوں لیکن ہم پڑھ کر ایک طرف ڈال دیتے ہیں کوئی ہمارے لیے ٹھیکے کا بندوبست کرتا ہے اور ٹینڈر نوٹس شائع کرتا ہے۔ کسی کو ہمارے ہاتھ پلاٹ یا مکان بیچنا ہوتا ہے ۔کوئی ہمیں یہ اطلاع دیتا ہے کہ اس نے اپنے نالائق فرزند کو جائداد سے عاق کردیا ہے ۔کہیں کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ ہم ان کی فرزندی قبول کرلیں اور ذات پات تعلیم اور تنخواہ کی شرطیں من وعن وہی رکھی جاتی ہیں جو ہم میں ہیں۔ کوئی ہمیں گھر بیٹھے لاکھوں روپے کمانے کا لالچ دیتا ہے۔ کوئی شارٹ ہینڈ سکھانے کی کوشش کرتا ہے۔بہت سے کالج مشتاق ہیں کہ ہم ان کے یہاں داخلہ لیں اور بعضے اپنی کاریں اور ریفریجریٹر معقول قیمت پر ہماری نذر کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان سب ضرورت مندوں سے آدمی کیسے عہدہ برآ ہو۔بہت سوچنے کے بعد یہ ترکیب ہماری سمجھ میں آئی ہے کہ جہاں ہم کو ضرورت ہے کا اشتہار چھپتا ہے وہاں ہم’’ ضرورت نہیں ہے‘‘، کا اشتہار چھپوادیں ۔ہماری دانست میں ان اشتہارات کی صورت کچھ اس قسم کی ہونی چاہیے ۔
کرائے کے لیے خالی نہیں ہے
400گز پر تین بیڈروم کا ایک ہوا دار بنگلہ نما مکان، جس میں نلکا ہے اور عین دروازے کے آگے کارپوریشن کا کوڑاڈالنے کا ڈرم بھی۔ کرایے پر دینا مقصود نہیں ہے۔نہ اس کا کرایہ تین سو روپے ماہوار ہے اور نہ چھ ماہ پیشگی کرایہ کی شرط ہے۔ جن صاحبوں کو کرایے کے مکان کی ضرورت ہو وہ فون نمبر34567پر رجوع نہ کریں کیوں کہ اس کا کچھ فائدہ نہیں۔
اطلاع عام
راقم محمددین ولد فتح دین کریانہ مرچنٹ یہ اطلاع دینا ضروری سمجھتا ہے کہ اس کا فرزندرحمت اللہ نہ نا فرمان ہے نہ اوباشوں کی صحبت میں رہتا ہے لہٰذا اسے جائداد سے عاق کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔آیندہ جو صاحب اسے کوئی ادھار وغیرہ دیں گے وہ میری ذمہ داری پر دیں گے۔
ضرورت نہیں ہے
کار، مارس مائنر،ماڈل 1959 ء، بہترین کنڈیشن میں، ایک بے آواز ریڈیو نہایت خوبصورت کیبنٹ، ایک ویسپا موٹر سائیکل اور دیگر گھریلو سامان پنکھے، پلنگ وغیرہ قسطوں پر یا بغیر قسطوں کے ہمیں درکار نہیں۔ہمارے ہاں خدا کے فضل سے یہ سب چیزیں پہلے سے موجود ہیں۔اوقاتِ ملاقات 3تا 8بجے شام۔
عدم ضرورت رشتہ
ایک نوجوان برسرروزگار آمدنی تقریباً پندرہ سو روپے ماہوار کے لیے کسی باسلیقہ، خوبصورت شریف خاندان کی تعلیم یافتہ دوشیزہ کے رشتے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ لڑکا پہلے سے شادی شدہ ہے۔خط وکتابت صیغۂ راز میں نہیں رہے گی۔اس کے علاوہ بھی بے شمار لڑکے اور لڑکیوں کے لیے رشتے مطلوب نہیں ہیں۔پوسٹ بکس–کراچی۔
داخلے جاری نہ رکھیے
کراچی کے اکثر کالج آج کل انٹراور ڈگری کلاسوں میں داخلے کے لیے اخباروں میں دھڑا دھڑاشتہار دے رہے ہیں۔یہ سب اپنا وقت اور پیسہ ضائع کررہے ہیں۔ہمیں ان کے ہاں داخل ہونا مقصود نہیں۔ہم نے کئی سال پہلے ایم اے پاس کرلیا تھا۔
-----ابن انشا
مشق
لفظ و معنی :
فہمائش : سمجھانا، ڈانٹنا، تنبیہ کرنا
دورر اندیش : بہت سمجھدار، مستقبل پرنگاہ رکھنے والا
آفاق : (افق کی جمع) آسمان کے کنارے
حاذق : اپنے فن میں ماہر طبیب
غسال : میّت کو غسل دینے والا
گورکن : قبر کھودنے والا
بے بہرہ : نا اہل، نالائق
عاق کرنا : حقِ وراثت سے محروم کرنا
مِن وعن : حرف بہ حرف، جوں کا توں
عہدہ برآہونا : فرض ادا کرنا، کسی کام کو پورا کرنا
برسرِروزگار : ملازمت میں،کام سے لگا ہوا،ایسا شخص جو بے روزگار نہ ہو
صیغۂ راز : راز کی بات، وہ بات جو چھپاکررکھی جائے
مطلوب : جو طلب کیا گیا ہو ، جس کی خواہش کی گئی ہو،جو مانگا گیا ہو
مقصود : مراد، غرض، مدعا
غور کرنے کی بات:
- یہ مضمون مزاح نگاری کا ایک نمونہ ہے۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ معمولی، عام اورروزمرّہ کی باتوں کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ بے ساختہ ہنسی آجاتی ہے۔یہ ہنسی قہقہے کی شکل میں نہیں بلکہ شگفتگی اور مسکراہٹ تک محدود رہتی ہے۔
- ابن انشا کا یہ مضمون بظاہر صرف ہنسانے والا ہے لیکن اس میں طنز کی مدھم آنچ بھی موجود ہے جو سماج میں پھیلی ریا کاری کو ظاہر کرتی ہے۔
سوالوں کے جواب لکھیے:
1۔ نوکر آقا کے علاج کے لیے حکیم صاحب کے ساتھ اور کن لوگوں کو لایا؟
2۔ اخبارات میں اشتہارات کیوں چھپوائے جاتے ہیں؟
3۔ اطلاعِ عام کے اشتہار میں کیا کہا گیا ہے؟
4۔ مضمون نگار کالج میں داخلہ کیوں نہیں لینا چاہتا؟
عملی کام:
- اخبارات میں شائع ہونے والے دلچسپ اشتہارات تلاش کرکے جمع کیجیے۔
- اردو کے پانچ مشہور طنزومزاح نگاروں کے نام لکھیے۔
- نیچے دی گئی تصویر کو دیکھیے۔ اس میں دیے گئے اشتہار سے متعلق کلاس میں گفتگو کیجیے۔

