Skip to content
Nawa e urdu  Chapter-11

11


5012_CH11_i01

ڈاکٹر محمد اسلم پرویز


(1954)

ڈاکٹر محمد اسلم پرویزکاشمارملک کی اہم تعلیمی اورسائنسی شخصیتوں میں ہوتاہے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم دہلی کی معروف درس گاہ اینگلوعربک اسکول اوراعلیٰ تعلیم دہلی یونیورسٹی اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی۔نباتات میں ایم ایس سی،پلانٹ فزیولوجی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی اسنادحاصل کرنے کے بعدڈاکٹرذاکرحسین دہلی میں بحیثیت سائنس لیکچرارملازمت کاآغازکیا۔ 2005   سے 2015   تک اس کالج کے پرنسپل بھی رہے۔ اکتوبر 2015  سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے پر فائز ہیں۔
ڈاکٹراسلم پرویزنے تعلیم اورسائنس کے شعبوں میں کئی کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔پاپولرسائنس کے فروغ نیز ماحولیات کے تخفظ کے ساتھ اردوزبان میں سائنسی علوم کی ترویج واشاعت میں انھوں نے اہم کرداراداکیاہے۔وہ اسلامک فاؤنڈیشن فارسائنس اینڈانوائرنمنٹ کے ڈائرکٹربھی رہے ہیں۔1994سے ماہنامہ’’سائنس‘‘اردوزبان میں پابندی سے شائع ہورہاہے۔مختلف سائنسی اورماحولیاتی موضوعات پران کی کئی کتابیں اورتقریباًچارسوتحقیقی مضامین ملک اوربیرونِ ملک کے اہم جرائدمیں شائع ہوچکے ہیں۔

ماحول بچائیے

ایک عام آدمی کی نظر میں ماحولیاتی مسئلہ بھی ایک ’’سائنسی مسئلہ‘‘ ہے جس پر سائنس داں بحث کرتے رہتے ہیں۔ اس کے خیال میں یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس میں وہ دلچسپی لے یا جس پر غور و فکر کیا جائے۔ لیکن ذرا بتائیے کہ کیا ہم کو اس بات کی فکر نہیں ہے کہ آج کل کینسر کا مرض اتنی شدّت کیوں اختیار کر گیا ہے، دل کے امراض کیوں عام ہورہے ہیں، لوگوں کو سانس کی تکلیف کیوں ہو رہی ہے ، موسموں کا چلن کیوں بگڑ گیا ہے، برسات کی وہ رُتیں اور جھڑیاں کیوں ختم ہوگئی ہیں، دریاؤں کا پانی گدلا اور کنوؤں کا پانی زہریلاکیوں ہوگیا ہے، تازہ ہوا کے وہ جھونکے کہاں چلے گئے کہ جو روح کو شاد کر جایا کرتے تھے، موتی کی طرح شفاف پانی کے وہ قدرتی چشمے کہاں کھوگئے جن کی تہہ کا حال اوپر سے ہی نظر آتا تھا— یقینا یہ ایسے مسائل ہیں کہ جن کا تعلق ہم سے اور ہماری فنا و بقا سے ہے۔ اور اب اگر یہ کہا جائے کہ ان تمام مسئلوں کا سیدھا واسطہ ہمارے بگڑتے ہوئے ماحول سے ہے تو کیا اب بھی آپ ماحولیاتی مسئلے کو محض سائنسی مسئلہ کہیں گے؟
قدرت نے دنیا کی ہر چیز کو ضرورت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے۔ یہاں ہر ایک چیز دوسری چیز کو کسی نہ کسی طرح متاثر کرتی ہے۔ اس آپسی تعلق کو سمجھنے اور سمجھانے کا نام ’’ ماحولیاتی سائنس‘‘ ہے۔ زمانہ قدیم میں انسان اِس تعلق سے نہ صرف بخوبی واقف تھا بلکہ اس کی زندگی ان قدرتی وسائل کے گرد گھومتی تھی۔ وہ پانی کے ذخیروں کے پاس بستیاں قائم کرتا تھا تاکہ قدرتی پانی اسے حاصل ہوتا رہے۔ جنگلات سے وہ لکڑی، چارہ اور غذا حاصل کرتا تھا ۔ زمین وسیع تھی اور آبادیاں کم تھیں۔ رفتہ رفتہ انسانی آبادی بڑھنے لگی تو ان وسائل کی مانگ بڑھی، ان پر دباؤ بڑھا اور ان کے لیے آپس میں لڑائیاں شروع ہوئیں۔ کسی ملک کے زرخیز اور سر سبز و شاداب علاقوں نے وہاں حملہ آوروں کو بلالیا تو کسی ملک کے جانور اور چراگاہیں دشمن کی نظروں میں آگئیں، طاقتورقوتیں اور ممالک کمزوروں کے وسائل پر قابض ہوکر انھیں بے دریغ استعمال کرنے لگے۔ قدرتی وسائل پر دوسرا حملہ صنعتی انقلاب کے دوران ہوا۔ صنعتی انقلاب نے انسان کو مشینوں سے روشناس کرایا۔ مشینوں کی مدد سے اگر چہ پیدا وار میں زبردست اضافہ ہوا اور ایسا ضروری بھی تھا کیوں کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات بڑھتی جا رہی تھیں۔لیکن اس اضافہ نے خام مال کی مانگ اور بھی بڑھادی۔ جہاں کا غذ بنانے کے کارخانے لگے تو وہ علاقے جنگلات سے پاک ہوگئے کیونکہ تمام لکڑی کاغذ بنانے کی نذر ہوگئی۔ جہاں کسی دھات سازی کا کام ہوا تو وہاں کان کنی اتنی ہوگئی کہ تمام زمین کھود کھود کر بنجر بنادی گئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ نئی نئی ترقیات ہوتی گئیں اور انسانی زندگی پر مشینوں کی گرفت بڑھتی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو قدرتی توازن اس دنیا کے مکینوں کے درمیان تھا، وہ برباد ہوگیا۔
انسان کے اردگرد اس کے اہم ترین ساتھی زمین، ہوا، پانی، جنگلات اور دیگر جاندار ہیں۔ یہی اس کا ماحول کہلاتے ہیں، ان سبھی کا آپس میں ایک دوسرے سے تعلق ہے۔ یعنی اگر زمین خراب ہوگئی توانسان اس سے متاثر ہوگااور اگر انسان کا رویہ زمین کے تئیں بگڑے گا تو زمین خراب ہوگی۔انسان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور مشینی دور کی آمد نے اس آپسی تعلق کو تہس نہس کردیا۔ کارخانوں اور فیکٹریوں نے نہ صرف یہ کہ خام مال کی شکل میں قدرتی وسائل کو بے تحاشہ استعمال کیا۔بلکہ ان سے نکلنے والے زہریلے مادّوں نے ہوا، پانی اور زمین کو زہریلا کرنا شروع کردیا۔ کارخانوں کی چمنیوں اور موٹر گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں اور گیسوں نے ہوا کو آلودہ کردیا۔ جب فیکٹریاں اور گاڑیاں کم تھیں تو کم گیسیں فضا میں خارج ہوتی تھیں اور یہ تھوڑی سی مقدار بہت جلد ہوا میں گھل مل کر اتنی ہلکی ہوجاتی تھی کہ اس کا زہریلا پن ختم ہوجاتا تھا۔لیکن اب صورت حال مختلف ہے، اب اتنی زیادہ مقدار میں یہ گیسیں ہوا میں خارج ہوتی ہیں کہ ان کا پھیلنا اور تحلیل ہونا نا ممکن ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ یہ تمام زہریلی گیسیں خطرناک حد تک ہوا میں جمع ہورہی ہیں۔ شہری اور صنعتی علاقوں کے اوپر یہ گیسیں ایک غلاف کی مانند چھائی رہتی ہیں۔ ایسی ہوا میں جب ہم لوگ سانس لیتے ہیں تو یہ سب کیمیائی مادّے ہمارے جسم میں داخل ہوجاتے ہیں۔ہمارے کارخانوں اور موٹر گاڑیوں سے خارج ہونے والی گیسوں میں زیادہ مقدار کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، نائٹرس آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی ہوتی ہے۔ ان سبھی گیسوںکی زیادتی ہمارے قدرتی ماحول کے لیے مضر ہے۔ ان میں سے کچھ گیسیں تیزاب کی شکل میں زمین پر آتی ہیں۔ ایسی بارش کو ’’تیزابی بارش‘‘ کہا جاتا ہے اور کئی ممالک کو ان بارشوں کا تجربہ ہوچکا ہے اور ہورہا ہے۔ تیزابی بارش کی سب سے اہم وجہ سلفرڈائی آکسائیڈ گیس ہے۔ فضا میں اس گیس کی زیادتی خطرے کی گھنٹی ہے۔ کیونکہ تیز ابی بارشیں نہ صرف یہ کہ پیڑ پودوں اور جانداروں کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ ان سے عمارتیں اور دیگر سامان بھی متاثر ہوتا ہے۔

5012_CH11_i03

موٹر گاڑیوں سے نکلنے والی کثافت نے نہ صرف ہوا کو ہی متاثر کیا ہے بلکہ کارخانوں کا فضلہ ہواکے علاوہ پانی اور زمین کو بھی خراب کرتا ہے۔ جب کارخانے کم تھے تو ان کا تھوڑا سا فُضلہ پانی میں تحلیل ہوجاتا تھا لیکن جیسے جیسے کارخانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا پانی میں آلودگی بڑھتی گئی۔ آج یہ حال ہے کہ کسی بھی دریا کو ہم پوری طرح صاف اور صحت مند نہیں کہہ سکتے کسی کا پانی سڑ رہا ہے تو کسی کا پانی رنگین ہوگیا ہے، کسی میں گاد بہت ہے تو کسی کے پانی میں تیزابیت اتنی ہے کہ اس میں رہنے والے سبھی جاندار ہلاک ہوچکے ہیں۔

5012_CH11_i04

ہوا اور پانی کی کثافت کو قابو میں رکھنے کے لیے قدرت نے بڑا اچھا انتظام کر رکھا ہے۔ زمین کے سینے میں پھیلے ہوئے جنگلات یہ کام بخوبی انجام دیتے ہیں۔ ہوا کی آلودگی کو درخت اور دیگر پودے جذب کرلیتے ہیں نیز ان ہرے جانداروںسے خارج ہونے والی آکسیجن گیس ہوا کے زہریلے پن کو کم بھی کردیتی ہے۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ جنگلات بھی انسان کی دسترس سے محفوظ نہ رہے ۔کہیں پر رہائش کے لیے جنگلات کو صاف کیا گیا تو کہیں کھیتی باڑی کے لیے جنگلات کاٹے گئے یا پھر کارخانوں اور فیکٹریوں کو قائم کرنے کے لیے جنگلات کو ختم کیا گیا۔ ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ زمین کا یہ ہرا غلاف اترنے لگا جس کی وجہ سے آلودگی میں مزید اضافہ ہوا۔
……… بھلا ہم میں سے کون ہے جسے اپنی صحت عزیز نہ ہو۔ تو پھر یہ بے حسی کیسی ہے ۔ ہم کیوں انتظار کریں کہ جب چیکنگ اورچالان شروع ہوں تبھی اپنی گاڑیوں اور کارخانوں کو درست کریں۔ اگر ہم کو اپنی صحت پیاری ہے اور اپنے ننھے منّے مسکراتے بچّوں کو صحت مند فضا مہیا کرنی ہے تو ہمیں یہ بے حسی اور لا پروائی چھوڑنی ہوگی ۔ ورنہ یقین کریں کہ ہم اپنے معصوم بچوں کو ورثے میں ایک ایسی زہریلی فضا  اور ماحول دیں گے جس میں وہ کبھی مسکرانہ سکیں گے اور شاید اگلی نسل کی مسکراہٹ تو دیکھ بھی نہ سکیں۔ (تلخیص)

----محمد اسلم پرویز

مشق

لفظ ومعنی:

خام : کچّا
دھات سازی : دھات بنانے والا
کان کنی : کان کھودنا
مکین : مکان میں رہنے والا
تحلیل ہونا : گھل جانا، خل ہوجانا
کثافت : میل کچیل ، گندگی
فُضلہ : کچرا، کسی چیز کا بیکار حصہ 

غور کرنے کی بات:

  • اس مضمون میں مصنف نے معاشرے کے ایک اہم مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ آج جانے یا انجانے ہم اپنے ماحول کو بگاڑ رہے ہیں اور اپنے لیے بہت سے خطرات پیدا کر رہے ہیں مگر ہم میں سے اکثر اس سے بے خبر ہیں۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

1۔    ’’صنعتی انقلاب‘‘ سے ہمارے قدرتی وسائل کس طرح متاثرہوئے ہیں؟ بیان کیجیے۔
2۔    ’تیزابی بارش‘ کسے کہتے ہیں؟ اس کے اسباب پر روشنی ڈالیے؟
3۔    ہمیں اپنے ماحول کو بچانے کے لیے کیا کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟
4۔    ماحول بچانا کیا صرف سائنس دانوں ہی کا کام ہے یا ہر شہری کا۔ مختصراً لکھیے

عملی کام:

  • اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ماحول بچاؤ تحریک شروع کریں ۔ لوگوں کو پیڑ پودے لگانے، آلودگی کو کم کرنے، گاڑیوں اور کارخانوں کی زہریلی گیسوں کو دور کرنے کے لیے تاکید کریں ۔ایک پوسٹر بنائیے جس پر مختلف رنگوں سے لکھیے:
’’بچوں کی مسکان بچائیں
آؤ ہم ماحول سجائیں‘‘
5012_CH05_i03