Skip to content
Nawa e urdu  Chapter-12

12

غزل


عام طور پر غزل سے شاعری کی وہ صنف مراد لی جاتی ہے جس میں عورتوں سے یا محبوب سے باتیں کی گئی ہوں،گویا کہ بنیادی طور پر غزل کی شاعری عشقیہ شاعری ہے ۔عاشقانہ مضامین اور غنائیت غزل کی خاص پہچان ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ غزل میں دوسرے مضامین بھی داخل ہوتے گئے۔ آج یہ کہا جاسکتا ہے کہ غزل میں تقریباًہر طرح کے مضامین بیان کیے جاسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غزل آج بھی اُردو کی سب سے زیادہ مقبول صنفِ سخن ہے۔غزل کا ہر شعر اپنے مفہوم کے اعتبار سے مکمل ہوتا ہے۔اسی لیے سب سے زیادہ یاد رہ جانے والے اشعار بھی غزل کے ہی ہوتے ہیں۔
جس طرح غزل میں مضامین کی قید نہیں ہے اسی طرح اشعار کی تعداد بھی مقرر نہیں ہے۔ غزل میں عام طور پر پانچ یا سات شعر ہوتے ہیں لیکن کئی غزلوں میں زیادہ اشعار بھی ملتے ہیں۔ کبھی کبھی ایک ہی بحر اور ردیف و قافیہ میں شاعر ایک سے زیادہ غزلیں کہہ دیتا ہے۔ اس کو ’’دوغزلہ‘‘ ، ’’سہ غزلہ‘‘اور ’’چہارغزلہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
غزل کا پہلا شعرجس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع کہلاتا ہے۔غزل میں ایک سے زیادہ مطلعے بھی ہوسکتے ہیں۔ غزل بغیر مطلع کے بھی ہوسکتی ہے۔غزل کا وہ آخری شعرجس میں شاعر اپناتخلص استعمال کرتا ہے اس شعر کو مقطع کہتے ہیں۔ کبھی کبھی مطلع میں یا غزل کے درمیان بھی کسی شعر میں شاعر اپنا تخلص استعمال کر لیتا ہے لیکن ایسے شعر کو مقطع نہیں کہیں گے مثال کے طور پر میرؔ کا یہ مطلع   ؎

پھر موج ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئی
شاید کہ بہار آئی زنجیر نظر آئی

غزل کا سب سے اچھا شعر بیت الغزل یا شاہ بیت کہلاتا ہے۔ جس غزل میں ردیف نہ ہو اورشعر قافیے پر ہی ختم ہو جاتے ہوں اس غزل کو غیر مردّف غزل کہتے ہیں۔



5012_CH12_i01

مرزا محمد رفیع سوداؔ


(1713-1781)

مرزا محمد رفیع نام، سوداؔ تخلص تھا۔ اُن کے والدبغرضِ تجارت کا بل سے دہلی آئے اور یہیں آباد ہوگئے۔سوداؔ دلّی میں پیدا ہوئے اور قدیم رسم و رواج کے مطابق عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ بچپن ہی سے نہایت ذہین اور موزوں طبع تھے۔ابتدا میں فارسی اشعار کہے اور کچھ دن سلیمان قلی خاں وَ دّادؔ کو اپنا کلام دکھایا۔ اس کے بعد شاہ حاتمؔ کے باقاعدہ شاگرد ہوئے۔
سوداؔ کی شاعری کا شہرہ سُن کر نواب شجاع ا لدّولہ نے ’’ برادرِ من، مشفق من‘‘ لکھ کر انھیں لکھنؤ آنے کی دعوت دی۔ سوداؔ اس وقت تو نہ جاسکے، مگر کچھ عرصے کے بعد حالات نے انھیں دلّی چھوڑ کر لکھنؤ جانے پر مجبور کردیا۔ یہاں نواب شجاع الدّولہ اور ان کے بیٹے نواب آصف الدّولہ کے زمانے میں خاطر خواہ پذیرائی ہوئی اور لکھنؤ میں ہی انتقال کیا۔
سوداؔ نے شاعری کی تمام اصناف میں طبع آزمائی کی ہے مگر قصیدہ گوئی اور ہجو نگاری میں اُن کامرتبہ سب سے بلند ہے۔ اُن کے قصائداپنے پر شکوہ لب و لہجے ،مضامین کی تازگی،خیال کی بلندی ،کلام کی چستی اور بندش کے اعلیٰ نمونے ہیں۔اردو قصیدے کی تاریخ میں کوئی بھی دوسرا شاعر سوداؔ کے مرتبے کو نہیں پہنچتا ۔سوداؔ کے بعد قصیدہ نگاری میں دوسرا بڑا نام ذوقؔ کا ہے۔
سودا مزاجاً قصیدے کے شاعر ہیں ۔لیکن اُن کی غزلیں زبان و بیان کی صفائی اور لہجے کے تیکھے پن کی وجہ سے اپنی خاص پہچان رکھتی ہیں۔

غزل

بہار، بے سِپرِ جام و یار گزرے ہے
نسیم تیر سی چھاتی کے پار گزرے ہے

گزرمرا، ترے کوچے میں گو نہیں نہ سہی
مرے خیال میں تو ٗ لاکھ بار گزرے ہے

کہے ہے آج ترے در پہ اضطراب نسیم
کہ اس جہاں سے کوئی خاکسار گزرے ہے

میں وہ نہیں کہ کوئی مجھ سے مل کے ہو بد نام
نہ جانے ! کیا تری خاطر میں یار گزرے ہے

گزر مرا تیرے کو چے سے یوں ہے اے ظالم
کہ جیسے ریت سے پانی کی دھار گزرے ہے

مجھے تو دیکھ کے جوش و خروش سوداؔ کا
اسی ہی فکر میں لیل و نہار گزرے ہے

(ق)
یہ آدمی ہے کہ سرمارتا پھرے ہے بہ سنگ
کہ موجِ تند سرِ کو ہسار گزرے ہے

---مرزا محمدرفیع سوداؔ

مشق


لفظ ومعنی:

بے سپر : بغیر ڈھال کے مراد بغیر کسی بچاؤ کے 
نسیم : صبح کی خوش گوار ہوا
اضطراب : بے چینی، بے قراری
خاکسار : خاک کی مانند، عاجز، حقیر
جوش و خروش : بہت زیادہ جوش اور تیزی
لیل و نہار : رات اور دن
بہ سنگ : پتھر سے
موجِ تند : تیزلہر، تیز جھونکا
کوہسار : پہاڑی یا پہاڑی سلسلہ

غور کرنے کی بات:

  • جب شاعر غزل کے کسی شعر کے دو مصرعوں میں اپنی بات مکمل کرنے سے قاصر رہتاہے تو وہ اسے چار یا اس سے زیادہ مصرعوں میں پھیلا کر بیان کرتا ہے ایسے اشعار کو قطعہ بند کہتے ہیں ۔ جیسے سوداؔ کی اس غزل کے آخری چار مصرعے قطع بند ہیں۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

1۔    ’’نسیم تیرسی چھاتی کے پار گزرے ہے‘‘ سے شاعر کی کیا مراد ہے ؟
2۔    ’’میں وہ نہیں کہ کوئی مجھ سے مل کے ہو بد نام‘‘ اس سے شاعر کا کیا مطلب ہے؟
3۔     مقطعے کے قطعہ بند اشعار میں شاعر نے ا پنی کس کیفیت کا اظہار کیا ہے؟

عملی کام:

  • غزل کے اشعار میں شاعر نے جہاں جہاں اضافت کا استعمال کیاہے ان کی نشاندہی کیجیے۔
  • غزل کے قافیوں کی فہرست بنائیے۔

Nawa e urdu  Chapter-13



5012_CH12_i03

شیخ محمد ابراہیم ذوق


(1789-1854)

شیخ محمد ابراہیم نام اور ذوقؔ تخلص تھا۔ ذوقؔ نے ابتدائی تعلیم حافظ غلام رسول سے حاصل کی۔ اسی زمانے میں شاعری کا شوق پیدا ہوا اور اپنے وقت کے مستند استاد شاہ نصیر کے شاگردوں میں شامل ہوگئے۔ رفتہ رفتہ مشقِ سخن اور اپنی ذہانت کے باعث وہ بہت کم عمری میں استادی کے مرتبے کو پہنچ گئے۔ بہادر شاہ ظفرؔ کی استادی کا فخر بھی حاصل ہوا اور خاقانیِ ہند اور ملک الشعرا کے خطابات سے سرفراز کیے گئے۔ بادشاہ کی سرپرستی میں ذوقؔ کی زندگی آرام و آسایش سے بسر ہوئی۔
ذوقؔ کو مو سیقی اور علمِ نجوم سے کافی دل چسپی تھی۔ عربی و فارسی اور دیگر مشرقی علوم کے عالم تھے۔ لیکن ان کا اصل کمال ان کی شاعری سے ظاہر ہوا۔شاعری ان کی معاش کا ذریعہ بنی اوریہی فن اُن کی قدر و قیمت کا وسیلہ بھی ثابت ہوا۔
ذوقؔ نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، قصیدہ ان کا اصل میدان ہے۔ اس صنف میں صرف سوداؔ ان سے آگے ہیں۔ انھوں نے اپنے قصیدوں میں شوکتِ الفاظ ، بلند خیالی اور معنی آفرینی کے ساتھ مختلف علوم کی اصطلاحات سے بھی کام لیاہے۔
غزل گوئی میں بھی ذوقؔ کا ایک خاص مقام ہے ۔زبان پر قدرت ،بیان کی سلاست، روزمرہ اور محاورے پر اپنی گرفت کے لحاظ سے وہ ممتاز ہیں۔


 غزل


لائی حیات، آئے، قضا لے چلی، چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے
پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے

کم ہوں گے اس بساط پہ ہم جیسے بد قمار
جو چال ہم چلے سو نہایت بری چلے

ہو عمر خضر بھی تو کہیں گے بوقت مرگ
ہم کیا رہے یہاں، ابھی آئے ابھی چلے

نازاں نہ ہو خرد پہ جو ہونا ہے، ہو وہی
دانش تری، نہ کچھ مری دانشوری چلے

دنیا نے کس کا راہِ فنا میں دیا ہے ساتھ
تم بھی چلے چلو یوں ہی جب تک چلی چلے

جاتے ہوائے شوق میں ہیں اس چمن سے ذوقؔ
اپنی بلا سے بادِ صبا اب کبھی چلے

---شیخ محمدابراہیم ذوقؔ

مشق


لفظ و معنی:

حیات : زندگی
قضا : موت، حکم خدا
بساط : چوسر اور شطرنج کھیلنے کا کپڑا یا تختہ
بد قمار : وہ جواری جو غلط چال یا داؤ چلے
بوقتِ مرگ : موت کے وقت
فغاں : آہ و زاری، واویلا
نازاں : ناز کرنے والا، فخر کرنے والا
خرد : عقل
دانشوری : عقلمندی، دانائی، حکمت
بادِ صبا : صبح کی ٹھنڈی ہوا، پُروائی

غور کرنے کی بات:

  • دوسرے شعر میں ’’دل لگے‘‘ اور ’’دل لگی‘‘نے شعر میں بیان کا حسن پیدا کردیا ہے۔
  • کلام میں جب کسی تاریخی واقعے یا کسی شخصیت کا ذکر ہوتاہے تو اسے صنعتِ تلمیح کہتے ہیں۔یہاں حضرت خضرؑکا ذکر کیا گیا ہے ۔ حضرت خضر ؑ اپنی لمبی عمر کے لیے مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ قیامت تک زندہ رہیں گے اور بھولے بھٹکوں کو راستہ دکھاتے رہیں گے۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

1۔    اس غزل کے مطلع کا مطلب لکھیے۔
2۔    عمر خضرؑ سے شاعر کی کیا مراد ہے۔
3۔    ’’ہم کیا رہے یہاں،ابھی آئے ابھی چلے‘‘ اس مصرعے کے ذریعے شاعرنے انسانی زندگی کے کس پہلو کی نشاندہی کی ہے ؟
4۔    غزل کے مقطع میں چمن سے شاعر کی کیا مراد ہے ؟

عملی کام:

  • اس غزل کے کچھ شعر زبانی یاد کیجیے اور بلند آواز سے پڑھیے۔


Nawa e urdu  Chapter-14

5012_CH12_i05

شادؔ عظیم آبادی


(1846-1927)

علی محمد شادؔ عظیم آباد(پٹنہ) میں پیدا ہوئے۔ گھر پر عربی فارسی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کچھ عرصے تک انگریزی بھی پڑھی۔علوم اسلامی کی تحصیل کے ساتھ ساتھ انھوں نے عیسائیوں، پارسیوں اور ہندوؤں کی مذہبی کتابوں کا مطالعہ بھی کیا۔
نثر و نظم دونوں میں شادؔنے کئی تصانیف اپنی یاد گار چھوڑی ہیں۔ شادؔ کی غزلوں کا دیوان ان کی وفات کے بعد1938 میں ’’نغمۂ الہام‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ بعد میں ان کی خود نوشت اور متعدد مجموعے منظرعام پر آئے۔
شاد نے مثنوی، غزل ، قصیدہ، مرثیہ اور دوسری اصناف سخن میں طبع آزمائی کی لیکن ان کی شہرت کا اصل باعث اُن کی سادہ، مترنم اور شیریں غزلیں ہیں۔ 


غزل


ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسو! وہ خواب ہیں ہم

اے شوق پتا کچھ تو ہی بتا اب تک یہ کرشمہ کچھ نہ کھلا
ہم میں ہے دل بے تاب نہاں، یا آپ دلِ بے تاب ہیں ہم

ہے دل میں تڑپتے جی بھر کر پر ضعف  نے مشکیں کس دی ہیں
ہو بند اور آتش پر ہوچڑھا سیماب بھی وہ سیماب ہیں ہم

میں حیرت و حسرت کا مارا، خاموش کھڑا ہوں ساحل پر
دریاے محبت کہتا ہے، آ، کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم

لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں ، منزل پہ پہنچتے ہیں دو اک
اے اہل زمانہ قدر کرو، نایاب نہیں کم یاب ہیں ہم

مرغانِ قفس کو پھولوں نے اے شادؔ! یہ کہلا بھیجا ہے
آجاؤ، جو تم کو آنا ہو، ایسے میں ابھی شاداب ہیں ہم

---شادؔ عظیم آبادی

مشق


لفظ و معنی:

نایاب : جس کا پانا ممکن نہ ہو، انتہائی قیمتی
تعبیر : معنی، تفسیر
ہم نفسو : مراد بہت سے دوست، آشنا، رفیق
نہاں : چھپا ہوا،پوشیدہ
پایاب : اتنا پانی جسے چل کر پار کیا جاسکے، اتھلا پانی، کم پانی
کم یاب : جو چیز کم پائی جائے
مرغانِ قفس : پنجرے میں قید پرندے
شاداب : ہرا بھرا، سر سبز، ترو تازہ
ضعف : کمزوری
مشکیں کسنا : ہاتھ پیچھے کی طرف باندھ دینا مراد بے بسی، مجبوری
سیماب : پارہ

غور کرنے کی بات:

  • غزل کے تیسرے شعر میں شاعر نے اپنی بے بسی کو اس پارے (سیماب) سے تشبیہ دی ہے جو آگ پر رکھے ہوئے برتن میں بند ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

1۔    ’’نایاب ہیں ہم‘‘ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟ 
2۔    غزل کے پانچویں شعر کی وضاحت کرتے ہوئے نایاب اور کم یاب کا فرق بیان کیجیے۔
3۔    ’’حیرت و حسرت کے مارے‘‘شاعر سے ،دریائے محبت کیا کہتاہے؟

عملی کام:

  • یہ غزل زبانی یاد کیجیے۔
  • غزل کے قافیوں کی نشان دہی کیجیے۔
  • غزل کے ان دو اشعار کی نشان دہی کیجیے جس میں غزل کی ردیف ’ہم‘ شاعر کے بجائے کسی اور کے لیے استعمال کی گئی ہو۔



Nawa e urdu  Chapter-12

5012_CH12_i07

فانیؔ بدایونی


(1941 -1879)

شوکت علی خاں نام، پہلے شوکت اور بعد میں فانیؔ تخلص اختیار کیا۔ اتر پردیش کے ضلع بدایوں میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والدپولس کے محکمے میں انسپکٹرتھے۔فانیؔ نے1897 میں انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔1901 میں بریلی کالج بریلی سے بی۔اے۔پاس کرنے کے بعد ملازمت اختیار کی۔ کچھ عرصے تک مدرس رہے، بعد میں ملازمت تر ک کردی اور 1908میں ایم۔اے۔ او کالج، علی گڑھ (موجودہ مسلم یونیورسٹی) سے ایل ایل۔بی۔ کی ڈگری حاصل کی۔ اِس کے بعد لکھنؤ، آگرہ، اٹاوہ، بریلی اور بدایوں میں وکالت کی، لیکن فانیؔ کو وکالت سے دل چسپی نہ تھی۔ اِس لیے ا ِس پیشے میں انھیں کامیابی نصیب نہ ہوئی۔1932 میں مہاراجہ کِشن پرشاد کی دعوت پر حیدر آباد پہنچے۔ مہاراجہ کے دربار سے وابستہ رہنے کے ساتھ ساتھ وہ حیدر آباد کے ایک سرکاری اسکول میں ہیڈ ماسٹر ہوگئے۔ فانیؔ کے آخری ایام تنگ دستی اور پریشانی میں گزرے۔ ان کا انتقال حیدرآباد میں ہوا۔ فانی ؔکا یہ مقطع اُن کی زندگی پر صادق آتا ہے:

فانی ہم تو جیتے جی وہ میت ہیں بے گورو کفن 
غربت جس کو راس نہ آئی اور وطن بھی چھوٹ گیا

فانیؔ نے پہلی غزل1890 میں یعنی گیارہ سال کی عمر میں کہی۔ ان کے والد شاعری کے خلاف تھے۔ اس لیے فانی چھپ کر شعر کہتے تھے۔ زیادہ تر کلام تلف ہوگیا، جو کچھ بچا وہ’’باقیاتِ فانی‘‘ (1926)کے نام سے شائع ہوا۔ بعد میں دیگراور مجموعے’’عرفانیات ِ فانی‘‘ (1939)  اور’’وجدانیاتِ فانی‘‘ (1940) کے نام سے منظرِ عام پر آئے۔
فانیؔ کا شمار اُردو کے ممتاز غزل گو شعرا میں ہوتا ہے۔شاعری میں درد و غم کے مضامین کی کثرت کے باعث فانیؔ کو یاسیات کا امام کہا گیا ہے۔


غزل


دنیا میری بلاجانے ، مہنگی ہے یا سستی ہے
موت ملے تو مفت نہ لوں، ہستی کی کیا ہستی ہے

آبادی بھی دیکھی ہے ویرانے بھی دیکھے ہیں
جو اجڑے اور پھر نہ بسے، دل وہ نرالی بستی ہے

جان سی شے بک جاتی ہے ایک نظر کے بدلے میں
آگے مرضی گاہک کی، ان داموں تو سستی ہے

جگ سونا ہے تیرے بغیر، آنکھوں کا کیا حال ہوا
جب بھی دنیا بستی تھی، اب بھی دنیا بستی ہے

آنسو  تھے سوخشک ہوئے جی ہے کہ امڈا آتا ہے
دل پہ گھٹا سی چھائی ہے، کھلتی ہے نہ برستی ہے

دل کا اجڑنا سہل سہی، بسنا سہل نہیں ظالم
بستی بسنا کھیل نہیں بستے بستے بستی ہے

فانی! جس میں آنسو کیا، دل کے لہو کا کال نہ تھا
ہائے وہ آنکھ اب پانی کی دو بوندوں کو ترستی ہے

---فانیؔ بدایونی


مشق

لفظ و معنی:

ہستی   : وجود، زندگی
کال : قحط، کمی
سہل : آسان

غور کرنے کی بات:

  • حسرت ویاس فانیؔ کی شاعری کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ 
  • اس غزل میں فانیؔ نے بعض جگہ ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جیسے ’’مہنگی سستی‘‘،’’موت ہستی‘‘ وغیرہ ان متضاد الفاظ کے استعمال سے شعر کی معنویت میں اضافہ ہوا ہے۔ الفاظ کے اس استعما ل کو صنعت تضاد کہا جاتا ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

1 ۔    شاعر نے دل کو نرالی بستی کیوں کہا ہے؟
2 ۔     ’ہستی کی کیا ہستی ہے ‘ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
3 ۔    ’’بستی بسنا کھیل نہیں، بستے بستے بستی ہے‘‘، اس مصرعے میں پہلے لفظ بستی اور دوسرے لفظ بستی کے فرق کو واضح کیجیے۔

عملی کام:

  • اس غزل کے قافیوں کی نشاندہی کیجیے۔
  • ذیل کے الفاظ کوجملوں میں استعمال کیجیے۔
جگ  بستی گھٹا سہل لہو کال


Nawa e urdu  Chapter-12


5012_CH12_i09

اصغرؔ  گونڈوی


(1936 – 1884)

اصغر حسین نام اور اصغرؔ تخلص تھا۔ اصل وطن گورکھپور تھا ۔ لیکن آپ کے والدجو قانون گو تھے، ملازمت کے سلسلے میں ایک طویل مدّت تک گونڈہ میں رہے۔ اس لیے ا ٓپ اصغرؔگونڈوی کے نام سے مشہور ہوگئے۔
اصغرؔ ایک پرہیز گار انسان تھے، مگر ان کے مزاج میں رنگینی اور شگفتگی بھی تھی۔ طبیعت تصوّف کی طرف مائل تھی۔ الہ آباد میں ہندوستانی اکیڈمی کی ملازمت کے سلسلے میں ایک مدّت تک قیام رہا اور اکیڈمی کے سہ ماہی رسالے ’’ہندوستانی‘‘ کے ایڈیٹر رہے۔
اصغر کم گو شاعر تھے۔ ان کے کلام کے صرف دو چھوٹے چھوٹے مجموعے ’’سرودِ زندگی‘‘ اور ’’نشاطِ روح‘‘ شائع ہوئے ۔ان کے منفرد رنگ کی ابتدا’’نشاط روح‘‘ سے ہوتی ہے۔زبان و بیان اور خیالات دونوں اعتبارسے ان کا کلام بہت صاف ستھراہے۔ان کے لب ولہجہ میں ایک خاص سنجیدگی ،اسی کے ساتھ ساتھ سرشاری کی کیفیت،زبان و بیان میں ایک عالمانہ وقار اور خیالات میں پاکیزگی پائی جاتی ہے۔تصوف اور معرفت کے مضامین بہت عمدگی کے ساتھ نظم کرتے ہیں۔


غزل


آلامِ روزگار کو آساں بنا دیا
جو غم ہوا، اسے غمِ جاناں بنا دیا

میں کامیابِ دید بھی محروم دید بھی
جلووں کے ازدحام نے حیراں بنادیا

یوں مسکرائے ، جان سی کلیوں میں پڑگئی
یوں لب کشا ہوئے کہ گلستاں بنا دیا

اے شیخ! وہ بسیط حقیقت ہے کفر کی
کچھ قید و رسم نے جسے ایماں بنا دیا

وہ شورشیں، نظامِ جہاں جن کے دم سے ہے
جب مختصر کیا انھیں انساں بنادیا

ہم اس نگاہِ ناز کو سمجھے تھے نیشتر
تم نے تو مسکرا کے رگِ جاں بنا دیا

اصغرؔگوندوی


مشق


لفظ و معنی:

آلامِ روزگار : الم کی جمع، دنیا کے غم
غمِ جاناں : محبوب کا غم
ازدحام(اژدہام) : ہجوم، بھیڑ
لب کشا : منھ کھلاہوا
بسیط : پھیلا ہوا، کشادہ
شورشیں : شورش کی جمع، ہنگامہ، بدامنی، افراتفری
نیشتر : چیر ا لگانے والا چاقو، نشتر

غور کرنے کی بات:

  • لفظ ازدحام کو اژدہام لکھنے کا رواج عام ہوگیا ہے۔یہ لفظ دونوں طرح درست سمجھاجاتا ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

1 ۔    ’’آلامِ روزگار‘‘کو شاعر نے اپنے لیے کس طرح آساں بنایا ہے، واضح کیجیے؟
2 ۔    کامیابِ دید اور محروم ِدید کی وضاحت کیجیے۔
3 ۔    ’’جلووں کے اِزدحام‘‘ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
4۔    شاعر نے محبوب کی مسکراہٹ کو کس چیز سے تشبیہ دی ہے؟

عملی کام:

  • نیچے دیے گئے الفا ظ کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔
بسیط شورش مختصر گلستاں
  • اپنے استاد سے دریافت کر کے چند ایسے شعر لکھیے جن میں انسان کی عظمت کو بیان کیا گیا ہو۔


Nawa e urdu  Chapter-12


5012_CH12_i10


یاس یگانہؔ چنگیزی


( 1956– 1883)

مرزا واجد حسین نام، پہلے یاس تخلص کرتے تھے ، بعد میں یگانہ ہو گئے۔ابتدا میں مولوی سید علی خاں بیتابؔ سے اصلاح سخن لیتے تھے، بعد میں شادؔ عظیم آبادی کے شاگرد ہوگئے۔1904 میں کلکتہ گئے، وہاں بیماری نے طول کھینچا تو علاج کے لیے لکھنؤ آئے ۔ لکھنؤ ہی میں شادی کی اور یہیں بس گئے ۔لکھنؤ کے زمانہ قیام میں کئی ہم عصروں سے ان کے معرکے رہے۔ لکھنؤ میں غالبؔ کے کلام کی مقبولیت کے باعث یگانہؔ مرزا غالبؔ کے خلاف ہوگئے۔ خود کو غالبؔ شکن کہتے تھے۔ 
ان کی شخصیت میں خود پسندی بہت تھی۔ آزادہ روی ان کے مزاج کی خاصیت تھی۔ کلام میں قوت اور زور کے ساتھ ساتھ تلخی بہت ہے۔ ان کی شاعری میں ایک خاص طرح کی انفرادیت کا رنگ حاوی ہے۔بول چال کے ایسے الفاظ بھی جو ادبی زبان کا حصہ نہیں ہیں، معنی میں تیزی اور تندی لانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ ان کی رباعیاں بھی مشہور ہیں۔کلام کے مجموعے ’’آیات وجدانی‘‘ اور ’’گنجینہ‘‘کے نام سے شائع ہوئے۔ ان کا کلیات اردو کے نامور محقق مشفق خواجہ نے مرتب کر کے شائع کیا ہے۔


غزل


ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیا
ہوس نے شوق کے پہلو، دبائے ہیں کیا کیا

اسی فریب نے مارا، کہ کل ہے کتنی دور
اس آج کل میں عبث دن گنوائے ہیں کیاکیا

کسی کے روپ میں تم بھی تو اپنے درشن دو
جہاں میں شاہ و گدا رنگ لائے ہیں کیا کیا

پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے
اسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا کیا

بلند ہو، تو کھُلے تجھ پہ راز پستی کا
بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا

خوشی میں اپنے قدم چوم لوں، تو زیبا ہے
وہ لغزشوں پہ مری مسکرائے ہیں کیا کیا

خدا ہی جانے یگانہؔ میں کون ہوں کیا ہوں
خود اپنی ذات پہ شک دل میں آئے ہیں کیا کیا

---یاس یگانہؔ چنگیزی

مشق


لفظ ومعنی:

ہوس   : ایسی خواہش جو ختم ہونے میں نہ آئے، سب کچھ پالینے کی خواہش
عبث : بے کار، فضول
درشن : دیدار، جلوہ
شاہ و گدا : بادشاہ اور فقیر
پستی : گراوٹ، نچلی سطح
زیبا : خوشنما، خوبصورت
لغزش : غلطی، بھول، خطا، لڑکھڑاہٹ 

غور کرنے کی بات:

  • غزل کے مقطع میں یگانہ اپنے وجود کی اصلیت پر شک کرتے ہیں اور اس کے ساتھ خدا ہی جانے کہہ کر یہ واضح کردیتے ہیں کہ وہ جو بھی ہیں خدا جانتا ہے۔ اس طرح اپنے آپ پر شک کرنا اور خدا ہی جانے کہنا نئی بات ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

1 ۔     مطلع میں ادب اور ہوس کے ا لفاظ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
2 ۔    شاعر کو کس فریب نے مارا؟بیان کیجیے۔ 
3 ۔    ’’ کسی کے روپ میں تم بھی تو اپنے درشن دو‘‘ شاعر یہ کس سے کہہ رہا ہے؟

عملی کام:

  • بلندی اور پستی متضاد الفاظ ہیں۔ اس غزل سے ایسے اور متضاد الفاظ تلاش کرکے لکھیے۔
  • پہاڑ کاٹنا ایک محاورہ ہے جس کے معنی ہے، مشکل کام انجام دینا ۔آپ پانچ محاورے یاد کرکے لکھیے۔
5012_CH05_i03