This page contains the following errors:
error on line 224 at column 271: Namespace prefix 'v' not declared
Below is a rendering of the page up to the first error.
باب2

تیزاب، اساس اور نمک
(Acids, Bases and Salts)
گذشتہ جماعتوں میں آپ نے پڑھا ہے کہ غذا کے کھٹّے اور کڑوے ذائقے ان میں موجود بالترتیب تیزابوں اور اساسوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اگر گھر کا کوئی فرد زیادہ کھانے کی وجہ سے تیزابیت سے دوچار ہو جائے تو علاج کے طور پر آپ ان میں سے کیا لینے کی صلاح دیں گے: نیبو کا رس، سرکا، یا کھانے کا سوڈا؟
◊ علاج تجویز کرتے وقت آپ نے کس خصوصیت پر غور کیا؟ یقینا آپ نے تیزابوں اور اساسوں کی ایک دوسرے کے اثرات کو ختم کرنے کی صلاحیت کے علم کا استعمال کیا ہوگا؟
◊ یاد کیجیے کھٹّی اور کڑوی چیزوں کی جانچ ہم نے انہیں بغیر چکھے کس طرح کی تھی۔
آپ بخوبی جانتے ہیں کہ تیزابوں کا ذائقہ کھٹّا ہوتا ہے۔ اور یہ نیلے لٹمس کو لال کردیتے ہیں جب کہ اساس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور یہ لال لٹمس کو نیلا کردیتے ہیں۔ لٹمس ایک قدرتی اشاریہ (indicator)ہے، ہلدی اسی طرح کا دوسرا اشاریہ ہے۔ کیا آپ نے غور کیا ہے کہ جب سفید کپڑے پر لگے شوربے کے داغ پر صابن (جو اپنی فطرت سے اساسی ہوتا ہے) لگایا جاتا ہے تو یہ لال بھورے رنگ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یہ داغ پھر پیلے رنگ کا ہوجاتا ہے جب ہم کپڑے کو ڈھیر پانی میں کھنگالتے ہیں۔ تیزاب اور اساس کی جانچ کے لیے آپ مصنوعی اشاریے جیسے میتھائل اورینج اور فینالف تھیلین کا بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
اس باب میں ہم تیزابوں اور اساسوں کے تعاملات کا مطالعہ کریں گے اور جانیں گے کہ کس طرح یہ ایک دوسرے کہ اثرات کو زائل کردیتے ہیں۔ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی اور نظر آنے والی دوسری دلچسپ چیزوں کے بارے میں بھی گفتگو کریں گے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
لٹمس محلول جامنی رنگ کا ہوتا ہیجو لائکین نامی پودے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ لائکین تھیلوفائٹا زمرے کا ایک پودا ہے جس کا استعمال عام طور سے اشارییکے طور پر کیا جاتاہے۔ جب لٹمس محلول نہ تیزابی ہو اور نہ ہی اساسی تو اس کا رنگ جامنی ہوتا ہے۔ سرخ پتّہ گوبھی کی پتیاں، ہلدی، کچھ پھولوں کی رنگین پنکھڑیاں مثلاً ہائیڈرینجیا، پیٹونیا اور جیرینیم وغیرہ ایسی کئی قدرتی چیزیں ہیں جو کسی محلول میں تیزاب یا اساس کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ سبھی تیزاب— اساس اشاریییا کبھی کبھی صرف اشاریے (Indicators) کہلاتے ہیں۔
سوالات
1۔ آپ کو تین ٹیسٹ ٹیوب دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک میں کشیدہ پانی دوسرے میں تیزابی محلول اور تیسرے میں اساسی محلول ہے۔ اگر آپ کو صرف لال لٹمس پیپر دیا گیا ہو تو آپ ہرایک ٹیسٹ ٹیوب میں موجود شے کی شناخت کس طرح کریں گے۔
2.1 تیزابوں اور اساسوں کی کیمیائی خصوصیات کی تفہیم
2.1.1 تجربہ گاہ میں تیزاب اور اساس (Acids and Bases in the Laboratory)
سرگرمی 2.1
n سائنس کی تجربہ گاہ سے مندرجہ ذیل محلول حاصل کیجیے۔ ہائڈرو کلورک تیزاب (HCl) سلفیورک ایسڈ (H2SO4)، نائٹرک ایسڈ (HNO3)، ایسیٹک ایسڈ (CH3COOH)، سوڈیم ہائڈر اکسائڈ (NaOH)، کیلشیم ہائڈر آکسائڈ [Ca(OH)2]، پوٹاشیم ہائڈر اکسائڈ (KOH)، میگنیشیمہائڈر اکسائڈ[Mg(OH)2] اور امونیم ہائڈراکسائڈ (NH4OH)
n اوپر دیے گئے سبھی محلولوں میں سے باری باری ایک ایک بوند ایک واچ گلاس میں ڈالیے اور جدول 2.1 میں دیے گئے انڈیکیٹر میں سے ایک بوند لے کر ان کی جانچ کیجیے۔
n دیے گئے ہر ایک محلول میں لال لٹمس، نیلا لٹمس، فینالف تھیلین اور میتھائیل اورنیج کے محلول ملانے آپ رنگوں میں ہونے والی کس طرح کی تبدیلی کا مشاہدہ کرتے ہیں؟
n جدول 2.1 میں اپنے مشاہدات کو نوٹ کیجیے۔
جدول 2.1
| میتھائیل اورنیج محلول | فینالف تھیلین محلول | نیلا لٹمس محلول | لال لٹمس محلول | نمونہ محلول |
یہ اشاریے رنگوں میں تبدیلی کے ذریعے ہمیں بتاتے ہیں کہ کوئی شے تیزابی ہے یا اساسی۔ کچھ ایسی اشیا بھی ہیں جن کی بو تیزابی یا اساسی میڈیم میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ انھیں آلفیکٹری شمّی (شامّہ سے متعلق) اشاریے (olfactory indicators) کہتے ہیں۔ آئیے ان انڈیکیٹروں میں سے کچھ کو جاننے کی کوشش کریں۔
سرگرمی 2.2
◊ ایک پلاسٹک کا تھیلا لیجیے اور اس میں باریک پیاز کے ٹکڑوں کو صاف کپڑے کی پیٹیوںکے ساتھ رکھیے۔
◊ تھیلے کو مضبوطی سے باندھ کر ریفریجریٹر میں پوری رات کے لیے چھوڑ دیجیے۔ ان کپڑے کے ٹکڑوںکا استعمال اب تیزاب اور اساس کی جانچ کے لیے کیا جاسکتا ہے۔
◊ کپڑے کے ان ٹکڑوں میں سے دو کو لیجیے اور ان کی بو کی جانچ کیجیے۔
◊ انھیں صاف جگہ پر رکھیے اور ایک ٹکڑے پر ڈائی لیوٹ HCl محلول کی کچھ بوندیں اور دوسرے پر ڈائی لیوٹ NaOH محلول کی چند بوندیں ڈالیے۔
◊ کپڑے کے دونوں ٹکڑوں کو پانی سے دھوئیے اور پھر ان کی بو کی جانچ کیجیے۔
◊ اپنے مشاہدات کو نوٹ کر لیجیے۔
◊ اب تھوڑا سا وینیلا کا ڈائی لیوٹ عرق اور لونگ کا تیل لیجیے اور ان کی بو کی جانچ کیجیے۔
◊ ایک ٹیسٹ ٹیوب میں تھوڑا ڈائی لیوٹ HCl محلول اور دوسری ٹیسٹ ٹیوب میں ڈائی لیوٹ NaOH محلول لیجیے۔ دونوں جانچ نلیوں میں ڈائی لیوٹ وینیلا عرق کی کچھ بوندیں ڈالیے اور انہیں اچھی طرح سے ہلائیے۔ پھر سے ان کی بو کی جانچ کیجیے اور اگر کوئی تبدیلی محسوس کرتے ہیں تو اسے نوٹ کرلیجیے۔
◊ اسی طریقہ سے لونگ کے تیل کی بو میں ہونے والی تبدیلی کی جانچ ڈائی لیوٹ HCl اور ڈائی لیوٹ NaOH کے محلول سے کیجیے اور اپنے مشاہدات کو نوٹ کیجیے۔
آپ کے مشاہدات کے بنیاد پر وینیلا، پیاز اور لونگ میں سے کسے شمّی اشاریے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے؟
آئیے تیزابوں اور اساسوں کی کیمیائی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے کچھ اور سرگرمیاں انجام دیں۔
2.1.2 تیزاب اور اساس دھاتوں سے کس طرح تعامل کرتے ہیں؟
سرگرمی 2.3
احتیاط: اس سرگرمی میں استاد کی مدد کی ضرورت ہوگی۔
◊ شکل 2.1کی طرح آلات سیٹ کیجیے۔
◊ ایک ٹیسٹ ٹیوب میں تقریباً 5ملی لیٹر ڈائی لیوٹ سلفیورک تیزاب لیجیے اور اس میں زنک کے چند دانے ڈالیے۔
◊ زنک کے دانوں کی سطح پر آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟
◊ جو گیس خارج ہوئی اسے صابن کے محلول سے گزاریے۔
◊ صابن کے محلول میں بلبلے کیوں بنے؟
◊ گیس سے بھرے ہوئے بلبلے کے پاس ایک جلتی ہوئی موم بتی لے جائیے۔
◊ آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟
◊ اس سرگرمی کو کچھ دوسرے تیزابوں جیسے HCl، HNO3اور CH3COOH کے ساتھ دوہرائیے۔
◊ کیا ان سبھی صورتوں میں مشاہدات ایک ہی ہیں یا مختلف ؟

شکل 2.1 زنک کے دانوں کا ڈائی لیوٹ سلفیورک تیزاب کے ساتھ تعامل اور ہائڈروجن گیس کو جلا کر اس کی جانچ
نوٹ کیجیے کہ مذکورہ بالا تعاملات میں دھات، تیزاب سے ہائڈروجن ایٹم کو ہٹا دیتی ہے۔ یہ ہائڈروجن گیس کی شکل میں نظرآتی ہے۔ دھات تیزاب سے مل کر ایک مرکب بناتی ہے جسے نمک (Salt) کہتے ہیں۔ اس طرح سے دھات اور تیزاب کے تعامل کو مندرجہ ذیل طریقہ سے دکھایا جاسکتا ہے۔
ہائڈروجن گیس + نمک → دھات + تیزاب
کیا اب آپ ان تعاملات کی مساوات لکھ سکتے ہیں جن کا آپ نے مشاہدہ کیا ہے؟
سرگرمی 2.4
◊ دانے دار زنک دھات کے کچھ ٹکڑوں کو ایک ٹیسٹ ٹیوب میں رکھیے۔
◊ اس میں 2 ملی لیٹر سوڈیم ہائڈرآکسائڈ کا محلول ملائیے اور ٹیسٹ ٹیوب کے اجزا کو گرم کیجیے۔
◊ سرگرمی 2.3 کے باقی اقدامات کو دوہرائیے اور اپنے مشاہدات کو نوٹ کیجیے۔
ہونے والے تعامل کو مندرجہ ذیل طریقہ سے لکھا جاسکتا ہے۔

آپ پھردیکھتے ہیں کہ تعامل میں ہائڈروجن گیس بنتی ہے۔ حالانکہ اس طرح کا تعامل سبھی دھاتوں کے ساتھ ممکن نہیں ہے۔
2.1.3 دھاتی کاربونیٹ اور دھاتی ہائڈروجن کاربونیٹ تیزاب کے ساتھ کس طرح تعامل کرتے ہیں؟
سرگرمی 2.5
- دو ٹیسٹ ٹیوب لیجیے۔ ان کے نام Aاور Bرکھیے۔
- ٹیسٹ ٹیوب A میں تقریباً 0.5گرام سوڈیم کاربونیٹ (Na2CO3) اور ٹیسٹ ٹیوب Bمیں تقریباً 0.5 گرام سوڈیم ہائڈروجن کاربونیٹ (NaHCO3) لیجیے۔
- دونوں ٹیسٹ ٹیوب میں تقریباً 2 ملی لیٹر ڈائی لیوٹ HCl ملائیے۔
- آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟
- دونوں صورتوں میں جو گیس پیدا ہوئی اسے چونے کے پانی (کیلشیم ہائڈراکسائڈ کے محلول) سے گزاریے جیسا کہ شکل 2.2 میں دکھایا گیا ہے اور اپنے مشاہدات کو نوٹ کیجیے۔
سوڈیم ہائڈروجن کاربونیٹ (NaHCO3) لیجیے۔
◊ دونوں ٹیسٹ ٹیوب میں تقریباً 2 ملی لیٹر ڈائی لیوٹ HCl ملائیے۔
◊ آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟
◊ دونوں صورتوں میں جو گیس پیدا ہوئی اسے چونے کے پانی (کیلشیم ہائڈراکسائڈ کے محلول) سے گزاریے جیسا کہ شکل 2.2 میں دکھایا گیا ہے اور اپنے مشاہدات کو نوٹ کیجیے۔

مذکورہ بالا سرگرمی میں جو تعاملات ہورہے ہیں انھیں یوں لکھا جاسکتا ہے-
شکل 2.2
کیلشیم ہائڈراکسائڈ کے محلول سے کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کو گزارنا

خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کو چونے کے پانی سے گزارنے پر :

زیادہ کاربن ڈائی آکسائڈ گزارنے پر مندرجہ ذیل تعامل ہوتا ہے۔

چونے کا پتھر، چاک اور سنگ مرمر کیلشیم کاربورنیٹ کی مختلف شکلیں ہیں۔ سبھی دھاتی کاربونیٹ اور ہائڈروجن کاربونیٹ تیزاب سے تعامل کرکے نمک کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی بناتے ہیں۔
2.1.4 تیزاب اور اساس ایک دوسرے سے کس طرح تعامل کرتے ہیں؟
سرگرمی 2.6
◊ ایک ٹیسٹ ٹیوب میں لگ بھگ 2ملی لیٹر ڈائی لیوٹ NaOH محلول لیجیے اور اس میں فینا لف تھیلین محلول کی دو بوندیں ملائیے۔
◊ محلول کا رنگ کیسا ہے؟
◊ مذکورہ بالا محلول میں ڈائی لیوٹ HCl محلول کو بوند بوند کرکے ملائیے۔
◊ آمیزہ کے رنگ میں تعامل سے کیا کوئی تبدیلی واقع ہوئی؟
◊ تیزاب ملانے کے بعد فینالف تھیلین کے رنگ میں تبدیلی کیوں ہوئی؟
◊ اب مذکورہ بالا آمیزہ میں NaOH کی کچھ بوندیں ملائیے۔
کیا فینالف تھیلین کا گلابی رنگ دوبارہ ظاہر ہوتا ہے؟
◊ آپ کیا سوچتے ہیں، ایسا کیوں ہوا؟
مذکورہ بالا سرگرمی میں ہم نے مشاہدہ کیا کہ اساس کا اثر تیزاب کے ذریعے اور تیزاب کا اثر اساس کے ذریعے ختم ہوجاتا ہے۔ اس تعامل کو مندرجہ ذیل طریقہ سے لکھ سکتے ہیں۔
تیزاب اور اساس کے درمیان ہونے والا تعامل جس کے نتیجے میں نمک اور پانی بنتا ہے، تعدیلی تعامل (Neutralisation Reaction) کہلاتے ہیں۔ عام طور پر تعدیلی تعامل کو اس طرح لکھا جاسکتا ہے—
پانی + نمک → اساس + تیزاب
2.1.5 دھاتی آکسائڈ کا تیزاب کے ساتھ تعامل
سرگرمی 2.7
◊ ایک بیکر میں کاپر آکسائڈ کی تھوڑی سی مقدار لیجیے اور اس میں دھیرے دھیرے ڈائی لیوٹ سلفیورک تیزاب ملائیے اور چلاتے رہیے۔
◊ محلول کے رنگ کو نوٹ کیجیے۔ کاپر آکسائڈ کے ساتھ کیا ہوا؟
آپ دیکھیں گے کہ محلول کا رنگ نیلا- ہرا ہوجاتا ہے اور کاپر آکسائڈ گھل جاتا ہے- محلول کا نیلا۔ ہرا رنگ اس تعامل میں کاپر (II) کلورائڈ کے بننے کی وجہ سے ہوا ہے۔ دھاتی آکسائڈ اور تیزاب کے درمیان ہونے والے عام تعامل کو مندرجہ ذیل طریقے سے لکھا جاسکتا ہے—
پانی + نمک → تیزاب + دھاتی آکسائڈ
اب مذکورہ بالا تعامل کی مساوات لکھیے اور اسے متوازن کیجیے۔چونکہ دھاتی آکسائڈتیزاب کے ساتھ تعامل کرکے نمک اور پانی بناتے ہیں، ٹھیک اسی طرح جیسے اساس اور تیزاب تعامل کرکے نمک اور پانی بناتے ہیں۔ اسی لیے دھاتی آکسائڈ کو اساسی آکسائڈ بھی کہاجاتا ہے۔
2.1.6 غیر دھاتی آکسائڈ کا اساس کے ساتھ تعامل
سرگرمی 2.5 میں آپ نے کاربن ڈائی آکسائڈ اور کیلشیم ہائڈراکسائڈ (چونے کا پانی) کے درمیان تعامل کا مشاہدہ کیا ہے۔ کیلشیم ہائڈر اکسائڈ جو ایک اساس ہے، کاربن ڈائی آکسائڈ سے تعامل کرکے نمک اور پانی بناتا ہے۔ چونکہ یہ تعامل اساس اور تیزاب کے درمیان ہونے والے تعامل کی طرح ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ غیر دھاتی آکسائڈتیزابی نوعیت کے ہوتے ہیں۔
سوالات
1۔ دہی اور کھٹی اشیا کو پیتل اور تانبے کے برتنوں میں کیوں نہیں رکھنا چاہیے؟
2۔ جب کوئی تیزاب کسی دھات سے تعامل کرتا ہے تو عام طور پر کون سی گیس خارج ہوتی ہے؟ ایک مثال کے ساتھ واضح کیجیے۔ اس گیس کی موجودگی کی جانچ آپ کس طرح کریں گے۔
3۔ دھاتی مرکب A ڈائی لیوٹ ہائڈرو کلورک تیزاب کے ساتھ تعامل کرکے بلبلے پیدا کرتا ہے۔ جو گیس نکلتی ہے وہ جلتی ہوئی موم بتی کو بچھا دیتی ہے۔ ماحصل مرکبات میں سے اگر ایک کیلشیم کلورائڈ ہے تو اس تعامل کے لیے متوازن کیمیائی مساوات لکھیے۔
2.2 سبھی تیزابوں اور سبھی اساسوں میں کیا چیزیں مشترک ہیں؟
سیکشن2.1 میں ہم نے دیکھا ہے کہ سبھی تیزابوں کی کیمیائی خصوصیات ایک جیسی ہوتی ہیں۔ خصوصیات میں یہ یکسانیت کس وجہ سے ہے؟ سرگرمی 2.3 میں ہم نے دیکھا ہے کہ سبھی تیزاب دھات سے تعامل کرکے ہائڈروجن گیس پیدا کرتے
ہیں، اس لیے ایسا لگتا ہے کہ ہائڈروجن سبھی تیزابوں میں مشترک ہے۔ آئیے ہم ایک سرگرمی انجام دیتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا وہ سبھی مرکبات جن میں ہائڈروجن موجود ہو تیزابی ہوتے ہیں۔
سرگرمی 2.8
n گلوکوز، الکوحل، ہائڈروکلورک تیزاب، سلفیورک ایسڈ وغیرہ کا محلول لیجیے۔
n ایک کارک پر دو کیلیں لگائیے اور کارک کو 100ملی لیٹر والے بیکر میں رکھیے۔
n کیلوں کو ایک بلب اور ایک سوئچ سے ہوتے ہوئے 6وولٹ کی بیٹری کے دونوں ٹرمنل سے جوڑیے جیسا کہ شکل 2.3 میں دکھایا گیاہے۔
n اب بیکر میں کچھ ڈائی لیوٹ HCl ڈالیے اور سوئچ آن کیجیے۔
n اس عمل کو ڈائیلوٹ سلفیورک تیزاب کے ساتھ دوہرائیے۔
n آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟
n اس تجربے کو الگ الگ گلوکوز اور الکوحل کے محلول کے ساتھ دوہرائیے۔ اب آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟
n کیا سبھی صورتوں میں بلب جلتا ہے؟

تیزابوں کی موجودگی میں بلب جلنے لگے جیسا کہ شکل 2.3 میں دکھایا گیا ہے۔ لیکن آپ دیکھیں گے کہ گلوکوز اور الکوحل کا محلول برق کا ایصال نہیں کرتا ہے۔ بلب کا جلنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ محلول سے ہوکر برقی روگزرتی ہے۔ محلول سے ہوکر برقی کرنٹ کا ایصال آینوں (Ions) کے ذریعہ ہوتا ہے۔
تیزاب میں H+آین کیٹ آین کے طور پر ہوتا ہے جب کہ این آین کے طور پر HCLمیں ـC1،HNO3میںHO3، H3SO4