Skip to content
Science Chapter-3

باب 3

دھاتیں اور غیر دھاتیں Pic 1 Chapture 3

(Metals and Non-metals)

نویں جماعت میں آپ نے مختلف عناصر کے متعلق جانکاری حاصل کی ہے۔ آپ نے دیکھا ہے کہ ان عناصرکوان کی  خصوصیات کی بنیاد پر دھات یا غیر دھات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
 اپنی روزمرّہ کی زندگی میں دھات اور غیر دھات کے کچھ استعمال کے بارے میں سوچیے۔ 
   دھات اور غیر دھات میں درجہ بندی کرتے وقت آپ عناصر کی کن خصوصیات پر غور کرتے ہیں؟
یہ خصوصیات ان عناصر کے استعمال سے کس طرح وابستہ ہیں؟
آئیے ان میں سے کچھ خصوصیات کا تفصیلی جائزہ لیں۔

3.1 طبیعی خصوصیات (Physical Properties)

3.1.1 دھاتیں (Metals)

اشیا کی درجہ بندی شروع کرنے کا سب سے آسان طریقہ ان کی طبیعی خصوصیات کا موازنہ ہے۔ آئیے مندرجہ ذیل سرگرمیوں کے ذریعہ اس کا مطالعہ کریں۔ سرگرمیاں 3.1 سے 3.6 کو 
انجام دینے کے لیے مندرجہ ذیل دھاتوں کے نمونے  جمع کیجیے۔ لوہا، کاپر، ایلومینیم، میگنیشیم، سوڈیم، لیڈ، زنک اور دوسری دھاتیں جو آسانی سے دستیاب ہوں۔

سرگرمی 3.1

لوہا، کاپر، ایلیومینیم اور میگنیشیم کا نمونہ لیجیے۔ ہر ایک نمونہ کی ظاہری شکل نوٹ کیجیے۔
ہر ایک نمونے کی سطح کو ریگ مال سے رگڑ کر صاف کیجیے اور دوبارہ ان کی ظاہری شکل نوٹ کیجیے۔

خالص حالت میں دھاتوں کی سطح چمکدار ہوتی ہے۔ یہ خاصیت دھاتی چمک کہلاتی ہے۔


سرگرمی 3.2

لوہا، کاپر، ایلیومینیم اور میگنیشیم کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے لیجیے۔ ایک تیزدھار والے چاقوکی مدد سے ان دھاتوں کو کاٹنے کی کوشش کیجیے اور اپنے مشاہدات نوٹ کیجیے۔
سوڈیم دھات کے ٹکڑے کو ایک چمٹے سے پکڑیے۔
احتیاط: سوڈیم دھات کااستعمال ہمیشہ ہوشیاری کے ساتھ کیجیے۔ اس کو فلٹرپیپر کے درمیان میںدباکر خشک کیجیے۔
اسے ایک واچ گلاس میں رکھیے اورچاقو کی مددسے کاٹنے کی کوشش کیجیے۔
آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟


آپ دیکھیں گے کہ دھاتیں عموماً سخت ہوتی ہیں۔ مختلف دھاتوں کی سختی مختلف ہوتی ہے۔

سرگرمی 3.3

  لوہا، زنک، لیڈ اور کاپر کے ٹکڑے لیجیے۔
◊    کسی ایک دھات کو لوہے کے ایک بڑے ٹکڑے پر رکھیے اور ایک ہتھوڑے کی مدد سے اس پر چار یا پانچ مرتبہ چوٹ ماریے۔ آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟
◊    دوسری دھاتوں کے ساتھ یہ عمل دہرائیے۔
◊    ان دھاتوں کی شکل میں ہوئی تبدیلیوں کو نوٹ کیجیے۔

آپ پائیں گے کہ کچھ دھاتوں کو پیٹ کر پتلی چادروں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ یہ خاصیت ورق پذیری (Malleability) کہلاتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سونا اور چاندی سب سے زیادہ ورق پذیر دھات ہیں۔

سرگرمی 3.4

اُن دھاتوں کی فہرست بنائیے جن کے تار آپ نے روز مرہ زندگی میں دیکھے ہیں؟

دھاتوں کی وہ صلاحیت جن کے ذریعہ ان کے پتلے تار کھینچے جاسکتے ہیں، تار پذیری (Ductility) کہلاتی ہے۔ آپ کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ ایک گرام سونے سے تقریباً  2کیلومیٹر لمبا تار کھینچا جاسکتا ہے۔
یہ دھاتوں کی ورق پذیری اورتار پذیری ہے جن کی بنا پر ہم اپنی ضرورتوں کے مطابق انھیں مختلف شکلوں میں ڈھال سکتے ہیں۔
کیا آپ ایسی کچھ دھاتوں کے نام بتاسکتے ہیں جن کا استعمال کھانے کے برتن بنانے میں کیا جاتا ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ ان کا استعمال برتن بنانے میں کیوں ہوتا ہے؟ جواب حاصل کرنے کے لیے آئیے مندرجہذیل سرگرمی انجام دیں۔

سرگرمی3.5

ایلیومینیم یا کاپر کا ایک تار لیجیے۔ شکل 3.1 کی طرح اسے ایک اسٹینڈ سے کس  دیجیے۔
موم کا استعمال کرکے تار کے دوسرے آزاد سرے پر ایک پن چپکائیے۔
اسپرٹ لیمپ، موم بتی یا برنرکی مدد سے تار کو کلیمپ کے نزدیک گرم کیجیے۔
کچھ وقت کے بعد آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟
اپنے مشاہدات نوٹ کیجیے۔ کیا دھات کا تار پگھلتا ہے؟
Pic 2 Capture3
شکل 3.1 دھاتیں حرارت کی اچھی  موصل ہیں
مذکورہ بالا سرگرمی یہ ظاہر کرتی ہے کہ دھاتیں حرارت کی اچھّی موصل ہوتی ہیں اور ان کے نقطۂ گداخت زیادہ ہوتے ہیں۔ چاندی اور کاپر  حرارت کے سب سے بہتر موصل ہیں۔ لیڈ اور مرکری حرارت کے نسبتاً کمزور موصل ہیں۔
کیا دھاتیں بجلی کا ایصال کرتی ہیں؟ آئیے معلوم کرتے ہیں۔

Pic 3 Capture3

شکل 3.2 دھاتیں بجلی کی اچھی موصل ہوتی ہیں۔

سرگرمی 3.6

ایک برقی سرکٹ تیارکیجیے (شکل 3.2)
جس دھات کی جانچ کرنی ہے اسے سرکٹ میں ٹرمنل A اور B کے درمیان رکھیے جیسا کہ شکل 3.2 میں دکھایا گیا ہے۔
کیا بلب جلتا ہے؟ یہ کیا ظاہر کرتا ہے؟

آپ نے ضرور دیکھا ہوگا کہ آپ کے گھروں میں جن تاروں کے ذریعہ بجلی کا کرنٹ دوڑتا ہے ان پر پولی وینائل کلورائڈ (PVC) یا ربر جیسی کسی چیز کی پرت چڑھی رہتی ہے۔ برقی تاروں پر اس طرح کی پرت کیوں چڑھی رہتی ہے؟
 جب دھاتیں کسی سخت سطح سے ٹکراتی ہیں توکیا ہوتا ہے؟ کیا یہ آواز پیدا کرتی ہیں؟ وہ دھاتیں جو کسی سخت سطح سے ٹکرانے پر آواز پیدا کرتی ہیں مصوّت (Sonorous) کہلاتی ہیں۔ کیا اب آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ اسکول کی 
گھنٹیاں دھات کی کیوں بنی ہوئی ہوتی ہیں؟

3.1.2 غیر دھاتیں (Non-metals)

پچھلے درجے میں آپ نے پڑھا ہے کہ دھاتوں کے مقابلے میں غیر دھاتوں کی تعداد بہت کم ہے۔ غیر دھاتوں کی کچھ مثالیں ہیں کاربن، گندھک، آیوڈین، آکسیجن، ہائڈروجن وغیرہ۔ غیر دھاتیں یا تو ٹھوس ہوتی ہیں یا پھر گیس؛  صرف برومین کو چھوڑ کر جوکہ ایک رقیق ہے۔
کیا غیر دھاتوں کی طبیعی خصوصیات دھاتوں جیسی ہوتی ہیں؟ آئیے معلوم کرتے ہیں۔

سرگرمی 3.7

کاربن (کوئلہ یا گریفائٹ)، سلفر اور آیوڈین کے نمونے جمع کیجیے۔
ان غیر دھاتوں کے ساتھ سرگرمیاں 3.1 تا3.4اور  3.6انجام دیجیے اور اپنے مشاہدات کو نوٹ کیجیے۔
دھات اور غیر دھات سے متعلق اپنے مشاہدات کوجدول 3.1میں جمع کیجیے۔

جدول 3.1

عنصر علامت سطح کی قسم سختی ورق پذیری تار پذیری
بجلی کا ایصال کرتی ہے مصوت



جدول 3.1 میں درج کیے گئے مشاہدات کی بنیاد پر اپنی کلاس میں دھات اور غیر دھات کی عام طبیعی خصوصیات پر تبادلۂ خیال کیجیے۔ آپ نے ضرور محسوس کیا ہوگا کہ ہم صرف طبیعی خصوصیات کی بنیاد پر عناصر کی زمرہ بندی نہیں کرسکتے کیونکہ یہاں بہت سی متثنیٰ مثالیں بھی مل جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر:
(i) مرکری کو چھوڑ کر سبھی دھاتیں کمرے کے درجہ حرارت پر ٹھوس شکل میں رہتی ہیں۔ سرگرمی 3.5 میں آپ نے مشاہدہ کیا کہ دھاتوں کے نقطۂ گداختزیادہ ہوتے ہیں لیکن گیلیم اور سیزیم کے نقطۂ گداخت کافی کم ہیں۔ یہ دونوں دھاتیں اگر ہتھیلی پر رکھی جائیں تو پگھل جاتی ہیں۔
(ii) آیوڈین ایک غیر دھات ہے لیکن یہ چمکدار ہے۔ 
(iii) کاربن ایک غیر دھات ہے جو مختلف شکلوں میں رہ سکتا ہے۔ ہر ایک شکل ایک بہروپ (Allotrope) کہلاتی ہے۔ ہیرا، کاربن کا ایک بہروپ ہے جو قدرتی طور پرپائی جانے والی تمام اشیا میں سب سے زیادہ سخت ہے اور جس کا نقطۂ گداخت اور نقطۂ جوش بہت زیادہ ہوتا ہے۔ گریفائٹ کاربن کا دوسرا بہروپ ہے جو برق کا موصل ہے۔
(iv) قلوی دھاتیں (لیتھیم، سوڈیم، پوٹاشیم) اتنی زیادہ نرم ہوتی ہیں کہ انھیں چاقو سے کاٹا جاسکتا ہے۔ ان کی کثافت اور نقطۂ گداخت کم ہوتے ہیں۔
عناصر کو ان کی کیمیائی خصوصیات کی بنیاد پر دھات اور غیر دھات میں درجہ بندی اور زیادہ وضاحت کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔

سرگرمی 3.8

ایک میگنیشیم ربن اور کچھ سلفر کے پاؤڈر لیجیے۔
میگنیشیم ربن کو جلائیے۔ حاصل شدہ راکھ کو جمع کیجیے اور اسے پانی میں گھولیے۔
حاصل شدہ محلول کی سرخ اور نیلے دونوں لٹمس کاغذ سے جانچ کیجیے۔
 میگنیشیم کو جلانے سے بنا ماحصل تیزابی ہے یا اساسی؟
    اب سلفر کے پاؤڈر کو جلائیے۔ جلتے ہوئے سلفر کے اوپر ٹیسٹ ٹیوب رکھیے اور پیدا ہونے والے دھوئیں یا بخارات کو جمع کیجیے۔
مذکورہ بالا ٹیسٹ ٹیوب میں تھوڑا سا پانی ملائیے اور اسے ہلائیے۔
اس محلول کی جانچ نیلے اور سرخ لٹمس کاغذ سے کیجیے۔
سلفر کو جلانے سے بنا ماحصل تیزابی ہے یا اساسی؟
کیا آپ ان تعاملات کے لیے مساوات لکھ سکتے ہیں؟

زیادہ تر غیر دھاتیں پانی میں حل ہو کر تیزابی آکسائڈ بناتی ہیں۔ دوسری طرف اکثر دھاتیں اساسی آکسائڈ بناتی ہیں۔ اگلے سیکشن میں آپ دھاتی آکسائڈ وں کے بارے میں مزید مطالعہ کریں گے۔

سوالات
 
1   ایک دھات کی مثال دیجیے 
(i) جوکمرے کے درجۂ حرارت پر رقیق ہے۔
(ii) جسے چاقو سے آسانی کے ساتھ کاٹا جاسکتا ہے۔
(iii) جو حرارت کا سب سے اچھا موصل ہے۔
(iv) جو حرارت کا کمزور موصل ہے۔
ورق پذیر اور تار پذیر سے کیا مراد ہے؟ وضاحت کیجیے۔

3.2 دھاتوں کی کیمیائی خصوصیات (Chemical Properties of Metals)

دھاتوں کی کیمیائی خصوصیات کا مطالعہ سیکشن 3.2.1 تا 3.2.4 میں کریں گے۔ اس کے لیے آپ مندرجہ ذیل دھاتوں کا نمونہ جمع کیجیے۔ ایلومینیم، کاپر، لوہا، میگنیشیم، زنک اور سوڈیم۔

3.2.1 جب دھاتوں کو ہوا میں جلایا جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟

(What happens when Metals are burnt in Air?)
سرگرمی 3.8 میں آپ نے دیکھا کہ میگنیشیم دھات ہوا میں چمکدارلو کے ساتھ جلتی ہے۔ کیا سبھی دھاتیں اسی طریقہ سے تعامل کرتی ہیں؟ آئیے مندرجہ ذیل سرگرمی کے ذریعہ اس کی جانچ کرتے ہیں۔

سرگرمی 3.9

احتیاط: مندرجہ ذیل سرگرمی میں استاد کی مدد کی ضرورت ہے۔ بہتر ہوگا کہ طلبا آنکھ کی حفاظت کے لیے چشمہ پہن لیں۔
مذکورہ بالا دھاتوں میں سے کوئی دھات لیجیے اور اسے چمٹے سے پکڑ کر ایک لو کے اوپر رکھ کر جلائیے۔
اگر کوئی ماحصل بنا ہو تو اسے جمع کر لیجیے۔
 دھات کی سطح اور ماحصل کو ٹھنڈا ہونے دیجیے۔
 کون سی دھات آسانی سے جلتی ہے۔
◊        جب دھات کو آپ جلاتے ہیں تو کس رنگ کی لو کا مشاہدہ کرتے ہیں؟
جلانے کے بعد دھات کی سطح کیسی نظر آتی ہے؟
آکسیجن کے ساتھ دھاتوں کی تعاملیت کو گھٹتی ہوئی ترتیب میں لکھیے۔
    کیاماحصلات پانی میں حل پذیر ہیں؟




تقریباً سبھی دھاتیں آکسیجن کے ساتھ تعامل کرکے دھاتی آکسائڈ بناتی ہیں۔
دھاتی آکسائڈ  → آکسیجن  +  دھات
مثال کے طور پر جب کاپر کو ہوا میں گرم کیا جاتا ہے تو یہ آکسیجن سے تعامل کرکے سیاہ رنگ کا کاپر (II) آکسائڈ بناتا ہے۔

Pic Text 1 Capture3
اسی  طرح ایلیومینیم بھی ایلیومینیم آکسائڈ بناتا ہے۔
Pic Text 2 Chapture3
باب 2 میں آپ نے دیکھا ہے کہ کاپر آکسائڈ ہائڈروکلورک ایسڈ سے کس طرح تعامل کرتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ دھاتی آکسائڈ اساسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ لیکن ایلیومینیم آکسائڈ، زنک آکسائڈ جیسے کچھ دھاتی آکسائڈ تیزابی اور اساسی دونوںقسم کے طرز عمل کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے دھاتی آکسائڈ جو تیزاب اور اساس دونوں سے تعامل کرکے نمک اور پانی بناتے ہیں انھیں ایمفوٹیرک آکسائڈ (Amphoteric Oxid) کہتے ہیں۔ ایلیومینیم آکسائڈ تیزاب اور اساس دونوں کے ساتھ مندرجہ ذیل طریقہ سے تعامل کرتا ہے۔
Pic Tex 3 Capture3
زیادہ تر دھاتی آکسائڈ پانی میں غیر حل پذیر ہوتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ پانی میں حل ہو کر القلی بناتے ہیں۔ سوڈیم آکسائڈ اور پوٹاشیم آکسائڈ پانی میں حل ہوکر مندرجہ ذیل القلی بناتے ہیں—
Pic Text 4 Chapture3
سرگرمی 3.9 میں ہم نے دیکھا ہے کہ سبھی دھاتیں آکسیجن کے ساتھ ایک ہی شرح سے تعامل نہیں کرتی ہیں۔ مختلف دھاتیں آکسیجن کے ساتھ مختلف قسم سے تعامل کرتی ہیں۔ پوٹاشیم اور سوڈیم وہ دھاتیں ہیں جنھیں اگر کھلا چھوڑ دیا جائے تو اتنی تیزی کے ساتھ تعامل کرتی ہیں کہ آگ لگ جاتی ہے۔ اسی لیے ان کی حفاظت کے لیے اور آگ لگنے کے حادثہ سے بچنے کے لیے انھیں مٹی کے تیل میں ڈبا کر رکھا جاتا ہے۔ عام درجۂ حرارت پر میگنیشیم، ایلیومینیم، زنک، لیڈ وغیرہ جیسی دھاتوں کی سطح آکسائڈ کی ایک پتلی پرت سے ڈھکی ہوتی ہیں۔ حفاظتی آکسائڈ کی پہ پرت دھاتوں کی مزید تکسید کو روک دیتی ہے۔ لوہا گرم کرنے پر نہیں جلتا لیکن لوہے کی کترن کو اگر برنر کی لو پر پھینکا جاتا ہے تو یہ بہت تیزی کے ساتھ جلتا ہے۔ کاپر نہیں جلتا لیکن یہ گرم دھات کاپر (II) آکسائڈ کے سیاہ رنگ کی پرت سے ڈھکی ہوتی ہے۔ چاندی اور سونا آکسیجن کے ساتھ بہت زیادہ درجہ حرارت پر بھی تعامل نہیں کرتے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

اینوڈائزنگ (Anodising) ایلیومینیم کی ایک موٹی آکسائڈ پرت بنانے کا عمل ہے۔ جب ایلیومینیم کو ہوا میں کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے تو یہ اپنے چاروں طرف ایک پتلی پرت بنالیتی ہے۔ ایلیومینیم آکسائڈ کی یہپرت مزید تاکل اس کی سے حفاظت کرتی ہے۔ اس مزاحمت کو اور زیادہ مستحکم بنایا جاسکتا ہے اگر آکسائڈ کی پرت کو اور موٹا کردیا جائے۔اینوڈائزنگ کے عمل میں ایلیومینیم سے بنی ہوئی کسی صاف ستھری چیز کو اینوڈ بنایا جاتا ہے اور ڈائی لیوٹ سلفیورک تیزاب کے ساتھ برق پاشیدگی کی جاتی ہے۔اینوڈ پر جو آکسیجن گیس نکلتی ہے وہ ایلیومینیم کے ساتھ تعامل کرکے آکسائڈ کی ایک حفاظتی پرت بناتی ہے۔ آکسائڈ کی اس پرت کو بآسانی رنگین بنا کر ایلیومینیم کی چیزوں کو پُرکشش بنایا جاسکتا ہے۔
سرگرمی 3.9 کرنے کے بعد آپ کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ دھاتوں کے جو نمونے آپ نے لیے ہیں ان میں سے سب سے زیادہ تعامل پذیر (Reactive) سوڈیم ہے۔ میگنیشیم کے تعامل کی شدت کم ہوتی ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ سوڈیم کی طرح تعامل پذیر نہیں ہے۔ لیکن زنک، لوہا، کاپر یا لیڈ کا آکسیجن میں جلناان کی تعامل پذیری کا تعین کرنے میں ہماری مدد نہیں کرتا۔ آئیے کچھ اور تعاملات دیکھیں تاکہ ان دھاتوں کی تعاملیت کی ترتیب کے بارے میں کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔

3.2.2 جب دھاتیں پانی سے تعامل کرتی ہیں توکیا ہوتا ہے؟

(What happens when Metals react with Water?

سرگرمی 3.10

احتیاط : اس سرگرمی میں استاد کی مدد کی ضرورت ہے۔
سرگرمی 3.9 میں دھاتوں کے جو نمونے آپ نے لیے تھے، انھیں دوبارہ جمع کیجیے۔
نمونوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو الگ الگ بیکروں میں رکھیے جن میں نصف حصے تک پانی بھرا ہوا ہو۔
کون سی دھات ٹھنڈے پانی سے تعامل کرتی ہے؟ انھیں ٹھنڈے پانی کے ساتھ تعاملیت کی بڑھتی ہوئی ترتیب میں لگائیں۔
  کیا کوئی دھات پانی میں آگ پیدا کرتی ہے؟
 کیا کوئی دھات کچھ وقت کے بعد پانی کی سطح پر تیرنے لگتی ہے؟
جو دھاتیں ٹھنڈے پانی سے تعامل نہیں کرتیں انھیں ایسے بیکروں میں رکھیے جن میں نصف حصے تک گرم پانی بھرا ہوا ہو۔
وہ دھاتیں جو گرم پانی سے تعامل نہیں کرتیں ان کے لیے شکل 3.3 کی طرح آلات کو مرتب کیجیے اور بھاپ کے ساتھ ان کے تعامل کا مشاہدہ کیجیے۔
کون سی دھات بھاپ کے ساتھ بھی تعامل نہیں کرتی؟
دھاتوں کو پانی کے ساتھ ان کی تعاملیت کی گھٹتی ہوئی ترتیب میں رکھیے۔

Pic 6 Chapture3

شکل 3.3 دھات پر بھاپ کا عمل

دھاتیں پانی سے تعامل کرکے دھاتی آکسائڈ اور ہائڈروجن گیس بناتی ہیں۔ وہ دھاتی آکسائڈ جو پانی میں حل پذیر ہوتے ہیں اس میں تحلیل ہو کر مزید دھاتی ہائڈراکسائڈ بناتے ہیں۔ لیکن سبھی دھاتیں پانی سے تعامل نہیں کرتیں۔
ہائڈروجن  +  دھاتی آکسائڈ →  پانی  +  دھات
دھاتی ہائڈراکسائڈ → پانی  +  دھاتی آکسائڈ
پوٹاشیم اور سوڈیم جیسی دھاتیں ٹھنڈے پانی کے ساتھ کافی تیزی سے تعامل کرتی ہیں۔ سوڈیم اور پوٹاشیم کے معاملے میں تو یہ تعامل اتنا تیز اور حرارت زا ہوتا ہے کہ خارج ہونے والی ہائڈروجن گیس آگ پکڑلیتی ہے۔
Pic Text 5 Chapture3
کیلشیم اور پانی کے درمیان تعامل کی شدت کم ہوتی ہے۔ خارج ہونے والی حرارت اتنی نہیں ہوتی کہ ہائڈروجن آگ پکڑلے۔
Pic text 6 Chapture3
کیلشیم تیرنا شروع کردیتا ہے کیونکہ ہائڈروجن گیس کے جو بلبلے بنتے ہیں وہ دھات کی سطح سے چپک جاتے ہیں۔
میگنیشیم دھات ٹھنڈے پانی کے ساتھ تعامل نہیں کرتی ہے۔ یہ گرم پانی سے تعامل کرکے میگنیشیم ہائڈراکسائڈ اور ہائڈروجن بناتی ہے۔ یہ بھی تیرنا شروع کرتا ہے کیوں کہ ہائڈروجن گیس کے بلبلے اس کی سطح سے چپک جاتے ہیں۔
ایلومینیم، لوہا اور زنک ایسی دھاتیں ہیں جو نہ تو ٹھنڈے پانی اور نہ ہی گرم پانی کے ساتھ تعامل کرتی ہیں۔ لیکن یہ بھاپ کے ساتھ تعامل کرکے دھاتی آکسائڈ اور ہائڈروجن بناتی ہیں۔
Text 7 Capture3
لیڈ، کاپر، چاندی اور سونا جیسی دھاتیں پانی سے بالکل تعامل نہیں کرتی ہیں۔
3.2.3 جب دھاتیں تیزاب سے تعامل کرتی ہیں تو کیا ہوتا ہے؟
(What happens when Metals react with Acids?)
آپ پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ دھاتیں تیزاب سے تعامل کرکے نمک اور ہائڈروجن گیس بناتی ہے۔
ہائڈروجن  +  نمک  → ڈائی لیوٹ ایسڈ  +  دھات

سرگرمی 3.11

سوڈیم اور پوٹاشیم کے علاوہ دھاتوں کے سبھی نمونے جمع کیجیے۔
اگر نمونوں پر داغ وغیرہ ہوں تو انھیں ریگ مال سے رگڑ کر صاف کر لیجیے۔
احتیاط: سوڈیم اور پوٹاشیم مت لیجیے کیونکہ یہ توٹھنڈے پانی کے ساتھ بھی بہت تیزی سے تعامل کرتے ہیں۔
ان نمونوں کوہائڈرو کلورک ایسڈ پر مشتمل علاحدہ علاحدہٹیسٹ ٹیوب میں رکھیے۔
ہرایک ٹیسٹ ٹیوب میں تھرمامیٹر اس طرح فٹ کیجیے کہ اس کا بلب تیزاب میں ڈوبا ہوا ہو۔
بلبلے بننے کی شرح کا ہوشیاری کے ساتھ مشاہدہ کیجیے۔
کون سی دھات ڈائی لیوٹ ہائڈروکلورک تیزاب کے ساتھ تیزی سے تعامل کرتی ہے؟
کس دھات کے معاملے میں آپ نے سب سے زیادہ درجۂ حرارت نوٹ کیا ہے؟
دھاتوں کو ڈائی لیوٹ تیزاب کے ساتھ تعاملیت کی گھٹتی ہوئی ترتیب میں رکھیے۔

میگنیشیم، ایلومینیم، زنک اور لوہے کی ڈائی لیوٹ ہائڈروکلورک ایسڈ کے ساتھ تعاملات کی مساوات لکھیے۔
جب کوئی دھات نائٹرک تیزاب کے ساتھ تعامل کرتی ہے تو ہائڈروجن گیس نہیں نکلتی ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ HNO3 ایک طاقتور تکسیدی ایجنٹ ہے۔ یہ خارج ہونے والی ہائڈروجن کی تکسید کرکے پانی میں تبدیل کردیتا ہے اور خود تحویل ہو کر کسی بھی نائٹروجن آکسائڈ (NO2, NO, N2O) میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ لیکن میگنیشیم (Mg) اور مینگنیز (Mn) بہت زیادہ ڈائی لیوٹ HNO3 کے ساتھ تعامل کرکے ہائڈروجن گیس خارج کرتے ہیں۔
سرگرمی 3.11 میں آپ نے ضرور مشاہدہ کیا ہوگا کہ بلبلے بننے کی شرح میگنیشیم کے معاملے میں سب سے زیادہ تھی۔ تعامل بھی سب سے زیادہ حرارت زا تھا۔ اس سرگرمی میں تعاملیت کی گھٹتی ہوئی ترتیب اس طرح ہے: 
Mg > Al > Zn > Feکاپر کے معاملے میں کوئی بلبلہ نہیں دکھائی دیا اور نہ ہی درجہ حرارت میں کوئی تبدیلی آئی۔ یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کاپر ڈائی لیوٹ HCl کے ساتھ تعامل 
نہیں کرتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

ماء الملوک یا ایکوا ریجیا (لاطینی میں ’’شاہی پانی‘‘) مرتکز ہائڈروکلورک تیزاب اور مرتکز نائٹرک تیزاب کا 3 : 1 کے تناسب میں تیار کیا گیا آمیزہ ہے۔ یہ سونے کوحل کر سکتا ہے جبکہ دونوں تیزاب الگ الگ اکیلے ایسا نہیں کرسکتے۔ Aqua regia ایک بہت زیادہ تاکلی اور دھواں پیدا کرنے والا رقیق ہے۔ یہ ان چند ایجنٹوں میں سے ایک ہے جو سونا اور پلیٹینم کوحل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔


3.2.4دھاتیں دوسرے دھاتی نمکوں کے محلول کے ساتھ کس طرح تعامل کرتی ہیں؟ 

(How do Metals react with Solutions of other Metal Salts?)

سرگرمی 3.12

کاپر کا ایک صاف ستھرا تار اور ایک لوہے کی کیل لیجیے۔
کاپر کے تار کوٹیسٹ ٹیوب میں لیے گئے آئرن سلفیٹ کے محلول میں اور لوہے کی کیل کوٹیسٹ ٹیوب میں لیے گئے کاپر سلفیٹ کے محلول میں رکھیے۔ (شکل 3.4)۔
بیس منٹ کے بعد مشاہدہ کیجیے اور نوٹ کیجیے۔
کس ٹیسٹ ٹیوب میں آپ نے پایا کہ تعامل ہوا ہے؟
کس بنیاد پر آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ واقعی تعامل ہوا ہے؟
کیا سرگرمی 3.9، 3.10 اور 3.11 کے درمیان آپ کوئی تعلق قائم کر سکتے ہیں؟
جو تعامل ہوا ہے اس کی متوازن کیمیائی مساوات لکھیے۔
تعامل کی قسم لکھیے۔

زیادہ تعامل پذیر دھاتیں کم تعامل پذیر دھاتوں کو ان کے مرکبات کے محلول یا پگھلی ہوئی حالت سے ہٹا دیتی  ہیں۔
گذشتہ سیکشنوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ سبھی دھاتیں مساوی طور پر تعامل نہیں کرتی ہیں۔ ہم نے آکسیجن، پانی اور تیزابوں کے ساتھ مختلف دھاتوں کی تعامل پذیری کی جانچ کی ہے۔ لیکن سبھی دھاتیں ان ایجنٹوں سے تعامل نہیں کرتی ہیں۔ اس لیے جمع کیے گئے سبھی دھاتی نمونوں کو ہم ان کی تعاملیت کی گھٹتی ہوئی ترتیب میں نہیں رکھ پائے۔

Pic 7 Chapture3

شکل 3.4 نمک محلولوں کے ساتھ دھاتوں کا تعامل

ہٹاؤ تعاملات جن کا مطالعہ آپ نے باب 1 میں کیا ہے، دھاتوں کی تعامل پذیری کے سلسلے میں بہتر ثبوت پیش کرتے ہیں۔ یہ بات سادہ اور آسان ہے اگر دھات A دھات B کو اس کے محلول سے ہٹا دیتی ہے تو دھات A ، دھات B سے زیادہ تعامل پذیر ہے۔
دھات B + A کا نمکی محلول → B کا نمکی محلول + دھات A
سرگرمی 3.12 کے مشاہدے کی بنیاد پر بتائیے کہ کاپر اور لوہے میں کون سی دھات زیادہ تعاملی ہے؟

دھات B + A کا نمکی محلول ® B کا نمکی محلول + دھات A

سرگرمی 3.12 کے مشاہدے کی بنیاد پر بتائیے کہ کاپر اور لوہے میں کون سی دھات زیادہ تعاملی ہے؟

3.2.5 تعاملیتی سلسلہ (The Reactivity Series)

تعاملیتی سلسلہ ایک ایسی فہرست ہے جس میں دھاتوں کو ان کی تعامل پذیری کی گھٹتی ہوئی ترتیب میں رکھا گیا ہے۔ ہٹاؤ تجربات انجام دینے کے بعد (سرگرمی 1.9 اور 3.12) دھاتوں کی مندرجہ ذیل ترتیب (جدول 3.2) تیار کی گئی ہے جس کو تعاملیتی سلسلہ کہتے ہیں۔

جدول 3.2  تعاملی سلسلہ: دھاتوں کی نسبتی تعامل پذیری

K                              پوٹاشیم
Na                             سوڈیم
Ca                              کیلشیم
Mg                           میگنیشیم
A1                           ایلومینیم
Zn                              زنک
Fe                                 لوہا
Pb                        لیڈ یا سیسہ 
(H)                       ]ہائڈروجن[
Cu                               کاپر
Hg                            مرکری
Ag                             چاندی
Au                               سونا
سب سے زیادہ تعامل پذیر



گھٹتی ہوئی تعامل پذیری




سب سے کم تعامل پذیر


سوالات

سوڈیم کومٹی کے تیل کے اندر ڈباکر کیو رکھا جاتا ہے؟
مندرجہ ذیل تعاملات کے لیے مساوات لکھیے۔
(i) لوہے کا بھاپ کے ساتھ تعامل
(ii) کیلشیم اور پوٹاشیم کا پانی کے ساتھ تعامل
دھات A، B، C اور D کے نمونے لیے گئے اور انھیں مندرجہ ذیل محلول میں یکے بعد دیگر ڈالا گیا۔ حاصل شدہ نتائج کی  مندرجہ ذیل طریقہ سے جدول سازی کی گئی ہے۔
سلور نائٹریٹ زنک سلفیٹ کاپر (II) سلفیٹ آئرن (II) سلفیٹ دھات


ہٹائو تعامل
کوئی تعامل نہیں

کوئی تعامل نہیں
کوئی تعامل نہیں
کوئی تعامل نہیں
ہٹائو تعامل

کوئی تعامل نہیں
کوئی تعامل نہیں
کوئی تعامل نہیں
ہٹائو تعامل
کوئی تعامل نہیں
کوئی تعامل نہیں
A
B
C
D
جدول کی مدد سے دھات A، B، C اور D کے متعلق مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب دیجیے۔
(i) کون سی دھات سب سے زیادہ تعامل پذیرہے؟
(ii) جب B کو کاپر (II) سلفیٹ کے محلول میں ڈالا جاتا ہے تو آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟
(iii) دھات A، B، C اور D کو ان کی  تعامل پذیری کی گھٹتی ہوئی ترتیب میں لکھیے۔
جب ڈائی لیوٹ ہائڈروکلورک تیزاب کو کسی تعامل پذیر دھات کے ساتھ ملایا جاتا ہے تو کون سی گیس پیدا ہوتی ہے؟ لوہا اور ڈائی لیوٹ H2SO4 کے درمیان ہونے والے تعامل کی کیمیائی مساوات لکھیے۔
جب زنک کو آیرن (II) سلفیٹ کے محلول میں ڈالا جاتا ہے تو آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟ جو کیمیائی تعامل ہوتا ہے اسے لکھیے۔

3.3 دھاتیں اور غیر دھاتیں کس طرح تعامل کرتی ہیں؟

(How do Metals and Non-Metals React?)

مذکورہ بالا سرگرمیوں میں آپ نے مختلف ایجنٹ کے ساتھ دھاتوں کے تعاملات کا جائزہ لیا ہے۔ دھاتیں اس طریقے سے کیوں تعامل کرتی ہیں؟ آئیے یاد کریں جو ہم نے نویں جماعت میں عناصر کے الیکٹرانی تشکل کے متعلق پڑھا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ غیر نوبل گیس جن کے گرفتی شیل مکمل طور پر بھرے وئے ہوتے ہیں اور نہ کے برابرکیمیائی تعامل کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس لیے ہم عناصر کی تعاملیت کی وضاحت گرفتی شیل کو مکمل طور پر بھرنے کے رجحان کی بنیاد پر کرتے ہیں۔
آئیے نوبل گیسوں اور کچھ دھاتوں اور غیر دھاتوں کے الیکٹرانی تشکل پر ایک نظر ڈالی جائے۔
جدول 3.3 میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ سوڈیم ایٹم کے سب سے باہری شیل میں ایک الیکٹران ہے۔ اگر یہ M شیل سے الیکٹران کھو دیتا ہے تو اس کا L شیل سب سے باہری شیل بن جاتا ہے جس کا آکٹیٹ (Octet) مستحکم ہوتا ہے۔ اس ایٹم کے نیوکلیس میں ابھی بھی 11 پروٹان ہیں لیکن الیکٹرانوں کی تعداد 10 ہوگئی ہے، اس طرح اس ایٹم پر کل مثبت چارج آجاتا ہے اور سوڈیم کیٹ آین  (Na+Cation) حاصل ہوتا ہے۔ دوسری طرف اگر سوڈیم اور کلورین کے درمیان تعامل ہوتا ہے تو کلورین کے سب سے باہری شیل میں 7 الیکٹران ہیں اور اسے اپنا آکٹیٹ مکمل کرنے کے لیے ایک الیکٹران کی ضرورت ہے۔

جدول 3.3 کچھ عناصر کے الیکٹرانی تشکل


شیل میں الیکٹرانوں کی تعداد
K      L    M      N
ایٹمی عدد عنصر عنصر کی قسم
2
2    8
2    8      8
2    8      1
2    8      2
2     8     3
2     8     8       1
2     8     8        2
2     5
2     6
2     7
2     8     5
2     8     6
2     8    7
2
10
18
11
12
13
19
20
7
8
9
15
16
17
(He)ہیلیم 
(Ne)نیون 
(Ar)آرگن 
 (Na)سوڈیم
 (Mg)میگنیشیم
 (Al)ایلیومینیم
 (K)پوٹاشیم
(Ca)کیلشیم 
 (N)نائٹروجن
(O)آکسیجن 
(F)فلورین 
 (P)فاسفورس
(S)سلفر 
(Cl)  کلورین
نوبل گیسیں





دھاتیں




غیر دھاتیں

 اگرسوڈیم کے ذریعہ کھویا گیا الیکٹران کلورین حاصل کرسکتا ہے ۔ ایک الیکٹران حاصل کرنے کے بعد کلورین پر اکائی منفی چارج آجاتا ہے کیونکہ اس کے نیوکلیس میں 17 پروٹان ہوتے ہیں اور K، L اور M شیلوں میں 18 الیکٹران ہوتے ہیں۔ اس سے ہمیں کلورائڈ این آئن(C1-Anion) حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے یہ دونوں عناصر مندرجہ ذیل طریقہ سے ایک دوسرے کے ساتھ لین دین کا تعلق رکھتے ہیں (شکل 3.5)۔

Pic 12 Capture 3
شکل 3.5  سوڈیم کلورائڈ کا بننا
سوڈیم اور کلورائڈ آین پر برعکس چارج ہونے کی وجہ سے یہ ایک دوسرے کے لیے کشش رکھتے ہیں اور ایک مضبوط برق سکونی قوت کی مدد سے ایک دوسرے سے جڑ کر سوڈیم کلورائڈ (NaCl) بناتے ہیں۔ یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ سوڈیم کلورائڈ سالمہ کی شکل میں نہیں پایا جاتا بلکہ برعکس چارج شدہ آینوں کے مجموعے کی شکل میں پایا جاتاہے۔
آئیے ایک اور آینی مرکب، میگنیشیم کلورائڈ کے بننے کا مشاہدہ کرتے ہیں (شکل 3.6)۔

Pic 13 Capture3
شکل 3.6 میگنیشیم کلورائڈ کی تشکیل
ایک دھات سے دوسری غیر دھات میں الیکٹرانوں کی منتقلی کے ذریعہ بننے والے مرکبات آینی مرکبات یا برق گرفتی (Electrovalent) مرکبات کہلاتے ہیں۔ کیا آپ MgCl2 میں موجودکیٹ آین اور این آین کے نام بتاسکتے ہیں؟

3.3.1 آینی مرکبات کی خصوصیات (Properties of Ionic Compounds)

آینی مرکبات کی خصوصیات جاننے کے لیے مندرجہ ذیل سرگرمی انجام دیجیے:

سرگرمی 3.13

سائنس تجربہ گاہ سے سوڈیم کلورائڈ، پوٹاشیم آیوڈائڈ، بیریم کلورائڈ یا کسی دوسرے نمک کا نمونہ لیجیے۔
ان نمکوں کی طبیعی حالتیں کیسی ہیں؟
کسی ایک نمونہ کی تھوڑی سی مقدار ایک دھاتی کفچی (Spatula) پر لیجیے اورسیدھے ہی لو پر گرم کیجیے (شکل3.7)۔ دوسرے نمونوں کے ساتھ اس عمل کو دہرائیے۔
آپ نے کیا مشاہدہ کیا؟ کیا نمونے ،لو کو کوئی رنگ فراہم کرتے ہیں؟ کیا یہ مرکبات پگھلتے ہیں؟
نمونوں کو پانی، پیٹرول اور مٹی کے تیل میں حل کرنے کی کوشش کیجیے۔ کیا یہ حل پذیر ہیں؟
شکل 3.8 کی طرح ایک سرکٹ تیار کیجیے اور کسی ایک نمک کے محلول میں الیکٹروڈ داخل کیجیے۔ آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟ دوسرے نمونوں کی بھی اسی طریقہ سے جانچ کیجیے۔
ان مرکبات کی نوعیت کے سلسلہ میں آپ کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟
Pic 14 Chapture3
شکل 3.7 نمک کے ایک نمونہ کو کفچی پر گرم کرنا

جدول 3.8 کچھ آینی مرکبات کے نقطۂ جوش اور نقطۂ گداخت

(K)نقطۂ جوش 
  (K)نقطۂگداخت 
آینی مرکبات
1686
1600
1900
3120
1685
1074
887
1045
2850
981
NaCl
LiCi
CaCI2
CaO
MgCI2

آپ نے آینی مرکبات کی مندرجہ ذیل عام خصوصیات کا مشاہدہ کیا ہوگا:
بلب 
سوئچ 
بیکر
 گریفائڈ کی جھڑ
نمک محلول

Pic 16 Capture3
(i) طبیعی نوعیت (Physical Nature):آینی مرکبات مثبت اور منفی آینوں کے درمیان مضبوط قوت کشش کی وجہ سے ٹھوس اور کچھ سخت ہوتے ہیں۔ یہ مرکبات عموماً پھوٹک (Brittle) ہوتے ہیں اور دبائو ڈالنے پر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ٹوٹ جاتے ہیں۔
(ii) نقطۂ گداخت اور نقطۂ جوش (Melting and Boiling Points): آینی مرکبات کے نقطۂ گداخت اور نقطۂ جوش بہت زیادہ ہوتے ہیں (جدول 3.4 دیکھیے)۔ یہ اس لیے کہ ان کے آینوں کے درمیان مضبوط قوت کشش کو توڑنے کے لیے بہت زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
(iii) حل پذیری (Solubility): برق گرفتہ مرکبات عموماً پانی میں حل پذیر ہوتے ہیں اور مٹی تیل، پیٹرول وغیرہ جیسے محلولوں میں غیر حل پذیر ہوتے ہیں۔
(iv) برقی ایصالیت (Conduction of Electricity) : کسی محلول سے ہو کر برق کا ایصال چارج شدہ ذرات کی حرکت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کسی آینی مرکبات کے آبی محلول میں آین (Ions) موجود ہوتے ہیں۔ جب اس محلول میں بجلی گزاری جاتی ہے تو آین اپنے برعکس الیکٹروڈ کی جانب حرکت کرنے لگتے ہیں۔ آینی مرکبات کی ٹھوس شکل سے ہو کر بجلی نہیں گزرتی کیونکہ ان کی مضبوط ساخت کی بنیادپر ان کے آین میں حرکت ممکن نہیں ہے۔ لیکن آینی مرکبات کی پگھلی ہوئی حالت سے ہو کربجلی کا  ایصال ہوتا ہے۔ پگھلی ہوئی حالتوں میں یہ اس لیے ممکن ہوتا ہے کیونکہ حرارت کی وجہ سے آینوں کے متضاد چارجوں کے درمیان موجود برقی سکونی قوتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ اس لیے آین آزادانہ طور پر حرکت کرتے ہیں اوربجلی کا ایصال کرتے ہیں۔

سوالات


(i) سوڈیم، آکسیجن اور میگنیشیم کی الیکٹران ڈاٹ ساختیں لکھیے۔
(ii) الیکٹرانوں کی منتقلی کے ذریعے Na2O اور MgO کی تشکیل کو دکھائیے۔
(iii) ان مرکبات میں کون سے آین موجود ہوتے ہیں؟
آینی مرکبات کا نقطۂ گداخت زیادہ کیوں ہوتا ہے؟

3.4 دھاتوں کا وقوع (Occurrence of Metals)

قشر ارض دھاتوں کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ سمندر کے پانی میں بھی کچھ حل پذیرنمک جیسے سوڈیم کلورائڈ، میگنیشیم کلورائڈ وغیرہ پائے جاتے ہیں۔ عناصر یا مرکبات جو قشر ارض میں قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں معدنیات (Mineral) کہلاتے ہیں۔ کچھ جگہوں پر معدنیات کے اندر کسی مخصوص دھات کی ایک بڑی مقدار پائی جاتی ہے جس سے دھات کو فائدہ مند طریقہ سے نکالا جاسکتا ہے۔ ان معدنیات کو کچ دھات (Ore) کہا جاتا ہے۔

Pic 17 Chapture3

3.4.1 دھاتوں کا استخراج  (Extraction of Metals)

آپ نے دھاتوں کے تعاملیتی سلسلے کے بارے میں پڑھا ہے۔ اس علم کی مدد سے آپ یہ بات آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ دھاتوں کا استخراج ان کی کچ دھات سے کیسے کیا جاتاہے۔ کچھ دھاتیں قشرارض میں آزاد حالتوں میں پائی جاتی ہیں جبکہ کچھ مرکبات کی شکل میں پائی جاتی ہیں۔ تعاملیتی سلسلہ میں جو دھاتیں سب سے نیچے پائی جاتی ہیں وہ سب سے کم تعامل پذیرہوتی ہیں۔ یہ دھاتیں عموماً آزاد حالت میں پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر سونا، چاندی، پلاٹینم اور کاپر آزاد حالت میں پائے جاتے ہیں۔ کاپر اور سلور مرکب حالت میں اپنے سلفائڈ یا آکسائڈ کچ دھات کی شکل میں بھی پائے جاتے ہیں۔ تعاملیتی سلسلے کے اوپری حصّے میں موجود دھاتیں (K، Na، Ca، Mg اور Al) اتنی زیادہ تعامل پذیر ہوتی ہیں کہ یہ کبھی بھی قدرت میں آزاد عناصر کی حالت میں نہیں پائی جاتی ہیں۔ تعاملیتی سلسلے کے درمیان میں پائی جانے والی دھاتیں (Zn، Fe، Pb وغیرہ) معتدل تعامل پذیرہوتی ہیں۔ یہ قشر ارض میں خاص طور پر آکسائڈ، سلفائڈ یا کاربونیٹ کی شکل میں پائی جاتی ہیں۔ آپ پائیں گے کہ کئی دھاتوں کی کچ دھاتیں آکسائڈ ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آکسیجن ایک بہت زیادہ تعامل پذیر عنصر ہے اور زمین پر فراوانی سے پایا جاتاہے۔اس طرح تعامل پذیری کی بنیاد پر ہم دھاتوں کو تین گروپوں میں بانٹ سکتے ہیں (شکل 3.9)۔ (i) کم تعامل پذیر دھاتیں، (ii) معتدل تعامل پذیر دھاتیں اور (iii) بہت زیادہ تعامل پذیر دھاتیں۔ ہر ایک گروپ سے تعلق رکھنے والی دھاتوں کو حاصل کرنے کے لیے مختلف تکنیکوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
کچ دھاتوں سے خالص دھات کے استخراج میں کئی مراحل شامل ہوتے ہیں۔ شکل 3.10 میں ان مرحلوںکا خلاصہ دیا جارہا ہے۔ ہر ایک مرحلہ کو اگلے سیکشن میں پوری تفصیل سے واضح کیا گیا ہے۔
Pic 18 Chapture3
شکل 3.10 کچ دھاتوں سے دھاتوں کے استخراج میں شامل مختلف مراحل

3.4.2 کچ دھاتوں کی افزونی (Enrichment of Ores)

زمین سے نکالی گئی کچ دھاتوں میں بڑی مقدار میں مٹی، ریت وغیرہ جیسی ملاوٹیں پائی جاتی ہیں جنھیں گینگ (Gangue) کہا جاتا ہے۔ دھاتوں کے استخراج سے پہلے ان کچ دھاتوں سے ملاوٹوں کو باہر نکالنا ضروری ہوتا ہے۔ کچ دھات سے گینگ کو علیٰحدہ کرنے کا عمل گینگ اور کچ دھات کی طبعی یا کیمیائی خصوصیات میں فرق پر منحصر ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر علیحدگی کی  مختلف تکنیکیں استعمال کی جاتی ہیں۔
3.4.3 تعاملیتی سلسلہ میں سب سے نیچے پائی جانے والی دھاتوں کا استخراج

 3.4.3  تعاملیتی سلسلہ میں سب سے نیچے پائی جانے والی دھاتوں کا استخراج

 (Extracting Metals Low in the Activity Series)

تعاملیتی سلسلہ میں نیچے پائی جانے والی دھاتیں بہت زیادہ غیر تعامل پذیر ہوتی ہیں۔ ان دھاتوں کے آکسائڈوں کو صرف گرم کرکے دھاتوں میں تحویل کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر، سینابار (HgS) مرکری کی ایک کچ دھات ہے۔ 
جب اسے ہوا میں گرم کیا جاتا ہے تو یہ مرکیورک آکسائڈ (HgO) میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ مرکیورک آکسائڈ کو اور زیادہ گرم کرنے پر اس کی مرکری میں تحویل ہو جاتی ہے۔
Pic Text 14 Chapture3
اس طرح کاپر جو قدرتی ماحول میں Cu2S کی شکل میں پایا جاتا ہے، صرف گرم کرکے اپنی کچ دھات سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
Pic Text 15 Capture

3.4.4 ان دھاتوںکا استخراج جوتعاملیتی سلسلہ کے درمیان میں ہوتی ہیں

(Extracting Metals in the Middle of the Activity Series)

تعاملیتی سلسلہ کے درمیان میں پائی جانے والی دھاتیں جیسے لوہا، زنک، لیڈ، کاپر معتدل طور پر تعامل پذیرہوتی ہیں۔ یہ قدرتی ماحول میں عام طور پر سلفائڈ یا کاربونیٹ کی شکل میں پائی جاتی ہیں۔ دھاتوں کو ان کے آکسائڈوں سے نکالنا اُن کے سلفائڈ اور کاربونیٹ کے مقابلے آسان ہوتا ہے۔ اس لیے دھاتی سلفائڈ اور کاربونیٹ تحویل سے پہلے ہمیشہ دھاتی آکسائڈ میں تبدیل کیے جاتے ہیں۔ سلفائڈ کچ دھاتوں کو آکسائڈ میں بدلنے کے لیے ہوا کی زیادتی میں بہت زیادہ گرم کیا جاتا ہے۔ اس عمل کو روسٹنگ (Roasting) کہتے ہیں۔ کاربونیٹ کچ دھاتوں کو آکسائڈ میں بدلنے کے لیے محدود ہوا میں کافی گرم کیا جاتا ہے۔ اس عمل کو تکلیس (Calcination) کہتے ہیں۔ زنک کچ دھات کی روسٹنگ اورتکلیس کے عمل کے دوران جو کیمیائی تعامل ہوتے ہیں، اسے مندرجہ ذیل طریقے سے دکھایا جاسکتا ہے۔
Pic Text 16 Capture3
اس کے بعد کاربن جیسے کسی مناسب تحویلی ایجنٹ کے استعمال سے دھاتی آکسائڈوں کی نظیری دھات میں تحویل ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر جب زنک آکسائڈ کو کاربن کے ساتھ گرم کیا جاتا ہے تو اس کی دھاتی زنک میں تحویل ہو جاتی ہے۔
Pic Text 17 Chaper3
آپ پہلے سے ہی تکسید اور تحویل کے عملوں سے واقف ہیں جن کا ذکر باب 1 میں کیا گیا ہے۔ دھاتوں کو ان کے مرکبات سے حاصل کرنے کا عمل بھی ایک تحویلی عمل ہے۔
دھاتی آکسائڈوں کی دھاتوں میں تحویل کے لیے کاربن (کوک) کے استعمال کے علاوہ کبھی کبھی ہٹاؤ تعاملات کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔ سوڈیم، کیلشیم، ایلیومینیم وغیرہ جیسی بہت زیادہ تعامل پذیر دھاتوں کا استعمال تحویلی ایجنٹ کے طورپر کیا جاتا ہے کیونکہ یہ کم تعامل پذیر دھاتوں کو ان کے مرکبات سے ہٹا دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر جب مینگنیز ڈائی آکسائڈ کو ایلیومینیم کے سفوف کے ساتھ گرم کیا جاتا ہے تو مندرجہ ذیل تعامل ہوتا ہے:
Pic text 18 Capture3
Pic 19 Capture3
شکل 3.11 ریل کی پٹریوں کو جوڑنے کے لیے تھرمائٹ عمل  

کیا آپ ان اشیا کی پہچان کر سکتے ہیں جن کی تکسید اور تحویل ہو رہی ہے۔ 
یہ ہٹاؤتعاملات بہت زیادہ حرارت زا ہوتے ہیں۔ خارج ہونے والی حرارت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ دھاتیں پگھلی ہوئی حالت میں حاصل ہوتی ہیں۔ درحقیقت آیرن (III) آکسائڈ (Fe2O3) اورایلیومینیم کے درمیان ہونے والے  تعامل کا استعمال ریل کی پٹریوں اورمشین کے ٹوٹے حصّوں کو جوڑنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس تعامل کو تھرمائٹ تعامل (Thermit reaction) کہتے ہیں۔
Pic Text 19 Capture3

3.4.5 ان دھاتوں کا استخراج جو تعاملیتی سلسلہ میں اوپر کی جانب ہوتی ہیں 

(Extracting Metals towards the Top of the Activity Series)

جو دھاتیں تعاملیتی سلسلہ میں اوپر کی جانب ہوتی ہیں وہ کافی تعامل پذیرہوتی ہیں۔ انھیں ان کے مرکبات سے کاربن کے ساتھ گرم کرکے حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر سوڈیم، میگنیشیم، کیلشیم، ایلیومینیم وغیرہ کے آکسائڈوں کی کاربن کے ذریعے تحویل کرکے متعلقہ دھات میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دھاتوں کی وابستگی (Affinity) کاربن کے مقابلے آکسیجن سے زیادہ ہے۔ یہ دھاتیں الیکٹرولائٹک تحویل کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر سوڈیم، میگنیشیم اور کیلشیم کو ان کے پگھلے ہوئے کلورائڈوں کی برق پاشیدگی کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ دھاتیںکیتھوڈ(منفی چارج شدہ الیکٹروڈ) پر جمع ہوتی ہیں جبکہ کلورین، اینوڈ(منفی چارج شدہ الیکٹروڈ) پر خارج ہوتی ہے۔ تعاملات مندرجہ ذیل ہیں:
Pic Text 20  Capture3
اسی طرح ایلیومینیم آکسائڈ کی برقی تحویل سے ایلیومینیم حاصل کیا جاتا ہے۔
3.4.6 دھاتوں کی تخلیص (Refining of Metals)
مختلف تحویلی عملوں کے ذریعہ حاصل شدہ دھاتیں بہت زیادہ خالص نہیں ہوتی ہیں۔ ان کے اندر ملاوٹیں موجود ہوتی ہیں جنھیں دور کرکے ہی خالص دھات حاصل کی جاسکتی ہے۔ غیر خالص دھاتوں کی تخلیص کے لیے سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا طریقہ برق پاشیدی تخلیص (Electrolytic Refining) ہے۔
Pic 20 Capture3
شکل 3.12 

کاپر کی برق پاشیدی تخلیص۔ الیکٹرولائٹ کاپرسلفیٹ کا تیزابی محلول ہے۔ اینوڈ ایک غیر خالص کاپر ہے جبکہ کیتھوڈ خالص کاپر کی ایک پٹی ہے۔ بجلی گزارنے پر خالص کاپرکیتھوڈ پر جمع ہوجاتا ہے۔

برق پاشیدی تخلیص (Electrolytic Refining) :

 کاپر، زنک، ٹن، نکل، چاندی، سونا وغیرہ جیسی کئی دھاتوںکی تخلیص برق پاشیدگی کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ اس عمل میں غیر خالص دھات کواینوڈ اور خالص دھات کی ایک پتلی پٹّی کوکیتھوڈ بنایا جاتا ہے۔ شکل 3.12 کی طرح آلات کو منظم کیا جاتا ہے۔ الیکٹرولائٹ سے ہو کر بجلی گزارنے پر اینوڈ سے خالص دھات تحلیل ہوکر الیکٹرولائٹ میں مل جاتی ہے۔ اسی مقدار میں خالص دھات الیکٹرولائٹ سے نکل کرکیتھوڈ پر جمع ہوتی ہے۔ حل پذیر ملاوٹیں محلول میں مل جاتی ہیں جبکہ غیر حل پذیر ملاوٹیں اینوڈ کے نیچے بیٹھ جاتی ہیں جنھیں اینوڈ کیچڑ (Anode Mud) کہا جاتا ہے۔

سوالات

مندرجہ ذیل اصطلاحات کی تعریف کیجیے۔
(i) معدنیات (ii) کچ دھات (iii) گینگ
دو ایسی دھاتوں کے نام بتائیے جو قدرتی ماحول میں آزادانہ طور پر پائی جاتی ہیں۔
دھاتوں کو ان کے آکسائڈوں سے حاصل کرنے کے لیے کون سا کیمیائی عمل بروئے کارلایاجاتا ہے۔

3.5 تاکل (Corrosion)

تاکل کے بارے میں باب -1 میں آپ نے مندرجہ ذیل باتیں پڑھی ہیں:
چاندی کے برتنوں کو جب ہوا میں کھلا چھوڑدیا جاتا ہے تو وہ کچھ دیر بعد کالے پڑجاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہوا میں موجود سلفر کے ساتھ تعامل کرکے سلور سلفائڈ کی پرت بنالیتی ہے۔
کاپر ہوا میں نم کاربن ڈائی آکسائڈ کے ساتھ تعامل کرکے اپنی چمکدار بھوری سطح کھو کر ہری پرت حاصل کرلیتا ہے۔ یہ ہرا مادّہ اساسی کاپر کاربونیٹ ہوتا ہے۔
لوہے کو جب نم ہوا میں لمبے وقت تک کھلا چھوڑدیا جاتا ہے تو اس کے اوپر ایک بھوری خستہ پرت جمع جاتی ہے جسے زنگ کہتے ہیں۔

Pic 21 Capture3

شکل 3.13

  ایسے حالات کی جانچ جس میں لوہے پر زنگ لگتا ہے۔ ٹیسٹ ٹیوب Aمیں ہوا اور پانی دونوں موجود ہیں۔ B میں پانی کے اندر ہواگھلی ہوئی نہیں ہے۔ ٹیسٹ ٹیوب C میں ہوا خشک ہے۔

 سرگرمی 3.14

تین ٹیسٹ ٹیوب لیجیے اور ہر ایک میں لوہے کی صاف کیلیں ڈالیے۔
ان ٹیسٹ ٹیوبوں کے نام A، B اور C رکھیے۔ ٹیسٹ ٹیوب A میں کچھ پانی ڈالیے اور کارک کی مدد سے بند کر دیجیے۔
ٹیسٹ ٹیوب‚ B میں ابالا ہوا کشیدہ پانی ڈالیے اور تقریباً 1 ملی لیٹر تیل ڈال کر اسے کارک کی مدد سے بند کردیجیے۔ تیل پانی کے اوپر تیرنے لگے گا اور پانی میں ہوا کو حل نہیں ہونے دے گا۔
ٹیسٹ ٹیوب C میں کچھ نابیدہ کیلشیم کلورائڈ لیجیے اور اسے کارک سے بند کر دیجیے۔ نابیدہ کیلشیم کلورائڈ ہوا میں موجود نمی کو جذب کرلیتا ہے۔ کچھ دنوں کے لیے ان ٹیسٹ ٹیوبوں کو چھوڑ دیجیے اور پھر ان کا مشاہدہ کیجیے (شکل 3.13)۔

آپ مشاہدہ کریں گے کہ ٹیسٹ ٹیوب A میں لوہے کی کیلوں میں زنگ لگتا ہے جبکہ B اور C میں نہیں۔ ٹیسٹ ٹیوب A میں کیلیں ہوا اور پانی دونوں کے رابطہ میں ہوتی ہیں۔ ٹیسٹ ٹیوب B میں کیلیں صرف پانی اور ٹیسٹ ٹیوب C میں کیلیں صرف خشک ہوا کے رابطے میں آئیں۔ لوہے کے سامان میں زنگ لگنے کے متعلق یہ ہمیں کیا بتاتی ہے؟

3.5.1 تاکل کی روک تھام (Prevention of Corrosion)

لوہے کو زنگ لگنے سے بچانے کے لیے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ مثلاً پینٹ کرکے، سطح پر تیل لگا کر، گریز لگاکر، گیلوینائزنگ ، کروم پلیٹنگ، اینوڈائزنگ یا بھرت بنا کر۔
جست کاری (Galvanisation) اسٹیل اور لوہے کو زنگ لگنے سے بچانے کا ایک طریقہ ہے جس میں ان کے اوپر جست کی ایک پتلی پرت چڑھادی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر لوہا سب سے زیادہ استعمال ہونے والی دھات ہے لیکن کبھی بھی اس کو خالص حالت میں استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خالص لوہا بہت نرم ہوتا ہے اور گرم کرنے پر آسانی سے پھیل جاتا ہے۔ جب اس میں کاربن کی تھوڑی مقدار ملادی جاتی ہے (تقریباً 0.05 فیصد) تو یہ بہت مضبوط اور سخت ہو جاتا ہے۔ جب لوہے کے ساتھ نکل اور کرومیم ملایا جاتا ہے تو ہمیں اسٹین لیس اسٹیل (Stainless Steel) حاصل ہوتا ہے جو سخت ہوتا ہے اور جس میں زنگ نہیں لگتا ہے۔ اس طرح سے اگر لوہے میں کچھ دوسری اشیا کی آمیزش کردی جاتی ہے تو اس کی خصوصیات تبدیل ہو جاتی ہیں۔ در حقیقت کسی بھی دھات کی خصوصیات کو اس میں کچھ دوسری اشیا کی آمیزش کرکے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ جن اشیا کی آمیزش کی جاتی ہے وہ دھات اور غیر دھات دونوں ہو سکتی ہیں۔ ایک بھرت (Alloy) دو یادو سے زیادہ دھاتوں یا ایک دھات اور ایک غیر دھات کا متجانس آمیزہ ہے۔ اسے بنانے کے لیے سب سے پہلے بنیادی دھات کو پگھلایا جاتا ہے اور پھر اس میں دوسرے عناصر کو مخصوص تناسب میں حل کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسے کمرہ کے درجۂ حرارت پر ٹھنڈا کر دیا جاتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

خالص سونا جو 24 قراط کے نام سے جانا جاتا ہے بہت نرم ہوتا ہے۔ اس لیے یہ زیورات بنانے کے لیے موزوں نہیں ہوتا ہے۔ اسے چاندی یا کاپر کے ساتھ ملاکر بھرت میں تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ یہ سخت ہو جائے۔ ہندوستان میں عام طور پر 22 قراط سونا زیورات بنانے کے کام میں لایا جاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اصلی سونے 22 حصّے کاپر یا سلور کے 2 حصّے کے ساتھ ملاکر بھرت میں تبدیل کیا گیا ہے۔

اگر دھاتوں میں سے ایک مرکری ہوتو بھرت کو ا ملغم (Amalgam) کہا جاتا ہے۔ بھرت کی برقی ایصالیت اور نقطۂ گداخت خالص دھاتوں کے مقابلہ کم ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر پیتل جو کاپر اور جستہ (Cu اور Zn) کی  ایک بھرت ہے اور کانسا جو کاپر اور ٹن (Cu اور Sn) کی  بھرت ہے، بجلی کے اچھے موصل نہیں ہیں جبکہ کاپر کا استعمال برقی سرکٹ بنانے میں کیا جاتا ہے۔ سولڈر جوکہ لیڈ اور ٹن (Pb اور Sn) کی بھرت ہے، اس کا نقطۂ گداختکم ہوتا ہے اور اس کا استعمال برقی تاروں کی ویلڈنگ میں کیا جاتا ہے۔

مزید جانکاری!

قدیم ہندوستانی فلز کاری کا کارنامہ

دلّی میں قطب مینار کے پاس موجود لوہے کا ستون تقریباً 1600سال سے پہلے ہندوستان کے لوہے کے کاریگروں نے بنایا تھا۔ ان لوگوں نے ایک ایسے عمل کی ایجاد کی تھی جو لوہے کو زنگ لگنے سے روکتا تھا۔ دنیا بھر کے سائنس دانوں نے اس کی زنگ روک صلاحیت کی جانچ کی ہے۔ اس آہنی ستون کی اونچائی 8 میٹر اور وزن 6 ٹن (6000 کلوگرام) ہے۔

Pic 22 Capture3

دہلی میں آہنی ستون

سوالات

زنک، میگنیشیم اور کاپر کے دھاتی آکسائڈ مندرجہ ذیل دھاتوں کے ساتھ گرم کیے گئے:

کاپر میگنشیم زنک دھات
زنک آکسائڈ
میگنیشیم آکسائڈ
کاپر آکسائڈ

کس معاملے میں آپ ہٹاؤ تعامل کا مشاہدہ کریں گے؟
کون سی دھات آسانی کے ساتھ تاکل کا شکار نہیں ہوتی؟
بھرت کسے کہتے ہیں؟



آپ نے کیا سیکھا


عناصر کی درجہ بندی دھات اور غیر دھات کے تحت کی جاسکتی ہے۔
دھاتیں چمک دار، ورق پذیر، تار پذیر نیز حرارت اور بجلی کی موصل ہوتی ہیں۔ کمرہ کے درجۂ حرارت پر یہ ٹھوس ہوتی ہیں سوائے مرکری کے جو رقیق ہے۔
دھاتیں، غیر دھاتوں کو الیکٹران دے کر مثبت آین بناسکتی ہیں۔
دھاتیں آکسیجن کے ساتھ متحد ہوکر اساسی آکسائڈ بناتی ہیں۔ ایلیومینیم آکسائڈ اور زنک آکسائڈ تیزابی اور اساسی دونوں قسم کے آکسائڈوں کی خصوصیات کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ ایمفوٹیرک (Amphoteric) آکسائڈ کہلاتے ہیں۔
پانی اور ڈائی لیوٹ تیزاب کے ساتھ مختلف دھاتوں کی تعاملیت مختلف ہوتی ہے۔
عام دھاتوں کی ایک فہرست جس میں دھاتوں کو ان کی تعامل پذیری کی گھٹتی ہوئی ترتیب میں رکھا جاتا ہے، تعاملیتی سلسلہ کہلاتی ہے۔
تعاملیتی سلسلہ میں ہائڈروجن سے اوپر کی دھات ہائڈروجن کو ڈائی لیوٹ تیزاب سے ہٹا دیتی ہیں۔
ایک زیادہ تعامل پذیر دھات، کم تعامل پذیر دھات کو ان کے نمک محلول سے ہٹا دیتی ہیں۔
دھاتیں قدرت میں یا تو آزادانہ طور پر یاپھر اپنے مرکبات کی شکل میں پائی جاتی ہیں۔
دھاتوں کا ان کی کچ دھاتوں سے استخراج اور پھر ان کی تخلیص تاکہ وہ قابل استعمال ہو جائیں، فلزکاری کہلاتا ہے۔
بھرت دو یا دو سے زیادہ دھاتوں یا پھر ایک دھات اور ایک غیر دھات کا متجانس آمیزہ ہے۔
لوہے جیسی کچھ دھاتوں کی سطح کو جب کھلی نم ہوا میں لمبے وقت کے لیے چھوڑدیا جاتا ہے تو وہ زنگ آلود ہو جاتی ہیں۔ اس عمل کو تاکل (Corrosion) کہتے ہیں۔
غیر دھاتوں، کی خاصیت دھاتوں کے برعکس ہوتی ہے۔ یہ نہ تو ورق پذیر ہوتی ہیں اور نہ ہی تار پذیر۔ یہ حرارت اور بجلی کی خراب موصل ہوتی ہیں سوائے گریفائٹ کے جو بجلی کا ایصال کرتا ہے۔
غیر دھاتیں دھاتوں سے تعامل کرکے الیکٹران حاصل کرتی ہیں اور منفی چارج والے آین بناتی ہیں۔
غیر دھاتیں آکسائڈ بناتی ہیں جو یا تو تیزابی یاپھر تعدیلی ہوتے ہیں۔
غیر دھاتیں ڈائی لیوٹ تیزاب سے ہائڈروجن کو منتقل نہیں کرتیں۔ یہ ہائڈروجن سے تعامل کرکے ہائڈرائڈ بناتی ہیں۔


مشقیں

مندرجہ ذیل میں سے کون سا جوڑا ہٹائو تعامل کرے گا؟
(a) NaCl کا محلول اور کاپر دھات
(b) MgCl2 کا محلول اور ایلیومینیم دھات
(c) FeSO4 کا محلول اور سلور دھات
(d) AgNO3 کامحلول اور کاپر دھات
ان میں سے کون سا طریقہ لوہے کے برتن کو زنگ لگنے سے بچانے کے لیے موزوں ہے؟
(a) گریز لگاکر
(b) پینٹ کرکے
(c) جستہ کی پرت چڑھا کر
(d) مذکورہ بالا سبھی
3-کوئی عنصر آکسیجن سے تعامل کرکے ایک مرکب بناتا ہے جس کا نقطۂ گداخت زیاد ہوتا ہے۔ یہ مرکب پانی میں بھی حل پذیر ہے۔ یہ عنصر کیا ہو سکتا ہے:
(a) کیلشیم
(b) کاربن
(c) سیلیکان
(d) لوہا
کھانے کے برتن پر ٹن کی پرت چڑھی رہتی ہے نہ کہ جستے کی کیونکہ:
(a) جستہ، ٹن سے زیادہ مہنگا ہوتا ہے۔
(b) جستہ کا نقطۂ گداخت ٹن سے زیادہ ہوتا ہے۔
(c) جستہ، ٹن سے زیادہ تعامل پذیرہوتا ہے۔
(d) جستہ، ٹن سے کم تعامل پذیر ہوتا ہے۔
آپ کو ایک ہتھوڑا، ایک بیٹری، ایک بلب، تاریں اور ایک سوئچ دیے گئے ہیں۔
(a) آپ دھات اور غیر دھات کے نمونوں میں فرق کرنے کے لیے ان کا استعمال کس طرح کریں گے؟
(b) دھات اور غیر دھات میں فرق کرنے کے لیے ان ٹیسٹوں کی افادیت کا اندازہ لگائیے۔
ایمفوٹیرک آکسائڈ کسے کہتے ہیں؟ ان کی دو مثالیں پیش کیجیے۔
دو ایسی دھاتوں کے نام لکھیے جو ڈائی لیوٹ تیزاب سے ہائڈروجن کوہٹا دیتی ہیں اور دوایسی دھاتیں جوایسا نہیں کرتیں۔
کسی دھات M کی برق پاشیدی تخلیص میں اینوڈ، کیتھوڈ اور الیکٹرو لائٹ آپ کسے بنائیں گے؟
Pic 24 Capture3
پرتیوشکفچی پر سلفر کا سفوف لے کر اسے گرم کرتا ہے۔ وہ اس کے اوپر ایک ٹیسٹ ٹیوب کو الٹ کر رکھ دیتا ہے اور نکلنے والی گیس کو جمع کرتا ہے، جیسا کہ تصویر میں دکھایا گیا ہے۔
(a)  مندرجہ ذیل پر گیس کا اثرکیاہوگا
(i) خشک لٹمس کاغذ پر
(ii) مرطوب لٹمس کاغذ پر
(b) ہونے والے کیمیائی تعامل کی متوازن مساوات لکھیے۔
10۔ لوہے کو زنگ لگنے سے بچانے کے لیے کوئی دو طریقے لکھیے۔
11۔ جب غیر دھات آکسیجن سے تعامل کرتی ہے تو کس قسم کا آکسائڈ بنتا ہے؟
12۔ وجوہات بتائیے۔
(a) پلاٹینم، سونا اور چاندی کا استعمال زیورات بنانے میںہوتا ہے۔
(b) سوڈیم، پوٹاشیم اور لیتھیم تیل کے اندر رکھے جاتے ہیں۔
(c) ایلیومینیم ایک بہت ہی زیادہ تعامل پذیر دھات ہے پھر بھی اس کا استعمال کھانا پکانے کے برتن میں کیا جاتا ہے۔
(d) استخراج کے دوران کاربونیٹ اور سلفائڈ کچ دھاتوں کو عموماً آکسائڈ میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
13۔ آپ نے تانبے کے برتنوں کو نیبویا املی کے رس سے صاف کرتے ہوئے ضرور دیکھا ہوگا۔ وضاحت کیجیے کہ یہ کھٹّی چیزیں برتنوں کی صفائی کے لیے کیوں مؤثر ہیں؟
14۔ دھات اور غیر دھات میں ان کی کیمیائی خصوصیات کی بنیاد پر فرق کیجیے؟
15۔ ایک آدمی سنار کی حیثیت سے در در گھومتا ہے۔ وہ پرانے اور گندے سونے کے زیورات کو پھر سے چمکادینے کا وعدہ کرتا ہے۔ ایک عورت سونے کی چوڑیوں کا ایک سیٹ اسے دیتی ہے جسے وہ ایک مخصوص محلول میں ڈباتا ہے۔ چوڑیاں بالکل نئے سونے کی طرح چمکتی ہیں لیکن اس کے وزن میں کافی کمی آجاتی ہے۔ عورت گھبراجاتی ہے اور کچھ دیر بیکارکی بحث و تکرار کے بعد آدمی بھاگ جاتا ہے۔ کیا آپ جاسوسی کرکے اس محلول کی نوعیت کا پتہ لگاسکتے ہیں؟
16۔ کاپر کا استعمال گرم پانی کے ٹینک بنانے میں کیا جاتا ہے، اسٹیل کا نہیں(لوہے کی ایک بھرت)۔کیوں؟