Skip to content
Science Chapter-4

باب 4


Pic 1 Capture4

کاربن اور اس کے مرکبات

(Carbon and its Compounds)

گذشتہ باب میں ہم نے ایسے متعدد مرکبات کا مطالعہ کیا جو ہمارے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔ اس باب میں ہم  کچھ اور دلچسپ مرکبات اور ان کی خصوصیات کا مطالعہ کریں گے۔ہم کاربن کے بارے میں بھی پڑھیں گے جو ایک عنصر ہے اور اپنی عنصری اور مرکباتی دونوں شکلوں میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

سرگرمی 4.1

دس چیزوں کی فہرست بنائیے جو آپ نے صبح سے لے کر اب تک استعمال کی ہیں ۔
اپنی کلاس کے دوسرے بچوں کے ذریعے بنائی گئی فہرست کے ساتھ اسے ملا ئیے اور پھر برابر میں دی گئی جدول میں ان چیزوں کو الگ کیجیے۔
اگر کوئی شے ایک سے زیادہ مادّے کی بنی ہوئی ہوتو اسے جدول دونوں مناسب کالموں میں لکھیے۔



دھات سے بنی اشیا شیشہ/ مٹی سے بنی اشیا دیگر


ان چیزوں کو دیکھیے جو درج بالا جدول کے آخری کالم میں آپ نے رکھی ہیں۔ آپ کے استاد یہ بتاپائیں گے کہ ان میں سے زیادہ تر چیزیں کاربن کے مرکبات سے بنی ہوئی ہیں۔ کیا آپ ان کی جانچ کا کوئی طریقہ بتاسکتے ہیں؟ اگر کسی کاربن کے مرکب کو جلایا جائے تو ماحصل کیا ہوگا؟ کیا آپ کسی ایسی جانچ کے بارے میں جانتے ہیں جو اس کی تصدیق کرسکے؟
غذا، کپڑے، دوائیں، کتابیں اور کئی دوسری چیزیں جن کو آپ نے فہرست میں شامل کیا سبھی کی بنیاد ہمہ گیر عنصر کاربن ہے۔ اس کے علاوہ سبھی جاندار اجسام کاربن پر منحصر ہیں۔ قشرارض اور کرہ باد میں میں کاربن بہت ہی قلیل مقدار میں پایا جاتا ہے۔ قشرارض میں صرف 0.02 فیصد کاربن معدنیات (جیسے کاربونیٹ، ہائڈروجن کاربونیٹ، کوئلہ اور پیٹرولیم) کی شکل میں پایا جاتا ہے اورکرہ باد میں 0.03 فیصد کاربن ڈائی آکسائڈ موجود ہوتی ہے۔ قدرتی ماحول میں اس کی مقدار اتنی کم ہونے کے باوجود اس کی اہمیت بہت ہی زیادہ ہے۔ اس باب میں ہم کاربن کی ان خصوصیات کے بارے میں جانیں گے جو اسے ہمارے لیے بہت اہم بناتی ہیں۔

4.1کاربن میں بونڈنگ - شریک گرفت بونڈ (Bonding in Carbon–The Covalent Bond)

پچھلے باب میں ہم نے آینی مرکبات کی خصوصیات کا مطالعہ کیا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ آینی مرکبات کے نقطۂ جوش اور نقطۂ گداخت زیادہ ہوتے ہیں اور یہ محلول یا پگھلی ہوئی حالتوں میں بجلی کا ایصال کرتے ہیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ کس طرح آینی مرکبات کی بندش (بونڈنگ) کی نوعیت ان کی خصوصیات کی وضاحت کرتی ہیں۔ آئیے اب کاربن کے کچھ مرکبات کی خصوصیات کا مطالعہ کریں۔  


جدول 4.1 کاربن کے کچھ مرکبات کے نقطۂ جوش اور نقطۂ گداخت


مرکبات نقطۂ گداخت (K) نقطۂ جوش (K)
ایسیٹک ایسڈ (CH3COOH)
کلوروفارم (CHCl3)
ایتھنال (CH3CH2OH)
میتھین (CH4)
290
209
156
90
391
334
351
111

کاربن کے زیادہ تر مرکبات بجلی کے موصل نہیں ہوتے ہیں جیسا کہ ہم نے باب -2 میں پڑھا ہے۔ اوپر جدول 4.1 میں دئے گئے کاربن مرکبات کے نقطۂ جوش اور نقطۂ گداخت کے اعدادو شمار میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان مرکبات کے نقطۂ جوش اور نقطۂ گداخت آینی مرکبات کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں اس کی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان سالمات کے درمیان قوت کشش زیادہ مضبوط نہیں ہوتی ہے۔ چونکہ یہ مرکبات زیادہ تر بجلی کے غیر موصل ہوتے ہیں اس لیے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ ان مرکبات کے درمیان بندش کسی آین کوپیدا نہیں کرتی۔
نویں جماعت میں ہم نے مختلف عناصر کی اتحادی صلاحیت کے بارے میں جانکاری حاصل کی اور یہ بھی سیکھا کہ یہ کس طرح گرفت الیکٹرانوں (Valence Electorns) پر منحصرہوتی ہے۔ آئیے اب کاربن کے الیکٹرانی تشکل پر غور کریں۔ کاربن کا ایٹمی عدد 6 ہے۔ کاربن کے مختلف شیل (Shells) میں الیکٹرانوں کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ کاربن کے پاس کتنے گرفت الیکٹران ہوں گے؟
ہم جانتے ہیں کہ عناصر کی متعاملیت کی وضاحت اس کے باہری شیل (Shell) کو مکمل طور پر بھرنے کے رجحان سے کی جاتی ہے یعنی نوبل گیس کے تشکل کو حاصل کرنا۔ آینی مرکبات بنانے والے عناصر اپنے سب سے باہری شیل سے الیکٹران کو کھوکر یا حاصل کرکے یہ تشکل حاصل کرتے ہیں۔ کاربن کے معاملہ کو دیکھیں تو اس کے پاس سب سے باہری شیل میں 4 الیکٹران ہیں اورنوبل گیس تشکل حاصل کرنے کے لیے اسے یا تو 4 الیکٹران حاصل کرنے ہوں گے یا پھر ان 4 الیکٹرانوں کو کھونا پڑے گا۔ اگر یہ الیکٹران حاصل کرتا ہے یا کھوتا ہے تو—
(i) یہ 4 الیکٹران حاصل کرکے C4 این آین بن سکتا ہے لیکن نیوکلیس میں موجود 6 پروٹانوں کے لیے 10 الیکٹرانوں کو پکڑکر رکھنا مشکل ہوگا۔
(ii) یہ 4 الیکٹران کھوکر+C4کیٹ آین(Cation)   بنا سکتا لیکن اس کے لیے بڑی مقدار میں توانائی کی ضرورت ہوگی تاکہ 6 پروٹانوں والے کاربن کیٹ آین نیوکلیس میں صرف 2 الیکٹرانوں کو پکڑ کر رکھا جاسکے اور 4 الیکٹران کو نکالا جاسکے۔
کاربن اس مسئلہ پر قابو پانے کے لیے دوسرے کاربن ایٹم یا کسی دوسرے عنصر کے ایٹموں کے ساتھ اپنے گرفتی الیکٹرانوں کا ساجھا کرلیتاہے۔ صرف کاربن ہی نہیں بلکہ کئی دیگر عناصر اس طریقہ سے الیکٹرانوں کی ساجھے داری کرکے سالمات بناتے ہیں۔ ساجھے کے الیکٹرانوں پر دونوں ایٹموں کے سب سے باہری شیل کا تصرف ہوتا ہے اور یہ نوبل گیس تشکل حاصل کرنے میں دونوں ایٹموں کی مدد کرتے ہیں۔ کاربن کے مرکبات کا مطالعہ کرنے سے پہلے آئیے کچھ سادہ سالمات پر نظر ڈالیں جو گرفتی الیکٹرانوں کی ساجھے داری سے بنتے ہیں۔
Pic 4 Capture4

شکل 4.1  

ہائڈروجن کا ایک سالمہ

اس طریقے سے بنا ہوا سب سے سادہ سالمہ ہائڈروجن کا ہے۔ جیسا کہ آپ نے پہلے پڑھا ہے کہ ہائڈروجن کا ایٹمی عدد 1 ہے۔ اس لیے ہائڈروجن کے K شیل میں 1 الیکٹران ہوتا ہے اور اس کو بھرنے کے لیے اسے 1الیکٹران کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے ہائڈروجن کے دو ایٹم اپنے اپنے الیکٹرانوں کا ساجھا کرتے ہیں اور ہائڈروجن کا 1 سالمہ، H2 بناتے ہیں۔ یہ دونوں ہائڈروجن کے ایٹموں کو نزدیکی نوبل گیس یعنی ہیلیم کا الیکٹرانی تشکل حاصل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ ہیلیم کے K شیل میں دو الیکٹران ہوتے ہیں۔ ڈاٹ یا کراس کی مدد سے ہم ان گرفتی الیکٹرانوں کو دکھاسکتے ہیں (شکل 4.1)۔
Pic 5 Capture4

شکل 4.2  

ہائڈروجن کے دو ایٹموں کے درمیان واحد بانڈ
ہائڈروجن کے دونوں ایٹموں کے درمیان الیکٹرانوں کے ساجھے سے واحد شریک گرفت بانڈ (Single Covalent Bond) تشکیل پاتا ہے۔ واحد بانڈ دو ایٹموں کے درمیان ایک خط کے ذریعہ بھی دکھایا جاتا ہے جیسا کہ شکل 4.2 میں دکھایا گیا ہے۔
کلورین کا ایٹمی عدد 17 ہے۔ اس کا الیکٹرانی تشکل اور گرفت کیا ہوں گے ؟ کلورین دو ایٹمی سالمہ Cl2 بناتا ہے۔ کیا آپ اس سالمہ کے لیے الیکٹران ڈاٹ ساخت بناسکتے ہیں؟ یاد رکھیں کہ ساخت بناتے وقت صرف گرفتی شیل الیکٹرانوں کو ہی ظاہر کرنا ہے۔
آکسیجن کے معاملہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے دو ایٹموں کے درمیان دوہرا بانڈ بنتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ آکسیجن کے ایک ایٹم کے شیل میں 6 الیکٹران ہوتے ہیں (آکسیجن کا ایٹمی عدد 8 ہوتا ہے) اور اسے اپنا آکٹیٹ   (Octet) مکمل کرنے کے لیے 2 الیکٹرانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے آکسیجن کا ہر ایٹم آکسیجن کے دوسرے ایٹم کے ساتھ 2 الیکٹرانوں کی ساجھے داری کرتا ہے۔ تاکہ شکل 4.3 جیسی ساخت حاصل ہو سکے۔ آکسیجن کے ہر ایک ایٹم کے ذریعے ساجھا کیے گئے دو الیکٹرانوں کی وجہ سے دو ساجھے جوڑوں کی تشکیل ہوتی ہے۔ اسے   دو ایٹموں کے درمیان دوہرا بانڈ کہا جاتا ہے۔

Pic 6 Capture4

شکل 4.3

آکسیجن کے دو ایٹموں کے درمیان دوہرا بانڈ
کیا اب آپ پانی کے ایک سالمہ کو ظاہر کرسکتے ہیں جس میں آکسیجن کے ایک ایٹم اور ہائڈروجن کے دو ایٹموں کے درمیان بانڈ کی نوعیت کو دکھایا گیاہو؟ اس سالمے میں واحد بانڈ ہے یا دوہرابانڈ؟
نائٹروجن کے دوایٹمی سالمے کے معاملے میں کیا ہوگا؟ نائٹروجن کا ایٹمی عدد 7 ہے۔ اس کا الیکٹرانی تشکل اور اتحادی صلاحیت کیا ہوگی؟ آکٹیٹ حاصل کرنے کے لیے نائٹروجن کے سالمے کا ہر ایک ایٹم اپنے تین تین الیکٹرانوں کی ساجھے داری کرکے الیکٹرانوں کے تین ساجھے بناتا ہے۔ یہ دوایٹموں کے درمیان تہرا بانڈ (Triple bond) کہلاتا ہے۔N2 کی الیکٹران ڈاٹ ساخت اور اس کے تہرے بانڈ کو شکل 4.4 کے ذریعہ دکھایا جاسکتا ہے۔

Pic 7 Capture4

شکل 4.4  

نائٹروجن کے دو ایٹموں کے درمیان تہرا بانڈ
امونیا کے ایک سالمہ کا فارمولا NH3 ہوتا ہے۔ کیا آپ اس سالمہ کی الیکٹران ڈاٹ ساخت بنا سکتے ہیں جس میں یہ دکھایا گیا ہو کہ کس طرح چاروں ایٹم نوبل گیس کا تشکل حاصل کرتے ہیں؟ کیا اس سالمے میں اکہرا بانڈہوگا یا دوہرا بانڈ یا تہرا بانڈ ؟   
آئیے اب میتھین پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو کاربن کا مرکب ہے۔ میتھین کا استعمال بڑے پیمانے پر ایندھن کی شکل میں ہوتا ہے اور یہ بایو گیس نیز کمپریسڈ نیچرل گیس (CNG) کا ایک اہم جز ہے۔ یہ کاربن کے ذریعے بننے والا سب سے سادہ مرکب بھی ہے۔ میتھین کا فارمولا CH4 ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہائڈروجن کی گرفت (Valency) ہوتی ہے۔ کاربن کی گرفت چار ہے کیونکہ اس کے گرفتی الیکٹرانوں کی تعداد 4 ہے۔ نوبل گیس کا تشکل حاصل کرنے کے لیے کاربن ان الیکٹرانوں کا ہائڈروجن کے 4 الیکٹرانوں کے ساتھ ساجھا کرلیتاہے جیسا کہ شکل 4.5 میں دکھایا گیا ہے۔

Pic 8Capture4

شکل 4.5  

میتھین کی الیکٹران ڈاٹ ساخت

ایسے بانڈ جو دو ایٹموں کے درمیان ایک الیکٹران جوڑے کے ساجھے سے بنتے ہیں اسے شریک گرفت بانڈ کہتے ہیں۔ شریک گرفت بانڈ والے سالموں میں سالمے کے اندر بہت مضبوط بانڈ ہوتا ہے جبکہ ان کی بین سالمی قوتیں کمزور ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ سے مرکبات کا نقطۂ جوش اور نقطۂ گداخت کم ہوتا ہے۔ چونکہ ایٹموں کے درمیان الیکٹرانوں کی ساجھے داری ہوتی ہے اور کوئی چارج شدہ ذرّہ نہیں بنتا ہے، اس لیے اس طرح کے شریک گرفت مرکبات عموماً بجلی کے غیر موصل ہوتے ہیں۔

کاربن کے بہروپ (Allotropes of Carbon)

کاربن عنصر قدرتی ماحول میں مختلف شکلوں میں اور مختلف طبیعی خصوصیات کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ ہیرا اور گریفائٹ دونوں ہی کاربن ایٹموں سے بنے ہوئے ہوتے ہیں فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ دونوں میں کاربن ایٹم ایک دوسرے سے الگ الگ طریقہ سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہیرے میں ہر ایک کاربن ایٹم دوسرے چار ایٹموں سے بندھا ہوتا ہے اور ایک سخت سہ ابعادی(Three Dimensional) ساخت کی تشکیل کرتا ہے۔ گریفائٹ میں ہرایک کاربن ایٹم دیگر تین ایٹموں کے ساتھ ایک ہی مستوی میں بندھا ہوتا ہے اور یہ سب ایک شش ضلعی (چھ ضلعی)ترتیب کی تشکیل کرتے ہیں۔ ان سبھی بانڈوں میں سے ایک بانڈ دوہرا ہوتا ہے اور اس طرح سے کاربن کی گرفت مطمئن ہوجاتی ہے۔ گریفائٹ کی ساخت چھ کونی ترتیب سے بنتی ہے جو ایک دوسرے پر پرت در پرت رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔
Pic 9 Capture4
ہیرے اور گریفائٹ کی ان دو مختلف ساختوں کی وجہ سے ان کی طبیعی خصوصیات ایک دوسرے سے بالکل علاحدہ ہوتی ہیں جبکہ ان کی کیمیائی خصوصیات یکساں ہوتی ہیں۔ ہیرا ایک سخت ترین شے ہے جبکہ گریفائٹ چکنا اور پھسلنے والا ہوتا ہے۔ گریفائٹ دیگر غیر دھاتوں کے برعکس بجلی کا ایک بہت اچھا موصل بھی ہے جس کے بارے میں آپ نے گزشتہ باب میں پڑھا ہے۔
خالص کاربن کی بہت زیادہ درجۂ حرارت اور دبائو پر ہیرے میں تالیف کی جاسکتی ہے۔ یہ تالیفی ہیرے چھوٹے ہوتے ہیں لیکن ہو بہو قدرتی ہیروں کی طرح ہوتے ہیں۔
فلرین،کاربن کے بہروپوں کے ایک اور جماعت کی تشکیل کرتا ہے۔ سب سے پہلے شناخت کیا گیابہروپ C-60 تھا جس میں کاربن کے ایٹم فٹ بال کی شکل میں مرتب ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ جیوڈیسک گنبد جیسا لگتا ہے جس کا نقشہ امریکی ماہر فن تعمیر بک منسٹر فولر نے بنایا تھا اسی لیے اس سالمہ کا نام فلرین رکھ دیا گیا۔

سوالات

کاربن ڈائی آکسائڈ کا فارمولا CO2 ہے۔ اس کی الیکٹران ڈاٹ ساخت کیا ہوگی؟
سلفر کے آٹھ ایٹموں پرمشتمل سلفر کے ایک سالمے کی الیکٹران ڈاٹ ساخت کیا ہوگی ؟ (اشارہ : سلفر کے آٹھ ایٹم ایک دوسرے کے ساتھ ایک چھلے کی شکل میں جڑے ہوتے ہیں) ς
Pic 10 Capture4

4.2 کاربن کی ہمہ گیر فطرت(Versatile Nature ofCarbon)

ہم نے مختلف عناصر اور مرکبات میں الیکٹرانوں کی ساجھے داری کے ذریعے شریک گرفت بانڈکو بنتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہم نے کاربن کے ایک سادہ مرکب، میتھین کی ساخت بھی دیکھی ہے۔ باب کے شروع میں ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے استعمال کی ایسی بہت سی چیزیںہیں جن میں کاربن ہوتا ہے۔ درحقیقت ہم خود کاربن کے مرکبات کے بنے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں کیمیادانوں نے کاربن کے ان مرکبات کی تعداد، جن کا فارمولا وہ جانتے ہیں، لاکھوں میں بتائی ہے۔ یہ تعداد باقی تمام عناصر کے ذریعہ بنائے گئے مرکبات کی تعداد سے بہت زیادہ ہے۔ یہ خصوصیت صرف کاربن میں ہی کیوں دیکھی جاتی ہے اور کسی عنصر میں کیوں نہیں؟ شریک گرفتی بانڈ کی فطرت کاربن کو بہت زیادہ تعداد میں مرکبات بنانے کا اہل بناتی ہے۔ کاربن کے معاملے میں دو عوامل قابل ذکر ہیں—
(i) کاربن کی ایک منفرد صلاحیت یہ ہے کہ یہ دوسرے کاربن ایٹموں کے ساتھ بانڈ بناتا ہے اور اس طرح ایک بڑے سالمے کی تشکیل کرتا ہے۔ کاربن کی اس خصوصیت کو کیٹی نیشن (Catanation) کہتے ہیں۔ ان مرکبات میں کاربن کے ایٹم ایک لمبی زنجیر، شاخ دار زنجیریا ایک چھلّے کی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کاربن کے ایٹم آپس میں یا تو اکہرے ،دوہرے یا پھر تہرے بانڈ کے ذریعے   ایک دوسرے سے جڑے ہو سکتے ہیں۔ کاربن کے وہ مرکبات جن میں کاربن کے ایٹم صرف اکہرے بانڈ کے ذریعے ایک دوسرے سے بندھے ہوتے ہیں انھیں سیر شدہ مرکبات (Saturated compounds) کہتے ہیں۔کاربن کے وہ مرکبات جن میں دوہرے یا تہرے بانڈ ہوتے ہیں، انھیں غیر سیر شدہ مرکبات (Unsaturated compund)کہتے ہیں۔
کوئی بھی دوسرا عنصر اس حد تک کیٹی نیشن کی خاصیت ظاہر نہیں کرتا جیسا کہ کاربن مرکبات میں نظر آتے ہیں۔سلیکان ہائڈروجن کے ساتھ مل کر ایسے مرکبات بناتا ہے جو7سے8 ایٹموں والی زنجیر پر مشتمل ہوتے ہیں لیکن یہ مرکبات کافی متعامل ہوتے ہیں۔ کاربن - کاربن بانڈ بہت ہی مضبوط ہوتا ہے اور اس لیے بہت مستحکم (Stable) بھی ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے کاربن کے مرکبات کی تعداد بہت زیادہ ہے جس میں کاربن کے کئی ایٹم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔
(ii) چونکہ کاربن کی گرفت 4 ہوتی ہے اس لیے اس میں کاربن کے 4 دوسرے ایٹموں کے ساتھ منسلک ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ کسی بھی 4 یک گرفتی عنصر کے ایٹموں سے بھی جڑ سکتے ہیں۔ کاربن کے مرکبات آکسیجن، ہائڈروجن، نائٹروجن، سلفر، کلورین اور کئی دوسرے عناصر کے ساتھ بنتے ہیں جن کی منفرد خصوصیات ہوتی ہیں جو سالمے میں موجود کاربن کے علاوہ دیگر عناصر پر منحصر ہوتی ہیں۔
علاوہ ازیں وہ بانڈ جو کاربن بہت سے دیگر عناصر کے ساتھ بناتا ہے، کافی مضبوط ہوتے ہیں، جو ان مرکبات کو غیر معمولی استحکام عطا کرتے ہیں۔ کاربن کے ذریعے بنائے جانے والے مضبوط بانڈ کی ایک وجہ اس کا چھوٹا سائز 

مزید معلومات 

نامیاتی مرکبات (Organic Compounds)

کاربن کی دو امتیازی خصوصیات، چہار گرفتی اور کیٹینشن ایک ساتھ مل کر مرکبات کی ایک بہت بڑی تعداد بناتی ہیں۔ کئی میں توایک طرح کے غیر کاربن ایٹم یا ایٹموں کا مجموعہ مختلف کاربن زنجیروں سے جڑا ہواہوتا ہے۔ اس طرح کے مرکبات شروع میں قدرتی اشیا سے حاصل کیے جاتے تھے اور یہ مانا جاتا تھا کہ کاربن کے یہ مرکبات یا نامیاتی مرکبات صرف حیاتیاتی نظام کے اندر ہی بن سکتے ہیں۔ بالفاظ دیگریہ فرض کرلیا گیا تھا کہ ان مرکبات کی تشکیل کے لیے کسی حیاتی قوت کا ہونا لازمی ہے۔ فریڈرک وہولر (Friedrich wohler) نے 1828 میں امونیم سائنیٹ سے یوریا بناکر اس مفروضے کو غلط ثابت کر دیا۔ لیکن کاربائڈ کاربن کے آکسائڈ، کاربونیٹ اور ہائڈروجن کاربونیٹ نمکوں کے علاوہ کاربن کے باقی مرکبات کا مطالعہ نامیاتی کیمیا کے تحت کیا جاتا ہے۔


بھی ہے جو الیکٹرانوں کے ساجھے جوڑوں کو باندھے رکھنے میں نیوکلیس کی مدد کرتا ہے۔ بڑے ایٹموں والے عناصر کے ذریعے بنائے گئے بانڈ کافی کمزور ہوتے ہیں۔

Pic 11 Capture4

شکل 4.6 (c):  

ایتھین کی الیکٹران ڈاٹ ساخت

4.2.1 سیر شدہ اور غیر سیرشدہ کاربن مرکبات  

(Saturated and Unsaturated Carbon Compounds)

ہم پہلے ہی میتھین کی ساخت دیکھ چکے ہیں۔ کاربن اور ہائڈروجن کے درمیان بننے والا ایک دوسرا مرکب ایتھین (Ethane)ہے جس کا فارمولہ C2H6 ہوتا ہے۔ کاربن کے سادے مرکبات کی ساخت حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم کاربن کے ایٹموں کوایک دوسرے کے ساتھ اکہرے بانڈ کے ذریعہ منسلک کرنا ہوتاہے (شکل 4.6a) اور پھر ہائڈروجن کے ایٹموں کے استعمال کے ذریعے کاربن کی باقی گرفت کو مطمئن کرنا (شکل 4.6b)ہوتاہے۔ مثال کے طور پر ایتھین کی ساخت مندرجہ ذیل مراحل سے حاصل کی جاتی ہے۔
C – C مرحلہ 1

شکل 4.6(a): کاربن کے ایٹم اکہرے بانڈ کے ذریعہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے  

ہر ایک کاربن ایٹم کی تین گرفتیں غیر مطمئن رہ گئی ہیں۔ اس لیے ہر ایک ایٹم تین ہائڈروجن ایٹم کے ساتھ بانڈ بناتا ہے اور مندرجہ ذیل شکل حاصل ہوتی ہے۔
Pic 12 Capture4
شکل 4.6(b): ہر ایک کاربن ایٹم تین ہائڈروجن ایٹموں کے ساتھ بانڈ بناتے ہوئے۔
Pic 13 Capture4
ایتھین (Ethane) کی الیکٹران ڈاٹ ساخت کو شکل 4.6 (c) میں دکھایا گیا ہے۔
Pic 14 Capture4
کیا آپ پروپین (Propane) کی ساخت اس طریقے سے بناسکتے ہیں جس کا سالماتی فارمولا C3H8 ہوتا ہے؟ آپ دیکھیں گے کہ سبھی ایٹموں کی گرفتیں اکہرے بانڈوں کے ذریعے مطمئن ہوجاتی ہیں۔ اس طرح کے کاربن مرکبات کو سیر شدہ مرکبات کہتے ہیں۔ یہ مرکبات عام طور پر زیادہ تعامل پذیر نہیں ہوتے ہیں۔
کاربن اور ہائڈروجن کا ایک اور مرکب ایتھین (Ethene) ہے جس کا فارمولہ C2H4 ہوتا ہے۔ اس سالمے کو کس طریقے سے دکھایا جاسکتا ہے؟ ہم تمام مراحل پہلے کی طرح طے کرتے ہیں۔
کاربن کے دونوں ایٹم واحدبانڈ سے جڑے ہوئے ہیں(مرحلہ1)۔
ہم دیکھتے ہیں کہ ہر کاربن ایٹم کی ایک گرفت ابھی بھی غیر مطمئن ہے(مرحلہ2)۔ اسے مطمئن کرنے کے لیے کاربن کے دونوں ایٹموں کے درمیان دوہرا بانڈ بنتا ہے (مرحلہ 3)

Pic 15 Capture4

شکل 4.7   

ایتھین (Ethene)کی ساخت
ایتھین (Ethene)کی الیکٹران ڈاٹ ساخت کو شکل 4.7 میں دکھایا گیا ہے۔ کاربن اور ہائڈروجن کے ایک دوسرے مرکب کا فارمولہ C2H2 ہے جس کا نام ایتھائین (Ethyne) ہے۔ کیا آپ ایتھائین کی الیکٹران ڈاٹ ساخت بنا سکتے ہیں؟ کاربن کے دونوں ایٹموں کی گرفت کو مطمئن کرنے کے لیے ان کے درمیان کتنے بانڈوں کی ضرورت پڑتی ہے؟ کاربن کے ایسے مرکبات جن میں کاربن کے ایٹموں کے درمیان دوہرے یا تہرے بانڈ ہوتے ہیں انھیں غیر سیر شدہ کاربن مرکبا ت (Unsaturated Carbon compounds)کہتے ہیں اور یہ سیر شدہ مرکبات کے مقابلہ زیادہ تعامل پذیرہوتے ہیں۔

4.2.2 زنجیریں، شاخیں اور چھلّے (Chains, Branches and Rings)

گزشتہ سیکشن میں ہم نے کاربن کے مرکبات میتھین(Methane)، ایتھین (Ethane)اور پروپین (Propane) کا ذکر کیا جن میں کاربن کے بالترتیب 1، 2 اور 3 ایٹم ہوتے ہیں۔ کاربن ایٹموں کی اس طرح کی زنجیروں میں  

کاربن کے ایٹموں کی تعداد نام فارمولا ساخت
1
2
3
4
5
6
میتھین (Methane)
ایتھین (Ethane)
پروپین (Propane)
بیوٹین (Butane)
پینٹین (Pentane)
ہیکسین (Hexane)

CH4
C2H6
C3H8
C4H10
C5H12
C6H14
picture 1

جدول 4.2 کاربن اور ہائڈروجن کے سیرشدہ مرکبات کے فارمولے اور ساختیں

کاربن کے بہت سے ایٹم ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے چھے کے نام اور ساخت جدول 4.2 میں دیے جارہے ہیں۔
لیکن، آئیے بیوٹین پر ایک اور نظر ڈالیں۔ اگر ہم کاربن کے چارایٹموں کا استعمال کرکے کاربن کا ڈھانچہ (Skeleton) بنائیں تو دو مختلف طرح کے ممکنہ ڈھانچے ہوسکتی ہیں۔
Pic 17 Capture4

شکل 4.8 (a) دو ممکنہ کاربن -ڈھانچے

باقی ماندہ گرفتوں کو ہائڈروجن سے پُر کرنے پر مندرجہ ذیل حاصل ہوتا ہے—

Pic 18 Capture4

شکل 4.8 (b) C4H10 فارمولے والے مکمل سالمے کی دو ساخت

ہم دیکھتے ہیں کہ ان دونوں ساختوں کا فارمولا ایک ہی ہے یعنی C4H10۔ اس طرح کے مرکبات جن کا سالماتی فارمولا یکساں ہو لیکن ساخت مختلف ہوں توانھیں ساختی آئسومر (Structural Isomers) کہتے ہیں۔
کاربن کی مستقیم اور شاخدار زنجیروں کے علاوہ کچھ مرکبات میں کاربن کے ایٹم چھلّے (Ring) کی شکل میں بھی مرتب ہوتے ہیں۔
Pic 19 Capture4
Pic 20 Capture4
شکل 4.9 سائکلو ہیکسین کی ساخت (a) کاربن ڈھانچہ (b) مکمل سالمہ
کیا آپ سائکلو ہیکسین کی الیکٹران ڈاٹ ساخت بنا سکتے ہیں؟ مستقیم زنجیر، شاخدار زنجیر اورسائکلک کاربن مرکبات سبھی سیر شدہ یا غیر سیرشدہ ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر بینزین 'C6H6' کی ساخت مندرجہ ذیل ہے—

Pic 21 Capture4
شکل 4.10   بینزین کی ساخت
وہ سبھی کاربن مرکبات جن میں صرف کاربن اور ہائڈروجن ہوتے ہیں، ہائڈروکاربن (Hydrocarbon) کہلاتے ہیں۔ ان میں سے سیرشدہ ہائڈروکاربن الکین (Alkane) کہلاتے ہیں۔ غیر سیر شدہ ہائڈروکاربن جن میں ایک یا ایک سے زیادہ دوہرے بانڈ ہوتے ہیں، انھیں الکین (Alkene) کہتے ہیں۔ وہ مرکبات جن میں ایک  یاایک سے زیادہ تہرے بانڈ ہوتے ہیں، انھیں الکائین (Alkyne) کہتے ہیں۔

4.2.3 کیا آپ میرے دوست بنیں گے؟

(Will you be my Friend?)

کاربن بظاہر بہت ہی دوستانہ نوعیت والاعنصر ہے۔ اب تک ہم صرف کاربن اور ہائڈروجن سے بننے والے مرکبات پر نظر ڈالتے آئے ہیں۔ لیکن کاربن دوسرے عناصر جیسے ہیلوجن، آکسیجن، نائٹروجن اور سلفرکے ساتھ بھی بانڈ بناتا ہے۔ ہائڈروکاربن زنجیر سے یہ عناصر ایک یا زیادہ ہائڈروجن کو اس طرح سے ہٹاسکتے ہیں کہ کاربن کی گرفت پہلے کی طرح مطمئن رہتی ہے۔ اس طرح کے مرکبات میں وہ عنصر جو ہائڈروجن کو ہٹاتا ہے اسے    ہیٹرو ایٹم (Heteroatom) کہتے ہیں۔ یہ ہیٹروایٹم گروپ کی شکل میں بھی پائے جاتے ہیں جیسا کہ جدول4.3میں دکھایا گیا ہے۔ یہ ہیٹرو ایٹم مرکبات کومنفرد خصوصیات فراہم کرتے ہیں اور اس کا انحصار اس بات پر نہیں ہوتا کہ کاربن زنجیر کی لمبائی اور فطرت کیسی ہے۔ اس لیے انھیں فنکشنل گروپ (Functional Group)کہتے ہیں۔ کچھ اہم فنکشنل گروپ جدول 4.3 میں دیے جارہے ہیں۔ گروپ کی آزاد گرفت یا گرفتیں اکہری لائن کے ذریعے دکھائی گئی ہیں۔ فنکشنل گروپ، کاربن زنجیر سے ایک یا ایک سے زیادہ ہائڈروجن ایٹموں کو ہٹاکراس گرفت کے ساتھ منسلک ہوجاتاہے۔

                                                                                                   جدول4.3کاربن مرکبات میں کچھ فنکشنل گروپ


ہیٹرو ایٹم  مرکبات کی قسم فنگشنل گروپ کا فارمولا
Cl/Br


آکسیجن
ہیلو(کلورو/برومو) الکین 
(Halo-Chloro/Bromo)alkane)
الکحل
2۔ایلڈی ہائڈ
کیٹون
کاربوکسیلک ایسڈ
picture 2

4.2.4 ہم وصف سلسلہ (Homologous Series)

آپ نے دیکھا ہے کہ کاربن کے ایٹم آپس میں جڑ کر مختلف لمبائی کی زنجیر بناسکتے ہیں۔ یہ زنجیریں شاخدار بھی ہوسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ کاربن کی ان زنجیروں پر موجود ہائڈروجن یاکسی اور عنصر کے ایک یا ایک سے زیادہ ایٹم کو کسی بھی   فنکشنل   گروپ کے ذریعے ہٹایا جاسکتا ہے جیسا کہ آپ نے اوپر دیکھا ۔ فنکشنل   گروپ مثلاً الکحل کی موجودگی کاربن کے مرکبات کی خصوصیات کا تعین کرتی ہے اور اس پر کاربن کی زنجیر کی لمبائی کا کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر CH3OH، C2H5OH، C3H7OH اور C4H9OH سبھی کی کیمیائی خصوصیات کافی حد تک یکساں ہیں۔ اس طرح کے مرکبات کا ایسا سلسلہ جس میںکسی کاربن زنجیر میں یکساں فنگشنل گروپ ہائڈروجن کا بدل ہے، ہم وصف(Homologous Series) سلسلہ کہلاتا ہے۔
آئیے جدول 4.2 میں دیے گئے ہم وصف سلسلے پر ایک نظر ڈالیں۔ اگر ہم متواتر مرکبات (Successive Compounds) کے فارمولے پر ایک نظر ڈالیں، جیسے–
CH4 اور C2H6 ان میں ایک –CH2  اکائی کا فرق ہے۔
C2H6 اور C3H8 ان میں ایک –CH2  اکائی کا فرق ہے۔

اگلے جوڑے - پروپین اور بیوٹین (C4H10) کے درمیان کیا فرق ہے؟ کیا آپ ان جوڑوں کے درمیان  سالماتی کمیت کے فرق کا پتہ لگاسکتے ہیں (کاربن کی ایٹمی کمیت 12u اور ہائڈروجن کی ایٹمی کمیت 1u ہے)؟
اسی طرح الکین (Alkenes) کا ہم وصف سلسلہ لیجیے۔ اس سلسلہ کا سب سے پہلا رکن ایتھین (Ethene) ہے جس کے بارے میں ہم نے سیکشن 4.2.1 میں پڑھا ہے۔ ایتھین (Ethene) کا فارمولا کیا ہے؟ ایتھین کے بعد کے ممبروں کا فارمولا ہے  C3H6 ،C4H8 اور  C5H10 ہے۔ کیا ان سبھی میں –CH2  اکائی کا فرق ہے؟ کیا ان مرکبات میں کاربن اور ہائڈروجن کے ایٹموں کی تعداد میں کوئی تعلق نظر آتا ہے؟ الکین (Alkenes) کے لیے عام فارمولا CnH2n ہو سکتا ہے جہاں n = 2, 3, 4 ہیں۔ کیا آپ اس طریقہ سے الکین (Alkanes) اور الکائن (Alkynes) کا عام فارمولا بناسکتے ہیں؟
  ہم وصف سلسلہ میں جیسے جیسے سالماتی کمیت بڑھتی ہے، ان کی طبیعی خصوصیات میں بتدریج تبدیلی نظر آتی ہے۔ سالماتی کمیت میں اضافہ ہونے پر ان کے نقطۂ جوش اور نقطۂ گداخت میں ہونے والی بڑھوتری اس کا سبب ہے۔ دوسری طبیعی خصوصیات مثلاً کسی مخصوص محلول میں حل پذیری بتدریج تبدیلی نظر آتی ہے۔ لیکن کیمیائی خصوصیات جو صرف فنکشنل گروپ کے ذریعے متعین ہوتی ہیں، کسی ہم وصف سلسلہ میں ہمیشہ یکساں رہتی ہیں۔

سرگرمی 4.2

مندرجہ ذیل میں   فارمولا ئی اور سالماتی کمیت میں فرق معلوم کیجیے۔
   (a) CH3OH اور C2H5OH (b) C2H5OH اور C3H7OH، اور C3H7OH(c)اور C4H9OH
کیا ان تینوں میں کوئی یکسانیت ہے؟
ان الکوحلوں کو ان کے کاربن ایٹموں کی بڑھتی ترتیب میں لکھیے تاکہ ایک خاندان حاصل ہو سکے۔ کیا اس خاندان کو ہم لوگ ایک ہم وصف سلسلہ کہہ سکتے ہیں۔
جدول 4.3 میں دئیے گئے دیگر فنکشنل گروپ کے لیے ان مرکبات کے ہم وصف سلسلے تیارکیجیے جن میں کاربن ایٹموں کی تعداد چار تک ہو ۔

4.2.5 کاربن کے مرکبات کا تسمیہ (Nomenclature of Carbon Compounds)

کسی ہم وصف سلسلے میں مرکبات کے ناموں کو فنکشنل گروپ کی نوعیت کو ظاہر کرتے ہوئے بنیادی کاربن زنجیرکے نام میں کسی سابقے یا لاحقے کے ذریعے ترمیم کرکے لکھا جاتاہے۔ مثال کے طور پر سرگرمی 4.2 میں الکحلوں کے نام میتھینول، ایتھینول، پروپینال اور بیوٹینال ہیں۔ کسی کاربن کے مرکب کا تسمیہ مندرجہ ذیل طریقہ سے کیا جاسکتا ہے:
(i) مرکب میں کاربن کے ایٹموں کی تعداد معلوم کیجیے۔ کسی مرکب میں اگر تین کاربن ایٹم ہیں تو اس کا نام پروپین (Propane) ہوگا۔
(ii) اگر کوئی فنکشنل گروپ موجود ہے تو اسے   مرکب کے نام میں سابقہ یا لاحقہ لگا کر ظاہر کیا جائے گا (جیسا کہ جدول 4.4 میں دیا گیا ہے)۔
(iii) اگر فنکشنل گروپ کے نام کو لاحقہ (Suffix) کے طور پر لگاناہے اور اس لاحقے کی شروعات کسی Vowelیعنی a,e,i,o,uسے ہوتی ہے تو کاربن زنجیر کے نام میں سے آخری 'e' ہٹاکر اس کی جگہ مناسب لاحقہ جوڑنا ہوگا۔ مثال کے طور پر کیٹون (Ketone)گروپ کی تین کاربن والی زنجیر کا تسمیہ مندرجہ ذیل طریقہ سے کیا جائے گا—
.Propane – ‘e’ = propan + ‘one’ = propanone
(iv) اگر کاربن زنجیر غیر سیر شدہ ہے تو اس کے نام کا آخری 'ane' ہٹاکر اس کی جگہ 'ene' یا 'yne' لگایا جاتا ہے جیسا  کہ جدول 4.4 میں دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک تین کاربن والی زنجیر جس میں دوہرا بانڈ ہو پروپین (Propene) کہلائے گی اور اگر اس میں تہرا بانڈ ہو تو پھر یہ پروپائین (Propyne) کہلائے گی۔

جدول 4.4 فنکشنل گروپ کا تسمیہ  


مرکبات کی قسیم 
(Class of Compounds)
سابقہ / لاحقہ 
(prefix/sufix)
مثال
(Example)
ہیلوجن سابقہ - کلورو، برومو وغیرہ                       picture 1 1      کلوروپروپین

                      picture 2 2    بروموپروپین
الکحل لاحقہ - ol                   picture 3           پروپینول
3۔  الڈی ہائڈ لاحقہ - al                         picture 4      پروپینال
4۔  کیٹون لاحقہ - one                    picture 5        پروپینون
5۔  کاربوکسلک ایسڈ  لاحقہ - oic acid                      picture 6           پروپینوئک ایسڈ
 6۔ْ   الکینز (Alkenes) لاحقہ - ene                         picture 7 پروپین
الکائنز (Alkynes) لاحقہ - yne                          picture 8    پروپائین


سوالات

1.   پینٹین (Pentane) کے لیے آپ کتنے ساختی آئسومر بناسکتے ہیں؟
کاربن کی وہ کون سی دو خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے ہمارے اطراف میں کاربن کے مرکبات کی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے؟
سائکلوپینٹین (Cyclopentane) کا فارمولا اور الیکٹران ڈاٹ ساخت کیا ہوگی؟
مندرجہ ذیل مرکبات کی ساختیںبنائیے:
        (i) ایتھینوئک ایسڈ                 (Ethanoic acid) (ii) بروموپینٹین (Bromopentane)
        (iii)    بیوٹینون                      (Butanone)(iv) ہیکسانول (Hexanol)
* کیا بروموپینٹین کے لیے ساختی آئسومر ممکن ہے؟
مندرج ذیل مرکبات کا تسمیہ آپ کس طرح کریں گے؟
(i) CH3—CH2—Br

picture 9

picture 10

4.3 کاربن کے مرکبات کی کیمیائی خصوصیات

(Chemical Properties of Carbon Compounds)

اس سیکشن میں ہم کاربن کے مرکبات کی چند کیمیائی خصوصیات کا مطالعہ کریں گے۔ چونکہ زیادہ تر ایندھن جن کا ہم   استعمال کرتے ہیں وہ یا تو کاربن ہوتے ہیں یا پھر ان کے مرکبات۔ اس لیے ہم پہلے احتراق (Combustion) کا مطالعہ کریں گے۔

4.3.1 احتراق (Combustion)

کاربن کی سبھی بہروپی شکلیں آکسیجن میں جل کر کاربن ڈائی آکسائڈ دیتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ حرارت اور روشنی بھی خارج کرتی ہیں۔ زیادہ تر کاربن کے مرکبات بھی جلانے پر بڑی مقدار میں حرارت اور روشنی خارج کرتے ہیں۔ یہ سبھی تکسیدی تعاملات ہیں جن کا مطالعہ آپ نے پہلے باب میں کیا ہے۔
Pic 28 Capture4
بعد والے دو تعاملات کو متوازن کیجیے جیسا کہ آپ نے باب ایک میں سیکھا ہے۔

سرگرمی 4.3

تاکید : اس سرگرمی میں استاد کی مدد کی ضرورت ہے۔
ایک کفچی پر یکے بعد دیگرے کاربن کے کچھ مرکبات (نیپتھلین، کافور، الکوحل) لیجیے اور اسے جلائیے۔
لو کی نوعیت کا مشاہدہ کیجیے اور نوٹ کیجیے کہ دھواں پیدا ہوا یا نہیں۔
دھات کی ایک پلیٹ کو لو کے اوپر رکھیے۔ کسی بھی مرکب کے معاملے میں کیا پلیٹ پر کسی طرح کا جماؤ (Deposition) دیکھنے کو ملا؟

سرگرمی 4.4

ایک بنسن برنر جلائیے اور پیندے پر ہوا کے سوراخ کو اس طرح ایڈجسٹ کیجیے کہ مختلف قسم کی لو / دھویں کی موجودگی حاصل ہو سکے۔
کب آپ کو زرد رنگ کی دھویں دار لو حاصل ہوتی ہے؟
کب آپ کو نیلی لو حاصل ہوتی ہے؟

بعد والے دو تعاملات کو متوازن کیجیے جیسا کہ آپ نے باب ایک میں سیکھا ہے۔
سیر شدہ ہائڈروکاربن عموماً صاف لو کے ساتھ جلتے ہیں جبکہ غیر سیر شدہ کاربن کے مرکبات بہت زیادہ دھویں دار زرد لو کے ساتھ جلتے ہیں۔ سرگرمی 4.3 میں دھاتی پلیٹ پر سیاہ جماؤ (sooty deposit) اسی کانتیجہ ہے۔ حالانکہ ہوا کی فراہمی کو کم کرنے کی وجہ سے سیرشدہ ہائڈروکاربن کا بھی نامکمل احتراق ہوتا ہے اور اس وجہ سے دھویں دار لو حاصل ہوتی ہے۔ گھر میں استعمال ہونے والے گیس یا مٹی کے تیل والے اسٹوو میں ہوا کے داخلے کے لیے راستہ ہوتا ہے تاکہ گیس یا تیل ہوا کی وافر مقدار کے ساتھ جلے اور صاف نیلی لو حاصل ہو سکے۔ اگر آپ کو کھانا پکانے کے برتنوں کے نچلے حصّوں میں کالاپن نظر آئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا کے سوراخ بند ہو چکے ہیں اور ایندھن ضائع ہو رہا ہے۔ کوئلہ اور پیٹرولیم جیسے ایندھنوں میں نائٹروجن اور سلفر کی کچھ مقدار پائی جاتی ہے۔ ان کے احتراق سے سلفر اور نائٹروجن کے آکسائڈ بنتے ہیں جو ماحول کو کافی آلودہ کرتے ہیں۔



کیا آپ جانتے ہیں؟

اشیا ،لو کے ساتھ یا لو کے بغیر کیوں جلتی ہیں؟

کیا آپ نے کبھی جلتے کوئلے یا لکڑی کا مشاہدہ کیا ہے؟ اگر نہیں تو آج کے بعد جب بھی آپ کو موقع ملے جلتی ہوئی لکڑی یا کوئلہ کا بغور مشاہدہ کیجیے اور دیکھیے کہ جب کوئلہ یا لکڑی جلنا شروع ہوتی ہے تو کیا ہوتا ہے۔ آپ نے اوپر کے سیکشن میں دیکھا ہے کہ موم بتّی یا گیس اسٹوو میں ایل پی جی لو کے ساتھ جلتی ہے۔ حالانکہ آپ مشاہدہ کریں گے کہ جب کسی ’انگیٹھی‘ میں چارکول یا کوئلہ جلتا ہے تو یہ صرف لال چمک پیدا کرتا ہے اور حرارت خارج کرتا ہے، اس سے لو نہیں نکلتی ہے۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ لواس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی گیسی شے جلتی ہے۔ جب لکڑی یا چارکول جلتا ہے تو ان میں موجود طیران پذیر اشیا کی تبخیر ہوتی ہے اور یہ شروع میں لو کے ساتھ جلتی ہے۔
جب گیسی اشیا کے ایٹم گرم کیے جاتے ہیں تو چمکدار لو نظر آتی ہے۔ ہر ایک عنصر کے ذریعے پیدا کیا گیا رنگ اس عنصر کی امتیازی خصوصیت ہے۔ تانبہ کے تار کو گیس اسٹوو کی لو پر گرم کیجیے اور اس کے رنگ کا مشاہدہ کیجیے۔ آپ نے دیکھا ہے کہ نامکمل احتراق دھواں پیدا کرتا ہے جو کہ کاربن ہوتا ہے۔ اس کی بنیاد پر آپ مو م بتّی کی پیلی لو کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ اس کی کیا وجہ ہے؟

مزید معلومات

کوئلہ اور پیٹرولیم کا بننا

کوئلہ اور پیٹرولیم حیاتیاتی مادّوں سے بنے ہیں جنھیں مختلف حیاتیاتی اور ارضیاتی عملوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ کوئلہ، درختوں، فرن (Ferns) اور دیگر پودوں کے باقیات ہیں جو کروڑوں سال پہلے زندہ تھے۔ یہ زمین کے نیچے دفن ہوگئے جس کی ممکنہ وجہ یا تو زلزلہ یا آتش فشاں کا پھٹنا رہا ہوگا۔ یہ زمین اور چٹانوں کی مختلف پرتوں کے اندر دفن ہوتے چلے گئے۔ دھیرے دھیرے یہ کوئلے میں تبدیل ہو گئے۔ تیل اور گیس کروڑوں سال پہلے سمندر میں پائے جانے والے چھوٹے پودوں اور جانوروں کے باقیات ہیں۔ جب یہ مردہ ہوگئے تو ان کے جسم سمندر کی تہ میں ڈوب گئے اور پھر گاد (Silt) سے ڈھک گئے۔ بیکٹیریا نے ان پر حملہ کیا اور کافی اونچے دبائو کے تحت ان کو تیل اور گیس میں تبدیل کردیا۔ اسی دوران گاد دھیرے دھیرے چٹان میں تبدیل ہو گئی۔ تیل اور گیس رسائو کے ذریعہ چٹان کے مسام دار حصّوں میں داخل ہو گئے اور اسپنج میں پانی کی طرح پھنس گئے۔ کیا آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ کوئلہ اور پیٹرولیم کو رکازی ایندھن (Fossil Fuel)کیوں کہا جاتاہے؟

4.3.2 تکسید (Oxidation)

پہلے باب میں آپ نے تکسیدی تعاملات کا مطالعہ کیا ہے۔ کاربن کے مرکبات احتراق کے نتیجے میں آسانی کے ساتھ تکسید ہو جاتے ہیں۔ اس مکمل تکسید کے علاوہ کچھ ایسے تعاملات ہیں جن میں الکحل کاربوکسلک ایسڈ میں تبدیل ہوجاتا ہے—

سرگرمی 4.5

ایک ٹیسٹ ٹیوب میں تقریباً 3 ملی لیٹر ایتھنال لیجیے اور اسے ایک واٹر باتھ میں ہلکا گرم کیجیے۔
اس محلول میں قلوی پوٹاشیم پرمیگنیٹ کا % 5محلول بوند بوند کرکے ملائیے۔
کیا پوٹاشیم پرمیگنیٹ کا رنگ باقی رہتا ہے جب اسے شروع میں ملایا جاتا ہے؟
زیادہ پوٹاشیم پرمیگنیٹ ملانے پر ر نگ کیوں نہیں غائب ہوتا؟
Pic 29 Capture4
ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ اشیا دوسری اشیا میں آکسیجن کو منسلک کرنے کی اہل ہوتی ہیں۔ ان اشیا کو تکسیدی ایجنٹ (Oxidising agents) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
قلوی پوٹاشیم پرمیگنیٹ یا تیزابی پوٹاشیم ڈائی کرومیٹ الکحل کی ایسڈ میں تکسید کرتے ہیں یعنی پہلے والی شے سے آکسیجن کو منسلک کردیتے ہیں۔ اس لیے یہ تکسیدی ایجنٹ کے نام جانے جاتے ہیں۔

4.3.3 جمعی تعامل (Addition Reaction)

غیر سیر شدہ ہائڈروکاربن پیلیڈیم (Palladium) یا نکل جیسے وسیط کی موجودگی میں ہائڈروجن کو اپنے ساتھ منسلک کرلیتے ہیں اور   سیرشدہ ہائڈروکاربن بناتے ہیں۔ وسیط (Calalyst) وہ اشیاہیں جو کسی تعامل کے ہونے میں مدد کرتی ہیں یا تعامل کو مختلف شرح پر آگے بڑھاتی ہیں لیکن تعامل کومتاثر نہیں کرتی ہیں۔ یہ تعامل عام طور پرخوردنی   تیلوں (Vegetable oils) کے ہائڈروجینیشن (Hydrogenation) میں استعمال کیے جاتے ہیں جس میں وسیط کے طورپر نکل کااستعمال کیا جاتا ہے۔ خوردنی تیلوں میں عموماً لمبی غیرسیرشدہ کاربن زنجیر ہوتی ہے جبکہ حیواناتی چربی میں سیرشدہ کاربن زنجیر ہوتی ہے۔
Pic 30 Capture4
آپ نے اشتہارمیں ضروردیکھا ہوگا کہ کچھ خوردنی تیل (Vegetable oils) صحت کے اعتبار سے مفید ہوتے ہیں۔ حیوانی چربی میں عام طور پر سیرشدہ فیٹی ایسڈ (Fatty acids) ہوتے ہیں جو صحت کے لیے نقصان دہ   مانے جاتے ہیں۔ کھانا پکانے کے لیے ایسے تیلوں کا استعمال کرنا چاہیے جن میں غیر سیر شدہ فیٹی ایسڈ موجود ہوں۔
4.3.4 بدل تعامل (Substitution Reaction)
سیرشدہ ہائڈروکاربن کافی حد تک غیر متعامل ہوتے ہیں یعنی زیادہ ترا یجنٹ کی موجودگی میں کوئی تعامل ظاہر نہیں کرتے۔ حالانکہ سورج کی روشنی کی موجودگی میں کلورین ہائڈروکاربن سے منسلک ہوجاتی ہے اور یہ کافی تیز تعامل ہے۔ کلورین ہائڈروجن کے ایٹموں کو یکے بعد دیگر ہٹاسکتی ہے۔ یہ تعامل بدل تعامل کہلاتا ہے کیونکہ ایک طرح کے ایٹم یا ایٹموں کا مجموعہ دوسرے کی جگہ لے لیتا ہے۔ الکینس (Alkans) کے اعلیٰ ہم وصف (Homologous) کے ساتھ عموماً کافی تعداد میں ماحصلات بنتے ہیں۔
Pic 31Capture4

سوالات  


ایتھینول کی ایتھینوئک ایسڈ میں تبدیلی ایک تکسیدی تعامل کیوں ہے؟
ویلڈنگ کے لیے آکسیجن اور ایتھائین کا آمیزہ جلایا جاتا ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ایتھائین اور ہوا کا آمیزہ کیوں استعمال نہیں کیا جاتا ؟

4.4 کاربن کے کچھ اہم مرکبات — ایتھینول اور ایتھینوئک ایسڈ (Some Important carbon compounds – Ethanol and Ethanoic Acid)

کاربن کے کئی مرکبات ہمارے لیے بیش قیمت ہیں۔ لیکن یہاں ہم تجارتی اہمیت کے حامل دومرکبات ایتھینول اور ایتھینوئک ایسڈ کی خصوصیات کا مطالعہ کریں گے۔

4.4.1 ایتھینول کی خصوصیات (Properties of Ethanol)

ایتھینول کمرہ کے درجۂ حرارت پر رقیق ہے (ایتھینول کے نقطۂ جوش اور نقطۂ گداخت کے لیے جدول 4.1 دیکھیے)۔ ایتھینول عام طور پر الکحل کہلاتا ہے اور سبھی الکحلی مشروبات کا ایک اہم جزو ہے۔ اس کے علاوہ کیونکہ یہ ایک عمدہ محلل ہے اس لیے اس کا استعمال ٹنکچر آیوڈین، کھانسی کے سیرپ اور دیگر کئی ٹانک جیسی دوائوں کے بنانے میں کیا جاتا ہے۔ ایتھینول پانی میں بھی سبھی تناسب میں حل پذیر ہے۔ ڈائیلوٹ ایتھینول کی تھوڑی مقدار پینے سے شراب نوشی کی عادت پیدا ہوتی ہے، حالانکہ یہ ایک قابلِ مذمت عمل ہے پھر بھی معاشرہ میں یہ عادت پھیلی ہوئی ہے۔ خالص الکحل کی تھوڑی مقدار ہی (جسے مجرد الکحل کہا جاتا ہے) موت کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ الکحل کا لمبے وقت تک استعمال کرنے سے مختلف قسم کی جسمانی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔

سرگرمی 4.6

استاد کے ذریعہ مظاہرہ—
سوڈیم کے ایک چھوٹے ٹکڑے کو جس کا سائز چاول کے چند دانوں کے برابر ہو، ایتھینول (مجرد الکحل) میں ڈالیے۔
آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟
خارج ہونے والی گیس کی جانچ آپ کس طرح کریں گے؟

ایتھینول کے تعاملات

(i) سوڈیم کے ساتھ تعامل

Pic 32 Capture4
الکحل سوڈیم سے تعامل کرکے ہائڈروجن خارج کرتی ہے۔ ایتھینول کے ساتھ ایک دوسرا ماحصل سوڈیم ایتھوکسائڈ بنتا ہے۔ کیا آپ کچھ اورایسی اشیا کا نام بتاسکتے ہیں جو دھاتوں سے تعامل کرکے ہائڈروجن پیدا کرتی ہیں؟
(ii) غیر سیر شدہ ہائڈروکاربن دینے والے تعامل : 443 کیلون درجہ حرارت پر مرتکز سلفیورک ایسڈ کی زیادتی میں ایتھینول کو گرم کرنے پر اس کی نابیدگی (Dehydration) ہوجاتی ہے اور ایتھین (Ethene) بنتا ہے۔
Pic 33 Capture4
مرتکز سلفیورک ایسڈ کو ڈی ہائڈریٹنگ ایجنٹ سمجھا جاسکتا ہے جو ایتھینال سے پانی کو باہر کر دیتا ہے۔
الکحل جاندار اجسام کو کس طرح متاثر کرتے ہیں؟
جب ایتھینول کی زیادہ مقدار استعمال کی جاتی ہے تو یہ استحالی عملوں کو سست کردیتا ہے اور مرکزی عصبی نظام کو افسردہ کردیتی ہے۔ اس کی وجہ سے ارتباط میں کمی، ذہنی انتشار، نیم خوابیدگی، عام مزاحمت میں کمی اور بالآخر بے ہوشی پیدا ہوجاتی ہے۔ انسان اس سے آسودگی محسوس کرسکتا ہے لیکن یہ محسوس نہیں کرپاتا کہ اس کی فیصلہ کرنے کی حس، وقت کو محسوس کرنے کی حس اور عضلاتی تال میل کافی متاثر ہوچکے ہیں۔
ایتھینول کی طرح میتھینول کی تھوڑی سی مقدار کے استعمال سے موت واقع ہو سکتی ہے۔ میتھینول جگر میں تکسید ہو کر میتھینل بناتا ہے۔ میتھینل(Methanal) خلیے کے اجزا کے ساتھ بڑی تیزی سے تعامل کرتی ہے۔ اس کی وجہ سے پروٹوپلازم منجمد ہو جاتا ہے، ٹھیک اسی طرح جس طرح انڈا پکانے پر منجمد ہوجاتا ہے۔ میتھینل بصری اعصاب کو بھی متاثر کرتی ہے جس کی وجہ سے بینائی ختم ہوسکتی ہے۔ ایتھینول ایک اہم صنعتی محلل ہے۔ صنعتی مقاصد کے لیے تیار کیے گئے ایتھینول کا غلط استعمال نہ ہو پائے، اس بات کو روکنے کے لیے اس میں کچھ زہریلی شئے مثلاً میتھینول کی آمیزش کردی جاتی ہے۔ الکحل کو نیلا رنگ دینے کے لیے اس میں رنگ بھی ملائے جاتے ہیں تاکہ اسے آسانی سے پہچانا جاسکے۔ اسے ڈینیچرڈ (Denatured) الکحل کہا جاتا ہے۔


مزید معلومات

الکحل بحیثیت ایندھن  

گنے کا پودا سورج کی روشنی کو کیمیائی توانائی میں تبدیل کرنے والے سب سے اثر آفریں ذرائع میں سے ایک ہے۔ گنے کے رس کا استعمال شیرہ بنانے میں کیا جاتا ہے جو تخمیر ہو کر الکحل (ایتھینول) میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ کچھ ملکوں میں آج الکحل کا استعمال پیٹرول کے ساتھ ملا کر (Additive) کیا جاتا ہے کیوں کہ یہ ایک صاف ستھرا ایندھن (Cleaner fuel) ہے جو وافر ہوا (آکسیجن) میں جل کر صرف کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی بناتا ہے۔

4.4.2 ایتھینوئک ایسڈ کی خصوصیات (Properties of Ethanoic Acid)

ایتھینوئک ایسڈ عام طور پر ایسیٹک ایسڈ کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ ایسڈوں کے ایک ایسے گروپ سے تعلق رکھتا ہے جسے کاربوکسلک ایسڈ  (Carboxylic acid) کہتے ہیں۔ پانی میں ایسیٹک ایسڈ کے % 8-5محلول (جسے سرکہ کہتے ہیں) کا استعمال اچار کے تحفظ میں کیا جاتاہے۔ خالص ایتھینوئک ایسڈ کا نقطۂ گداختK 290 ہوتا ہے اور اس لیے یہ سرد آب و ہوا میں سردی کے دوران اکثر جم جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کا نام گلیشیل ایسیٹک ایسڈ (Glacial acetic acid) پڑا۔
  

سرگرمی 4.7

◊لٹمس پیپر اور یونیورسل انڈیکٹر دونوں کا استعمال کرکے ڈائیلوٹ ایسیٹک ایسڈ اور ڈائیلوٹ ہائڈروکلورک ایسڈ کے pH کا موازنہ کیجیے۔
کیا لٹمس کاغذ کے ذریعے دونوں تیزابی پائے گئے؟
کیا یونیورسل انڈیکٹر دونوں تیزابوں کو مساوی طور پر قوی تیزاب ظاہر کرتا ہے؟



Pic 34 Capture4

شکل 4.11  

  ایسٹر کا بننا
نامیاتی مرکبات کا گروپ جو کاربو کسلک ایسڈ کہلاتا ہے، اپنی مخصوص تیزابیت کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ حالانکہ معدنی تیزاب جیسے HCl، جو مکمل طور پر آینی ہوتے ہیں، کے برعکس کاربوکسلک ایسڈ کمزور ایسڈ ہوتے ہیں۔

سرگرمی 4.8

ایک ملی لیٹر ایتھینول (مجرد الکحل) اور ایک ملی لیٹرگلیشیل ایسیٹک، ایسڈ، مرتکز سلفیورک ایسڈ کی چند بوندوں کے ساتھ ایک ٹیسٹ ٹیوب میں لیجیے۔
شکل 4.11 کی طرح اسے ایک واٹر باتھ میں کم از کم پانچ منٹ تک گرم کیجیے۔
اسے ایک بیکر میں ڈالیے جس میں 20 سے 25 ملی لیٹر پانی لیا گیا ہو اور تیار شدہ آمیزہ کو سونگھیے۔

ایتھینوئک ایسڈ کے تعاملات (Reactions of ethanoic acid)

(i) ایسٹریفیکیشن تعامل (Esterification Reaction): ایسٹر عام طور سے ایسڈ اور الکحل کے تعامل سے بنائے جاتے ہیں۔ ایتھینوئک ایسڈ مطلق الکحل کے ساتھ کسی ایسڈوسیط کی موجودگی میں تعامل کرکے ایسٹر بناتا ہے۔
Pic 35 Capture4
عام طور سے ایسٹرمیٹھی بو والی شے ہے۔ ان کا استعمال پرفیوم بنانے اور فلیورنگ ایجنٹ (Flavouring Agent)   کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ایسٹر تیزاب یا اساس کی موجودگی میں تعامل کرکے واپس الکحل اور کاربوکسلک ایسڈ بناتے ہیں۔ یہ تعامل تصبین (Saponification) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا استعمال صابن بنانے میں کیا جاتا ہے۔صابن ، لمبی زنجیر والے کاربوکسلک ایسیڈ کا سوڈیم یا پوٹا شیم نمک ہے۔
Pic 36 Capture4
(ii) اساس کے ساتھ تعامل (Reaction with a base): معدنی تیزاب کی طرح ایتھینوئک ایسڈ کسی اساس مثلاً سوڈیم ہائڈروکسائڈ کے ساتھ تعامل کرکے نمک (سوڈیم ایتھینوایٹ یا سوڈیم ایسیٹیٹ) اور پانی بناتا ہے۔
Pic 37Capture4
ایتھینوئک ایسڈ، کاربونیٹ اور ہائڈروجن کاربونیٹز کے ساتھ کس طرح تعامل کرتا ہے؟
اسے معلوم کرنے کے لیے آئیے ایک سرگرمی انجام دیں۔

سرگرمی 4.9

باب 2، سرگرمی 2.5 کی طرح آلات ترتیب دیجیے۔
ایک ٹیسٹ ٹیوب میں سوڈیم کاربونیٹ سے بھری ایک کفچی لیجیے اور اس میں 2 ملی لیٹر ڈائی لیوٹ ایتھینوئک ایسڈ ملائیے۔
آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟
پیدا ہونے والی گیس کو تازہ تیار شدہ چونے کے پانی سے گزاریے۔ آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟
کیا ایتھینوئک ایسڈ اور سوڈیم کاربونیٹ کے درمیان تعامل سے پیدا ہونے والی گیس کو اس جانچ کے ذریعے پہچانا جاسکتا ہے؟
اس سرگرمی کو سوڈیم کاربونیٹ کی جگہ سوڈیم ہائڈروجن کاربونیٹ کے ساتھ دہرائیں۔

(iii) کاربونیٹ اور ہائڈروجن کاربونیٹ کے ساتھ تعامل (Reaction with carbonates and hydrogencarbonates): ایتھینوئک ایسڈ، کاربونیٹ اور ہائڈروجن کاربونیٹ کے ساتھ تعامل کرکے نمک، کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی بناتا ہے۔ اس طرح حاصل ہونے والے نمک کو عام طور پر سوڈیم ایسیٹیٹ کہا جاتا ہے۔
Pic 38 Capture4

  سوالات

الکحل اور کاربوکسلک ایسڈ کے درمیان آپ تجرباتی طور پرکس طرح فرق واضح کریں گے؟
تکسیدی ایجنٹ سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟

4.5 صابن اور ڈٹرجنٹ (Soaps and Dtergents)


سرگرمی4.10

دو ٹیسٹ ٹیوبوں میں الگ الگ 10 ملی لیٹر پانی لیجیے۔
دونوں ٹیسٹ ٹیوبوں میں خوردنی تیل کی ایک ایک بوند ڈالیے اور ان کا نام A اور B رکھیے۔
ٹیسٹ ٹیوبB میں صابن کے محلول کی چند بوندیں ڈالیے۔
اب دونوں ٹیسٹ ٹیوبوں کو یکساں وقفہ تک زورسے ہلائیے۔
کیا دونوں ٹیسٹ ٹیوبوں میں حرکت روکنے کے فوراً بعد تیل اور پانی کی پرتیں الگ الگ نظر آتی ہیں؟
ٹیسٹ ٹیوبوں کو کچھ دیر کے لیے بالکل ایسے ہی چھوڑ دیجیے اور ان کا مشاہدہ کیجیے۔ کیا تیل کی پرت الگ ہو جاتی ہے؟ کس ٹیسٹ ٹیوب میں یہ پہلے ہوتا ہے؟


Pic 39 Capture4

شکل 4.12

  مسیل (Micelles) کا بننا

یہ سرگرمی صفائی کے عمل میں صابن کے اثر کا مظاہرہ کرتی ہے۔ زیادہ تر گندگی فطرتاً روغنی ہوتی ہیں اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں تیل پانی میں حل پذیر نہیں ہے۔ صابن کے سالمات لمبی زنجیر والے کاربوکسلک یسڈ کے سوڈیم اور پوٹاشیم نمک ہوتے ہیں۔ صابن کا آینی سرا پانی سے تعامل کرتا ہے جبکہ کاربن زنجیر تیل سے اس طریقہ سے صابن کے سالمات کی جو ساخت بنتی ہے اسے مسیل (Micelles) کہتے ہیں (شکل4.12) جس میں سالمات کا ایک سرا تیل کی بوندوں کی طرف ہوتا ہے جبکہ آینی سرا باہر کی جانب۔ یہ پانی میں ایملشن (Emulsion) بناتا ہے۔ اس طرح سے صابن کا مسیل گندگی کو پانی میں حل کردیتا ہے اور ہم اپنے کپڑوں کوصاف کرلیتے ہیں (شکل 4.13)۔
اگر صابن کو ہائڈروکاربن میں گھولا جائے تو کیا آپ اس سے بنے مسیل (Micelle) کی ساخت بناسکتے ہیں؟

مسیل (Micelles)

صابن ایسے سالمات ہیں جو دو مختلف خصوصیات والے سروں پرمشتمل ہوتے ہیں، ایک سرا ہائڈرو فلک   (Hydrophillic) ہوتا ہے جو پانی میں حل پذیر ہوتا ہے جبکہ دوسرا سرا ہائڈروفوبک (Hydrophobic) ہوتا ہے جو ہائڈروکاربن میں حل ہوجاتا ہے۔ جب صابن پانی کی سطح پر ہوتا ہے تو صابن کی ہائڈروفوبک ’’دُم ‘‘پانی میں حل پذیر نہیں ہوگی اور صابن پانی کی سطح پر اس طرح ترتیب میں آجاتاہے کہ آینی سرا پانی میںہوتا ہے اور ہائڈرو کاربن ’’دم ‘‘پانی سے باہر کی طرف ہوتی ہے۔ پانی کے اندر ان سالمات کا رخ (Orientation) مخصوص قسم کا ہوتا ہے جو ہائڈروکاربن حصّے کو پانی کے باہر رکھتا ہے۔ مسیل کی تشکیل سالمات کے مجموعوں سے حاصل ہوتی ہے جس میں ہائڈروفوبک دم مجموعے کے اندرونی حصے میں اور آینی سرے مجموعے کی سطح پر ہوتے ہیں۔ اس تشکیل کو مسیل (Micelle) کہتے ہیں۔

Pic 40 Capture4

شکل 4.13   صفائی میں صابن کا اثر    

مسیل کی شکل میں صابن صفائی کرنے کے قابل ہوجاتا ہے چونکہ روغنی گندگی مسیل کے مرکز میں جمع ہو جاتی ہے۔ مسیل محلول کے اندر کولائڈ کی شکل میں رہتا ہے اور آین —آین دفع کی وجہ سے رسوب کی شکل میں یکجا نہیں ہوپاتا۔ اس طرح سے مسیل کے اندر معلق گندگی آسانی سے صاف ہو جاتی ہے۔ صابن کا مسیل اتنا بڑا ہوتا ہے کہ یہ روشنی کومنتشر کردیتا ہے۔ اسی وجہ سے صابن کا محلول دھندلا دکھائی دیتا ہے۔


سرگرمی 4.11

10 ملی لیٹر کشیدہ پانی (یا بارش کا پانی) اور 10 ملی لیٹر سخت پانی (ٹیوب ویل یا ہینڈپمپ کا پانی) دو الگ الگ ٹیسٹ ٹیوبوں میں لیجیے۔
دونوں میں صابن کے محلول کی چند بوندیں ملائیے۔
برابر وقفے تک دونوں ٹیسٹ ٹیوبوں کو زورزورسے ہلائیے اور پیدا ہونے والے جھاگ کا مشاہدہ کیجیے۔
کس ٹیسٹ ٹیوب میں آپ کو زیادہ جھاگ نظر آتے ہیں؟
کس ٹیسٹ ٹیوب میں آپ سفید دہی جیسا رسوب دیکھتے ہیں؟
استاد کے لیے نوٹ: اگر آپ کے علاقے میں سخت پانی مہیّا نہیں ہے تو پانی میں کیلشیم یا میگنیشیم ہائڈروجن کاربونیٹ / سلفیٹ / کلورائڈ کو ملاکر سخت پانی تیار کرلیں۔

سرگرمی 4.12

دو ٹیسٹ ٹیوبوں میں 10-10 ملی لیٹر سخت پانی لیجیے۔
ایک میں صابن کے محلول کی پانچ بوندیں اور دوسرے میں ڈٹرجنٹ کے محلول کی پانچ بوندیں ملائیے ۔
دونوں ٹیسٹ ٹیوبوں کو یکساں وقفے تک ہلائیے۔
کیا دونوں ٹیسٹ ٹیوبوں میں جھاگ کی مقدار برابر ہے؟
کس ٹیسٹ ٹیوب میں دہی جیسا ٹھوس بنا ہے؟

کیا آپ نے غسل کے دوران کبھی مشاہدہ کیا ہے کہ جھاگ مشکل سے بنتا ہے اور پانی سے دھلنے کے بعد ایک غیر حل پذیر شے (میل/ کف) بچ جاتی ہے؟ کیلشیم اور میگنیشیم نمکوں کے ساتھ صابن کے تعامل کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔ یہ نمک پانی کو سخت بناتے ہیں اور اسی لیے آپ کو زیادہ صابن استعمال کرنا پڑتاہے۔ اس مسئلے کو دور کرنے کے لیے ایک دوسرے درجے کے مرکبات کا استعمال کیا جاتا ہے جسے ڈٹرجنٹ (Detergent) کہتے ہیں جو مصفی (Cleansing Agent) کے طورپر کام کرتے ہیں۔ڈٹرجنٹ عام طور سے سلفونک ایسیڈ کے سوڈیم نمک یا کلورائڈ یا برومائٹر آینوں پر مشتمل امونیم نمک ہوتے ہیں۔ دونوں میں ہی ہائڈروکاربن کی لمبی زنجیر ہوتی ہے۔ ان مرکبات کے چارج شدہ سرے سخت پانی میں کیلشیم اور میگنیشیم آین کے ساتھ غیر حل پذیر رسوب نہیں بناتے۔ اس لیے یہ سخت پانی میں مؤثر رہتے ہیں۔ ڈٹرجنٹ کا استعمال عموماً شیمپو اور کپڑے صاف کرنے والی مصنوعات بنانے میں کیا جاتا ہے۔

سوالات

کیا ڈٹر جنٹ کے استعمال سے اس بات کی آپ جانچ کر سکتے ہیں کہ پانی سخت ہے یا نہیں؟
کپڑوں کی صفائی کے لیے لوگ مختلف طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ صابن ملانے کے بعد اکثر و بیشتر وہ کپڑوں کو کسی پتھر پر پیٹتے ہیں، یا کسی پٹرے سے پیٹتے ہیں یا کسی برش سے رگڑتے ہیں یا پھر آمیز کو کپڑے دھونے کی مشین میں حرکت دیتے ہیں۔ کپڑوں کی صفائی کے لیے انھیں متحرک کرنا ضروری کیوں ہے؟

آپ نے کیا سیکھا

کاربن ایک ہمہ گیر عنصر ہے جو سبھی جاندار عضویوں اورہمارے استعمال کی بہت سی چیزوں کی بنیادہے۔
کاربن کے ذریعے بنائے گئے مرکبات کی بڑی تعداد کی وجہ اس کی چہار گرفت اور کیٹینیشن کی خاصیت ہے۔
شریک گرفت بانڈ دو ایٹموں کے درمیان الیکٹرانوں کی ساجھے داری سے بنتا ہے تاکہ دونوں ایٹم مکمل طور سے پُر بیرونی شیل حاصل کرسکیں۔
کاربن خود اپنے ایٹموںاور دوسرے عناصر مثلاً ہائڈروجن، آکسیجن، سلفر، نائٹروجن اور کلورین کے ساتھ شریک گرفت بند بناتا ہے۔
کاربن ایسے مرکبات بھی بناتا ہے جن میں کاربن کے ایٹموں کے درمیان دوہرا اور تہرا بانڈ ہوتا ہے۔ یہ کاربن زنجیریں یا تو سیدھی یا شاخ دار یا پھر چھلّے دار شکل میں ہوسکتی ہیں۔
کاربن کی زنجیر بنانے کی صلاحیت مرکبات کے ہم وصف سلسلے کی تشکیل کرتی ہے جس میں یکساں فنکشنل گروپ مختلف لمبائی کی کاربن زنجیروں سے منسلک رہتا ہے۔
فنکشنل گروپ جیسے الکحل، ایلڈی ہائڈ، کیٹون اور کاربوکسلک ایسڈ کاربن کے ان مرکبات کو منفردخصوصیات عطا کرتے ہیںجن میں یہ موجود ہوتے ہیں ۔
کاربن اور اس کے مرکبات ہمارے ایندھن کے بڑے ذرائع ہیں۔
ایتھینول اور ایتھینوئک ایسڈ، ہماری روزمرّہ کی زندگی میں کام آنے والے کاربن کے اہم مرکبات ہیں۔
صابن اورڈٹرجنٹ کی کارکردگی ان کے سالمہ میں موجود ہائڈروفلک اور ہائڈروفوبک سروں پر منحصر کرتی ہے جو روغنی گندگی کو ایملشن میں تبدیل کرکے دورکردیتے ہیں۔

مشقیں

ایتھین کا سالماتی فارمولا C2H6 ہوتا ہے، اس میں ہوتے ہیں :
(a)
   6 شریک گرفت بانڈ
(b)
     7   شریک گرفت بانڈ
(c)
     8   شریک گرفت بانڈ
(d)
    9   شریک گرفت بانڈ

بیوٹینون (Butanone) چار کاربن پر مشتمل مرکب ہے جس میں فنکشنل گروپ ہوتا ہے:
(a) کاربوکسلک ایسڈ
(b) ایلڈی ہائیڈ
(c) کیٹون
(d) الکحل
کھانا پکانے کے دوران اگر برتن کا پیندا باہرکی طرف سے سیاہ ہو رہا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ:
(a) کھانا مکمل طور سے نہیں پکاہے۔
(b) ایندھن مکمل طور سے نہیں جل رہا ہے۔
(c) ایندھن گیلا ہے۔
(d) ایندھن پوری طرح سے جل رہا ہے۔
CH3Cl میں بانڈ کی تشکیل کی مدد سے شریک گرفت بانڈ کی نوعیت کی وضاحت کیجیے۔
مندرجہ ذیل کی الیکٹران ڈاٹ ساخت بنائیے:
(a) ایتھینوئک ایسڈ  
(b) H2S
(c) پروپینون
(d) F2
ہم وصف سلسلہ کیا ہے؟ ایک مثال کے ساتھ واضح کیجیے۔
طبیعی اور کیمیائی خصوصیات کی بنیاد پر ایتھینول اور ایتھینوئک ایسڈ میں فرق واضح کیجیے؟
جب پانی میں صابن ملایا جاتا ہے تو مسیل کیوں بنتا ہے؟ کیا دوسرے محلل مثلاً ایتھینال میں بھی مسیل بنے گا؟
کاربن اور اس کے مرکبات زیادہ تر کاموں میں ایندھن کے طور پر کیوں استعمال کیے جاتے ہیں؟
10۔ جب سخت پانی میں صابن کا استعمال کیا جاتا ہے تو میل/کف بننے کے عمل کی وضاحت کیجیے۔
11۔ اگر آپ صابن کی جانچ لٹمس پیپر(سرخ اور نیلا) کے ساتھ کریں تو کس تبدیلی کا مشاہدہ کریں گے؟
12۔ ہائڈروجینیشن (Hydrogenation) کیا ہے؟ اس کا صنعتی استعمال کیا ہے؟  
13۔ مندرجہ ذیل میں سے کس ہائڈروکاربن میں جمع تعامل ہوتا ہے:
C2H6، C3H8، C3H6، C2H2 اور CH4۔
14۔ ایک ایسے ٹیسٹ کا بیان کیجیے جس کا استعمال کرکے کیمیائی طور پر سیر شدہ اورغیر سیرشدہ ہائڈروکاربن میں فرق کیا جاسکتا ہو۔
15۔ صابن کی صفائی کے عمل کے طریقۂ کار کی وضاحت کیجیے۔

اجتماعی سرگرمی

I سالماتی ماڈل کٹ (Kits) کا استعمال کرکے مرکبات کے ماڈل تیار کیجیے جن کا مطالعہ آپ نے اس باب میں کیا ہے۔
II ایک بیکر میں تقریباً 20 ملی لیٹرکاسٹرآیل / کپاس کے بیج کا تیل / سرسوں کا تیل / سویابین کا تیل لیجیے۔ اس میں 30 ملی لیٹر % 20سوڈیم ہائڈروکسائڈ محلول ملائیے۔ آمیزے کو چلاتے ہوئے کچھ منٹوں تک گرم کیجیےتاکہوہ کچھ گاڑھا ہو جائے۔ اس میں 5 سے 10 گرام کھانے کا نمک ملائیے۔ آمیزے کو اچھی طرح چلائیے اور اسے ٹھنڈا ہونے دیجیے۔
آپ صابن کوخوبصورت شکلوں میں کاٹ سکتے ہیں۔ صابن کے جمنے سے قبل آپ اس میں خوشبو بھی ملاسکتے ہیں۔