پچھلے باب میں ہم نے آینی مرکبات کی خصوصیات کا مطالعہ کیا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ آینی مرکبات کے نقطۂ جوش اور نقطۂ گداخت زیادہ ہوتے ہیں اور یہ محلول یا پگھلی ہوئی حالتوں میں بجلی کا ایصال کرتے ہیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ کس طرح آینی مرکبات کی بندش (بونڈنگ) کی نوعیت ان کی خصوصیات کی وضاحت کرتی ہیں۔ آئیے اب کاربن کے کچھ مرکبات کی خصوصیات کا مطالعہ کریں۔
کاربن کے زیادہ تر مرکبات بجلی کے موصل نہیں ہوتے ہیں جیسا کہ ہم نے باب -2 میں پڑھا ہے۔ اوپر جدول 4.1 میں دئے گئے کاربن مرکبات کے نقطۂ جوش اور نقطۂ گداخت کے اعدادو شمار میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان مرکبات کے نقطۂ جوش اور نقطۂ گداخت آینی مرکبات کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں اس کی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان سالمات کے درمیان قوت کشش زیادہ مضبوط نہیں ہوتی ہے۔ چونکہ یہ مرکبات زیادہ تر بجلی کے غیر موصل ہوتے ہیں اس لیے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ ان مرکبات کے درمیان بندش کسی آین کوپیدا نہیں کرتی۔
نویں جماعت میں ہم نے مختلف عناصر کی اتحادی صلاحیت کے بارے میں جانکاری حاصل کی اور یہ بھی سیکھا کہ یہ کس طرح گرفت الیکٹرانوں (Valence Electorns) پر منحصرہوتی ہے۔ آئیے اب کاربن کے الیکٹرانی تشکل پر غور کریں۔ کاربن کا ایٹمی عدد 6 ہے۔ کاربن کے مختلف شیل (Shells) میں الیکٹرانوں کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ کاربن کے پاس کتنے گرفت الیکٹران ہوں گے؟
ہم جانتے ہیں کہ عناصر کی متعاملیت کی وضاحت اس کے باہری شیل (Shell) کو مکمل طور پر بھرنے کے رجحان سے کی جاتی ہے یعنی نوبل گیس کے تشکل کو حاصل کرنا۔ آینی مرکبات بنانے والے عناصر اپنے سب سے باہری شیل سے الیکٹران کو کھوکر یا حاصل کرکے یہ تشکل حاصل کرتے ہیں۔ کاربن کے معاملہ کو دیکھیں تو اس کے پاس سب سے باہری شیل میں 4 الیکٹران ہیں اورنوبل گیس تشکل حاصل کرنے کے لیے اسے یا تو 4 الیکٹران حاصل کرنے ہوں گے یا پھر ان 4 الیکٹرانوں کو کھونا پڑے گا۔ اگر یہ الیکٹران حاصل کرتا ہے یا کھوتا ہے تو—
(i) یہ 4 الیکٹران حاصل کرکے– C4 این آین بن سکتا ہے لیکن نیوکلیس میں موجود 6 پروٹانوں کے لیے 10 الیکٹرانوں کو پکڑکر رکھنا مشکل ہوگا۔
(ii) یہ 4 الیکٹران کھوکر+C4کیٹ آین(Cation) بنا سکتا لیکن اس کے لیے بڑی مقدار میں توانائی کی ضرورت ہوگی تاکہ 6 پروٹانوں والے کاربن کیٹ آین نیوکلیس میں صرف 2 الیکٹرانوں کو پکڑ کر رکھا جاسکے اور 4 الیکٹران کو نکالا جاسکے۔
کاربن اس مسئلہ پر قابو پانے کے لیے دوسرے کاربن ایٹم یا کسی دوسرے عنصر کے ایٹموں کے ساتھ اپنے گرفتی الیکٹرانوں کا ساجھا کرلیتاہے۔ صرف کاربن ہی نہیں بلکہ کئی دیگر عناصر اس طریقہ سے الیکٹرانوں کی ساجھے داری کرکے سالمات بناتے ہیں۔ ساجھے کے الیکٹرانوں پر دونوں ایٹموں کے سب سے باہری شیل کا تصرف ہوتا ہے اور یہ نوبل گیس تشکل حاصل کرنے میں دونوں ایٹموں کی مدد کرتے ہیں۔ کاربن کے مرکبات کا مطالعہ کرنے سے پہلے آئیے کچھ سادہ سالمات پر نظر ڈالیں جو گرفتی الیکٹرانوں کی ساجھے داری سے بنتے ہیں۔
شکل 4.1
ہائڈروجن کا ایک سالمہ
اس طریقے سے بنا ہوا سب سے سادہ سالمہ ہائڈروجن کا ہے۔ جیسا کہ آپ نے پہلے پڑھا ہے کہ ہائڈروجن کا ایٹمی عدد 1 ہے۔ اس لیے ہائڈروجن کے K شیل میں 1 الیکٹران ہوتا ہے اور اس کو بھرنے کے لیے اسے 1الیکٹران کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے ہائڈروجن کے دو ایٹم اپنے اپنے الیکٹرانوں کا ساجھا کرتے ہیں اور ہائڈروجن کا 1 سالمہ، H2 بناتے ہیں۔ یہ دونوں ہائڈروجن کے ایٹموں کو نزدیکی نوبل گیس یعنی ہیلیم کا الیکٹرانی تشکل حاصل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ ہیلیم کے K شیل میں دو الیکٹران ہوتے ہیں۔ ڈاٹ یا کراس کی مدد سے ہم ان گرفتی الیکٹرانوں کو دکھاسکتے ہیں (شکل 4.1)۔

شکل 4.2
ہائڈروجن کے دو ایٹموں کے درمیان واحد بانڈ
ہائڈروجن کے دونوں ایٹموں کے درمیان الیکٹرانوں کے ساجھے سے واحد شریک گرفت بانڈ (Single Covalent Bond) تشکیل پاتا ہے۔ واحد بانڈ دو ایٹموں کے درمیان ایک خط کے ذریعہ بھی دکھایا جاتا ہے جیسا کہ شکل 4.2 میں دکھایا گیا ہے۔
کلورین کا ایٹمی عدد 17 ہے۔ اس کا الیکٹرانی تشکل اور گرفت کیا ہوں گے ؟ کلورین دو ایٹمی سالمہ Cl2 بناتا ہے۔ کیا آپ اس سالمہ کے لیے الیکٹران ڈاٹ ساخت بناسکتے ہیں؟ یاد رکھیں کہ ساخت بناتے وقت صرف گرفتی شیل الیکٹرانوں کو ہی ظاہر کرنا ہے۔
آکسیجن کے معاملہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے دو ایٹموں کے درمیان دوہرا بانڈ بنتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ آکسیجن کے ایک ایٹم کے شیل میں 6 الیکٹران ہوتے ہیں (آکسیجن کا ایٹمی عدد 8 ہوتا ہے) اور اسے اپنا آکٹیٹ (Octet) مکمل کرنے کے لیے 2 الیکٹرانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے آکسیجن کا ہر ایٹم آکسیجن کے دوسرے ایٹم کے ساتھ 2 الیکٹرانوں کی ساجھے داری کرتا ہے۔ تاکہ شکل 4.3 جیسی ساخت حاصل ہو سکے۔ آکسیجن کے ہر ایک ایٹم کے ذریعے ساجھا کیے گئے دو الیکٹرانوں کی وجہ سے دو ساجھے جوڑوں کی تشکیل ہوتی ہے۔ اسے دو ایٹموں کے درمیان دوہرا بانڈ کہا جاتا ہے۔
شکل 4.3
آکسیجن کے دو ایٹموں کے درمیان دوہرا بانڈ
کیا اب آپ پانی کے ایک سالمہ کو ظاہر کرسکتے ہیں جس میں آکسیجن کے ایک ایٹم اور ہائڈروجن کے دو ایٹموں کے درمیان بانڈ کی نوعیت کو دکھایا گیاہو؟ اس سالمے میں واحد بانڈ ہے یا دوہرابانڈ؟
نائٹروجن کے دوایٹمی سالمے کے معاملے میں کیا ہوگا؟ نائٹروجن کا ایٹمی عدد 7 ہے۔ اس کا الیکٹرانی تشکل اور اتحادی صلاحیت کیا ہوگی؟ آکٹیٹ حاصل کرنے کے لیے نائٹروجن کے سالمے کا ہر ایک ایٹم اپنے تین تین الیکٹرانوں کی ساجھے داری کرکے الیکٹرانوں کے تین ساجھے بناتا ہے۔ یہ دوایٹموں کے درمیان تہرا بانڈ (Triple bond) کہلاتا ہے۔N2 کی الیکٹران ڈاٹ ساخت اور اس کے تہرے بانڈ کو شکل 4.4 کے ذریعہ دکھایا جاسکتا ہے۔
شکل 4.4
نائٹروجن کے دو ایٹموں کے درمیان تہرا بانڈ
امونیا کے ایک سالمہ کا فارمولا NH3 ہوتا ہے۔ کیا آپ اس سالمہ کی الیکٹران ڈاٹ ساخت بنا سکتے ہیں جس میں یہ دکھایا گیا ہو کہ کس طرح چاروں ایٹم نوبل گیس کا تشکل حاصل کرتے ہیں؟ کیا اس سالمے میں اکہرا بانڈہوگا یا دوہرا بانڈ یا تہرا بانڈ ؟
آئیے اب میتھین پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو کاربن کا مرکب ہے۔ میتھین کا استعمال بڑے پیمانے پر ایندھن کی شکل میں ہوتا ہے اور یہ بایو گیس نیز کمپریسڈ نیچرل گیس (CNG) کا ایک اہم جز ہے۔ یہ کاربن کے ذریعے بننے والا سب سے سادہ مرکب بھی ہے۔ میتھین کا فارمولا CH4 ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہائڈروجن کی گرفت (Valency) ہوتی ہے۔ کاربن کی گرفت چار ہے کیونکہ اس کے گرفتی الیکٹرانوں کی تعداد 4 ہے۔ نوبل گیس کا تشکل حاصل کرنے کے لیے کاربن ان الیکٹرانوں کا ہائڈروجن کے 4 الیکٹرانوں کے ساتھ ساجھا کرلیتاہے جیسا کہ شکل 4.5 میں دکھایا گیا ہے۔
شکل 4.5
میتھین کی الیکٹران ڈاٹ ساخت
ایسے بانڈ جو دو ایٹموں کے درمیان ایک الیکٹران جوڑے کے ساجھے سے بنتے ہیں اسے شریک گرفت بانڈ کہتے ہیں۔ شریک گرفت بانڈ والے سالموں میں سالمے کے اندر بہت مضبوط بانڈ ہوتا ہے جبکہ ان کی بین سالمی قوتیں کمزور ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ سے مرکبات کا نقطۂ جوش اور نقطۂ گداخت کم ہوتا ہے۔ چونکہ ایٹموں کے درمیان الیکٹرانوں کی ساجھے داری ہوتی ہے اور کوئی چارج شدہ ذرّہ نہیں بنتا ہے، اس لیے اس طرح کے شریک گرفت مرکبات عموماً بجلی کے غیر موصل ہوتے ہیں۔
کاربن کے بہروپ (Allotropes of Carbon)
کاربن عنصر قدرتی ماحول میں مختلف شکلوں میں اور مختلف طبیعی خصوصیات کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ ہیرا اور گریفائٹ دونوں ہی کاربن ایٹموں سے بنے ہوئے ہوتے ہیں فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ دونوں میں کاربن ایٹم ایک دوسرے سے الگ الگ طریقہ سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہیرے میں ہر ایک کاربن ایٹم دوسرے چار ایٹموں سے بندھا ہوتا ہے اور ایک سخت سہ ابعادی(Three Dimensional) ساخت کی تشکیل کرتا ہے۔ گریفائٹ میں ہرایک کاربن ایٹم دیگر تین ایٹموں کے ساتھ ایک ہی مستوی میں بندھا ہوتا ہے اور یہ سب ایک شش ضلعی (چھ ضلعی)ترتیب کی تشکیل کرتے ہیں۔ ان سبھی بانڈوں میں سے ایک بانڈ دوہرا ہوتا ہے اور اس طرح سے کاربن کی گرفت مطمئن ہوجاتی ہے۔ گریفائٹ کی ساخت چھ کونی ترتیب سے بنتی ہے جو ایک دوسرے پر پرت در پرت رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔

ہیرے اور گریفائٹ کی ان دو مختلف ساختوں کی وجہ سے ان کی طبیعی خصوصیات ایک دوسرے سے بالکل علاحدہ ہوتی ہیں جبکہ ان کی کیمیائی خصوصیات یکساں ہوتی ہیں۔ ہیرا ایک سخت ترین شے ہے جبکہ گریفائٹ چکنا اور پھسلنے والا ہوتا ہے۔ گریفائٹ دیگر غیر دھاتوں کے برعکس بجلی کا ایک بہت اچھا موصل بھی ہے جس کے بارے میں آپ نے گزشتہ باب میں پڑھا ہے۔
خالص کاربن کی بہت زیادہ درجۂ حرارت اور دبائو پر ہیرے میں تالیف کی جاسکتی ہے۔ یہ تالیفی ہیرے چھوٹے ہوتے ہیں لیکن ہو بہو قدرتی ہیروں کی طرح ہوتے ہیں۔
فلرین،کاربن کے بہروپوں کے ایک اور جماعت کی تشکیل کرتا ہے۔ سب سے پہلے شناخت کیا گیابہروپ C-60 تھا جس میں کاربن کے ایٹم فٹ بال کی شکل میں مرتب ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ جیوڈیسک گنبد جیسا لگتا ہے جس کا نقشہ امریکی ماہر فن تعمیر بک منسٹر فولر نے بنایا تھا اسی لیے اس سالمہ کا نام فلرین رکھ دیا گیا۔
سوالات
1۔ کاربن ڈائی آکسائڈ کا فارمولا CO2 ہے۔ اس کی الیکٹران ڈاٹ ساخت کیا ہوگی؟
2۔ سلفر کے آٹھ ایٹموں پرمشتمل سلفر کے ایک سالمے کی الیکٹران ڈاٹ ساخت کیا ہوگی ؟ (اشارہ : سلفر کے آٹھ ایٹم ایک دوسرے کے ساتھ ایک چھلے کی شکل میں جڑے ہوتے ہیں) ς
4.2 کاربن کی ہمہ گیر فطرت(Versatile Nature ofCarbon)
ہم نے مختلف عناصر اور مرکبات میں الیکٹرانوں کی ساجھے داری کے ذریعے شریک گرفت بانڈکو بنتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہم نے کاربن کے ایک سادہ مرکب، میتھین کی ساخت بھی دیکھی ہے۔ باب کے شروع میں ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے استعمال کی ایسی بہت سی چیزیںہیں جن میں کاربن ہوتا ہے۔ درحقیقت ہم خود کاربن کے مرکبات کے بنے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں کیمیادانوں نے کاربن کے ان مرکبات کی تعداد، جن کا فارمولا وہ جانتے ہیں، لاکھوں میں بتائی ہے۔ یہ تعداد باقی تمام عناصر کے ذریعہ بنائے گئے مرکبات کی تعداد سے بہت زیادہ ہے۔ یہ خصوصیت صرف کاربن میں ہی کیوں دیکھی جاتی ہے اور کسی عنصر میں کیوں نہیں؟ شریک گرفتی بانڈ کی فطرت کاربن کو بہت زیادہ تعداد میں مرکبات بنانے کا اہل بناتی ہے۔ کاربن کے معاملے میں دو عوامل قابل ذکر ہیں—
(i) کاربن کی ایک منفرد صلاحیت یہ ہے کہ یہ دوسرے کاربن ایٹموں کے ساتھ بانڈ بناتا ہے اور اس طرح ایک بڑے سالمے کی تشکیل کرتا ہے۔ کاربن کی اس خصوصیت کو کیٹی نیشن (Catanation) کہتے ہیں۔ ان مرکبات میں کاربن کے ایٹم ایک لمبی زنجیر، شاخ دار زنجیریا ایک چھلّے کی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کاربن کے ایٹم آپس میں یا تو اکہرے ،دوہرے یا پھر تہرے بانڈ کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہو سکتے ہیں۔ کاربن کے وہ مرکبات جن میں کاربن کے ایٹم صرف اکہرے بانڈ کے ذریعے ایک دوسرے سے بندھے ہوتے ہیں انھیں سیر شدہ مرکبات (Saturated compounds) کہتے ہیں۔کاربن کے وہ مرکبات جن میں دوہرے یا تہرے بانڈ ہوتے ہیں، انھیں غیر سیر شدہ مرکبات (Unsaturated compund)کہتے ہیں۔
کوئی بھی دوسرا عنصر اس حد تک کیٹی نیشن کی خاصیت ظاہر نہیں کرتا جیسا کہ کاربن مرکبات میں نظر آتے ہیں۔سلیکان ہائڈروجن کے ساتھ مل کر ایسے مرکبات بناتا ہے جو7سے8 ایٹموں والی زنجیر پر مشتمل ہوتے ہیں لیکن یہ مرکبات کافی متعامل ہوتے ہیں۔ کاربن - کاربن بانڈ بہت ہی مضبوط ہوتا ہے اور اس لیے بہت مستحکم (Stable) بھی ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے کاربن کے مرکبات کی تعداد بہت زیادہ ہے جس میں کاربن کے کئی ایٹم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔
(ii) چونکہ کاربن کی گرفت 4 ہوتی ہے اس لیے اس میں کاربن کے 4 دوسرے ایٹموں کے ساتھ منسلک ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ کسی بھی 4 یک گرفتی عنصر کے ایٹموں سے بھی جڑ سکتے ہیں۔ کاربن کے مرکبات آکسیجن، ہائڈروجن، نائٹروجن، سلفر، کلورین اور کئی دوسرے عناصر کے ساتھ بنتے ہیں جن کی منفرد خصوصیات ہوتی ہیں جو سالمے میں موجود کاربن کے علاوہ دیگر عناصر پر منحصر ہوتی ہیں۔
علاوہ ازیں وہ بانڈ جو کاربن بہت سے دیگر عناصر کے ساتھ بناتا ہے، کافی مضبوط ہوتے ہیں، جو ان مرکبات کو غیر معمولی استحکام عطا کرتے ہیں۔ کاربن کے ذریعے بنائے جانے والے مضبوط بانڈ کی ایک وجہ اس کا چھوٹا سائز
مزید معلومات
نامیاتی مرکبات (Organic Compounds)
کاربن کی دو امتیازی خصوصیات، چہار گرفتی اور کیٹینشن ایک ساتھ مل کر مرکبات کی ایک بہت بڑی تعداد بناتی ہیں۔ کئی میں توایک طرح کے غیر کاربن ایٹم یا ایٹموں کا مجموعہ مختلف کاربن زنجیروں سے جڑا ہواہوتا ہے۔ اس طرح کے مرکبات شروع میں قدرتی اشیا سے حاصل کیے جاتے تھے اور یہ مانا جاتا تھا کہ کاربن کے یہ مرکبات یا نامیاتی مرکبات صرف حیاتیاتی نظام کے اندر ہی بن سکتے ہیں۔ بالفاظ دیگریہ فرض کرلیا گیا تھا کہ ان مرکبات کی تشکیل کے لیے کسی حیاتی قوت کا ہونا لازمی ہے۔ فریڈرک وہولر (Friedrich wohler) نے 1828 میں امونیم سائنیٹ سے یوریا بناکر اس مفروضے کو غلط ثابت کر دیا۔ لیکن کاربائڈ کاربن کے آکسائڈ، کاربونیٹ اور ہائڈروجن کاربونیٹ نمکوں کے علاوہ کاربن کے باقی مرکبات کا مطالعہ نامیاتی کیمیا کے تحت کیا جاتا ہے۔
بھی ہے جو الیکٹرانوں کے ساجھے جوڑوں کو باندھے رکھنے میں نیوکلیس کی مدد کرتا ہے۔ بڑے ایٹموں والے عناصر کے ذریعے بنائے گئے بانڈ کافی کمزور ہوتے ہیں۔

شکل 4.6 (c):
ایتھین کی الیکٹران ڈاٹ ساخت
4.2.1 سیر شدہ اور غیر سیرشدہ کاربن مرکبات
(Saturated and Unsaturated Carbon Compounds)
ہم پہلے ہی میتھین کی ساخت دیکھ چکے ہیں۔ کاربن اور ہائڈروجن کے درمیان بننے والا ایک دوسرا مرکب ایتھین (Ethane)ہے جس کا فارمولہ C2H6 ہوتا ہے۔ کاربن کے سادے مرکبات کی ساخت حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم کاربن کے ایٹموں کوایک دوسرے کے ساتھ اکہرے بانڈ کے ذریعہ منسلک کرنا ہوتاہے (شکل 4.6a) اور پھر ہائڈروجن کے ایٹموں کے استعمال کے ذریعے کاربن کی باقی گرفت کو مطمئن کرنا (شکل 4.6b)ہوتاہے۔ مثال کے طور پر ایتھین کی ساخت مندرجہ ذیل مراحل سے حاصل کی جاتی ہے۔
C – C مرحلہ 1
شکل 4.6(a): کاربن کے ایٹم اکہرے بانڈ کے ذریعہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے
ہر ایک کاربن ایٹم کی تین گرفتیں غیر مطمئن رہ گئی ہیں۔ اس لیے ہر ایک ایٹم تین ہائڈروجن ایٹم کے ساتھ بانڈ بناتا ہے اور مندرجہ ذیل شکل حاصل ہوتی ہے۔
شکل 4.6(b): ہر ایک کاربن ایٹم تین ہائڈروجن ایٹموں کے ساتھ بانڈ بناتے ہوئے۔
ایتھین (Ethane) کی الیکٹران ڈاٹ ساخت کو شکل 4.6 (c) میں دکھایا گیا ہے۔
کیا آپ پروپین (Propane) کی ساخت اس طریقے سے بناسکتے ہیں جس کا سالماتی فارمولا C3H8 ہوتا ہے؟ آپ دیکھیں گے کہ سبھی ایٹموں کی گرفتیں اکہرے بانڈوں کے ذریعے مطمئن ہوجاتی ہیں۔ اس طرح کے کاربن مرکبات کو سیر شدہ مرکبات کہتے ہیں۔ یہ مرکبات عام طور پر زیادہ تعامل پذیر نہیں ہوتے ہیں۔
کاربن اور ہائڈروجن کا ایک اور مرکب ایتھین (Ethene) ہے جس کا فارمولہ C2H4 ہوتا ہے۔ اس سالمے کو کس طریقے سے دکھایا جاسکتا ہے؟ ہم تمام مراحل پہلے کی طرح طے کرتے ہیں۔
کاربن کے دونوں ایٹم واحدبانڈ سے جڑے ہوئے ہیں(مرحلہ1)۔
ہم دیکھتے ہیں کہ ہر کاربن ایٹم کی ایک گرفت ابھی بھی غیر مطمئن ہے(مرحلہ2)۔ اسے مطمئن کرنے کے لیے کاربن کے دونوں ایٹموں کے درمیان دوہرا بانڈ بنتا ہے (مرحلہ 3)
شکل 4.7
ایتھین (Ethene)کی ساخت
ایتھین (Ethene)کی الیکٹران ڈاٹ ساخت کو شکل 4.7 میں دکھایا گیا ہے۔ کاربن اور ہائڈروجن کے ایک دوسرے مرکب کا فارمولہ C2H2 ہے جس کا نام ایتھائین (Ethyne) ہے۔ کیا آپ ایتھائین کی الیکٹران ڈاٹ ساخت بنا سکتے ہیں؟ کاربن کے دونوں ایٹموں کی گرفت کو مطمئن کرنے کے لیے ان کے درمیان کتنے بانڈوں کی ضرورت پڑتی ہے؟ کاربن کے ایسے مرکبات جن میں کاربن کے ایٹموں کے درمیان دوہرے یا تہرے بانڈ ہوتے ہیں انھیں غیر سیر شدہ کاربن مرکبا ت (Unsaturated Carbon compounds)کہتے ہیں اور یہ سیر شدہ مرکبات کے مقابلہ زیادہ تعامل پذیرہوتے ہیں۔
4.2.2 زنجیریں، شاخیں اور چھلّے (Chains, Branches and Rings)
گزشتہ سیکشن میں ہم نے کاربن کے مرکبات میتھین(Methane)، ایتھین (Ethane)اور پروپین (Propane) کا ذکر کیا جن میں کاربن کے بالترتیب 1، 2 اور 3 ایٹم ہوتے ہیں۔ کاربن ایٹموں کی اس طرح کی زنجیروں میں
| کاربن کے ایٹموں کی تعداد |
نام |
فارمولا |
ساخت |
1 2 3 4 5 6 |
میتھین (Methane) ایتھین (Ethane) پروپین (Propane) بیوٹین (Butane) پینٹین (Pentane) ہیکسین (Hexane)
|
CH4 C2H6 C3H8 C4H10 C5H12 C6H14
|

|
جدول 4.2 کاربن اور ہائڈروجن کے سیرشدہ مرکبات کے فارمولے اور ساختیں
کاربن کے بہت سے ایٹم ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے چھے کے نام اور ساخت جدول 4.2 میں دیے جارہے ہیں۔
لیکن، آئیے بیوٹین پر ایک اور نظر ڈالیں۔ اگر ہم کاربن کے چارایٹموں کا استعمال کرکے کاربن کا ڈھانچہ (Skeleton) بنائیں تو دو مختلف طرح کے ممکنہ ڈھانچے ہوسکتی ہیں۔
شکل 4.8 (a) دو ممکنہ کاربن -ڈھانچے
باقی ماندہ گرفتوں کو ہائڈروجن سے پُر کرنے پر مندرجہ ذیل حاصل ہوتا ہے—
شکل 4.8 (b) C4H10 فارمولے والے مکمل سالمے کی دو ساخت
ہم دیکھتے ہیں کہ ان دونوں ساختوں کا فارمولا ایک ہی ہے یعنی C4H10۔ اس طرح کے مرکبات جن کا سالماتی فارمولا یکساں ہو لیکن ساخت مختلف ہوں توانھیں ساختی آئسومر (Structural Isomers) کہتے ہیں۔
کاربن کی مستقیم اور شاخدار زنجیروں کے علاوہ کچھ مرکبات میں کاربن کے ایٹم چھلّے (Ring) کی شکل میں بھی مرتب ہوتے ہیں۔
شکل 4.9 سائکلو ہیکسین کی ساخت (a) کاربن ڈھانچہ (b) مکمل سالمہ
کیا آپ سائکلو ہیکسین کی الیکٹران ڈاٹ ساخت بنا سکتے ہیں؟ مستقیم زنجیر، شاخدار زنجیر اورسائکلک کاربن مرکبات سبھی سیر شدہ یا غیر سیرشدہ ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر بینزین 'C6H6' کی ساخت مندرجہ ذیل ہے—
وہ سبھی کاربن مرکبات جن میں صرف کاربن اور ہائڈروجن ہوتے ہیں، ہائڈروکاربن (Hydrocarbon) کہلاتے ہیں۔ ان میں سے سیرشدہ ہائڈروکاربن الکین (Alkane) کہلاتے ہیں۔ غیر سیر شدہ ہائڈروکاربن جن میں ایک یا ایک سے زیادہ دوہرے بانڈ ہوتے ہیں، انھیں الکین (Alkene) کہتے ہیں۔ وہ مرکبات جن میں ایک یاایک سے زیادہ تہرے بانڈ ہوتے ہیں، انھیں الکائین (Alkyne) کہتے ہیں۔
4.2.3 کیا آپ میرے دوست بنیں گے؟
(Will you be my Friend?)
کاربن بظاہر بہت ہی دوستانہ نوعیت والاعنصر ہے۔ اب تک ہم صرف کاربن اور ہائڈروجن سے بننے والے مرکبات پر نظر ڈالتے آئے ہیں۔ لیکن کاربن دوسرے عناصر جیسے ہیلوجن، آکسیجن، نائٹروجن اور سلفرکے ساتھ بھی بانڈ بناتا ہے۔ ہائڈروکاربن زنجیر سے یہ عناصر ایک یا زیادہ ہائڈروجن کو اس طرح سے ہٹاسکتے ہیں کہ کاربن کی گرفت پہلے کی طرح مطمئن رہتی ہے۔ اس طرح کے مرکبات میں وہ عنصر جو ہائڈروجن کو ہٹاتا ہے اسے ہیٹرو ایٹم (Heteroatom) کہتے ہیں۔ یہ ہیٹروایٹم گروپ کی شکل میں بھی پائے جاتے ہیں جیسا کہ جدول4.3میں دکھایا گیا ہے۔ یہ ہیٹرو ایٹم مرکبات کومنفرد خصوصیات فراہم کرتے ہیں اور اس کا انحصار اس بات پر نہیں ہوتا کہ کاربن زنجیر کی لمبائی اور فطرت کیسی ہے۔ اس لیے انھیں فنکشنل گروپ (Functional Group)کہتے ہیں۔ کچھ اہم فنکشنل گروپ جدول 4.3 میں دیے جارہے ہیں۔ گروپ کی آزاد گرفت یا گرفتیں اکہری لائن کے ذریعے دکھائی گئی ہیں۔ فنکشنل گروپ، کاربن زنجیر سے ایک یا ایک سے زیادہ ہائڈروجن ایٹموں کو ہٹاکراس گرفت کے ساتھ منسلک ہوجاتاہے۔
جدول4.3کاربن مرکبات میں کچھ فنکشنل گروپ
| ہیٹرو ایٹم |
مرکبات کی قسم |
فنگشنل گروپ کا فارمولا |
Cl/Br
آکسیجن
|
ہیلو(کلورو/برومو) الکین (Halo-Chloro/Bromo)alkane) 1۔ الکحل 2۔ایلڈی ہائڈ 3۔ کیٹون 4۔ کاربوکسیلک ایسڈ
|

|
4.2.4 ہم وصف سلسلہ (Homologous Series)
آپ نے دیکھا ہے کہ کاربن کے ایٹم آپس میں جڑ کر مختلف لمبائی کی زنجیر بناسکتے ہیں۔ یہ زنجیریں شاخدار بھی ہوسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ کاربن کی ان زنجیروں پر موجود ہائڈروجن یاکسی اور عنصر کے ایک یا ایک سے زیادہ ایٹم کو کسی بھی فنکشنل گروپ کے ذریعے ہٹایا جاسکتا ہے جیسا کہ آپ نے اوپر دیکھا ۔ فنکشنل گروپ مثلاً الکحل کی موجودگی کاربن کے مرکبات کی خصوصیات کا تعین کرتی ہے اور اس پر کاربن کی زنجیر کی لمبائی کا کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر CH3OH، C2H5OH، C3H7OH اور C4H9OH سبھی کی کیمیائی خصوصیات کافی حد تک یکساں ہیں۔ اس طرح کے مرکبات کا ایسا سلسلہ جس میںکسی کاربن زنجیر میں یکساں فنگشنل گروپ ہائڈروجن کا بدل ہے، ہم وصف(Homologous Series) سلسلہ کہلاتا ہے۔
آئیے جدول 4.2 میں دیے گئے ہم وصف سلسلے پر ایک نظر ڈالیں۔ اگر ہم متواتر مرکبات (Successive Compounds) کے فارمولے پر ایک نظر ڈالیں، جیسے–
CH4 اور C2H6 — ان میں ایک –CH2 اکائی کا فرق ہے۔
C2H6 اور C3H8 — ان میں ایک –CH2 اکائی کا فرق ہے۔
اگلے جوڑے - پروپین اور بیوٹین (C4H10) کے درمیان کیا فرق ہے؟ کیا آپ ان جوڑوں کے درمیان سالماتی کمیت کے فرق کا پتہ لگاسکتے ہیں (کاربن کی ایٹمی کمیت 12u اور ہائڈروجن کی ایٹمی کمیت 1u ہے)؟
اسی طرح الکین (Alkenes) کا ہم وصف سلسلہ لیجیے۔ اس سلسلہ کا سب سے پہلا رکن ایتھین (Ethene) ہے جس کے بارے میں ہم نے سیکشن 4.2.1 میں پڑھا ہے۔ ایتھین (Ethene) کا فارمولا کیا ہے؟ ایتھین کے بعد کے ممبروں کا فارمولا ہے C3H6 ،C4H8 اور C5H10 ہے۔ کیا ان سبھی میں –CH2 اکائی کا فرق ہے؟ کیا ان مرکبات میں کاربن اور ہائڈروجن کے ایٹموں کی تعداد میں کوئی تعلق نظر آتا ہے؟ الکین (Alkenes) کے لیے عام فارمولا CnH2n ہو سکتا ہے جہاں n = 2, 3, 4 ہیں۔ کیا آپ اس طریقہ سے الکین (Alkanes) اور الکائن (Alkynes) کا عام فارمولا بناسکتے ہیں؟
ہم وصف سلسلہ میں جیسے جیسے سالماتی کمیت بڑھتی ہے، ان کی طبیعی خصوصیات میں بتدریج تبدیلی نظر آتی ہے۔ سالماتی کمیت میں اضافہ ہونے پر ان کے نقطۂ جوش اور نقطۂ گداخت میں ہونے والی بڑھوتری اس کا سبب ہے۔ دوسری طبیعی خصوصیات مثلاً کسی مخصوص محلول میں حل پذیری بتدریج تبدیلی نظر آتی ہے۔ لیکن کیمیائی خصوصیات جو صرف فنکشنل گروپ کے ذریعے متعین ہوتی ہیں، کسی ہم وصف سلسلہ میں ہمیشہ یکساں رہتی ہیں۔
سرگرمی 4.2
◊ مندرجہ ذیل میں فارمولا ئی اور سالماتی کمیت میں فرق معلوم کیجیے۔
(a) CH3OH اور C2H5OH (b) C2H5OH اور C3H7OH، اور C3H7OH(c)اور C4H9OH
◊ کیا ان تینوں میں کوئی یکسانیت ہے؟
◊ ان الکوحلوں کو ان کے کاربن ایٹموں کی بڑھتی ترتیب میں لکھیے تاکہ ایک خاندان حاصل ہو سکے۔ کیا اس خاندان کو ہم لوگ ایک ہم وصف سلسلہ کہہ سکتے ہیں۔
◊ جدول 4.3 میں دئیے گئے دیگر فنکشنل گروپ کے لیے ان مرکبات کے ہم وصف سلسلے تیارکیجیے جن میں کاربن ایٹموں کی تعداد چار تک ہو ۔
4.2.5 کاربن کے مرکبات کا تسمیہ (Nomenclature of Carbon Compounds)
کسی ہم وصف سلسلے میں مرکبات کے ناموں کو فنکشنل گروپ کی نوعیت کو ظاہر کرتے ہوئے بنیادی کاربن زنجیرکے نام میں کسی سابقے یا لاحقے کے ذریعے ترمیم کرکے لکھا جاتاہے۔ مثال کے طور پر سرگرمی 4.2 میں الکحلوں کے نام میتھینول، ایتھینول، پروپینال اور بیوٹینال ہیں۔ کسی کاربن کے مرکب کا تسمیہ مندرجہ ذیل طریقہ سے کیا جاسکتا ہے:
(i) مرکب میں کاربن کے ایٹموں کی تعداد معلوم کیجیے۔ کسی مرکب میں اگر تین کاربن ایٹم ہیں تو اس کا نام پروپین (Propane) ہوگا۔
(ii) اگر کوئی فنکشنل گروپ موجود ہے تو اسے مرکب کے نام میں سابقہ یا لاحقہ لگا کر ظاہر کیا جائے گا (جیسا کہ جدول 4.4 میں دیا گیا ہے)۔
(iii) اگر فنکشنل گروپ کے نام کو لاحقہ (Suffix) کے طور پر لگاناہے اور اس لاحقے کی شروعات کسی Vowelیعنی a,e,i,o,uسے ہوتی ہے تو کاربن زنجیر کے نام میں سے آخری 'e' ہٹاکر اس کی جگہ مناسب لاحقہ جوڑنا ہوگا۔ مثال کے طور پر کیٹون (Ketone)گروپ کی تین کاربن والی زنجیر کا تسمیہ مندرجہ ذیل طریقہ سے کیا جائے گا—
.Propane – ‘e’ = propan + ‘one’ = propanone
(iv) اگر کاربن زنجیر غیر سیر شدہ ہے تو اس کے نام کا آخری 'ane' ہٹاکر اس کی جگہ 'ene' یا 'yne' لگایا جاتا ہے جیسا کہ جدول 4.4 میں دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک تین کاربن والی زنجیر جس میں دوہرا بانڈ ہو پروپین (Propene) کہلائے گی اور اگر اس میں تہرا بانڈ ہو تو پھر یہ پروپائین (Propyne) کہلائے گی۔
جدول 4.4 فنکشنل گروپ کا تسمیہ
مرکبات کی قسیم (Class of Compounds) |
سابقہ / لاحقہ (prefix/sufix) |
مثال (Example) |
| 1۔ ہیلوجن |
سابقہ - کلورو، برومو وغیرہ |
کلوروپروپین
|
|
|
بروموپروپین
|
| 2۔ الکحل |
لاحقہ - ol |
پروپینول
|
| 3۔ الڈی ہائڈ |
لاحقہ - al |
پروپینال
|
| 4۔ کیٹون |
لاحقہ - one |
پروپینون
|
| 5۔ کاربوکسلک ایسڈ |
لاحقہ - oic acid |
پروپینوئک ایسڈ
|
| 6۔ْ الکینز (Alkenes) |
لاحقہ - ene |
پروپین
|
| 7۔ الکائنز (Alkynes) |
لاحقہ - yne |
پروپائین
|
سوالات
1. پینٹین (Pentane) کے لیے آپ کتنے ساختی آئسومر بناسکتے ہیں؟
2۔ کاربن کی وہ کون سی دو خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے ہمارے اطراف میں کاربن کے مرکبات کی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے؟
3۔ سائکلوپینٹین (Cyclopentane) کا فارمولا اور الیکٹران ڈاٹ ساخت کیا ہوگی؟
4۔ مندرجہ ذیل مرکبات کی ساختیںبنائیے:
(i) ایتھینوئک ایسڈ (Ethanoic acid) (ii) بروموپینٹین (Bromopentane)
(iii) بیوٹینون (Butanone)(iv) ہیکسانول (Hexanol)
* کیا بروموپینٹین کے لیے ساختی آئسومر ممکن ہے؟
5۔ مندرج ذیل مرکبات کا تسمیہ آپ کس طرح کریں گے؟
(i) CH3—CH2—Br
4.3 کاربن کے مرکبات کی کیمیائی خصوصیات
(Chemical Properties of Carbon Compounds)
اس سیکشن میں ہم کاربن کے مرکبات کی چند کیمیائی خصوصیات کا مطالعہ کریں گے۔ چونکہ زیادہ تر ایندھن جن کا ہم استعمال کرتے ہیں وہ یا تو کاربن ہوتے ہیں یا پھر ان کے مرکبات۔ اس لیے ہم پہلے احتراق (Combustion) کا مطالعہ کریں گے۔
4.3.1 احتراق (Combustion)
کاربن کی سبھی بہروپی شکلیں آکسیجن میں جل کر کاربن ڈائی آکسائڈ دیتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ حرارت اور روشنی بھی خارج کرتی ہیں۔ زیادہ تر کاربن کے مرکبات بھی جلانے پر بڑی مقدار میں حرارت اور روشنی خارج کرتے ہیں۔ یہ سبھی تکسیدی تعاملات ہیں جن کا مطالعہ آپ نے پہلے باب میں کیا ہے۔
بعد والے دو تعاملات کو متوازن کیجیے جیسا کہ آپ نے باب ایک میں سیکھا ہے۔
سرگرمی 4.3
تاکید : اس سرگرمی میں استاد کی مدد کی ضرورت ہے۔
◊ ایک کفچی پر یکے بعد دیگرے کاربن کے کچھ مرکبات (نیپتھلین، کافور، الکوحل) لیجیے اور اسے جلائیے۔
◊ لو کی نوعیت کا مشاہدہ کیجیے اور نوٹ کیجیے کہ دھواں پیدا ہوا یا نہیں۔
◊ دھات کی ایک پلیٹ کو لو کے اوپر رکھیے۔ کسی بھی مرکب کے معاملے میں کیا پلیٹ پر کسی طرح کا جماؤ (Deposition) دیکھنے کو ملا؟
سرگرمی 4.4
◊ ایک بنسن برنر جلائیے اور پیندے پر ہوا کے سوراخ کو اس طرح ایڈجسٹ کیجیے کہ مختلف قسم کی لو / دھویں کی موجودگی حاصل ہو سکے۔
◊ کب آپ کو زرد رنگ کی دھویں دار لو حاصل ہوتی ہے؟
◊ کب آپ کو نیلی لو حاصل ہوتی ہے؟
بعد والے دو تعاملات کو متوازن کیجیے جیسا کہ آپ نے باب ایک میں سیکھا ہے۔
سیر شدہ ہائڈروکاربن عموماً صاف لو کے ساتھ جلتے ہیں جبکہ غیر سیر شدہ کاربن کے مرکبات بہت زیادہ دھویں دار زرد لو کے ساتھ جلتے ہیں۔ سرگرمی 4.3 میں دھاتی پلیٹ پر سیاہ جماؤ (sooty deposit) اسی کانتیجہ ہے۔ حالانکہ ہوا کی فراہمی کو کم کرنے کی وجہ سے سیرشدہ ہائڈروکاربن کا بھی نامکمل احتراق ہوتا ہے اور اس وجہ سے دھویں دار لو حاصل ہوتی ہے۔ گھر میں استعمال ہونے والے گیس یا مٹی کے تیل والے اسٹوو میں ہوا کے داخلے کے لیے راستہ ہوتا ہے تاکہ گیس یا تیل ہوا کی وافر مقدار کے ساتھ جلے اور صاف نیلی لو حاصل ہو سکے۔ اگر آپ کو کھانا پکانے کے برتنوں کے نچلے حصّوں میں کالاپن نظر آئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا کے سوراخ بند ہو چکے ہیں اور ایندھن ضائع ہو رہا ہے۔ کوئلہ اور پیٹرولیم جیسے ایندھنوں میں نائٹروجن اور سلفر کی کچھ مقدار پائی جاتی ہے۔ ان کے احتراق سے سلفر اور نائٹروجن کے آکسائڈ بنتے ہیں جو ماحول کو کافی آلودہ کرتے ہیں۔