Skip to content
Science Chapter-5

باب 5


Pic 1 Capture5

عناصر کی دوری درجہ بندی

(Periodic Classification of Elements)

نویں جماعت میں ہم نے سیکھا ہے کہ ہمارے اطراف میں مادّے عناصر، مرکبات اور آمیزے کی شکل میں موجود ہوتے ہیں اور عناصر میں صرف ایک ہی طرح کے ایٹم پائے جاتے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آج تک کتنے عناصر کی کھوج ہوچکی ہے؟ فی الحال ہمیں 118عناصر کی جانکاری ہے۔ ان سبھی کی خصوصیات پر مختلف ہیں۔ ان 118عناصر میں سے صرف 94قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں۔
جیسے جیسے مختلف عناصر کی کھوج ہوتی گئی، سائنسدانوں نے ان عناصر کی زیادہ سے زیادہ خصوصیات سے متعلق جانکاریوں کو جمع کیا۔ انھیں عناصر کی تمام جانکاریوں کو منظم کرنے میں پریشانی ہوئی۔ان لوگوں نے ان عناصر کی 
خصوصیات میں کچھ پیٹرن کی تلاش شروع کی تاکہ اس کی بنیاد پر عناصر کی ایک بڑی تعداد کا مطالعہ آسانی کے ساتھ کیا جاسکے۔

Pic 2 Capture5

شکل 5.1  

تصورکیجیے کہ آپ اور آپ کے دوستوں کو کسی قدیم نقشہ کے ٹکڑے ملے ہیں جس کی مدد سے کسی خزانہ تک پہنچنا ہے۔ خزانہ تک پہنچنے کا راستہ تلاش کرنا آسان ہوگا یا مشکل؟ اس طرح کی مشکلات کیمسٹری میں تھیں جب عناصر کی جانکاری تو تھی لیکن ان کی درجہ بندی اور مطالعہ کرنے کے لیے کوئی سراغ نہیں تھا۔

5.1 بے ترتیب کو ترتیب میں لانا– عناصر کی درجہ بندی کی ابتدائی کوششیں  

(Making order out of chaos - Early attempts at the classification of Elements)

ہم سیکھتے رہے ہیں کہ مختلف چیزوں یا جاندارعضویوں ان کی خصوصیات کی بنا پر کس طرح درجہ بندی کی جاسکتی ہے۔ یہاں تک کہ دوسری صورتوں میں بھی ہم کچھ خصوصیات کی بنیاد پر ترتیب وتنظیم کے عمل کی مثالیں دیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر دکانوں میں صابنوں کو ایک ساتھ ایک جگہ پر جبکہ بسکٹوں کو ایک ساتھ دوسری جگہ پر رکھا جاتاہے۔ یہاں تک کہ صابنوں میں بھی نہانے کے صابنوں کو کپڑے دھونے کے صابنوں سے الگ رکھا جاتاہے۔ اسی طریقہ سے سائنسدانوں نے عناصر کی خصوصیات کی بنیاد پر ان کو درجہ بند کرنے کی کئی کوششیں کیں اور بے ترتیب کو باقاعدہ با ترتیب بنایا۔
عناصر کی درجہ بندی کی سب سے ابتدائی کوشش کے نتیجے میں اس وقت معلوم سبھی عناصر کو دو گروپوں یعنی دھات اور غیر دھات میں تقسیم کیا گیا۔ جیسے جیسے عناصر اور ان کی  خصوصیات کے بارے میں جانکاری بڑھتی گئی، درجہ بندی کی مزید کوششیں کی گئیں۔

5.1.1 ڈوبیرینیر کی تکڑی (Döbereiner's Triads)

1817 میں جرمن کیمیا داں، جوہان و ولف گینگ ڈوبیرینیر (Johann Wolfgang Doberiner)نے یکساں خصوصیات والے عناصر کو گروپوں میں رکھنے کی کوشش کی۔ انھوں نے کچھ ایسے گروپوں کی شناخت کی جوتین تین عناصر پر مشتمل تھے۔ اس لیے اس نے ان گروپوں کو’تکڑی‘ (Triads) کا نام دیا۔ ڈوبیرینیر نے دکھایا کہ جب تین عناصر کو ان کی ایٹمی کمیت (atomic mass) کی بڑھتی ہوئی ترتیب میں ایک تکڑی کی شکل میں رکھا جاتاہے تو درمیان میں موجود عنصر کی ایٹمی کمیت دیگر دونوں عناصر کی اوسط ایٹمی کمیت کے لگ بھگ برابر ہوتی ہے۔  
مثال کے طور پر لیتھیم (Li)، سوڈیم (Na) اور پوٹاشیم (k) کی تکڑی کولیجیے جن کی ایٹمی کمیت بالترتیب 6.9، 23.0 اور 39.0 ہے۔ Liاور Kکی ایٹمی کمیت کا اوسط کتنا ہے؟ یہ Na کی ایٹمی کمیت سے کس طرح متعلق ہے؟
مندرجہ ذیل (جدول 5.1) میں تین عناصر کے کچھ گروپ دیے گئے ہیں۔ یہ عناصرنیچے کی طرف اپنی ایٹمی کمیت کی بڑھتی ہوئی ترتیب میں رکھے گئے ہیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان میں سے کون سا گروپ ڈوبیرینیر کی تکڑی بناتاہے۔

جدول 5.1


گروپ Aعنصر ایٹمی کمیت گروپ Bعنصر ایٹمی کمیت گروپ Cعنصر ایٹمی کمیت
Na
p
As
14.0
31.0
74.9
Ca
Sr
Ba
40.1
87.6
137.3
CI
Br
I
35.5
79.9
126.9
Pic 3 Capture5
آپ پائیں گے کہ گروپ Bاور Cڈوبیرینیر کی تکڑی بناتے ہیں۔ ڈوبیرنیر اس وقت تک معلوم عناصر میں سے صرف تین تکڑیوں کی ہی شناخت کرسکا (جدول 5.2)۔ اس لیے تکڑی میں درجہ بندی کا یہ نظام کارآمدثابت نہیں ہوا۔

جدول 5.2

ڈوبیرینیر کی تکڑی


Li Ca CI
Na

K
Sr

Ba
Br

I
      

جون والف گینگ ڈوبیرینیر (1780.1849)

جون وولف گینگ ڈوبیرینیر نے جرمنی کے منچ برگ (Munchberg)میں فارمیسی کا مطالعہ کیا اور پھر بعد میں اسٹراس برگ (Strasbourg)میں کیمسٹری کا مطالعہ کیا۔ آخر میں وہ جینا (Jena)یونیورسٹی میں کیمسٹری اور فارمیسی کے پروفیسر ہوگئے۔ ڈوبرینیر نے وسیط کی حیثیت سے پلیٹینم کا پہلا مشاہدہ کیا اور عناصر کی یکساں تکڑیاں ایجاد کیں جو آگے چل کر عناصر کی دوری جدول کے ارتقا کا سبب بنیں۔
Pic 5 Capture5

5.1.2 نیولینڈ کا آکٹیو کُلیہ (Newland's Law of Octaves)

ڈوبیرینیر کی کوششوں سے عناصر کی خصوصیات اور ان کی ایٹمی کمیت کے مابین تعلق قائم کرنے کی سمت میں دوسرے ماہر ین کیمسٹری کی، ہمت افزائی ہوئی۔ 1866 میں ایک برطانوی سائنسداں، جون نیو لینڈ نے اس وقت تک معلوم سبھی عناصر کو ان کی ایٹمی کمیت کی بڑھتی ہوئی ترتیب میں رکھا۔ انھوں نے سب سے کم ایٹمی کمیت والے عنصر (ہائڈروجن) سے شروع کرکے سب سے زیادہ ایٹمی کمیت والے عنصر تھوریم (جو 56واں عنصر تھا) پر یہ سلسلہ ختم کیا۔ انھوں نے پایا کہ ہر آٹھواں عنصر خصوصیات میں پہلے عنصر جیسا ہے۔ انھوں نے اس کا موازنہ موسیقی کے آکٹیو کے ساتھ کیا۔ اسی لیے انھوں نے اسے ’آکٹیو کا کُلیہ ‘قرار دیا۔ یہ نیولینڈ آکٹیو کلیہ، کے نام سے جانا جاتاہے۔ نیولینڈ کے  آکٹیو میں لیتھیم اور سوڈیم کی خصوصیات یکساں پائی گئیں۔ لیتھیم کے بعد سوڈیم آٹھواں عنصر ہے۔ اسی طرح سے بیریلیم اور میگنیشیم ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ جدول 5.3 میں نیولینڈ کے آکٹیو کی اصل شکل کا ایک حصہ دیا جارہا ہے۔

جدول 5.3 نیولینڈ کا آکٹیو

موسیقی کے سُر:

نی 
(ٹی)
دا
(لا)
پا
(سو)
ما
(فا)
گا
(می)
رے
(رے)
سا
(ڈو)
O
S
Fe
Se
__
N
P
Mn
As
__
C
Si
Ti
In
Zr
B
A1
Cr
Y
Ce اور La
Be
Mg
Ca
Zn
Sr
Li
Na
K
Cu
Rb
H
F
CI
Ni اور Co
Br

کیا آپ جانتے ہیں؟

کیا آپ موسیقی کے سروں سے واقف ہیں؟

موسیقی کے ہندوستانی نظام میں ایک اسکیل میں سات سُرہوتے ہیں۔ سا ، رے، گا، ما، پا،دا، نی۔ مغربی ممالک میں یہ ترسیمیں استعمال کی جاتی ہیں۔ ڈو، رے، می، فا، سو، لا، ٹی۔ کسی اسکیل میں سُر، صوتوں یا نصف صوتوں کے مکمل یا نصف وقفہ تکرار کے ذریعہ الگ کیے جاتے ہیں۔ کوئی موسیقار ان سُروں کو استعمال کرکے کسی نغمے کی موسیقی ترتیب دیتا ہے۔ ظاہر ہے ان سروں کی کچھ تکرار ضرورہوگی۔ ہر آٹھواں سُر پہلے سر جیسا ہوتا ہے اور یہ اگلے سرگم کا پہلا سُرہوتا ہے۔

یہ پایا گیا ہے کہ آکٹیو کا کلیہ صرف کیلشیم تک لاگو ہوتا ہے۔ کیونکہ کیلشیم کے بعد ہر آٹھواں عنصر پہلے عنصر جیسی خصوصیات نہیں ظاہر کرتا ہے۔
نیولینڈ نے یہ مان لیا کہ قدرتی ماحول میں صرف 56عناصر پائے جاتے ہیں اور مستقبل میں کسی دوسرے عنصر کی کھوج نہیں ہوگی لیکن بعد میں کئی نئے عناصر کی کھوج ہوئی جن کی خصوصیات آکٹیوکے کُلیے میں فٹ نہیں ہوتی تھیں۔
اس جدول میں عناصر کو فٹ کرنے کی غرض سے نیولینڈ نے دو عناصر کو ایک ہی جگہ پر رکھا لیکن کچھ  غیریکساں عناصر کو بھی یکساں سُر میں رکھا۔ کیاآپ ان کی مثالیں جدول 5.3سے معلوم کر سکتے ہیں؟ نوٹ کیجیے کہ کو بالٹ اور نکل ایک ہی جگہ پر رکھے گئے ہیں اور یہ اسی کالم میں رکھے گئے ہیں جن میں فلورین، کلورین اور برومین ہیں جن کی خصوصیات ان عناصر سے بہت الگ ہیں۔ لوہا جو خصوصیات میں کوبالٹ اور نکل سے مطابقت رکھتاہے اسے ان عناصر سے بہت دور رکھا گیا ہے۔ اس طرح سے نیولینڈکا آکٹیو کا کلیہ صرف ہلکے عناصر کے کے لیے ہی موزوں تھا۔ نوبل گیسوں کی دریافت کے بعد آکٹیوکُلیہ ناموزوں ہوگیا۔

سوالات

کیا ڈوبیرینیر کی تکڑی نیولینڈ کے آکٹیو کالموں میں بھی موجود ہے؟ موازنہ کیجیے اور معلوم کرنے کی کوشش کیجیے۔
ڈوبیرینیر کی درجہ بندی کی کیا کیا حدود تھیں؟
نیولینڈ کے آکٹیو کی حدود کیا تھیں؟

5.2 بے ترتیب کو ترتیب میں لانا۔ مینڈیلیف کی دوری جدول

(Making order out of chaos- Mendeléeve's Periodic table)

نیولینڈ کے آکٹیو کلیہ کے مسترد ہوجانے کے بعد بھی کئی سائنسدانوں نے ایک ایسے پیٹرن کی تلاش جاری رکھی جو عناصر کی خصوصیات اور ان کی ایٹمی کمیت کے درمیان رابطہ ظاہر کرسکے۔
عناصر کی درجہ بندی کا سہرا ایک روسی ماہر کیمسٹری، ڈیمتری ایوانووچ مینڈیلیف (Dmitri Ivanorich Mendelteev)کے سر بندھتا ہے۔ عناصر کے دوری جدول کے ابتدائی ارتقا میں ان کی معاونت سب سے اہم ہے جس  میں عناصر کی ترتیب سازی ان کی بنیادی خصوصیت یعنی ایٹمی کمیت اور کیمیائی خصوصیات میں یکسانیت کی بنیاد پر کی گئی۔

ڈیمترڈیمیتری ایوانوچ مینڈیلیف (1834-1903)

رڈیمیتری ایوانوچ مینڈیلیف کی پیدائش روس کے مغربی سائبیریا کے شہر ٹوبولسک میں 8فروری 1834کو ہوئی تھی۔ ابتدائی تعلیم ختم کرنے کے بعد مینڈیلیف نے اپنی ماں کی کوششوں کی بدولت یونیورسٹی میں داخلہ پائے۔ اپنی تحقیق کو اپنی ماں کے نام وقف کرتے ہوئے انھوں نے لکھا۔ ’’انھوں نے مثال کے ساتھ ہدایتیں دیں، پیار کے ساتھ میری غلطیوں کو صحیح کیا اور اپنے آخری وسائل اور قوت کو خرچ کرتے ہوئے میرے ساتھ مختلف جگہوں کا سفر کیا۔ وہ جانتی تھیں کہ سائنس کی مدد سے تشدد کے بنا، محبت سے لیکن استقلال کے ساتھ، سبھی توہمات، جھوٹ اور غلطیاں دور کی جاسکتی ہیں‘‘۔ عناصر کی ترتیب سازی جو انھوں نے پیش کی اسے مینڈیلیف کی دوری جدول کے نام سے جانا جاتاہے۔ دوری جدول علم کیمسٹری میں اتحادی اصول ثابت ہوا۔ یہ نئے عناصر کی کھوج کے لیے ایک تحریک ثابت ہوا۔
Pic 7Capture5
جب مینڈیلیف نے اپنا کام شروع کیاتو اس وقت تک صرف 63عناصر کی ہی جانکاری تھی۔ انھوں نے ان عناصر کی ایٹمی کمیت اور ان کی طبیعی اور کیمیائی خصوصیات کے درمیان تعلق کی جانچ کی۔ کیمیائی خصوصیات کے ضمن میں مینڈیلیف نے آکسیجن اور ہائڈروجن عنصر سے بننے والے مرکبات پر اپنا دھیان مرکوز کیا۔ انھوں نے آکسیجن اورہائڈروجن کو اس لیے منتخب کیا کیونکہ یہ بہت زیادہ تعامل پذیرہوتے ہیں اور زیادہ تر عناصر کے ساتھ مرکبات بناتے ہیں۔ کسی عنصر کے ذریعے بنائے گئے ہائڈرائڈ اور آکسائڈوں کے فارمولوں کو اس درجہ بندی میں ایک بنیادی خصوصیت کا درجہ دیاگیا۔ اس کے بعد انھوں نے 63کارڈ لیے اور پھر ایک کارڈ پر ایک عنصر کی خصوصیات کو لکھا۔ انھوں نے یکساں خصوصیات والے کارڈ کو الگ کیا اور انھیں دیوار پر ایک ساتھ پن کی مدد سے لگایا۔ انھوں نے مشاہدہ کیا کہ زیادہ تر عناصر دوری جدول میں جگہ پاگئے اور انھیں ایٹمی کمیت کی بڑھتی ہوئی ترتیب میں رکھاگیا۔ یہ بھی مشاہد کیا گیا کہ یکساں طبیعی اور کیمیائی خصوصیات والے عناصر کی دوری تکرار ہوتی ہے۔ اس بنیاد پر مینڈلیف نے ایک دوری کلیہ پیش کیا جس کے مطابق۔ ’’عناصر کی خصوصیات ان کی ایٹمی کمیتوں کا دوری فنکشن ہوتی ہیں‘‘۔
مینڈیلیف کی دوری جدول میں عمودی کالم (Vertical Column) اور افقی قطاریں (Horizontal)ہیں جنھیں بالترتیب گروپ (Group) اورپیریڈ (Period) کہا جاتا ہے (جدول 5.4)

جدول 5.4 مینڈیلیف کی دوری جدول


VIII VII VI V IV III II I گروپ
RO4 R2O7
RH
RO3
RH2
R2O5
RH3
RO2
RH4
R2O3
RH3
RO
RH3
R2O
RH
پیریڈ
A     B A          B A        B A     B A    B A       B A      B
AI
29.98

H
1.008
1
F
18.998
O
15.999
N
14.007
C
12.011
B
10.81
Be
9.012

NA
22.99
2
CI
35.453
S
32.06
P
30.974
Si
28.09
AI
29.98
Mg
24.31
Na
22.99
3
Fe
55.85
Co
58.93
Ni
58.71
Mn
54.94

Br 
79.909
Cr
50.20
Se
78.96
V
50.94
As
74.92
Ti
47.90
Ge
72.59
Sc
44.96
Ga
69.72
Ca
40.08
Zn
65.37
K
39.102
Cu
63.54
پہلی قطار:4
دوسری قطار
Ru
101.07
Rh
102.91
Pd
106.4
Tc
99
I
126.90
Mo
95.94
Te
127.60
Nb
92.91
Sb
131.75
Zr
91.22
Sn
118.69
Y
88.91
In
114.82
Sr
87.62
Cd
112.40
Rb
85.47
Ag
107.87
پہلی قطار:5
دوسری قطار
Os
190.2    
Ir
192.2
Pt
195.09

W
183.85
Ta
180.95

Bi
208.98
Hf
175.49
Pb
207.19
La
138.91
Ti
204.37
Ba
137.34
Hg
200.59
Cs
132.9.
Au
196.97
پہلی قطار:6
دوسری قطار:

مینڈیلیف کی دوری جدول 1872میں جرمنی کے ایک جرنل میں شائع ہوئی۔ کالموں کے اوپر آکسائڈوں اور ہائڈرائڈوں کے فارمولے کے لیے صرف 'R' کا استعمال کیا گیا ہے جو گروپ کے کسی عنصر کو ظاہر کرتا ہے۔ فارمولا لکھنے کے طریقہ پر غور کیجیے۔ مثال کے طور پر کاربن کے ہائڈرائڈ 'CH4' کو RH4 اور آکسائڈ 'CO2' کو RO2 لکھا گیاہے۔

5.2.1 مینڈیلیف کی دوری جدول کی کامیابیاں

(Achievements of Mendeléev's Periodic Table)

دوری جدول تیار کرتے وقت کچھ ایسے مقامات تھے جہاں مینڈلیف نے زیادہ ایٹمی کمیت والے عنصر کو کم ایٹمی کمیت والے عنصر سے پہلے رکھا۔ تواتر کو اس لیے الٹا کیا گیاتاکہ یکساں خصوصیات والے عناصر کو ایک ساتھ گروپ میں رکھا جاسکے۔ مثال کے طور پر کوبالٹ (ایٹمی کمیت 58.9) کو نکل (ایٹمی کمیت 58.7) سے پہلے رکھا گیا۔ جدول 5.4کو دیکھ کر کیا آپ اس طرح کی ایک اور بے ضابطگی کو تلاش سکتے ہیں؟
مزید یہ کہ مینڈیلیف نے اپنی دوری جدول میں کچھ خالی جگہیں چھوڑدیں۔ ان خالی جگہوں کو نقص ماننے کے بجائے مینڈیلیف نے بے خو فی کے ساتھ کچھ عناصر کی موجودگی کی پیشین گوئی کی جن کی کھوج اس وقت تک نہیں ہوئی تھی۔ مینڈلیف نے ان کا نام اسی گروپ میں موجود اس سے پہلے والے عنصر کے نام میں سنسکرت کے عدد، ایکا (ایک) کا سابقہ لگا کر رکھا۔ مثال کے طور پر اسکینڈیم، گیلیم اور جرمینیم کی کھوج بعد میں ہوئی جن کی خصوصیات بالترتیب ایکابورن، ایکاایلیومینیم اور ایکا سیلیکون کے جیسی تھیں۔ ایکاایلیومینیم جس کی پیشین گوئی مینڈلیف نے کی تھی اورگیلیم جس کی کھوج بعد میں ہوئی اور جس نے ایکاایلیومینیم کی جگہ لی، ان کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔ (جدول 5.5)

جدول 5.5 ایکا ایلیومینیم اور گیلیم کی خصوصیات



خصوصیت ایکا المونیم گیلیم
ایٹمی کمیت
آکسائڈ کا فارمولا
کلورائڈ کا فارمولا
68
E2O3
ECl3
69.7
Ga2O3
GaCl3

یہ چیز مینڈیلیف کی دوری جدول کی درستگی اور کار آمد ہونے کا بیّنثبوت پیش کرتی ہے۔ مزید یہ کہ، یہ مینڈلیف کی پیشن گوئی کی غیر معمولی کامیابی تھی جس نے کیمیادانوں کو نہ صرف ان کی دوری جدول کو قبول کرنے پر مجبور کیا بلکہ انھیں اس تصورکابانی تسلیم کیا جس پر دوری جدول کی بنیاد ہے۔ ہیلیم (He)، نیون (Ne) اور آرگن (Ar) وغیرہ جیسی نوبل گیسوں کے نام اس کے قبل مختلف حالات میں آتے رہے ہیں۔ ان گیسوں کی کھوج کافی بعد میں ہوئی کیونکہ یہ بہت زیادہ غیر عامل ہوتی ہیں اور ہمارے کرہ باد میں بہت ہی کم مقدار میں پائی جاتی ہیں۔مینڈیلیف کے دوری جدول کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ جب ان گیسوں کی کھوج ہوئی تو انھیں ایک نئے گروپ میںرکھا گیا جس سے دوری جدول کی موجودہ ترتیب پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

5.2.2 مینڈیلیف کی درجہ بندی کی حدود

(Limitations of Mendeléev's Classification)

ہائڈروجن کا الکٹرانی تشکل قلوی دھات سے مشابہت رکھتا ہے۔ قلوی دھاتوں کی طرح، ہائڈروجن ہیلوجن، آکسیجن اور سلفر سے تعامل کرکے یکساں فارمولوں والے مرکبات بناتے ہیں جیسا کہ یہاں مثالوں میں دکھایا گیا ہے۔
دوسری طرف، ٹھیک ہیلوجن کی طرح ہائڈروجن بھی دو ایٹمی (Diatomic) سالمہ کی شکل میں پائی جاتی ہے اور یہ دھاتوں غیر دھاتوں سے تعامل کرکے شریک گرفت مرکبات (Covalent compounds) بناتی ہے۔


H کے مرکبات Na کے مرکبات
HCl NaCl
H2O Na2O
H2S Na2S

سرگرمی 5.1

ہائڈروجن کی جو مشابہت القلی دھات اور ہیلوجن خاندان سے ہے، اس کو سامنے رکھتے ہوئے مینڈلیف کے دوری جدول میں اسے صحیح مقام تفویض کیجیے۔
ہائڈروجن کو کون سا گروپ اورکون سا پیریڈ (Period) تفویض کرنا چاہیے؟
یقینی طور پر ہائڈروجن کو دوری جدول میں کوئی متعین مقام تفویض نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مینڈیلیف کی دوری جدول کی پہلی کمی   تھی۔ اس جدول میں وہ ہائڈروجن کوصحیح مقام تفویض نہیں کرسکے۔
مینڈیلیف کے ذریعے عناصر کی دوری درجہ بندی کرنے کے کافی بعد آئسوٹوپ (Isotopes) کی کھوج ہوئی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ کسی عنصر کے آئسوٹوپ کی کیمیائی خصوصیات یکساں ہوتی ہیں لیکن ان کی ایٹمی کمیتیں مختلف ہوتی ہیں۔

سرگرمی 5.2

کلورین کے آئسو ٹوپ Cl-35اور Cl-37پر غور کیجیے۔
کیا آپ ان دونوں کو دو الگ الگ جگہوں پر رکھیں گے کیونکہ ان کی ایٹمی کمیتیں الگ الگ ہیں؟
یا پھر آپ ان کو ایک ہی جگہ پر رکھیں گے کیونکہ ان کی کیمیائی خصوصیات یکساں ہیں؟
اس طرح سے، سبھی عناصر کے آئسو ٹوپ نے مینڈیلیف کے دوری کلیہ کے سامنے ایک چیلنج پیش کیا۔ ایک دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ ایک عنصر سے دوسرے عنصر کی طرف جانے پر ایٹمی کمیت میں باقاعدہ اضافہ نہیں ہوتاہے۔اس لیے یہ پیشین  گوئی ممکن نہیں تھی کہ دو عناصر کی درمیان کتنے عناصر کی کھوج ہوسکتی ہے۔ خصوصاً جب ہم بھاری عناصر کی بات کرتے ہیں۔

سوالات

مینڈیلیف کی دوری جدول کا استعمال کرتے ہوئے مندرجہ ذیل عناصر کے آکسائڈوں کے لیے فارمولوں کی پیشین گوئی کیجیے۔
Ba, Si, Al, C, K
گیلیم کے علاوہ کون سے دوسرے عناصر کی کھوج اب تک کی جاچکی ہے جن کے لیے مینڈیلیف نے اپنی دوری جدول میں جگہ چھوڑدی تھی؟ (کوئی دو)
مینڈیلیف نے اپنی دوری جدول تیار کرنے میں کون سے ضوابط اختیار کیے؟
نوبل گیسوں کو علاحدہ گروپ میں کیوں رکھا گیا؟ اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے

5.3 بے ترتیب کو ترتیب میں لانا- جدید دوری جدول

(Making order out of chaos- The Modern Periodic Table)

1913 میں ہنری موزلے (Henry Moseley) نے دکھایا کہ کسی عنصر کا ایٹمی عدد، جسےZ کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں،(Atomic Number)اس کی ایٹمی کمیت (Atomic Mass) کے مقابلے زیادہ بنیادی خصوصیت کا حامل ہے۔ اسی کے مطابق مینڈیلیف کے دوری کُلیے کو تبدیل کیا گیا اور ایٹمی عدد کو جدید دوری جدول کی بنیاد کی حیثیت سے قبول کیا گیا۔ جدید دوری کلیہ (Modern Periodic Law) کو مندرجہ ذیل طریقہ سے بیان کیا جاسکتاہے۔
’’عناصر کی خصوصیات ان کے ایٹمی عدد کا دوری فنکشن ہوتی ہیں۔‘‘
آپ کو یاد ہوگا کہ ایٹمی عدد کسی عنصر کے ایٹم کے نیوکلیس میں موجود پروٹانوں کی تعداد کوظاہر کرتا ہے اور یہ ایک ایک کرکے بڑھتاہے۔ جیسے جیسے ہم ایک عنصر سے دوسرے عنصر کی طرف بڑھتے ہیں اس میں ایک کا اضافہ ہوتا جاتاہے۔ جب عناصر کو ان کے ایٹمی کی بڑھتی ہوئی ترتیب میں رکھا جاتا ہے تو حاصل شدہ درجہ بندی جدید دوری جدول (جدول 5.6) کہلاتی ہے۔ اگر عناصر کو ان کے ایٹمی عدد کی بڑھتی ہوئی ترتیب میں رکھا جاتاہے تو عناصر کی خصوصیات کی پیش گوئی اور زیادہ پختگی کے ساتھ کی جاسکتی ہے

سرگرمی 5.3

جدید دوری جدول میں کوبالٹ اور نکل کی جگہ کا مسئلہ کیسے حل ہو گیا؟
جدید دوری جدول میں مختلف عناصر کے آئسو ٹوپ کے مقام کا تعین کس طرح کیا گیا؟
کیا یہ ممکن ہے کہ ایک عنصر جس کاایٹمی عدد 1.5 ہے، اسے ہائڈروجن اور ہیلیم کے درمیان جگہ دی جائے؟
آپ کے مطابق جدید دوری جدول میں ہائڈروجن کو کس جگہ پر رکھنا چاہیے۔
جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں، جدید دوری جدول میںمینڈلیف کی دوری جدول کی تین خامیوں کو دور کردیاگیاہے۔ ہائڈروجن کے مقام کی بے ضابطگی پر بحث اس وقت کی جاسکتی ہے جب ہم اس بات پر غور کرلیں کہ جدید دوری جدول میں کسی عنصر کا مقام طے کرنے کی بنیاد کیا ہیں۔

5.3.1 جدید دوری جدول میں عناصر کے مقام

(Position of Elements in the Modern Periodic)
جدید دوری جدول میں 18عمودی کالم ہیں جنھیں گروپ 'Groups'کہتے ہیں اور 7 افقی قطاریں ہیں جنھیں پیریڈ 'Periods' کہتے ہیں۔آئیے دیکھتے ہیں کہ کسی عنصر کو کسی مخصوص گروپ اور پیریڈمیں رکھنا کن باتوں پر منحصر کرتاہے۔
Pic 11Capture5

سرگرمی5.4

جدید دوری جدول کے گروپ Iپر نظر ڈالیے اور اس میں موجود عناصر کے نام بتائیے۔
گروپ Iکے پہلے تین عناصر کے الیکٹرانی تشکل لکھیے۔
ان کے الیکٹرانی تشکل میں آپ کیا یکسانیت دیکھتے ہیں؟
ان تین عناصر میں کتنے گرفت الیکٹران موجود ہیں؟
آپ دیکھیں گے کہ ان سبھی عناصر کے گرفت الیکٹرانوں کی تعدداد یکساں ہے۔ اسی طریقے سے آپ پائیں گے کہ کسی ایک گروپ میں موجود سبھی عناصر کے گرفت الیکٹرانوں کی تعداد مساوی ہے۔ مثال کے طور پر عناصر فلورین (F)اور کلورین (Cl) گروپ 17سے تعلق رکھتے ہیں، فلورین اور کلورین کے سب سے باہری شیل میں کتنے الیکٹران ہیں؟ اسی طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ دوری جدول میں گروپ، مماثل بیرونی۔ شیل الیکٹرانی تشکل کو ظاہر کرتے ہیں۔ دوسری طرف جیسے جیسے ہم گروپ میں نیچے کی طرف جاتے ہیں، شیل کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔
جب ہائڈروجن کے مقام کی بات آتی ہے تو ایک بے ضابطگی سامنے آتی ہے کیونکہ اسے پہلے پیریڈ میں گروپ I یا گروپ 17 میں رکھا جاسکتا ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کیوں؟

سرگرمی 5.5

اگر آپ دوری جدول کی طویل شکل (Long Farm) پر غور کریں تو پائیں گے کہ عناصر F,O, N, C, B, Be, Li اور Ne دوسرے پیریڈ میں موجود ہیں۔ ان کا الیکٹران تشکل لکھیے۔
کیا ان عناصر کے گرفت الیکٹرانوں کی تعداد بھی یکساں ہے؟
کیا ان میں شیلوں کی تعداد برابر ہے؟
آپ پائیں گے کہ ان عناصر میں گرفت الیکٹرانوں کی تعداد یکساں نہیں ہے لیکن ان میں خولوں (Shells) کی تعداد برابر ہے۔ آپ یہ بھی مشاہدہ کریں گے کہ ہم جیسے جیسے پیریڈ میں بائیں سے دائیں جانب بڑھتے ہیں ایٹمی عدد میں ایک اکائی کا اضافہ ہوتا ہے اور گرفت شیل الیکٹران کی تعداد میںبھی ایک اکائی کا اضافہ ہوتا ہے۔
یا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مختلف عناصر کے ایٹم جن میں متصرف (Occupied) شیلس کی تعداد برابر ہوتی ہیں انھیں ایک پیریڈ میں رکھا جاتاہے۔ Cl, S, P, Si, Al, Mg, Na اور Ar جدید دوری جدول کے تیسرے پیریڈ میں آتے ہیں چونکہ ان عناصر کے ایٹموں میں الیکٹران L, K اور Mشیل میں بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان سبھی عناصر کا الیکٹرانی تشکل لکھیے اور اوپر لکھے گئے بیان کی تصدیق کیجیے۔ ہر ایک پیریڈ ایک نئے الیکٹرانی شیل کی شروعات کرتا ہے ۔
پہلے، دوسرے، تیسرے اور چوتھے پیریڈ میں کتنے عناصر ہیں؟
ان پیریڈ میں عناصر کی تعداد کی وضاحت اسی بنیاد پر کی جاسکتی ہیں کہ مختلف شیل میں الیکٹران کس طرح بھرے جاتے ہیں۔ اس کے بارے میں مکمل جانکاری آپ اعلیٰ جماعتوں میں حاصل کریں گے۔ یاد کیجیے کہ کسی شیل میں زیادہ سے زیادہ الیکٹرانوں کی تعداد فارمولا 2n2 پر منحصر ہوتا ہے جس میں 'n’ نیوکلیس سے دیے گئے شیل کی تعداد ہے۔
مثال کے طور پر۔
Pic 12Capture5
تیسرے چوتھے، پانچویں، چھٹے اور ساتویں، پیریڈ میں بالترتیب8،18،18،32اور32عناصر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ کے بارے میں آپ اعلی جماعتوں میں پڑھیں گے۔
دوری جدول میں کسی عنصر کا مقام اس کی کیمیائی تعاملیت کو بتاتا ہے۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ گرفت الیکٹران اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ کوئی عنصر کس قسم کا اور کتنے بانڈ بنائے گا۔ کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ مینڈیلیف نے اپنی جدول میں کسی عنصر کے مقام کو طے کرنے کے لیے مرکبات کے فارمولے کو بنیاد بنانا، ایک اچھی بات تھی؟یکساں کیمیائی خصوصیات والے عناصر کو ایک ہی گروپ میں جگہ دینے میں یہ کیسے رہنمائی کرتا ہے؟

5.3.2 جددید دوری جدول میں رجحانات(Trends in Modern Periodic Table)

گرفت (Valency): جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ کسی عنصر کی گرفت اس کے ایٹم کے سب سے باہری شیل میں موجود گرفتی الیکٹرانوں کی تعداد سے متعین ہوتی ہے۔

سرگرمی 5.6

کسی عنصر کے الیکٹرانی تشکل سے آپ اس کی گرفت کس طرح معلوم کریں گے؟
میگنیشیم کا ایٹمی عدد 12اور سلفر کا ایٹمی عدد 16 ہے۔ ان کی گرفت کیا ہوگی؟
اس طرح سے پہلے 20عناصر کی گرفت معلوم کیجیے۔
کسی پیریڈ میں بائیں سے دائیں جانے پر گرفت کس طرح تبدیل ہوتی ہے؟
کسی گروپ میں نیچے کی طرف جانے پر گرفت کیسے تبدیل ہوتی ہے؟
ایٹمی سائز (Atomic Size): ایٹمی سائز سے مراد کسی ایٹم کا نصف قطر ہے۔ اسے اس طرح بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ یہ کسی تنہا ایٹم کے نیوکلیس کے مرکز اور سب سے باہری شیل کے درمیان کا فاصلہ ہے۔ ہائڈروجن   ایٹم کا ایٹمی نصف قطر 37 پیکو میٹر (Pm) ہے۔ 1pm=10-12m
آئیے کسی گروپ اور پیریڈ میں ایٹمی سائز میں ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کریں۔

سرگرمی 5.7

دوسرے پیریڈ کے عناصر کے ایٹمی نصف قطر نیچے دیے گئے ہیں:

C Li N O Be B پیریڈ II عناصر۔
77 152 74 66 111 88 ایٹمی نصف قطر (Pm)

انھیں ان کے ایٹمی نصف قطر کی گھٹتی ہوئی ترتیب میں لکھیے۔
کیا یہ عناصراب اس ترتیب میں ہیں جیسا کہ دوری جدول کے پیریڈ میں ہیں؟
کس عنصر کا ایٹمی سائز سب سے زیادہ اور کس کا سب سے کم ہے؟
کسی پیریڈ میں بائیں سے دائیں جانے پر ایٹمی نصف قطر میں کیا تبدیلی آتی ہے؟
آپ پائیں گے کہ کسی پیریڈ میں بائیں سے دائیں جانے پر ایٹمی نصف قطر گھٹتا ہے۔ ایسا نیوکلیر چارج میں اضافے کی وجہ سے ہوتا ہے جو الیکٹرانوں کونیوکلیس کی جانب کھینچتا ہے اور ایٹم کے سائز کو کم کردیتا ہے۔

سرگرمی 5.8

نیچے دیے گئے پہلے گروپ کے عناصر کے ایٹمی نصف قطر میں تبدیلی کا مطالعہ کیجیے اور انھیں بڑھتی ہوئی ترتیب میں لکھیے۔
K Cs Rb Li Na گروپ 1عناصر
231 262 244 152 86 ایٹمی نصف قطر (Pm)
ان عناصر کے نام بتائیے جن کے ایٹم سب سے بڑے اور سب سے چھوٹے ہیں۔
کسی گروپ میں نیچے جانے پر ایٹمی سائز میں کیا تبدیلی آتی ہے؟
آپ پائیں گے کہ گروپ میں نیچے کی طرف جانے پر ایٹمی سائز میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ جیسے جیسے ہم گروپ میں نیچے کی طرف بڑھتے ہیں، نئے شیل ان میں جڑتے رہتے ہیں۔ اس سے نیوکلیس اور سب سے باہری الیکٹران کے درمیان فاصلہ اس طرح بڑھتا ہے کہ نیوکلر چارج میں اضافے کے باوجود ایٹمی سائز میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

دھاتی اور غیر دھاتی خصوصیات (Metallic and Non-metallic Properties)

سرگرمی 5.9

تیسرے پیریڈ کے عناصر کی جانچ کیجیے اور دھات اور غیر دھات کے تحت ان کی درجہ بندی کیجیے۔
دوری جدول میں کس طرف آپ کو دھاتیں نظر آتی ہیں؟
دوری جدول میں کس طرف آپ کو غیر دھاتیں نظر آتی ہیں؟
جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں، دھاتیں جیسے Naاور Mgدوری جدول کے بائیں جانب اور غیر دھاتیں جیسے سلفر اور کلورین دائیں جانب پائی جاتی ہیں۔ درمیان میں سلیکون ہے جس کی درجہ بندی نصف دھات (Semi-metal) یا دھتونت (Metalloid) کے تحت کی جاسکتی ہے کیونکہ یہ دھاتوں اور غیر دھاتوں دونوں کی کچھ خصوصیات کو ظاہر کرتی ہے۔ جدید دوری جدول میں ایک Zig-zag لائن دھاتوں کو غیر دھاتوں سے الگ کرتی ہے۔ حاشیہ پر موجود عناصر۔ بورن، سلیکون، جرمینیم، آرسینک، اینٹی منی، ٹیلوریم اور پولونیم۔ خصوصیات کے اعتبار سے درمیانی ہیں اور دھتونت یا نصف دھاتیں کہلاتے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے باب 3میں پڑھا ہے، دھاتیں بانڈ بنانے کے دوران الیکٹران کھوتی ہیں، اس لیے یہ برقی مثبت نوعیت (Electropositive) کی ہوتی ہیں۔

سرگرمی 5.10

کسی گروپ میں الیکٹران کھونے کے رجحان میں تبدیلی کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟
یہ رجحان کسی پیریڈ میں کس طرح تبدیل ہوتاہے؟
کسی پیریڈ میں جیسے جیسے گرفت شیل کے الیکٹران پر لگنے والے موثر نیوکلیر چارج میں اضافہ ہوتا ہے، الیکٹران کھونے کا رجحان کم ہوتا جاتا ہے۔ گروپ میں نیچے کی جانب گرفت الیکٹرانوں کے ذریعے محسوس کیے جانے والے موثر نیوکلیر چارج میں کمی آتی جاتی ہے کیونکہ سب سے باہری الیکٹران نیوکلیس سے دور ہوتے جاتے ہیں۔ اسی لیے یہ آسانی سے کھوئے جاسکتے ہیں۔ اس لیے دھاتی خصوصیت کسی پیریڈ میں بائیں سے دائیں گھٹتی ہے جبکہ گروپ میں نیچے کی جانب بڑھتی جاتی ہے۔
دوسری طرف غیر دھاتیں برقی منفی (Electronegative) ہوتی ہیں۔ یہ الیکٹران حاصل کرکے بانڈ بناتی ہیں۔ آئیے اس خصوصیت کی تبدیلی کا مطالعہ کریں۔

سرگرمی 5.11

کسی پیریڈ میں بائیں سے دائیں جانے پر الیکٹران حاصل کرنے کے رجحان میں کیا تبدیلی آتی ہے؟
کسی گروپ میں نیچے کی طرف جانے پر الیکٹران حاصل کرنے کے رجحان میں کیا تبدیلی آتی ہے؟
جیسا کہ برقی منفیت(Electornegativity) کے رجحانات سے معلوم ہوتا ہے، غیر دھاتیں دوری جدول میں دائیں جانب اوپر کی طرف ہیں۔
یہ رجحانات عناصر کے ذریعہ بنائے گئے آکسائڈوں کی نوعیت کا اندازہ لگانے میں بھی ہماری مدد کرتے ہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ دھات کے آکسائڈ عام طور پر اساسی ہوتے ہیں اور غیر دھات کے تیزابی۔

سوالات

مینڈیلیف کی دوری جدول کی بے قاعدگی کو جدید دوری جدول میں کس طرح دورکیا گیا؟
کن دو عناصر سے آپ میگنیشیم کی طرح کے کیمیائی تعامل کو ظاہر کرنے کی توقع کرتے ہیں۔آپ کے جواب کی بنیاد کیا ہے؟
(a) تین ایسے عناصر کے نام بتائیے جن کے سب سے باہری شیل میں ایک الیکٹران ہو۔
(b) دو ایسے عناصر کے نام بتائیے جن کے سب سے باہری شیل میں دو الیکٹران ہوں۔
(c) تین ایسے عناصر کے نام بتائیے جن کا سب سے باہری شیل مکمل طور پر بھرا ہوا ہو۔
(a) لیتھیم، سوڈیم، پوٹاشیم سبھی دھاتیں ہیں جو پانی سے تعامل کرکے ہائڈروجن گیس خارج کرتی ہیں۔ کیا ان عناصر  
کے ایٹموں میں کوئی یکسانیت ہے؟
(b) ہیلیم ایک غیر عامل گیس ہے اور نیون ایک بہت ہی کم تعامل پذیر گیس ہے۔ ان کے ایٹموں میں اگر کوئی  
چیز مشترک ہے تو وہ کیا ہے؟
جدید دوری جدول کے پہلے 10عناصر میں سے کون کون سے عناصر دھات ہیں؟
دوری جدول میں ان کے مقام کو سامنے رکھتے ہوئے، مندرجہ ذیل میں سے کس عنصر کے بارے میں آپ یہ توقع کریںگیکہ اس کی دھاتی خصوصیت سب سے زیادہ ہوگی؟
Be      Se      As      Ge      Ga

آپ نے کیا سیکھا

عناصر کی درجہ بندی ان کی خصوصیات میں یکسانیت کے بنیادپر کی جاتی ہے۔
ڈوبیرینیر نے عناصر کی گروپ بندی تکڑی میں کی اور نیولینڈ نے آکٹیو کلیہ پیش کیا۔
مینڈیلیف نے عناصر کو ان کی کیمیائی خصوصیات کے اعتبار سے ایٹمی عدد کی بڑھتی ہوئی ترتیب میں رکھا۔
مینڈیلیف نے دوری جدول میں خالی جگہوں کی بنیاد پر ایسے عناصر کی پیشین گوئی کی تھی جن کی کھوج ہونا ابھی باقی تھی۔
بڑھتی ہوئی ایٹمی کمیت کی بنیاد پر عناصر کی ترتیب بندی میں ہونے والی بے قاعدگی کواس وقت دورکیا گیا جب عناصر کی درجہ بندی ان کے ایٹمی عدد کی بڑھتی ہوئی ترتیب کی بنیاد پرکی گئی جس کی کھوج موزلے نے عناصر کی ایک بنیادی خصوصیت کے طور پر کی۔
جدید دوری جدول میں عناصر کو 18عمودی کالموں اور 7افقی قطاروں میں ترتیب دیا گیا جنھیں بالترتیب گروپ اور پیریڈ کہتے ہیں۔
اس طریقے سے عناصر کی ترتیب بندی ان کی خصوصیات کی دوریت(Periodicity)کو ظاہر کرتی ہے جس میں ان کے ایٹمی سائز، گرفت یا اتحادی صلاحیت اور دھاتی نیزغیر دھاتی خصوصیت شامل ہیں۔

مشقیں

دوری جدول کے کسی پیریڈ میں بائیں سے دائیں جانے پر جو رجحانات دیکھنے کو ملتے ہیں وہ نیچے دیے جارہے ہیں ان میں سے کون صحیح نہیں ہے۔
(a) عناصر کم دھاتی نوعیت کے ہوتے جاتے ہیں۔
(b) گرفت الیکٹرانوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔
(c) ایٹم اپنے الیکٹرانوں کو بہت آسانی سے کھودیتے ہیں۔
(d) آکسائڈ زیادہ تیزابی ہوجاتے ہیں۔
عنصر X ایک کلورائیڈ بناتا ہے جس کا فارمولا XCl2ہے، جو ایک ٹھوس ہے اور اس کا نقطۂ گداخت بہت زیادہ ہے۔اس بات کا قوی امکان ہے کہ X دوری جدول کے اسی گروپ میں ہوگا جس میں  
(a) Na (b) Mg (c) Al (d) Si   ہیں
کس عنصر میں—
(a) دو شیل ہوتے ہیں اور دونوں شیل الیکٹرانوں سے مکمل طور پر بھرے ہوتے ہیں۔
(b) الیکٹرانی تشکل 2,8,2 ہوتا ہے۔
(c) تین شیل ہوتے ہیں اور گرفت شیل میں 4 الیکٹران ہوتے ہیں۔
(d) دو شیل ہوتے ہیں اور گرفت شیل میں تین الیکٹران ہوتے ہیں۔
(e) پہلے شیل میں جتنے الیکٹران ہوتے ہیں دوسرے شیل میں اس کی دوگنی تعداد ہوتی ہے۔
(a) دوری جدول کے اس کالم کے سبھی عناصر کی مشترک خصوصیات کیا ہیں جس میں بورون ہے؟
(b) دوری جدول کے اس کالم کے سبھی عناصر کی مشترک خصوصیات کیا ہیں جس میں فلورین ہے؟
ایک ایٹم کا الیکٹرانی تشکل 2,8,7 ہے۔
(a) اس عنصر کا ایٹمی عدد کیا ہے؟
(b) کیمیائی اعتبار سے یہ مندرجہ ذیل میں سے کس کے مشابہ ہوگا؟
(ایٹمی عدد قوسین (Parentheses) میں دئے گئے ہیں)
Ar (18)   P(15)   F(9)   N(7)
دوری جدول میںتین عناصر B,A اور C کے مقام نیچے دکھایے گئے ہیں۔
گروپ 16 گروپ 17
- -
- A
- -
B C
(a) بتائیے Aدھات ہے یا غیر دھات؟
(b) بتائیے A,C کے مقابلے زیادہ تعامل پذیرہے یا کم تعامل پذیر؟
(c) C کاسائز Bکے مقابلے بڑا ہے یا چھوٹا؟
(d) عنصر A کے ذریعے کس قسم کا آین یعنی کیٹ آین یا این آین بنے گا؟
نائٹروجن (ایٹمی عدد 7) اور فاسفورس (ایٹمی عدد 15) دوری جدول کے گروپ 15سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دونوں عناصر کا الیکٹرانی تشکل لکھیے۔ ان میں سے کون زیادہ برق منفی (Electronegative) ہے اور کیوں؟
جدید دوری جدول میں کسی عنصر کے مقام اور اس کے الیکٹرانی تشکل میں کیا تعلق ہے؟
جدید دوری جدول میں کیلشیم (ایٹمی عدد 20) ایٹمی عدد 21, 19, 21اور 38 والے عناصر سے گھرا ہوا ہے۔ ان میں سے کن عناصر کی طبیعی اور کیمیائی خصوصیات کیلشیم سے مشابہت رکھتی ہیں؟
10۔ مینڈیلیف کی دوری جدول اور جدید دوری جدول میں عناصر کی ترتیب بندی کا موازنہ کیجیے اور فرق بتائیے۔

اجتماعی سرگرمی

ہم نے عناصر کی درجہ بندی کے لیے کی گئی اہم کوششوں پر بحث کی ہے۔ عناصر کی درجہ بندی کی دیگر کوششوں کو انٹرنیٹ اورلائبریری کی مدد سے تلاش کیجیے۔
II۔ ہم نے دوری جدول کی طویل شکل (Long Form of Periodic Table) کا مطالعہ کیا ہے۔ جدید دوری کلیہ کا استعمال عناصر کو دوسرے طریقوں سے ترتیب دینے میں بھی ہوتا رہا ہے۔ ان طریقوں کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔