باب 6
اعمال زندگی
(Life Processes)
ہم ایسی دو چیزوں کے درمیان کس طرح فرق کرتے ہیں جن میں سے ایک جاندار ہے اور دوسری بے جان۔ اگر ہم کسی کتے کو دوڑتے ہوئے ، یاکسی گائے کو جگالی کرتے ہوئے یا کسی شخص کو سڑک پر زور سے چلاتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جاندار ہیں۔ اگر کتا یا گائے یاکوئی شخص سو رہاہے تو کیا ہو؟ ہم اس صورت میں بھی انھیں جاندار تصور کرتے ہیں۔ لیکن ہم یہ کس طرح معلوم کرتے ہیں؟ ہم انھیں سانس لیتے ہوئے دیکھتے ہیں اور یہ جان لیتے ہیں کہ یہ زندہ ہیں۔ پودوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ہمیں یہ کس طرح معلوم ہوتا ہے کہ یہ زندہ ہیں؟ ہم میں سے کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ ہمیں ہرے بھرے نظر آتے ہیں۔ لیکن ان پودوں کے بارے میں کیا رائے ہے جن کی پتیاں ہری نہیں ہوتیں بلکہ کسی اور رنگ کی ہوتی ہیں؟کچھ لوگ کہیں گے کہ ان میں وقت کے ساتھ ساتھ نموہوتی ہے لہٰذا ہم جان لیتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں۔بالفاظ دیگر ہم جاندار کے عام ثبوت کے طور پر کچھ حرکات پرغور کرتے ہیں، چاہے ان کا تعلق نمو سے ہو یا نہیں۔ لیکن وہ پودا بھی جاندار ہے جس میں نمو نظر نہیں آتی۔ کچھ ایسے جانورجو سانس تو لیتے ہیں مگر ان میں حرکت نظر نہیں آتی وہ بھی جاندار ہیں لہٰذا نظر آنے والی حرکت زندگی کی تعریفی خصوصیت کے لیے کافی نہیں ہے۔
بہت چھوٹے پیمانے پر ہونے والی حرکت آنکھوں سے نظر نہیں آتی مثلاً سالمات کی حرکات۔ کیا یہ غیر مرئی سالماتی حرکات زندگی کے لیے ضروری ہے؟ اگر ہم یہ سوال کسی پیشہ ور حیاتیات داں سے کریں تو ان کا جواب اثبات میں ہوگا یعنی ہاں۔ دراصل وائرس میں سالماتی حرکت نہیں ہوتی( جب وہ کسی خلیہ کو متعدی بناتے ہیں) یہی وجہ ہے کہ اس بات پر تنازعہ برقرار ہے کہ وائرس حقیقت میں جاندار ہیں یا نہیں۔
زندگی کے لیے سالماتی حرکات کیوں ضروری ہیں؟ گذشتہ جماعتوں میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ جاندار عضویوں کی ساخت منظم ہوتی ہے۔ ان میں بافت ہوسکتے ہیں، بافتوں میں خلیے ہوتے ہیں، خلیوں میں چھوٹے چھوٹے اجزا ہوتے ہیں۔ جانداروں کی یہ منظم اور باقاعدہ ساخت وقت کے ساتھ ساتھ ماحول کے زیراثرتحلیل ہونے لگتی ہے۔ اگر یہ ترتیب ٹوٹ جاتی ہے تو جاندار عضو یہ زیادہ عرصہ تک زندہ نہیں رہ پائے گا۔ لہٰذا جاندار عضویوں کے جسم کو مرمت اور کھ رکھاؤکی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ سبھی ساختیں سالمات پر مشتمل ہوتی ہیں لہٰذا انہیں ہر وقت سالمات کو متحرک بنائے رکھنا ضروری ہے۔
جاندار عضویوں میں رکھ رکھاؤکے اعمال کون کون سے ہیں؟ آئیے پتہ لگاتے ہیں۔
6.1 اعمال زندگی کیا ہیں؟
(What are Life Processes?)
جاندار عضویوں میں رکھ رکھاؤکے کام اس وقت بھی جاری رہنے چاہئیں جب وہ کسی مخصوص کام کو انجام نہیں دیتے ہیں۔ مثلاً اگر ہم سورہے ہوں یا کلاس میں بیٹھے ہوئے ہوں تو بھی یہ رکھ رکھاؤ کا کام جاری رہنا چاہیے۔ وہ سبھی اعمال جو مجموعی طور پر رکھ رکھاؤ کے کام کو انجام دیتے ہیں اعمال زندگی(Life Process) کہلاتے ہیں۔
چونکہ نقصان اور ٹوٹ پھوٹ کو روکنے کے لیے رکھ رکھاؤکے عمل کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا اس کے لیے توانائی درکار ہوگی۔ یہ توانائی عضویے کے جسم کے باہرسے آتی ہے اس لیے ایک ایسا عمل ضروری ہے جو عضو یہ کے جسم کے باہر موجود توانائی کے ذریعہ کو جسم کے اندر منتقل کرسکے۔ توانائی کے اس ذریعہ کو ہم غذا اوراسے جسم کے اندر لینے کے عمل کو تغذیہ (Nutrition)کہتے ہیں۔ اگر عضویہ کے جسم کا سائزبڑھتا ہے تو اس کے لیے اسے باہر سے اضافی خام اشیا بھی درکار ہوںگی۔ کیونکہ زمین پر زندگی کاربن پر مشتمل سالمات پر منحصر ہوتی ہے۔لہٰذا زیادہ تر غذائی اشیا بھی کاربن پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ان کاربن ذرائع کی پیچیدگی کے مطابق مختلف عضویے تغذیہ کے مختلف عملوں کا استعمال کرتے ہیں۔
کیونکہ ماحول کسی ایک عضویہ کے کنٹرول میںنہیں ہے لہٰذا توانائی کے یہ بیرونی ذرائع مختلف قسم کے ہوسکتے ہیں۔ جسم کے اندر توانائی کے ان ذرائع کی تحلیل یا تعمیر درکار ہوتی ہے جس سے یہ توانائی کے یکساں ذریعہ میں تبدیل ہوسکیں۔یہ جاندار ساختوں کے رکھ رکھاؤ کے لیے درکار مختلف سالماتی حرکات اور جسم کی نشوونما کے لیے ضروری مختلف سالمات کی تشکیل کے لیے مفید ہیں۔ اس کے لیے جسم کے اندر کیمیائی تعاملات کے ایک سلسلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تکسیدی اور تحویلی تعاملات سالمات کی تحلیل کے عام کیمیائی طریقے ہیں۔ اس کے لیے بہت سے جاندار جسم کے باہر موجود آکسیجن کے ذریعہ کا استعمال کرتے ہیں۔ جسم کے باہر سے آکسیجن کو حاصل کرنا اور خلوی ضرورت کے لیے غذائی ذریعہ کی تحلیل میں اس کا استعمال کرنا تنفس(Respiration)کہلاتا ہے۔
یک خلوی عضویہ کی مکمل سطح ماحول کے رابطہ میں رہتی ہے لہٰذا انہیں غذا حاصل کرنے کے لیے، گیسوں کے تبادلہ کے لیے یا فضلاتی مادوں کو خارج کرنے کے لیے مخصوص اعضا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن جب عضویہ کے جسم کا سائز بڑھتا ہے اور جسم کا ڈیزائن زیادہ پیچیدہ ہوتا جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟کثیر خلوی عضویوں میں سبھی خلیے اپنے آس پاس کے ماحول سے براہ راست رابطہ قائم نہیں کر سکتے لہٰذا سادہ نفوذ(Diffusion)کے ذریعہ سبھی خلیوں کی ضرورت پوری نہیں ہوسکتی۔
ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں کہ کثیر خلوی عضویوں میں مختلف کاموں کو انجام دینے کے لیے مختلف اعضا مخصوص ہوتے ہیں۔ ہم ان مخصوص بافتوں اور جاندار عضویوں کے جسم میں ان کی تنظیم سے واقف ہیں۔ لہٰذا اس میں کوئی تعجب نہیں کہ غذا اور آکسیجن کو اندر لینے کاکام بھی مخصوص بافت انجام دیتے ہیں۔ لیکن اس سے ایک مسئلہ پیدا ہوتا ہے، کیونکہ غذا اور آکسیجن کو عضویہ کے جسم کے اندر کسی ایک جگہ پر ہی حاصل کیا جاتا ہے جبکہ جسم کے تمام حصوں کو ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس صورت میں غذا اور آکسیجن کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے نقل وحمل کے نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔
جب کیمیائی تعاملات میں کاربن کے مآخذ اور آکسیجن کا استعمال توانائی حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے تو ایسے ضمنی ماحصلات (By-product) بھی پیدا ہوتے ہیں جو نہ صرف خلیوں کے لیے بے کار ہیں بلکہ نقصان دہ بھی ہوسکتے ہیں۔ان فضلاتی ضمنی ماحصلات کو جسم سے باہر نکالنا بہت ضروری ہے۔ یہ کام جس عمل کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے ہم اسے اخراج(Excetion)کہتے ہیں۔ اگر کثیر خلوی عضویوں میں جسم کے ڈیزائن کے بنیادی قاعدوں کا اتباع کیا جاتا ہے تو اخراج کے لیے مخصوص بافت فروغ پائیں گی۔ اس کا مطلب ہے کہ فضلات کو خلیوں سے اس اخراجی بافت تک پہنچانے کے لیے نقل وحمل کے نظام کی ضرورت ہوگی۔
آیئے ہم زندگی کے رکھ رکھاؤ کے لیے ضروری عملوں پر ایک ایک کرکے غور و خوض کرتے ہیں۔
سوالات
1۔ ہمارے جیسے کثیر خلوی عضویوں میں آکسیجن کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نفوذ کا عمل ناکافی کیوں ہے؟
2۔ ہم اس بات کا یقین کس طرح کریں گے کہ آیا کوئی چیز جاندار ہے یا نہیں؟
3۔ کسی عضویے کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے بیرونی خام مادے کیا ہیں؟
4۔ زندگی کے رکھ رکھاؤ کے لیے آپ کن اعمال کوـضروری سمجھتے ہیں؟
6.2 تغذیہ(Nutrition)
جب ہم چہل قدمی کرتے ہیں یاسائیکل کی سواری کرتے ہیں تو ہم توانائی کا استعمال کرتے ہیں۔ اس صورت میں بھی جب ہم کوئی ظاہری سرگرمی انجام نہیں دے رہے ہوتے ہیں، ہمارے جسم میں منظم حالت کو برقرار رکھنے کے لیے توانائی درکار ہوتی ہے۔ نمو، نشوونما، پروٹین کی تالیف وغیرہ میں ہمیں باہر سے مادوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ توانائی کا ذریعہ اور اشیا جنھیں ہم کھاتے ہیں غذا ہے۔
جاندار اپنی غذا کس طرح حاصل کرتے ہیں؟
سبھی جانداروں میں توانائی اور مادوں کی عام ضرورت مشترک ہے، لیکن اس کی تکمیل مختلف طریقوں سے ہوتی ہے۔ کچھ عضویے غیر نامیاتی ذرائع سے کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی کی شکل میں حاصل ہونے والے سادہ غذائی مادوں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ عضویے خود پرور (Autotrophs)کہلاتے ہیں جن میں ہرے پودے اور کچھ بیکٹیریا شامل ہیں۔ دیگر عضویے پیچیدہ مادوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ان پیچیدہ مادوں کو سادہ مادوں میں توڑنا ضروری ہے تاکہ یہ عضویہ کے جسم کی نمواور رکھ رکھائو میں استعمال ہوسکیں۔ اسے حاصل کرنے کے لیے عضویے حیاتیاتی عمل انگیز (Bio-catalysts) کا استعمال کرتے ہیں جنھیں انزائم کہتے ہیں۔ اس طرح غیر پرور (Heterotrophs) عضویے زندہ رہنے کے لیے بالواسط یا بلاواسطہ طور پر خود پرورعضویوں پر منحصر رہتے ہیں۔ جانور اور پھپھوند غیر پرور عضویے ہیں۔
6.2.1 خود پرورشی تغذیہ(Autotrophic Nutrition)
خود پرور عضویہ کی کاربن اور توانائی کی ضرورت ضیائی تالیف (Photosynthesis) کے ذریعہ پوری ہوتی ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس میں خود پرور عضویے باہر سے حاصل کیے گیے مادوں کو تبدیل کرکے توانائی کی شکل میں جمع کرلیتے ہیں۔ یہ مادے کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی کی شکل میں حاصل کیے جاتے ہیں جنھیں کلوروفل اور سورج کی روشنی کی موجودگی میں کاربوہائیڈریٹ میں تبدیل کردیا جاتا ہے کاربو ہائیڈریٹ کا استعمال پودوں کو توانائی فراہم کرنے میں کیا جاتاہے۔ اگلے سیکشن میں ہم مطالعہ کریں گے کہ یہ کس طرح ہوتا ہے۔ وہ کاربوہائیڈریٹ جو فوراً استعمال نہیں ہوتے انہیں اسٹارچ کی شکل میں ذخیرہ کرلیا جاتا ہے۔ـاسے اندرونی توانائی کے ذخیرہ کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ کچھ اسی طرح کی صورت حال ہم سے بھی وابستہ ہے۔ جو غذا ہم کھاتے ہیں اس سے حاصل ہونے والی توانائی کا کچھ حصہ ہمارے جسم میں گلائکوجن(Glycogen)کی شکل میں جمع ہوجاتا ہے۔

شکل 6.1
Cross-section of a leaf

آئیے اب ہم دیکھتے ہیں کہ ضیائی تالیف کے عمل میں درحقیقت ہوتا کیا ہے۔ اس عمل کے دوران مندرجہ ذیل واقعات رونما ہوتے ہیں۔
(i) کلوروفل کے ذریعہ نوری توانائی کا انجذاب
(ii) نوری توانائی کی کیمیائی توانائی میں تبدیلی اور پانی کے سالمات کی
ہائڈروجن اور آکسیجن میں تحلیل
(iii) کاربن ڈائی آکسائڈ کی کاربو ہائیڈریٹ میں تحویل
یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ مراحل یکے بعد دیگرے فوراً انجام دیے جائیں۔ مثال کے طو پر ریگستانی پودے رات کے وقت کاربن ڈائی آکسائڈ لیتے ہیں اور ایک ضمنی ماحصل (Byproduct) بناتے ہیں۔ دن میں کلوروفل توانائی کو جذب کرکے آخری ماحصل بناتا ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ مذکورہ بالا تعامل کا ہر ایک جزو ضیائی تالیف کے لیے کس طرح ضروری ہے۔
اگر آپ ایک پتی کے کراس سیکشن (Cross-section) کا خردبین کی مدد سے بغور مشاہدہ کریں (شکل(6.1تو آپ نوٹ کریں گے کہ کچھ خلیوں میں سبز نقطے(Green dots)نظر آتے ہیں۔ یہ سبز نقطے خلوی عضویچے (Cell organelles) ہیں جنھیں کلوروپلاسٹ(Chloroplast)کہتے ہیں، ان میں کلوروفل ہوتا ہے۔ آئیے ہم ایک سرگرمی انجام دیتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضیائی تالیف کے لیے کلوروفل ضروری ہے۔

شکل 6.2
اسٹارچ ٹیسٹ سے (a) پہلے اور (b) بعد میں چتی دار پتی
سرگرمی 6.1
◊ گملے میں لگا ہوا ایک چتی دار پتیوں والا پودا لیجیے (مثلاً منی پلانٹ یاکروٹن کاپودا)
◊ پودے کو تین دن تک اندھیرے کمرے میں رکھیے تاکہ اس کا تمام اسٹارچ استعمال ہوجائے۔
◊ اب پودے کو تقریباً چھ گھنٹوں کے لیے سورج کی روشنی میں رکھیے۔
◊ پودے سے ایک پتی علاحدہ کیجیے۔ اس میں ہرے حصہ کی نشاندہی کیجیے اور کاغذ پر اس کا خاکہ حاصل کیجیے۔
◊ اس پتی کو کچھ دیر کے لیے ابلتے ہوئے پانی میں ڈال دیجیے۔
◊ اس کے بعد اسے الکحل سے بھرے بیکر میں ڈبائیے۔
◊ اس بیکر کو احتیاط کے ساتھ واٹر باتھ میں رکھ کر اس وقت تک گرم کیجیے جب تک کہ الکحل ابلنے نہ لگے۔
◊ پتی کے رنگ میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ محلول کا رنگ کیسا ہوجاتا ہے؟
◊ اب چند منٹ کے لیے اس پتی کو آیوڈین کے ڈائی لیوٹ محلول میں ڈال دیجیے۔
◊ پتی کو باہر نکال کر اس کے آیوڈین کو دھو کر ہٹادیجیے۔
◊ پتی کے رنگ کا مشاہدہ کیجیے اور شروع میں پتی کا جوخاکہ حاصل کیا تھا اس سے اس کا موازنہ کیجیے(شکل6.2)۔
◊ پتی کے مختلف حصوں میں اسٹارچ کی موجودگی کے بارے میں آپ کیا نتیجہ نکالتے ہیں؟
اب ہم مطالعہ کرتے ہیں کہ پودے کاربن ڈائی آکسائڈ کس طرح حاصل کرتے ہیں۔ نویں جماعت میں ہم نے اسٹومیٹا (Stomata)کا ذکر کیا تھا (شکل 6.3)جو پتی کی سطح پر بہت باریک مسامات ہیں۔ ضیائی تالیف کے لیے گیسوں کا زیادہ تر تبادلہ ان مسامات کے ذریعہ ہی ہوتا ہے۔ لیکن یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ گیسوں کا تبادلہ تنے، جڑ اور پتیوں کی سطح سے بھی ہوتا ہے۔ ان اسٹومیٹا سے کافی مقدار میں پانی بھی ضائع ہوسکتا ہے، لہٰذا جب ضیائی تالیف کے لیے کاربن ڈائی آکسائڈ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے تب پودا ان مسامات کو بند کر لیتا ہے۔

شکل 6.3 (a) کھلے ہوئے اور (b) بند اسٹومیٹا
مسامات کا کھلنا اور بند ہونا محافظ خلیوں(Guard cells)کا کام ہے۔ جب پانی محافظ خلیوں میں داخل ہوتا ہے تو وہ پھول جاتے ہیں اور اسٹومیٹاکے مسامات کھل جاتے ہیں اسی طرح جب محافظ خلیے سکڑتے ہیں تو مسامات بند ہو جاتے ہیں۔
سرگرمی6.2
◊ گملے میں لگے ہوئے یکساں سائز کے دو پودے لیجیے۔
◊ انہیں تین دنوں تک اندھیرے کمرے میں رکھیے۔
◊ اب ہر ایک پودے کو علاحدہ ۔ علاحدہ کانچ کی پلیٹ پر رکھیے۔ ان میں سے ایک پودے کے پاس واچ گلاس میں پوٹاشیم ہائڈراکسائٹ رکھیے۔ پوٹاشیم ہائڈراکسائڈ کا استعمال کاربن ڈائی آکسائڈ کو جذب کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
◊ شکل6.4کے مطابق دونوں پودوں کو علاحدہ علاحدہ بیل جار سے ڈھک دیجیے۔

شکل 6.4 تجرباتی سیٹ اپ (a) پوٹاشیم ہائڈراکسائڈ کے ساتھ (b) پوٹاشیم ہائڈراکسائڈ کے بغیر
◊ جارکے پنیدے کو سیل کرنے کے لیے کانچ کی پلیٹ پرویسلین لگا دیجیے اس سے سیٹ اب ایرٹائٹ ہوجاتا ہے۔
◊ پودوں کو تقریباً دو گھنٹوں کے لیے سورج کی روشنی میں رکھیے۔
◊ ہر ایک پودے سے ایک پتی علاحدہ کیجیے اور مذکورہ بالا سرگرمی کی طرح اس میں اسٹارچ کی موجودگی کی جانچ کیجیے۔
◊ کیا دونوں پتیوں میں اسٹارچ کی یکساں مقدار موجود ہے؟
◊ اس سرگرمی سے آپ کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟
مذکورہ بالا دونوں سرگرمیوں کی بنیاد پر کیا ہم ایسا تجربہ انجام دے سکتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوسکے کہ ضیائی تالیف کے لیے سورج کی روشنی ضروری ہے؟
اب تک ہم نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ خود پرور اپنی توانائی کی ضرورت کو کس طرح پورا کرتے ہیں؟ لیکن انہیں بھی اپنے جسم کی نشونما کے لیے دیگر خام مادوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ زمینی پودوں میں ضیائی تالیف میں استعمال ہونے والے پانی کو جڑیں مٹی سے جذب کرتی ہیں۔ نائٹروجن، فاسفورس، آئرن اور میگنیشیم جیسے دیگر مادوں کومٹی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ نائٹروجن پروٹین اور دیگر مرکبات کی تالیف میں استعمال ہونے والاہے، ایک ضروری عنصر ہے۔ اسے غیر نامیاتی نائٹریٹ یا نائٹرائٹ کی شکل میں لیا جاتا ہے۔ اسے ان نامیاتی مرکبات کی شکل میں بھی لیا جاتا ہے جنھیں بیکٹریا کرہ باد کی نائٹروجن سے تیارکرتے ہیں۔
6.2.2 غیرپرور شی تغذیہ(Heterotrophic Nutrition)
ہر ایک عضویہ اپنے ماحول سے توافق کرلیتا ہے۔ غذا کی قسم اور دستیابی کی بنیاد پر تغذیہ کے طریقے مختلف ہوسکتے ہیں اس کے علاوہ اس کا انحصار عضویہ کے ذریعہ غذا حاصل کرنے کے طریقہ پر بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر گائے اور شیر کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے تغذیاتی آلات (Nutritive apparatus) اور غذا حاصل کرنے کے طریقوں میں فرق اس بات پر منحصر ہے کہ آیا غذا کا ذریعہ ساکن ہے (جیسے کہ گھاس) یا متحرک (مثلاً ہرن)۔ عضویے غذا کو حاصل کرنے اور اسے استعمال کرنے کے لیے مختلف طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ کچھ عضویے غذائی مادوں کو جسم کے باہر تحلیل کرکے ان کا انجذاب کرتے ہیں۔ پھپھوند، خمیر اور مشروم اس کی مثالیں ہیں۔ دیگر عضویے غذائی مادوں کو جسم کے اندر تحلیل کرتے ہیں۔ عضویے کے ذریعہ کس قسم کی غذا لی جائے گی اور اس کی تحلیل کس طرح ہوگی یہ بات عضویے کے جسم کی بناوٹ اور کام کرنے کے طریقہ پر منحصرہوتی ہے۔ کچھ دیگر عضویے پودوں اور جانوروں کو مارے بغیر ہی ان سے تغذیہ حاصل کرتے ہیں۔ طفیلی تغذیہ (Parasitic nutrition)کا یہ طریقہ امربیل، آرکڈ (Orchids)، جوں، جونک اور ٹیپ ورم جیسے مختلف عضویوں کے ذریعہ استعمال کیا جاتاہے۔

شکل 6.5
امیبا میں تغذیہ
6.2.3 عضویے اپنا تغذیہ کس طرح حاصل کرتے ہیں
( ?How do Organisms obtain their Nutrition)
چونکہ غذا کی قسم اور اسے حاصل کرنے کے طریقے مختلف ہیں لہٰذا مختلف عضویوں میں نظام ہضم(Digestive system) بھی مختلف ہے۔ یک خلوی عضویوں میں غذا کو جسم کی مکمل سطح کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے لیکن جیسے جیسے عضویوں کی پیچیدگی میں اضافہ ہوتا ہے مختلف افعال کو انجام دینے کے لیے مختلف اعضامخصوص ہوجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر امیبا، خلوی سطح پر پائے جانے والے عارضی انگشت نما ابھاروں کے ذریعہ غذا حاصل کرتا ہے۔ یہ ابھار غذائی ذرہ کے چاروں طرف پھیل کر غذائی جوف(Food Vacuole)کی تشکیل کرتے ہیں(شکل6.5)۔ غذائی جوف کے اندر پیچیدہ مادوں کو سادہ مادوں میں تحلیل کردیا جاتا ہے جو بعد میں سائٹوپلازم میں نفوذ کرجاتے ہیں۔ باقی ماندہ غیر ہضم شدہ مادہ خلوی سطح پر آکر جسم سے باہر خارج ہوجاتا ہے۔ پیرامیشیم(جو ایک خلوی عضویہ ہے) میں خلیہ کی شکل متعین ہوتی ہے اور غذا کو ایک مخصوص جگہ پر حاصل کیا جاتا ہے ۔غذاکو اس جگہ پر سیلیا (Cilia) کی حرکت کے ذریعہ لایا جاتا ہے۔ یہ سیلیا خلیہ کی پوری سطح پر پائے جاتے ہیں۔
6.2.4 انسانوں میں تغذیہ(Nutrition in Human Beings)
ایلیمنٹری کینال(Alimentary canal)بنیادی طو رپر ایک لمبی ٹیوب ہے جو منہ سے مبرز(Anus)تک پھیلی رہتی ہے۔ شکل6.6میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ٹیوب مختلف حصوں پر مشتمل ہے۔ ٹیوب کے مختلف خطے مختلف کاموں کو ا نجام دینے کے لیے مخصوص ہیں۔ جب غذا جسم میں داخل ہوتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟ہم اس عمل پر یہاں بحث کریں گے۔
سرگرمی6.3
◊ دو ٹیسٹ ٹیوب(Aاور (Bمیں 1mLاسٹارچ محلول(1%)لیجیے۔
◊ ٹیسٹ ٹیوبAمیں 1mLلعاب(salvia)ملائیے اور دونوں ٹیسٹ ٹیوبوں کو 20-30منٹ کے لیے یونہی چھوڑدیجیے۔
◊ اب ہر ایک ٹیسٹ ٹیوب میں کچھ بوندیں ڈائی لیوٹ آیوڈین محلول کی ملائیے۔
◊ کس ٹیسٹ ٹیوب میں آپ کو رنگ میں تبدیلی نظر آرہی ہے؟
◊ دونوں ٹیسٹ ٹیوب میں اسٹارچ کی موجودگی یا عدم موجودگی کے بارے میں کیا ظاہر ہوتا ہے؟
◊ اس سے اسٹارچ پر لعاب کے عمل کے بارے میں کیا پتہ چلتا ہے؟

شکل 6.6 انسانی ایلیمنٹری کینال
ہم مختلف قسم کی غذا لیتے ہیں۔ ان سبھی غذائوں کو ایک ہی ہضم نلی سے ہوکر گزرنا پڑتا ہے۔ قدری طورپر غذا کی پروسیسنگ ہوتی ہے جس میں وہ اس قسم کے چھوٹے ذرات میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ غذا کو دانتوں سے چبا کر ہم اس عمل کو انجام دیتے ہیں۔ چونکہ کینال کا استر بہت ملائم ہوتا ہے لہٰذا غذا کو گیلا کیا جاتا ہے تاکہ یہ آسانی سے گزرسکے۔ جب ہم اپنی پسند کی کوئی غذا کھانے ہیں تو ہمارے منھ میں پانی آجاتا ہے۔ درحقیقت یہ صرف پانی نہیں ہے بلکہ لعابی غدود(salivary glands)سے افراز ہونے والا سیال ہے جسے لعاب(salvia)کہتے ہیں۔ جو غذا ہم کھاتے ہیں اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ غذا پیچیدہ ہوتی ہے۔ اگر اسے ایلیمنٹری کینال کے ذریعہ جذب کرنا ہے تو اسے چھوٹے چھوٹے سالمات میں توڑنا ہوگا۔ یہ کام حیاتیاتی عمل انگیز کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے۔ جنھیں ہم انزائم(enzymes)کہتے ہیں۔ لعاب میں بھی ایک انزائم ہوتا ہے جسے لعابی امائیلز(amylase)کہتے ہیں۔ یہ اسٹارچ (جو کہ ایک پیچیدہ سالمہ ہے) کوسادہ شکر میں تبدیل کردیتا ہے۔ غدا کو چبانے کے دوران عضلاتی زبان اسے لعاب کے ساتھ اچھی طرح ملادیتی ہے۔
ہضم نلی کے ہر ایک حصہ میں غذا کی ایک منظم اندازمیں حرکت ضروری ہے تاکہ اس کی پروسیسنگ صحیح طریقے سے ہوسکے۔کینال کے استر میں ایسے عضلات ہوتے ہیں جو باقاعدہ طور پر سکڑتے ہیں اور غذا کو آگے کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔یہ پرسٹالٹک حرکت(Peristalic Movement)تمام غذائی نلی میں ہوتی ہے۔
منھ سے معدہ تک غذا کو غذائی نلی ایسوفیگس(Oesophagus)ذریعہ لے جایا جاتا ہے۔ معدہ ایک بڑا عضو ہے۔ جب غذا معدہ میں داخل ہوتی ہے تو یہ پھیل جاتا ہے۔ معدہ کی عضلاتی دیواریں غذا میں دیگر ہاضم رسوں (Digestive Juices)کی آمیزش میں مدد کرتی ہیں۔
یہ ہاضم افعال معدہ کی دیوار میں موجود گیسٹرک غدود کے ذریعہ انجام دیے جاتے ہیں۔ یہ غدود ہائڈرو کلورک ایسڈ، پروٹین کو ہضم کرنے والے انزائم (پیپسن) اور مخاط(mucus)کا افراز کرتے ہیں۔ ہائڈرو کلورک ایسڈ ایک تیزابی میڈیم تیار کرتا ہے جو پیپسن انزائم کے کام کوآسان کر دیتا ہے۔ آپ کے خیال میں ایسڈ اور کیا کام کرتا ہے؟ عام حالات میں مخاط معدہ کے اندرونی استر کو ایسڈ سے محفوظ رکھتا ہے۔ ہم نے کئی مرتبہ بڑوں کو تیزابیت (acidity) کی شکایت کرتے سنا ہے۔ کیا اس کا تعلق مذکورہ بالا صورت حال سے تو نہیں ہے؟
اب غذا معدہ سے چھوٹی آنت میں داخل ہوتی ہے۔ یہ کام اسفنکٹر عضلات(sphincter muscles)کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے۔ چھوٹی آنت ایلیمنٹیری کینال کا سب سے لمبا حصہ ہے جوکہ بہت زیادہ گھماؤدار ہونے کی وجہ سے بہت تھوڑی سی جگہ میں سما جاتی ہے۔ مختلف جانوروں میں چھوٹی آنت کی لمبائی ان کی غذا کی قسم کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے۔ نباتات خور جانوروں کی چھوٹی آنت نسبتاً زیادہ لمبی ہوتی ہے تاکہ سیلیولوز کو آسانی سے ہضم کیا جاسکے۔ گوشت کو ہضم کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے لہٰذا گوشت خور جانوروں (مثلاً چیتا) میں چھوٹی آنت کی لمبائی کم ہوتی ہے۔
چھوٹی آنت وہ جگہ ہے جہاں کاربوہائیڈریٹ، پروٹین اور چربی مکمل طور سے ہضم ہوجاتے ہیں، اس مقصد کے لیے یہ جگر اور لبلبہ(pancreas)سے افراز کو حاصل کرتی ہے۔ معدہ سے آنے والی غذا تیزابی ہوتی ہے اور اسے قلوی بنانے کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ لبلبہ سے آنے والے انزائم اس پر عمل کرسکیں۔ جگر سے آنے بائل رس (Bile Juice)چربیوں پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ اس کام میں بھی مدد کرتا ہے۔ آنت میں چربی بڑے گلوبیولس(globules)کی شکل میں موجود ہوتی ہے جس کی وجہ سے انزائموں کو اس پر اثر انداز ہونے میں دقت ہوتی ہے۔ بائل نمک انہیں چھوٹے گلوبیولس میں توڑدیتے ہیں جس سے انزائم کی کار کردگی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہ میل پرصابن کے ایملسیفائنگ ایکشن(emulsifying action)کی طرح ہے جس کا مطالعہ ہم باب 4میں کرچکے ہیں۔ لبلبہ پینکریاٹک رس (pancreatic juice)کا افراز کرتا ہے جس میں ٹرپسن(trypsin)اور لائیپیز (lipase) جیسے اینزائم ہوتے ہیں ٹرپسن پروٹین کے ہضم میں مدد کرتا ہے اور لائیپیز ایملسیفائڈ چربیوں کی تحلیل کرتا ہے۔ چھوٹی آنت کی دیواروں میں غدود پائے جاتے ہیں جو آنت رس(intestine juice)کا افراز کرتے ہیں۔ ان میں موجود انزائم پروٹین کو اینو ایسڈمیں پیچیدہ کا ربوہائیڈریٹ کو گلو کوز میں،چربیوں کو فیٹی ایسڈ اور گلسرال (Glyecrol) میں تبدیل کردیتے ہیں۔
ہضم شدہ غذا آنت کی دیواروں کے ذریعہ جذب ہوجاتی ہے۔ چھوٹی آنت کے اندرونی استر پر متعدد انگشت نما ابھار پائے جاتے ہیں جنھیں وِلّی(villi)کہتے ہیں یہ انجذاب کے سطحی رقبہ میں اضافہ کردیتے ہیں۔ وّلی میں خون کی نالیوں کی فراوانی ہوتی ہے جو غذا کو جذب کرکے جسم کے ہر ایک خلیہ میں پہنچا دیتی ہیں۔ان خلیوں میں اس غذا کا استعمال توانائی حاصل کرنے ، نئے بافتوں کی تشکیل اور پرانے بافتوں کی مرمت میں کیا جاتا ہے۔
غیر ہضم غذا بڑی آنت میں بھیج دی جاتی ہے جہاں انگشت نما ابھار اس سے پانی کو جذب کرلیتے ہیں۔ باقی ماندہ شے جسم سے مبرز (anus)کے ذریعہ باہر نکال دی جاتی ہے۔ اس فضلاتی شے کو (anal spincter)کے ذریعہ کنٹرول کیا جاتا ہے۔
مزید معلومات
ڈینٹل کیریز(Dental Caries)
اینیمل (enamal)اور ڈینٹائن(dentine)کے رفتہ رفتہ ملائم ہو جانے کی وجہ سے Dental cariesیا دانتوں کی سڑن ہوجاتی ہے۔یہ اس وقت شروع ہوتی ہے جب بیکٹریا شکر کو ایسڈ میں تبدیل کردیتے ہیں جس سے اینیمل ملائم یا غیر معدنی ہوجاتا ہے۔ بیکٹیریائی خلیے غذائی ذرات کے ساتھ دانتوں سے چپک جاتے ہیں اور ڈینٹل پلیک(Dental Plaque)بناتے ہیں۔ چونکہ دانت پلیک سے ڈھک جاتے ہیں اس لیے لعاب دانتوں کی سطح تک نہیں پہنچ پاتا تاکہ سطح کی تعدیل کی جاسکے۔ کھانے کے بعد برش کرنے سے پلیک علاحدہ ہوجاتا ہے اور بیکٹیریا تیزاب پیدا نہیں کرپاتے۔ اگر علاج نہ کیا جائے تو خرد عضویے پلپ(pulp)پر حملہ کرکے سوزش اور تعدیہ پیدا کردیتے ہیں۔
سوالات
1۔ خود پرو رشی اور غیر پرور شی تغذیہ میں کیا فرق ہے؟
2۔ ضیائی تالیف کے لیے درکار ہر ایک خام شے کو پودے کہاں سے حاصل کرتے ہیں؟
3۔ ہمارے معدہ میں تیزاب کا کیا رول ہے؟
4۔ ہاضم انزائموں کا فعل بیان کیجیے۔
5۔ ہضم شدہ غذا کو جذب کرنے کے لیے چھوٹی آنت کس طرح ڈیزائن کی گئی ہے؟
6.3 تنفس(Respiration)

شکل 6.7 (a) پچکاری/سیرنج کے ذریعہ چونے کے پانی میں ہاو کو گزارا جا رہا ہے (b) سانس کے ذریعہ ہوا کو چونے کے پانی میں چھوڑا جارہا ہے
سرگرمی 6.4
◊ ایک ٹیسٹ ٹیوب میں تازہ تیار کیا ہوا چونے کاپانی لیجیے۔
◊ اس چونے کے پانی میں ہوا پھونکیے۔
◊ نوٹ کیجیے کہ چونے کے پانی کو دودھیا ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے
◊ ایک اور ٹیسٹ ٹیوب میں تازہ چونے کا پانی لے کر سیرنج یا پچکاری کے ذریعہ اس میں ہوا چھوڑیے (شکل (6.7۔
◊ اس مرتبہ بھی نوٹ کیجیے کہ چونے کے پانی کو دودھیا ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟
◊ اس سے ہمارے ذریعہ چھوڑی گئی سانس میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار کے بارے میں کیا معلوم ہوتا ہے؟
سرگرمی6.5
◊ کسی پھل کا تھوڑا سا رس یا شکر کا محلول لیجیے اور اس میں تھوڑا سا ایسٹ ملائیے اس آمیزے کو ایک ایسی ٹیسٹ ٹیوب میں لیجیے جس میں ایک سوراخ والی کارک لگی ہو۔
◊ کارک میں مڑی ہوئی کانچ کی ٹیوب لگائیے۔ کانچ کی نلی کے آزاد سرے کو تازہ تیار کیے گیے چونے کے پانی والی ٹیسٹ ٹیوب میں لے جائیے۔
◊ نوٹ کیجیے کہ چونے کے پانی میں کیا تبدیلی آتی ہے اور اس تبدیلی میں کتنا وقت لگتا ہے۔
◊ اس سے تخمیر(fementation)کے ماحصلات (Products) کے بارے میں کیا معلوم ہوتا ہے؟
گذشتہ سیکشن میں ہم نے جاندار عضویوں میں تغذیہ پر بحث کی ہے۔عمل تغذیہ میں جن غذائی مادوں کو لیا جاتا ہے ان کا استعمال خلیے مختلف اعمال زندگی کو انجام دینے کے لیے درکار توانائی پیدا کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ مختلف عضویے اس کام کو مختلف طریقوں سے انجام دیتے ہیں۔ کچھ عضویے آکسیجن کا استعمال کرکے گلو کوز کو مکمل طورپر کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی میں تبدیل کردیتے ہیں، جبکہ کچھ عضویے ایسے طریقوں کا استعمال کرتے ہیں جس میں آکسیجن کا استعمال نہیں ہوتا (شکل(6.8۔ ان سبھی معاملوں میں پہلا مرحلہ گلوکوز(چھے کاربن والاسالمہ) کی پائروویٹ(تین کاربن والا سالمہ) میں تبدیلی ہے۔ یہ عمل سائٹوپلازم کے اندر ہوتا ہے۔اس کے بعد پائروویٹ (Pyruvate) ایتھنال اور کاربن ڈائی آکسائڈ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ یہ عمل تخمیر کے دوران ایسٹ کے اندر ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ عمل ہوا (آکسیجن) کی عدم موجودگی میں ہوتا ہے اس لیے اسے غیر ہوا باش تنفس(anaerobic respiration)کہتے ہیں۔ آکسیجن کے استعمال سے پائیروویٹ کی تحلیل کا عمل مائٹو کونڈریا میں ہوتا ہے۔ اس عمل میں تین کاربن والا پائیروویٹ سالمہ تحلیل ہوکر کاربن ڈائی آکسائڈ کے تین سالمات بناتا ہے۔دوسرا ماحصل پانی ہے۔ کیونکہ یہ عمل ہوا (آکسیجن) کی موجودگی میں ہوتا ہے اس لیے اسے ہوا باش تنفس(aerobic respiration)کہتے ہیں۔ غیر ہوا باش تنفس کے مقابلے ہوا باش تنفس میں زیادہ توانائی خارج ہوتی ہے۔ بعض اوقات، جب ہمارے عضلاتی خلیوں میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے تو دوسرے طریقے سے پائیروویٹ کی تحلیل کی جاتی ہے۔ یہاں پائروویٹ کو لیکٹک ایسڈ (Lactic Acid) میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہ بھی تین کاربن والا سالمہ ہے۔ ہمارے عضلات میں اچانک ہونے والی کسی سرگرمی کی وجہ سے کیلٹک ایسڈکابننا اکڑن (cramps)کا سبب بن سکتا ہے۔

شکل 6.8 مختلف طریقوں کے ذریعہ گلوکوز کی تحلیل
خلوی تنفس کے دوران خارج ہونے والی توانائی فوراً ATP سالمات کی تالیف میں استعمال ہوجاتی ہے۔ATPخلیہ میں دیگر سبھی سرگرمیوں کے لیے بطور ایندھن ہوتا ہے۔ اس عمل میں ATPکی تحلیل سے توانائی کی ایک متعین مقدار خارج ہوتی ہے جو خلیہ میں ہونے والے حرارت خور تعاملات کو چلاتی ہے۔
مزید معلومات
ATP
ATP اکثر خلوی عملوں کے لیے توانائی کرنسی ہے۔ تنفس کے دوران خارج ہونے والی توانائی
کا استعمال ADPاور غیر نامیاتی فاسفیٹ سے ATP سالمہ بنانے میں کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد خلیہ میں حرارت خور عمل اس ATPکا استعمال تعاملات کو انجام دینے میں کیا جاتا ہے۔ جب پانی کے استعمال سے ATPمیں ٹرمنل فاسفیٹ بونڈنگ کو توڑا جاتاہے تو 30.5kJ/molتوانائی خارج ہوتی ہے۔ذرا سوچیے کہ ایک بیڑی مختلف کاموں کے لیے کس طرح توانائی فراہم کرتی ہے اس کا استعمال میکانیکی توانائی، نوری توانائی اور برقی توانائی وغیرہ حاصل کرنے میں کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح خلیہ میں ATPکا ا ستعمال عضلات کے سکڑنے پروٹین کی تالیف، اعصابی ہیجان کی ترسیل اور دیگر کئی سرگرمیوں میں کیا جاتا ہے۔
چونکہ ہوا باش تنفس آکسیجن پر منحصر ہوتاہے اس لیے ہوا باش عضویوں کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ مناسب آکسیجن حاصل کرنے کو یقینی بنائیں۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ پودے اسٹو میٹا کے ذریعہ گیسوں کا تبادلہ کرتے ہیں اور بڑی بین خلوی (Inter cellular) جگہیں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ تمام خلیے ہوا کے رابطے میں رہیں۔ یہاں کاربن ڈائی آکسائڈ اور آکسیجن کا تبادلہ نفوذ کے ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ خلیوں کے اندر باہر آجاسکتی ہیں اور ہوا میں داخل ہوسکتی ہیں۔ نفوذ کی سمت کا انحصار ماحولیاتی حالات اور پودے کی ضروریات پر ہوتا ہے۔ رات میں جب ضیائی تالیف کا عمل نہیں ہوتا ہے تو اس وقت CO2 کا اخراج سب سے اہم تبادلے کی سرگرمی ہے۔ دن کے وقت تنفس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی CO2 ضیائی تالیف میں استعمال ہوجاتی ہے اوراس طرح کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج نہیں ہوتا۔ اس وقت سب سے اہم واقعہ آکسیجن کا اخراج ہے۔
جانوروں میں ماحول سے آکسیجن حاصل کرنے اور کاربن ڈائی آکسائڈ سے چھٹکارا پانے کے لیے مختلف اعضا کا ارتقا ہوا ہے۔ زمین پر رہنے والے جانور سانس لینے کے لیے ماحول سے آکسیجن حاصل کرسکتے ہیں لیکن وہ جانور جو پانی میں رہتے ہیں انھیں پانی میں گھلی ہوئی آکسیجن کو استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں
تمباکو کوبراہ راست یا تمباکو سے بنی ہوئی کوئی چیز جیسے سگار، سگریٹ، بیڑی، حقہ، گٹکھا وغیرہ کا استعمال نقصان دہ ہے۔ تمباکو کااستعمال عام طورپر زبان، پھیپھڑے،دل اورجگر کومتاثرکرتاہے۔ نسوار(غیردھوئیں والے تمباکو)بھی دل کے دورے، پھیپھڑوں میں سوجن اورمختلف نوعیت کے کینسر کا اہم سبب ہوتاہے۔گٹکھے کی شکل میں تمباکوچبانے کی وجہ سے ہندوستان میں منہ کے کینسر کے بہت زیادہ واقعات ہوتے ہیں۔ فوری طورپر تمباکو اوراس سے بنی چیزوں سے منع کیجیے !صحت مندرہیے!
سرگرمی6.6
◊ کسی ایکویریم میں مچھلیوں کا مشاہدہ کیجیے۔ وہ اپنا منھ کھولتی اور بند کرتی رہتی ہیں۔ یہ آنکھوں کے پیچھے موجود اپنے گلپٹھر(یا گلپھڑوں کو ڈھکنے والے اوپر کلم(operculum)کو بھی کھولتی اور بند کرتی رہتی ہیں۔ کیا منھ اور گلپھڑوں کا کھلنا اور بند ہونا ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں؟
◊ مچھلی ایک منٹ میں کتنی مرتبہ اپنا منھ کھولتی اور بند کرتی ہے، اسے شمار کیجیے۔
◊ اس کا موازنہ اس تعداد سے کیجیے جتنی مرتبہ آپ ایک منٹ میں سانس لیتے اور چھوڑتے ہیں۔
پانی میں گھلی ہوئی آکسیجن کی مقدار ہوا میں موجود آکسیجن کی مقدار کے مقابلے کافی کم ہوتی ہے اس لیے آبی عضویوں کے سانس لینے کی شرح زمین پر رہنے والے عضویوں کے مقابلے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ مچھلیاں پانی کو اپنے منھ میں لے جاتی ہیں اور اسے گلپھڑوں سے ہوکر گزارتی ہیں جہاں گھلی ہوئی آکسیجن کو خون کے ذریعہ حاصل کرلیا جاتاہے۔
زمین پر رہنے والے عضویے کرہ باد کی آکسیجن کا استعمال تنفس کے لیے کرتے ہیں۔ مختلف جانوروں میں مختلف اعضا آکسیجن کا انجذاب کرتے ہیں۔ ان سبھی اعضا میں ایسی ساختیں ہوتی ہیں جو اس سطحی رقبہ میں اضافہ کردیتی ہیں جو آکسیجن سے بھر پور کرہ باد کے تماس میں ہوتا ہے۔ چونکہ آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائڈ کا تبادلہ اس سطح کے آرپار ہوتا ہے لہٰذا یہ سطح بہت زیادہ باریک اور لچکدار(delicate)ہوتی ہے۔ حفاظت کے نقطۂ نظر سے عام طور پر یہ سطح جسم کے اندر ہوتی ہے اس لیے ایک ایسا راستہ ہونا چاہیے جو اس سطح تک ہوا کو لے جاسکے۔ اس کے علاوہ ایک ایسا میکانزم بھی درکار ہے جو ہوا کو اس سطح کے اندر اور باہر لے جائے تاکہ آکسیجن کو جذب کیا جاسکے۔
انسانوں میں (شکل6.9) نتھنوں(nostrils)کے ذریعہ ہوا کو جسم کے اندر لے جایا جاتا ہے۔ نتھنوںمیں داخل ہونے والی ہوا نتھنوں میں موجود باریک بالوں کے ذریعہ فلٹر ہوجاتی ہے ۔ اس راستے میں مخاطی استر بھی ہوتا ہے جو اس کام میں مددکرتا ہے۔ یہاں سے ہوا گلے سے ہو کر گزرتی ہے اور پھیپھڑوں میں داخل ہوجاتی ہے۔ گلے میں غضروف(cartilage)کے چھلے موجود ہوتے ہیں۔ یہ ہوا کے راستہ کو تباہ ہونے سے بچاتے ہیں۔

شکل 6.9 انسانی نظام تنفس
پھیپھڑوں کے اندر ہوا کا یہ راستہ چھوٹی ٹیوب کی شکل میں تقسیم ہوجاتا ہے جو آخر میں غبارہ نماساختوں پر ختم ہوجاتا ہے۔ یہ غبارہ نما ساختیں ایلویولائی(alveoli)واحد-ایلویولس) کہلاتی ہیں۔ ایلویولائی ایک سطح فراہم کرتی ہیں جہاں گیسوں کا تبادلہ ہوسکتا ہے۔ ایلویولائی کی دیواروں میں خون کی نالیوں کا ایک وسیع جال ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے شروع کے برسوں میں دیکھا ہے کہ جب ہم اندر کی طرف سانس لیتے ہیں توہم اپنی پسلیوں کو اوپر اٹھاتے ہیں اور ڈایا فرام(diaphragm)کو چپٹا کرتے ہیں جس کے نتیجے میںجوف صدر (Chest cavity)بڑی ہوجاتی ہے۔ اس کی وجہ سے ہوا کو پھیپھڑوں میں کھینچ لیا جاتا ہے جہاں یہ ہوا پھیلے ہوئے ایلویولائی میں بھرجاتی ہے۔ خون تمام جسم سے کاربن ڈائی آکسائڈ کو لاتا ہے اور ایلویولائی میں خارج کردیتا ہے۔ ایلویولائی کی ہوا میں موجود آکسیجن خون کی نالیوں کے ذریعہ حاصل کرکے جسم کے تمام خلیوں تک پہنچا دیاجاتا ہے۔ سانس لینے کے دوران جب ہوا کو اندر لیا جاتا ہے اور باہر چھوڑا جاتا ہے تو پھیپھڑوں میں ہوا کا باقی ماندہ حجم ہمیشہ موجود رہتا ہے تاکہ آکسیجن کو جذب کرنے اور کاربن ڈائی آکسائڈ کو خارج کرنے کے لیے مناسب وقت مل سکے۔
جب جانوروں کے جسم کا سائز بہت زیادہ ہوتا ہے تو جسم کے تمام حصوں میں آکسیجن کو پہنچانے کے لیے صرف نفوذی دباؤ(diffusion pressure)ہی کافی نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ تنفسی پگمنٹ(respiratory pigments)پھیپھڑوں سے آکسیجن کو حاصل کرتے ہیں اور ان بافتوں تک لے جاتے ہیں جہاں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے۔ انسانوں میں تنفسی پگمنٹ ہیموگلوبن ہوتا ہے جو آکسیجن سے بہت زیادہ وابستگی(affinity)رکھتا ہے۔ یہ پگمنٹ لال دموی خلیوں(red blood corpuscles)میں موجود ہوتا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائڈ پانی میں آکسیجن کے مقابلے زیادہ حل پذیر ہے اسی لیے ہمارے خون میں اس کی نقل وحمل زیادہ تر گھلی ہوئی شکل میں ہوتی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں
◊ اگر ایلویولائی کی سطح کو پھیلا دیا جائے تو یہ تقریباً 80 مربع میٹر رقبہ کو ڈھک لے گی۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کے جسم کا سطحی رقبہ کتنا ہوگا؟ ذرا غور کیجیے کہ تبادلہ کے لیے زیادہ سطح دستیاب ہونے پر گیسوں کا تبادلہ کتنا کارگر ہو جاتا ہے۔
◊ اگر ہمارے جسم میں آکسیجن نفوذ کے ذریعہ حرکت کرتی تو آکسیجن کے ایک سالمہ کو ہمارے پھیپھڑوں سے پیر کے انگوٹھے تک پہنچے میں تقریباً تین سال لگ جائیں گے۔ کیاآپ کو اس بات کی خوشی نہیں ہے کہ ہمارے اندر ہیموگلوبن ہے؟
سوالات
1۔ تنفس کے لیے آکسیجن حاصل کرنے کے معاملے میں آبی عضویوں کے مقابلے بری جانوروں کو کیا فائدہ ہے؟
2۔ مختلف عضویوں میں توانائی حاصل کرنے کے لیے گلوکوز کی تکسید کے مختلف طریقے کیا کیا ہیں؟
3۔ انسانوں میں آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائڈ کا نقل وحمل کس طرح ہوتا ہے؟
4۔ انسانی پھپھڑوں کو گیسوں کے تبادلے کے واسطے رقبہ بڑھانے کے لیے کس طرح ڈیزائن کیاگیا ہے؟
6.4 نقل وحمل(Transportation)
6.4.1 انسانوں میں نقل وحمل(Transportation in Human Beings)
سرگرمی6.7
◊ اپنے علاقہ میں کسی ہیلتھ سینٹر پر جائیے اور معلوم کیجیے کہ انسانوں میں ہیموگلوبن کی نارمل رینج کتنی ہوتی ہے۔
◊ کیا یہ بچوں اور بڑوں میں یکساں ہے؟
◊ کیا مردوں اور عورتوں کی ہیمو گلوبن کی سطح میں کوئی فرق ہے؟
◊ اپنے علاقے میں کسی ایسی کلینک پر جائیے۔ جہاں مویشیوں کا علاج کیا جاتا ہے اور معلوم کیجیے کہ بھینس یا گائے جیسے مویشیوں میں ہیمو گلوبن کی نارمل رینج کتنی ہے؟
◊ کیایہ مقدار بچھڑوں ، مادہ اور نرجانوروں میں یکساں ہے؟
◊ نر اور مادہ انسان اورجانوروں میں اگر کوئی فرق نظر آتا ہے تو اس کا موازنہ کیجیے۔
◊ اگر کوئی فرق ہے تو اس کی تشریح کس طرح کی جائے گی؟
گذشتہ سیکشنوں میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ خون ہمارے جسم میں غذا، آکسیجن اور فضلاتی مادوں کی نقل وحمل کرتا ہے۔ نویں جماعت میں ہم نے پڑھا ہے کہ خون ایک سیال ہونے کی وجہ سے اتصالی بافت ہے۔ خون ایک سیالی میڈیم پر مشتمل ہوتا ہے جسے پلازمہ کہتے ہیں۔ پلازمہ میں خلیے معلق رہتے ہیں۔ پلازمہ غذا، کاربن ڈائی آکسائڈ اور نائٹروجن فضلات کی گھلی ہوئی شکل میں نقل وحمل کرتا ہے۔ آکسیجن کو لال دموی خلیوں کے ذریعہ لے جایا جاتا ہے۔ نمک جیسی بہت سی دیگر اشیا کی نقل وحمل بھی خون کے ذریعہ ہوتی ہے۔ لہٰذا ہمیں جسم کے اندر خون کو پمپ کرنے والا ایک عضو درکار ہوگا اسی کے ساتھ ساتھ نالیوں کے ایک نیٹ ورک کی بھی ضرورت ہوگی جو خون کو سبھی بافتوں تک بھیج سکے اور ایک ایسا نظام بھی درکار ہوگا جو اس بات کو یقینی بنا سکے کہ اگر اس نیٹ ورک میں کوئی ٹوٹ پھوٹ ہوجائے تو اس کی مرمت ہوسکے۔

شکل 6.10 انسانی دل کا کراس سیکشن
ہمارا پمپ دل
دل ایک عضلاتی عضو ہے جو ہماری مٹھی کے برابر ہوتا ہے۔ کیونکہ آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائڈ کی نقل وحمل خون کے ذریعہ ہوتی ہے لہٰذا دل میں مختلف چیمبر ہوتے ہیں تاکہ آکسیجن آمیز خون اور کاربن ڈائی آکسائڈ آمیز خون ایک دوسرے میں نہ مل سکیں۔ کاربن ڈائی آمیز خون کو پھیپھڑوں میں لے جایا جاتا ہے تاکہ کاربن ڈائی آکسائڈ کو علاحدہ کیا جاسکے اور پھیپھڑوں سے آکسیجن آمیز خون کو دل میں واپس لایا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس آکسیجن آمیز خون کو تمام جسم میں پمپ کردیا جاتا ہے۔
ہم اس عمل کو مرحلہ وار سمجھ سکتے ہیں (شکل 6.11)۔آکسیجن آمیزخون پھیپھیڑوں سے دل میں بائیں طرف واقع پتلی دیوار والے بالائی چیمبر میںآتا ہے جسے بایاں اذیں (left atrium)کہتے ہیں۔ اس خون کو جمع کرتے وقت بایاں اذیں حالت سکون میں ہوتا ہے اور اس کے بعد اس وقت سکڑتاہے جب دوسرا چیمبر یعنی بایاں بطین پھیلتا ہے تاکہ

شکل 6.11 نقل و حمل اور کاربن ڈائی آکسائڈ نیز آکسیجن کے تبادلہ کا تصویری اظہار
خون یہاں منتقل ہوسکے۔ جب عضلاتی بایاں بطیں اپنی باری پرسکڑتا ہے تو خون جسم کی طرف پمپ ہو جاتا ہے۔ دائیں طرف والا بالائی چیمبر یعنی دایاں اذیں جب پھیلتا ہے تو جسم سے ڈی آکسی جینٹیٹ خون(de-oxygenated blood)اس میں آجاتا ہے۔ جیسے ہی دایاں اذیں سکڑتا ہے تو نیچے والا چیمبر یعنی دایاں بطین پھیل جاتا ہے۔ یہ خون کو دائیں بطیں میں منتقل کر دیتا ہے جو خون کو اس میں آکسیجن کی آمیزش (oxygenation) کے لیے پھیپھڑوں میں پمپ کردیتا ہے۔ اذیں کے مقابلے بطیں کی عضلاتی دیواریں زیادہ موٹی ہوتی ہیں کیونکہ بطیں کو مختلف اعضا میں خون بھیجنا ہوتا ہے۔ جب اذیں یا بطیں سکڑتے ہیں تو والو (valve)خون کو برعکس سمت میں بہنے سے روکتے ہیں۔
پھیپھڑوں میں آکسیجن خون میں داخل ہوتی ہے
دل دائیں اور بائیں حصوں میں تقسیم آکسیجینیٹیڈ اور ڈی آکسیجنیٹیڈ خون کو باہم مخلوط ہونے سے روکنے میں معاون ہے۔اس طرح کی تقسیم جسم کو آکسیجن کی بہت زیادہ کارگرسپلائی میں مددکرتی ہے۔ یہ ان جانوروں کے لیے بہت مفید ہے جنھیں توانائی کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے مثلاً پرندے اور پستان دار جانور جو اپنے جسم کے درجہ حرات کو بنائے رکھنے کے لیے مسلسل توانائی کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ جانور جو اس کام کے لیے توانائی کا استعمال نہیں کرتے ان کے جسم کا درجۂ حرات ماحول کے درجۂ حرات پر منحصر ہوتا ہے۔ جل تھلی جانوروں (amphibians)یا بہت سے رینگنے والے جانوروں (reptiles)جیسے جانوروں میں تین چیمبر والا دل ہوتا ہے اور یہ کچھ حدتک آکسیجنیٹیڈ اور ڈی آکسیجینیٹیڈ خون کی آمیزش کو برداشت کر لیتے ہیں۔ دوسری طرف مچھلی کے دل میں صرف دو چیمبر ہوتے ہیں یہاں سے خون کو گلپھڑوں میں بھیجا جاتا ہے جہاں اسے آکسیجینیٹیڈ بنایا جاتا ہے اور سیدھے جسم میں بھیج دیا جاتا ہے۔ اس طرح مچھلیوں کے جسم میں ایک چکر میں صرف ایک مرتبہ ہی خون دل میں جاتا ہے جبکہ دیگر فقری جانوروں میں یہ ہر ایک چکر میں دو مرتبہ دل میں جاتاہے۔ اسے دوہرا دوران(double circulation)کہتے ہیں۔
بلڈ پریشر
خون کے ذریعہ خون کی نالیوں پر جو قوت لگائی جاتی ہے اسے بلڈپریشرکہتے ہیں۔ یہ دباؤ وریدوں (veins)کے مقابلے شریانوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ بطینی انقباض(ventricular systole)کے دوران شریان کے اندر خون کا دباؤسسٹولک پریشر(systolic pressure)کہلاتاہے اور بطینی پھیلاؤ(ventricular diastole)کے دوران شریان کے اندر خون کا دباؤ ڈائسٹولک پریشر (diastolic pressure)کہلاتا ہے۔ نارمل سسٹولک پریشر تقریباً120mm Hgاور ڈائسٹولک پریشر80mm Hgکا ہوتاہے۔

بلڈپریشر کی پیمائش جس آلے کی مدد سے کی جاتی ہے اسے اسفگمو مینومیٹر (Sphygmomanometer) کہتے ہیں۔ بہت زیادہ بلڈپریشر ہائپرٹینش بھی کہلاتا ہے ایساآرٹیریولس (Artereioles) کے سکڑنے کی وجہ سے ہوتا ہے جس کے نتیجے میں خون کے بہاؤ کے تئیں مزاحمت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ سے شریان پھٹ سکتی ہے اور جسم کے اندر خون بہہ سکتا ہے۔
ٹیوب— خون کی نالیاں
شریانیں ایسی نالیاں ہیں جو خون کو دل سے جسم کے مختلف اعضا تک لے جاتی ہیں۔ دل خون کو بہت زیادہ دباؤکے ساتھ باہر نکالتا ہے لہٰذا شر یا نوں کی دیواریں موٹی اور لچکدار ہوتی ہیں۔ وریدیں مختلف اعضا سے خون کو جمع کرکے واپس دل میں لاتی ہیں ، یہاں خون کا دباؤ زیادہ نہیں ہوتا لہٰذاو ریدوں کی دیواروں کا موٹا ہونا ضروری نہیں ہے۔ ان میں والو (valves)پائے جاتے ہیں جو خون کے یک سمتی بہاؤکو یقینی بناتے ہیں۔
کسی عضو یا بافت میں پہنچنے کے بعد شریان بہت باریک نالیوں میں تقسیم ہوجاتی ہے تاکہ خون تمام انفرادی خلیوں کے رابطے میں آجائے۔ سب سے چھوٹی نالیوں کی دیوار ایک خلیہ کے برابر موٹی ہوتی ہے انہیں کیپلری (capillaries)کہتے ہیں۔خون اور اطراف کے خلیوں کے مابین مادہ کا تبادلہ اس باریک دیوار کے آرپار ہوتا ہے۔ عروق (کیپلری) ایک دوسرے سے منسلک ہوکر ورید کی تشکیل کرتی ہیں یہ وریدیں عضویا بافت سے خون کو لے جاتی ہیں
پلیٹلیٹس کے ذریعہ رکھ رکھاؤ
اگر نالیوں کے اس نظام میں کہیں رساؤ ہو جائے تو کیا ہوگا؟ ذرا اس صورت حال پر غور کیجیے جب ہمارے چوٹ لگ جاتی ہے اور خون بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ فطری ضرورت یہ ہے کہ نظام سے خون کے زیاں کو کم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ رساؤ کی وجہ سے دباؤ بھی کم ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں پمپ کرنے والے نظام کی کارکردگی کم ہوجاتی ہے۔ اس سے بچنے کے لیے خون میں پیلٹلیٹ خلیے ہوتے ہیں جو پورے جسم میں دوران کرتے رہتے ہیں اور زخم کی جگہ پر خون کے جمنے میں مددکر کے اس رساؤکو بند کردیتے ہیں۔
لمف(Lymph)
نقل وحمل میں ایک اور سیال بھی ملوث ہوتا ہے۔ اسے لمف(lymph)یابافتی سیال(Tissue fluid)کہتے ہیں۔ عروق (کیپلریز) کی دیواروں میں موجود مسامات سے ہوکر پلازمہ، پروٹین اور خون کے خلیوں کی کچھ مقدار باہر نکل جاتی ہے اور بافتوں کی بین خلوی جگہوں میں پہنچ کر لمف یا بافتی سیال کی تشکیل کرتی ہے۔ یہ خون کے پلازمہ کی ہی طرح ہے لیکن یہ بے رنگ ہوتا ہے اور اس میں پروٹین کی مقدار کم ہوتی ہے۔ لمف بین خلوی جگہوں سے لمفیٹک کیپلریز(lymphatic Capillaries)میں چلا جاتاہے، یہ کیپلریز منسلک ہوکر بڑی لمف نلی کی تشکیل کرتی ہے جو آخر میں بڑی ورید میں کھلتی ہے۔ لمف آنت سے ہضم شدہ اور جذب شدہ چربی کی نقل وحمل کرتاہے اور اضافی خلوی جگہوں سے زائد سیال کو خون میں واپس لاتا ہے۔
6.4.2 پودوں میں نقل وحمل(Transportation in Plants)
ہم نے پہلے اس بات پر بحث کی ہے کہ پودے کس طرحCO2 جیسے سادہ مرکبات حاصل کرتے ہیں اورکلوروفل پرمشتمل اعضا (جیسے پتیاں) میں جمع شدہ توانائی کی روشنی کے ذریعے تالیف کرتے ہیں۔ پودے کے جسم کی تعمیر کے لیے درکار دوسری قسم کے خام مادوں کو بھی علاحدہ بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ پودوں کے لیے مٹی خام مادوں کا نزدیک ترین اور سب سے اچھا ذریعہ ہے۔اسی لیے ان اشیا کا انجذاب ان حصوں کے ذریعہ ہوتا ہے جو مٹی کے رابطے میں ہوتے ہیں جیسے جڑیں۔ اگر مٹی کے ساتھ ربط رکھنے والے اعضا اور کلوروفل پر مشتمل اعضا کے درمیان فاصلہ کم ہے تو توانائی اور خام مادے جسم کے تمام حصوں تک آسانی سے نفوذ کرجاتے ہیں۔ لیکن ان سے جسم کے ڈیزائن کی وجہ سے اگر یہ فاصلہ زیادہ ہوجائے تو پتیوں میں خام اشیا کی فراہمی اور جڑوں میں توانائی کی فراہمی کے لیے نفوذکا یہ عمل کافی نہیں ہوگا۔ اس صورت میں نقل وحمل کے باقاعدہ نظام کی ضرورت پڑے گی۔
مختلف جسمانی ساختوں کے اعتبار سے توانائی کی ضروریات بھی مختلف ہوتی ہیں۔ پودے حرکت نہیں کرسکتے اور پودوں کے بافتوں میں مردہ خلیوں کاتنا سب بہت زیادہ ہوتا ہے لہٰذا پودوں کو کم توانائی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ نسبتاً سست نقل وحمل کے نظام کا استعمال کرسکتے ہیں۔ وہ فاصلے جن پر نقل وحمل کا نظام کام کرتا ہے بہت زیادہ ہوسکتے ہیں مثلاً اونچے درخت۔
پودوں میں نقل وحمل کا نظام پتیوں سے جمع شدہ توانائی اور جڑوں سے خام مادوں کی نقل وحمل کرتاہے۔ یہ دونوں راستے آزاد منظم ایصابی نلیوں سے بنے ہیں۔ ان میں سے ایک زائلم(xylem)ہے جو مٹی سے حاصل ہونے والے پانی اور معدنیات کی نقل وحمل کرتا ہے اور دوسرا فلوئم(phloem)ہے جو پتیوں سے ضیائی تالیف کے ماحصلات کی پودے کے دوسرے حصوں میں نقل وحمل کرتا ہے۔ ہم ان بافتوں کی ساخت کا تفصیلی مطالعہ نویں جماعت میں کرچکے ہیں۔
پانی کی نقل وحمل
زائلم بافت میں جڑوں، تنوں اور پتیوں کی نلیاں ایک دوسرے سے منسلک ہوکر پانی کا ایصال کرنے والے ذرائع کا ایک مسلسل نظام تشکیل دیتی ہیں جو پودے کے تمام حصوں تک پہنچتا ہے۔ جڑوں کے خلیے مٹی کے رابطے میں ہوتے ہیں اور سرگرمی کے ساتھ آین حاصل کرتے ہیں۔ یہ جڑاور مٹی کے درمیان آینی ارتکاز میں فرق پیدا کردیتا ہے اس فرق کو ختم کرنے کے لیے مٹی سے پانی جڑ میں داخل ہوجاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پانی جڑوں کے زائلم میں پابندی سے جاتا رہتا ہے اور آبی ستوں (water column)کی تشکیل کرتا ہے جسے لگاتار اوپر کی طرف دھکیلا جاتا ہے۔
ہم عام طور پر پودوں کی جو اونچائی دیکھتے ہیں وہاں تک پانی کو پہنچانے کے لیے یہ دباؤ کافی نہیں ہے۔ پودے زائلم کے ذریعہ اپنے سب سے اونچے مقام تک پانی کو پہنچانے کے لیے دوسرے طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔
سرگرمی 6.8
۔ تقریباً ایک ہی سائز اور یکساں مٹی والے دو گملے لیجیے۔ ایک گملے میں پودا لگا دیجیے اور دوسرے گملے میں پودے کی لمبائی کے برابر چھڑی لگا دیجیے۔
۔ دونوں گملوں کی مٹی کو پلاسٹک کی شیٹ سے ڈھک دیجیے تاکہ نمی کی تبخیر نہ ہوسکے۔
۔ دونوں (ایک پودے کے ساتھ اور دوسرا چھڑی کے ساتھ) کو پلاسٹک شیٹ سے ڈھک دیجیے۔
۔ کیا آپ کو دونوں میں کوئی فرق نظر آتا ہے؟
یہ مانتے ہوئے کہ پودے کو پانی مناسب مقدار میں دستیاب ہے، جو پانی اسٹو میٹا کے ذریعہ ضائع ہو جاتا ہے اس کی تلافی پتیوں میں زائلم نلیوں کے ذریعہ ہوجاتی ہے۔ درحقیقت پتیوں کے خلیوں سے پانی کے سالمات کی تبخیر ایک امتصاص (suction)پیدا کرتی ہے یہ امتصاص (Suction) پانی کو جڑوں کے زائلم خلیوں سے کھینچ لیتا ہے۔ پودے کے ہوائی حصوں(aerial parts)کے ذریعہ بھاپ کی شکل میں پانی کا ضائع ہونا سریان (Transpiration) کہلاتاہے۔

شکل 6.12 درخت میں عمل سریان کے دوران پانی کی حرکت
اس طرح سریان کا عمل پانی کے انجذاب اور جڑوں سے پتیوں تک پانی اور اس میں گھلے ہوئے معدنیات کو اوپر کی طرف حرکت دینے میں مدد کرتا ہے۔یہ درجۂ حرات کو کنٹرول کرنے میں بھی معاون ہے۔ پانی کی نقل وحمل میں جڑدباؤ(root pressure)خاص طور سے رات کے وقت زیادہ اہم ہے۔ دن میں جب اسٹومیٹا کھلتے ہیں تو زائلم میں پانی کو حرکت دینے کے لیے سریان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا کھنچاؤ(transpiration pull)اہم قوت محرکہ کے طور پر کام کرتاہے۔
غذا اور دیگر اشیا کی نقل وحمل
اب تک ہم نے پودوں میں پانی اور معدنیات کی نقل وحمل پربحث کی ہے۔ آئیے غور کرتے ہیں کہ تحولی عملوں (بالخصوص ضیائی تالیف، جو کہ پتیوں میں ہوتی ہے) کے ماحصلات پودے کے دیگر حصوں تک کس طرح پہنچتے ہیں۔
ضیائی تالیف کے حل پذیر ماحصلات کی یہ نقل وحمل ٹرانس لوکیشن(Translocation)کہلاتی ہے اور یہ عمل وعائی بافت(Vascular tissue)میں ہوتا ہے جسے فلوئم(phloem)کہتے ہیں۔ فلوئم ضیائی تالیف کے ماحصلات کے علاوہ امینوایسڈ اور دیگر اشیا کی بھی نقل وحمل کرتا ہے۔ یہ اشیا خاص طور سے جڑ کے اسٹوریج اعضا، پھلوں، بیجوں اور نمو کرنے والے اعضا میںلائی جاتی ہیں۔ غذا اور دیگر اشیا کا ٹرانس لوکیشن ساتھی خلیوں کی مدد سے چھلنی نالیوں (sieve tubes) میں اوپر اور نیچے دونوں سمتوں میں ہوتا ہے۔
زائلم کے ذریعہ نقل وحمل (جسے سادہ طبیعی قوتوں کے ذریعہ واضح کیا جاسکتا ہے) کے برعکس فلوئم میں ٹرانس لوکیشن کا عمل توانائی کے استعمال کے ذریعہ انجام دیا جاتاہے۔ سکروز (Sucrose) جیسی شیا ATPتوانائی کا استعمال کرکے فلوئم بافت میں منتقل ہوجاتی ہیں۔ یہ خلیے کے ولوجی دبائو (Osmotic Pressure)میں اضافہ کردیتا ہے جس کی وجہ سے پانی اس کے اندر آجاتا ہے۔ اس دبائو کی وجہ سے مادے فلوئم میں ان خلیوں تک چلے جاتے، ہیں جہاں دبائو کم ہوتاہے۔ یہ فلوئم کو پودے کی ضرورت کے حساب سے مادوں کو منتقل کرتا ہے۔ مثال کے طور پر بہار کے موسم میں جڑ اور تنے کے بافتوں میں ذخیرہ شدہ شکر ان خلیوں میں منتقل کی جاتی ہے جنھیں نموکے لیے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
سوالات(Q U E S T I O N S)
1۔ انسانوں میں نقل وحمل کے نظام کے اجزاکیا ہیں؟ ان ارکان کے افعال بیان کیجیے۔
2۔ پستانیوںاور پرندوں میں آکسیجنیٹڈ اور ڈی آکسیجنیٹیڈ خون کو علیحدہ کرنا کیوں ضروری ہے؟
3۔ بہت زیادہ منظم پودوں میں نقل وحمل کے نظام کے اجزاکون کون سے ہیں؟
4۔ پودوں میں پانی اور معدنیات کی نقل وحمل کا کام کس طرح انجام دیاجاتاہے؟
5۔ پودوں میں غذا کی نقل وحمل کس طرح ہوتی ہے؟
6.5 اخراج (Excretion)
ہم پہلے ہی اس بات پر بحث کر چکے ہیں کہ عضویے ضیائی تالیف اور تنفس کے دوران پیدا ہونے والے گیسی فضلات سے کس طرح چھٹکارا حاصل کرتے ہیں۔ دیگر تحویعملوں (Metabolic Activities) کے نتیجے میں نائٹروجنی فضلات پیدا ہوتے ہیں جنھیں باہر نکالنا ضروری ہے۔ وہ حیاتیاتی عمل جس کے ذریعہ ان نقصان دہ تحولی فضلات کو جسم سے باہرنکالا جاتا ہے اخراج (excretion) کہلاتا ہے۔ مختلف عضویے اس کام کو مختلف طریقوں سے انجام دیتے ہیں۔ بہت سے یک خلوی عضویے ان فضلات کو جسم کی سطح سے سادہ نفوذ کے ذریعہ اطراف کے پانی میں خارج کردیتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے دیگر عملوں میں دیکھا ہے، پیچیدہ کثیر خلوی عضویے اس کام کو انجام دینے کے لیے مخصوص اعضا کا استعمال کرتے ہیں۔

شکل 6.13
انسانوں میں نظام اخراج
6.5.1 انسانوں میں اخراج (Excretion in Human Beings )
انسانوں میں نظام اخراج ایک جوڑی گردوں، ایک جوڑی حالب (Ureters)، ایک مثانہ اور مبال (Urethra) پر مشتمل ہوتا ہے (شکل 6.13) گردے شکم میں ریڑھ کی ہڈی کے دونوں طرف واقع ہوتے ہیں۔ گردوں میں پیشاب بننے کے بعد مبال کے ذریعہ مثانہ میں پہنچتا ہے اور وہ یہاں اس وقت تک جمع ہوتا رہتا ہے جب تک کہ یہ مبال (Urethra) کے ذریعہ باہر نہیں نکل جاتا۔
پیشاب کس طرح تیار ہوتا ہے، پیشاب بننے کا مقصد خون سے فضلاتی مادوں کو چھان کر باہر نکالنا ہے۔ جیسےCO2 پھیپھڑوں میں خون سے علاحدہ ہوجاتی ہے، بالکل اسی طرح یوریا اور یورک ایسڈ جیسے فضلاتی مادے گردوں میں خون سے علاحدہ ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ گردوں میں بنیادی فلڑیشن یونٹ پھیپھڑوں کی طرح ہی، بہت پتلی دیوار والی کیپلریز کا گچھا ہوتا ہے۔ گردے میں ہر ایک کیپلری گچھا ایک ٹیوب کے پیالی نما سرے سے ملحق ہوتا ہے جو مقطر(پیشاب )کو جمع کرتاہے(شکل (6.14ہر ایک گردے میں اس قسم کی متعدد تقطیری اکائیاں ہوتی ہیں جنھیں نیفران (nephron)کہتے ہیں۔ یہ نیفران ایک دوسرے سے بہت زیادہ سٹے رہتے ہیں۔ ابتدائی مقطر میں گلوکوز، امینو ایسڈ، نمک اور کافی مقدار میں پانی موجود ہوتا ہے۔ جیسے جیسے پیشاب اس ٹیوب میں سے ہوکر گزرتا ہے یہ مادے منتخبہ طور پر دوبارہ سے جذب ہوجاتے ہیں۔ دوبارہ جذب ہونے والے پانی کی مقدار کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ جسم میں کتنا پانی ضرورت سے زیادہ ہے اور حل شدہ فضلہ کی کتنی مقدار کو خارج کیا جانا ہے۔ ہر ایک گردے میں بننے والا پیشاب ایک لمبی ٹیوب میں داخل ہوجاتا ہے جسے حالب کہتے ہیں یہ گردوں کو مثانہ سے منسلک کرتی ہے۔ مثانہ میں پیشاب اس وقت تک جمع ہوتا رہتا ہے جب تک کہ پھیلے ہوئے مثانہ کا دبائو مبال (urethra)کے ذریعہ اسےباہر نہ نکال دے۔ مثانہ عضلاتی عضو ہے لہذا یہ عصبی کنٹرل کے ماتحت ہوتا ہے، جیسا کہ ہم اس پر پہلے ہی بحث کرچکے ہیں نتیجتاً ہم عام طور سے پیشاب کے اخراج کو کنٹرول کرلیتے ہیں۔

شکل 6.14
نیفران کی ساخت
6.5.2 پودوں میں اخراج(Excretion in Plants)
پودے اخراج کے لیے ایسا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں جو جانوروں کے مقابلے بالکل مختلف ہے۔ ضیائی تالیف کے دوران پیدا ہونے والی آکسیجن کو بھی فضلہ کہا جاسکتا ہے۔ ہم پہلے ہی ذکر کرچکے ہیں کہ پودے آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائڈ کا کیا کرتے ہیں۔ یہ سریان کے ذریعہ فالتوپانی سے چھٹکاراپالیتے ہیں۔ پودوں میں بہت سے بافت مردہ خلیوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور یہ کچھ حصوں جیسے پتیوں کو گراکر فضلاتی مادوں کو خارج کر دیتے ہیں۔ بہت سے پودوں میںفضلاتی ماحصلات خلیوں کے ویکیولس میں جمع رہتے ہیں۔ پودے جن پتیوں کو گراتے ہیں ان میں بھی فضلاتی مادے جمع ہوسکتے ہیں۔ دیگر فضلات ریزن اور گوند کی شکل میں خاص طور سے پرانے زائلم میں جمع رہتے ہیں۔ پودے کچھ فضلاتی اشیا کو اپنے آس پاس کی مٹی میں بھی خارج کرتے رہتے ہیں۔
اس بارے میں سوچنا!
اعضا کا عطیہ
اعضا کا عطیہ کسی ایسے شخص اعضا کا دینا ہے جو ناکارہ اعضا سے دوچارہو۔ یہ ایک دریادلی کاعمل ہے۔ اعضا کے عطیے میں جراحی کے ذریعہ اعضاکو ایک شخص (دینے والے)سے نکالاجاتا ہے اوردوسرے شخص(وصول کنندہ)میں لگایا جاتا ہے۔ اعضا کے ٹرانسیلانٹیشن کی ضرورت اس لیے پڑتی ہے کہ وصول کنندہ کا اعضا یا توخراب ہوچکا ہوتا یا کسی زخم یا بیماری کی وجہ سے ناکارہ ہوجاتاہے۔ عضو بندی کسی کوبچاسکتا ہے یا اس کی زندگی کوبدل سکتاہے۔ البتہ اعضا کا عطیہ دینے والے کے خاندان کی رضامندی پرمنحصر ہوتاہے۔ عمریا جنس سے قطع نظر کوئی شخص بھی عضویا ٹشنو دے سکتاہے۔ عام طورپر ٹرانسپلانٹیشن کارنیا، گردہ ،دل،جگر، پت، پھیپھڑا،آنتوں اورہڈی کے گودوں پر مشتمل ہوتاہے۔ زیادہ تراعضا امورٹشو عطیہ دینے والے کی موت کے بعد واقع ہوتے ہیں۔یا جب ڈاکٹر کسی کے دماغ کو مردہ قرار دے دیا۔ لیکن کچھ اعضا مثلا گردہ،جگرکا حصہ،پھیپھڑا وغیرہ ڈونر اپنی زندگی میں ہی دے سکتاہے۔
سوالات
1۔ نیفران کی ساخت اور کام کرنے کا طریقہ بیان کیجیے۔
2۔ اخراجی ماحصلات سے چھٹکارا پانے کے لیے پودے کن طریقوں کا استعمال کرتے ہیں؟
3۔ پیشاب بننے کی مقدار پر کس طرح کنٹرول کیا جاتا ہے؟
مزید معلومات
مصنوعی گردہ(ہیموڈائی لسس)
گردے زندہ رہنے کے لیے انتہائی اہم اعضا ہیں۔ تعدیہ، چوٹ یا گردوں میں خون کے بہاؤ میں رکاوٹ جیسے عوامل گردوں کے فعل کو متاثر کردیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے جسم میں زہریلا فضلہ جمع ہونے لگتا ہے جس کے سبب موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔گردہ کے کام نہ کرنے کی صورت میں مصنوعی گرد ے کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مصنوعی گردہ ایک ایسا آلہ ہے جو نائٹروجن پر مشتمل فضلات کو ڈائی لسس کے ذریعہ خون سے باہر نکال دیتا ہے۔

مصنوعی گردہ متعدد نلیوں پر مشتمل ہوتا ہے جن میں نیم سرائیت پذیر(semi-permeable)استرہوتا ہے۔ یہ نلیاں ڈائلائزنگ سیال سے بھری ہوئی ٹنکی میں لٹکی رہتی ہیں۔ اس سیال کا ولوجی دبائو خون کے ولوجی دباؤ کے برابر ہوتا ہے لیکن اس میں نائٹروجنی فضلہ نہیں ہوتا،مریض کے خون کو ان نلیوں سے گزارا جاتا ہے۔ اس دوران خون میں موجود فضلاتی مادے ڈائلائزنگ سیال میں نفوذ کرجاتے ہیں۔صاف خون واپس مریض کے جسم میں پمپ کردیا جاتاہے۔ یہ گردے کی طرح کام کرتا ہے لیکن ایک فرق ہے کہ اس میں دوبارہ انجذاب کا عمل ملوث نہیں ہے۔ عام طور پر سے ایک صحت مند بالغ انسان کے گردوں میں یومیہ180لیٹر ابتدائی مقطر ہوتاہے۔ حالانکہ ایک دن میں خارج ہونے والے پیشاب کا حجم ایک یادو لیٹرہوتا ہے کیونکہ باقی مقطر گردے کے ٹیو بیولس(tubules) میں دوبارہ جذب ہوجاتا ہے۔
آپ نے کیا سیکھا
◊ مختلف قسم کی حرکات کو زندگی کا ثبوت تصور کیا جاسکتا ہے۔
◊ زندگی کے رکھ رکھاؤکے لیے تغذیہ، تنفس، جسم میں مادوں کا نقل و حمل اور فضلات کا اخراج جیسے عملوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
◊ خودپرور تغذیہ میں ماحول سے سادہ غیر نامیاتی مادوں کو حاصل کیا جاتا ہے اور بہت زیادہ توانائی والے پیچیدہ نامیاتی مادوں کی تالیف کے لیے سورج جیسے توانائی کے بیرونی مآخذ کا استعمال کیا جاتا ہے۔
◊ غیر پرور تغذیہ میں دیگر عضویوں کے ذریعہ تیار کردہ پیچیدہ مادوں کو حاصل کیا جاتا ہے۔
◊ انسانوں میں، لی گئی غذا ایلیمنٹری کینال میں مختلف مراحل کے تحت توڑ دی جاتی ہے اور ہضم شدہ غذا چھوٹی آنت میں جذب ہو جاتی ہے جہاں سے اسے جسم کے تمام خلیوں میں پہنچادیا جاتا ہے۔
◊ عمل تنفس کے دوران گلوکوز جیسے پیچیدہ نامیاتی مرکبات تحلیل ہو کر ATP کی شکل میں توانائی فراہم کرتے ہیں۔ ATP کا استعمال خلیہ میں دیگر تعاملات کے لیے توانائی فراہم کرنے میں کیا جاتا ہے۔
◊ عمل تنفس کے دوران گلوکوز جیسے پیچیدہ نامیاتی مرکبات تحلیل ہو کر ATP کی شکل میں توانائی فراہم کرتے ہیں۔ ATP کا استعمال خلیہ میں دیگر تعاملات کے لیے توانائی فراہم کرنے میں کیا جاتا ہے۔
◊ تنفس ہوا باش یا غیر ہوا باش ہو سکتا ہے۔ ہواباش تنفس میں عضویہ کو زیادہ توانائی فراہم ہوتی ہے۔
◊ انسانوں میں آکسیجن، کاربن ڈائی آکسائڈ، غذا اور اخراجی ماحصلات (Product) کی نقل و حمل نظام دوران (Circulatory system) کا کام ہے ۔ نظام دوران دل، خون اور خون کی نالیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
◊ بہت زیادہ مختلف قسم کے پودوں میں، پانی، معدنیات، غذا اور دیگر مادوں کی نقل و حمل کا کام وعائی بافتوں (Vascular tissus) کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے جو کہ زائلم اور فلوئم پر مشتمل ہوتے ہیں۔
◊ انسانوں میں حل پذیر نائٹروجنی مرکبات کی شکل میں اخراجی مادوں کو گردوں میں نیفران کے ذریعہ ہٹا دیا جاتا ہے۔
◊ پودے فضلاتی مادوں سے نجات پانے کے لیے متعدد تکنیکوں کا استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر فضلاتی مادوں کو خلیے کے ویکیولس (Vascoules) میں یا گوند اور ریزن کی شکل میں جمع کیا جاتاہے اورپتیوں کو گراکر انھیں ہٹا دیا جاتا ہے یا آس پاس کی مٹی میں خارج کر دیا جاتا ہے۔
مشقیں
1۔ انسانو ںمیں گردے جس نظام کا حصہ ہیں وہ ہے:
(a) تغذیہ
(b) تنفس
(c) اخراج
(d) نقل و حمل
2۔ پودوں میں زائلم کا کام ہے :
(a) پانی کی نقل و حمل
(b) غذا کی نقل و حمل
(c) امینو ایسڈ کی نقل و حمل
(d) آکسیجن کی نقل وحمل
3۔ خودپرورشی تغذیہ کے لیے درکار ہیں:
(a) کاربن ڈائی آکسائڈ اور پانی
(b) کلوروفل
(c) سورج کی روشنی
(d) مذکورہ بالا سبھی
4۔ پائروویٹ تحلیل ہو کر کاربن ڈائی آکسائڈ، پانی اور توانائی فراہم کرتا ہے یہ عمل مندرجہ دیل میں سے کس میں ہوتا ہے:
(a) سائٹو پلازم
(b) مائٹوکونڈریا
(c) کلوروپلاسٹ
(d) نیوکلیس
5۔ ہمارے جسم میں چربی کا ہضم کس طرح ہوتا ہے؟ یہ عمل کہاں انجام دیا جاتا ہے؟
6۔ غذا کے ہضم ہونے میں لعاب کا کیا رول ہے؟
7۔ خود پرورشی تغذیہ کے لیے ضروری حالات کیا ہیں اور اس کے ضمنی ماحصلات کیا کیاہیں؟
8۔ ہوا باش اور غیر ہوا باش تنفس میں کیا فرق ہے؟ کچھ ایسے عضویوں کے نام لکھیے جن میں غیر ہوا باش تنفس ہوتا ہے۔
9۔ ایلویولائی (Alveoli) کا ڈیزائن گیسوں کے زیادہ سے زیادہ تبادلہ میں کس طرح مدد کرتا ہے؟
10۔ ہمارے جسم میں ہیموگلوبن کی کمی کی وجہ سے کیا نقصان ہوسکتا ہے؟
11۔ زائلم اور فلوئم میں مادوں کی نقل و حمل کے درمیان کیا فرق ہے؟
12۔ پھیپھڑوں میں ایلویلائی اور گردوں میں نیفران کے کام کرنے کے طریقے کو ان کی ساخت کے اعتبار سے بیان کیجیے۔