باب 7
کنٹرول اور ہم آہنگی
(Control and Coordination)
گذشتہ باب میں ہم نے جاندار عضویوں میں رکھ رکھاؤکے کاموں سے متعلق اعمال زندگی کے بارے میں پڑھا تھا۔ ہم نے اس بات پر غور کرنا شروع کیا تھا کہ اگر کوئی شے متحرک ہے تو وہ جاندار ہے۔ پودوں میں اس قسم کی حرکات دراصل نمو(growth)کا نتیجہ ہیں۔ بیج میں کلہ پھوٹتا ہے اور اس میں نمو ہوتی ہے اور ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ننھا پودا متحرک انداز میں مٹی کو ایک طرف دھکیلتے ہوئے باہر آجاتا ہے۔ لیکن اگر اس کی نمورک گئی ہوتی تو یہ حرکات ممکن نہیں تھیں۔ زیادہ تر جانوروں اور کچھ پودوں میں ہونے والی حرکات کا تعلق نمو سے نہیں ہے۔ دوڑتی ہوئی بلی، جھولے پر کھیلتے ہوئے بچے، جگالی کرتی ہوئی بھینس وغیرہ یہ نمو کی وجہ سے ہونے والی حرکات نہیں ہیں۔
نظر آنے والی ان حرکات کو ہم زندگی کے ساتھ کیوں جوڑتے ہیں؟ اس کا ایک ممکنہ جواب یہ ہے کہ ہم حرکات کو عضویوں کے ماحول میں ہونے والی تبدیلی کے تئیں ردعمل سمجھتے ہیں۔ بلی اس لیے دوڑی ہوگی کیونکہ اس نے چوہے کو دیکھا ہوگا۔ صرف یہی نہیں ہم حرکت کو جاندار عضویوں کے ذریعہ کی گئی ایک ایسی کوشش کے تناظر میں بھی دیکھتے ہیں جس میں ان کے ماحول میں ہونے والی تبدیلی ان کے لیے مفید ہو۔ سورج کی روشنی میں پودے نمو کرتے ہیں۔ بچے جھولے سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ بھینس جگالی کرتی ہے تاکہ غذا چھوٹے ٹکڑوں میں ٹوٹ جائے اور آسانی سے ہضم ہوسکے۔ جب تیز روشنی ہماری آنکھوں پرپڑتی ہے یا جب ہم کسی گرم چیز کو چھوتے ہیں تو ہمیں تبدیلی کا احساس ہوجاتا ہے اور اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لیے حرکت کے ساتھ اس کے تئیں ردعمل کرتے ہیں۔
اگر ہم اس کے بارے میں تھوڑا اور غور کریں تو ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ماحول کے تئیں ردعمل میں ان حرکات کو محتاط انداز میں کنٹرول کیا گیا ہے۔ ماحول میں ہر ایک تبدیلی کے تئیں ردعمل کے نتیجے میں ایک مخصوص حرکت پیداہوتی ہے۔ جب ہم کلاس میں اپنے دوستوں سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو زور سے چلانے کے بجائے آہستہ باتیں کرتے ہیں۔ واضح طور پر کوئی بھی حرکت اس واقعہ پر منحصر ہوتی ہے جو اس کا موجب ہے۔ لہٰذا اس قسم کی زیر کنٹرول حرکت کو ماحول میں مختلف واقعات کی شناخت سے وابستہ کیا جانا چاہیے جو ردعمل کے عین مطابق حرکات کو انجام دیں۔ باالفاظ دیگر عضویوں کو ایسے نظاموں کا استعمال کرنا چاہیے جو کنٹرول اور ہم آہنگی (تال میل) فراہم کرتے ہیں۔ کثیر خلوی عضویوں میں جسمانی تنظیم کے عام اصولوں کے مدنظر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مخصوص بافتوں کا استعمال کنٹرول اور ہم آہنگی سے متعلق سرگرمیوں میں کیا جاتا ہے۔
7.1 حیوانات۔عصبی نظام(Animals – Nervous System)
جانوروں میں کنٹرول اور ہم آہنگی کا یہ کام عصبی اور عضلاتی بافتوں کے ذریعہ انجام دیا جاتاہے جس کا مطالعہ ہم نویں جماعت میں کرچکے ہیں۔ ہنگامی حالات میں گرم چیز کو چھونا ہمارے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔ ہمیں اسے پہچاننے اور اس کے تئیں ردعمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم کس طرح پتہ لگائیں کہ ہم کسی گرم چیز کو چھو رہے ہیں؟ ہمارے ماحول سے تمام اطلاعات کی جانکاری کچھ عصبی خلیوں کے مخصوص سروں (specialised tips) کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہے۔ یہ ریسیپٹرس(receptors)عموماً ہمارے حسی اعضا میں موجود رہتے ہیں جیسے اندرونی کان، ناک، زبان وغیرہ۔ گسٹیٹری ریسیپٹر(gustatory receptors)ذائقہ کا پتہ لگاتے ہیں جبکہ آلفیکڑی ریسیپٹرس(olfactory receptors) بو کی شناخت
کرتے ہیں۔
نیوکلیس
ڈینڈرائٹ
عصبی سرا
ایکسن
خلوی جسم
عصبی عضلاتی جنکشن
مائٹوکونڈریا
ایکسن
عضلاتی ریشہ
کیپلری

شکل 7.1(a) عصبی عضلاتی جنگشن (b) نیوران کی ساخت
یہ اطلاع عصبی خلیے کے ڈینڈرائٹ(dendrite)کے سرے پر حاصل کی جاتی ہے(شکل (7.1(a)اور ایک کیمیائی تعامل کے ذریعہ برقی ہیجان (Inpulse) پیدا کرتی ہے۔ یہ ہیجان ڈینڈرائٹ سے خلوی جسم(Cell body)تک جاتا ہے اور پھر ایکسن (axon) سے ہوتا ہوا اس کے آخری سرے تک پہنچتا ہے۔ ایکسن کے سرے پر برقی ہیجان کچھ کیمیائی اشیا کا افراز کرتا ہے یہ کیمیائی اشیا خالی جگہ یا معانقہ(synapse)کو پار کرتی ہیں اور اگلے عصب(neuron)کے ڈینڈرائٹ میں بالکل اسی قسم کا ہیجان پیدا کرتی ہیں۔ یہ جسم میں ہیجان کے سفر کا عام منصوبہ ہے۔ اسی قسم کا ایک معانقہ بالآخر اس قسم کے ہیجان کو نیوران سے دیگر خلیوں مثلاً عضلاتی خلیوں یا غدود تک لے جاتا ہے (شکل(7.1(b)
لہٰذا اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ عصبی بافت عصبی خلیوں یا نیوران کا ایک منظم نیٹ ورک ہے اور یہ اطلاعات کو برقی ہیجان کے ذریعہ جسم کے ایک حصہ سے دوسرے حصہ تک لے جانے کے لیے مخصوص ہے۔
شکل7.1 (a)کودیکھیے اور اس میں نیوران کے ان حصوں کی شناخت کیجیے (i)جہاں اطلاعات کو حاصل کیا جاتا ہے (ii)جہاں سے ہوکر اطلاعات برقی ہیجان کے طور پر سفر کرتی ہیں اور (iii)جہاں اس ہیجان کو کیمیائی سگنل میں
تبدیل کیاجاتا ہے تاکہ اس کی آگے ترسیل ہوسکے۔
سرگرمی7.1
◊ کچھ چینی اپنے منھ میں رکھیے۔ اس کا ذائقہ کیسا ہے؟
◊ اپنی ناک کو انگوٹھے اورشہادت کی انگلی کی مدد سے دباکربند کر لیجیے۔ اب پھر چینی کھائیے۔ اس کے ذائقہ میں کیا کوئی فرق ہے؟
◊ کھانا کھاتے وقت اسی طرح اپنی ناک بند کرلیجیے اور غور کیجیے کہ جس کھانے کو آپ کھا رہے ہیں، کیا آپ اس کھانے کا پورا مزہ لے رہے ہیں؟
جب ناک بند ہوتی ہے تو کیاآپ چینی اور کھانے کے ذائقہ میں کوئی فرق محسوس کرتے ہیں؟ اگرہاں تو آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس فرق کو جاننے کے لیے اور اس کا ممکنہ حل تلاش کرنے کے لیے مطالعہ کیجیے اور گفت وشیند کیجیے۔ جب آپ کو زکام ہوجاتا ہے تب بھی کیاآپ اسی قسم کی صورتحال سے دوچار رہتے ہیں؟
7.1.1معکوس حرکات میں کیا ہوتا ہے؟
(What happens in Reflex Actions?)
معکوس(reflex)ایک ایسا لفظ ہے جس کا استعمال عام طور سے ماحول میں کسی واقعہ کے تئیں ردعمل کے نتیجے میں اچانک ہونے والی حرکت کا ذکر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ’’ میں اچانک بس سے کود گیا‘‘ یا ’’ میں نے اچانک آگ کی لوسے اپنا ہاتھ کھینچ لیا‘‘ یا’’میں اتنا بھوکا تھا کہ میرے منھ میں خود بخود پانی آنے لگا‘‘ اس کا کیا مطلب ہے؟ ان سبھی مثالوں میں ایک بات یہ سامنے آتی ہے کہ جو کچھ ہم کرتے ہیں وہ بغیر سوچے سمجھے کرتے ہیں یا اپنے ردعمل پر کسی قسم کا کنٹرول نہیں کرتے پھر بھی یہ وہ صورتحال ہے جہاں ہم اپنے ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کے تئیں ردعمل کررہے ہیں۔ ان حالات میں کنٹرول اور ہم آہنگی کو کس طرح حاصل کیا جاتا ہے؟
اس پر دوبارہ غورکرتے ہیں۔ ایک مثال لیتے ہیں۔ آگ کی لپٹ کو چھونا ہمارے لیے یا کسی بھی جانور کے لیے ایک ہنگامی اور خطرناک صورتحال ہے۔ ہم اس کے تئیں کس طرح ردعمل کرتے ہیں؟ ایک سادہ طریقہ ہے کہ ہم سوچیں کہ ہم جل سکتے ہیں اور ہمیں درد ہوسکتا ہے اور اس لیے ہمیں اپنا ہاتھ ہٹا لینا چاہیے۔ اب ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب سوچنے میں ہمیں کتنا وقت لگے گا؟ اس کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ ہم کس طرح سوچتے ہیں۔ اگرعصبی ہیجان کو اسی راستے پر بھیجنا ہے جس پر ہم پہلے گفتگو کرچکے ہیں تو اس قسم کے ہیجان کو پیدا کرنے کے لیے سوچنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ سوچنے کا عمل ایک پیچیدہ کام ہے لہٰذا اس میں بہت سے اعصاب کے عصبی ہیجانات کے باہمی پیچیدہ عمل شامل ہیں۔
اگر یہ صورتحال ہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ہمارے جسم میں سوچنے والے بافت ایک دوسرے میں گتھے ہوئے نیوران کے گھنے جال پرمشتمل ہوتے ہیں۔ یہ کھوپڑی کے اگلے سرے پر واقع ہوتے ہیں اور جسم کے تمام حصوں سے سگنل حاصل کرتے ہیں اور ردعمل سے پہلے ان پر غورکرتے ہیں۔ ظاہر ہے ،ان سگنلوں کو حاصل کرنے کے لیے کھوپڑی میں دماغ کا سوچنے والا حصہ اعصاب کے ذریعہ جسم کے مختلف حصو ں سے منسلک ہونا چاہیے۔ اسی طرح اگر دماغ کا یہ حصہ عضلات کو حرکت کرنے کا حکم دیتا ہے تو اعصاب ان سگنلوں کو جسم کے مختلف اعضا میں پہنچانے کا کام کرتے ہیں ہم کسی گرم چیز کو چھوئیں اور ہمیں یہ سب کرنا پڑے تویہ سوچنے میں کافی وقت لگے گا کہ ہم جل سکتے ہیں۔
جسم کا ڈیزائن کس طرح اس مسئلہ کو حل کرتاہے؟ حرارت کے احساس کے بارے میں سوچنے کے بجائے اگر ان اعصاب کو جو حرارت کو پہچان لیتے ہیں ان اعصاب سے منسلک کردیا جائے جو عضلات میں حرکت پیدا کرتے ہیں تو وہ عمل جو آنے والے سگنلوں کا پتہ لگانے اور ان کے تئیں ردعمل کاکام کرتا ہے جلد مکمل ہو جاتا ہے۔ عام طور سے اس قسم کے رابطہ کو معکوسی قوس(reflex arc)کہتے ہیں(شکل(7.2۔ اس قسم کے معکوسی قوس کے رابطوں کو ان پٹ عصب اور آوٹ پٹ عصب کے درمیان کہاں ہونا چاہیے؟ مناسب ترین جگہ شاید وہی نقطہ ہوگا جہاں سب سے پہلے وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ پورے جسم کے اعصاب نخائی ڈور (spinal cord)میں دماغ کی طرف جانے والے راستے میں اک بنڈل میں ملتے ہیں۔ معکوسی قوس اسی نخائی ڈور میں بنتے ہیں حالانکہ آنے والی اطلاعات کو دماغ میں بھی بھیجا جاتا ہے۔
جانوروں میں معکوس قوس کا ارتقا اس لیے نہیں ہوا ہے کہ ان کے دماغ کے سوچنے کا عمل بہت زیادہ تیز نہیں ہے۔ درحقیقت زیادہ ترجانوروں میں سوچنے کے لیے ضروری پیچیدہ نیوران کا جال یا تو بہت کم ہوتا ہے یا پھر موجود ہی نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ حقیقی سوچنے کے عمل کی عدم موجودگی میں معکوسی قوس کا ارتقا کام کرنے کے کارگر طریقے کے طور پر ہوا۔ تاہم پیچیدہ نیوران جال کے وجود میں آنے کے بعد بھی معکوسی قوس فوری ردعمل کے لیے کارگر طریقے سے اپنے کام کو انجام دیتی ہے۔
کیاآپ ان واقعات کے سلسلے کا پتہ لگاسکتے ہیں جوآپ کی آنکھوں پر تیز روشنی پڑنے کے نتیجے میں رونما ہوتے ہیں-
دماغ کو پیغام
نخائی ڈور
رے عصب
موٹر عصب
حسی عصب
افیکٹر = بازو میں عضلہ
ریسیپٹر = حرارت/جلد میں درد کے ریسیپٹر

7.1.2 انسانی دماغ (Human Brain)
کیا نخاعی ڈور کا کام صرف معکوسی حرکت ہے؟ بالکل نہیں ، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم سوچنے سمجھنے والے افراد ہیں۔ نخاعی ڈور اعصاب سے بنی ہوتی ہے جو سوچنے کے لیے اطلاعات مہیا کرتی ہے۔ سوچنے کے عمل میں بہت زیادہ پیچیدہ میکانزم اور عصبی رابطے شامل ہوتے ہیں۔ یہ دماغ میں مرتکز رہتے ہیں جو جسم کا اہم مربوط مرکزہے۔ دماغ اور نخاعی ڈور مرکزی عصبی نظام(central nervous system)کی تشکیل کرتے ہیں یہ جسم کے تمام حصوں سے اطلاعات کوحاصل کرتے ہیں اور ان کی تکمیل کرتے ہیں۔
ہم اپنے کاموں کے بارے میں بھی سوچتے ہیں۔ لکھنا، بات کرنا، کرسی کو ادھر سے ادھر کرنا، کسی پروگرام کے مکمل ہونے پرتالی بجانا وغیرہ اختیاری(voluntary)عملوں کی مثالیں ہیں جن کاانحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ آگے کیاکرنا ہے۔ لہٰذا دماغ کو بھی عضلات تک پیغامات بھیجنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دوسرا راستہ ہے جس میں عصبی نظام عضلات میں ترسیل کاکام انجام دیتا ہے۔ مرکزی عصبی نظام اور جسم کے دیگر اعضا کے درمیان ترسیل میں محیطی عصبی نظام(peripheral nervous system)مدد کرتا ہے جو دماغ سے نکلنے والے کرینیل اعصاب(cranial nerves)اور نخاعی ڈور سے نکلنے والے نخاعی اعصاب(spinal nerves)سے بنا ہوتا ہے۔ اس طرح دماغ ہمیں سوچنے اور سوچنے پر مبنی عمل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
جیسا کہ آپ کو امید ہوگی کہ یہ کام پیچیدہ ڈیزائن کے ذریعہ دماغ کے ان مختلف حصوں کی مدد سے پورا کیا جاتا ہے جو مختلف ان پٹ اور آؤٹ پٹ کو یکجا کرنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ دماغ میں اس طرح کے تین حصے ہوتے ہیں جنھیں اگلا دماغ (fore brain)، وسطی دماغ(mid brain)اور پچھلا دماغ(hind brain)کہتے ہیں۔
دماغ کا سوچنے والا اہم حصہ اگلا دماغ ہے۔ اس میں ایسے خطے ہوتے ہیں جو مختلف ریسیپٹرس سے حسی ہیجان کو حاصل کرتے ہیں۔ اگلے دماغ کے مختلف خطے سننے، سونگھنے، دیکھنے وغیرہ کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے مختلف خطے ہوتے ہیں جہاں اس حسی اطلاع کو دیگر ریسیپٹروں سے حاصل ہونے والی اطلاع اور دماغ میں پہلے سے موجود اطلاع کے ساتھ رکھ کر اس کی ترجمانی کی جاتی ہے۔ اس سب پر مبنی فیصلہ لیا جاتا ہے کہ ردعمل اور اطلاعات کو اس موٹر خطے تک کس طرح پہنچایاجائے جو اختیار ی عضلات (مثلاً ہمارے پیر کے عضلات) کی حرکت کو کنٹرول
سیریبرم
کرینیم (کھوپڑی)
وسطی دماغ
نخاعی ڈور
سیریبیلم
میڈیولا
پونس
پٹیوٹری
پچھلا دماغ
ہائپو تھیلیمس
اگلا دماغ

کرتا ہے۔ حالانکہ کچھ احساسات سننے دیکھنے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں مثلاًہمیں کس طرح معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا پیٹ بھر چکا ہے؟ پیٹ بھر نے کی حس کا تعلق بھوک سے وابستہ مرکز سے ہے جو اگلے دماغ میں ایک علاحدہ حصہ ہے۔
انسانی دماغ کے ڈائیگرام کامطالعہ کیجیے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ مختلف اعضا مختلف کاموں کو انجام دیتے ہیں۔ کیا ہم ہر ایک حصہ کے کام کے بارے میں پتہ کرسکتے ہیں۔
آئیے لفظ ’معکوس‘ کا دوسرا استعمال بھی دیکھتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے شروع میں ذکر کیا تھا کہ جب ہم کسی ایسی غذائی شے کو دیکھتے ہیں جو ہمیں پسند ہے تو ہمارے منھ میں بلا اختیار پانی آنے لگتا ہے۔ دل کے دھڑکنے کے بارے میں اگرنہ بھی سوچیں تو یہ پھر بھی دھڑکتا رہے گا۔ درحقیقت ان کے بارے میں سوچ کر یااپنی مرضی سے ہم ان کاموں پر کنٹرول نہیں کرسکتے کیا ہمیں سانس لینے کے لیے یا غذا ہضم کرنے کے لیے یاد کرنے یا سوچنے کی ضرورت پیش آتی ہے؟ لہٰذا سادہ معکوسی عمل مثلاً پتلی کے سائز میں تبدیلی اور سوچ کرکیے گئے کام جیسے کسی کرسی کو کھسکانے کے درمیان عضلاتی حرکات کا ایک سیٹ کارفرما ہے جس پر ہمارے سوچنے کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ ان میں سے کئی غیر اختیار ی کام وسطی دماغ اور پچھلے دماغ کے ذریعہ کنٹرول ہوتے ہیں۔ یہ تمام غیر اختیار ی عمل جس میں بلڈپریشر، لعاب کا نکلنا اور قے شامل ہیں پچھلے دماغ میں واقع میڈیولا(medulla)کے ذریعے کنٹرول ہوتے ہیں۔
کچھ اور سرگرمیوں پر غور کیجیے مثلاً سیدھے راستے پر چلنا، سائیکل چلانا، پینسل اٹھاناوغیرہ۔ یہ کام سیریبیلم (cerebellum)کے ذریعہ ہی ممکن ہیں پچھلے دماغ کا ایک حصہ ہے۔ یہ اختیاری کاموں کی درستگی(precision) اور جسم کے توازن اور وضع کے لیے ذمہ دار ہے۔ تصور کیجیے کہ اگرہم ان کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں اور یہ تمام کام اچانک رک جائیں تو کیا ہوگا؟
7.1.3 ان بافتوں کی حفاظت کس طرح ہوتی ہے؟
(?How are these Tissues protected)
دماغ ایک نازک عضو ہے جو متعدد کاموں کے لیے نہایت اہم ہے لہٰذا اسے احتیاط کے ساتھ محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے جسم کا ڈیزائن اس طرح ہے کہ دماغ ہڈیوں کے باکس میں واقع ہوتا ہے۔ باکس کے اندر دماغ ایک سیال بھرے ہوئے غبارے کے اندر رکھا ہوتا ہے۔ یہ سیال بیرونی جھٹکوں کو جذب کر کے دماغ کی حفاظت کرتا ہے۔ اگرآپ اپنے ہاتھ کو کمر کے درمیان میں نیچے لے جائیں تو آپ ایک سخت اور ابھری ہوئی ساخت کو محسوس کریں گے، یہ فقری کالم(vertebral column)یا ریڑھ کی ہڈی ہے جو نخاعی ڈور کی حفاظت کرتی ہے۔
7.1.4 عصبی بافت کس طرح کام کرتا ہے؟
(How does the Nervous Tissue cause Action?)
اب تک ہم عصبی بافت کا ذکر کر رہے تھے۔ ہم نے اس بات کا بھی تذکرہ کیا ہے کہ یہ کس طرح اطلاعات کو جمع کرتا ہے،انہیں جسم میں ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجتا ہے، اطلاعات کی پروسیسنگ کرتا ہے، اطلاعات کے مطابق فیصلہ لیتا ہے اور عمل درآمد کے لیے فیصلہ کی عضلات تک ترسیل کرتا ہے۔
بالفاظ دیگر جب عمل یاحرکت کو انجام دیا جاتا ہے تو آخری کام عضلاتی بافت انجام دیتے ہیں۔ حیوانی عضلات کس طرح حرکت کرتے ہیں؟ جب ایک عصبی ہیجان عضلات تک پہنچتا ہے تو عضلاتی ریشوں کو حرکت میں آناچاہیے۔ ایک عضلاتی خلیہ کس طرح حرکت میں آتا ہے؟ خلوی سطح پر حرکت کے لیے سب سے عام تصور یہ ہے کہ عضلاتی خلیے اپنی شکل کو تبدیل کرکے حرکت میں آتے ہیں۔ اب اگلا سوال یہ ہے کہ عضلاتی خلیے اپنی شکل کو کس طرح تبدیل کرتے ہیں؟ اس کاجواب خلوی اجزا کی کیمسٹری میں پوشیدہ ہے۔عضلاتی خلیوں میں مخصوص پروٹین ہوتی ہے جو ان کی شکل اور ترتیب دونوں کو ہی تبدیل کردیتی ہے۔ایسا خلیہ میں عصبی برقی ہیجان کے تئیں ردعمل کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو ان پروٹینوں کی نئی ترتیب عضلاتی خلیوں کو چھوٹی شکل عطا کرتی ہے۔ یاد کیجیے جب ہم نے نویں جماعت میں عضلاتی بافت کا ذکر کیا تھا تو اس وقت اختیاری اور غیر اختیاری عضلات پر بھی گفتگو ہوئی تھی۔ اب تک جو کچھ ہم نے بحث کی ہے اس کی بنیاد پر ان میں آپ کیا فرق محسوس کریں گے؟
سوالات
1۔ معکوسی حرکت اور ٹہلنے کے درمیان کیا فرق ہے؟
2۔ دو اعصاب کے درمیان معانقہ میں کیا ہوتا ہے؟
3۔ دماغ کاکون سا حصہ جسم کے توازن اور وضع کوقائم رکھتا ہے؟
4۔ ہم اگربتی کی بوکو کس طرح محسوس کرتے ہیں؟
5۔ معکوس حرکت میں دماغ کاکیا کردار ہے؟
7.2 پودوں میں ہم آہنگی(Coordination in Plants)
جسمانی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے اور ان میں ہم آہنگی کے لیے جانوروں میں عصبی نظام ہوتا ہے۔ لیکن پودوں میں نہ تو عصبی نظام ہوتا ہے اور نہ ہی عضلات لہٰذا وہ محرکات کے تئیں ردعمل کو کس طرح انجام دیتے ہیں؟ جب ہم چھوئی موئی کے پودے کی پتیوں کوچھوتے ہیں تو وہ مڑنا شروع ہو جاتی ہیں اور نیچے کی طرف جھک جاتی ہیں۔ جب کسی بیج میں کلہ پھوٹتا ہے تو جڑیں نیچے کی طرف جاتی ہیں اور تنا اورپر کی طرف ۔ حساس پودوں کی پتیاں چھونے کے تئیں ردعمل کی وجہ سے بہت تیزی کے ساتھ حرکت کرتی ہیں۔ اس حرکت کا نمو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسری طرف ننھے پودے کی سمتی حرکت نمو کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اگر ا س کی نمو کو کسی طرح روک دیا جائے تو اس میں کسی قسم کی حرکت نہیں ہوگی۔ اس طرح پودے دوقسم کی حرکات کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک نمو پر منحصر ہوتی ہے اور دوسری کا انحصار نمو پر نہیں ہوتاہے۔
7.2.1 محرک کے تئیں فوری ردعمل(Immediate Response to Stimulus)
آئیے پہلی قسم کی حرکت پر غور کرتے ہیں مثلاً کسی حساس پودے کی حرکت۔ کیونکہ اس کا تعلق نمو سے نہیں ہے لہٰذا چھونے کے تئیں ردعمل کی وجہ سے پودے کی پتیوں میں حرکت ہونی چاہیے۔ لیکن یہاں نہ تو کوئی عصبی بافت ہے اور نہ ہی کوئی عضلاتی بافت تو پھر پودا چھونے کو کس طرح محسوس کرتا ہے اور اس کے تئیں ردعمل کی وجہ سے پتیاں کس طرح حرکت میں آتی ہیں؟

اگر ہم اس نقطہ پر غور کریں جہاں حقیقتاً پودے کو چھوا جاتا ہے اور اس بات پر بھی غور کریں کہ پودے کے کس حصے میں حرکت ہوتی ہے تو ہمیں ایسا لگے گا کہ جس نقطہ پر پودے کو چھواتھا اور جس نقطہ پرحرکت ہوئی وہ دونوں مختلف ہیں لہٰذا چھونے کی اطلاع کی ترسیل ہونی چاہیے۔ پودے ایک خلیہ سے دوسرے خلیہ تک اطلاع کی ترسیل کرنے کے لیے برقی۔ کیمیائی ذریعہ کا بھی استعمال کرتے ہیں لیکن جانوروں کی طرح پودوں میں اطلاعات کی ترسیل کے لیے مخصوص بافت نہیں ہوتے۔ آخر کار جانوروں کی طرح ہی حرکت کرنے کے لیے کچھ خلیوں کو اپنی شکل بھی تبدیل کر لینی چاہیے۔ پودوں کے خلیوں میں حیوانی خلیوں کی طرح مخصوص پروٹین تو نہیں ہوتیں لیکن یہ پانی کی مقدار کو تبدیل کرکے اپنی شکل کو تبدیل کرلیتی ہے نتیجتاً پھولنے اور سکڑنے سے ان کا سائز تبدیل ہوجاتا ہے۔
7.2.2 نمو کی وجہ سے حرکت(Movement Due to Growth)
مٹر کے پودے کی طرح کچھ پودے کسی دوسرے پودے یاباڑ(fences)پر بیل ڈوروں(tendrils)کی مدد سے اوپرچڑھتے ہیں۔ یہ بیل ڈورے چھونے کے تئیں حساس ہوتے ہیں۔ جب یہ کسی سہارے کے رابطے میں آتے ہیں تو بیل ڈور کا وہ حصہ جو شے کے رابطے میں ہے اتنی تیزی سے نمو نہیں کرتا جتنی تیزی سے بیل ڈورے کا وہ حصہ کرتا ہے جو شے سے دور رہتا ہے۔ اسی وجہ سے بیل ڈورا شے کو چاروں طرف سے جکڑ لیتا ہے۔ عام طور سے،پودے آہستہ آہستہ ایک مخصوص سمت میں حرکت کرکے محرک کے تئیں ردعمل کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ نمو سمتی ہے لہٰذا اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پودا حرکت کررہا ہے آئیے اس قسم کی حرکت کو ایک مثال کے ذریعہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سرگرمی7.2
◊ ایک مخروطی فلاسک کو پانی سے بھر لیجیے۔
◊ فلا سک کی گردن کو تارکے جال سے ڈھک دیجیے۔
◊ سیم کے دویا تین بیج جن میں کلے پھوٹ رہے ہوں تار کی جالی پر رکھ دیجیے۔
◊ ایک طرف سے کھلا ہوا گتے کاباکس لیجیے۔
- فلاسک کو باکس میں اس طرح رکھیے کہ کھڑکی سے آنے والی روشنی باکس کے کھلے ہوئے حصہ پر پڑے(شکل7.5)۔ دویا تین دن کے بعد آپ دیکھیں گے کہ تناروشنی کی جانب جھک جاتا ہے اور جڑیں روشنی سے دور چلی جاتی ہیں۔ اب فلاسک کو اس طرح گھمائیے کہ تناروشنی سے دور ہوجائے اور جڑیں روشنی کی طرف ہوجائیں۔ اسے اس حالت میں کچھ دنوں کے لیے اسی طرح رکھا رہنے دیجیے۔
- کیا جڑ اور تنے کے پرانے حصوں نے سمت تبدیل کرلی ہے؟
- کیا نئی نموکی سمت میں کچھ فرق ہے؟
- اس سرگرمی سے ہم کیا نتیجہ اخذکرتے ہیں؟

شکل 7.5 روشنی کی سمت کے تئیں پودے کا رد عمل

شکل 7.6 پودے میں جیو ٹراپرزم
ماحولیاتی محرک (Triggers)مثلاً روشنی یا کشش ثقل اس سمت کو تبدیل کردیتے ہیں جس سمت میں پودے کے حصے نمو کرتے ہیں۔ یہ سمتی یا ٹراپک حرکات محرک کی جانب یا اس کی برعکس سمت میں ہوسکتی ہیں۔ لہٰذا دوقسم کی فوٹو ٹراپک حرکات میں تناروشنی کی طرف مڑ کرردعمل کرتا ہے اور جڑ اس سے دور مڑ کرردعمل کرتی ہے یہ پودے کی کس طرح مدد کرتا ہے؟
پودے دیگر محرکات کے تئیں ردعمل میں ٹراپزم کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک پودے کی جڑ ہمیشہ نیچے کی طرف نمو کرتی ہے جبکہ تنا عام طور سے اوپر کی طرف نمو کرتا ہے اور زمین سے دور رہتا ہے۔ تنوں اور جڑوں کی بالترتیب اوپر اور نیچے ہونے والی نمو زمین یا ثقل کے کھنچائو کے تئیں ردعمل ہے جسے جیوٹراپزم (geotropism) کہتے ہیں (شکل7.6)۔ اگر ہائڈرو کا مطلب پانی اور ’کیف‘ کا مطلب کیمکلس ہوتو ہائڈروٹراپزم (hydrotropism) اور کیموٹراپزم(chemotropism)کا کیا مطلب ہے؟ کیاہم اس قسم کی سمتی نمو کی حرکات کی مثالوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟ زیرہ نلی(pollen tube)کی بیض دان کی طرف نمو کیمو ٹراپزم کی ایک مثال ہے جس کا مزید مطالعہ اس وقت کریں گے جب ہم جاندار عضویوں میں تولیدی عملوں پر غور کریں گے۔
آئیے ایک مرتبہ پھر اس بات پر غور کرتے ہیں کہ کثیر خلوی عضویوں کے جسم میں اطلاعات کی ترسیل کس طرح ہوتی ہے۔لمس کے تئیں ردعمل کے نتیجے میں حساس پودے بہت تیزی سے حرکت کرتے ہیں۔ دن اور رات کے تئیں ردعمل کے نتیجے میں سورج مکھی کے پھولوں کی حرکت بہت سست ہے۔ پودوں کی نمو سے متعلق حرکت بھی بہت سست ہوتی ہے۔
حیوانی جسم میں بھی نمو کے لیے احتیاط کے ساتھ کنٹرول کی جانے والی سمتیں ہوتی ہیں۔ ہمارے بازو، انگلیاں ادھر ادھر حرکت نہ کرکے ایک مخصوص سمت میں نمو کرتے ہیں۔ کنٹرول شدہ حرکات سست یا تیز ہوسکتی ہیں۔ اگر محرک کے تئیں تیز ردعمل درکار ہے تو اطلاعات کی منتقلی بھی تیزی کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اس کے لیے تیز رفتار ذریعہ ترسیل درکار ہوگا، اس کے لیے برقی ہیجان بہترین ذریعہ ہیں۔ لیکن برقی ہیجان کے استعمال کی کچھ حدود ہیں۔پہلی بات یہ کہ برقی ہیجان صرف ان خلیوں تک پہنچیں گے جو عصبی بافتوں سے منسلک ہیں، پورے جسم کے خلیوں تک نہیں۔ دوسرے یہ کہ ایک مرتبہ خلیہ میں برقی ہیجان پیدا ہوتا ہے اور اس کی ترسیل ہوتی ہے تو دوبارہ نیا ہیجان پیدا کرنے اور اس کی ترسیل سے پہلے اپنے میکانزم کو دوبارہ سے عمل میں لانے کے لیے خلیہ کو کچھ وقت درکار ہوگا۔ بالفاظ دیگر خلیے مسلسل طور سے برقی ہیجان نہ توپیدا کرسکتے ہیں نہ ہی ان کی ترسیل کرسکتے ہیں۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ زیادہ ترکثیر خلوی عضویے خلیوں کے درمیان ترسیل کے لیے دیگر طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ہم پہلے ہی کیمیائی ترسیل کاحوالہ دے چکے ہیں۔
اگر برقی ہیجان پیدا کرنے کے بجائے تحریک یافتہ خلیے ایک کیمیائی مرکب خارج کریں تو یہ مرکب اصل خلیہ کے آس پاس تمام خلیوں میں نفوذ کر جائے گا۔ اگر آس پاس کے خلیوں کے پاس اس مرکب کی شناخت کا ذریعہ موجود ہوتو یہ ان کی سطح پر مخصوص سالمات کا استعمال کرکے اطلاعات کی شناخت کرنے کے اہل ہوں گے۔ اور ان کی ترسیل بھی کریں گے۔ حالانکہ یہ عمل بہت سست ہوگا لیکن یہ عصبی رابطہ (nervous connection) کے بغیر بھی جسم کے تمام خلیوں تک پہنچے گا نیز اسے غیر تبدیل شدہ اور مستقل بنایا جاسکتا ہے۔ کثیر خلوی عضویوں کے ذریعہ کنٹرول اور ہم آہنگی کے لیے استعمال کیے جانے والے یہ ہارمون ہماری امید کے مطابق تنوع ظاہر کرتے ہیں۔ مختلف نباتاتی ہارمون نشوونما اور ماحول کے تئیں ردعمل کر کے ہم آہنگی میں مدد کرتے ہیں۔ ان کی تالیف اس جگہ سے دور ہوتی ہے جہاں یہ عمل کرتے ہیں ۔ یہ عمل کے مقام تک سادہ نفوذ کے ذریعہ پہنچ جاتے ہیں۔
آئیے ہم ایک مثال لیتے ہیں جو ہم پہلے کرچکے ہیں(سرگرمی7.2)جب نمو کرتا ہوا پودا روشنی کو محسوس کرتا ہے تو اس کے تنے کے آخری سرے پر ایک ہارمون کی تالیف ہوتی ہے جسے آکسن (auxion)کہتے ہیں۔ یہ ہارمون خلیوں ی لمبائی میں اضافہ کرتا ہے۔ جب پودے پر ایک طرف سے روشنی آرہی ہو تو آکسن نفوذ ہو کر تنے کے سائے والے حصے میں آجاتاہے۔ تنے کی روشنی سے دور والی جانب میں آکسن کا ارتکاز خلیوں کو لمبائی میں اضافے کے لیے تحریک دیتا ہے لہٰذا پودا روشنی کی جانب مڑتا ہوانظر آتا ہے۔
نباتاتی ہارمون کی دوسری مثال جبریلن(gibberellins)ہے جو آکسن کی طرح تنے کی نمو میں مدد کرتا ہے۔ سائٹو کائنن(cytokinin)خلوی تقسیم کو تحریک دیتا ہے اور اس لیے یہ ہارمون ان حصوں میں جہاں خلوی تقسیم تیزی سے ہوتی ہے، خاص طور سے پھلوں اور بیجوں میں بہت زیادہ ارتکاز میں پایاجاتاہے۔ یہ ان نباتاتی ہارومون کی مثالیں ہیں جو نمو میں مدد کرتے ہیں لیکن پودے کی نمو روکنے کے لیے بھی سگنل درکار ہوتے ہیں۔ ایبسی سک ایسڈ (Abscisic Acid) نمو کو روکنے والا ہارمون ہے۔ پتیوں کا مرجھانا اسی ہارمون کے اثر کا نتیجہ ہے۔
سوالات
1۔ نباتاتی ہارمون کیاہیں؟
2۔ چھوئی موئی کے پودے کی پتیوں کی حرکت، روشنی کی طرف تنے کی حرکت سے کس طرح مختلف ہے؟
3۔ ایک نباتاتی ہارمون کی مثال دیجیے جو نمو کو تحریک دیتا ہے۔
4۔ کسی سہارے کے اطراف کسی تنے کی نمو میں آکسن کس طرح مدد کرتا ہے؟
5۔ ہائڈروٹراپزم کودکھانے کے لیے ایک تجربہ انجام دیجیے۔
7.3 جانوروں میں ہارمون(Hormones in Animals)
جانوروں میں اطلاعاتی ترسیل کے کیمیائی یا ہارمونی ذرائع کا استعمال کس طرح کیاجاتا ہے؟ کچھ جانور مثلاً گلہری کو ہی لیجیے، جب یہ ناموافق صورتحال سے دوچار ہوتی ہے تو کیا محسوس کرتی ہے؟ یہ اپنے جسم کو لڑنے کے لیے یابھاگ نکلنے کے لیے تیار کرتی ہے۔ دونوں ہی بہت پیچیدہ کام ہیں جن میں بہت زیادہ توانائی کا استعمال با منضبط انداز میں کیا جاتاہے۔ مختلف قسم کے کئی بافتوں کا استعمال ہوگا اور ان کے عملوں کو یکجا کرکے یہ کام انجام دینے ہوں گے۔ حالانکہ دو متبادل سرگرمیاں لڑنا یا بھاگ نکلنا ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ لہٰذا یہاں ایک ایسی حالت ہے جس میں جسم کے اندر کچھ فائدہ مند عام تیاریاں کی جاسکتی ہیں۔ یہ تیاریاں مستقبل میں ان میں سے کسی بھی عمل کو بروئے کار لانے میں آسانی پیدا کردیتی ہیں۔ یہ سب کس طرح ہوگا؟
اگر گلہری میں جسم کا ڈیزائن عصبی خلیوں کے ذریعہ صرف برقی ہیجان پر اکتفا کرے گا تو آئندہ کام کرنے کے لیے جن بافتوں کو تیار رہنے کا حکم دیاگیا ہے ان کا دائرۂ کار محدود ہوگا۔ دوسری طرف اگر کیمیائی سگنل بھیجا جاتا ہے تو جسم کے تمام خلیوں تک پہنچے گا اور وسیع رینج والی ضروری تبدیلیاں فراہم کرے گا۔ کئی جانوروں اور انسانوں میں ایڈرینل غدود سے افراز ہونے والے ایڈرینیلن ہارمون کا استعمال اسی مقصد کے لیے کیاجاتا ہے۔ جسم میں ان غدود کی پوزیشن کو جاننے کے لیے شکل 7.7دیکھیے۔
ایڈرینیلن کا افراز براہ راست خون میں ہوتا ہے اور جسم کے مختلف حصوں تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ یہ دل سمیت ہدفی اعضا (Target organs) یا مخصوص بافتوں پر کام کرتا ہے۔ نتیجتاً دل کی دھڑکن میں اضافہ ہوجاتا ہے تاکہ ہمارے عضلات کو زیادہ آکسیجن فراہم ہوسکے۔ نظام ہضم اور جلد میں خون کی سپلائی کم ہوجاتی ہے کیونکہ ان اعضا کی چھوٹی شریانوں کے آس پاس کے عضلات سکڑ جاتے ہیں یہ خون کے بہائو کو ڈھانچے کے عضلات کی طرف کر دیتا ہے۔ ڈایا فرام اور پسلیوں کے عضلات سکڑنے کی وجہ سے سانس لینے کی شرح میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ تمام ردعمل ایک ساتھ مل کر جانور کے جسم کو صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرتے ہیں۔ یہ حیوانی ہارمون درون افرازی نظام کاحصہ ہیں جو ہمارے جسم میں کنٹرول اور ہم آہنگی کا دوسرا راستہ ہے۔
سرگرمی 7.3
◊ شکل 7.7کو دیکھیے۔
◊ شکل میں دکھائے گئے درون افرازی غدود کی شناخت کیجیے۔
◊ ان میں سے کچھ غدود جدول7.1 میں زیربحث رہے ہیں۔ لائبریری میں کتابوں کی مدد سے اور اساتذہ کے ساتھ گفتگو کرکے غدود کے دیگر افعال معلوم کیجیے۔
یاد کیجیے کہ پودوں میں ہارمون ہوتے ہیں جوان کی سمتی نمو کر کنٹرول کرتے ہیں۔ جانوروں میں پائے جانے والے ہارمون کیا کام کرتے ہیں ؟ اس کے بارے میں ہم سمتی نمو میں ان کے کردار کا تصور نہیں کرسکتے۔ہم نے کسی جانور کو روشنی یا ثقل پر منحصر کسی ایک سمت میں زیادہ نمو کرتے کبھی نہیں دیکھا ہے۔ لیکن اگر ہم اس کے بارے میں اور زیادہ غور کریں تو یہ ثابت ہوجائے گا کہ جانوروں کے جسم میں بھی نمو احتیاط کے ساتھ کنٹرول کیے گئے مقامات پر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر پودے اپنے جسم پر متعدد جگہوں پر پتیاں اگاتے ہیں لیکن ہم اپنے چہرے پر انگلیاں نہیں اگاتے۔ ہمارے جسم کا ڈیزائن بچوں کی نمو کے دوران بھی احتیاط کے ساتھ برقرار رہتا ہے۔
پینل غدود پینل غدود
پٹیوٹری غدود پٹیوٹری غدود
تھائرائڈ غدود تھائرائڈ غدود
ایڈرینل غدود ایڈرینل غدود
بیض دان ہائپو تھیلیمس
ہائپو تھیلیمس پیراتھائرائڈ غدود
پیراتھائرائڈ غدود تھائمس
تھائمس لبلبہ
لبلبہ انشیے

یہ سمجھنے کے لیے کہ مربوط نمو میں ہارمون کس طرح مددکرتے ہیں آئیے کچھ مثالوں پر غور کرتے ہیں۔ نمک کے پیکٹ پر ہم سب نے دیکھا ہے آیوڈائزڈنمک یا ’آیوڈین افزا‘ لکھا ہوتا ہے ہمیں اپنی غذا میں آیوڈین والا نمک لینا کیوں ضروری ہے؟ تھائرائڈ غدود کو تھائراکسن ہارمون بنانے کے لیے آیوڈین کی ضرورت ہوتی ہے۔ تھائراکسن ہارمون ہمارے جسم میں کاربوہائڈریٹ، پروٹین اور چربی کے تحول کو کنٹرول کرتا ہے تاکہ نموکے لیے بہتر توازن فراہم کیا جاسکے۔ تھائراکسن کی تالیف کے لیے آیوڈین ضروری ہے۔ اگر ہماری خوراک میں آیوڈین کی کمی ہوتو ممکن ہے کہ گائٹر(Goiter)کا شکار ہو جائیں۔ اس بیماری میں گلا پھول جاتا ہے۔ کیاآپ اسے شکل 7.7میں تھائرائڈ
مزید معلومات
ائپوتھیلیمس (Hypothamlamus)
کئی ہارمونوں کے افراز میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ہائپوتھیلیمس میں گروتھ ہارمون کی سطح نیچے آجاتی ہے تو ہائپوتھیلیمس ایک ایسے ہارمون کا افراز کرتا ہے۔ جو ٹیپوٹری غدہ کو گروتھ ہارمون کا افراز کرنے کے لیے تحریک دیتا ہے۔
غدود کے مقام سے مربوط کرسکتے ہیں؟ بعض اوقات ہم ایسے افراد کو دیکھتے ہیں جن کا قد بہت چھوٹا (dwarf)ہوتا ہے یا بہت لمبا ہوتا ہے(Giant)۔کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ پٹیوئری غدود سے افراز ہونے والے ہارمون میں ایک ہارمون گروتھ ہارمون(growth hormone)ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے گروتھ ہارمون جسم میں نمو اور نشوونما کو کنٹرول کرتا ہے اگر بچپن میں اس ہارمون کی کمی ہوجاتی ہے تو یہ چھوٹے قد کا سبب بن سکتا ہے۔
جب آپ یاآپ کے دوستوں کی عمر 10-12برس رہی ہوگی تو آپ نے اپنے اندر کئی ڈرامائی تبدیلیاں دیکھی ہوں گی۔ یہ تبدیلیاں بلوغت سے متعلق ہیں نر میں ٹیسٹو اسٹیران(testosterone)اور مادہ میں ایسٹروجن (oestrogen)کے افراز کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
کیاآپ اپنے خاندان یا دوستوں میں سے ایسے افراد کو جانتے ہیں جنھیں ڈاکٹر نے کم شکر لینے کی صلاح دی ہے کیونکہ وہ ذیابیطس (Diabetes) بیماری میں مبتلا ہیں۔ علاج کے طور پر وہ انسولین کے انجکشن بھی لے رہے ہوں گے۔ انسولین ایک ہارمون ہے جو کہ لبلبہ کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے اور یہ خون میں شکر کی مقدار کو کنٹرول کرتا ہے۔ اگر اس کا افراز مناسب مقدار میں نہیں ہو پاتا تو خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور کئی مضر اثرات کا سبب بن جاتی ہے۔
اگر یہ اتنا ضروری ہے کہ ہارمون کا افراز بالکل صحیح صحیح مقدار میں ہونا چاہیے تو ہمیں ایک ایسے میکانزم کی ضرورت ہوگی جس کے ذریعہ ایسا کیا جاسکے۔ افراز ہونے والے ہارمون کا وقت اورمقدار فیڈبیک میکانزم (feed back mechanism) کے ذریعہ کنٹرول کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے تو اسے لبلبہ کے خلیے محسوس کرلیتے ہیں اور اس کے تئیں ردعمل کے لیے زیادہ انسولین کا افراز کرتے ہیں جب خون میں شکر کی مقدار کم ہوجاتی ہے تو انسولین کا افراز کم ہو جاتا ہے۔
سرگرمی 7.4
◊ اینڈوکرائن غدود ہارمونوں کا افراز کرتے ہیں۔ یہ ہارمونون مخصوص افعال کو انجام دیتے ہیں۔ جدول7.1میں ہارمونوں کے نام، ان کے غدود اور افعال دیے گئے ہیں۔ جدول میں خالی جگہوں کو پُرکرتے ہوئے جدول کو مکمل کیجیے ۔
| افعال | اینڈوکرائن غدود | ہارمون | شمار نمبر |
| سبھی اعضا میں نشو ونما کو تحریک دیتا ہے۔ | پٹیوٹری غدہ | گروتھ ہارمون | 1 |
| جسمانی نشوونما کے لیے تحولی افعال کی باقاعدگی میںمددر کرتا ہے۔ | تھائرائڈ غدہ | 2 | |
| خون میں شکرکی سطح پر قابو رکھتا ہے۔ | انسولین | 3 | |
| انثیے | ٹیسٹواسیٹران | 4 | |
| مادہ کے جنسی اعضا کی نشو ونما اور حبض وغیرہ کی باقاعدگی میں مدد کرتا ہے۔ | بیض دان | 5 | |
| ایڈرنیل غدہ | ؎ایڈرینیلن | 6 | |
| ہارمونوں کے افراز کے لیے پٹیوٹری غدہ کو تحریک دیتا ہے۔ | ریلیزنگ ہارمون | 7 |
سوالات
1۔ جانوروں میں کیمیائی ہم آہنگی کس طرح ہوتی ہے؟
2۔ آیوڈین والے نمک کے استعمال کی صلاح کیوں دی جاتی ہے؟
3۔ جب خون میں ایڈرینیلن کا افراز ہوتا ہے تو ہمارا جسم کس طرح ردعمل کرتا ہے؟
4۔ ذیابیطس کے کچھ مریضوں کاعلاج انسولین کا انجیکشن دے کر کیوں کیا جاتا ہے؟
آپ نے کیا سیکھا
◊ ہمارے جسم میں کنٹرول اور ہم آہنگی کاکام عصبی نظام اور ہارمون انجام دیتے ہیں۔
◊ عصبی نظام کے ردعمل کی درجہ بندی معکوسی حرکت، اختیاری عمل اور غیر اختیاری عمل کے تحت کی جاسکتی ہے۔
◊ عصبی نظام پیغامات کی ترسیل کے لیے برقی ہیجان کااستعمال کرتا ہے۔
◊ عصبی نظام ہمارے حسّی اعضا سے اطلاع حاصل کرتا ہے اور ہمارے عضلات کے ذریعہ ردِّعمل کرتا ہے۔
◊ کیمیائی ہم آہنگی پودوں اور جانوروں دونوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔
◊ ہارمون عضویہ کے ایک حصہ میں پیدا ہوتے ہیں اور انھیں مطلوبہ اثرحاصل کرنے کے لیے دوسرے حصے میں لے جایا جاتا ہے۔
◊ ہارمون کے عمل کو فیڈ بیک میکانزم کے ذریعہ کنٹرول کیاجاتا ہے۔
مشقیں
1۔ مندرجہ ذیل میں سے کون نباتاتی ہارمون ہے؟
(a) انسولین
(b) تھائراکسن
(c) ایسٹراجن
(d) سائٹوکائنن
2۔ دو اعصاب کے درمیان خالی جگہ کہلاتی ہے
(a) ڈینڈرائٹ
(b) معانقہ
(c) ایکسن
(d) ہیجان
3۔ دماغ ذمہ دار ہے
(a) سوچنے کے لیے
(b) دل کی دھڑکن کو باقاعدہ بنائے رکھنے کے لیے
(c) جسم کو متوازن رکھنے کے لیے
(d) مذکورہ بالا سبھی کے لیے
4۔ ہمارے جسم میں ریسیپٹر کا کیاکام ہے؟ اس صورتحال کے بارے میں سوچیے جب ریسیپٹر س مناسب طور پر کام نہیں کرتے ۔کیا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے؟
5۔ عصبی خلیہ (نیوران) کی ساخت بنائیے اور اس کے افعال بیان کیجیے۔
6۔ پودوں میں فوٹو ٹراپزم کس طرح ہوتا ہے؟
7۔ نخاعی ڈور کے زخمی ہوجانے پر کس قسم کے سگنلوں میں رکاوٹ پیدا ہوگی؟
8۔ پودوں میں کیمیائی ہم آہنگی کس طرح ہوتا ہے؟
9۔ عضویوں میں کنٹرول اور ہم آہنگی کے نظام کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟
10۔ غیر اختیاری عمل اور معکوس عمل ایک دوسرے سے کس طرح مختلف ہیں؟
11۔ جانوروں میں کنٹرول اور ہم آہنگی کے لیے عصبی اور ہارمون میکا نزم کا موازنہ کیجیے۔
12۔ چھوئی موئی کے پودے میں حرکت اور ہمارے پیر میں ہونے والی حرکت کے انداز میں کیافرق ہے؟