باب 8

عضویے کس طرح تولید کرتے ہیں؟
(How do Organisms Reproduce?)
عضویوں کے تولید کے طریقۂ کار پر بحث کرنے سے پہلے آئیے ایک اور بنیادی سوال پوچھیں۔ عضویے تو لید کیوں کرتے ہیں؟ تغذیہ، تنفس یا اخراج جیسے ضروری اعمال زندگی کی طرح تولید کسی انفرادی عضویہ کی زندگی کے لیے ضروری نہیں ہے۔ دوسری طرف اگر ایک منفرد عضویہ کئی افراد کو پیدا کرتا ہے تو اس عمل میں بہت زیادہ توانائی خرچ ہوگی۔ اس لیے کوئی منفرد عضویہ کسی ایسے عمل پر توانائی کیوں ضائع کرے جو زندہ رہنے کے لیے ضروری نہیں ہے۔ کلاس میںاس سوال کے ممکنہ جوابات پر بحث کرنا دلچسپ رہے گا۔
اس سوال کا جواب کچھ بھی ہو لیکن ظاہر ہے کہ ہمیں عضویے اس لیے نظر آتے ہیں کیونکہ وہ تولید کرتے ہیں۔ اگر عضویہ اکیلا ہوتا تو کوئی بھی تولید کے ذریعہ اپنے جیسے عضویے کو پیدا نہیں کر پاتا، لہٰذا ممکن ہے کہ ہمیں اس کے وجود کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ کسی ایک نوع کے عضویوں کی ایک بڑی تعداد ہمیں ان کو دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ہمیں کس طرح معلوم ہوتا ہے کہ دو مختلف انفرادی عضویے ایک ہی نوع سے تعلق رکھتے ہیں۔ عموماً ہم یہ کہتے ہیں چونکہ وہ ایک جیسے نظر آتے ہیں اس لیے ان کا تعلق ایک ہی نوع سے ہے۔ اس طرح تولید کرنے والے عضویے نئے افراد پیدا کرتے ہیں جو کافی حدتک ان ہی کی طرح نظر آتے ہیں۔
8.1 کیا عضویے ہو بہو اپنی نقل پیدا کرتے ہیں؟
(Do Organism Create Exact Copies of Themselves?)
عضویے ایک جیسے نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے جسمانی ڈیزائن یکساں ہوتے ہیں۔ اگر جسمانی ڈیزائن یکساں ہوں گے تو ان ڈیزائنوں کے لیے بلوپرنٹ(blue print)بھی یکساں ہوگا۔اس طرح تولید اپنی سب سے بنیادی سطح پرجسمانی ڈیزائن کے بلو پرنٹ کی نقل تیار کرتی ہے۔ نویں جماعت میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ خلیہ کے نیوکلیس میں پائے جانے والے کروموسوم میں (DNA, Deoxyribo Nucleic Acid)کی شکل میں توارثی خصوصیات کی معلومات موجود ہوتی ہے جو والدین سے اگلی پیڑھی میں منتقل ہوجاتی ہے۔ خلیہ کے نیوکلیس میں پروٹین کی تالیف کے لیے معلومات کا ذریعہDNAہوتا ہے۔ اگر معلومات میں تبدیلی آتی ہے تو بننے والی پروٹین بھی مختلف ہوگی۔ مختلف قسم کی پروٹین کی وجہ سے جسمانی ڈیزائن میں تبدیلی آجائے گی۔
لہٰذا DNAکی نقل کی تخلیق تولیدی عمل سے وابستہ ایک بنیادی واقعہ ہے۔DNAکی نقل تیار کرنے کے لیے خلیے مختلف کیمیائی تعاملات کا استعمال کرتے ہیں۔ تولیدی خلیوں میں اس طرحDNAکی دو نقلیں تیار ہوتی ہیں اور ان کا ایک دوسرے سے علاحدہ ہونا ضروری ہے۔ لیکن DNAکی ایک نقل کو اصل خلیہ میں رکھ کر دوسری نقل کو باہر نکالنے سے کام نہیں چلے گا کیونکہ دوسری نقل کے پاس اعمال زندگی کے رکھ رکھائو کے لیے منظم خلوی ساخت تو نہیں ہوگی۔ اس لیےDNAکی نقل تیار ہونے کے ساتھ ساتھ دوسری خلوی ساختوں کی تخلیق بھی ہوتی رہتی ہے۔ اس کے بعد DNAکی نقلیں علاحدہ ہوجاتی ہیں۔ نتیجتاً ایک خلیہ تقسیم ہو کر دو خلیے بناتا ہے۔
یہ دونوں خلیے حالانکہ یکساں ہیں لیکن کیا وہ مکمل طور سے ایک دوسرے کے مماثل ہیں؟ اس سوال کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ نقل تیار کرنے کا عمل کتنا صحیح ہے۔ کوئی بھی حیاتیاتی کیمیائی تعامل مکمل طور پر قابل اعتماد نہیں ہوتا۔ لہٰذا ممکن ہے کہDNAکی نقل تیار کرنے کے عمل میں ہر مرتبہ کچھ تغیر آجائے گا۔ نتیجتاًDNAکی نقلیں یکساں تو ہوں گی لیکن اصلDNA کے مماثل نہیں ہوں گی۔ ان میں سے کچھ تغیرات اتنے شدید ہوسکتے ہیں کہ DNAکی نئی نقل اپنی خلوی تنظیم کے ساتھ میل نہ کھائے۔ اس قسم کا نومولود خلیہ مرجاتا ہے۔ دوسری طرف DNAنقل میں بہت سے تغیرات اتنے شدید نہیں ہوتے لہٰذا پیدا ہونے والے خلیے یکساں ہوتے ہوئے بھی کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ تولید کے دوران تغیر کا یہ رحجان ارتقا (evolution)کی بنیادہے جس پر ہم آئندہ باب میں بحث کریں گے۔
8.1.1تغیر کی اہمیت
(The Importance of Variation)
اپنی تولیدی صلاحیت کا استعمال کرکے عضویوں کی آبادیاں ماحولیاتی نظام میں متعین مقامات پر رہتی ہے۔ تولید کے دوران DNAکی نقل میں استقامت، جسمانی ساخت اور ڈیزائن کے لیے نہایت اہم ہے جو عضویہ کو اس مخصوص مقام کو استعمال کرنے کے اہل بناتی ہے۔ لہٰذا، کسی نوع کی آبادی کے استحکام کا تعلق تولید سے ہے۔ تاہم عضویے کے مقام میں کئی وجوہات کی بنا پر تبدیلیاں آسکتی ہیں جو عضویے کے کنٹرول سے باہر ہوتی ہیں۔ زمین کا درجۂ حرارت کم یا زیادہ ہوسکتا ہے۔ پانی کی سطح میں تبدیلی یاشہاب ثاقب(meteorites)کا ٹکرانااس کی مثالیں ہیں۔ اگر تو لید کرنے والے عضویوں کی آبادی کسی مخصوص مقام کے موافق ہے اور مقام میں بہت زیادہ تبدیلی آجاتی ہے تو آبادی ختم ہوسکتی ہے۔ تاہم اگر آبادی کے کچھ افراد میں تغیرات موجود ہوں تو ان کے زندہ رہنے کے کچھ امکانات ہوتے ہیں۔ اس طرح، اگر معتدل درجۂ حرارت والے پانی میں بیکٹیریا کی کوئی آبادی رہ رہی ہے اور گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پانی کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوجاتا ہے تو زیادہ تر بیکٹیریا مرجائیں گے لیکن حرارت مزاحم کچھ متغیر عضویے زندہ رہتے ہیں اور نمو کرتے ہیں۔ لہٰذا تغیرات نوع کی بقا میں معاون ہیں۔
سوالات
1 تولید میں DNAکی نقل کی کیا اہمیت ہے؟
2 تغیرات نوع کے لیے توفائدہ مند ہیں لیکن انفرادی عضویہ کے لیے بھی مفید ہوں یہ ضروری نہیں کیوں؟
8.2 واحد عضویوں میں تو لید کے طریقے
(Modes of Reproduction Used by Single Organisms)
سرگرمی 8.1
◊ 100mlپانی میں تقریباً10gچینی گھولیے۔
◊ اس میں سے 20mlمحلول کو ایک ٹیسٹ ٹیوب میں لے کر اس میں ایک چٹکی ایسٹ پائوڈر ملائیے۔
◊ ٹیسٹ ٹیوب کے منھ کو روئی سے ڈھک کر کسی گرم جگہ پر رکھ دیجیے۔
◊ ایک یا دو گھنٹہ کے بعد ٹیسٹ ٹیوب سے ایسٹ کلچر کی ایک بوند سلائڈ پر لے کر اسے کور سلپ سے ڈھک دیجیے۔
◊ خردبین کی مدد سے سلائڈ کا مشاہدہ کیجیے۔
سرگرمی8.2
◊ ڈبل روٹی کے ایک ٹکڑے کو پانی میں بھگو کر ٹھنڈی، مرطوب اور اندھیری جگہ میں رکھیے۔
◊ تکبیری شیشہ کی مدد سے ٹکڑے کی سطح کا مشاہدہ کیجیے۔
◊ ایک ہفتہ تک اپنے مشاہدات کو نوٹ کیجیے۔
پہلی سرگرمی میں ایسٹ کی نمو اور دوسری سرگرمی میں مولڈ (mould)کی نمو کے طریقے کا موازنہ کیجیے اور ان میں فرق معلوم کیجیے:
وہ پس منظر جس میں تولیدی عمل انجام پاتا ہے اس پر بحث کے بعد آئیے ہم مطالعہ کرتے ہیں کہ مختلف عضویے درحقیقت کس طرح تولید کرتے ہیں۔ مختلف عضویوں میں طریقۂ تولید ان کے جسمانی ڈیزائن پر منحصر ہوتا ہے۔
8.2.1 انشقاق(Fission)
یک خلوی عضویوں میں خلوی تقسیم یا انشقاق (Fission)کے ذریعہ نئے افراد کی تخلیق ہوتی ہے۔ انشقاق کے کئی طریقوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ بہت سے بیکٹریا اور پروٹوزوا خلوی تقسیم کے دوران دو برابر حصوں میں ٹوٹ جاتے ہیں۔ امیبا جیسے عضویوں میں خلوی تقسیم کسی بھی مستوی میں ہوسکتی ہے۔

شکل (b) 8.2 لیشمانیا میں بائنری فیشن
سرگرمی8.3
- خردبین کی مد دسے امیبا کی مستقل سلائڈ کا مشاہدہ کیجیے۔
- اسی طرح امیبا کے بائنری (Binary) فشن کی مستقل سلائڈ کا مشاہدہ کیجیے۔
- اب دونوں سلائڈ کاموازنہ کیجیے۔
لیکن کچھ یک خلوی عضویوں میں جسمانی ساخت زیادہ منظم ہوتی ہے مثال کے طور پر لیشمانیا (Leishmania) میں (جو کہ کالا آزار کا سبب ہے) خلیہ کے ایک سرے پر چایک (whip)جیسی ساخت ہوتی ہے۔ ایسے عضویوں میں بائنری فشن ایک مخصوص مستوی میں ہوتا ہے۔ ملیر یا پھیلانے والا طفیلیہ پلازموڈیم جیسے یک خلوی عضویے ایک ساتھ متعدد دختر خلیوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں جسے چند پارگی(multiple fission)کہتے ہیں۔ دوسری طرف ایسٹ میں چھوٹی کلیاں ابھر کر خلیہ سے علاحدہ ہوجاتی ہیں اور آزادانہ طور پر نمو کرتی ہیں جیسا کہ سرگرمی 8.1میں ہم دیکھ چکے ہیں۔

شکل 8.2 پلازموڈیم میں چند پارگی
8.2.2 پارگی (Fragmentation)
سرگرمی8.4
◊ کسی ایسے تالاب یا جھیل کا پانی لیجیے جو گہراہرا نظر آتا ہو اور جس میں فلامینٹجیسی ساختیں موجود ہوں۔
◊ کسی سلائڈ پر ایک یا دو فلامینٹ رکھیے۔
◊ ان فلامینٹ پر گلیسرین کی ایک بوند ڈال کر کورسلپ سے ڈھک دیجیے۔
◊ خردبین کی مدد سے سلائڈ کامشاہدہ کیجیے۔
◊ کیا آپ اسپائرو گائرافلامینٹ میں مختلف بافتوں کی شناخت کرسکتے ہیں۔
سادہ جسمانی تنظیم والے کثیر خلوی عضویوں میں تولید کا عمل سادہ طریقوں سے انجام پاجاتا ہے۔ مثال کے طور پر اسپائروگائرا پختگی حاصل کرنے بعد چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہوجاتاہے۔ یہ ٹکڑے نئے افراد کی شکل میں نمو کرتے ہیں۔ سرگرمی8.4کے مشاہدات کی بنیاد پر کیاہم اس کا سبب جان سکتے ہیں۔
لیکن یہ سبھی کثیر خلوی عضویوں کے لیے درست نہیں ہے۔ یہ سادگی کے ساتھ خلیہ درخلیہ تقسیم نہیں ہوسکتے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر کثیر خلوی عضویے صرف خلیوں کا مجموعہ ہی نہیں ہیں بلکہ مخصوص کاموں کو انجام دینے کے لیے مخصوص خلیے منظم ہوکر بافتوں کی تشکیل کرتے ہیں اور بافت منظم ہوکر ا عضا بناتے ہیں۔ جسم میں ان اعضا کا مقام متعین ہوتا ہے۔ اس قسم کی منظم حالت میں خلیہ در خلیہ تقسیم غیر فطری ہے۔ لہٰذا کثیر خلوی عضویوں کو تولید کے لیے نسبتاً زیادہ پیچیدہ طریقۂ کار درکار ہوتا ہے۔
کثیر خلوی عضویوں میں بنیادی طریقہ یہ اختیار کیا جاتا ہے کہ مختلف قسم کے خلیے مخصوص افعال کو انجام دیتے ہیں۔ اس عام پیٹرن کے مطابق اس قسم کے عضویوں میں مخصوص قسم کے خلیوں کے ذریعہ تولید ہوتی ہے اگر عضویے میں کئی قسم کے خلیے موجود ہوں تو ایک قسم کے خلیہ کے ذریعہ تولید کاعمل کس طرح انجام دیا جائے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عضویہ میں خلیہ کی ایسی قسم موجود ہونی چاہیے جس میں نمو کرنے کی صلاحیت ہو تاکہ مناسب حالات میں دیگر خلیوں کی تشکیل کرسکے۔
8.2.3باز پیدائش(Regeneration)
مکمل طور پر تفرق شدہ بہت سے عضویوں میں اپنے جسم کے حصوں سے نئے عضویوں کو پیدا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔یعنی اگر کسی عضویے کو کئی ٹکڑوں میں کاٹ دیا جائے یا توڑ دیا جائے تو ان میں سے کئی ٹکڑے علاحدہ علاحدہ افراد
افراد کی شکل میں نمو کرتے ہیں۔مثال کے طور پر ہائڈرا اور پلینیریا(planaria)جیسے عضویوں کوکئی ٹکڑوں میں کاٹا جاسکتا ہے اور ہر ایک ٹکڑا مکمل عضویے کی شکل میں نمو کرتاہے۔ یہ طریقہ بازپیدائش کہلاتا ہے(شکل(8.3۔باز پیدائش کا عمل مخصوص قسم کے خلیوں کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے۔ یہ خلیے بڑی مقدار میں دوسرے خلیوں کی تشکیل کرتے ہیں۔ خلیوں کی اس کمیت سے مختلف خلیے تبدیل ہوکر مختلف قسم کے خلیے اور بافت بن جاتے ہیں۔ یہ تبدیلیاں ایک منظم سلسلہ کے تحت رونما ہوتی ہیں جسے نشوونما(development)کہتے ہیں۔ تاہم باز پیدائش تولید کی طرح نہیں ہے کیونکہ زیادہ تر عضویے عام طور سے اس بات پر منحصر نہیں ہوتے کہ انہیں کاٹا جائے تاکہ وہ تولید کے اہل ہوں۔

شکل 8.3 پلینیریا میں پاز پیدائش
8.2.4کلیانا(Budding)
ہائڈرا جیسے عضویے تولید کے لیے کلیانے کے عمل میں باز پیدائشی خلیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ہائڈرا میں کسی ایک مخصوص جگہ پربار بار خلوی تقسیم کی وجہ سے ایک ابھار پیدا ہوتا ہے جسے کلی(bud)کہتے ہیں (شکل8.4)۔ یہ کلیاں چھوٹے افراد کی شکل میں نشوونما پاتی ہیں اور مکمل طور پر پختہ ہونے کے بعد اصل جسم سے علاحدہ ہوجاتی ہیں اور نئے آزاد فرد کی حیثیت سے زندگی گزارتی ہیں۔
ٹینٹیککل
کلی

8.2.5نباتاتی افزائش(Vegetative Propagation)
ایسے بہت سے پودے ہیں جن کے کچھ حصے جیسے جڑ، تنا اور پتیاں مناسب حالات میں نشوونما پاکر نیا پودابناتے ہیں۔زیادہ تر جانوروں کے برعکس،پودے اس طریقہ کا استعمال تولید کے لیے کرتے ہیں۔ اس نباتاتی افزائش کی تکنیک کا استعمال لیئرنگ (layering) یا قلم لگانے (grafting) جیسے طریقوں کے ذریعہ گنا، گلاب اور انگور وغیرہ اگانے کی غرض سے زراعت میں بھی کیا جاتا ہے۔ نباتاتی افزائش کے ذریعہ لگائے گئے پودوں میں بیجوں کے ذریعہ لگائے گئے پودوں کے مقابلے پھول اور پھل کم وقت میں ہی آنے لگتے ہیں۔ یہ طریقہ کیلا، سنترہ، گلاب اور چنبیلی جیسے ان پودوں کو لگانے کے لیے مفید ہے جن میں بیج پیدا کرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ نباتاتی افزائش کا دوسرا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس طرح سے تیار ہونے والے تمام پودے جینیاتی طور پدری پودے کی طرح ہوتے ہیں اور ان میں پدری پودے کی تمام خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔
سرگرمی8.5
◊ ایک آلو لے کر اس کی سطح کا مشاہدہ کیجیے۔ کیا اس میں گڑھے(notches)نظر آتے ہیں؟
◊ آلو کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں اس طرح کاٹیے کہ کچھ ٹکڑوں میں یہ گڑھے موجود ہوں اور کچھ میں نہیں۔
◊ ایک ٹرے میں روئی کی پتلی پرت بچھا کر اسے گیلا کیجیے۔ کلی والے ٹکڑوں کو ایک طرف اور بغیر کلی والے ٹکڑوں کو دوسری طرف رکھ دیجیے۔
◊ کچھ دنوں تک ان ٹکڑوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیجیے۔ دھیان رکھیے کہ روئی میں نمی برقرار رہے۔
◊ وہ کون سے ٹکڑے ہیں جن سے ہرے تنے اور جڑیں نکل رہی ہیں۔
اسی طرح برایوفلم کی پتیوں کے کنارے پر پیدا ہونے والی کچھ کلیاں مٹی میں گرجاتی ہیں اور نئے پودوں کی تشکیل کرتی ہیں شکل(8.5۔
کلیاں

سرگرمی 8.6
◊ ایک منی پلانٹ لیجیے۔
◊ اسے کچھ ٹکڑوں میں اس طرح کاٹیے کہ ہر ایک ٹکڑے میں کم از کم ایک پتی ضرور ہو۔
◊ دوپیتوں کے درمیان کچھ اور ٹکڑے کاٹیے۔
◊ سبھی ٹکڑوں کے ایک سرے کو پانی میں ڈبا کر رکھیے اور اگلے کچھ دنوں تک ان کا مشاہدہ کیجیے۔
◊ کون سے ٹکڑوں میں نمو ہوتی ہے اور نئی پتیاں نکلتی ہیں۔
◊ آپ اپنے مشاہدات سے کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔
مزید معلومات
بافتی کاشت
بافتی کاشت میں پودے کے بافت یا اس کے خلیوں کو پودے کے نمو کررہے اگلے سرے سے علیحدہ کرکے نئے پودے اگائے جاتے ہیں۔ ان خلیوں کو مصنوعی میڈیم میںرکھا جاتا ہے جہاں یہ تیزی سے تقسیم ہو کر خلیوں کا گروپ بنالیتے ہیں جسے کیلس (Callus) کہتے ہیں۔ اس کیلس کو دوسرے میڈیم میں منتقل کردیا جاتا ہے جس میں نمو اور تفرق کے لیے ہارمون موجود ہوتے ہیں۔ چھوٹے پودوں کو اب مٹی میںلگا دیا جاتا ہے تاکہ وہ نمو کرکے مکمل پودے کی شکل اختیار کرسکیں۔ اس بافتی کاشت کا استعمال کرکے ایک پودے سے بیماریوں سے مبرا حالات میں متعدد پودے اگائے جاسکتے ہیں۔ اس تکنیک کا استعمال عام طور سے سجاوٹی پودوں کواگانے میں کیا جاتا ہے۔
8.2.6 بذرہ کی تشکیل(Spore Formation)
بہت سے سادہ کثیر خلوی عضویوں میں بھی مخصوص تولیدی حصے پائے جاتے ہیں۔ مذکورہ بالا سرگرمی8.2میں ڈبل روٹی پر دھاگے نما کچھ ساختیں پیدا ہوگئی تھیں۔ یہ رائزوپس(Rhizopus)کے ہائی فا (Hyphae) ہیں جو ایک قسم کی پھپھوندی ہے۔ یہ تولیدی حصے نہیں ہیں۔ دوسری طرف چھڑنما ساختوں پر چھوٹی گول شکلیں تولید میں حصہ لیتی ہیں۔ یہ گول شکلیں(blob)اسپورینجیا(sporangia)ہیں جن میں خلیے یابذرے(spores)موجود ہوتے ہیں جو نمو کرکے رائزوپس کے نئے افراد کی تشکیل کرتے ہیں (شکل 8.6)۔بذرے کے چاروں طرف ایک موٹی دیوار ہوتی ہے جو ناموافق حالات میں اس کی حفاظت کرتی ہے۔ مرطوب سطح کی موجودگی میں یہ نمو کرنے لگتے ہیں۔
اب تک ہم نے تولید کے جن طریقوں کا تذکرہ کیاہے ان سبھی میں نئی پیڑھی کی تشکیل واحد فرد سے ہوتی ہے۔ اسے غیر صنفی تولید (asexual reproduction)کہتے ہیں۔
بذرے

شکل 8.6 رائزوپس میں بذروں کی تشکیل
سوالات
1۔ بائنری فشن، چندپارگی سے کس طرح مختلف ہے؟
2۔ بذرے کے ذریعے تولید سے عضویے کس طرح استفادہ کرتے ہیں؟
3۔ کیاآپ بتاسکتے ہیں کہ پیچیدہ ساخت والے عضویے بازپیدائش کے ذریعہ نئے افراد کیوں نہیں پیدا کرسکتے؟
4۔ کچھ پودوں کو اگانے کے لیے نباتاتی افزائش کا استعمال کیوں کیا جاتا ہے؟
5۔ تولید کے لیےDNAکی نقل کیوں ضروری ہے؟
8.3 صنفی تولید(Sexual Reproduction)
ہم تولید کے اس طریقے سے بھی واقف ہیں جس میں نئی پیڑھی کو پیدا کرنے کے لیے دو افراد کی شمولیت ضروری ہے۔نہ تو اکیلا بیل (bull)نئے بچھڑے کو جنم دے سکتا ہے اور نہ ہی اکیلی مرغی نئے چوزے پیدا کرسکتی ہے۔ ایسے عضویوں میں نئی پیڑھی کو پیدا کرنے کے لیے نر اور مادہ دونوں صنفوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تولید کے اس صنفی طریقے کی کیا اہمیت ہے؟کیا غیر صنفی تولید کی کچھ خامیاں ہیں جن پر ہم اوپر گفتگو کرچکے ہیں۔
8.3.1 صنفی تولید ہی کیوں؟
(Why the Sexual Mode of Reproduction?)
ایک خلیہ سے دونئے خلیوں کے بننے میں DNA اور خلوی ساخت دونوں کی نقل کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ ہمیں معلو م ہے کہDNAکی نقل کی تکنیک مکمل طور پر صحیح نہیں ہوتی اور نتیجے میں ہونے والی غلطیاں عضویے کی آبادی میں تغیرات کا ذریعہ ہیں۔ ہر ایک انفرادی عضویہ تغیرات کے ذریعہ محفوظ نہیں کیا جاسکتا لیکن کسی آبادی میں انواع کی بقا کو یقینی بنانے کے لیے تغیرات کار آمد ثابت ہوتی ہیں۔ لہٰذا عضویوں میں تولید کا کوئی ایسا طریقہ فائدہ مند ہوگا جس میں زیادہ تغیر پیدا ہوسکے۔
حالانکہ DNAکی نقل کا میکا نزم مکمل طور پر صحیح نہیں ہوتا لیکن اتنا صحیح ہونا ہے کہ اس میں تغیرات سست رفتار سے پیدا ہوتے ہیں ۔ اگر DNAکی نقل کا میکانزم کم صحیح ہو تو بننے والیDNAکی نقلیں خلوی ساخت کے ساتھ تال میل قائم نہیں رکھ پاتیں۔ نتیجتاً خلیہ مرجاتا ہے۔ لہٰذاتغیرات پیدا کرنے کے عمل کو کس طرح رفتار دی جاسکتی ہے؟ہر ایک DNAکی نقل میں نئے تغیرات کے ساتھ ساتھ گذشتہ پیڑھی کے تغیرات بھی جمع ہوتے رہتے ہیں لہٰذا آبادی کے دوعضویوں میں جمع شدہ تغیرات کے پیڑن بھی کافی مختلف ہوں گے کیونکہ یہ سبھی تغیرات جاندار افراد میں ہیں لہٰذا یہ بات طے ہے کہ یہ تغیرات نقصان دہ نہیں ہیں۔ دو یا زیادہ افراد کے تغیرات کے اتحاد سے تغیرات کے نئے اتحاد پیدا ہوتے ہیں کیونکہ اس میں دو مختلف عضویے حصہ لیتے ہیں۔ لہٰذا ہر ایک اتحاد اپنے آپ میں انوکھا ہوگا۔ صنفی تولید میں دو مختلف عضویوں سے حاصل ہونے والا DNAشامل ہوتاہے۔
لیکن یہاں ایک مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اگر ہر ایک نئی پیڑھی میں پہلے سے موجود دو افراد سے DNAکی نقلیں متحد ہوتی رہیں تو ہر ایک نئی پیڑھی میں DNAکی مقدار گذشتہ پیڑھی کے مقابلے دوگنی ہوجائے گی۔اس سے DNAکے ذریعہ خلوی تنظیم پر کنٹرول کمزور پڑنے کا امکان ہے۔اس کے علاوہ ہر ایک پیڑھی میں DNAکی مقدار دوگنی ہوتی گئی تو کچھ عرصے کے بعد اس زمین پر صرف DNAہی ملے گا اور کسی چیز کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔اس مسئلہ کے حل کے لیے ہم کتنے طریقے سوچ سکتے ہیں؟
ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ جیسے جیسے عضویوں میں پیچیدگی بڑھتی جاتی ہے بافتوں کی خصوصیت میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ مذکورہ بالا مسئلہ کا حل کثیر خلوی عضویوں نے اس طرح تلاش کیاکہ ان میںمخصوص اعضا میں خصوصی خلیوں کی پرت ہوتی ہے جس میں عضویہ کے بدنی خلیوں کے مقابلے میں کروموسوم کی تعداد آدھی ہوتی ہے۔ اور DNAکی مقدار بھی آدھی ہوتی ہے۔ یہ کام ایک قسم کی خلوی تقسیم کے ذریعے ہوتا ہے جسے میوسس کہتے ہیں۔اس طرح جب دو افراد کے یہ تولیدی خلیے صنفی تولید کے دوران مل کرفرد بناتے ہیں تو نئی پیڑھی میں کروموسوم اور DNAکی مقدار دوبارہ اصل خلیوں کے برابر ہوجاتی ہے۔
اگر جگتہ (zygote)نمو اور نشوونما کے ذریعہ نئے عضویے کی شکل اختیار کرتا ہے جس میں مخصوص بافت اور اعضا ہوتے تو اس میں توانائی کا ذخیرہ بھی ہونا چاہیے۔ بہت زیادہ سادہ ساخت والے عضویوں کے دو تولیدی خلیوں میں عام طور سے زیادہ فرق نہیں ہوتا اور وہ یکساں بھی ہوسکتے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے جسم کا ڈیزائن پیچیدہ ہوتا جاتا ہے تولیدی خلیے بھی مخصوص ہوتے جاتے ہیں۔ ایک تولیدی خلیہ نسبتاًبڑا ہوتا ہے اور اس میںمناسب غذا موجود ہوتی ہے جبکہ دوسرانسبتاًچھوٹا اور زیادہ متحرک ہوتا ہے۔ متحرک تولیدی خلیہ کو نر زواجہ(male gamete)اور جس خلیہ میں غذا کا ذخیرہ ہوتا ہے اسے مادہ زواجہ(female gamete)کہتے ہیں۔آئندہ کچھ سیکشنوں میں ہم دیکھیں گے کہ ان دونوں اقسام کے زواجوں کی تشکیل کی ضرورت نے نر اور مادہ تولیدی اعضا میں فرق پیدا کیا اور کچھ عضویوں میں نر اور مادہ کے جسمانی فرق کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
8.3.2 پھول والے پودوں میں صنفی تولید
(Sexual Reproduction in Flowering Plants)
اینجیواسپرم کے تولیدی اعضاپھول کے اندر ہوتے ہیں۔ آپ پہلے ہی پھول کےمختلف حصوں کا مطالعہ کرچکے ہیں۔پھول پات(sepals)،پنکھڑیاں(petals)، زرریشہ(stamen)اور مادگین (carpels) پھول کے تولیدی اعضا ہیں جن میں تولیدی خلیے موجود ہوتے ہیں۔ پھول پات اور پنکھڑیوں کے افعال کیا ہوسکتے ہیں؟
اینتھر
فلامینٹ
زرریشہ
پنکھڑی
پھول پات
کلغی
اسٹائل
مادگین
بیض خانہ

جب پھول میں زرریشہ یا مادگین میں سے کوئی ایک تولیدی عضو موجود ہوتا ہے تو پھول یک صنفی (unisexual) کہلاتا ہے۔جیسے پپیتا،تربوز اور جب پھول میں زریشے اور مادگین دونوں موجود ہوتے ہیں (گڑھل اور سرسوں) تو انہیں دوصنفی(bisexual)کہتے ہیں۔ زرریشہ نر تولیدی عضو ہے جس میں زیرہ دانے (pollen grains)بنتے ہیں۔ زیرہ دانے عموماً پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔
جب پھول میں زرریشہ یا مادگین میںسے کوئی ایک تولیدی عضو موجود ہوتا ہے تو پھول یک صنفی (unisexual) کہلاتا ہے۔جیسے پپیتا،تربوز اور جب پھول میں زریشے اور مادگین دونوں موجود ہوتے ہیں (گڑھل اور سرسوں) تو انہیں دوصنفی(bisexual)کہتے ہیں۔ زرریشہ نر تولیدی عضو ہے جس میں زیرہ دانے (pollen grains)بنتے ہیں۔ زیرہ دانے عموماً پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب آپ کسی پھول کے زرریشہ کو چھوتے ہیں تو ہاتھ میں پیلا پائوڈر لگ جاتا ہے۔ مادگین پھول کے مرکز میں موجود ہوتا ہے۔ یہ پھول کا مادہ تولیدی عضو ہے۔ یہ تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ نچلے حصے میں پھولا ہوا بیض خانہ(ovary)ہوتا ہے۔ بیچ میں لمبا حصہ اسٹائل(style)ہے اور بالائی حصہ کلغی (stigma)ہے۔ کلغی عموماً چپچپی ہوتی ہے بیض خانے میں بیضک (ovules)ہوتے ہیں ہر ایک بیضک میں ایک بیضہ(ovum)ہوتا ہے۔ زرریشے کے ذریعے پیدا ہونے والا نر زواجہ بیضک میں موجود مادہ زواجہ میں پیوست ہوجاتا ہے۔ تولیدی زواجوں کی پیوستگی یا باروری (Fertilisation) کے نتیجے میں جگتہ(zygote)بنتا ہے جو نئے پودے کی شکل میںنمو کرنے کے اہل ہوتا ہے۔
اس طرح زیر دانوں کو زرریشہ سے کلغی تک منتقل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر زیرہ دانوں کی یہ منتقلی اسی پھول کی کلغی پرہوتی ہے تو یہ عمل خود زیرگی(self pollination)کہلاتا ہے اور اگر ایک پھول کے زیرہ دانے دوسرے پھول پر منتقل ہوتے ہیں تو اسے پار زیر گی(cross pollination)کہتے ہیں ایک پھول سے دوسرے پھول تک زیرہ دانوں کی یہ منتقلی ہوا پانی یا جانوروں کے ذریعہ ہوتی ہے۔
زیرہ دانے
کلغی
نرتولیدی خلیہ
پولن ٹیوب
بیض خانہ
مادہ تولیدی
خلیہ

جب زیرہ دانہ مناسب کلغی تک پہنچ جاتا ہے تو اس کے بعد اسے مادہ زواجہ تک پہنچنا ہوتا ہے جو بیض خانہ میں ہوتا ہے۔ اس کے لیے زرریشہ سے ایک ٹیوب نکلتی ہے ا ور اسٹائل سے ہوتی ہوئی بیض خانے تک پہنچتی ہے۔
باروری کے بعد جگتہ متعدد مرتبہ تقسیم ہوتا ہے اور بیضک میں جنین (embryo)کی تشکیل کرتاہے۔ بیضک ایک سخت غلاف بناتا ہے اور یہ بیج میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ بیض خانہ تیزی سے نمو کرتا ہے اور پکنے کے بعد پھل بناتا ہے۔ اس دوران پھول پتے پنکھڑیاں، زرریشے اسٹائل اور کلغی مرجھا کر گرجاتے ہیں۔ کیاآپ نے کبھی پھول کے کسی حصے کو پھل کے ساتھ منسلک دیکھا ہے؟ سوچیے، بیجوں کے بننے سے پودوں کو کیا فائدہ ہے۔ بیج میں مستقبل کا پودا اور جنین ہوتا ہے جو مناسب حالات میں ننھے پودے کی شکل میں نشوونما پاتا ہے۔ اس عمل کو کلے پھوٹنا (germination) کہتے ہیں۔
سرگرمی8.7
- چنے کے کچھ بیج لے کر ایک رات کے لیے پانی میں بھگو دیجیے۔
- فالتو پانی کو پھینک دیجیے اور بھیگے ہوئے بیجوں کو گیلے کپڑے سے ڈھک کر ایک دن کے لیے رکھ دیجیے۔ دھیان رہے کہ بیج خشک نہ ہونے پائیں۔
- بیج کوکاٹ کر احتیاط سے کھولیے اور اس کے مختلف حصوں کا مشاہدہ کیجیے۔
- اپنے مشاہدات کا موازنہ شکل8.9سے کیجیے۔ کیا آپ سبھی حصوں کی شناخت کرسکتے ہیں۔
پلومیول
(مستقبل کا تنا)
ریڈیکل
(مستقبل کی جڑ)
بیج پتا
(غذا کا ذخیرہ)

شکل 8.9 جرمینیشن
8.3.3 انسانوں میں تولید(Reproduction in Human Beings)
اب تک ہم نے مختلف انواع میں تولید کے مختلف طریقوں پر گفتگو کی ہے۔ آئیے اب ہم اس نوع کے بارے میں جانیں جس میں ہماری دلچسپی سب سے زیادہ ہے اور وہ ہے انسان۔ انسانوں میں صنفی تولید ہوتی ہے۔ یہ عمل کس طرح کام کرتا ہے؟
آئیے ایک ایسے نقطے سے شروع کرتے ہیں جو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمل تولید سے وابستہ نہیں ہے۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ عمر کے ساتھ ساتھ ہمارے جسم میں کچھ تبدیلیاں آتی ہیں۔ آپ آٹھویں جماعت میں ان تبدیلیوں کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ دوسری کلاس سے دسویں کلاس تک پہنچتے پہنچتے ہماری لمبائی اور وزن میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ہمارے جو دانت ٹوٹ جاتے ہیں وہ دودھ کے دانت کہلاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے دانت نکل آتے ہیں۔ ان تمام تبدیلیوں کو نمو کے عام عمل کے تحت رکھ سکتے ہیں جس میں جسمانی نمو ہوتی ہے۔ لیکن بلوغت کے ابتدائی برسوں میں کچھ ایسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جنھیں صرف جسمانی نمو نہیں کہا جاسکتا۔ البتہ جسمانی خد وخال میں تبدیلی آتی ہے۔ نئی خصو صیات اور نئے احساسات ظاہر ہونے لگتے ہیں۔
ان میں سے کچھ تبدیلیاں تو لڑکوں اور لڑکیوں میں یکساں ہوتی ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ جسم کے کچھ نئے حصوں مثلاً بغل میں اور زیر ناف بال اگنے لگتے ہیں اور ان کا رنگ بھی گہرا ہوجاتا ہے۔ ہاتھ، پا=ں اور چہرے پر بھی باریک روئیں نکل آتے ہیں۔ جلد عموماً چکنی ہوجاتی ہے اور بعض اوقات مہاسے بھی نکل آتے ہیں ۔ہم اپنے اور دوسروں کے تئیں زیادہ بیدارہو جاتے ہیں۔
دوسری طرف کچھ ایسی بھی تبدیلیاں ہیں جولڑکوں اور لڑکیوں میں مختلف ہوتی ہیں۔ لڑکیوں میں پستان کے سائز میں اضافہ ہونے لگتا ہے اور پستان کے سروں (nipples)کی جلد کا رنگ گہرا ہونے لگتا ہے۔ اس دوران لڑکیوں میں حیض کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ لڑکوں کے چہرے پر داڑھی مونچھیں نکل آتی ہیں اور ان کی آواز بھاری ہونے لگتی ہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ رات کے وقت یا دن میں خواب کی حالت میں قضیب (penis)اکثر سخت اور لمبا ہوجاتا ہے یہ تمام تبدیلیاں مہینوں یا برسوں کی مدت میں سست رفتار سے واقع ہوتی ہیں۔ یہ تمام تبدیلیاں تمام افراد میں ایک ہی وقت یا ایک خاص عمر میں رونما نہیں ہوتیں۔کچھ لوگوںمیں یہ تبدیلیاں کم عمرمیں اور تیزی کے ساتھ رونما ہوتی ہیں جبکہ دوسرے افراد میں بہت سست رفتار سے رونما ہوتی ہیں۔ ہر ایک تبدیلی تیزی کے ساتھ مکمل ہو ایسا بھی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر لڑکوں کے چہرے پر پہلے کہیں کہیں موٹے بال نظر آتے ہیں پھر آہستہ آہستہ نمو کرکے ایک جیسے ہوجاتے ہیں پھر بھی یہ تمام تبدیلیاں مختلف لوگوں میں مختلف ہوتی ہیں جس طرح ہمارے ناک نقشے علاحدہ علاحدہ ہیں اس طرح ان بالوں میں نمو کا پیڑن، پستان(breast)یا قضیب(penis)کی شکل اور سائز بھی مختلف ہوتے ہیں۔ یہ تمام تبدیلیاں جسم کی جنسی پختگی کے پہلو ہیں۔
اس عمر میں جسم میں جنسی پختگی کیوں ظاہر ہوتی ہے؟ ہم پہلے ہی اس بات پر گفتگو کرچکے ہیں کہ ہمارے جیسے کثیر خلوی عضویوں کومخصوص کاموں کو انجام دینے کے لیے مخصوص قسم کے خلیے درکار ہوتے ہیں۔ صنفی تولید میں حصہ لینے کے لیے تولیدی خلیوں کی تشکیل اسی قسم کا ایک مخصوص کام ہے اور ہم دیکھ چکے ہیں کہ پودوں میں بھی اس کام کے لیے مخصوص قسم کے خلیے اور بافت بنتے ہیں۔ انسانوں میں بھی اس مقصد کے لیے مخصوص یافت کا فروغ پاتے ہیں۔ حالانکہ جس دوران کسی انفرادی عضویے کے جسم میں بالغ ہونے کے لیے نمو ہوتی ہے جسم کے وسائل خاص طور سے اس نمو کے حصول میں مصروف رہتے ہیں۔ اس عمل کے جاری رہنے کی صورت میں تولیدی بافتوں کی پختگی کو فوقیت نہیں دی جاتی۔ لہٰذا جیسے جیسے جسم کی عام شرح نمو سست ہونے لگتی ہیں تولیدی بافت پختہ ہونے لگتے ہیں۔ نوجوانی کی یہ عمر سن بلوغ(puberty)کہلاتی ہے۔
لہٰذا وہ تمام تبدیلیاں جن پر ہم نے گفتگو کی ہے وہ عمل تولید سے کس طرح وابستہ ہیں؟ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ صنفی تولید کا مطلب ہے دو مختلف افراد کے تولیدی خلیوں کی آپس میں پیوستگی۔ یہ عمل تولیدی خلیوں کے جسم سے باہر خارج ہونے پر بھی انجام دیا جاسکتا ہے جیسا کہ پھول بردار پودوں میں ہوتاہے یا دو افراد کے جسمانی تعلق کے ذریعہ جسم کے اندر تو لیدی خلیوں کو منتقل کرکے انجام دیا جاسکتا ہے جیسا کہ اکثر جانوروں میں ہوتا ہے۔ جانوروں کو جب جسمانی تعلق قائم کرنا ہے تو یہ دیگر افراد ان کی جنسی پختگی کی شناخت کر ہی لیتے ہیں۔سن بلوغ کے دوران کئی تبدیلیاں مثلاً بالوں کے نمو کے نئے پیڑن اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جنسی پختگی آرہی ہے۔
دوسری طرف، دو لوگوں کے درمیان تولیدی خلیوں کو منتقل کرنے کی غرض سے جنسی عمل انجام دینے کے لیے مخصوص اعضا کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر عضو تناسل میں سخت ہونے کی صلاحیت۔انسان جیسے پستانیوں میں بچہ لمبے عرصے تک ماں کے جسم میں رہتاہے پیدائش کے بعد ماں کا دودھ پیتا ہے۔ ان مقاصد کے لیے مادہ کے تولیدی اعضا اور پستان کی پختگی ضروری ہے۔ آئیے صنفی تولید میں شامل نظاموں کا جائزہ لیتے ہیں۔
8.3.3 (a) نرتولیدی نظام(Male Reproductive System)
تولیدی خلیوں کو پیدا کرنے والے حصے اور تولیدی خلیوں کو باروری کے مقام تک لے جانے والے اعضا مل کر نرتولیدی نظام(male reproductive system)کی تشکیل کرتے ہیں (شکل8.10)۔
نر تولیدی خلیوں یا اسپرم (sperm)کی تشکیل انثیوں (testes)میں ہوتی ہے۔ یہ شکمی جوف کے باہر انثیہ تھیلی (scrotum) کے اندر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسپرم پیدا کرنے کے لیے جو درجۂ حرارت درکار ہوتا ہے وہ جسم کے درجۂ حرارت سے کم ہونا چاہیے۔ ٹیسٹواسٹیران ہارمون کے افراز میں انثیوں کے کردار پر ہم گذشتہ باب میں بحث کرچکے ہیں۔ اسپرم کی تشکیل کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیسٹو اسٹیران لڑکوں میں سن بلوغ کے وقت ہونے والی تبدیلیوں کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔
پیدا ہونے والے اسپرم کی ڈلیوری واس ڈفرینس(vas deferens)کے ذریعہ ہوتی ہے۔ یہ واس ڈفرینس مثانہ سے آنے والی نلی سے منسلک ہوجاتی ہے۔ اس طرح مبال (urethra)اسپرم اور پیشاب دونوں کے خارج ہونے کا راستہ ہے۔ پراسٹیٹ (prostate)اور سیمینل ویسیکل (seminal vesicles)جیسے غدود اپنے افراز کو واس ڈفرینس میں چھوڑ دیتے ہیں جس سے اسپرم سیالی میڈیم میں آجاتے ہیں۔ اس طرح ان کی نقل وحمل آسان ہوجاتی ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ یہ سیال انہیں تغذیہ بھی فراہم کرتا ہے۔ اسپرم بہت چھوٹی ساختیں ہیں جس میں خاص طورسے جینیاتی مادہ (genetic material)ہوتا ہے اور ایک لمبی دم ہوتی ہے جو انہیں مادہ تولیدی خلیوں کی طرف تیرنے میں مدد کرتی ہے۔
سیمینل
بلیڈر
پراسٹیٹ غدود
قضیب
مبال
اسکروڈمالب
واس ڈفرینس
انشیے
مبال

8.3.3 (b) مادہ تولیدی نظام
(Female Reproductive System)
مادہ تولیدی خلیوں یا بیضوں کی تشکیل بیض دان(ovary)میں ہوتی ہے۔ بیض دان سے ہارمون کا بھی افراز ہوتا ہے )شکل(8.11کو دیکھیے اور مادہ تولیدی نظام کے مختلف اعضا کی شناخت کیجیے۔
بیض نالی
فیلوپین ٹیوب
بیض دان
رحم
سروکس
فرج

جب لڑکی کی پیدائش ہوتی ہے تو بیض دانوں میں پہلے ہی سے ہزاروں خام بیضے موجود ہوتے ہیں۔ سن بلوغ کو پہنچنے پر ان میں سے کچھ بیضوں میں پختگی آنے لگتی ہے۔ ہر ماہ دونوں بیض دانوں میں سے ایک بیض دان میں ایک بیضہ پیدا ہوتا ہے۔ اس بیضے کو ایک پتلی بیض نالی یا فیلوپین ٹیوب(fallopian tube) بیض دان سے رحم میں لے جاتی ہے۔ دونوں بیض نالیاں متحد ہو کر ایک لچک دار تھیلے نما ساخت کی تشکیل کرتی ہیں جسے رحم(uterus)کہتے ہیں۔ رحم سروکس(cervix)کے ذریعہ فرج(vagina)میں کھلتا ہے۔
جنسی اختلاط کے دوران اسپرم فرج میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں سے یہ اوپر کی طرف سفر کرتے ہوئے بیض نالی تک پہنچ جاتے ہیں جہاں یہ بیضہ سے مل سکتے ہیں۔ بارور بیضہ (زائگوٹ) تقسیم ہونے لگتا ہے اور خلیوں کی ایک گیند/ بن جاتی ہے جسے جیسی ساخت جنین کہتے ہیں۔ جنین رحم کی دیوار میں نصب ہوجاتا ہے جہاں یہ جنین مخلقہ بننے تک مسلسل طور پر نشوونما پاتا ہے ہم پہلے ہی مطالعہ کر چکے ہیں کہ ماں کے جسم کا ڈیزائن بچے کی نشوونما کے لیے نہایت موزوں ہوتا ہے لہٰذا رحم ہر مہینے جنین(embryo)کو حاصل کرنے ا ور اس کی پرورش کے لیے تیاری کرتا ہے۔ اس کا اندرونی استر موٹا ہوتا جاتا ہے اور جنین کی پرورش کے لیے خون کی سپلائی میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔
جنین کو ماں کے خون سے تغذیہ حاصل ہوتا ہے۔ یہ کام ایک مخصوص بافت کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے جسے پلیسنٹا (placenta)کہتے ہیں۔ یہ ایک ڈسک جیسی ساخت ہے جورحم کی دیوار میں پیوست رہتی ہے۔ اس میں جنین کی طرف کے بافت میں ابھار(vilii)ہوتے ہیں۔ ماں کی طرف والے حصہ میں دموی جگہیں(blood spaces)ہوتی ہیں جو ان ابھاروں کوگھیرے رہتی ہیں۔ یہ ماں سے جنین کے لیے گلوکوز آکسیجن اور دیگر مادوں کی فراہمی کے لیے زیادہ سطحی رقبہ فراہم کرتے ہیں۔ نشوونما پارہا جنین فضلاتی مادے بھی پیدا کرتا ہے۔ ان مادوں کو پلیسینٹا کے ذریعہ ماں کے خون میں منتقل کرکے باہر نکالا جاتا ہے۔ ماں کے جسم میں بچے کی نشوونما میں تقریباً نو ما ہ کا وقت لگ جاتا ہے۔ رحم کے عضلات کے باقاعدہ انداز میں سکڑنے کے نتیجے میں بچے کی ولادت ہوتی ہے۔
8.3.3 (c) جب بیضہ کی باروری نہیں ہوتی ہے توکیا ہوتا ہے
(What happens when the Egg is not Fertilised?)
اگر بیضہ کی باروری نہ ہوتو تقریباً ایک دن تک زندہ رہتاہے۔ کیونکہ بیض دان ہر ماہ ایک بیضہ خارج کرتا ہے لہٰذا بارآور انڈے کو حاصل کرنے کے لیے رحم بھی ہر مہینے تیار ی کرتاہے اور اس کا استر موٹا اور اسپنج کے جیسا ہوجاتا ہے۔ یہ بیضہ کے باور ہونے کی صورت میں اس کی پرورش کے لیے ضروری ہے۔ لیکن باوری نہ ہونے کی صورت میں اس استر کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہ آہستہ آہستہ ٹوٹ کر فرج کے ذریعہ خون اور مخاط کی شکل میں خارج ہوجاتا ہے۔ یہ دور ایک ماہ میں مکمل ہوتا ہے اسے حیض(menstruation)کہتے ہیں۔ حیض دو سے آٹھ یوم تک چلتا ہے۔
8.3.3 (d) تولیدی صحت(Reproductive Health)
جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں جنسی پختگی ایک بتدریج عمل ہے ۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب جسمانی نمو کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔ لہٰذا کسی حدتک جنسی پختگی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جسم یادماغ جنسی اختلاط اور بچے پیدا کرنے کے اہل ہو چکے ہیں۔ ہم اس بات کا یقین کس طرح کرتے ہیں کہ جسم یا دماغ اس اہم ذمّہ داری کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔ اس سلسلے میں ہم سبھی کے اوپر کسی نہ کسی طرح کا دباؤرہتا ہے۔ اس کام کے لیے ہمارے دوستوں کی طرف سے بھی دباؤ ہوسکتا ہے بھلے ہی ہم چاہیں یا نہ چاہیں۔ شادی اور اولاد کے حصول کے لیے فیملی کی طرف سے بھی دباؤ ہوسکتا ہے۔ سرکار کی طرف سے بھی یہ دباؤ ہوسکتا ہے کہ بچوں کی ولادت سے پرہیز کیا جائے۔ ایسی حالت میں کوئی فیصلہ کرنا کافی مشکل ہوسکتا ہے۔
جنسی اختلاط کی وجہ سے صحت پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں میں بھی ہمیں سوچنا چاہیے۔ ہم نویں جماعت میں مطالعہ کرچکے ہیں کہ ایک شخص سے دوسرے شخص میں کئی طریقوں سے بیماریوں کی ترسیل ہوسکتی ہے۔ کیونکہ جنسی اختلاط کے دوران کافی گہرا جسمانی تعلق قائم ہوتاہے لہٰذا اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ کئی بیماریاں جنسی طور پر ترسیل ہوسکتی ہیں۔ اس میں بیکٹیریا سے ہونے والی بیماریاں مثلاً سوزاک (gonorrhoea) اور آتشک (syphilis)نیز مسّے(wart)اور HIV-AIDSجنسی وائرس سے پھیلنے والی بیماریاں شامل ہیں۔ جنسی مباشرت کے دوران کیا ان بیماریوں کی ترسیل کو روک پانا ممکن ہے؟ مباشرت کے دوران قضیب (penis) پر کنڈوم (condom) کا استعمال کرنے سے ان تعدیوں کی ترسیل کو کافی حدتک روکا جاسکتا ہے۔
جنسی تعلقات قائم کرنے سے حمل ٹھہرنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ حمل ٹھہرنے کی صورت میں عورت کے جسم اور ذہن پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور اگر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہے تو یقینا اس کی صحت متاثر ہوگی۔ لہٰذا حمل کو روکنے کے کئی طریقے تلاش کیے گئے ہیں۔ یہ مانع حمل طریقے کئی قسم کے ہوسکتے ہیں۔ ایک طریقے کے تحت میکانیکی رکاوٹ پیدا کی جاتی ہے تاکہ اسپرم بیضہ تک نہ پہنچنے پائیں۔ تناسلی عضوپر کنڈوم کا استعمال یا فرج میں اسی قسم کے غلاف کا استعمال اس مقصد کے حصول میں معاون ہو سکتا ہے۔ مانع حمل کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جسم میں ہارمون کے توازن کو تبدیل کردیا جاتاہے تاکہ بیضہ خارج نہ ہوسکے اور باروری کا عمل نہ ہونے پائے۔یہ دوائیں عام طور پر گولیوں کی شکل میں لی جاتی ہیں۔
چونکہ یہ دوائیں ہارمون کے توازن کو تبدیل کرتی ہیں لہٰذا ان کے کچھ منفی اثرات بھی ہوسکتے ہیں۔ حمل کو روکنے کے لیے کچھ دوسرے مانع حمل آلات مثلاً لوپ یا کاپرٹی(Copper-T)کو رحم میں رکھ دیا جاتاہے۔ لیکن رحم میں سوزش کی وجہ سے ان کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اگر مرد کے واس ڈفرینس میں رکاوٹ پیدا کردی جائے تو اسپرم کے انتقال کو روکا جاسکتا ہے۔ اگر عورت کی فیلوپین ٹیوب میں رکاوٹ پیدا کردی جائے تو بیـضہ رحم میں نہیں پہنچ پائے گا۔دونوں ہی صورتوں میں فرٹیلائزیشن نہیں ہوگا۔ سرجری کے ذریعہ اس قسم کی رکاوٹ پیدا کی جاسکتی ہے۔ حالانکہ سرجری لمبے عرصے کے لیے ایک محفوظ تکنیک ہے لیکن سرجری کو اگر صحیح طریقے سے انجام نہ دیا جائے تو اس سے انفیکشن اور دیگر کئی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ سرجری کے ذریعہ اسقاط حمل بھی کیا جاسکتا ہے اس طریقے کا وہ لوگ غلط استعمال کرسکتے ہیں جو کسی مخصوص جنس کا بچہ نہیں چاہتے جیسا کہ مادہ جنین کے اسقاط حمل میں کیا جاتاہے جوکہ غیر قانونی ہے۔
ایک صحت مندسماج کے لیے مادہ۔ نر جنسی تناسب کو بنائے رکھنا ضروری ہے۔ حالانکہ ہمارے ملک میں جنین کا جنسی تعین غیر قانونی ہے پھر بھی ہمارے سماج کے کچھ حصوں میں مادہ جنین کشی(female foeticides)کی وجہ سے بچوں میں جنسی تناسب بہت تیزی سے کم ہورہاہے جوکہ باعث تشویش ہے۔
ہم پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ تولید ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعہ جاندار اپنی آبادی میں اضافہ کرتے ہیں۔کسی آبادی میں شرح پیدائش اور شرح اموات اس کے سائز کا تعین کرتے ہیں۔ بہت زیادہ آبادی کئی لوگوں کے لیے تشویش کی بات ہے۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ہر ایک فرد کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ایک مشکل کام ہے۔ اگر سماجی عدم مساوات ہمارے سماج کے لوگوں کے کمزور معیار زندگی کے لیے ذمہ دار ہے تو آبادی کے سائزکی اہمیت اس کے لیے کم ہوجاتی ہے۔ اگر ہم اپنے اطراف پر نظر ڈالیں تو کیا آپ زندگی کے کمزور معیار کے اہم اسباب کاپتہ لگا سکتے ہیں
سوالات
1۔ زیرگی کا عمل باروری سے کس طرح مختلف ہے؟
2۔ سیمینل ویسیکل اور پراسٹیٹ غدود کا کیا کام ہے؟
3۔ سن بلوغ کے وقت لڑکیوں میں کون سی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں؟
4۔ ماں کے جسم میں جنین کو تغدیہ کس طرح حاصل ہوتا ہے؟
5۔ اگر کوئی عورت کا پر Tکا استعمال کررہی ہے تو کیا یہ اس کی جنسی طور پر ترسیل ہونے والی بیماریوں سے حفاظت کرے گی؟
آپ نے کیا سیکھا
◊ دیگر اعمال زندگی کے برعکس عمل تولیدکسی انفرادی عضویے کی زندگی کے رکھ رکھاؤکے لیے ضروری نہیں ہے۔
◊ عمل تولید میں DNA کی نقل اور عمل میں ملوث خلیہ کے ذریعہ اضافی خلوی آلات کی تخلیق شامل ہے۔
◊ مختلف عضویے اپنی جسمانی ساخت کے اعتبار سے تولید کے مختلف طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔
◊ انشقاق میں کئی بیکٹریا اور پروٹوزوا سادہ طریقے سے دو یا زیادہ دختر خلیوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔
◊ ہائڈرا جیسے عضویوں کو اگر ٹکڑوں میں توڑ دیا جائے تو ان کی باز پیدائش ہو جاتی ہے۔ یہ اپنے جسم سے کلی جیسا ابھار پیدا کر سکتے ہیں جو نئے افراد کی شکل میں نمو پاتا ہے۔
◊ کچھ پودوں کی پتیوں، تنوں اور جڑوں سے نباتاتی افزائش کے ذریعہ نئے پودے پیدا ہوتے ہیں۔
◊ جب نئی پیڑھی کی تخلیق واحد فرد کے ذریعہ ہوتی ہے تو یہ غیر صنفی تولید کہلاتی ہے۔
◊ صنفی تولید میں نئے افراد کی تخلیق دو افراد کے ذریعہ ہوتی ہے۔
◊ DNA کی نقل کا میکانزم تغیرات کا سبب ہے جو کہ انواع کی بقا کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ صنفی تولید کے نتیجے میں بہت زیادہ تغیرات پیدا ہوتے ہیں۔
◊ پھول بردار پودوں میں تولیدی عمل کے دوران زیرہ دانے زر ریشہ سے کلغی پر منتقل ہو جاتے ہیں جسے زیرگی کہتے ہیں۔ اس کے بعد باروری ہوتی ہے۔
◊ سن بلوغ کے دوران جسم میں ہونے والی تبدیلیاں مثلاً لڑکیوں میں پستان کے سائز میں اضافہ، لڑکوں میں ان کے چہرے پر بالو کا نکلنا جنسی پختگی کی علامات ہیں۔
◊ انسانوں میں نر تولیدی نظام انثیوں (جو کہ اسپرم پیدا کرتے ہیں)، واس ڈیفرینس سیمینل ویسیکل، پراسٹیٹ غدود، مبال اور قضیب (Penis) پر مشتمل ہوتا ہے۔
◊ انسانوں میں مادہ تولیدی نظام بیض دان، فیلوپین ٹیوب، رحم اور فرج پر مشتمل ہوتا ہے۔
◊ انسانوں میں صنفی تولید کے دوران مادہ کی فرج میں اسپرم کو پہنچایا جاتا ہے باروری کا عمل فیلوپین ٹیوب میں ہوتا ہے۔
◊ کنڈوم، کھانے کی گولیاں، کاپر -T اور دیگر طریقوں کا استعمال مانع حمل کے طور پر کیا جاتا ہے۔
مشقیں
1۔ کلیانا کے ذریعہ غیر صنفی تولید مندرجہ ذیل میں سے کس میں ہوتی ہے؟
(a) امیبا (b) ایسٹ (c) پلازوموڈیم (d) لیشمانیا
2۔ مندرجہ ذیل میں سے کون انسانوں میں مادہ تولیدی نظام کا حصہ نہیں ہے؟
(a) بیض دا ن (b) رحم (c) واس ڈیفرینس (d) فیلوپین ٹیوب
3۔ زیرہ دان (Anther) میں ہوتا ہے:
(a) پنکھڑیاں (b) بیضک (c) پھول پات (d) زیرہ د انے
4۔ غیر صنفی تولید کے مقابلے میں صنفی تولید کی افادیت بیان کیجیے۔
5۔ انسانوں میں انثیوں کے افعال بیان کیجیے۔
6۔ حیض کا سبب بیان کیجیے۔
7۔ پھول کی عمودی تراش کا لیبل شدہ ڈائیگرام بنائیے۔
8۔ مانع حمل کے مختلف طریقے کیا کیا ہیں؟
9۔ یک خلوی اور کثیر خلوی عضویوں میں تولید کے طریقوں میں کیا فرق ہے؟
10۔ انواع کی آبادی کو استحکام عطا کرنے کے لیے تولید کا عمل کس طرح معاون ہے؟
11۔ مانع حمل طریقوں کو اختیار کرنے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟