
باب 9

توریث اور ارتقا
(Heredity and Evolution)
ہم نے دیکھا کہ تولیدی عمل کے ذریعہ نئے افراد پیدا ہوتے ہیں جو ایک جیسے ہوتے ہیں، لیکن ان میں تھوڑا بہت فرق بھی ہوتا ہے۔ ہم نے بحث کی ہے کہ کس طرح غیر صنفی تولید کے دوران بھی کچھ تغیرات پیدا ہوتے ہیں۔ اور صنفی تولید کے ذریعہ کامیاب تغیرات زیادہ سے زیادہ تعداد میں پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ہم ایک گنے کے کھیت کا مشاہدہ کریں تو ہمیں انفرادی پودوں کے درمیان تھوڑا بہت فرق نظر آتا ہے۔ لیکن متعدد حیوانات جن میں انسان بھی شامل ہے، جو صنفی تولید کرتے ہیں، مختلف افراد کے درمیان بالکل واضح فرق نظر آتے ہیں۔ اس باب میں ہم ان طریقۂ کار کا مطالعہ کریں گے جن کے ذریعہ تغیرات (Variations)پیدا ہوتے ہیں اور ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کیے ہوجاتے ہیں۔ تغیرات کے مجتمع ہونے کے طویل مدتی نتائج بھی ایک دلچسپ نقطہ ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کا مطالعہ ہم ارتقا (Evolution) کے تحت کریں گے۔
9.1 تولید کے دوران تغیرات کا اجتماع
(Accumulation of Variation during reproduction)
گذشتہ نسل سے وراثت دونوں چیزیں فراہم کرتی ہیں۔ ایک بنیادی جسمانی ڈیزائن اور دوسری نسل کے لیے اس میں معمولی تبدیلیاں۔ اب ذرا سوچیے کہ جب یہ نئی نسل تولید کرے گی تو کیا ہوگا۔ دوسری نسل میں پہلی نسل سے وراثت میں تغیرات حاصل ہوں گے اور ساتھ ہی ساتھ نئے تغیرات بھی پیدا ہوں گے(شکل9.1)۔
شکل9.1میں ان حالات کو ظاہر کیا گیا ہے جس میں کوئی اکیلا فرد یا عضویہ تولیدی عمل کرتا ہے، جیسا کہ غیر جنسی تولید میں ہوتا ہے۔ اگر ایک جراثیم میں تقسیم ہوتی ہے، اور حاصل شدہ دونوں جراثیم پھر تقسیم ہوتے ہیں تو چار تولید کی شمولیت ہو تو اس سے بھی زیادہ تغیرات پیدا ہوں گے۔ جیسا کہ ہم توریث کے قوانین کے مطالعہ کے دوران پڑھیں گے۔منفردجرثومہ جو پیدا ہوئے وہ بہت حد تک ایک جیسے ہوں گے۔ ان کے درمیان صرف بہت تھوڑا فرق ہوگا جو DNA کی نقل کے عمل میں تھوڑے سے نقص کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ حالانکہ، اگر جنسی

شکل 9.1
متواتر نسلوں میں تغیرات کی تخلیق۔اصل عضویہ جو سب سے اوپر ہے،مان لیجیے دو افراد تیار کرے گا،دونوں کے جسمانی ڈیزائن یکساں ہیں مگر تھوڑا فرق ہے ۔اگلی نسل میں دونوں کے دونوں دو۔دو افراد پیدا کریں گے۔نچلی قطار میں چاروں کے چاروں افراد ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے۔ جب کہ ان میں کچھ تغیرات یکساں ہوں گے ۔جب کی کچھ تغیرات انہیں اپنے والدین سے وراثت میں ملیں گے جو ایک دوسرے سے مختلف ہیں
کیا کسی نوع میں ان سبھی تغیرات کے ساتھ اپنے ماحول میں زندہ رہنے کے امکانات مساوی ہیں؟ واضح طورپر نہیں۔ تغیرات کی نوعیت پر منحصر، مختلف افراد کو مختلف قسم کے فائدے ہوں گے۔ وہ جراثیم جو گرمی کو برداشت کرسکتے ہیں وہ گرمی کے موسم میں بہتر طریقہ سے باقی رہیں گے، ماحولیاتی عوامل کے ذریعہ حاصل ہونے والے تغیرات کا انتخاب عمل ارتقا کی بنیاد تشکیل دیتا ہے، جیسا کہ ہم بعد کے سیکشن میں مطالعہ کریں گے۔
سوالات
1۔ اگر صفتAکسی غیر صنفی تولید والی نوع کی آبادی کے 10%افراد میں موجود ہے اور صفت B اسی آبادی کے 60%افراد میں، تو کون سی صفت ممکنہ طو رپر پہلے پیدا ہوئی ہوگی؟
2۔ کسی نوع میں تغیر کی تخلیق شس طرح اس کی بقا کو بڑھاوا دیتی ہے۔
توریث (Heredity) 9.2
تولیدی عمل کا سب سے اہم نتیجہ ابھی بھی یکساں ڈیزائن والے افراد کی پیداوار ہے۔ توریث کے قوانین ان عملوں کا تعین کرتے ہیں جن کے ذریعہ خصوصیات ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی ہیں۔ آئیے ان قوانین کا غور مطالعہ کریں۔
توریثی خصوصیات (Inherited Traits)
یکسانیت اور تغیرات سے درحقیقت ہماری کیا مراد ہے؟ ہم جانتے ہیںکہ ایک بچے کے اندر انسان کی تمام بنیادی خصوصیات ہوتی ہیں۔ حالانکہ، وہ اپنے والدین سے مکمل طور پر مشابہت نہیں رکھتا اور انسانی آبادی میں بہت زیادہ تغیرات نظر آتے ہیں۔

شکل 9.2
آزاد اور جڑی ہوئی کان کی لو، کان کا سب سے نچلا حصہ جسے لو کہتے ہیں وہ ہم میں سے کچھ لوگوں کے سر کے کنارے والے حصہ سے جڑا ہوتا ہے جبکہ کچھ میں یہ جڑا ہوا نہیں ہوتا۔ آزاد اور جڑی ہوئی کان کی لو انسانی آبادی میں پائےجانےوالے دو تغیرات ہیں۔
سرگرمی9.1
اپنی کلاس کے سبھی بچوں کے کان کا مشاہدہ کیجیے۔ ان طالب عملوں کی فہرست بنائیے جن کے کان کی لو آزاد ہو یا جڑی ہوئی ہو اور ان دونوں قسم کے طالب علموں کی فیصد معلوم کیجیے (شکل 9.2)۔ کلاس کے ہر بچے کے والدین کے کانوں کی لو کے متعلق معلومات حاصل کیجیے۔ ہر بچے کے کان کی لو کی قسم اور ان کے والدین کے کان کی لو کی قسم کے درمیان تعلق قائم کیجیے۔ اس ثبوت کی بنیاد پر کان کے لو کی توریث کے لیے ایک ممکنہ قانون کامشورہ دیجیے۔
9.2.2
خصوصیات کی توریث کے لیے قوانین - مینڈل کا تعاون
(Rules for Inheritance of Traits- Mendel's Cantributions)
انسانوں میں خصوصیات کی توریث کے قوانین اس حقیقت پر مبنی ہیں کہ ماں اور باپ دونوں اپنے بچوں کو عملی طو رپر مساوی مقدار میں جینیٹک مادہ فراہم کرتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر صفت ماں اور باپ دونوں کے DNA سے متاثر ہو سکتی ہے۔ تب، پھر بچے میں کون سی صفت ظاہر ہوگی؟ مینڈل (باکس دیکھیے) نے اس طرح کی توریث کے لیے اہم قوانین تیار کیے اور ان کے کچھ تجربات جو ایک صدی سے زائد پہلے کیے گئے۔ ان پر نظر ڈالنا بہت ہی دلچسپ ہوگا۔
گریگر جان مینڈل (1822-188
مینڈل کی تعلیم ایک خانقاہ (Monastery) میں ہوئی۔ سائنس اور ریاضی کا مطالعہ کرنے کے لیے وہ وینیا یونیورسٹی گئے۔ تدریسی سرٹیفیکٹ کے امتحانات میں ناکام ہونے کے بعد بھی سائنسی علم کے حصول کے لیے ان کی فکر کم نہیں ہوئی۔ وہ اپنی خانقاہ واپس گئے اور مٹراگانا شروع کیا۔مٹر اوردوسرے عضویوں میں خصوصیات کی توریث کا مطالعہ کئی دوسرے لوگوں نے بھی ان سے پہلے کیا تھا، لیکن مینڈل نے اپنے سائنس اور حساب کے علم کو یکجا کیا اور وہ پہلے سائنسداں بنے جنھوں نے ہر ایک پیڑھی کے ایک ایک فرد کے ذریعے ظاہر کی جانے والی خصوصیات کا ریکارڈ رکھا اور انہیں شمار کیا۔ اس کی مدد سے انھوں نے توریث کے قوانین (Laws of Inheritance) پیش کیے جس کا مطالعہ ہم نے اصل متن میں کیا۔

مینڈل نے مٹر کے پودے کی کئی تقابلی ظاہری خصوصیات (Contarsting visible Charactor) کا استعمال کیا—گول؍ جھری دار بیج، لمبا؍بونا پودا، سفید؍ بینگنی پھول وغیرہ وغیرہ۔ انھوں نے مٹر کے ایسے پودے لیے جن میں مختلف خصوصیات تھیں۔ ایک لمبا پودا اور ایک بونا پودا، ان کی کراسنگ سے حاصل ہونے والی پیڑھی میں لمبے اور بونے پودوں کی فیصد معلوم کی۔
پہلے مرحلہ میں، پہلی نسل یا F1نسل میں کوئی درمیانی خصوصیات نہیں تھی یعنی کوئی پودا درمیانی اونچائی کا نہیں تھا۔ سبھی پودے لمبے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ والدین میں سے صرف ایک کی ہی صفت نظر آئی، ان دونوں کی مجموعی خصوصیات ظاہر نہیں ہوئیں۔ اس لیے اگلا سوال یہ تھا کہ، کیاF2نسل کے لمبے پودے والدین نسل کے لمبے پودوں کے بالکل مشابہ ہیں؟ مینڈل نے تجربہ کے ذریعہ اس بات کی جانچ کی۔ اس کے لیے انھوں نے دونوں قسم کے پودوں یعنی لمبے تھے۔ لیکنF1 پیڑھی کے لمبے پودوں کی دوسری نسل یا F2نسل میں سبھی کے سبھی لمبے نہیں تھے۔ بلکہ، ایک چوتھائی بونے پودے تھے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ F1پودوں میں لمبے او ربونے دونوں پودوں کی خصوصیات وراثت میں آئی تھیں، لیکن ان میں سے صرف لمبے پن کی خاصیت ظاہر ہوئی۔ اس بنیاد پر منیڈل نے یہ تجویز کیا کہ خصوصیات کو کنٹرول کرنے والے عوامل (جنہیں اب جین کہتے ہیں) کی دو نقلیں موجود ہوتی ہیںاور مختلف بھی، جو ولدیت پر منحصر کرتا ہے۔ وراثت کا ایک پیٹرن اس خیال کے ساتھ تیار کیا جاسکتا ہے جیسا کہ شکل 9.3میں دکھایا گیا ہے۔ والدین پودوں اورF1لمبے پودوں میں خود زیرگی (Self Polination) کے ذریعہ تولید کرائی۔ والدین پودے کی نسل میں سبھی کے سبھی

شکل 9.3 دو نسلوں میں صفات کی وراثت
سرگرمی 9.2
شکل9.3میں، یہ ثابت کرنے کے لیے کہ F2نسل میںTT، Ttاور tt اتحادی صفت والے پودوں کا تناسب 1:2:1 ہے ہمیں کون سا تجربہ کرنا چاہیے؟
اس وضاحت میں دونوں TT اور Tt لمبے پودے ہیں، جب کہ صرفtt بونا پودا ہے۔ دوسرے لفظوں میں 'T'کی اکیلی نقل پودے کو لمبا بنانے کے لیے کافی ہے جب کہ پودے کو بونا بنانے کے لیے دونوں نقلوں کا 't' ہونا لازمی ہے۔ 'T' جیسی صفات کو غالب (Dominat Traits) کہا جاتا ہے جب کہ وہ صفات جو't' کی طرح طرز عمل ظاہر کرتی ہیں انھیں مغلوب صفات (Recessive Traits) کہا جاتا ہے۔ پتہ لگائیے کہ شکل 9.4میں کون سی صفت غالب اور کون سی مغلوب ہے۔
کیا ہوتا ہے جب مٹر کے ایسے پودوں کے درمیان نسل افزائش (Breeding) کرائی جاتی ہیجن میں ایک کے بجائے دو تقابلی خصوصیات موجود ہوں؟ لمبے اور گول بیج والے پودے کی نسل اور بونے اور جھری دار بیج والے پودے کی
نسل کیسی نظر آئے گی؟ یہ سبھی لمبے اور گول بیج والے ہوتے ہیں۔ لمبا پن اور گول بیج اسی طرح سے غالب صفات ہیں۔ لیکن کیا ہوتا ہے جب ان F1نسل کے استعمال سے خود زیرگی کے ذریعہ F2نسل پیدا کی جاتی ہے؟ مینڈل کے تجربہ کے ذریعہ پتہ لگے گا کہ کچھ F2 نسل کے کچھ پودے لمبے اور گول بیج والے ہیں جب کہ کچھ دوسرے بونے اور جھری دار بیج والے ہیں۔ حالانکہ F2 پیڑھی کے کچھ پودے نئے اتحاد کو ظاہر کریں گے۔ ان میں سے کچھ پودے لمبے لیکن جھری دار بیج والے ہوں گے اور کچھ بونے لیکن گول بیج والے ہوں گے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ F2نسل میں اوصاف کے نئے اتحاد کس طرح بنتے ہیں جب بیج کی شکل اور رنگ کو کنٹرول کرنے والے عوامل (فیکٹر) زائگوٹ بنانے کے لیے ازسرنو متحد ہوتے ہیں جس سے F2نسل کی تشکیل ہوتی ہے۔اس طرح سے لمبا/بونا صفت اور گول بیج جھری داربیج صفت آزادانہ طور پر توریثی ہوتی ہیں۔

شکل9.4
9.2.3
یہ صفات کس طرح ظاہر ہوتی ہیں؟
(How do these Traits get Expresed?)
توریث کا میکانزم کس طرح کام کرتا ہے؟ خلیہ میں پروٹین بنانے کے لیے خلوی DNA ذریعۂ اطلاع کا کام کرتا ہے۔ DNA کا ایک حصہ جو کسی پروٹین کے لیے اطلاع فراہم کرتا ہے، اس پروٹین کے لیے جین (gene) کہلاتا ہے۔ ہم جن مثال لے کر گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ ہم جانتے ہیں کہ پودوں میں ہارمون (Hormones) ہوتے ہیں جو نمو کو شروع کرسکتے ہیں۔ اس طرح پودے کے لمبائی کسی مخصوص نباتاتی ہارمون پر منحصر ہوسکتی ہے۔ نباتاتی ہارمون کے بننے کی مقدار اس عمل کی کارکردگی پر منحصر ہوتی ہے جس کے ذریعہ یہ ہارمون تیار ہوتا ہے۔ اب اس انزائم پر (Ezyme) غور کیجیے جو اس عمل کے لیے ضروری ہے۔ اگر یہ انزائم صحیح طریقہ سے کام کرتا ہے تو زیادہ سے زیادہ ہارمون بنے گا اور پودا لمبا ہوگا۔ اگر اس انزائم سے وابستہ جین میں کسی قسم کی تبدیلی آتی ہے اور وہ اس سے انزائم کی کارکردگی میں کمی کا موجب ہوتا ہے توہارمون کی مقدار کم ہوگی اور پودا بونا ہوگا۔ اس طرح سے جین خصوصیات یا صفات کو کنٹرول کرتا ہے۔
خصوصیات پر یہاں بحث کررہے ہیں انھیں پروٹین کس طرح کنٹرول کرتی ہے؟ آئیے لمبے پن کی خصوصیات کی
مینڈل کے جن تجربات پر ہم بحث کرتے رہیں ہیںاگر ان کی ترجمانی صحیح ہے تو جنسی تولید کے دوران دونوں والدین آنے والی نسل کے DNA میں مساوی طور پر معاونت کریں گے۔ اس مسئلہ پر ہم لوگوں نے پچھلے باب میں گفتگو کی ہے۔ اگر دونوں والدین نسل کی صفت کا تعین کرنے میں مدد کرتے ہیں تو دونوں والدین کو ایک ہی جین کی کاپی دے کر مدد کرنی ہوگی۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہر مٹر کے پودے میں سبھی جین کے دو سیٹ ہوں گے۔ ہر ایک والدین سے ایک سیٹ ورثہ میں حاصل ہوگا۔ اس طریقۂ کار کو کامیاب کرنے کے لیے ہر ایک تولیدی خلیہ میں جین کا صرف ایک ہی سیٹ (Single gene set) ہونا چاہیے۔
عام سومیٹک خلیوں میں جین کے سیٹ کی دو نقلیں ہوتی ہیں پھر ان سے تولیدی خلیہ میں اس کا سیٹ کس طرح بنتا ہے؟ اگر نسلی پودا (Progeny Plant)اپنے دونوں والدین سے وراثت میں ایک اکیلا مکمل جین سیٹ حاصل کرلے تب شکل9.5میں دکھایا گیا تجربہ کام نہیں کرسکے گا۔ یہ اس لیے کہ د وخصوصیات'R' اور 'y' دونوں ایک دوسرے سے جڑی (Linked)ہوں گی اور آزادانہ طورپر ورثہ میں منتقل نہیں ہو سکتیں۔ اس کی وضاحت اس حقیقت کے ذریعہ کی جاتی ہے کہ ہر ایک جین سیٹ DNA کے ایک اکیلے لمبے دھاگے کی حیثیت سے نہیں بلکہ علاحدہ آزادٹکڑوں کی حیثیت سے موجود رہتا ہر ایک ٹکڑا کروموسوم (Chromosome)کہلاتا ہے۔ اس طرح سے ہرایک خلیہ کے پاس ہر ایک کروموسوم کی دوکاپیاں ہوں گی، جن میں سے ایک نر اور دوسری مادہ سے حاصل ہوتی ہے۔ ہر ایک تولیدی خلیہ ہر جوڑے سے ایک کروموسوم لے گا اور یہ یا تو مادری یا پدری نژاد ہوگا۔ جب دو تولیدی خلیے جڑیں گے، تو نسل میں کروموسوم کی تعداد پھر سے عام خلیوں کے مساوی ہو جائے گی اور اس طرح انواع کے DNA کے استحکام کو یقینی بناتے ہیں۔ توریث کا اس طرح کا طریقہ کار مینڈل کے تجربات کی وضاحت کرتا ہے اور ہر صنفی تولید کرنے والے عضویوں کے ذریعہ استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن غیر صنفی تولید کرنے والے عضویہ بھی اسی طرح کے توریثی قانون کو عمل میں لاتے ہیں۔کیا ہم پتہ لگا سکتے ہیں کہ ان میں توریث کا عمل کس طرح انجام دیا جاتا ہے؟

تناسب

بیج 556 16
شکل 9.5
بچوں کی دو علاحدہ صفات ،شکل اور رنگ کی آزادانی توریت
9.2.4
تعین جنس
(Sex Detrmination)
کچھ پوری طرح ماحول پر منحصر ہوتی ہیں۔ جیسے کچھ جانوروں میں وہ درجۂ حرارت جس پر بارور بیضے (Fertilised Eggs) رکھے جاتے ہیں اس بات کا تعین کرتا ہے کہ نمو پارہا جانور نرہوگا یا مادہ۔ گھونگھے جیسے دوسرے جانوروں میں، افراد اپنا جنس بدل سکتے ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان میں جنس کا تعین جینیاتی (Genetically)طورپر نہیں ہوتا ہے۔ حالانکہ انسانوں میں جنس کا تعین بڑے پیمانے پرجینیاتی (Genetic) ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ہمارے والدین کے ذریعہ جو جین وراثت میں ملتے ہیں وہ اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ پیدا ہونے والا فرد لڑکا ہوگا یا لڑکی، لیکن اب تک ہم مان چکے ہیں کہ دونوں والدین یعنی ماں اور باپ سے ہمیں یکساں جین سیٹ (Gene sets) وراثت میں ملتے ہیں۔ اگر ایسی بات ہے تو جینیاتی توریث جنس کا تعین کیسے کرتی ہے؟
اس کی وضاحت اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ سبھی انسانی کروموسوم جوڑے میں نہیں ہوتے ہیں۔ زیادہ تر انسانی کروموسوم ماں اور باپ کے کروموسوم کی نقل ہوتے ہیں۔ انسانوں میں اس قسم کے 22 جوڑے کروموسوم ہوتے ہیں، لیکن ایک جوڑا جسے جنسی کروموسوم کہا جاتا ہے، مختلف ہوتا ہے چونکہ یہ ہمیشہ مکمل جوڑے میں نہیں ہوتا۔ عورتوں میں جنسی کروموسوم کا مکمل جوڑا ہوتا ہے، دونوں x کہلاتے ہیں۔ لیکن مردوں میں غیر یکساں جوڑا ہوتا ہے جس میں ایک عام سائز کا Xہوتا ہے جب کہ دوسرا تھوڑا چھوٹا ہوتا جو Y کہلاتا ہے۔ اس طرح عورتوں میں XX ہوتا ہے جب کہ مرد میں XY۔ اب کیا آپ پتہ لگا سکتے ہیں کہ Xاور Y کی توریث کا پیٹرن کیا ہوگا؟
صنفی تولید میں حصہ لینے والے دو افراد کسی نہ کسی شکل میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں جس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ نو مولودہ فرد کے جنس کا تعین کس طرح ہوتا ہے؟ مختلف انواع اس کے لیے مختلف طریقۂ کار اپناتی ہیں۔کچھ پوری

سوالات
1۔ مینڈل کے تجربات کیسے ظاہر کرتے ہیں کہ صفات غالب یا مغلوب ہوسکتی ہیں؟
2۔ مینڈل کے تجربات کیسے ظاہر کرتے ہیں کہ صفات آزادانہ طو رپر وراثت میں منتقل ہوتی ہیں؟
3۔ایک بلڈ گروپ Aوالے لڑکے کی شادی بلڈ گروپ Oوالی لڑکی سے ہوتی ہے اور ان کی بیٹی کا بلڈ گروپ Oہے۔ کیا یہ اطلاع آپ کو یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ کون سی صفت —بلڈ گروپ Aیا Oغالب ہے؟ کیوں یا کیوں نہیں؟
4۔ انسانوں میں بچے کے جنس کا تعین کیسے ہوتا ہے؟
9.3
ارتقا
(Evolution)
ہم نے غور کیا ہے کہ DNAکی کاپی میں غلطی کی وجہ سے اور جنسی تولیدی عمل کی وجہ سے تولید کے دوران تغیرات کی جانب ایک اندرونی رجحان ہوتا ہے۔ آئیے اب اس رجحان کے نتائج پر غور کریں۔
9.3.1
ایک مثال
(An Illustration)
بارہ سرخ بھوئرے (Beetles) کی جماعت پر غور کیجیے۔ مان لیجیے کہ یہ کسی جھاڑی میں سبزپتیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ جنسی تولید کے ذریعہ ان کی آبادی بڑھے گی اور اس لیے تغیرات (Varations) پیدا کرسکتی ہیں۔ یہ بھی تصور کیجیے کہ ان بھونروں کو کوے نہیں کھاتے۔ کوا جتنے زیادہ بھونروں کو کھائے گا اتنے ہی کم بھونرے تولید کے لیے باقی رہیں گے۔ آئیے اب کچھ مختلف حالتوں پر غور کریں (شکل 9.7) جو بھونروں کی اس آبادی میں پیدا ہو سکتی ہیں۔

پہلی حالت میں تولید کے دوران رنگ میں تبدیلی آتی ہے اس لیے کہ یہاں ایک بھونرا کا رنگ سرخ کے بجائے سبز ہے۔ یہ بھونرا اپنے اس رنگ کو اپنی نسل میں بھیج سکتا ہے تاکہ اس کی پوری نسل سبز ہو۔ کوے جھاڑیوں کی سبز پتیوں پر سبز رنگ کے بھونروں کو نہیں دیکھ سکتے اور اور اس لیے اسے کھا نہیں سکتے۔ تب کیا ہوتا ہے؟ سبز بھونروں کی نسل تونہیں کھائی جاتی ہے جب کہ سرخ بھونروں کی نسل لگاتار کھائی جاتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں بھونرے کی آبادی میں سرخ رنگ کے مقابلہ سبز رنگ کے بھونروں کی تعداد بہت زیادہ ہوجاتی ہے۔
دوسری صورت میں تولید کے دوران پھر رنگ میں تغیرآتا ہے لیکن اس بار بھونرے کا رنگ سرخ کے بجائے نیلا ہوجاتا ہے۔ یہ بھونرا بھی اس رنگ کو اپنی نسل میں منتقل کرسکتا ہے تاکہ اس کی پوری نسل کا رنگ نیلا ہو۔ کوے نیلے اورلال دونوں طرح کے بھونروں کو جھاڑیوں میں دیکھ سکتے ہیں اور اس لیے دونوں کو کھاسکتے ہیں۔ شروعات میں کیا ہوتا ہے؟ آبادی کے پھیلنے کے شروعاتی دور میں بہت تھوڑے نیلے رنگ کے بھونرے ہوتے ہیں اور زیادہ تر سرخ ہوتے ہیں۔ لیکن اسی وقت ایک ہاتھی یہاں آتا ہے اور جہاں بھونرے رہتے ہیں اس کو روندتا ہے۔ اس سے زیادہ بھونرے مر جاتے ہیں۔ اتفاق سے جو بھونرے بچ جاتے ہیں ان میں سے زیادہ تر نیلے ہوتے ہیں۔ بھونرے کی آبادی پھر دوبارہ دھیرے دھیرے بڑھتی ہے لیکن اس بار کی آبادی میں زیادہ تر بھونرے نیلے رنگ ہوتے ہیں۔
ظاہرہے کہ دونوں حالتوں میں جو تغیر (Variation) غیر معمولی حیثیت سے شروع ہوا تھا وہ آبادی میں ایک عام خاصیت بن گیا۔ دوسرے لفظوں میں ورثہ میں حاصل شدہ صفت نسل در نسل تعداد میں بڑھتی چلی جاتی ہے۔ چونکہ جین (Genes) صفات کو کنٹرول کرتا ہے، اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آبادی میں کسی مخصوص جین کی تعداد نسل درنسل تبدیل ہوتی جاتی ہے۔ یہ ارتقا کے تصور کی روح (Essence) ہے۔
لیکن دونوں حالتوں میں دلچسپ فرق بھی ہیں۔ پہلی حالت میں، تغیر عام ہوجاتا ہے چونکہ یہ بقا یا زندگی کے لیے فائدہ بخش ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ قدرتی طو رپر منتخب کیا گیا تھا۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ قدرتی انتخاب (Natural selection)کی سعی کوؤں کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ جتنا زیادہ کوا ہوگا، اتنا ہی زیادہ سرخ بھونرا کھایا جائے گا اور آبادی میں سبز بھونروں کا تناسب اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ اس طرح سے قدرتی انتخاب بھونروں کی آبادی میں ارتقا کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں بھونروں کی آبادی کو ماحول میں بہتر طریقہ سے فٹ ہونے کے لیے ان کے اندر مطابقت (Adaptation) پیدا ہوتی ہے۔
دوسری صورت میں تغیرات زندہ رہنے کے لیے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے۔بلکہ یہ ایک رنگ کے بھونروں کا اتفاقاً زندہ رہناتھا جس نے نتیجہ خیز آبادی کی مشترک خاصیت کو بدل دیا۔ اگر بھونرے کی آبادی بہت زیادہ ہوتی تو ہاتھی ان کو اتنا زیادہ نقصان نہیں پہنچاتا۔ اس لیے چھوٹی آبادیوں میں حادثات آبادی کے لیے کچھ جینوں کے تواتر کو بدل سکتا ہے، یہاں تک کہ اگر یہ زندگی کے لیے کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ یہ جینیاتی انحراف (Genetic Drift)کا نظریہ ہے جو بغیر کسی مطابقت کے تنوع فراہم کرتاہے۔
اب ایک تیسری حالت پر غور کیجیے۔ اس میں جیسے ہی بھونروں کی آبادی میں اضافہ ہوتا ہے، جھاڑیاں کسی نباتاتی بیماری میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ بھونروں کے لیے پتیاں کم ہوجاتی ہیں۔ نتیجتاً بھونروں کو کم خوراک ملتی ہے۔ پہلے کے مقابلہ بھونروں کے اوسط زون میں کمی آجاتی ہے لیکن کوئی جینی تبدیلی نہیں ہوتی۔ کچھ برسوں کے بعد اس طرح کی قلت کی حالت میں بھونروں کی کچھ نسلوں کے بعد نباتاتی بیماری ختم ہوجاتی ہے۔ اب مناسب غذا دستیاب ہے۔ اس وقت ہم لوگ بھونروں کے وزن کے متعلق کیا اندازہ لگائیں گے؟
9.3.2
اکتسابی اور توریثی اوصاف
(Acquired and Inheritd Traits)
ہم نے اس تصور پر بحث کی ہے کہ صنعتی تولید کرنے والی آبادیوں میں تولیدی خلیے مخصوص تولیدی بافتوںمیں بنتے ہیں۔ اگر بھونروں کا وزن غذا کی قلت کی وجہ سے کم ہوگیا ہے تو یہ تولیدی خلیوں کے DNA کو تبدیل نہیں کرے گا۔ اس لیے کم وزن کوئی ایسی صفت نہیں ہے جو بھوک سے مر رہے بھونروں کی نسلوں میں منتقل ہوگی۔ اس لیے بھونروں کی کچھ نسلیں اگر غدا کی قلت کی وجہ سے کم وزن کی ہیں تو یہ ارتقا کی کوئی مثال نہیں ہے۔ چونکہ تبدیلی نسل در نسل وراثت میں منتقل نہیں ہوتی۔ غیر تولیدی بافتوں میں ہونے والی تبدیلیاں تولیدی خلیوں کے DNAمیں منتقل نہیں ہوسکتی۔ اس لیے کسی فرد کی زندگی کے تجربات اس کی نسل میں منتقل نہیں ہوسکتے اور ارتقا کی رہنمائی نہیں کرسکتے۔
ایک دوسری مثال پر غور کریں کہ یہ کس طرح کوئی فرد اپنی زندگی کے تجربات کو اپنے نسلوں میں منتقل نہیں کرسکتا ہے۔ اگر ہم چوہوں کی نسل افزائش کریں تو ان کی پیڑھی کے سبھی چوہوں میں دم ہوگی، جیسا کہ ہم توقع کرتے ہیں۔ اب اگر سرجری کے ذریعہ ان چوہوں کی دم کو ہر نسل میں ہٹا دیا جائے تو کیا یہ بغیر دم والے چوہے بغیر دم والی نسل پیدا کریں گے؟ جواب ہے نہیں۔ اور صحیح بھی کیونکہ دم کا ہٹا دینا چوہے کے تولیدی خلیوں کے جینوں کو تبدیل نہیں کرسکتا۔
چارلس رابرٹ ڈارون(1809-1882)
چارلس ڈارون 22سال کی عمر میں ایک سمندری سفر پر روانہ ہوئے۔ 5سال کا سفر انھیں جنوبی امریکہ اور ساحل سے دور ایک جزیرہ پر لے گیا۔ سفر کے دوران انھوں نے جو مطالعہ کیا اس نے زمین پر زندگی کی اقسام سے متعلق ہمارے نظریہ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انگلینڈ لوٹنے کے بعد انھوں نے اس کے ساحلی علاقوں کو کبھی نہیں چھوڑا۔ وہ گھر پر رہنے لگے اور کئی سارے تجربات کیے جس کی بنیاد پر انھوں نے اپنا مفروضہ تیار کیا کہ ارتقا قدرتی انتخاب کی وجہ سے ہوتا ہے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ کس طریقے سے انواع میں تغیرات پیدا ہوتے ہیں۔ وہ مینڈل کے تجربات سے استفادہ کرتے لیکن یہ دونوں حضرات نہ تو ایک دوسرے کو جانتے تھے اور نہ ہی ایک دوسرے کے کام سے واقف تھے۔
ہم لوگ اکثر وبیشتر ڈارون کو پوری طرح سے ارتقا کے اصول سے جوڑتے ہیں۔ لیکن وہ ایک کامل فطرت پرست تھے اور ان کے ذریعہ کیے گئے مطالعوں کا تعلق زمین کی زر خیزی میں کیچوے کے کردار سے تھا۔

یہی وجہ ہے کہ ارتقا کو سمجھنے کے لیے توریث اور نسلیات(Genetics) ، جس کا مطالعہ ہم نے پہلے کیا، بہت ضروری ہے۔ یہاں تک کہ چارلس ڈارون جنھوں نے انیسوی صدی میں قدرتی انتخاب کے ذریعہ انواع کی ارتقا کا تصور پیش کیا، وہ بھی اس کے طریقۂ کار کو معلوم نہیں کرسکے ممکن ہے کہ وہ ایسا کرپاتے اگر ان کو اپنے ہم عصر، آسٹرین، گریگر مینڈل کے تجربات کی جانکاری ہوتی۔ لیکن اسی وقت مینڈل بھی ڈارون اور ان کے کام سے ناواقف تھے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
زمین پر زندگی کی ابتدا (Origin of life on Earth)
ڈراون کا اصول ارتقا بتاتا ہے کہ کس طرح سادہ شکل سے پیچیدہ شکل میں زندگی کو فروغ ملا اور مینڈل کے تجربات ایک نسل سے دوسری نسل میں اوصاف کی توریث کے طریقہ کار کو پیش کرتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں بتاتا کہ زمین پر زندگی کی ابتدا پہلی مرتبہ کیسے ہوئی۔ ایک برطانوی سائنسداں جے۔بی۔ایس۔ ہلدا ین (جو بعد میں ہندوستانی شہری ہوگئے) نے 1929میں ایک نظریہ پیش کیا کہ زندگی کی ارتقا یقینا سادے غیر نامیاتی سالمات سے ہوئی ہوگی جو زمین کے بننے کے فوراً بعد اس پر موجود رہے ہوں گے۔ انھوں نے اندازہ لگایا کہ اس وقت زمین کی حالت، جو آج سے بالکل مختلف تھی، کی وجہ سے کچھ زیادہ پیچیدہ نامیاتی سالمات بنے ہوں گے جو زندگی کے لیے ضروری تھے۔ پہلا قدیمی عضویہ مزید کیمیائی تشکیل سے بنا ہوگا۔
یہ نامیاتی سالمات کس طرح بنے ہوں گے؟ اس کا جواب ایک تجربہ کے ذریعہ اسٹینلے ایل میلر اور ہیرالڈس ارے نے 1953میں پیش کیا۔ انھوں نے پانی کے اوپر ایسی آب وہوا تیار کی جو قدیم زمین پر رہی ہوگی (اس آب وہوا میں مختلف سالمات جیسے امونیا، میتھین اور ہائڈروجن سلفائڈ تھے لیکن آکسیجن نہیں تھی)۔ اس کا درجۂ حرارت 100°C کے ٹھیک نیچے رکھا گیا اور گیسوں کے آمیزہ سے ہوکر اسپارک گزارے گئے تاکہ بجلی کی چمک جیسی صورت حال پیدا ہوسکے۔ ایک ہفتہ کے اندر تک کاربن (میتھین کا حصہ) کا 15فیصد حصہ کاربن کے سادے مرکبات میں تبدیل ہوگیا جس میں ایمینو ایسڈ شامل تھے جو پروٹین سالمات کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس لیے، کیا ابھی بھی زمین پر زندگی کی ابتدا نئے سرے سے
ہوسکتی ہے؟
سوالات
1۔ وہ کون کون سے مختلف طریقے ہیں جن کے ذریعہ کسی مخصوص صفت والے افراد اپنی آبادی بڑھا سکتے ہیں؟
2۔ کسی فرد کے ذریعہ پوری زندگی کے دوران اکتساب کیے گئے اوصاف وراثت میں منتقل کیوں نہیں ہوتے؟
3۔ جینیات کے نقطہ نظر سے چیتوں کی کے تعداد میں کمی باعث تشویش کیوں ہے؟
9.4 انواعیت (Speciation)
اب تک ہم نے جو کچھ دیکھا وہ خرد ارتقا (Micro-Evolution) ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ تبدیلیاں چھوٹی ہیں مگر پھر بھی بہت اہم ہیں۔ ساتھ ہی وہ ایک مخصوص نوع کی مشترک خصوصیات کو سادگی سے بدل دیتی ہیں۔ لیکن یہ اس بات کی درست وضاحت نہیں کرپاتیں کہ نئی انواع کس طرح دنیا میں آئیں۔ ایسا اس وقت کہا جاسکتا تھا کہ جب بھونروں کے اس گروپ کو جس کے بارے میں ہم سوچ رہے ہیں ایسی دو آبادیوں میں بانٹا جاتا جو آپس میں تولیدی عمل نہیں کرسکتے ہوں۔ جب ایسا ہوتا ہے تو انھیں دو آزاد انواع کہا جاتا ہے۔ تو کیا ہم اوپردی گئی وجوہات کا استعمال انواعیت کو سمجھانے میں کرسکتے ہیں؟
فرض کیجیے کہ وہ جھاڑیاں جنھیں بھونرے کھاتے ہیں پہاڑی سلسلہ پر بہت زیادہ پھیل جائیں تو کیا ہوگا۔ نتیجہ میںبھونرے کی آبادی بہت بڑھ جائے گی۔ لیکن انفرادی بھونرے زیادہ ترپوری زندگی اپنے آس پاس موجود جھاڑیوں سے ہی خوراک حاصل کرتے ہیں۔ وہ بہت دور تک سفر نہیں کرتے ہیں تو ان بھونروں کی بہت بڑی آبادی میں کئی ذیلی آبادیاں بن جائیں گی۔ چونکہ نر اور مادہ بھونروں کو تولیدی عمل کے لیے ملنا پڑتا ہے، اس لیے زیادہ تر تولیدی عمل ان ذیلی آبادیوں کے اندر ہی ہوگا۔ بے شک کبھی کبھی کوئی دلیر بھونرا ایک جگہ سے دوسری جگہ بھی جاسکتا ہے۔ کبھی کوئی کوا کسی بھونرے کو ایک جگہ سے اٹھا کر اسے بنا کھائے دوسری جگہ پر ڈال سکتا ہے۔ دونوں ہی حالات میں مہاجر بھونرا وہاں رہنے والے بھونروں کی آبادی کے ساتھ تولیدی عمل کرے گا۔ اس کے نتیجہ میں مہاجر بھونرے کے جین نئی آبادی میں داخل ہوجائیں گے۔ اس طرح کا جینی بہائو ایسی آبادیوں میں پایا جاتا ہے جو کچھ حد تک (مگر پوری طرح نہیں) علاحدہ ہوچکی ہیں۔ اگر کسی طرح سے ان دو ذیلی آبادیوں کے درمیان کوئی بہت بڑی ندی آجائے، تو یہ دونوں آبادیاں پھر سے علاحدہ ہوجائیں گی اور ان میں جینی بہاؤکا درجہ اور کم ہوجائے گا۔
نسل در نسل جینی انحراف ذیلی آبادی کے اندرمختلف تبدیلیوں کو جمع کرتا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی مختلف جغرافیائی جگہوں پر قدرتی انتخاب بھی الگ طرح سے کام کرے گا۔ مثال کے طور پر ایک ذیلی آبادی کے علاقے میں عقاب کے ذریعہ کوؤں کو ختم کردیا جاتا ہے۔ مگر ایسا دوسری ذیلی آبادی میں نہیں ہوا ہے جہاں کوؤں کی آبادی بہت زیادہ ہے۔ نتیجہ میں پہلی جگہ پر ہرے رنگ کے تغیر کا انتخاب نہیں ہوگا۔ جب کہ دوسری جگہ پر اس کا انتخاب مضبوطی سے ہوگا۔
جینی انحراف اور قدرتی انتخاب ان دونوں بھونروں کی علاحدہ ذیلی آبادیوں کو ایک دوسرے سے زیادہ سے زیادہ تبدیل کرتے جائیں گے۔ آخر میں ایسا ہوگا کہ ان دونوں گروپوں کے بھونرے ایک دوسرے سے ملنے کے بعد بھی تولید کرنے کے لائق نہیں رہ جائیں گے۔
ایسا ہونے کے بہت سارے راستے ہیں۔ اگر DNAمیں تبدیلی بہت شدید ہو، جیسے، کروموسوم کی تعداد میں تبدیلی، ایسا ہونے پر دو گرپووں کے تولیدی خلیے ایک دوسرے سے متصل نہیں ہو پاتے ہیں یا ایک دوسرا تغیر پیدا ہو جاتا ہے جس میں ہرے رنگ کا مادہ بھونرا لال رنگ کے نر بھونرے سے جنسی اختلاط نہیں کر پاتا وہ صرف ہرے رنگ کے نر بھونرے کے ساتھ ہی تولید کر سکتا ہے۔ یہ ہرے رنگ کے بہت زیادہ قوی قدرتی انتخاب کی اجازت دیتا ہے۔ اب اگر یہ ہرے رنگ کی مادہ دوسرے گروپ کے لال نر سے ملتی ہے تو اس کا طرز عمل اس طرح کا ہوگا کہ ان کے درمیان تولید نہ ہو۔ نتیجتاً بھونرے کی نئی نوع پیدا ہو جاتی ہے۔
سوالات
1۔ کون سے عوامل انواع کی تشکیل کی طرف لے جائیں گے؟
2۔ کیا جغرافیائی علاحدگی ایک خود زیرگی والے پودوں کی انواعیت میں اہم کردارادا کرتی ہے؟ کیوں یا کیوں نہیں؟
3۔ کیا جغرافیائی علاحدگی کسی ایسے عضویہ کی انواعیت کا اہم سبب بن سکتی ہے جو کہ غیر صنعتی تولیدی عمل کرتا ہے، ؟ کیوں یا کیوں نہیں؟
9.5
ارتقا اور درجہ بندی
(Evolution and Classification)
ان اصولوں کی بنیاد پر، ہم اپنے چاروں طرف دکھائی دینے والی انواع میں ارتقائی رشتہ کا پتہ لگا سکتے ہیں۔ یہ ماضی میں جانے جیسا ہے۔ ہم ایسی انواع کی درجہ وار خصوصیات کی پہچان کرکے بھی کرسکتے ہیں۔ اس عمل کو سمجھنے کے لیے، آئیے ہم درجہIXمیں عضویوں کی درجہ بندی کے بارے میں کی گئی اپنی بحث کے بارے میں غور کریں۔
مختلف عضویوں کے درمیان یکسانیت ہمیں ان عضویوں کو ایک گروپ میں رکھنے اور مطالعہ کرنے کا موقعہ فراہم کرتی ہے۔ اس کے لیے کون سی خصوصیات عضویوں میں زیادہ بنیادی فرق طے کرتی ہیں اور کون سی کم بنیادی فرق کوطے کرتی ہیں؟ ’خصوصیات‘ سے کیا مراد ہے؟ خصوصیات طرز عمل یا ظاہری صورت کی تفصیل ہیں، دوسرے لفظوں میں یہ ایک مخصوص شکل یا مخصوص کام ہے۔ اس طرح ہمارے پاس دو بازؤں کا ہونا ایک خاصیت ہوگی۔ پودے ضیائی تالیف کرسکتے ہیں، یہ بھی ایک خاصیت ہے۔
کچھ بنیادی خصوصیات ہیں جو ہرایک عضویہ میں پائی جاتی ہیں۔ خلیہ سبھی عضویوں میں زندگی کی بنیادی اکائی ہے۔ درجہ بندی کی اگلی سطح پر کوئی خصوصیت زیادہ تر عضویوں میں یکساں ہو سکتی ہے، لیکن سبھی عضویوں میں نہیں۔ خلیوں کے ڈیزائن کی بنیادی خاصیت جو مختلف عضویوں میں الگ الگ ہو سکتی ہے وہ ہے خلیوں میں نیوکلیس کاہونا۔ بیکٹیریا کے خلیوں میں نیوکلیس نہیں ہوتا، جب کہ زیادہ تر دوسرے عضویوں کے خلیوں میں نیوکلیس ہوتا ہے۔ نیوکلیس پر مشتمل خلیوں والے عضویوں میں کون یک خلوی ہیں اور کون کثیر خلوی؟ یہ خاصیت جسمانی ترتیب کے بنیادی فرق کو دکھاتی ہے، کیونکہ خلوی قسم اور بافت مخصوص ہوتے ہیں۔ کثیر خلوی عضویے ضیائی تالیف کریں گے یانہیں یہ درجہ بندی کا اگلا درجہ فراہم کرتا ہے۔ وہ کثیر خلوی عضویے جو ضیائی تالیف نہیں کرتے ان میں یا تو ڈھانچہ جسم کے اندر ہوتاہے یا جسم کے چاروں طرف یہ دوسرے بنیادی ڈیزائن کے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان کچھ سوالوں میں بھی جو ہم نے پوچھے ہیں۔ ایک نظام مراتب (Hierarchy) پیدا ہوتا ہے جو ہمیں درجہ بندی کرنے میں مدد دیتا ہے۔
دو انواع میں جتنی زیادہ خصوصیات مشترک ہوں گی، ان کا تعلق بھی اتنا ہی نزدیکی ہوگا۔جتنی زیادہ یکسانیت ان میں ہوگی ماضی قریب میں ان کے آبا و اجداد بھی مشترک ہوں گے۔ اس میں ایک مثال مدد کرے گی۔ ایک بھائی اور بہن میں نزدیکی رشتہ ہے۔ ان کی پہلی پیڑھی میں ان کے آبا و اجداد مشترک تھے یعنی وہ ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں۔ ایک لڑکی اور اس کا چچیرا بھائی بھی رشتہ دار ہیں، مگر اس سے کم جتنا کہ لڑکی اور اس کا بھائی۔ ایسا اس لیے کیونکہ ان کے آبا و اجداد بھی مشترک ہیں یعنی ان کے دادا دادی جو ان سے دو پشت پہلے کے ہیں نہ کہ ایک پشت پہلے۔ اس طرح اب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انواع کی درجہ بندی پر ان کے ارتقائی رشتے کی عکاسی ہے۔
اس طرح ہم انواع کے ایسے گروپ بنا سکتے ہیں جن کے آبا و اجداد ماضی قریب میں مشترک تھے۔ اس کے بعد ان گروپوں کا ایک بڑا گروپ بنائیے جن کے آبا و اجداد نسبتاً زیادہ دور کے ہوں (وقت کے اعتبار سے)۔ اصولی اعتبار سے
اس طرح ماضی کی کڑیوں کی تشکیل کرتے ہوئے ہم ارتقا کی ابتدائی حالت تک پہنچ سکتے ہیں جہاں صرف ایک ہی نوع تھی۔ اگر یہ درست ہے تو زندگی کی ابتدا ضرور غیر حیاتی مادوں سے ہوئی ہوگی۔ اس کے بارے میں بہت سارے نظریات ہیں کہ یہ کیسے ہوا ہوگا۔ ہمارے اپنے نظریات پیش کرنا بہت دلچسپ ہوگا۔

شکل 9.8
ہم ترکیب اعضا
9.5.1
ارتقائی رشتے کی تفتیش
(Tracing Evolutionary Reletionship)
جب ہم ارتقائی رشتے کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم کس طرح سے مشترک خصوصیات کا پتہ لگا سکتے ہیں؟ مختلف عضویوں میں یہ خصوصیات ایک جیسی ہوسکتی ہیں کیونکہ یہ ایک مشترک آبا و اجداد کے وارث ہیں۔ مثال کے طور پر اس حقیقت پر دھیان دیجیے کہ پستانیوں کے چار بازو ہوتے ہیں، جیسے کہ پرندوں، رینگنے والے جانوروں اورریپٹائل (Reptiles) (شکل9.8) میں ہوتے ہیں۔ بازوئوں کی بنیادی ساخت تو ایک جیسی ہوتی ہے لیکن مختلف فقری جانوروں میں یہ مختلف کام کرنے کے لیے ڈھلے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس طرح کی ہم ترکیب (Homologous) خصوصیات ظاہری طور پر الگ انواع میں ارتقائی رشتہ کی پہچان کرنے میں مدد گار ہوتی ہیں۔حالانکہ عام طور سے عضو کی بناوٹ میں یکسانیت کا واحد سبب مشترک آبا و اجداد نہیں ہے۔
چڑیوں او رچمگادڑ کے پنکھوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، مثال کے طور پر (شکل 9.9) چڑیوں اور چمگادڑوں کے پنکھ ہوتے ہیں، مگر گلہری اور چھپکلی کے نہیں۔ تو کیا چڑیاں اور چمگادڑ، گلہری اور چھپکلی کی بہ نسبت ایک دوسرے کی زیادہ نزدیکی رشتہ دار ہیں ؟
کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے، آئیے ہم چڑیوں اور چمگادڑوں کے پنکھوں پر اور نزدیک سے غور کرتے ہیں۔ جب ہم ایسا کرتے ہیں تو پاتے ہیں کہ چمگادڑوں کے پنکھ میں جلد کی سلوٹیں ہیں جو کہ لمبی ہوچکی انگلیوں کے درمیان تانی گئی ہیں۔ لیکن ڈیزائن، ساخت اوراجزا بہت الگ الگ ہوتے ہیں۔ وہ ایک جیسے لگتے ہیں کیونکہ ان دونوں کا استعمال ایک ہی کام یعنی اڑنے میںہوتا ہے۔ لیکن ان کی ابتدا مشترک نہیں ہوتی۔ یہ انہیں مشابہ(Analogous) خصوصیت بنا دیتا ہے نہ کہ ہم ترکیب خصوصیت۔ یہ سوچنا دلچسپ ہوگا کہ چڑیوں کے پنکھوں اور چمگادڑوں کے ہاتھ ہم ترکیب کہلائیں گے یا مشابہ؟
چڑیوں کے پنکھ پورے بازوتک پروں (Feathers) سے ڈھکے ہوتے ہیں۔ اسی لیے دونوں پنکھوں

شکل 9.9
مشابہ عنصر ۔چمگادڑکا پنکھ اور چڑیا کے پنکھ
9.5.2
فوسل
(Fossils)
اعضا کی ساخت کا ایسا مطالعہ صرف موجودہ انواع سے نہیں ہوسکتا، بلکہ ایسے انواع پر بھی ہوتا ہے جو کہ اب زندہ نہیں ہیں۔ ہم یہ کیسے جانتے ہیں کہ یہ معدوم انواع کبھی موجود تھے؟ ہم ان کے بارے میں فوسل کے ذریعہ ہی جان پاتے ہیں (شکل 9.10)۔ فوسل کیا ہیں؟ عام طور سے جب عضویے مرتے ہیں تو ان کے جسم تحلیل ہوکر ختم ہوجاتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھار جسم یا کم ازکم جسم کے کچھ حصے ایسے ماحول میں دب جاتے ہیں جو ان کی مکمل طور پر تحلیل نہیں ہونے دیتا۔ مثال کے طورپر اگر ایک کیڑا گرم کیچڑ میں پھنس جاتا ہے تو اس کی جلد تحلیل نہیں ہوپاتی۔ دھیرے دھیرے کیچڑ سخت ہو جاتی ہے اور کیڑے کے جسم کے نشانات اس پر باقی رہ جاتے ہیں۔ جاندار عضویوں کے سبھی ایسے نشان فوسل کہلاتے ہیں۔

شکل 9.10 مختلف قسم کے فوسل۔ ان کی الگ الگ ظاہری شکل وصورت اور تفصیل اور تحفظ کے درجہ پر غور کیجیے۔ دکھایا گیا ڈائنا سور کی کھوپڑی کا فوسل کچھ سال پہلے نرمدا گھاٹی میں پایا گیا تھا۔
ہمیں کیسے پتہ چلتا ہے کہ فوسل کتنے پرانے ہیں؟ اس کا پتہ لگانے والے د و اجزا ہیں۔ ایک نسبتی ہے۔ اگر ہم زمین کی کھدائی کرتے ہیں اور ہمیں فوسل ملناشروع ہوجاتا ہے تو یہ سوچنا زیادہ صحیح ہوگا کہ وہ فوسل جو سطح سے زیادہ نزدیک
ملتے ہیں زیادہ نئے ہوں گے ان فوسل کے مقابلہ جو ہمیں گہری پرتوں میں ملتے ہیں۔ فوسل کی عمر بتانے کا دوسرا طریقہ اس میں موجود ایک ہی مادے کے مختلف آئسوٹوپ کی نسبت کا پتہ لگانا ہے۔ اصل میں یہ طریقہ کیسے کام کرتا ہے یہ پتہ لگانا دلچسپ ہوگا!
فوسل کس طرح پرت در پرت بنتے ہیں؟ (How do fossils form layer by layer?)
ئیے ہم 100ملین سال پہلے سے شروع کرتے ہیں۔ سمندر کی تلی میں کچھ غیر فقری جانور مرگئے، اور ریت میں دب گئے۔ اور زیادہ ریت اکٹھا ہوتا گیا، اور دبائو کی وجہ سے ریت کا پتھر بن گیا۔
کچھ ملین سال کے بعد، زمین پر رہنے والے ڈائنا سور مرگئے اور ان کے جسم بھی کیچڑ میں دفن ہوگئے۔ یہ کیچڑ بھی دبائو کی وجہ سے چٹان میں تبدیل ہو گئی، یہ اس پتھر کے اوپر بنی جس میں غیر فقری جانوروں کے فوسل موجود تھے۔


پھر اس کے کچھ اور ملین سال کے بعد، ان چٹانوں کے اوپر گھوڑوں جیسے جانوروں کے مرنے پر ان کے فوسل چٹان بن گئے۔

کچھ دنوں کے بعد، کٹائو یا پانی کے بہائو نے کچھ چٹانوں کو توڑ دیا جس سے کچھ چٹانوں میں موجود گھوڑوں جیسے فوسل دکھائی دینے لگے۔ جیسے جیسے ہم گہرائی میں کھدائی کرتے جائیں گے ہمیں پرانے اور زیادہ پرانے فوسل ملتے جائیں گے۔

9.5.3
ارتقا کے مراحل
(Evolution by Stages)
کئی پیڑھیوں میں جاکر تشکیل ہوتے ہیں؟ لیکن ہر ایک درمیانی تبدیلی کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟ یہاں تک کہ ایک درمیانی تبدیلی (شکل 9.11)، جیسے ایک نامکمل آنکھ (Rudimentary Eye) بھی کچھ حد تک کار آمد ہوسکتی ہے۔ یہ صلاحیت کی افادیت (Fitness advantage) کے لیے کافی ہیں۔ حقیقت میں پنکھ کی طرح آنکھ بھی بہت مشہور توافق ہے۔ یہ حشرات میں پائی جاتی ہے، اسی طرح آکٹوپس اور فقری جانوروں میں بھی یہ موجود ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان سبھی عضویوں میں آنکھ کی ساخت مختلف ہوتی ہے۔ جس کی اہم وجہ علاحدہ علاحدہ ارتقائی ابتدا ہے۔
ایک سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پیچیدہ اعضاء جیسے آنکھ کا انتخاب ان کی افادیت کی بنیاد پر ہوتا ہے تو پھر وہ وایک اکیلےDNAمیں تبدیلی کی وجہ سے کیسے پیدا ہوسکتی ہے، یقینی طور پر ایسے پیچیدہ اعضا دھیرے دھیرے
اس کے علاوہ ایک تبدیلی جو شروعات میں ایک خاصیت کے لیے کار آمد ہے وہ آگے چل کر کسی دوسرے کام کے لیے بھی کارآمد ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر’پر‘ (Feathers) شروعات میں ٹھنڈے موسم میں جسم کے لیے حاجز کی طرح کام کرتے تھے، لیکن بعد میں یہ اڑنے کے کام آنے لگے۔ یہاں تک کہ کچھ ڈائنا سور کے پر ہوتے تھے، حالانکہ وہ ان پروں کا استعمال کرکے اڑ نہیں پاتے تھے۔ چڑیوں نے بعد میں پروں کو اڑنے کے موافق بنالیا۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بے شک چڑیاں رینگنے والے جانوروں سے بہت قریبی رشتہ رکھتی ہیں، کیوں کہ ڈائنا سور بھی رینگنے والے جانور تھے!

شکل 9.11
ایک چپٹا کیڑا جس کا نام پلینیریا ہے اس میں بے حد سادہ آنکھیں پائی جاتی ہیں جو اصل میں صرف آنکھوںکے نشان ہوتے ہیں اور یہ روشنی کی پہچان کرتے ہیں۔
یہاں یہ کہنا بہت دلچسپ ہوگا کہ بہت زیادہ فرق ظاہر کرنے والی ساختیں مشترک آبا و اجداد کے ڈیزائن سے ارتقا پذیر ہوئی ہیں۔ یہ سچ ہے کہ فوسل میں اعضا کی ساخت کا تجزیہ کرکے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ارتقائی تعلق کتنا قدیم ہے۔ لیکن ماضی میں کیا کچھ ہوا یہ صرف اس کی قیاس آرائی ہے۔کیا ایسے عمل کی حال میں کچھ مثالیں موجود ہیں؟ جنگلی پتہ گوبھی کا پودا اس کی اچھی مثال ہے۔ انسانوں نے دوہزار سال سے بھی پہلے جنگلی پتہ گوبھی کو غذائی پودے کی شکل میں اگاتا تھا، اور اس سے انتخاب کے ذریعہ کئی دوسری سبزیاں پیدا کرلیں (شکل 9.13 دیکھیے)۔ بے شک یہ قدرتی انتخاب نہ ہوکر مصنوعی انتخاب تھا۔ اس لیے کچھ کسان پتیوں کے درمیان بہت کم جگہ رکھنا چاہتے تھے اور اس طرح وہ پتہ گوبھی جو آج کی نمو کو روک دیا جائے اور اس سے ’بروکولی‘ بنی، یا پھر بانجھ پھول بنانا چاہا اور اس طرح پھول گوبھی پیدا ہوئی۔ کچھ لوگ پھولے ہوئے حصے بنانے چاہے اور اس طرح ’گانٹھ گوبھی‘ پیدا ہوئی۔ کچھ لوگ صرف تھوڑی بڑی پتیاں چاہتے تھے اور اسی طرح پتے دار سبزی جسے کیل کہتے ہیں تیار ہوئی۔ اگر انسان نے خود ایسا نہیں کیا ہوتا تو کیا ہم کبھی سوچ سکتے تھے کہ یہ سبھی ایک ہی آباو اجداد سے پیدا ہوئے ہیں۔ہم کھاتے ہیں پیدا ہوئی۔ کچھ نے چاہا کہ پھولوں

پر کے نشانات ڈائناسور کی ہڈیوں کے ساتھ محفوظ ہو گئے ۔یہاں ہم بازو کے اگلے حصے پر ’پر‘ دیکھ سکتے ہیں یہ ایک چھوٹا ڈائناسور ہے جو ڈرومیسور خاندان کا ہے

شکل 9.12
یہ ڈائناسور اڑ نہیں سکتا تھا ،اور یہ ہو سکتا ہے کہ پروں کی ارتقا کا اڑان کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو

ارتقائی تعلق کو تلاش کرنے کا دوسرا طریقہ اس بنیادی تصور پر منحصرہے جس سے ہم نے شروعات کی تھی۔ یہ وہ تصور تھا کہ تولید کے دوران DNA میں ہونے والی تبدیلیاں ارتقا کے بنیادی واقعات ہیں اگر یہ سچ ہے تو مختلف انواع کے DNA کی ساخت کا موازنہ کرکے ہم سیدھے ہی اس بات کا تعین کر سکتے ہیں کہ انواع کی تشکیل کے دوران DNA میں کیا کیا ا ور کتنی تبدیلیاں آئیں۔ ارتقائی تعلق کو قائم کرنے میں اس طریقہ کا بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔
مزید معلومات
مزید معلومات
سالماتی نسلی ارتقا(Molecular Phylogeny)
ہم اس بات پر گفتگو کرتے ہیں کہ خلوی تقسیم کے دوران DNA میں ہونے والی تبدیلی سے اس پروٹین میں بھی تبدیلی آئے گی جو نئے DNA سے بنے گی۔دوسرا نقطہ جس پر غور کیا جاتا ہے وہ یہ کہ یہ تبدیلیاں ایک پیڑھی سے دوسری میں جمع ہوتی جاتی ہیں کیا ہم ماضی میں جاکر DNAمیں آئے فرق کو تلاش کرسکتے ہیں اور یہ پتہ لگاسکتے ہیں کہ یہ تبدیلی کس وقت ہوئی؟ سالماتی نسلی ارتقا بالکل یہی کرتا ہے۔ یہ جانکاری اس تصور پر مبنی ہے کہ وہ عضویے جن کا آپس میں دور کا رشتہ ہے ان میں DNA کے اندر زیادہ فرق پایا جاتا ہے ایسے مطالعے ارتقائی تعلق کی کھوج کرتے ہیں اور اس بات کا پتہ لگانے میں کافی اہم ہیں کہ مختلف عضویوں میں سالماتی نسلی ارتقا کے ذریعہ قائم کیے گئے تعلقات اس درجہ بندی کی اسکیم سے کافی میل کھاتے ہیں جسے ہم نے درجہ IX میں پڑھا تھا۔
سوالات
1۔ ان خصوصیات کی ایک مثال دیجیے جن کا استعمال ہم دو انواع کے ارتقائی تعلق کے تعین میں کرتے ہیں؟
2۔ کیا تتلی اور چمگادڑ کے پنکھوں کو ہم ترکیب کہا جاسکتا ہے؟ کیوں یا کیوں نہیں؟
3۔ فوسل کیا ہیں؟ یہ ہمیں ارتقا کے عمل کے بارے میں کیا بتاتے ہیں؟
:9.6
ارتقا کو ’ترقی‘ سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے
(Evolution should not be Equated with 'Progress')
انواع کے خاندانی شجرے کو تلاش کرنے کی اس کوشش میں ہمیں کچھ باتیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ پہلی یہ کہ اس عمل کے ہر مرحلے پر کئی شاخیں ممکن ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ نئی نوع کی تشکیل کے لیے پہلی نوع غائب ہو جائے۔ ایک نئی نوع پیدا ہوتی ہے۔ لیکن بھونرے کی مثال میں ہم نے دیکھا تھا کہ نئی نوع کی ابتدا کے لیے یہ ضروری ہے نہیں ہے کہ پہلی نوع غائب ہو جائے۔ یہ سب ماحول پر منحصر ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ نئی نوع پرانی نوع سے بہتر ہو۔ صرف قدرتی انتخاب اور جینیاتی انحراف (Genetic drift) کے مجموعی اثر سے ایسی آبادی وجود میں آئی جس کے افراد پہلی نوع کے ساتھ تولید نہیں کر سکتے۔ لہٰذا مثال کے طور پر یہ سچ نہیں ہے کہ انسان کا ارتقاء چمپانزی سے ہوا ہے۔ اس کے باوجود کہ بہت عرصہ پہلے انسانوں اور چمپا نزیوں کے آبا و اجداد مشترک تھے، وہ مشترک آبا و اجداد نہ تو انسان تھے اور نہ ہی چمپانزی۔ اس کے علاوہ یہ بھی ضروری نہیں کہ آبا و اجداد سے علاحدگی کے پہلے مرحلے میں ہی آج کے چمپا نزی اور انسان کا ارتقا ہو گیا ہو۔ اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ دونوں انواع کا ارتقا علاحدہ علاحدہ طریقوں سے مختلف شاخوں میں اپنے طریقے سے ہوا ہوگا جس سے ان انواع کی موجودہ شکلیں وجود میں آئیں۔
درحقیقت ارتقا کے تصور کا مطلب کوئی حقیقی ’ترقی‘ نہیں ہے۔ سادہ طو ر پر تنوع کی تشکیل اور ماحولی انتخاب کے ذریعہ تنوع کو شکل عطا کرنا ہی ارتقا ہے۔ ارتقا میں ترقی کا اگر کوئی رجحان نظر آتا ہے تو وہ ہے وقت کے ساتھ ساتھ جسمانی ڈیزائن کی پیچیدگی میں اضافہ۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ قدیم ڈیزائن کارگر نہیں ہیں۔ کئی قدیم اور سادہ ڈیزائن آج بھی زندہ ہیں۔ درحقیقت زندگی کی سادہ ترین شکلیں جیسے بیکٹریا ناموافق مساکن مثلاً گرم جھرنے، گہرے سمندر کے گرم خطوں اور انٹکارکٹکا کی برف میں بھی رہتے ہیں۔ بالفاظ دیگر انسان ارتقا کے سب سے اونچے پائدان پر نہیں ہیں بلکہ حیاتی ارتقا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ایک اور نوع ہے۔
9.6.1
انسانی ارتقا
(Human Evolution)
ان کے رنگ روپ میں بہت زیادہ تنوع نظر آتا ہے۔ یہ تنوعات اتنی زیادہ ہیں کہ لمبے عرصے تک لوگ انسانی ’نسلوں‘ کی ہی بات کرتے تھے۔ عام طور سے جلد کا رنگ ان نام نہاد نسلوں کے تعین کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ پیلے، کچھ سیاہ فام تو کچھ سفید یا بھورے کہلاتے تھے۔ لمبے عرصے تک یہ بحث چلتی رہی ہے کہ کیا ان گروپوں کا ارتقا علاحدہ علاحدہ ہوا ہے؟ گذشتہ کچھ برسوں میں ثبوت بہت زیادہ واضح ہو گئے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسانی نسلوں کی کوئی حیاتیاتی بنیاد نہیں ہے۔ سبھی انسان ایک ہی نوع ہیں۔انسانی ارتقا کے مطالعہ کے لیے بھی وہی طریقے بروئے کار لائے جاتے ہیں جن کا استعمال حیاتیاتی ارتقا کے لیے کیا گیا تھا جیسے کھدائی، ٹائم ڈیٹنگ اور فوسل کے مطالعہ کے ساتھ DNA تواتر کا تعین۔ اس سیارہ زمین پر انسانی شکلوں اور

شکل 9.14
ارتقا۔سیڑھی بمقابلہ پیڑ
صرف یہی نہیںکہ ہم گذشتہ چند ہزار برسوں سے کہاں رہ رہے ہیں ہم سبھی کی ابتدا افریقہ سے ہوئی ہے۔ نوع انسانی یعنی ہوموسیپی اینس (Homo sepiens) کے قدیم ترین ممبران کو وہیں پر تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے جینیٹک فٹ پرنٹ (Genetic footprints) کو افریقی جڑوں میں ہی تلاش کیا جاسکتا ہے۔ کچھ ہزار برس پہلے ہمارے آبا و اجداد نے افریقہ چھوڑ دیا جبکہ کچھ وہیں رہ گئے۔ جبکہ وہاں کے باشندے پورے افریقہ میں پھیل گئے۔ مہاجرین آہستہ آہستہ پوری دنیا میں پھیل گئے۔ افریقہ سے مغربی ایشیا اور وہاں سے وسطی ایشیا، یوریشیا، جنوبی ایشیا اور مشرقی ایشیا اور وہاں سے انھوں نے انڈونیشیا کے جزائر اور فلپائن سے آسٹریلیا تک کا سفر کیا۔ وہ بیرنگ لینڈ برج (Bering land bridge) پار کرکے امریکہ پہنچے۔ چونکہ ان کا مقصد صرف سفر کرنا نہیں تھا لہٰذا انہوں نے ایک ہی راستہ کو منتخب نہیں کیا۔ وہ مختلف گروپوں میں کبھی آگے اور کبھی پیچھے گئے۔ گروپ بعض واقات ایک دوسرے سے علاحدہ ہو گئے۔ کبھی کبھی علاحدہ ہو کر مختلف سمتوں میں آگے بڑھ گئے جب کہ کچھ واپس آکر ایک دوسرے سے مل گئے۔ آنے جانے کا یہ سلسلہ چلتا رہا۔ اس سیارہ کی دیگر انواع کی طرح یہ بھی ارتقائی عمل کا نتیجہ تھے اور وہ اپنی زندگی کو بہتر طریقے سے گزارنے کی کوشش کر رہے تھے۔
سوالات
1۔ انسان جو جسامت، رنگ اور شکل میں ایک دوسرے سے بہت مختلف نظر آتے ہیں۔ ایک ہی نوع کے افراد ہیں کیوں ؟
2۔ ارتقا کے نقطۂ نظر سے بیکٹیریا، مکڑی، مچھلی اور چمپانزی میں سے کس کا جسمانی ڈیزائن بہتر ہے؟ کیوں یا کیوں نہیں؟
آپ نے کیا سیکھا
◊ تولیدی عمل کے دوران پیدا ہونے والے تغیرات وراثت میں منتقل کیے جاسکتے ہیں۔
◊ یہ تغیرات افراد کے زندہ رہنے کا امکان بڑھا دیتے ہیں۔
◊ صنفی تولید کرنے والے افراد میں ایک ہی صفت کے لیے جین کی دوکاپیاں ہوتی ہیں۔ اگر کاپیاں بالکل ایک جیسی نہ ہوں تو جو صفت ظاہر ہوتی ہے وہ غالب صفت کہلاتی ہے اور دوسری مغلوب صفت کہلاتی ہے۔
◊ ایک ہی فرد میں صفات کی توریث علاحدہ علاحدہ ہو سکتی ہے، اوریہ صنفی تولید کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پیڑھی میں صفات کے نئے اتحاد پیدا کرسکتے ہیں۔
◊ مختلف انواع میں جنس کا تعین مختلف عوامل کے ذریعہ ہوتا ہے۔ انسان میں بچے کا جنس اس کے پدری کروموسوم پر منحصر ہوتا ہے آیا کہ وہ X (لڑکی کے لیے ) ہے یا Y (لڑکے کے لیے)۔
◊ انواع میں تغیرات زندہ رہنے کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں یا جینیاتی انحراف میں مدد کرتے ہیں۔
◊ غیر تولیدی بافتوں میں ماحولی عوامل کی وجہ سے آنے والی تبدیلیاں وراثت میں منتقل ہوتی ہیں۔
◊ جب تغیرات اور جغرافیائی علاحدگی متحد ہو جاتے ہیں تو انواعیت (Speciation) ہوسکتی ہے۔
◊ عضویوں کی درجہ بندی میں ارتقائی تعلق کو تلاش کیا جاسکتاہے۔
◊ ماضی میں مشترک آبا و اجداد کی تلاش سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں غیر حیاتیاتی مادہ سے زندگی کی ابتدا ہوئی ہے۔
◊ ارتقا کو سمجھنے کے لیے صرف موجودہ انواع کا مطالعہ کافی نہیں ہے بلکہ فوسل کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔
◊ انٹرمیڈئیٹ مرحلوں پر بقائی افادیت کی وجہ سے پیچیدہ عضووں کی ارتقا ہوتی ہے۔
◊ ارتقا کے دوران اعضا یا ساختیں نئے کام کرنے کے لیے توافق کر لیتی ہیں۔ مثال کے طور پر یہ مانا جاتا تھا کہ پروں کی ارتقا گرمی فراہم کرنے کے لیے ہوئی تھی مگر بعد میں اڑنے کے لیے توافق اختیار کرلیا۔
◊ ارتقا کو ادنیٰ شکلوں کی اعلیٰ شکلوں میں ترقی سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ ارتقا کی وجہ سے زیادہ پیچیدہ جسمانی ڈیزائن پیدا ہوئے ہیں جبکہ سادہ جسمانی ڈیزائن اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
◊ انسانی ارتقا کا مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہم سبھی ایک ہی نوع کے ممبران ہیں جس کی ابتدا افریقہ میں ہوئی اور مرحلہ وار دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل گئی۔
مشقیں
1۔ مینڈل کے ایک تجربے میں لمبے مٹر کے پودے جن کے پھول بیگنی تھے، کی ایک سفید پھول والے بونے مٹر کے پودے کے ساتھ نسل افزائش کی گئی۔ پیدا ہونے والے پودوں میں سبھی پھول بینگنی تھے مگر ان میں سے تقریباً آدھے پودے بونے تھے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ لمبے پودوں کی جینیاتی ساخت مندرجہ ذیل ہے:
(a) TTWW
(b) TTww
(c) TtWW
(d) TtWw
2۔ ہم ترکیب عضو کی ایک مثال ہے
(a) ہمارے بازو اور کتوں کے اگلے پیر۔
(b) ہمارے دانت اور ہاتھی کے لمبے دانت۔
(c) آلو اور گھاس کی بیلیں۔
(d) مذکورہ بالا سبھی۔
3۔ ارتقائی نقطہ نظر سے ہم مندرجہ ذیل میں سے کس سے یکسانیت رکھتے ہیں:
(a) چینی اسکولی لڑکے سے۔
(b) چمپانزی سے۔
(c) مکڑی سے۔
(d) بیکٹیریا سے۔
4۔ ایک مطالعہ سے معلوم ہوا ہے کہ وہ بچے جن کی آنکھیں ہلکے رنگ کی ہوتی ہیں ان کے والدین کی آنکھوں کا رنگ بھی ہلکا ہوتا ہے۔ اس بنیاد پر ہم آنکھ کے رنگ کے بارے میں کیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ غالب صفت ہے یا مغلوب صفت؟ کیو ںیا کیوں نہیں؟
5۔ ارتقا اور درجہ بندی کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
6۔ اصطلاحات ہم زاداور مشابہ عضو کو مثال کے ساتھ سمجھائیے۔
7۔ کتوں کی جلد کے غالب رنگ کو تلاش کرنے کے لیے پراجیکٹ تیار کیجیے۔
8۔ ارتقائی تعلقات کے تعین میں فوسل کی کیا اہمیت ہے؟
9۔ غیر حیاتیاتی مادہ سے زندگی کی ابتدا کے ہمارے پاس کیا ثبوت ہیں؟
10۔ سمجھائیے کہ کس طرح جنسی تولید سے غیر جنسی تولید کے بہ نسبت زیادہ پنپنے والے تغیرات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ان عضویوں کی ارتقا پر کیا اثر ڈالتا ہے جو جنسی تولید کرتے ہیں؟
11۔ پیدا ہونے والے بچے میں کس طرح نر اور مادہ دونوں کی برابر کی جینی حصہ داری ہوتی ہے۔
12۔ کسی آبادی میں صرف وہی تغیرات زندہ رہتے ہیں جو کوئی فائدہ دیتے ہیں۔ کیا آپ اس جملے سے اتفاق رکھتے ہیں؟ کیوں یا کیوں نہیں؟