Skip to content
Science Chapter-10

باب 10


روشنی۔انعکاس اور انعطاف

(Light – Reflection and Refraction)

1

ہم اپنے اطراف میں کئی طرح کی اشیادیکھتے ہیں۔ حالانکہ، ایک اندھیرے کمرے میں ہم کچھ بھی نہیں دیکھ پاتے ہیں۔ جیسے ہی کمرے کو روشن کیا جاتا ہے سبھی چیزیں دکھائی دینے لگتی ہیں۔وہ کیا ہے جو چیزوں کو مرئی بنادیتاہے؟ دن کے وقت سورج کی روشنی ہمیں اشیاکو دیکھنے میں مدد کرتی ہے۔ اشیا اپنے اوپر پڑنے والی روشنی کو منعکس کردیتی ہیں۔ یہ منعکس روشنی جب ہماری آنکھوں میں پہنچتی ہے تو وہ ہمیں چیزوں کو دیکھنے کے قابل بناتی ہے۔ ہم ایک شفاف وسیلہ کے آرپار دیکھ سکتے ہیں کیونکہ اس میں سے روشنی کی ترسیل ہوجاتی ہے۔ روشنی سے متعدد حیرت انگیز مظاہر وابستہ ہیں جیسے آئینے کے ذریعہ شبیہ کا بننا، تاروں کا ٹمٹمانا، قوس قزح کے خوبصورت رنگ، کسی وسیلہ کی وجہ سے روشنی کا مڑ جانا وغیرہ۔ روشنی کی خصوصیات کا مطالعہ ہمارے لیے ان کی کھوج بین میں مددگار ہوگا۔
اپنے چاروں طرف موجود عام نوری مظاہر کا مشاہدہ کرنے پر ہم اِس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ روشنی سیدھی لائن میں سفر کرتی ہے۔ یہ حقیقت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ روشنی کے چھوٹے سے ماخذ کے ذریعہ اس غیر شفاف شے کی بہت واضح پرچھائی بنتی ہے جو روشنی کے اس سیدھی لائن والے راستے میں آتا ہے۔اسے عام طور سے روشنی کی شعاع (Ray of Light) کے طور پر ظاہر کیا جاتاہے۔

اگر کوئی بہت چھوٹی غیر شفاف شے روشنی کے راستے میں آتی ہے تو روشنی کی یہ خاصیت ہے کہ وہ سیدھی لائن میں نہ چل کر اس کے چاروں طرف جھک جاتی ہے۔اس اثر کو روشنی کا انصراف (Difraction) کہتے ہیں۔اس سے شعائیں جو سیدھی لائن میں چلتی ہیں ان کا بصری آلات میں استعمال ناکام ہوجاتا ہے۔ انصراف جیسے مظہر کو سمجھانے کے لیے روشنی کو لہر کی مانند فرض کیا جاتاہے۔ اس کو تفصیل سے آپ اعلیٰ درجات میں پڑھیں گے۔ بیسویں صدی کی شروعات میں یہ بات معلوم ہوئی کہ روشنی کا لہر نظریہ اکثر روشنی اور مادّہ کے درمیان باہمی عمل میں نامناسبت دکھاتاہے۔ روشنی عام طور سے ذرات کی دھارا کی طرح برتاؤ کرتی ہے۔ روشنی کی فطرت کے بارے میں یہ تذبذب کچھ سالوں تک برقرار رہا جب تک کہ روشنی کا جدید کوانٹم نظریہ ظاہر نہیں ہوا تھا جس میں روشنی کو نہ تو ’لہر‘ اور نہ ہی ’ذرّہ‘ کہا گیا۔ یہ نیا نظریہ روشنی کی ذراتی اور لہرخصوصیت کو ہم آہنگ کرتا ہے۔

اِس باب میں ہم روشنی کی سیدھی لائن میں اشاعت کا استعمال کرتے ہوئے انعکاس اور انعطاف کے مظہر کا مطالعہ کریں گے۔ یہ بنیادی تصورات کچھ بصری مظاہر کا مطالعہ کرنے میں ہماری مدد کریں گے جو قدرتی ماحول میں موجود ہیں آئنوں ہیں۔ ہم اِس باب میں کرّوی آئنوں (Spherical mirrors) کے ذریعہ ہونے والے روشنی کے انعکاس نیز روشنی کے انعطاف اور حقیقی زندگی میں ان کے استعمال کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

10.1 روشنی کا انعکاس (Reflection of Light)

ایک بہت زیادہ پالش کی ہوئی سطح جیسے کہ آئینہ، اپنے اوپر گرنے والی زیادہ تر روشنی کا انعکاس کردیتا ہے۔ آپ روشنی کے انعکاس کے قوانین سے پہلے ہی سے واقف ہیں۔
آئینے ہم ان قوانین کو پھر سے یاد کرتے ہیں—
(i) زاویۂ وقوع (Angle of incidence) زاویۂ انعکاس (Angle of reflection) کے برابر ہوتا ہے۔
(ii) واقع شعاع، وقوع کے نقطہ پر آئینہ کے لیے نارمل اور منعکس شعاع ایک ہی مستوی میں ہوتے ہیں۔
انعکاس کے یہ قوانین ہر طرح کی انعکاسی سطحوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں جس میں کرّوی سطحیں بھی شامل ہیں۔ آپ ایک مسطح آئینہ کے ذریعہ بننے والی شبیہ سے واقف ہوں گے۔ شبیہ کی کیا خصوصیات ہیں؟ مسطح آئینہ کے ذریعہ بننے والی شبیہ ہمیشہ مجازی (Virtual) اور سیدھی ہوتی ہے۔ شبیہ کا سائز شے کے سائز کے برابر ہوتا ہے۔ شبیہ آئینہ سے اتنی ہی دور بنتی ہے جتنی کہ شے اس سے دور ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی شبیہ جانبی طورالٹی بنتی ہے۔ عرضی تقلیب میں بھی ہوتی ہے۔ اگر منعکس سطحیں کرّوی ہوں تو شبیہ کیسی ہوگی؟ آئیے ہم اس کی تحقیق کرتے ہیں۔

سرگرمی 10.1

ایک بڑا چمکدار چمچہ لیجیے۔ اُس کی کرّوی سطح میں اپنا چہرادیکھنے کی کوشش کیجیے۔

کیا آپ کو شبیہ دکھائی دیتی ہے؟ یہ چھوٹی ہے یا بڑی؟

چمچہ کو اپنے چہرے سے دھیرے دھیرے دور لے جائیے۔ شبیہ کا مشاہدہ کیجیے۔ وہ کس طرح تبدیل ہوتی ہے؟

چمچہ کو پلٹ دیجیے اور سرگرمی کو دوہرائیے۔ شبیہ اب کیسی دکھائی دیتی ہے؟

•دونوں سطحوں کی شبیہوں کی خصوصیات کا موازنہ کیجیے۔


ایک چمکدار چمچہ کی خمیدہ سطح کو کرّوی آئینہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ عام طور پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والا خمیدہ آئینہ کرّوی آئینہ ہے۔ اس طرح کے آئینوں کی انعکاسی سطح کو کرّہ کی سطح کا ایک حصّہ کہا جاسکتا ہے۔ ایسے آئینے جن کی منعکس سطح کرّوی ہوں، کرّوی آئینے کہلاتے ہیں۔اب ہم کرّوی آئینوں کے بارے میں تفصیل سے پڑھیں

10.2 کروی آئینہ (Spherical Mirrors)

کسی کروی آئینہ کی انعکاسی سطح اندر کی طرف یا باہر کی طرف خمیدہ ہوسکتی ہے۔ وہ کروی آئینہ جس کی انعکاسی سطح اندر کی طرف خمیدہ ہو یعنی جس کا رخ کرہ کے مرکز کی طرف ہو اسے مقعرآئینہ (Concave mirror) کہتے ہیں۔ ایک کروی آئینہ جس کی انعکاسی سطح باہر کی طرف خمیدہ ہومحدب آئینہ (Convex mirror) کہلاتا ہے۔ ان آئینوں کو شکل 10.1 میں دکھایا گیا ہے۔ آپ ان اشکال میں غور کیجیے کہ آئینوں کے پیچھے کا حصہ رنگاہوا ہے۔
اب آپ کو یہ سمجھ میں آرہا ہوگا کہ چمچہ کی جو سطح اندر کی طرف خمیدہ ہے اسے مقعر آئینہ کی طرح اور جو سطح باہر کی طرف اُبھری ہوئی ہے اسے محدب آئینہ کی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔
کروی آئینوں کے بارے میں مزید مطالعہ کرنے سے پہلے ہمیں کچھ اصطلاحات کو جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم کروی آئینوں کے بارے میں بات کرتے ہیں تو یہ اصطلاحات عام طور سے استعمال ہوتی ہیں، کسی کروی آئینے کی انعکاسی سطح کا مرکز ایک نقطہ ہوتا ہے جسے قطب (Pole) کہتے ہیں۔ یہ آئینہ کی سطح پر موجود ہوتا ہے۔ قطب کو عام طور پر P سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
2
شکل 10.1 کرّوی آئینوں کی تصویری پیشکش، رنگی ہوئی سطح غیر انعکاسی ہے۔
کروی آئینہ کی انعکاسی سطح کرہ کا ایک حصہ بناتی ہے۔ اس کرہ کا ایک مرکز ہوتا ہے۔ یہ نقطہ کروی آئینہ کا مرکزانحنا (Centre of curvation)کہلاتا ہے۔ اسے C سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ برائے مہربانی یہ یاد رکھیے کہ مرکز انحنا آئینہ کا حصہ نہیں ہے۔ یہ اس کی انعکاسی سطح کے باہر موجود ہوتا ہے۔ ایک مقعر آئینہ کا مرکز انحنا اس کے سامنے موجود ہوتا ہے۔ جبکہ محدب آئینہ میں یہ آئینہ کے پیچھے موجوہوتا ہے۔ آپ اسے شکل (a) 10.2 اور (b) میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس کرّہ کا نصف قطر جس سے کروی آئینے کی انعکاسی سطح بنتی ہے، آئینہ کا نصف قطر (Radius of curvature) انحناکہلاتا ہے۔ اسے R کے ذریعہ دکھایا جاتاہے۔ آپ یہ غور کیجیے کہ فاصلہ PC دائرے کے نصف قطر کے برابر ہے۔ ایک سیدھی لائن فرض کیجیے جو کروی آئینہ کے قطب اور مرکز انحنا سے ہوکر گزر رہی ہے۔ اس لائن کو خاص محور (Principal axis) کہتے ہیں۔یاد ریکھئے کہ خاص محور آئینہ کے قطب کے لیے نارمل ہوتی ہے۔ آئیے ہم آئینہ سے متعلق ایک اہم اصطلاح کو اس سرگرمی کے ذریعہ سمجھتے ہیں۔

سرگرمی 10.2

احتیاط: سورج کی طرف براہِ راست نہ دیکھیں حتی کہ وہ آئینہ جو سورج کی روشنی کا انعکاس کر رہا ہو اس میں بھی نہ دیکھیں۔ یہ آپ کی آنکھوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ایک مقعر آئینہ کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر اس کی انعکاسی سطح کو سورج کی طرف کیجیے۔

آئینہ کے ذریعہ منعکس ہونے والی روشنی کا رخ ایک کاغذ کی شیٹ کی طرف کیجیے جو آئینے کے قریب رکھی ہو۔

کاغذ کی شیٹ کو دھیرے دھیرے آگے پیچھے کیجیے جب تک کہ آپ کو اُس پر ایک گہرا اور واضح روشنی کا نشان نہ مل جائے۔

آئینہ اور کاغذ کو اسی حالت میں کچھ دیر کے لیے رکھیے۔ آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں ؟ کیوں؟

سب سے پہلے کاغذ دھواں پیدا کرتے ہوئے جلنا شروع کرتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد اس میں آگ لگ جاتی ہے۔ یہ کیوں جلتا ہے؟ سورج سے آنے والی روشنی ایک واضح اور گہرے نشان کے طور پر آئینہ کے ذریعہ ایک ہی نقطہ پر مرکوز ہوجاتی ہے۔ روشنی کا یہ نشان درحقیقت کاغذ کی شیٹ پر سورج کی شبیہہ ہے۔ یہ نقطہ مقعر آئینہ کا فوکس ہے۔ سورج کی روشنی کے ارتکاز کی وجہ سے پیدا ہونے والی گرمی کاغذ کو جلا دیتی ہے۔ آئینہ کے مقام سے اس شبیہہ کا فاصلہ آئینہ کی فوکل لمبائی کے تقریباً برابر ہوتا ہے۔
آئیے ہم اس مشاہدہ کو ایک شعاعیڈائگرام (Ray diagram) کے ذریعہ سمجھنے کی کوشش کریں۔
Screenshot from 2020-01-07 12-50-43
شکل 10.2  
(a)  محدب آئینہ   
(b) مقعر آئینہ
شکل a) 10.2 )کا غور سے مشاہدہ کیجیے۔ بہت ساری شعاعیں جوخاص محور کے متوازی مقعر آئینہ پر پڑ رہی ہیں۔ منعکس شعاعوں کا مشاہدہ کیجیے۔ یہ سبھی شعاعیں آئینہ کے خاص محور کے ایک نقطہ پر ملتی ہیں۔ یہ نقطہ مقعر آئینہ کا پرنسپل فوکس (Principal Focus) کہلاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح شکل (b) 10.2 کا مشاہدہ کیجیے۔ وہ شعاعیں جو خاص محور کے متوازی ہیں، جومحدب آئینے سے منعکس ہو رہی ہیں۔ منعکس شعاعیں خاص محور پر ایک نقطہ سے آتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ نقطہ محدب آئینہ کا پرنسپل فوکس کہلاتا ہے۔ پرنسپل فوکس کو F کے ذریعہ دکھایا جاتا ہے۔ کرّوی آئینہ کے قطب اور پرنسپل فوکس کے درمیانی فاصلے کو فوکل لمبائی (Focal length)کہتے ہیں۔ اسے fسے ظاہر کیا جاتاہے۔
کروی آئینے کی انعکاسی سطح عام طور سے کرّوی ہوتی ہے۔ سطح کا ایک دائری کنارا ہوتا ہے۔ کرّوی آئینہ کی انعکاسی سطح کا قطر اس کا اپرچر (Aperture)کہلاتی ہے۔ شکل 10.2 میں فاصلہ MN اپرچر کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم اپنے مباحثہ میں صرف ان کرّوی آئینوں کا ذکر کریں گے جن کے اپرچر ان کے نصف قطر انحنا سے بہت چھوٹے ہوں۔
کسی کرّوی آئینہ کے نصف قطر انحنا Rاور فوکل لمبائی f کے درمیان کیا کوئی رشتہ ہے؟ چھوٹے اپرچر والے کروی آئینوں کا نصف قطر انحنا ان کی فوکل لمبائی کے دوگنے کے برابر ہوتاہے۔ ہم اسے R=2fسے ظاہر کرسکتے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کروی آئینہ کا پرنسپل فوکس اس کے قطب اور مرکز انحنا کے بالکل بیچ میں واقع ہوتا ہے۔

10.2.1  کروی آئینوں کے ذریعہ شبیہ کا بننا  (Image formation by Spherical Mirrors)

آپ نے مسطح آئینوں کے ذریعہ شبیہ کے بننے کا مطالعہ کیا ہوگا۔ آپ ان کے ذریعہ بننے والی شبیہ کی نوعیت، مقام اور نسبتی سائز کے بارے میں بھی جانتے ہوں گے۔ کرّوی آئینوں کے ذریعہ بننے والی شبیہوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ایک مقعر آئینے کے ذریعہ بننے والی کسی شے کی شبیہ کے مقام کا اندازہ ہم کیسے لگا سکتے ہیں؟ کیا یہ شبیہ حقیقی ہے یا مجازی؟ کیا یہ شبیہ شے کے مقابلے بڑی ، تخفیف شدہ یا پھر برابر سائز کی ہے؟ ہم اس بات کی تحقیق ایک سرگرمی کے ذریعہ کریں گے۔

سرگرمی 10.3

آپ مقعر آئینہ کی فوکل لمبائی معلوم کرنے کا طریقہ پہلے ہی پڑھ چکے ہیں۔ سرگرمی 10.2میں آپ نے دیکھا کہ کاغذ پر بننے والا روشنی کا واضح اور چمکدار نشان اصل میں سورج کی شبیہ ہے۔وہ ایک چھوٹی، حقیقی اور الٹی شبیہ تھی۔ آپ نے آئینے سے شبیہ کی کے فاصلے کی پیمائش کرکے مقعرآئینہ کی تقریبی فوکل لمبائی حاصل کی۔

ایک مقعر آئینہ لیجیے۔ اس کی تقریبی فوکل لمبائی اوپر دیے گئے طریقہ سے نکالیے۔ فوکل لمبائی کی قدر کو لکھ لیجیے۔

(آپ اس فوکل لمبائی کو فاصلے پر رکھی ہوئی کسی چیز کی شبیہ ایک کاغذ کی شیٹ پر حاصل کرکے بھی نکال سکتے ہیں۔)

میز پر چاک کی مدد سے ایک لائن کھینچیے۔ محدب آئینے کو ایک اسٹینڈ پر لگائیے۔ اسٹینڈ کو لائن پر اس طرح رکھیے کہ اس کا قطب لائن پر رہے۔

چاک کی مدد سے پہلی لائن کے متوازی دو اور لائنیں اس طرح کھینچیے کہ کوئی بھی دو متواتر لائنوں کے درمیان کا فاصلہ آئینہ کی فوکل لمبائی کے برابر ہو۔ یہ لائنیں اب بالترتیب F,Pاور Cنقطوں کے مقامات کے نظیری ہوں گی۔ یاد کیجیے ایک چھوٹے اپرچر والے کرّوی آئینہ کے لیے پرنسپل فوکس Fاس کے قطب P اورمرکزانجنا Cکے ٹھیک درمیان میں واقع ہوتا ہے۔

ایک چمکدار شے جیسے کہ جلتی ہوئی موم بتی کو Cسے دور کسی مقام پر رکھیے۔ آئینہ کے سامنے کاغذ کا ایک پردہ رکھیے اور اسے اس وقت تک ہلائیے جب تک کہ اس پر موم بتی کی لو کی ایک واضح اور چمکدار شبیہ نہ بن جائے۔

شبیہ کا اچھی طرح مشاہدہ کیجیے۔ اس کی نوعیت، مقام اور شے کے سائز کے مقابلے اس کے نسبتی سائز کو نوٹ کیجیے۔

اس سرگرمی کو دوہرائیے، موم بتی کو (a)ٹھیک Cکے پیچھے رکھ کر۔ (C (b پر رکھ کر (F (C اور Cکے درمیان میں رکھ کر (F (d پر رکھ کر اور (P (C اور F کے بیچ رکھ کر۔

ان میں سے ایک صورت میں آپ کو پردے پر کوئی شبیہ حاصل نہیں ہوگی۔ اس صورت میں شے کے فاصلہ کاپتہ لگائیے اور پھر آئینہ میں اس کی مجازی شبیہ کو دیکھیے۔

اپنے مشاہدات کو نوٹ کیجیے اور اسے جدول میں نوٹ کیجیے۔

اوپر دی گئی سرگرمی میں آپ دیکھیں گے کہ مقعر آئینہ کے ذریعہ بننے والی شبیہ کی نوعیت، مقام اور سائز نقطہ P،Fاور C سے شے کے نسبتی مقام پر منحصر ہے۔ شے کے کچھ مقامات کے لیے بننے والی شبیہ حقیقی ہوتی ہے اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ دوسرے مقامات پر رکھی ہوئی شے کے لیے شبیہ مجازی بنتی ہے۔ شبیہ یا تو تکبیر شدہ ہوگی یا تخفیف شدہ ہوگی یا پھر شے کے مقام کے حساب سے اس کی جسامت کے برابر ہوگی۔ ان مشاہدات کا خلاصہ جدول 10.1میں پیش کیاگیاہے۔

جدول 10.1 شے کے مختلف مقامات کے لیے مقعر آئینہ کے ذریعہ بننے والی شبیہ۔


شبیہ کی نوعیت (شبیہ کا (سائز) شبیہ کا مقام
شے کا مقام
حقیقی اور الٹی بے حد تخفیف شدہ، نقطہ کے برابر فوکس Fپر لا انتہا پر
حقیقی اور الٹی تخفیف شدہ Fاور Cکے درمیان سے دور  C
حقیقی اور الٹی یکساں سائز Cپر پر C
حقیقی اور الٹی بڑا Cسے دور Cاور ر Fکے درمیان
حقیقی اور الٹی بہت زیادہ بڑا لا انتہا ئیہ پر Fپر 
مجازی اور سیدھی بڑا آئینہ کے پیچھے Pاور Fکے درمیان

10.2.2 شعاعی ڈائیگرام کے استعمال سے کروی آئینوں کے ذریعہ بنائی گئی شبیہ کا اظہار

ہم کروی آئینوں کے ذریعہ شبیہ کے بننے کا مطالعہ شعاعی ڈائیگرام کھینچ کر بھی کرسکتے ہیں۔ کروی آئینہ کے سامنے رکھی گئی ایک متناہی سائز کی وسیع شے پر غور کیجیے۔ وسیع شے کا ہر چھوٹا حصہ ایک نقطہ ماخذ کی طرح کام کرتا ہے۔ ان نقطوں سے لا انتہا شعائیں پیدا ہوتی ہیں۔ کسی شے کی شبیہ کا مقام معلوم کرنے کی غرض سے شعاعی ڈائیگرام کی تشکیل کے لیے خود مختارانہ طور پر کسی نقطہ سے نمودار ہوتی ہوئی بے شمار شعاعوں کو فرض کیا جاسکتا ہے۔ شعاعی ڈائیگرام کی وضاحت کے لیے صرف دو شعاعوں کو لینا آسان رہے گا۔ ان شعاعوں کو اس طرح سے منتخب کیا جاتا ہے کہ آئینہ سے انعکاس کے بعد ان کی سمت کا پتہ لگانا آسان ہو۔
کم از کم دو منعکس شعاعوں کے تقاطع سے شبیہ کے مقام کا پتہ چل جاتا ہے۔ مندرجہ ذیل میں سے کوئی دو شعاعوں کو شبیہ کا مقام معلوم کرنے کے لیے فرض کیا جاسکتا ہے۔
3
(i) خاص محور کے متوازی ایک شعاع انعکاس کے بعد مقعر آئینہ کے پرنسپل فوکس سے ہوکر گزرتی ہے اور محدب آئینہ کی صورت میں پرنسپل فوکس سے غیر مرکوز (Diverge) ہوتی ہوئی دکھائی پڑتی ہے۔ اسے شکل (a) 10.3اور (b)میں دکھایا گیا ہے۔
444444
(ii) ایک شعاع جو مقعر آئینہ کے پرنسپل فوکس سے ہوکر گزر رہی ہے یا کہ ایک شعاع جس کا رخ محدب آئینہ کے پرنسپل فوکس کی طرف ہے، انعکاس کے بعد خاص محور کے متوازی نمودارہو گی۔ اسے شکل (a) 10.4 اور (b) میں سمجھایا گیا ہے۔
c
(iii) ایک شعاع جو کسی مقعر آئینہ کے مرکزانحنا سے ہوکر گزرتی ہے یا ایک محدب آئینہ کے مرکزانحنا کی سمت میں موڑ دی جاتی ہے تو وہ انعکاس کے بعد اسی راستہ پر منعکس ہوجاتی ہے۔ اسے شکلa)10.5)اور(b)میں دکھایا گیا ہے۔ روشنی کی شعاعیں اسی راستے سے واپس آجاتی ہیں کیونکہ واقع شعاعیں آئینہ کے نارمل سے ہوکر انعکاسی سطح پر گرتی ہیں۔
d
(iv) ایک شعاع جو مقعر آئینہ یا محدب آئینہ کے نقطہ P (آئینہ کا قطب) کی طرف خاص محور پر ترچھی واقع ہوتی ہے (شکل(a) 10.6)(شکل(b) 10.6)، ترچھی منعکس ہوتی ہے۔ واقع شعاعیں اور منعکس شعاعیں خاص محور سے برابر زاویہ بناتے ہوئے نقطہ وقوع (نقطہ P) پر انعکاس کے قوانین کا اتباع کرتی ہیں۔
یاد رکھیے کہ اوپر دیے ہوئے سبھی معاملات میں انعکاس کے قوانین پر عمل کیا گیا ہے۔ نقطہ وقوع پر واقع شعاع اِس طرح سے منعکس ہوتی ہے کہ انعکاس کا زاویہ وقوع کے زاویہ کے برابر ہوجاتاہے۔

(a) مقعر آئینہ کے ذریعہ شبیہ کا بننا (Image formation by Concave Mirror)

شکل 10.7 میں شے کی مختلف حالتوں کے لیے مقعر آئینہ کے ذریعہ بننے والی شبیہ کے شعاعی ڈائگرام کو دکھایاگیاہے۔

a

سرگرمی10.4

جدول 10.1 میں دکھائی گئی شے کے ہر ایک مقام کے لیے شعاعی ڈائیگرام بنائیے۔

شبیہ کا مقام معلوم کرنے کے لیے آپ گذشتہ سیکشن میں سے کوئی دو شعاعوں کا استعمال کر سکتے ہیں۔

اپنے ڈائیگرام کا موازنہ شکل 10.7 سے کیجیے۔

ہر ایک حالت میں بنی ہوئی شبیہ کی نوعیت، مقام اور نسبتی جسامت کی وضاحت کیجیے۔

نتیجوں کو جدول میں آسان شکل میں لکھیے۔

مقعر آئینوں کے استعمال (Uses of Concave mirrors)

مقعر آئینوں کو عام طور پر ٹارچ، سرچ لائٹ اور گاڑیوں کی ہیڈلائٹوں میں روشنی کا طاقتور متوازی بیم حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اکثر انہیں شیونگ آئینوں کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں تاکہ چہرے کی بڑی شبیہ دیکھ سکیں۔ دانتوں کے ڈاکٹر مقعر آئینہ کا استعمال مریضوں کے دانتوں کی بڑی شبیہ حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ بڑے مقعرآئینوں کا استعمال شمسی بھٹیوں میں گرمی پیدا کرنے کی غرض سے سورج کی کی روشنی مرتکز کرنے کے لیے کیا جاتاہے۔

(b) محدب آئینہ کے ذریعہ شبیہ کا بننا (Image formation by a Convex Mirror)

ہم نے مقعرآئینہ کے ذریعہ شبیہ کے بننے کا مطالعہ کیاہے۔ اب ہم محدب آئینہ کے ذریعہ شبیہ کے بننے کا مطالعہ کریں گے۔

سرگرمی 10.5

ایک محدب آئینہ لیجیے اور اسے ایک ہاتھ میں پکڑیے۔

دوسرے ہاتھ میں ایک پنسل کو سیدھی حالت میں پکڑ لیجیے۔

آئینہ میں پنسل کی شبیہ کا مشاہدہ کیجیے۔ کیا شبیہ سیدھی ہے یا پھر الٹی ہے؟ کیا وہ تخفیف شدہ ہے یا پھر وسیع؟

پنسل کو دھیرے دھیرے آئینہ سے دور لے جائیے۔ کیا شبیہ چھوٹی ہورہی ہے یا پھر بڑی ہورہی ہے؟

اس سرگرمی کو احتیاط سے دوہرائیے۔ بتائیے کہ جیسے جیسے شے کو آئینہ سے دور لے جاتے ہیں تو فوکس کے پاس آجاتی ہے یا پھر دور کھسک جاتی ہے ؟

محدب آئینہ سے بنی ہوئی شبیہ کا مطالعہ کرنے کے لیے ہم شے کے دو مقامات پر غور کریں گے۔ پہلی صورت میں شے لاانتہا (Infinity) پر ہے جبکہ دوسری حالت میں شے آئینہ سے متناہی فاصلے پر موجود ہے۔ محدب آئینہ کےذریعہ ان دونوں مقامات کے لیے شے کی شبیہ کے بننے کو بالترتیب شکل(a) 10.8 اور (b) میں شعائی ڈائیگرام کی شکل میں دکھایا گیا ہے۔ نتیجوں کا خلاصہ جدول 10.2 میں پیش کیا گیا ہے۔
1

جدول 10.2 محدب آئینہ کے ذریعہ بنی شبیہ کی نوعیت، مقام اور نسبتی جسامت


شبیہ کی نوعیت شبیہ کی جسامت شبیہ کا مقام شے کا مقام
مجازی اور سیدھی بے حد تخفیف شدہ، نقطہ کے سائز کی آئینہ کے پیچھے فوکس Fپر۔ لاانتہا  پر
مجازی اور سیدھی تخفیف شدہ آئینہ کے پیچھے Pاور Fکے درمیان لاانتہااور آئینہ کے قطب Pکے درمیان

آپ نے ابھی تک مسطح آئینہ، محدب آئینہ اور مقعر آئینہ کے ذریعہ بننے والی شبیہ کا مطالعہ کیاہے۔ ان میں سے کون سا آئینہ کسی بڑی شے کی مکمل شبیہ دے سکتا ہے؟ آئیے ایک سرگرمی کے ذریعہ پتہ لگائیں۔

سرگرمی10.6

ایک مسطح آئینہ میں کسی دور دراز مقام پر واقع شے جیسے کہ ایک درخت کی شبیہ کا مشاہدہ کیجیے۔

کیا آپ کودرخت کی مکمل شبیہ دکھائی دیتی ہے۔

الگ الگ سائز کے مسطح آئینوں سے کوشش کیجیے۔ کیا آپ کو پوری شے اس کی شبیہ میں دکھائی دیتی ہے؟

اس سرگرمی کو ایک مقعر آئینہ کے ساتھ دہرائیے۔ کیا آئینہ شے کی مکمل شبیہ بناتا ہے؟

اب اس سرگرمی کو محدب آئینہ کے ساتھ کرنے کی کوشش کیجیے۔ کیا آپ کو کامیابی ملی؟ اپنے مشاہدات کی استدلالی وضاحت کیجیے۔

آپ ایک چھوٹے محدب آئینہ میں ایک اونچی عمارت/درخت کی مکمل شبیہ دیکھ سکتے ہیں۔اسی طرح کا ایک آئینہ آگرہ کے قلعے میں لگا ہوا ہے،جس کا رخ تاج محل کی طرف ہے۔ اگر آپ آگرہ کے قلعے میں جائیں توتاج محل کی مکمل شبیہ دیوار پر لگے ہوئے آئینہ میں دیکھنے کی کوشش کیجیے۔ تاج محل کو واضح طور پر دیکھنے کے لیے آپ کو دیوارآپ ایک چھوٹے محدب آئینہ میں ایک اونچی عمارت/درخت کی مکمل شبیہ دیکھ سکتے ہیں۔اسی طرح کا ایک آئینہ آگرہ کے قلعے میں لگا ہوا ہے،جس کا رخ تاج محل کی طرف ہے۔ اگر آپ آگرہ کے قلعے میں جائیں تو تاج محل کی مکمل شبیہ دیوار پر لگے ہوئے آئینہ میں دیکھنے کی کوشش کیجیے۔ تاج محل کو واضح طور پر دیکھنے کے لیے آپ کو دیوار سے جڑے ہوئے چھجّے پر صحیح ڈھنگ سے کھڑا ہونا پڑے گا۔

محدب آئینہ کے استعمال (Uses of Convex mirror)

محدب آئینہ کا استعمال عام طور سے گاڑیوں میں پیچھے کا منظر دیکھنے والے آئینہ کے طور پر ہوتا ہے۔ یہ آئینے گاڑیوں میں آگے کی جانب دونوں طرف لگائے جاتے ہیں تاکہ ڈرائیور اپنے پیچھے والے ٹریفک کو دیکھ سکے جس سے اس کو حفاظت کے ساتھ گاڑی چلانے میں مدد مل سکے۔ محدب آئینہ کو اس لیے ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ ان سے ہمیشہ سیدھی مگر تخفیف شدہ شبیہ حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کا دائرہ منظر بھی بڑا ہوتا ہے کیونکہ ان کے کنارے باہر کی طرف خم دار ہوتے ہیں۔ اس لیے محدب آئینے ڈرائیور کو زیادہ بڑے رقبہ کو دیکھ پانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں جو مسطح آئینے نہیں کرسکتے۔

سوالات

مقعر آئینہ کے پرنسپل فوکس کی تعریف بیان کیجیے۔

ایک کرّوی آئینہ کا نصف قطر انحنا 20سینٹی میٹر ہے۔ اس کی فوکل لمبائی کیاہوگی؟

اس آئینہ کا نام بتائیے جو کسی شے کی سیدھی اور وسیع شبیہ بناتا ہے۔

ہم گاڑیوں میں پیچھے کا منظر دیکھنے کے لیے محدب آئینہ کے استعمال کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟

10.2.3 کروی آئینوں سے انعکاس کے لیے نشان روایت

(Sing Convention for Reflection by Spherical Mirrors)

کروی آئینوں سے روشنی کے انعکاس کے معاملہ میں ہمیں کچھ نشان روایتوں پر عمل کرنا پڑتا ہے جنھیں نئی کارتیسی نشان روایت (New cortesion sign convention) کہا جاتا ہے۔ اِس روایت میں آئینہ کے قطب (P)کو مبدا (Origin) مانا جاتا ہے(شکل10.9)۔ آئینہ کے خاص محور کو مختص نظام میں -xمحور (x'x)کے طور پر لیا جاتاہے۔روایتیں مندرجہ ذیل ہیں۔
(i) شے کو ہمیشہ آئینہ کے بائیں طرف رکھا جاتاہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ شے سے نکلنے والی روشنی آئینہ پر بائیں طرف سے پڑتی ہے۔
(ii) خاص محور کے متوازی تمام فاصلوں کی پیمائش آئینہ کے قطب سے کی جاتی ہے۔
(iii) وہ سبھی فاصلے جن کی پیمائش مبدا کے دائیں طرف سے کی جاتی ہے(مثبتx –محور کے ساتھ) انہیں مثبت لیا جاتاہے جبکہ وہ فاصلے جن کی پیمائش مبدا کے بائیں طرف سے کی جاتی ہے (منفی -xمحور کے ساتھ) انہیں منفی لیا جاتاہے۔
(iv) خاص محور کے اوپر اور عمودی پیمائش کیے جانے والے تمام فاصلوں (-y+محور کے ساتھ) کو مثبت لیا جاتاہے۔
(v) خاص محور کے نیچے اور عمودی پیمائش کیے جانے والے تمام فاصلوں (y-محور کے ساتھ) کو منفی لیا جاتاہے۔
آپ کی آسانی کے لیے اوپر بیان کیا گیا نیا کارتیسی نشان روایت شکل 10.9میں سمجھایا گیا ہے۔ نشان روایت کا استعمال آئینہ فارمولا حاصل کرنے اور ان سے وابستہ عددی مسائل کو حل کرنے کے لیے کیا جاتاہے۔

10.2.4 آئینہ فارمولا اور تکبیر (Mirror Formula and Magnification)

ایک کروی آئینہ میں اس کے قطب سے شے کے فاصلے کو شے کا فاصلہ (Object distance) یعنی(u)کہا جاتا ہے۔ آئینہ کے قطب اور شبیہ کے درمیان کا فاصلہ (Image distance) (v) کہلاتا ہے۔ آپ پہلے ہی سے جانتے ہیں کہ قطب سے پرنسپل فوکس کا فاصلہ فوکل لمبائی (f) کہلاتی ہے۔ ان تینوں مقداروں کے درمیان تعلق کو آئینہ فارمولے کی شکل میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ جو اس طرح ہے۔
c1.1
(10.1)
یہ فارمولا سبھی کروی آئینوں کی سبھی حالتوں اور شے کے سبھی مقامات کے لیے درست ہے۔ سوالات حل کرنے کے لیے آئینہ فارمولے میں u، v، f اور R کی عددی قدروں کو رکھتے وقت نئی کارتیسی نشانِ روایت کا استعمال کرنا چاہیے۔
c10.9

تکبیر(Magnification)

کروی آئینہ کے ذریعہ پیدا ہونے والی تکبیر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی شے کی شبیہ کو نسبتی وسعت دیتی ہے جس سے شے کی جسامت کے مقابلہ میں شبیہ بڑی ہو جاتی ہے۔ اسے ہم شبیہ کی شے کی جسامت کی مناسبت میں کس حد تک چھوٹا یا بڑا کیا گیا ہے۔ عام طور سے اس کو m کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے۔اگر h شے کی اونچائی ہو اور h' شبیہ کی اونچائی تو کروی آئینہ کے ذریعہ پیدا ہونے والی تکبیر m کو اس طرح دکھایا جائے گا۔
c1.2 (10.2)
تکبیر m شے کے فاصلہ (u) اور شبیہ کے فاصلہ (v) سے بھی وابستہ ہے۔ اسے اس طرح ظاہر کرتے ہیں۔
c1.3 (10.3)
اب اس بات کو نوٹ کیجیے کہ شے جو اکثر خاص محور کے اوپر واقع ہوتی ہے، اس کی اونچائی کو مثبت لیا جاتاہے۔ مجازی شبیہ کے لیے شبیہ کی اونچائی کو مثبت لیتے ہیں۔ جبکہ حقیقی شبیہ کے لیے اسے منفی لیا جاتا ہے۔ تکبیر کی قدر میں موجود منفی نشان اس بات کو ظاہر کرتاہے کہ شبیہ حقیقی ہے۔ تکبیر کی قدر میں موجود مثبت نشان اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ شبیہ مجازی ہے۔

مثال10.1

ایک موٹر گاڑی میں پیچھے کی چیزیں دیکھنے کے لیے استعمال ہونے والے محدب آئینہ کا نصف قطرانحنا 3.00میٹر ہے۔ اگر ایک بس اس آئینہ سے 5.00میٹر کے فاصلے پر موجود ہے تو بننے والی شبیہ کا مقام، نوعیت اور جسامت معلوم کیجیے۔

حل:

             
                                                 
                R = + 3.00m             انحنا کا نصف قطر
u=-5.00 m                  شے کا فاصلہ
 V=?                  شبیہہ کا فاصلہ
h = ?                  شبیہہ کی اونچائی
f= R/2 = + 3.00m = + 1.50 m                  فوکل لمبائی 
   2                                                  
1 + 1 = 1                           چونکہ
                                             v     u      f                               
                                                                       1 = 1 - 1 = 1 + 1 - 1 = 1 + 1          یا
v f u  1.50   (-5.00)   1.50     5.00     

picture 1
 کے فاصلہ پر بن رہی ہے        1.15 m  شبیہہ آئینہ کے پیچھے
تکبیر
                 picture 2       
شبیہ مجازی، سیدھی اور جسامت میں 0.23 گنا چھوٹی ہے۔

مثال 10.2

ایک 4.0سینٹی میٹر جسامت والی شے 15.0سینٹی میٹر فوکل لمبائی والے مقعر آئینہ کے سامنے 25.0سینٹی میٹر کے فاصلے پر رکھی گئی ہے۔ ایک واضح شبیہ حاصل کرنے کے لیے پردہ کو آئینہ سے کتنے فاصلے پر کو رکھنا چاہیے؟ شبیہ کی نوعیت اور جسامت معلوم کیجیے۔

حل:

شے کی جسامت، h = +4.0 cm
شے کا فاصلہ، u = –25.0 cm
فوکل لمبائی، f = –15.0 cm
شبیہہ کا فاصلہ، v = ?
شبیہہ کی جسامت، h = ?
مساوات (10.1)سے

یا

یا

یا
                       picture 3
پردہ کو آئینہ سے 37.5سینٹی میٹر دور رکھنا چاہیے۔ شبیہ حقیقی ہے۔
 
m = h = v ، ،اس کے علاوہ تکبیر
picture 5
شبیہ کی اونچائی   h = 6.0 cm 
شبیہ الٹی اور پڑی ہے


سوالات

اس محدب آئینہ کی فوکل لمبائی بتائیے جس کا نصف قطر انحنا 32سینٹی میٹر ہے۔
ایک مقعر آئینہ اپنے سامنے 10cm کے فاصلے پر رکھی ہوئی شے کی تین گنی تکبیر شدہ (وسیع) شبیہ بناتا ہے ۔ شبیہ کہاں واقع ہے؟

10.3 روشنی کا انعطاف(Refraction of Light)

شفاف وسیلہ میں روشنی مستقیم راستے (Straight-line paths) پر چلتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ جب روشنی ایک شفاف وسیلہ سے دوسرے میں داخل ہوتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟ کیا وہ اب بھی مستقیم راستہ پر چلتی ہے یا اپنی سمت بدل لیتی ہے؟ ہم اپنے روز مرّہ کے کچھ تجربات کو یاد کرتے ہیں۔
آپ نے شاید یہ مشاہدہ کیا ہو کہ ایک ٹنکی یا تالاب جس میں پانی بھرا ہو اس کی تلی ابھری یا اٹھی ہوئی لگتی ہے۔ اسی طرح جب ہم حروف کے اوپر گلاس سلیب رکھتے ہیں اور اس میں سے حروف پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ہمیں اٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا آپ نے ایک شیشہ کے گلاس میں تھوڑی ڈوبی ہوئی پنسل دیکھی ہے؟ وہ ہوا اور پانی کے انٹرفیس پر تھوڑی ٹیڑھی معلوم ہوتی ہے۔ آپ نے اس بات کا بھی مشاہدہ کیا ہوگا کہ ایک شیشہ کے گلاس میں پانی کے اندر رکھے ہوئے نیبو کو جب کناروں سے دیکھا جاتا ہے تو وہ اپنے اصل سائز سے بڑا دکھائی دیتا ہے۔ آپ ان تجربات سے کیا سمجھتے ہیں؟
آئیے ہم پانی میں تھوڑی ڈوبی ہوئی پینسل کی بظاہر منتقلی کے معاملہ پر غور کرتے ہیں۔ پانی کے اندر ڈوبے ہوئے پنسل کے حصہ کو پانی کے باہر کے پنسل کے حصہ سے مقابلہ کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ پانی کے اندر والے حصہ سے روشنی ایک مختلف سمت سے آتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ سے پنسل انٹر فیس پر منتقل ہوتی ہوئی دکھاتی ہے۔ ٹھیک اسی وجہ سے حروف ابھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جب انھیں ان کے اوپر رکھے ہوئے ایک گلاس لیب کے ذریعہ دیکھا جاتاہے۔
کیا پنسل اس وقت بھی اتنی ہی منتقل دکھائی دے گی جب اس میں پانی کی جگہ کوئی دوسرا رقیق جیسے مٹی کا تیل یا تارپین استعمال کیا جاتا ہے؟ کیا حروف اتنے ہی ابھرے ہوئے دکھائی دیں گے جب گلاس سلیب کی جگہ پلاسٹک کی سلیب کا استعمال کیا جاتا ہے؟ آپ دیکھیں گے کہ الگ الگ حالتوں میں وسیلہ کو بدل دینے پر اثرات بھی بدل جاتے ہیں۔ یہ مشاہدے اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ روشنی سبھی وسیلوں میں ایک ہی سمت میں نہیں چلتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک وسیلہ سے دوسرے وسیلہ میں ترچھے سفر کرتے ہوئے دوسرے وسیلہ میں روشنی کی اشاعت کی سمت بدل جاتی ہے۔ اس مظہر کو روشنی کا انعطاف کہتے ہیں۔آئیے ہم اس مظہر کو مزید سمجھنے کے لیے کچھ سرگرمیوں کا سہارا لیتے ہیں۔

سرگرمی 10.7

ایک پانی سے بھری ہوئی بالٹی کی تلی میں ایک سکّے کو رکھیے۔

اپنی آنکھیں پانی کے ایک کنارے پر رکھ کر سکّے کو ایک مرتبہ میں نکالنے کی کوشش کیجیے۔ کیا آپ سکّے کو اٹھانے میں کامیاب ہوئے؟

اس سرگرمی کو دہرائیے۔ آپ اسے ایک مرتبہ میں پورا کرنے میں کامیاب کیوں نہیں ہوئے؟

اپنے دوستوں سے اسے کرنے کے لیے کہئے۔ اپنے تجربے کا موازنہ ان سے کیجیے۔

سرگرمی 10.8

میز پر ایک بڑے اور چچھلے (Shallow) کٹورے کو رکھیے اور اس میں ایک سکہ رکھ دیجیے۔

دھیرے دھیرے کٹورے سے دور جائیے۔ وہاں پر رک جائیے جہاں سکہ آپ کی نظر سے اوجھل ہوجائے۔

n اپنے ایک دوست سے کہیے کہ وہ کٹورے میں سکے کو حرکت دیے بغیر پانی ڈالے ۔

اپنی جگہ سے سکے کو دیکھتے رہیے۔ کیا آپکی جگہ سے سکہ دوبارہ دکھائی دینے لگتا ہے؟ ایسا کس طرح ہوا؟

کٹورے میں پانی ڈالنے پر سکہ دوبارہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ روشنی کے انعطاف کی وجہ سے سکہ اپنی اصل جگہ سے تھوڑا اٹھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

سرگرمی 10.9

میز پر رکھے ہوئے سفید کاغذ کے اوپر روشنائی سے ایک موٹی اور سیدھی لکیر کھینچیے۔

لائن کے اوپر ایک گلاس سلیب کو اس طرح رکھیے کہ سلیب لائن کے ساتھ ایک زاویہ بنائے۔

لائن کے ان حصوں کو جو سلیب کے اندر موجود ہیں کناروں سے دیکھیے۔ آپ نے کیا مشاہدہ کیا؟ کیا گلاس سلیب کے نیچے موجود لائن کناروں پر جھکی ہوئی نظر آتی ہے؟

اسکے بعد گلاس سلیب کو اس طرح رکھیے کہ وہ لائن کے عمودی ہوجائے۔ اب آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟ کیا گلاس سلیب کے نیچے لائن کا حصہ جھکا ہوا نظر آتا ہے؟

گلاس سلیب کے اوپری سرے سے لائن کو دیکھیے۔ کیا لائن کا وہ حصہ جو سلیب کے نیچے ہے ابھرا ہوا دکھائی دیتا ہے؟ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

10.3.1 مستطیل نما گلاس سلیب کے ذریعہ ہونے والا انعطاف

(Refraction through a Rectangular Glass Slab)

ایک گلاس سلیب کے ذریعہ ہونے والے روشنی کے انعطاف کو سمجھنے کے لیے آئیے ہم ایک سرگرمی انجام دیں۔

سرگرمی 10.10

ایک سفید کاغذ کی شیٹ کو کسی ڈرائنگ بورڈ پر ڈرائنگ پن کے سہارے لگائیے۔

شیٹ کے اوپر بیچ میں ایک مستطیل نما گلاس سلیب رکھیے۔

پینسل سے سلیب کے چاروں طرف لائن کھینچئے۔ اس باہری لائن کو ہم ABCDنام دیتے ہیں۔

ایک جیسی چار پنیں لیجیے۔

دو پنوں Eاور F کو عمودی طور پر اس طرح لگائیے کہ پنوں کو جوڑنے والی لائن کنارے AB پر جھک جائے۔

برعکس کنارے سے پنوں E اور F کی شبیہ کو دیکھیے۔ دو اور پنوں Gاور Hکو اس طرح سے لگائیے کہ دونوں پنیں اور Eاور Fکی شبیہ ایک سیدھی لائن پر رہیں۔

پنوں اور سلیب کو ہٹا لیجیے۔

پنوں Eاور Fکے سروں کے مقامات کو ملائیے تاکہ ABتک لائن بن جائے۔ EFکو AB سے Oپر ملنے دیجیے۔ اسی طرح پنوں Gاور Hکے سروں کے مقامات کو ملائیے اور اسے کنارے CD تک لے جائیے۔ HGکو CD سے O'پر ملنے دیجیے۔

• n Oاور O' کو ملائیے۔ اس کے علاوہ EF کو P تک بڑھائیے۔ جیسا کہ شکل 10.10 میں نقطہ دار لائن کے ذریعہ دکھایا گیا ہے۔

اس سرگرمی میں آپ یہ غور کریں گے کہ روشنی کی شعاع اپنی سمت کو نقطہ Oاور O'پر بدل لیتی ہے۔ غور کیجیے کہ نقطہ Oاور O' دونوں ایک ہی سطح پر موجود ہیں جو کہ دو شفاف وسیلوں کو الگ کرتی ہے۔ Oپر ایک عمود NN'، AB سے ہو کر کھینچئے اور ایک دوسرا عمود MM'، O' پر CD سے ہو کر کھینچئے۔ نقطہ Oپر روشنی کی شعاع ایک لطیف وسیلہ (Rarer medium) سے کثیف وسیلہ (Denser medium) میں داخل ہوتی ہے، یعنی ہوا سے شیشہ میں۔ غور کیجیے کہ روشنی کی شعاع نارمل کی طرف جھک جاتی ہے۔ O'پر روشنی کی شعاع شیشہ سے ہوا میں داخل ہوتی ہے یعنی ایک کثیف وسیلہ سے لطیف وسیلہ میں۔ یہاں پر روشنی نارمل سے دور ہو جاتی ہے۔ دونوں انعطافی سطحوں ABاور CD پر زاویہ وقوع اور زاویہ انعطاف میں موازنہ کیجیے۔
c10.1
شکل10.10 میں ایک شعاع EOسطح ABپر ترچھی وقوع پذیر ہوتی ہے جسے وقوع شعاع کہتے ہیں۔ OO' منعطف شعاع ہے اور O'Hنمودی شعاع ہے۔ آپ یہ مشاہدہ کریں گے کہ نمودی شعاع، وقوع شعاع کی سمت کے متوازی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ روشنی کی شعاع کے برعکس متوازی رخوں AB(ہوا۔ شیشہ انٹرفیس) اور CD (شیشہ۔ ہوا انٹرفیس) کی طرف جھکنے کی حد ایک مستطیل نما گلاسسلیب کے لیے ہمیشہ برابر اور برعکس ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے یہ شعاع واقع شعاع کے متوازی نمودار ہوتی ہے۔ جبکہ، روشنی کی شعاع تھوڑا کنارے کی طرف کھسک جاتی ہے۔ کیا ہوتا ہے جب روشنی کی شعاع دو وسیلوں کے انٹرفیس کے عمودی وقوع پذیر پرہوتی ہے؟ کوشش کیجیے اور پتہ لگائیے۔
اب آپ روشنی کے انعطاف سے واقف ہوگئے ہیں۔ انعطاف روشنی کی چال میں تبدیلی کی وجہ سے ہوتا ہے جب وہ ایک شفاف وسیلہ سے دوسرے میں داخل ہوتی ہے۔ تجربات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ روشنی کا انعطاف کچھ قوانین کے مطابق ہوتا ہے۔

روشنی کے انعطاف کے قوانین مندرجہ ذیل ہیں۔

(i) وقوع شعاع، منعطف شعاع اور وقوع کے نقطے پر دو شفاف وسیلوں کے انٹرفیس کے لیے نارمل ایک ہی مستوی میں ہوتے ہیں۔
(ii) وقوع زاویہ کے سائن اور منعطف زاویہ کے سائن کا تناسب ایک دیے ہوئے رنگ کی روشنی اور دیے ہوئے وسیلوں کے جوڑے کے لیے مستقلہ (Constant) ہوتا ہے۔ اس قانون کو اسنیل کے انعطاف کا قانون (Snells' Law of refraction) بھی کہتے ہیں یہ(Oo<i<90oزاویوں کے لیے درست ہے)۔ اگر i زاویہ وقوع ہے اور rانعطاف کا زاویہ ہے تو
c10.2
یہ مستقل قدر پہلے وسیلہ کی مناسبت سے دوسرے وسیلہ کا انعطافی اشاریہ کہلاتی ہے۔ آئیے ہم انعطافی اشاریہ کے بارے میں تفصیل سے پڑھتے ہیں۔

10.3.2 انعطافی اشاریہ(The Refractive Index)

آپ پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ روشنی کی شعاع جب ایک شفاف وسیلہ سے دوسرے میں ترچھی سفر کرتی ہے تو دوسرے وسیلہ میں اپنی سمت بدل لیتی ہے۔ دیے ہوئے وسیلوں کے جوڑے میں ہونے والی سمت کی تبدیلی کی حد کو انعطافی اشاریہ کے ذریعہ دکھایا جاتاہے۔ مساوات (10.4) میں دائیں طرف موجود مستقلہ انعطافی اشاریہ ہے۔
انعطافی اشاریہ کو الگ الگ وسیلوں میں روشنی کی اشاعت کی نسبتی چال جیسی ایک اہم طبیعی مقدار سے مربوط جاسکتا ہے۔ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ الگ الگ وسیلوں میں روشنی کی اشاعت الگ الگ چال سے ہوتی ہے۔ روشنی خلا میں سب سے تیز چال یعنی 3 × 108 ms–1 کے ساتھ سفر کرتی ہے۔ ہوا میں روشنی کی چال خلا میں اس کی چال کے مقابلے کچھ کم ہوتی ہے۔ یہ شیشہ اور پانی میں کافی حد تک کم ہوجاتی ہے۔ ایک دیے ہوئے وسیلوں کے جوڑوں کا انعطافی اشاریہ دونوں وسیلوں میں روشنی کی چال پر منحصر ہوتا ہے، جیسا کہ نیچے دیا گیا ہے۔
c10.3
فرض کیجیے کہ روشنی کی ایک شعاع وسیلہ1سے وسیلہ 2 میں سفر کر رہی ہے جیسا کہ شکل 10.11 میں دکھایا گیا ہے۔ مان لیجیے کہ v1 وسیلہ 1میں روشنی کی چال ہے اور v2 وسیلہ 2 میں روشنی کی چال ہے۔ وسیلہ 1 کی مناسبت سے وسیلہ 2 کا انعطافی اشاریہ وسیلہ 1 میں روشنی کی چال کی وسیلہ 2میں روشنی کی چال سے نسبت کے طور پر ظاہر کیا جاسکتا ہے۔اسے عام طور سے علامت n21 کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے۔ اسے مساوات کے طور پر بھی ظاہر کرسکتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہے۔
c10.4
اسی دلیل کے مطابق وسیلہ 1کا انعطافی اشاریہ وسیلہ 2 کی مناسبت سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ جو نیچے دیا گیا ہے۔
10.5
اگر وسیلہ 1وکیوم یا ہوا ہے تو وسیلہ 2کا انعطافی اشاریہ وکیوم کی مناسبت سے ہوگا۔ اسے وسیلہ کا مطلق انعطافی اشاریہ کہا جاتاہے۔ اسے عام طور پر n2 سے پیش کیا جاتاہے۔ اگر C ہوا میں روشنی کی چال ہے اور v وسیلہ میں روشنی کی چال، تو وسیلہ کے انعطافی اشاریہ کو nm کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
10.6

کسی وسیلہ کے مطلق انعطافی اشاریہ کو عام طور پر انعطافی اشاریہ کہا جاتاہے۔ کچھ وسیلوں کے انعطافی اشاریےجدول 10.3 میں دیے گئے ہیں۔ جدول سے آپ یہ جان سکتے ہیں کہ پانی کا انعطافی اشاریہ nw = 1.33 ہے۔ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ ہوا میں روشنی کی چال اور پانی میں روشنی کی چال کا تناسب 1.33 کے برابر ہے۔ اسی طرح کراؤن شیشہ کا انعطافی اشاریہ،ng = 1.52 ہے۔ اس طرح کے اعداد و شمار کئی جگہوں پر معاون ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ آپ کو ان اعداد وشمار کو یاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

جدول 10.3 کچھ مادّی وسیلوں کا مطلق انعطافی اشاریہ


انعطافی اشاریہ مادّی وسیلہ انعطافی اشاریہ مادّی وسیلہ
1.53

1.54

1.63

1.65

1.71

1.77

2.42
کناڈا بالسم


چٹانی نمک


کاربن ڈائی سلفائڈ

کثیف فلنٹ شیشہ

روبی
1.0003

1.31

1.31

1.31

1.44

1.46

1.47

1.50

1.52
ہوا

برف

پانی

الکحل

کیروسن(مٹی کا تیل)

فیوز کیا ہوا کوارٹز

تارپین کا تیل

جدول 10.3 پر غور کیجیے آپ پائیں گے کہ ایک بصری کثیف وسیلہ کی کمیتی کثافت (Mass density) بھی زیادہ نہیں ہوسکتی۔ مثال کے طور پر کیروسین جس کا انعطافی اشاریہ 1.44ہے، پانی سے زیادہ بصری کثیف ہے، جبکہ اس کی کمیتی کثافت پانی سے کم ہوتی ہے۔

مزید معلومات

کسی وسیلہ کی روشنی کو منعطف کرنے کی صلاحیت کو اس کی بصری کثافت (Optical density) کے طور پر بھی ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ بصری کثافت کا ایک متعین مفہوم ہے۔ یہ کمیتی کثافت کے برابر نہیں ہوتی ہے۔ اس باب میں ہم اصطلاحات ’لطیف وسیلہ‘ اور’کثیف وسیلہ‘ استعمال کرتے آئے ہیں۔ اصل میں ان کا مطلب بالترتیب ’بصری لطیف وسیلہ‘ اور بصری کثیف وسیلہ‘ ہے۔ ہم یہ کب کہہ سکتے ہیں کہ ایک وسیلہ دوسرے وسیلہ سے بصری طور پر کثیف ہے؟ دونوں وسیلوں کا موازنہ کرنے پر وہ وسیلہ جو زیادہ انعطافی اشاریہ والا ہے دوسرے وسیلہ کے مقابلہ زیادہ بصری کثافت والا ہوگا۔ کم انعطافی اشاریہ والا دوسرا وسیلہ بصری طور پر لطیف ہوگا۔ روشنی کی رفتار کیثف وسیلہ کے مقابلہ میں لطیف وسیلہ زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے ایک روشنی کی شعاع جو لطیف وسیلہ سے کثیف وسیلہ میں سفر کررہی ہے دھیمی ہوکر نارمل کی طرف جھک جاتی ہے۔ جب وہ کثیف وسیلہ سے لطیف وسیلہ کی طرف سفر کرتی ہے تو اس کی رفتار میں تیزی آجاتی ہے اور وہ نارمل سے دور ہٹ جاتی ہے۔


سوالات

ہوا میں سفر کرتی ہوئی روشنی کی ایک شعاع پانی میں ترچھی داخل ہوتی ہے۔ روشنی کی شعاع نارمل کی طرف جھکے گی یا نارمل سے دور ہو جائے گی؟ کیوں؟
روشنی ہوا سے شیشہ میں داخل ہوتی ہے جس کا انعطافی اشاریہ 1.50ہے۔شیشہ میں روشنی کی رفتار کیا ہوگی؟ خلا میں روشنی کی رفتار 3 × 108 ms–1 ہے۔
جدول 10.3سے معلوم کیجیے کہ کس وسیلہ کی بصری کثافت سب سے زیادہ ہے۔ سب سے کم بصری کثافت والے وسیلہ کا بھی پتہ لگائیے۔
آپ کو کیروسین، تارپین کا تیل اور پانی دیا گیا ہے۔ ان میں سے کس میں روشنی کی رفتار سب سے زیادہ ہوگی؟ جدول 10.3 میں دی گئی جانکاری کا استعمال کرکے پتہ لگائیے۔
ہیرے کا انعطافی اشاریہ 2.42ہے۔ اس بیان کا کیا مطلب ہے؟

10.3.3 کروی لینسوں کے ذریعہ انعطاف (Refraction by Spherical lenses)

آپ نے گھڑی ساز کو چھوٹے چھوٹے پرزوں کو دیکھنے کے لیے ایک چھوٹے تکبیری شیشہ (Magnifying glass) کا استعمال کرتے دیکھا ہوگا۔ کیا آپ نے کبھی تکبیری شیشہ کی سطح کو ہاتھوں سے چھوا ہے؟ کیا یہ سپاٹ سطح ہے یا پھر کروی؟ یہ بیچ میں موٹی ہے یا کناروں پر؟ وہ شیشے جو چشموں میں استعمال ہوتے ہیں اور گھڑی ساز استعمال کرتے ہیں، لینسوں کی مثالیں ہیں۔ لینس کیا ہے؟ یہ روشنی کی شعاعوں کو کس طرح جھکا دیتا ہے۔ ہم اس حصہ میں ان باتوں پر گفتگو کریں گے۔
10.2
(a)  محدب لینسی کا تقاربی عمل
(b)  مقعر کینس کا غیر تقاربی عمل

لینس دو سطحوں والے شفاف مادّہ سے بنتا ہے جن کی ایک یا دونوں سطحیں کروی ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ لینس کم از کم ایک کروی سطح سے گھرا ہوتا ہے۔ ایسے لینسوں میں دوسری سطح سپاٹ ہوتی ہے۔ کچھ لینسوں میں باہر کی طرف ابھری ہوئی دو کرّوی سطحیں ہوتی ہیں۔ ایسے لینسوں کو دوہرا محدب لینس (Double Convex Lense) کہتے ہیں۔ عام طور سے اسے محدب لینس کہتے ہیں۔ یہ کناروں کے مقابلے بیچ میں موٹا ہوتا ہے۔ محدب لینس روشنی کی شعاعوں کو ایک نقطہ پر مرکوز کر دیتا ہے جیسا کہ شکل 10.12(a) میں دکھایا گیاہے۔ اسی لیے محدب لینسوں کو تقاربی لینس (Converging lense) بھی کہتے ہیں۔ اسی طرح ایک دوہرے مقعر لینس میں اندر کی طرف خمدار دو سطحیں ہوتی ہیں۔ یہ بیچ کے حصہ کے مقابلہ کناروں پر موٹا ہوتا ہے۔ ایسے لینس روشنی کی شعاعوں کو پھیلا دیتے ہیں جیسا کہ شکل 10.12(b) میں دکھایا گیاہے۔ایسے لینسوں کو غیر تقاربی لینس (Diverging lens) بھی کہتے ہیں۔ دوہرے مقعر لینس کو عام طور پر مقعرلینس کہتے ہیں۔
کوئی بھی لینس خواہ وہ محدب ہویا مقعر، دو کروی سطحوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان میں سے ہر سطح کرہ کا ایک حصہ تشکیل دیتی ہے۔ ان کروں کا مرکز لینس کا مرکز انحنا (Centre of curvature) کہلاتا ہے۔ لینس کے مرکز انحنا کو عام طور پر C سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ چونکہ دو مرکز انحنا ہوتے ہیں اس لیے ہم انہیںC1 اور C2 کہہ سکتے ہیں۔ لینس کے دونوں مرکز انحنا سے ہو کر گزرنے والی خیالی سیدھی لائن خاص محور (Principal axis) کہلاتی ہے۔ لینس کا مرکزی نقطہ اس کا نوری مرکز (Optical centre) ہوتا ہے۔ اسے عموماً O سے ظاہر کرتے ہیں۔ لینس کے نوری مرکز سے ہوکر گزرنے والی روشنی کی شعاع بغیر کس انحراف (Deviation) کے گزر جاتی ہے۔ کروی لینس کی دائری سرحد کا قطر اس کا اپرچر کہلاتی ہے۔ اس باب میں ہم اپنی بحث کو ان لینسوں تک محدود رکھیں گے جن کا اپرچر ان کے نصف قطر انحنا سے کافی چھوٹا ہوتا ہے اور دونوں مرکز انحنا نوری مرکزO سے مساوی فاصلے پر ہوتے ہیں۔ایسے لینس چھوٹے اپرچر والے پتلے لینس کہلاتے ہیں۔ جب روشنی کی متوازی شعاعیں لینس پر واقع ہوتی ہیں تو کیا ہوتاہے؟ اسے سمجھنے کے لیے آئیے ہم ایک سرگرمی انجام دیں۔

سرگرمی 10.11

احتیاط: اس سرگرمی کے دوران یا اس کے علاوہ کبھی بھی سورج کی طرف براہِ راست یا لینس کے ذریعہ مت دیکھیے کیونکہ ایسا کرنے سے آپ اپنی آنکھوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ایک محدب لینس کو ہاتھ میں پکڑیے اوراس کا رخ سورج کی طرف کیجیے۔

سورج سے آنے والی روشنی کو ایک کاغذ کی شیٹ پر فوکس کیجیے۔ سورج کی ایک واضح اور چمکدار شبیہ حاصل کیجیے۔

کچھ دیر کے لیے کاغذ اور لینس کو اسی حالت میں پکڑ کر رکھیے۔کاغذ کا مشاہدہ کرتے رہیے۔ کیا ہوتا ہے؟ کیوں ہوتا ہے؟ سرگرمی 10.2 میں کیے گئے اپنے تجربے کو یاد کیجیے۔

کاغذ دھوئیں کے ساتھ جلنے لگتا ہے۔ کچھ دیر بعد اس میں آگ بھی لگ سکتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ سورج سے آنے والی روشنی میں متوازی شعاعیں ہوتی ہیں۔ یہ شعاعیں لینس کے ذریعہ کاغذ پر بنے ہوئے واضح اور چمکدار نشان پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ کاغذ پر بنا ہوا چمکدار نشان درحقیقت سورج کی حقیقی شبیہ ہے۔ سورج کی روشنی کے ایک نقطہ پر جمع ہونے سے گرمی پیدا ہوجاتی ہے جو کاغذ کو جلا دیتی ہے۔
اب روشنی کی ان شعاعوں کو لیتے ہیں جو لینس کے خاص محور کے متوازی ہیں۔ جب آپ روشنی کی ایسی شعاعوں کو لینس سے گزارتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟ اسے ایک محدب لینس کے لیے شکل 10.12(a) اور مقعر لینس کے لیے شکل (10.12(bمیں دکھایا گیا ہے۔
شکل 10.12(a) کا احتیاط سے مشاہدہ کیجیے۔ روشنی کی بہت سی شعاعیں جو لینس کے خاص محور کے متوازی ہیں محدب لینس پر گر رہی ہیں۔یہ شعاعیں لینس سے منعطف (Refracted) ہونے کے بعد خاص محور کے ایک نقطہ پر مرکوز ہورہی ہیں۔ خاص محور کے اس نقطہ کو لینس کا پرنسپل فوکس کہا جاتا ہے۔ آئیے اب ہم مقعر لینس کی کارکردگی کو دیکھتے ہیں۔
شکل 10.12(b) کا احتیاط سے مشاہدہ کیجیے۔ روشنی کی بہت سی شعاعیں جو لینس کے خاص محور کے متوازی ہیں مقعر لینس پر گر رہی ہیں۔ یہ شعاعیں لینس سے منعطف ہونے کے بعد خاص محور کے ایک نقطہ پر غیر مرکوز ہوتی ہوئی دکھائی پڑتی ہیں۔ خاص محور کے اس نقطہ کو مقعر لینس کا پرنسپل فوکس کہتے ہیں۔
اگر آپ لینس کی برعکس سطح سے متوازی شعاعیں گزاریں گے تو آپ کو دوسری جانب پر دوسرا پرنسپل فوکس حاصل ہوجائے گا۔ عام طور سے پرنسپل فوکس کو F سے دکھایا جاتا ہے۔ حالانکہ ایک لینس میں دو پرنسپل فوکس ہوتے ہیں۔ انھیں F1 اور F2 سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ لینس کے نوری مرکز سے پرنسپل فوکس کا فاصلہ فوکل لمبائی کہلاتی ہے۔ فوکل لمبائی کو ظاہر کرنے کےلیےfکااستعمالکیاجاتاہے۔ ایک محدب لینس کی فوکل لمبائی کس طرح معلوم کریں گے؟ سرگرمی 10.11 کو یاد کیجیے۔ اس سرگرمی میں، لینس کے مقام سے سورج کی شبیہ کے مقام کے درمیان کا فاصلہ ہمیں لینس کی فوکل لمبائی فراہم کرتا ہے۔

10.3.4 لینسوں کے ذریعہ شبیہ کا بننا (Image formation by Lenses)

لینس روشنی کو منعطف کرکے شبیہ بناتے ہیں۔ لینس شبیہ کیسے بناتے ہیں؟ ان کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟ آئیے پہلے ایک محدب لینس کے لیے ہم اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔

سرگرمی 10.12

ایک محدب لینس لیجیے۔ سرگرمی 10.11 میں بتائے ہوئے طریقہ سے اس کی تقریبی فوکل لمبائی کا پتہ لگائیے۔

ایک لمبی میز پر چاک سے پانچ متوازی سیدھی لائنیں اس طرح کھینچئے کہ ہر دو متواتر لائنوں کے درمیان کا فاصلہ لینس کی فوکل لمبائی کے برابر رہے۔

لینس کو ایک لینس اسٹینڈ پر لگائیے۔ اسے بیچ والی لائن پر اس طرح رکھیے کہ لینس کا نوری مرکز لائن کے ٹھیک اوپر رہے۔

لینس کے دونوں طرف کی دونوں لائنیں بالترتیب لینس کے F اور 2F کے مطابق ہوں۔ ان کی نشاندہی بالترتیب 2F1، F1، F2 اور 2F2 جیسے مخصوص حروف کے ذریعہ نشاندہی کیجیے۔

ایک جلتی ہوئی موم بتی 2F1 سے کافی دور بائیں طرف رکھیے۔لینس کی مقابل جانب موجود پردہ پر ایک صاف اور واضح شبیہ حاصل کیجیے۔

شبیہ کی نوعیت، مقام اور نسبتی سائز درج کیجیے۔

شے کو 2F1 کے ٹھیک پیچھے رکھ کر، F1 اور 2F1 کے درمیان رکھ کر، F1 پر رکھ کر، F1اور O کے درمیان رکھ کر اس سرگرمی کو دوہرائیے ۔ اپنے مشاہدات کو درج کیجیے۔

محدب لینس کے ذریعہ شے کے تمام مقامات کے لیے بننے والی شبیہ کی نوعیت، مقام اور نسبتی سائز کا جدول 10.4 میں خلاصہ کیا گیا ہے۔

جدول10.5 شے کے تمام مقامات کے لیے مقعر لینس کے ذریعہ بننے والی شبیہ کی نوعیت مقام اور نسبتی جسامت۔


شبیہ کی نوعیت شبیہ کی نسبتی جسامت شبیہ کا مقام شے کا مقام
حقیقی اور الٹی

حقیقی اور الٹی

حقیقی اور الٹی

حقیقی اور الٹی

حقیقی اور الٹی

مجازی اور سیدھی
بے حد تخفیف شدہ، نقطہ کے برابر

تخفیف شدہ

شے کے برابر

وسیع

 لاانتہا طور پر بڑی یا بہت وسیع

وسیع
فوکس F2 پر 

F2 اور 2F2 کے درمیان 

2F2 پر

2F2 سے دور

لا انتہا پر

لینس کے اسی طرف جس طرف شے موجود ہے
لا انتہا پر

2F1 سے دور

2F1 پر

F1 اور 2F1 کے درمیان

فوکس F1 پر

فوکس F1 اور نوری مرکز O کے درمیان

آئیے اب ہم مقعر لینس کے ذریعہ بننے والی شبیہ کی نوعیت، مقام اور نسبتی جسامت کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک سرگرمی کرتے ہیں۔

سرگرمی 10.13

ایک مقعر لینس لیجیے۔ اسے لینس اسٹینڈ پر لگائیے۔

لینس کے ایک کنارے پر جلتی ہوئی موم بتی رکھیے۔

دوسری طرف سے لینس کے ذریعہ دیکھیے اور شبیہ کا مشاہدہ کیجیے۔

اگر ممکن ہو تو شبیہ کو پردہ پر حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔ اگر ممکن نہ ہو تو شبیہ کا لینس کے ذریعہ براہِ راست مشاہدہ کیجیے۔

شبیہ کی نوعیت، نسبتی جسامت اور تقریبی مقام درج کیجیے۔

موم بتی کو لینس سے دور کیجیے۔ شبیہ کی جسامت میں ہو رہے فرق کو درج کیجیے۔ جب موم بتی کو لینس سے بہت دور رکھا جاتا ہے شبیہ کی جسامت پر کیا فرق پڑتاہے ۔

اوپر دی گئی سرگرمی کا خلاصہ جدول 10.5 میں نیچے دیا گیاہے۔

جدول10.5 شے کے تمام مقامات کے لیے مقعر لینس کے ذریعہ بننے والی شبیہ کی نوعیت مقام اور نسبتی جسامت۔


شبیہ کی نوعیت شبیہ کی نسبتی جسامت شبیہ کا مقام شے کا مقام
مجازی اور سیدھی

مجازی اور سیدھی
بے حد تخفیف شدہ، نقطہ کے برابر

تخفیف شدہ
فوکس F1 پر

فوکس F1 اور نوری مرکز O کے درمیان
لاانتہا پر

لاانتہا اور لینس کے نوری مرکز O کے درمیان

اس سرگرمی سے آپ نے کیا نتیجہ نکالا؟ ایک مقعر لینس شے کے مقام کے بلالحاظ ہمیشہ مجازی، سیدھی اور تخفیف شدہ شبیہ بناتا ہے۔

10.3.5 شعاعی ڈائی گرام کے استعمال سے لینسوں میں شبیہ کا بننا

(Image Formation in Lenses Using Ray Diagrams)

ہم لینسوں کے ذریعہ شبیہ کے بننے کو شعاعی ڈائیگرام کے ذریعہ سے پیش کرسکتے ہیں۔ شعاعی ڈائیگرام لینسوں کے ذریعہ بننے والی شبیہ کی نوعیت، مقام اور نسبتی جسامت کا مطالعہ کرنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ لینسوں کے لیے شعاعی ڈائیگرام بنانے کے لیے ہم کروی آئینوں کی طرح ہی مندرجہ ذیل میں سے کوئی دو شعاعوں کو فرض کریں گے۔
10.13
شے سے آنے والی روشنی کی شعاع جو خاص محور کے متوازی ہے،محدب لینس سے انعطاف کے بعد لینس کے دوسری طرف موجود پرنسپل فوکس سے ہوکر گزر جاتی ہے، جیسا کہ شکل(10.13(aمیں دکھایاگیا ہے۔مقعر لینس کی صورت میں شعاع لینس کے اسی طرف موجود پرنسپل فوکس سے غیر مرکوز ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہے جیسا کہ شکل 10.13(b) میں دکھایا گیاہے۔
10.14
(ii) پرنسپل فوکس سے ہوکر گزر رہی روشنی کی شعاع، محدب لینس سے منعطف ہونے کے بعد خاص محور
کے متوازی ہوکر نکلے گی۔ جیسا کہ شکل 10.14 (a) میں دکھایا گیاہے۔ روشنی کی ایک شعاع جو مقعر لینس کے پرنسپل فوکس سے ملتی ہوئی معلوم دیتی ہے انعطاف کے بعد خاص محور کے متوازی نکلتی ہے۔ اسے شکل 10.14(b) میں دکھایا گیا ہے۔
10.15
(iii) روشنی کی ایک شعاع جو لینس کے نوری مرکز سے ہوکر گزرتی ہے، بنا کسی انحراف کے نکل جاتی ہے۔ اسے شکل 10.15(a) اور 10.15(b) میں دکھایاگیا ہے۔
شے کے کچھ مقامات کے لیے محدب لینس کے ذریعہ بننے والی شبیہ کے شعاعی ڈائیگرام کو شکل 10.16 میں دکھایا گیا ہے۔ شے کے کچھ مقامات کے لیے محدب لینس کے ذریعہ بننے والی شبیہ کے شعاعی ڈائیگرام کو شکل 10.17 میں دکھایا گیاہے۔
10.16
10.17

10.3.6 کروی لینسوں کے لیے نشان روایت (Sign Convention for Spherical lenses)

لینسوں کے لیے ہم نشان روایت پر بالکل اسی طرح عمل کرتے ہیں جیسے ہم نے کروی آئینوں میں کیا تھا۔ ہم فاصلوں کی علامات کے لیے قوانین کا استعمال کرتے ہیں، سوائے اس کے کہ سبھی پیمائش لینس کے نوری مرکز سے لی جاتی ہیں۔روایت کے مطابق محدب لینس کی فوکل لمبائی مثبت ہے اور مقعر لینس کی منفی۔ آپ کو u، v، f، شے کی اونچائی hاور شبیہ کی اونچائیh'کی قدروں کے لیے مناسب نشان استعمال کرتے وقت محتاط رہناچاہیے۔

10.3.7 لینس رفارمولا اور تکبیر (Lens Formula and Magnification)

جس طرح ہمارے پاس کروی آئینوں کے لیے فارمولا ہے، اسی طرح کروی لینسوں کے لیے بھی فارمولا ہے۔ یہ فارمولا شے کے فاصلے (u)،شبیہ کے فاصلے (v) اور فوکل لمبائی (f) کے درمیان رشتہ کو بیان کرتا ہے۔ لینس فارمولا اس طرح سے ہے۔
10.8
اوپر دیا گیا لینس فارمولا عمومی ہے اور کسی کرّوی لینس کی تمام حالتوں کے لیے درست ہے۔ لینسوں سے متعلق مسئلوں کو حل کرنے کے دوران عددی قدریں رکھتے وقت الگ الگ مقداروں کے نشانوں کاخاص خیال رکھنا چاہیے۔

تکبیر (Magnification)

لینس سے پیدا ہونے والی تکبیر کرّوی آئینوں کی طرح ہی ہوتی ہے، اس کی تعریف شے کی اونچائی اور شبیہ کی اونچائی کی نسبت کے طور پر کی جاتی ہے۔ تکبیر سے m کے ذریعہ دکھایا جاتاہے۔ اگر h شے کی اونچائی ہے اور h'لینس کے ذریعہ بننے والی شبیہ کی اونچائی ہے تو لینس کے ذریعہ پیدا ہونے والی تکبیر کو اس طرح ظاہر کیا جائے گا۔
10.9
لینس کے ذریعہ پیدا ہونے والی تکبیر کا تعلق شے کے فاصلے (u) اور شبیہ کے فاصلے (v) سے بھی ہوتا ہے۔ اس تعلق کو اس طرح دکھایا جاتاہے۔
10.10

مثال 10.3

ایک محدب لینس کی فوکل لمبائی 15سینٹی میٹر ہے۔ شے کو لینس سے کتنی دور رکھا جائے کہ لینس کے ذریعہ ایک 10 cm کی شبیہ بنے؟ لینس کے ذریعہ پیدا ہونے والی تکبیر کا بھی پتہ لگائیے۔

حل

ایک مقعرلینس ہمیشہ مجازی، سیدھی شبیہ بناتا ہے اور یہ شبیہ اسی طرف بنتی ہے جس طرف شے رکھی ہوتی ہے۔

شبیہ کے فاصلے v =10 cm = v
فوکل لمبائی f =–15 cm 
شے کے فاصلے u = ?
چونکہ 
یا

                     picture 7
یا
اِس لیے شے کے فاصلے 30 cm ہے
m= v/u
picture 8
مثبت نشان اس بات کو دکھاتا ہے کہ شبیہ سیدھی اورمجازی ہے۔شبیہ شے کی جسامت کاایک تہا ئی ہے۔

مثال 10.4

ایک 2.0 cm لمبی شے ایک 10 cm فوکل لمبائی والے محدب لینس کے خاص محور کے عمودی رکھی ہے۔ لینس سے شے کے فاصلے 10 cm ہے۔ شبیہ کی نوعیت، مقام اور جسامت معلوم کیجیے۔ تکبیر کا بھی پتہ لگائیے۔

حل

شے کی اونچائی h = + 2.0 cm 
فوکل لمبائی f = + 10 cm 
شے کے فاصلے u =– 15 cm
شبیہہ کے فاصلے  v = ?
شبیہہ کی اونچائی h = ?

چونکہ
              picture 8 1
یا،
یا v = + 30 cm
v کا مثبت نشان اس بات کو دکھاتا ہے کہ شبیہ نوری مرکز کے دوسری طرف 30cmکے فاصلے پر بنی ہے۔ شبیہ حقیقی اور الٹی ہے۔
picture 9
یا،
 h = )2.0()+30/-15( =4.0cmشبیہ کی اونچائی،
picture 10
mاور h' کے منفی نشان یہ دکھارہےہیں کہ شبیہ الٹی اور حقیقی ہے۔ یہ خاص محور کے نیچے بنی ہے۔ اس طرح ایک حقیقی، الٹی شبیہ جو کہ 4cm اونچی ہے لینس کے دوسری طرف 30cm کے فاصلے پر بنتی ہے۔شبیہ دوگنی وسیع ہے۔

10.3.8 لینس کی پاور(Power of Lens)

آپ پہلے ہی مطالعہ کرچکے ہیں کہ لینسوں میں روشنی کی شعاعوں کو مرکوز یا غیر مرکوز کرنے کی صلاحیت اس کی فوکل لمبائی پر منحصر ہے۔ مثال کے طور پر ایک چھوٹی فوکل لمبائی کا محدب لینس روشنی کی شعاعوں کو بڑے زاویے پر جھکاتا ہے۔ ایسا وہ انھیں نوری مرکز کے قریب فوکس کرکے کرتا ہے۔ اسی طرح بہت چھوٹی فوکل لمبائی والا محدب لینس بڑی فوکل لمبائی والے لینس کے مقابلے میں زیادہ غیر مرکوزیت پیدا کرتا ہے۔ لینس کے ذریعہ روشنی کی شعاعوں کی مرکوزیت یا غیر مرکوزیت کا درجہ اس کی پاور کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔ لینس کی پاور کی تعریف اس کی فوکل لمبائی کے مقلوب کے طور پر کی جاتی ہے۔ اسے P سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ ایک f فوکل لمبائی کے لینس کی پاور P کو مندرجہ ذیل طریقے سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
10.11
لینس کی پاور کی SI اکائی ’ڈائیوپٹر‘ ہے۔ جس کی علامت D ہے۔ اگر fکو میٹر میں ظاہر کیاجاتا ہے تو پاور ڈائیوپیٹر میں ظاہر کرتے ہیں۔ اس لیے 1 ڈائیوپٹر اس لینس کی پاور ہوگی جس کی فوکل لمبائی 1میٹر ہو۔ 1D = 1m–1 آپ اس بات پر غور کیجیے کہ محدب لینس کی پاور مثبت ہوتی ہے اور محدب لینس کی منفی۔ ماہر چشم لینس کی پاور کی نشاندہی کرتے ہوئے اصلاحی لینس تجویز کرتے ہیں۔ مان لیجیے کہ ایک مجوزہ لینس کی پاور +2.0D کے برابر ہے تو اس کا مطلب ہے کہ تجویز کیا گیا لینس محدب ہے۔ لینس کی فوکل لمبائی +0.50m ہوگی۔ اسی طرح جس لینس کی پاور –2.5D ہو اس کی فوکل لمبائی –0.40m ہوگی اور لینس محدب ہوگا۔

مزید معلومات

بہت سارے بصری آلات کئی لینسوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں شبیہ کی تکبیر کو بڑھانے اور زیادہ واضح شبیہ حاصل کرنے کے لیے جوڑا جاتا ہے۔ ربطہ میں رکھے گئے لینسوں کی کل پاور، انفرادی پاور P1,P2,P3 . . . کے الجبری جمع کے ذریعہ دی جاتی ہے۔یعنی،

P = P1 + P2 + P3 + …

لینسوں کے لیے فوکل لمبائی کی جگہ پاور کا استعمال چشموں کے لیے ماہرین معقول رہتا ہے۔ آنکھوں کی جانچ کرتے وقت ایک آپٹیشن جانچ کے لیے استعمال ہونے والے چشموں کے فریموں کے اندرمعلوم پاور کے تصحیحی لینسوں کے مختلف اتحاد کو تماس میں رکھتے ہیں۔ آپٹیشنین سادہ ابجری جمع کے ذریعہ لینس کی مطلوبہ پاور کا حساب لگاتا ہے۔ مثال کے طور پر +2.0D پاور اور +0.24D کی پاور والے دو لینسوں کا اتصال ایک +2.25D پاور والے واحد لینس کی پاور کے برابر ہوتا ہے۔ واحد لینس کے ذریعہ بننے والی شبیہ کے نقص کو کم کرنے کی غرض سے لینس نظاموں کو ڈیزائن کرتے وقت لینس کی پاور کی سادہ جمعی خصوصیت کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ایسا لینس نظام جو ایک دوسرے کے تماس میں میں موجود بہت سارے لینسوں پر مشتمل ہوتا ہے، عام طور سے کیمرہ،خوردبینوں اور دوربینوں کے لینسوں کے ڈیزائن میں استعمال ہوتا ہے۔


سوالات

لینس کی 1ڈایوپٹر پاور کی تعریف کیجیے۔
ایک محدب لینس سے 50سینٹی میٹر کے فاصلے پر ایک سوئی کی حقیقی اور الٹی شبیہ بنتی ہے۔ سوئی کو محدب لینس کے سامنے کہاں رکھا گیا ہے اگر شبیہ شے کے برابر جسامت کی بنتی ہے۔؟ لینس کی پاور بھی معلوم کیجیے۔
2m فوکل لمبائی والے مقعر لینس کی پاور کا پتہ لگائیے۔

آپ نے کیا سیکھا

روشنی سیدھی لائن میں چلتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔

آئینے اور لینس اشیاکی شبیہ بناتے ہیں۔ شبیہ شے حقیقی یا مجازی ہوتی ہے جو شے کے مقام پر منحصر ہوتی ہے۔

سبھی طرح کی انعکاسی سطحیں انعکاس کے قوانین کا اتباع کرتی ہیں۔

انعطافی سطحیں انعطاف کے قوانین کا اتباع کرتی ہیں۔

کروی آئینوں اور لینسوں کے لیے نئی کارتیسی نشان روایت پر عمل کیا جاتا ہے۔

آئینہ فارمولا 10.12،ایک کروی آئینہ کے لیے شے کے فاصلے (u)، شبیہ کے فاصلے (v) اور فوکل لمبائی (f) کے درمیان تعلق کو بیان کرتا ہے۔

کروی آئینہ کی فوکل لمبائی اس کے نصف قطر انحناکا نصف ہوتی ہے۔

کروی آئینہ کے ذریعہ پیدا ہونے والی تکبیر شبیہ کی اونچائی اور شے کی اونچائی کی نسبت ہے۔

روشنی کی شعاع جو کثیف وسیلہ سے لطیف وسیلہ میں ترچھے سفر کر رہی ہے نارمل سے دور ہٹ جاتی ہے۔ روشنی کی شعا نارمل کی طرف اسی وقت جھکتی ہے جب وہ لطیف وسیلہ سے کثیف وسیلہ کی طرف ترچھاسفر کرتی ہے۔

روشنی خلا میں بہت زیادہ رفتارqasmi.2سے سفر کرتی ہے۔ مختلف وسیلوں میں روشنی کی چال الگ الگ ہوتی ہے۔

ایک شفاف وسیلہ کا انعطافی اشاریہ روشنی کی خلا میں رفتار اور وسیلہ میں رفتار کا کی نسبت ہے۔

ایک مستطیل نما گلاس سلیب کے معاملہ میں انعطاف ہوا۔ شیشہ کے انٹرفیس اور شیشہ۔ ہوا انٹرفیس دونوں میں ہوتا ہے نمودی شعاع، وقوع شعاع کے سمت کی متوازی ہوتی ہے۔

لینس فارمولا10.13،شے کا فاصلہ (u) شبیہ کا فاصلہ (v) اور کروی لینس کیفوکل لمبائی (f) کے درمیان تعلق کو بیان کرتا ہے۔

لینس کی پاور اس کی فوکل لمبائی(میٹر میں) کا مقلوب ہوتی ہے۔ لینس کی پاور کی SI اکائی ڈائیوپٹر ہے۔


مشقیں

ان میں سے کس قسم کے مادّے سے لینس نہیں بنایا جاسکتا ؟
(a) پانی (b) شیشہ (c) پلاسٹک (d) مٹی
مقعر آئینہ سے بنی ہوئی شبیہ کا مشاہدہ کرنے پر وہ مجازی، سیدھی اور شے سے بڑی پائی گئی۔ شے کا مقام کہاں ہوگا؟
(a) پرنسپل فوکس اورمرکز انحنا کے درمیان
(b) مرکزانحنا پر
(c) مرکزانحنا سے دور
(d) آئینہ کے قطب اور اس کے پرنسپل فوکس کے درمیان
محدب لینس کے سامنے شے کا مقام کہاں ہونا چاہیے تاکہ حقیقی اور شے کی جسامت کے برابر شبیہ حاصل ہو۔
(a) لینس کے پرنسپل فوکس پر
(b) فوکل لمبائی سے دوگنے فاصلے پر
(c) لاانتہا پر
(d) لینس کے نوری مرکز اور اس کے پرنسپل فوکس کے درمیان
ایک کرّوی آئینہ اور ایک پتلا کروی لینس، دونوں کی فوکل لمبائی102ہے۔ آئینہ اور لینس ہوسکتے ہیں۔
(a) دونوں مقعر (b) دونوں محدب
(c) آئینہ مقعراور لینس محدب (d) آئینہ محدب، لیکن لینس مقعر
آپ آئینہ سے کتنے بھی فاصلے پر کھڑے ہوں آپ کی شبیہ سیدھی دکھائی پڑتی ہے۔ آئینہ ہوگا۔
(a) صرف مسطح (b) صرف مقعر
(c) صرف محدب (d) صرف یا تو مستوی یا پھر محدب
ڈکشنری (لغت) کے چھوٹے حروف پڑھنے کے لیے آپ کون سے لینس کو استعمال کرنا پسند کریں گے۔
(a) 50cm فوکل لمبائی والا محدب لینس
(b) 50cm فوکل لمبائی والا مقعر لینس
(c) 5cmفوکل لمبائی والا محدب لینس
(d) 5cm فوکل لمبائی والا مقعر لینس
ایک 15cm فوکل لمبائی والے مقعر آئینہ کے استعمال سے ہم کسی شے کی سیدھی شبیہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آئینہ سے شے کے فاصلہ کی رینج کیا ہونی چاہیے؟ شبیہ کی نوعیت کیا ہوگی؟ کیا شبیہ شے سے چھوٹی ہوگی یا پھر بڑی؟ اس صورت میں شبیہ کے بننے کو شعاعی ڈائیگرام بنا کر دکھائیے۔
مندرجہ ذیل حالات میں استعمال ہونے والے آئینہ کی قسم کا نام بتائیے۔
(a) کاروں کی ہیڈلائٹوں میں
(b) پیچھے کا نظارہ دیکھنے کے لیے گاڑیوں میں استعمال ہونے والا آئینہ
(c) شمسی بھٹیوں میں
اپنے جوابات کی حمایت میں دلیل پیش کیجیے۔
ایک محدبلینس کا آدھا حصہ کالے کاغذ سے ڈھکا ہوا ہے۔ کیا یہ لینس شے کی مکمل شبیہ بنا سکتا ہے؟ اپنے جواب کی تصدیق تجربہ کے ذریعہ کیجیے۔ اپنے مشاہدات کی وضاحت کیجیے۔
10۔ ایک شے جو 5cmلمبی ہے، ایک 10cm فوکل لمبائی والے مرکوزی (تقاربی)لینس سے 25cmکے فاصلے پر موجود ہے۔ شعاعی ڈائیگرام کھینچئے اور بننے والی شبیہ کا مقام، جسامت اور نوعیت کا پتہ لگائیے۔
11۔ ایک 15cmفوکل لمبائی والا مقعر لینس 10cm کے فاصلے پر شبیہ بناتاہے۔ شے لینس سے کتنے فاصلے پر رکھی ہے؟ شعاعی ڈائیگرام کھینچئے۔
12۔ ایک شے 15cmفوکل لمبائی والے محدب آئینہ سے 10cmکے فاصلے پر رکھی ہے۔ شبیہ کا مقام اور نوعیت معلوم کیجیے۔
13۔ ایک مسطح آئینہ سے پیدا ہونے والی تکبیر +1 ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟
14۔ ایک 5.0cm لمبی شے ایک 30cmکے نصف قطر انحناوالے محدب آئینہ کے سامنے 20cmکے فاصلےپر رکھی ہوئی ہے۔ شبیہ کا مقام، نوعیت اور جسامت معلوم کیجیے۔
15۔ ایک 7.0cm جسامت کی شے ایک 18cm فوکل لمبائی والے مقعر آئینہ کے سامنے 27cm کے فاصلے پر رکھی ہوئی ہے۔ آئینہ سے کتنے فاصلے پر پردہ کو رکھنا چاہیے تاکہ ایک واضح شبیہ حاصل ہوسکے؟ شبیہ کی جسامت اور نوعیت کا پتہ لگائیے۔
16۔ -2.0D پاور والے لینس کی فوکل لمبائی معلوم کیجیے۔ یہ کس طرح کا لینس ہے؟
17۔ ایک ڈاکٹر نے101کی پاور والا اصلاحی لینس تجویز کیا ہے۔ لینس کی فوکل لمبائی معلوم کیجیے۔ تجویز کیا ہوا لینس مرکوزی ہے یا غیر
مرکوزی؟