Skip to content
Science Chapter-11

باب 11


c11.1

انسانی آنکھ اور رنگ بھری دنیا

(The Human Eye and the Colourful World)

پچھلے باب میں آپ نے لینسوں کے ذریعہ ہونے والے روشنی کے انعطاف کا مطالعہ کیا ہے۔ آپ نے لینسوں کے ذریعہ بننے والی شبیہ کی نوعیت، مقام اور نسبتی جسامت کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ یہ تمام تصورات انسان کی آنکھ کے مطالعہ میں کسی طرح ہماری مدد کرسکتے ہیں؟ انسانی آنکھ روشنی کا استعمال کرتی ہے اور ہمیں اپنے چاروں طرف موجود اشیاکو دیکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اس کے اندرلینس موجود ہوتے ہیں۔ انسان کی آنکھ میں لینس کا کیا کام ہے؟ چشموں میں موجود لینس کس طرح نگاہ کی خامی کو درست کرتے ہیں؟ آئیے اس باب میں ہم ان سوالات پر غورکریں۔
پچھلے باب میں ہم نے روشنی اور اس کی کچھ خصوصیات کا مطالعہ کیا۔ اس باب میں ہم ان تصورات کا استعمال قدرتی ماحول میں بصری مظاہر کا مطالعہ کرنے کے لیے کریں گے۔ اس کے علاوہ ہم قوس و قزح کے بننے، سفید روشنی کی علاحدگی اور آسمان کے نیلے رنگ پر بھی گفتگو کریں گے۔

11.1 انسانی آنکھ (The Human Eye)

انسان کی آنکھ بیش قیمتی اور نازک حسی اعضامیں سے ایک ہے۔ یہ ہمیں حیرت انگیز دنیا اور اپنے چاروں طرف موجود رنگوں کو دیکھنے کے قابل بناتی ہے۔ آنکھیں بند کرکے ہم اشیاکو کچھ حد تک ان کی بو، ذائقہ، ان کی آواز اور چھوکر پہچان سکتے ہیں۔ جبکہ آنکھیں بند کرکے رنگوں کی شناخت ناممکن ہے۔ اس لیے سبھی حسی اعضاء میں سے آنکھیں بے حد اہم ہیں کیونکہ یہ ہمیں اس خوبصورت رنگین دنیا کو دیکھنے کے لائق بناتی ہیں۔
سیلیری عضلا
ریٹینا
بصری عصب
ویٹرس ہیومر
کرسٹلی لینس
سیکوئس ہیومر
پتلی 
آئرس
کارینا
c11.2
شکل 11.1
 انسانی آنکھ

انسانی آنکھ کیمرے کی طرح ہے۔ اس کا لینس نظام ریٹینا (Retina) ، پر شبیہ بناتا ہے ریٹینا ایک ضیا حساس پردہ ہے۔ روشنی آنکھ کے اندر ایک پتلی جھلّی کے ذریعہ داخل ہوتی ہے جسے کورنیا (Cornea) کہتے ہیں ۔ یہ آئی بال کی اگلی سطح پر ایک شفاف ابھار بناتی ہے (شکل 11.1)۔ آئی بال کی ساخت تقریباً کرّوی ہوتی ہے اور اس کا قطر لگ بھگ 2.3 cm ہوتا ہے۔ آنکھ کے اندر داخل ہونے والی روشنی کا انعطاف کارنیا کی باہری سطح سے ہوتا ہے۔ کرسٹل جیسی ساخت والا لینس فوکل لمبائی کو باریک درستی فراہم کرتاہے۔ جو مختلف فاصلوں پرموجود اشیا کو ریٹینا پر فوکس کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ کارنیا کے پیچھے، ہم ایک ساخت دیکھ سکتے ہیں جسے آئرس (Iris) کہتے ہیں۔ آئرس ایک گہرے رنگ کاعضلاتی ڈایافرام ہے جو پتلی کے سائز کو کنٹرول کرتا ہے۔ پتلی (Pupil) آنکھ کے اندر داخل ہونے والی روشنی کی مقدار کو کنٹرول کرتی ہے۔ آنکھوں کے لینس شے کی حقیقی اور الٹی شبیہ ریٹینا پر بناتے ہیں۔ ریٹینا ایک نازک جھلّی ہے جس میں بہت زیادہ تعداد میں ضیاحساس خلیے موجود ہوتے ہیں۔ یہ ضیا حساس خلیے روشنی کی موجودگی میں فعال ہو جاتے ہیں اور برقی سگنل پیدا کرنے لگتے ہیں۔ یہ سگنل دماغ تک بصری عصب (Optical nerves) کے ذریعہ پہنچائے جاتے ہیں۔ دماغ ان سگنلوں کی ترجمانی کرتا ہے اور بالاخر اطلاعات کی پروسیسنگ کرتا ہے تاکہ ہم اشیاکا بخوبی ادراک کرسکیں۔

مزید معلومات

بصری نظام کے کسی بھی حصّہ میں کسی طرح کا نقصان یا اس حصے کا صحیح طریقے سے کام نہ کرنابصری کارکردگی میں نقص پیدا کرسکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر روشنی کی ترسیل میں ملوث کوئی بھی ساخت جیسے کارنیا، پتلی، آنکھ کا لینس، ایکوئس ہیومر اور ویٹرس ہیومر یا پھر روشنی کو برقی ہیجان میں بدلنے کے لیے ذمہ دار ساختیں جیسے ریٹینا اور یہاں تک کہ بصری اعصاب جو ان ہیجان کی دماغ تک ترسیل کرتی ہیں اگر بے کار ہوجائیں تو بصری کمزوری پیدا ہوجاتی ہے۔ آپ نے یہ تجربہ کیا ہوگا کہ جب ہم تیز روشنی والے کمرے سے کم روشنی والے کمرے میں داخل ہوتے ہیں تو ہم چیزوں کو کچھ دیرتک صاف طور پر نہیں دیکھ پاتے ہیں۔ حالانکہ کچھ دیر کے بعد آپ کم روشنی والے کمرے میں بھی دیکھنے لگتے ہیں۔ آنکھ کی پتلی ایک متغیر اپرچر کی طرح کام کرتی ہے جس کا سائز آئرس کی مدد سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ جب روشنی بہت تیز ہوتی ہے تو آئرس پتلی کو سکوڑ کر کم روشنی کو آنکھ میں داخل ہونے دیتا ہے۔ جبکہ کم روشنی میں آئرس پتلی کو پھیلا دیتا ہے تا کہ زیادہ روشنی آنکھوں میں داخل ہوسکے ۔ اس لیے آئرس کے ڈھیلے ہوجانے کی وجہ سے پتلی پوری طرح کھل جاتی ہے۔

11.1.1 مطابقت کی پاور (Power of Accommodation)

آنکھ کا لینس ایک ریشہ دار، جیلی نما مادّہ سے بنا ہوتا ہے۔ اس کے انحنا (Curvature) کو کچھ حد تک سیلیری عضلات کے ذریعہ تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اِس طرح آنکھ کے لینس کے انحنا میں تبدیلی اس کی فوکل لمبائی کو تبدیل کر سکتی ہے۔ جب عضلات ڈھیلے رہتے ہیں تو لینس پتلا ہوجاتا ہے۔ جس سے اس کی فوکل لمبائی بڑھ جاتی ہے اور ہم ان اشیاکو صاف صاف دیکھ سکتے ہیں۔جو فاصلوں پر موجود ہیں۔ جب ہم آنکھ کے قریب موجود اشیاکو دیکھتے ہیں تو سیلیری عضلات سکڑ جاتے ہیں جس سے آنکھ کے لینس کا انحنا بڑھ جاتاہے اور آنکھ کا لینس موٹا ہوجاتاہے۔ ساتھ ہی ساتھ آنکھ کے لینس کی فوکل لمبائی گھٹ جاتی ہے۔ جس سے ہم قریب کی اشیاکو صاف صاف دیکھ پاتے ہیں۔
آنکھ کے لینس کی اپنی فوکل لمبائی کوتبدیل کرنے کی یہ صلاحیت مطابقت (Accommodation) کہلاتی ہے۔ حالانکہ آنکھ کے لینس کی فوکل لمبائی کوصرف ایک حد تک ہی کم کیا جاسکتا ہے۔ کسی کاغذ پر لکھے ہوئے الفاظ کو اپنی آنکھ کے بہت قریب لاکر پڑھنے کی کوشش کیجیے۔ آپ دیکھیں گے کہ شبیہ دھندلی ہورہی ہے یا آپ آنکھوں میں تنائو محسوس کریں گے۔ کسی شے کو آسانی سے اور صاف صاف دیکھنے کے لیے اسے آنکھوں سے 25cm فاصلے پر رکھنا چاہیے۔ وہ کم ترین فاصلہ جس سے ہم اشیاکو بغیر کسی تنائو کے بالکل صاف صاف دیکھ سکتے ہیں اسے واضح بصارت کا کم ترین فاصلہ کہتے ہیں۔ اسے آنکھ کا قریب نقطہ (Near point) بھی کہتے ہیں۔ ایک عام بصارت والے نوجوان کے لیے قریب نقطہ تقریباً 25cmپر ہوتا ہے۔ سب سے دور کے مقام پر واقع جن چیزوں کو آنکھ واضح طور پر دیکھ سکتی ہے آنکھ کا دور نقطہ (Far point) کہلاتا ہے۔ ایک عام آنکھ کے لیے یہ لاانتہا پر ہوتا ہے۔ یہاں پر آپ غور کیجیے کہ ایک نارمل آنکھ 25cmسے لاانتہا کے درمیان موجود اشیاکو واضح طور پر دیکھ سکتی ہے۔
کبھی کبھی بزرگ افراد کی آنکھوں کے کرسٹل نما لینس دودھیا اور دھندلے ہوجاتے ہیں۔ اس حالت کو موتیا بند (Cataract) کہتے ہیں۔ یہ جزوی یا مکمل طور پربصارت کو ختم کردیتا ہے۔ موتیا بند کی سرجری کے ذریعہ بصارت کو واپس لانا ممکن ہے۔

مزید معلومات

بصارت کے لیے ہمارے پاس ایک کے بجائے دو آنکھیں کیوں ہوتی ہیں؟

ہمارے پاس ایک کے بجائے دو آنکھیں ہونے کے کئی فائدے ہیں اس کی وجہ سے ہم زیادہ وسیع علاقے کو دیکھ پاتے ہیں۔ ایک انسان کے پاس ایک آنکھ کے لیے تقریباً ° 150کا اُفقی بصارتی میدان ہوتا ہے اور دونوں آنکھوں کے لیے تقریباً °180کا اُفقی بصارتی میدان ہوتا ہے۔ درحقیقت  دو ڈٹیکٹر کی وجہ سے دھندلی اشیا کو شناخت کرنے کی اہلیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

کچھ جانور، جو عام طور سے دوسرے جانوروں کا شکار کرتے ہیں ان میں دونوںآنکھیں سر کے دونوں طرف ہوتی ہیں جس سے انھیں زیادہ وسیع بصارتی میدان فراہم ہو جاتا ہے۔ مگر ہماری دونوں آنکھیں سر کے سامنے والے حصے میں واقع ہوتی ہیں جس سے ہمارا بصارتی میدان کم ہو جاتا ہے جو کہ اسٹیریوپسس (Stereopsis) میں معاون ہوتا ہے۔ ایک آنکھ بند کرنے پر دنیا چپٹی دوابعادی دکھائی دیتی ہے۔ دونوں آنکھیں کھلی رکھنے پر دنیا سہ ابعادی دکھائی دیتی ہے۔ چونکہ ہماری آنکھیں ایک دوسرے سے چند سینٹی میٹر کے فاصلے پر ہیں لہٰذا ہر آنکھ تھوڑی مختلف شبیہ دیکھتی ہے۔ ہمارا دماغ اضافی معلومات کااستعمال کرکے ان دونوں شبیہوں کو جوڑ کر ایک کر دیتا ہے اور ہمیں بتاتا ہے کہ چیزیں ہم سے کتنی دور یا پاس ہیں۔

11.2 نگاہ کی خامیاں اور ان کی تصحیح (Defects of Vision and their Correction)

کبھی کبھی آنکھ کی مطابقت کی پاور بتدریج کم ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں انسان اشیاکو واضح طور پر اور آسانی سے نہیں دیکھ پاتا ہے۔ آنکھ میں ہونے والے انعطافی نقائص کی وجہ سے بصارت دھندلی پڑجاتی ہے۔
عام طور سے بصارت کے تین انعطافی نقص ہوتے ہیں۔ جو یہ ہیں(i) مائیوپیا (ii) ہائپر میٹروپیا (iii) پرسبائیوپیا ۔ ان نقائص کو مناسب کروی لینسوں کے استعمال سے دور کیا جاسکتاہے۔ نیچے ہم ان نقائص اور ان کی تصحیح کے بارے میں گفتگو کریں گے۔

(a) مائیوپیا (Myopia)

مائیوپیا کو قریب نظری کے نام سے بھی جانا جاتاہے۔ مایوپیا سے متاثر شخص نزدیک کی چیزیں تو صاف دیکھتا ہے مگر دور کی اشیاواضح طور پر نہیں دیکھ پاتا۔ جس شخص کو یہ نقص ہوتا ہے اس کا دور کا نقطہ لا انتہا کے مقابلےنزدیک ہوتا ہے۔ یہ شخص کچھ میٹر کے فاصلے تک ہی واضح طور پر دیکھ سکتا ہے۔ مائیوپیا سے متاثرہ آنکھ میں فاصلے پر رکھی ہوئی شئے کی شبیہہ ریٹینا پر بننے کے بجائے ریٹینا کے سامنے بنتی ہے (شکل 11.2(b))۔ اس نقص کے پیدا ہونے کی وجہ ہے (i) آنکھ کے لینس کا زیادہ انحنا، یا (ii) آئی بال کا لمبا ہوجانا۔
c11.3
اس نقص کو مناسب پاور کے مقعر لینس کے استعمال سے صحیح کیا جاسکتاہے۔ اسے شکل 11.2(c) میں دکھایا گیاہے۔ مناسب پاور کا مقعر لینس شبیہہ کو واپس ریٹینا پر لے آتاہے اس طرح نقص کو ٹھیک کر لیا جاتاہے۔

(b) ہائپر میٹروپیا (Hypermetropia)

c11.4
ہائپر میٹروپیا کو بعید نظری کے نام سے بھی جانا جاتاہے۔ ایک شخص جو ہائپر میٹروپیا سے متاثر ہے فاصلے پر رکھی ہوئی اشیاکو واضح طور پر دیکھ سکتا ہے لیکن نزدیک رکھی ہوئی اشیاکو واضح طور پر نہیں دیکھ سکتا۔ اس شخص کے لیے نزدیکی نقطہ عام نزدیکی نقطہ (25cm) سے کافی دور ہوتاہے۔ ایسے شخص کو آرام سے پڑھنے کے لیے پڑھنے والی چیز کو آنکھ سے 25cmسے زیادہ فاصلے پر رکھنا پڑتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ نزدیک رکھی ہوئی شے سے روشنی کی شعاعیں ریٹینا کے پیچھے موجود نقطہ پر فوکس ہوجاتی ہیں جیسا کہ شکل 11.3(b) میں دکھایا گیا ہے۔ یہ نقص یا تو (i) آنکھ کے لینس کی فوکل لمبائی بہت زیادہ، یا پھر (ii) آئی بال (Eyeball) بہت چھوٹی ہوجانے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس نقص کی تصحیح مناسب پاور کے محدب لینس کے استعمال سے ہوسکتی ہے۔ اسے شکل 11.3(c) میں دکھایا گیاہے۔ مرکوزی(تقاربی) لینس والے چشمے فوکس کرنے کی مزید طاقت عطا کرتے ہیں جو کہ ریٹینا پر شبیہ کے بننے کے لیے ضروری ہے۔

(c) پرسبائیوپیا (Presbyopia)

آنکھ کی مطابقتی پاور عمر بڑھنے کے ساتھ گھٹتی جاتی ہے۔ زیادہ تر لوگوں کے لیے نزدیکی نقطہ دھیرے دھیرے دور ہوتا جاتاہے۔ وہ تصحیحی عینک کے بغیر نزدیک موجود اشیاکو دیکھنے میں پریشانی محسوس کرتے ہیں اور انہیں واضح طور پر نہیں دیکھ پاتے۔ اس نقص کو پرسبائیوپیا کہتے ہیں۔ یہ سیلیری عضلات (Cilary muscles) کے کمزور پڑنے اور آنکھ کے لینسوں کی لچک کے ختم ہوجانے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ایک شخص مائیوپیا اور ہائپر میٹروپیا دونوں کا شکار ہوجاتاہے۔ ایسے لوگوں کو اکثر دو فوکسی لینس کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایک عام دو فوکسی لینس میں محدب اور مقعر دونوں قسم کے لینس ہوتے ہیں۔ اوپری حصہ پر مقعر لینس ہوتا ہے، جو دور کی بصارت میں مدد کرتاہے۔نچلا حصہ ایک محدب لینس ہوتا ہے ، جو نزدیک کی بصارت میں مدد کرتاہے۔
ان دونوں، انعطافی خامیوں کو کانٹیکٹ لینس یا سرجری کے ذریعہ درست کیا جاسکتا ہے۔

سوالات

آنکھ کی مطابقت کی پاور کسے کہتے ہیں؟

مائیوپیا سے متاثرہ آنکھ والا شخص 1.2m فاصلہ کے بعد رکھی ہوئی اشیاکو واضح طور پر نہیں دیکھ سکتاہے۔ صحیح بصارت واپس لانے کے لیے اسے کس قسم کا تصحیحی لینس استعمال کرنے چاہیے؟

ایک عام بصارت والی انسانی آنکھ کا نزدیکی نقطہ اور دور نقطہ کیا ہوگا؟

ایک طالب علم کو سب سے پیچھے کی صف میں بیٹھ کر بلیک بورڈ کو پڑھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ بچہ کس طرح کے نقص کا شکار ہے؟ اس کی تصحیح کس طرح کی جاسکتی ہے؟


اِس پر غور کیجیے

picture 1

حیرت انگیز چیزوں کا بیان کرتے آپ جنھیں دیکھ سکتے ہیں
 آپ چمیکیلا ہے سورج، کہتے ہیں یہ آپ
 محسوس میں بھی کرتا چمکتے سورج کی گرمی 
لیکن سمجھ نہ پایا اب تک یہ بناتا کیسے وہ دن اور رات

سی – سبر

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہماری آنکھیں ہمارے مرنے کے بعد بھی زندہ رہتی ہیں؟ مرنے کے بعد اپنی آنکھیں عطیہ دے کر ہم ایک نابینا شخص کی زندگی کو روشن کرسکتے ہیں۔

اس وقت ترقی پذیر دنیا میں تقریباً 35 ملین انسان نابینا ہیں، اور ان میں سے زیادہ تر ٹھیک ہوسکتے ہیں۔ کارنیائی اندھے پن کے شکار تقریباً 4.5 ملین لوگوں کا علاج عطیہ کی گئی آنکھوں کی کورنیائی منتقلیکےذریعہ کیا جاسکتاہے۔ اِن 4.5 ملین میں سے  ٪6 بچے ہیں جن کی عمر 12 سال سے کم ہے۔ اس لیے اگر ہمیں بصارت کا تحفہ ملا ہے تو کیوں نہ ہم اسے ایسے لوگوں کو دے کر جائیں جن کے پاس یہ نہیں ہے؟ آنکھیں عطیہ کرتے وقت وہ کون سی باتیں ہیں جنھیں ہمیں اپنے ذہن میں رکھناچاہیے؟

آنکھوں کا عطیہ دینے والے افراد کسی بھی عمر اور جنس کے ہوسکتے ہیں۔ وہ لوگ جو چشمے پہنتے ہیں یا جن کا موتیا بند کا آپریشن ہوچکا ہو وہ بھی آنکھیں عطیہ دے سکتے ہیں۔ ایسے لوگ جنھیں ذیابیطس (Diabetese) ہے یا ہائپرٹینشن ہے یا پھر دمے کے مریض ہیں یا جنھیں کوئی چھوت کی بیماری نہیں ہے وہ بھی آنکھیں عطیہ دے سکتے ہیں۔

آنکھیں موت کے 4-6 گھنٹوں کے اندر نکال لینی چاہئیں۔ اپنے نزدیک کے آئی بینک کو اطلاع کردینا چاہیے۔

آئی بینک کی ٹیم متوفیگھر پر یا ہسپتال میں اس کی آنکھیں نکال لیتی ہے۔

آنکھوں کو نکالنے میں صرف 10-15منٹ کا وقت لگتاہے۔ یہ بے حد آسان عمل ہے اور اس سے کسی طرح کی بد شکلی نہیں پیدا ہوتی۔

وہ لوگ جو AIDS، ہیپیٹائٹس Bیا C، ریبیز، شدید لیوکیمیا، ٹٹنس، کالرا، دماغی بخار یا انسیفیلائٹس کے شکار ہوں یا جن کی موت ان بیماریوں کی وجہ سے ہوئی ہو آنکھیں عطیہ نہیں کرسکتے۔

آئی بینک عطیہ کی گئی آنکھیں جمع کرتاہے ان کی جانچ اور تقسیم کرتا ہے۔ سبھی عطیہ کی گئی آنکھوں کی جانچ کے لیے سخت طبی معیار کا استعمال کیا جاتاہے۔ عطیہ کی گئی وہ آنکھیں جو منتقلی کے لیے صحیح نہیں پائی جاتیں انہیں بیش قیمتی ریسرچ اور میڈیکل ایجوکیشن میں استعمال کیا جاتاہے۔ آنکھیں عطیہ دینے والے اور لینے والے دونوں کی شناخت مخفی رکھی جاتی ہے۔

ایک جوڑی آنکھیں چار کارنیائی نابینا لوگوں کو بصارت دے سکتی ہیں۔

11.3 پرزم کے ذریعہ روشنی کا انعطاف (Refraction of Light Through a Prism)

آپ نے مطالعہ کیا ہے کہ ایک مستطیلی گلاس سلیب کے ذریعہ روشنی کس طرح منعطف ہوتی ہے۔ متوازی انعطافی سطحوں جیسے کہ گلاس سلیب میں نمودی شعاع، واقع شعاع کے متوازی ہوتی ہے۔ حالانکہ یہ عرضی طور پر تھوڑی سی کھسک جاتی ہے۔ ایک شفاف پرزم کے ذریعہ روشنی کا انعطاف کس طرح ہوتا ہے؟ ایک مثلث نما گلاس پرزم پر غور کیجیے۔ اس میں دو مثلث نما اساس اور تین مستطیلی عرضی سطحیں ہوتی ہیں۔ یہ سطحیں ایک دوسرے پر جھکی ہوئی ہوتی ہیں۔ ان کے دو عرضی رُخوں کے درمیان کا زاویہ زاویۂ پرزم کہلاتاہے۔ آئیے ہم مثلث نما گلاس پرزم کے ذریعہ ہونے والے روشنی کے انعطاف کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک سرگرمی انجام دیں۔

سرگرمی 11.1

ایک ڈرائنگ بورڈ پر ڈرائنگ پنوں کی مدد سے سفید کاغذ کی شیٹ لگائیے۔

اس کے اوپر کانچ کے پرزم کو اس طرح رکھیے کہ وہ مثلث نما اساس پر رہے۔ پرزم کے چاروں طرف پینسل کی مدد سے لائن کھینچیے۔

ایک سیدھی لائن PE کھینچیے جو پرزم کی انعطافی سطح ABپر جھکی ہوئی ہو۔

لائن PE کے نقطہ Pاور Q پر دو پنیں لگائیے جیساکہ شکل 11.4 میں دکھایاگیاہے۔

• P اور Q پر لگائی گئی پنوں کی شبیہ کو دوسرے رخ ACکے ذریعہ دیکھیے۔

نقطہ R اور S پر دو اور پنیں اس طرح لگائیے کہ R اور S پر موجود پنیں اور P اور Q پر لگی پنوں کی شبیہ ایک ہی خط مستقیم پر موجود ہوں۔

پنوں اور گلاس پرزم کو ہٹا لیجیے۔

لائن PE پرزم کی سرحد کے نقطہ E پر ملتی ہے (شکل 11.4دیکھیے)۔

اسی طرح نقطہ R اور S کو ملائیے اور اسے آگے بڑھائیے۔ ان لائنوں کو پرزم کی سرحد E اور F پر بالترتیب ملنے دیجیے۔ E اور F کو ملائیے۔

پرزم کے نقطوں E اور F پر بالترتیب انعطافی سطحوں ABاور AC پر عمود کھینچیے۔

زاویہ وقوع c11.101، انعطاف کے زاویےc11.102اور نمود کے زاویہc11.03کو درج کیجیے۔ جیسا کہ شکل 11.4 میں دکھایا گیاہے۔

picture 2

      = PE  وقوع شعاع = Ði   زاویۂ وقوع 

= EFمنعطف شعاع = Ðrزاویۂ انعطاف

= FS نمودی شعاع = Ðeنمودی زاویہ

= ÐA  زاویۂ پرزم   =ÐD زاویۂ انحراف

شکل 11.4 ایک مثلث نما گلاس پرزم کے ذریعہ ہونے والا روشنی کا انعطاف

یہاں PEوقوع شعاع ہے، EF منعطف شعاع ہے اور FS نمودی شعاع ہے۔ غور کیجیے کہ روشنی کی ایک شعاع ہوا سے شیشہ میں پہلی سطح AB سے داخل ہورہی ہے۔ روشنی کی شعاع انعطاف کے بعد نارمل کی طرف جھک جاتی ہے۔ دوسری سطح ACپروشنی کی شعاع شیشہ سے ہوا میں داخل ہوتی ہے۔ اس لیے یہ نارمل سے دور ہٹ جاتی ہے۔ پرزم کی ہر انعطافی سطح پر بننے والے زاویہ وقوع اور زاویہ انعطاف کا موازنہ کیجیے۔ کیا یہ گلاس سلیب میں ہونے والے جھکائو کی طرح ہی ہے؟ پرزم کی مخصوص جسامت نمودی شعاع کو وقوع شعاع کی سمت میں ایک زاویہ میں جھکاتی ہے۔ اس زاویہ کو کا زاویہ انحراف (Angle of Deviation) کہتے ہیں۔ اس معاملہ میںc11.104زاویہ انحراف ہے۔ اوپر دی ہوئی سرگرمی میں زاویہ انحراف کو درج کیجیے اور اس کی پیمائش کیجیے۔

11.4 گلاس پرزم کے ذریعہ سفید روشنی کا انکسار(Dispersion of White Light by a Glass Prism)

آپ نے قوس و قزح کے قابل دید رنگوں کو ضرور کو دیکھا اور سراہا ہوگا۔ سورج کی سفید روشنی ہمیں کس طرح قوس و قزح کے مختلف رنگ عطا کرتی ہے؟ اس سوال کو حل کرنے سے پہلے ہمیں پرزم کے ذریعہ ہونے والے روشنی کے انعطافپر واپس جانا ہوگا۔ پرزم کی جھکی ہوئی انعطافی سطحیں پر کیف مظہر کو دکھاتی ہیں۔ آئیے ہم اسے ایک سرگرمی کے ذریعہ تلاش کرتے ہیں۔

سرگرمی 11.2

گتّے کی ایک موٹی شیٹ لیجیے اور اس کے بیچ میں ایک چھوٹا سوراخ یا پھر ایک پتلا شگاف بنائیے۔

سورج کی روشنی کو پتلے شگاف پر پڑنے دیجیے۔ اسی سے سفید روشنی کا ایک پتلا بیم حاصل ہوتا ہے۔

اب ایک گلاس پرزم لیجیے اور شگاف سے آنے والی روشنی کو اس کے ایک رخ پر گرنے دیجیے جیسا کہ شکل 11.5 میں دکھایا گیاہے۔

پرزم کو دھیرے دھیرے اس وقت گھمائیے جب تک کہ اس میں سے آنے والی روشنی نزدیک کے پردہ پر نہ پہنچ جایے۔

آپ نے کیا مشاہدہ کیا؟ آپ ایک خوبصورت رنگوں کی پٹّی حاصل کریں گے۔ ایسا کیوں ہوا؟

c1107
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پرزم نے وقوع پذیرسفید روشنی (Incident white light) کو رنگوں کی پٹی میں تقسیم کردیا ہے۔ رنگوں کی پٹی کے دونوں سروں پر ظاہرہونے والے رنگوں کو دیکھے۔ ان رنگوں کی ترتیب کیاہے جنھیں آپ پردے پر دیکھتے ہیں؟ دکھائی دینے والے مختلف رنگ بنفشی، بیگنی، نیلا، سبز، زرد، نارنجی اور سرخ ہیں جیسا کہ شکل 11.5 میں دکھایا گیاہے۔ آپ VIBGYOR کی مدد سے رنگوں کی ترتیب کو یاد رکھ سکتے ہیں۔ روشنی کے بیم کے رنگین حصوں کی پٹی طیف (Spectrum) کہلاتی ہے۔ آپ شاید سبھی رنگوں کو الگ الگ دیکھنے کے قابل نہ ہوں۔ پھر بھی کچھ چیزیں ہر ایک رنگ کو دوسرے سے واضح کرتی ہیں۔ روشنی کا اس کے اجزائی رنگوں میں تقسیم ہونا انکسار (Dispersion) کہلاتا ہے۔
آپ نے دیکھا کہ پرزم کے ذریعہ سفید روشنی کا انکسار سات رنگ کے اجزا میں ہوجاتاہے۔ ہمیں یہ رنگ کیوں حاصل ہوتے ہیں؟ یہ رنگ جب پرزم سے ہوکر گزرتے ہیں تو وقوع شعاع کی مناسبت سے مختلف رنگ مختلف زاویوں پر جھک جاتے ہیں۔ سرخ روشنی سب سے کم جبکہ بنفشی سب سے زیادہ مڑتی ہے۔ اس طرح ہر رنگ کی شعاعیں الگ الگ راستوں پر نمودار ہوتی ہیں اور واضح ہوجاتی ہیں۔ ہم اسپیکٹرم میں واضح رنگوں کی پٹیاں دیکھتے ہیں۔
c11.8
آئزیک نیوٹن نے پہلیمرتبہ گلاس پرزم کا استعمال کرکے سورج کی روشنی کا اسپیکٹرم حاصل کیا۔ اس نے سفید روشنی کے اسپیکٹرم کے رنگوں کو پہلے جیسے کسی دوسرے پرزم کا استعمال کرکے دوبارہ علاحدہ کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ اسے کوئی اور رنگ حاصل نہیں ہوا۔ تب اس نے پہلے جیسے کسی دوسرے پرزم کو پہلے کے مقابلہ الٹی حالت میں رکھا جیسا کہ شکل 11.6میں دکھایاگیا ہے۔ اس نے اسپیکٹرم کے سبھی رنگوںکو دوسرے پرزم سے گزرنے دیا۔ اس نے پایا کہ دوسرے پرزم کے دوسری طرف سے سفید روشنی کا بیم نمودار ہورہا ہے۔ اس مشاہدہ سے نیوٹن نے یہ تصور پیش کیا کہ سورج کی روشنی سات رنگوں سے مل کر بنی ہوتی ہے۔
c11.9
کوئی بھی روشنی جو سورج کی روشنی جیسا اسپیکٹرم دیتی ہے سفید روشنی کہلاتی ہے۔
c11.10
ایک قوس و قزح قدرتی اسپیکٹرم ہے جو آسمان میں بارش کی بوچھار کے بعد ظاہر ہوتا ہے (شکل11.7)۔ یہ فضا میں موجود پانی کی چھوٹی چھوٹی بوندوں کے ذریعہ سورج کی روشنی کے انکسار کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک قوس و قزح ہمیشہ سورج کی برعکس سمت میں بنتی ہے۔ پانی کی بوندیں چھوٹے پرزم کی طرح کام کرتی ہیں۔ یہ وقوع سورج کی روشنی کو منعطف کردیتی ہیں اور ان کا انکسار کردیتی ہیں، اس کے بعد انہیں اندر کی طرف منعکس کردیتی ہیں اور آخر میں جب وہ بارش کی بوند سے باہر آتی ہیں تو انہیں دوبارہ منعطف کردیتی ہیں (شکل 11.8)۔ روشنی کے انکسار اور اندرونی انعکاس کی وجہ سے مشاہدہ کرنے والے کی آنکھ میں مختلف رنگ پہنچتے ہیں۔
جب آپ آسمان کو کسی جھرنے یا پانی کے فوّارے کے آرپار دیکھیں اور سورج آپ کے پیچھے موجود ہوتوآپ ایک دھوپ والے دن میں بھی قوس و قزح دیکھ سکتے ہیں ۔

11.5 فضائی انعطاف (Atmospheric Refraction)

شاید آپ نے ایک اشعاع کار (Radiator)یا پھر آگ کے اوپر اٹھنے والی گرم ہوا کی آشوبی دھار کے آر پار اشیاکوبے ترتیب انداز میں لہراتے ہوئے یا جھلملاتے ہوئے دیکھاہو۔ آگ کے ٹھیک اوپر کی ہوا نسبتاً زیادہ اونچائی پر کی ہوا اوپر موجود ہوا کے مقابلے زیادہ گرم ہوجاتی ہے۔ گرم ہوا اپنے اوپر موجود ٹھنڈی ہوا (کم کثیف) سے ہلکی ہوتی ہے اور اس کا انعطافی اشاریہ ٹھنڈی ہوا کے مقابلے تھوڑا کم ہوتاہے۔ چونکہ انعطافی وسیلے (ہوا) کے طبیعی حالات ساکن نہیں ہوتے، اس لیے گرم ہوا سے ہو کر دیکھی جانے والی شے کا ظاہری مقام گھٹتا بڑھتا رہتاہے۔ یہ لہرانا یا جھلملانا چھوٹے پیمانے پر ہمارے مقامی ماحول پر فضائی انعطاف (ارضی فضا کے ذریعہ روشنی کا انعطاف) کا اثر ہے۔ تاروں کا ٹمٹمانا بڑے پیمانے پر اسی طرح کا مظہر ہے۔ آئیے اب ہم دیکھتے ہیں کہ اسے ہم کس طرح سمجھا سکتے ہیں۔

تاروں کا ٹمٹمانا (Twinkling of Stars)

تاروں کا ٹمٹمانا تاروں کی روشنی کے فضائی انعطاف کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تاروں کی روشنی ارضی فضا میں داخل ہوتے وقت لگاتار منعطف ہوتی رہتی ہے جب تک کہ وہ زمین پر نہیں پہنچ جاتی۔ فضائی انعطاف ایک ایسے وسیلہ میں ہوتا ہے جس کا انعطافی اشاریہ بتدریج بدلتا رہتاہے۔ چونکہ فضا تاروں کی روشنی کو نارمل کی طرف جھکا دیتی ہے، تارے کا ظاہری مقام اس کے اصل مقام سے تھوڑا الگ ہوجاتاہے۔ تاروں کو جب افق (Horizon) کے نزدیک سے دیکھا جاتاہے تو وہ اپنے اصل مقام سے تھوڑا اونچا دکھائی پڑتے ہیں (شکل 11.9)۔ مزید یہ کہ تارے کا یہ ظاہری مقام ساکن نہیں رہتا بلکہ تھوڑا بہت بدلتا رہتا ہے، کیونکہارضی فضا کے طبیعی حالات ساکن نہیں رہتے، جیسا کہ پچھلے پیراگراف کے معاملہ میں تھے۔ کیونکہ تارے بہت دور ہیں اس لیے وہ تقریباً نقطہ جسامت والے روشنی کے ذرائع کی طرح ہیں۔ چونکہ تاروں سے آنے والی روشنی کی شعاعوں کے راستے تھوڑے سے بدلتے رہتے ہیں،اس لیے تاروں کا ظاہری مقام گھٹتا بڑھتا رہتا ہے اور تاروں کی روشنی کی مقدار جو آنکھوں میں داخل ہوتی ہے جھلملاتی ہے جس سے کبھی کبھی تارہ زیادہ چمکیلا ظاہر ہوتا ہے اور کسی دوسرے وقت میں مدھم، جسے ہم ٹمٹمانا کہتے ہیں۔
c11.11
شکل 11.9 
فضائی انعطاف کی وجہ سے تارے کا ظاہری مقام
سیارے کیوں نہیں ٹمٹماتے ہیں؟ سیارے زمین کے زیادہ نزدیک ہیں، اور اس لیے انھیں وسیع ذرائع تصور کیا جاتاہے۔ اگر ہم سیارے کو روشنی کے نقطہ جسامت والے ذرائع کا ایک بڑا مجموعہ فرض کریں تو ہر ایک انفرادی نقطہ جسامت والے ذریعہ سے ہماری آنکھ کے اندر داخل ہونے والی روشنی کی مقدار میں کل تبدیلی اوسطاً صفر ہوتی ہے، جو کہ ٹمٹمانے کے اثر کو ختم کردیتی ہے۔

سورج کا پہلے طلوع اور دیر سے غروب ہونا (Advance sunrise and delayed sunset)

فضائی انعطاف کی وجہ سے سورج ہمیں حقیقی طلوع کے 2منٹ پہلے دکھائی پڑتا ہے، اور حقیقی غروب کے 2منٹ بعد تک دکھائی دیتا رہتا ہے۔ حقیقی طلوع آفتاب سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جب سورج حقیقی طور پر افق کو پار کرتا ہے۔ شکل 11.10 میں افق کے مقابلہ سورج کے حقیقی اور ظاہری مقامات کو دکھایا گیاہے۔ حقیقی طلوع آفتاب اور ظاہری غروب آفتاب کے درمیان تقریباً 2منٹ کا فرق ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقتسورج کی ڈسک چپٹی محسوس ہوتی ہے۔
c11.12
شکل 11.10 
طلوع آفتاب اور غروب آفتاب فضائی انعطاف کا اثر

11.6 روشنی کا انتشار (Scattering of Light)

ہمارے چاروں طرف موجود اشیاکے ساتھ روشنی کا تعامل بہت سارے قابل دید مظہر قدرتی ماحول میں پیدا کرتا ہے۔ آسمان کا نیلا رنگ، گہرے سمندر میں پانی کا رنگ، طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت سورج کا لال ہوجاناکچھ ایسے مظہر ہیں جن سے ہم بخوبی واقف ہیں۔ پچھلے درجہ میں آپ نے کولائڈی ذرات کے ذریعہ روشنی کے انتشار کے بارے میں پڑھا ہے۔ ایک حقیقی محلول سے ہوکر گزرنے والی روشنی کے بیم کا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ جبکہ ایک کولائڈی محلول ( جس کے ذرات کی جسامت نسبتاً بڑی ہوتی ہے) سے گزرنے پریہ راستہ دکھائی دینے لگتاہے۔

11.6.1 ٹنڈل اثر (Tyndall Effect)

زمین کی فضا چھوٹے چھوٹے ذرات کا ایک غیر متجانس آمیزہ (Heterogenous mixture) ہے۔ ان ذرات میں دھواں، پانی کی ننھی بوندیں، دھول کے معلق ذرات اور ہوا کے سالمات شامل ہیں۔ جب روشنی کا کوئی بیم ان مہین ذرات سے ٹکراتا ہے تو بیم کا راستہ دکھائی دینے لگتاہے۔ روشنی ان ذرات سے نفوذی انعکاس کے بعد ہم تک پہنچ پاتی ہے۔
کولائڈی ذرات کے ذریعہ روشنی کے انتشار کا مظہر ٹنڈل اثر کو پیدا کرتا ہے جسے آپ درجہ IX میں پڑھ چکے ہیں۔ یہ مظہر اس وقت دکھائی دیتا ہے جب سورج کی روشنی کا ایک مہین بیم کسی دھوئیں سے بھرے ہویے کمرے میں ایک چھوٹے سے سوراخ سے داخل ہوتا ہے۔ اس طرح روشنی کا انتشار ذرات کو بصری بنا دیتاہے۔ ٹنڈل اثر کا مشاہدہ اس وقت بھی کیا جاسکتاہے جب سورج کی روشنی کسی گھنے جنگل کے اوپری سرے سے ہوکر گزر رہی ہو۔ یہاں دھند میں موجود پانی کی چھوٹی چھوٹی بوندیں روشنی کا انتشار کرتی ہیں۔
انتشار شدہ روشنی کا رنگ انتشار کرنے والے ذرات کی جسامت پر منحصر ہوتا ہے۔ بہت مہین ذرات خاص طور سے نیلی روشنی کا انتشار کرتے ہیں جبکہ بڑی جسامت کے ذرات بڑی طول لہر (Wavelengths) والی روشنی کا انتشار کرتے ہیں۔ اگر انتشار کرنے والے ذرات کی جسامت کافی بڑی ہو، تو انتشار شدہ روشنی سفید بھی ظاہر ہوسکتی ہے۔

11.6.2 صاف آسمان کا رنگ نیلا کیوں ہوتاہے؟

(Why is the Colour of the clear sky blue?)

فضا میں موجود ہوا کے سالمات اور دیگر مہین ذرات کی جسامت مرئی روشنی کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ یہ سرخ سرے پر زیادہ طول لہروالی روشنی کے مقابلے نیلے سرے پر کم طول لہر کی روشنی کو زیادہ موثر طریقے سے منتشر کرتے ہیں۔ سرخ روشنی کا طول لہر نیلے رنگ کی روشنی کے طول لہر کا تقریباً 1.8گنا ہوتا ہے۔ اس طرح جب سورج کی روشنی کرہ باد سے ہوکر گزرتی ہے تو ہوا میں موجود باریک ذرات سرخ رنگ کی روشنی کے مقابلے نیلے رنگ کی روشنی (کم طول لہر) کو زیادہ منتشر کرتے ہیں۔ منتشر ہونے والی نیلے رنگ کی روشنی ہماری آنکھوں میں پہنچتی ہے۔ اگر زمین پر کرہ باد نہیں ہوتا تو کسی قسم کا انتشار نہیں ہوتا اور آسمان سیاہ رنگ کا نظر آتا۔ بہت زیادہ اونچائی پر پرواز کررہے مسافروں کو آسمان سیاہ رنگ کا نظر آتا ہے کیونکہ زیادہ اونچائی پر واضح انتشار نہیں ہوتا۔
آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ خطرے کے نشان کی روشنی لال رنگ کی ہوتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں ایسا کیوں ہے؟ لال رنگ کہرے اور دھوئیں (Fog) کے ذریعہ سب سے کم منشتر ہوتاہے۔ اس لیے اسے دور سے بھی اسی رنگ میں دیکھا جاسکتاہے۔

11.6.3 طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت سورج

(Colour of the sun at sunrise and sunset)

کیا آپ نے طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت سورج یا آسمان کو دیکھا ہے؟ کیا آپ نے یہ سوچا کہ اس وقت سورج اور اس کے چاروں طرف کا آسمان لال کیوں نظر آتاہے؟ آئیے ہم ایک سرگرمی کی مدد سے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ آسمان کا نیلا رنگ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت سرخی مائل کیوں ظاہر ہوتاہے۔

سرگرمی 11.3

٭ سفید روشنی کے ایک طاقتور ذریعہ (s) کو ایک مرکوزی لینس (L1) کے فوکس پر رکھیے۔ یہ لینس روشنی کا ایک متوازی بیم فراہم کرتاہے۔

٭ روشنی کے بیم کو شیشہ کے ایک ایسے شفاف ٹینک (T) ہوکر گزرنے دیجیے۔

٭ روشنی کے بیم کو گتے کے بورڈ کے اندر بنے گول چھید (C) سے ہوکر گزرنے دیجیے۔ ایک دوسرے مرکوزی لینس (L2) کا استعمال کرکے پردہ (MN)پر دائری سوراخ کی واضح شبیہہ حاصل کیجیے، جیسا کہ شکل 11.11 میں دکھایا گیاہے۔

٭ تقریباً 200g سوڈیم تھایو سلفیٹ (ہائپو) کو ٹینک میں لیے گئے تقریباً 2L صاف پانی میں گھولیے۔ پانی میں تقریباً 1 سے 2 ملی لیٹر مرتکز سلفیورک تیزاب ملائیے۔ آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟

c11.13
شکل 11.11 
کولائڈی محلول میں روشنی کے انتشار کا مشاہدہ کرنے کے لیے آلات کی ترتیب
آپ کچھ مہین خوردبینی سلفر ذرات پائیں گے جو 2 سے 3منٹ میں رسوب بن جاتیہیں۔ جیسے جیسے سلفر کے ذرات بننا شروع ہوتے ہیں، آپ شیشہ کے ٹینک کے تین طرف سے نیلی روشنی کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ ایسا سلفر کے چھوٹے کولائڈی ذرات کے ذریعہ چھوٹی طول لہر کی روشنی کے انتشار کی وجہ سے ہوتاہے۔ گول سوراخ کی طرف رخ کیے ہوئے شیشہ کے ٹینک کی چوتھی طرف سے ترسیل شدہ روشنی کے رنگ کا مشاہدہ کیجیے۔ پردہ پرپہلے نارنگی لال رنگ اور پھر گہرے کرقرمزی رنگ کا مشاہدہ کرنا بے حد دلچسپ ہوتاہے۔
یہ سرگرمی روشنی کے انتشار کا مظاہرہ کرتی ہے جس سے ہمیں آسمان کے نیلے رنگ اور طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت سورج کے لال دکھائی دینے کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
افق کے قریب سورج کی روشنی ہماری آنکھوں تک پہنچنے سے پہلے زمین کی فضا میں ہوا کی موٹی پرتوں کے درمیان ایک طویل فاصلہ طے کرتی ہے۔
c11.14
شکل 11.12
طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت سورج کا لال ہونا
حالانکہ سر کے اوپر موجود سورج کی روشنی نسبتاً کم فاصلہ طے کرتی ہے۔ دوپہر کے وقت سورج سفید دکھائی دیتا ہے۔کیونکہ اس وقت نیلا اور بنفشی رنگ بہت کم منتشر ہوتا ہے۔ افق کے قریب زیادہ تر نیلی روشنی اور طول لہر کی روشنی لمبائیاں ذرات کے ذریعہ دور منتشر کردی جاتی ہیں۔ اس لیے وہ روشنی جو ہماری آنکھوں تک پہنچتی ہے زیادہ طول لہر لمبائی والی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے سورج سرخ نظر آتا ہے۔

آپ نے کیا سیکھا

آنکھ کے ذریعہ اپنی فوکل لمبائی کو ترتیب دے کر نزدیک اور دور کی اشیاکو فوکس کرنے کی صلاحیت آنکھ کی مطابقتی پاور کہلاتی ہے۔

n وہ کمترین فاصلہ جہاں سے آنکھ اشیاکو واضح اور بغیر تنائو کے دیکھ سکتی ہے اسے آنکھ کا نزدیک نقطہ یا واضح بصارت کا کمترین فاصلہ کہتے ہیں۔ ایک عام بصارت والے بالغ فرد کے لیے یہ تقریباً 25cmہوتا ہے۔

بصارت کے عام انعطافی نقص مائیوپیا، ہائپرمیٹروپیا اور پرسبائیوپیا ہیں۔ مائیوپیا (قریب نظری۔دور موجود اشیاکی شبیہہ کا ریٹینا کے آگے فوکس ہونا) کی تصحیح مناسب پاورکے مقعر لینس کے استعمال سے کی جاتی ہے۔ ہائپرمیٹروپیا (بعید نظری۔ نزدیک موجود اشیاکی شبیہہ ریٹینا سے دور فوکس ہوتی ہے) کی تصحیح مناسب پاور کے محدب لینس کے استعمال سے ہوتی ہے۔ بڑھاپے میں آنکھیں اپنی مطابقت کی پاور(Power of accomnodation) کھو دیتی ہیں۔

سفید روشنی کا اپنے اجزائے ترکیبی رنگوں میں تقسیم ہوانکسار کہلاتا ہے۔

آسمان کا نیلا رنگ نیز طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت سورج کے لال ہوجانے کی وجہ روشنی کا انتشارہے۔



مشقیں

انسان کی آنکھ، اپنے لینس کی فوکل لمبائی کو ترتیب میں لا کر مختلف فاصلوں پر موجود اشیاکو فوکس کرسکتی ہے۔اس کی وجہ ہے:

(a) پرسبائیوپیا

(b) مطابقت

(c) قریب نظری

(d) دور نظری

انسانی آنکھ کسی شیے کی شبیہ بناتی ہے:

(a) کورنیاپر

(b) آئرس پر

(c) پتلی پر

(d) ریٹینا پر

عام بصارت والے بالغ فرد کی واضح بصارت کا کم ترین فاصلہ تقریباًہے۔

a) 25cm (b) 2.5 cm (c) 25 cm (d) 2.5 cm)

آنکھ کے لینس کی فوکل لمبائی میں تبدیلی مندرجہ ذیل میں سے کس کی حرکت کی وجہ سے ہوتی ہے۔

(a) پتلی (b) ریٹینا (c) سیلیری عضلات (d) آئرس

ایک شخص کو اپنی دور کی بصارت کی تصحیح کے لیے -5.5 ڈائیوپٹر پاور کا لینس چاہیے۔ اپنی نزدیک کی بصارت کی تصحیح کے لیے اسے +1.5ڈائیوپیٹر کا لینس چاہیے۔ (i) دور نظری اور (ii) بعید نظری کی تصحیح کے لیے استعمال ہونے والے لینسوں کی فوکل لمبائی کتنی ہونی چاہیے۔

مائیوپیا سے متاثر شخص کا دور نقطہ اس کی آنکھ کے سامنے 80cmکے فاصلے پر ہے۔ اس نقص کی تصحیح کے لیے استعمال ہونے والے لینس کی نوعیت اور پاور کیا ہونی چاہیے۔

ہائپرمیٹروپیا کی تصحیح کو دکھانے کے لیے ایک شکل بنائیے۔ ہائپرمیٹروپیا سے متاثرہ آنکھ کا نزدیکی نقطہ 1mہے۔ اس نقص کی تصحیح کے لیے استعمال ہونے والے لینس کی پاور کیا ہوگی؟فرض کیجیے کہ عام آنکھ کا نزدیکی نقطہ 25cmہے۔

ایک صحت مند آنکھ 25cmسے کم فاصلے پر موجود شئے کو کیوں نہیں دیکھ پاتی ہے؟

جب ہم آنکھ سے شئے کا فاصلہ بڑھادیتے ہیںتو آنکھ میں شبیہہ کے فاصلے پر کیا اثر پڑتاہے؟

10۔ تارے کیوں ٹمٹماتے ہیں؟

11۔ سیارے کیوں نہیں ٹمٹماتے، سمجھائیے۔

12۔ صبح سویرے سورج لال کیوں نظر آتاہے؟

13۔ ایک خلا باز (Astronaute) کو آسمان نیلے رنگ کے بجائے سیاہ کیوں دکھائی دیتا ہے؟