باب 11

انسانی آنکھ اور رنگ بھری دنیا
(The Human Eye and the Colourful World)
11.1 انسانی آنکھ (The Human Eye)

مزید معلومات
بصری نظام کے کسی بھی حصّہ میں کسی طرح کا نقصان یا اس حصے کا صحیح طریقے سے کام نہ کرنابصری کارکردگی میں نقص پیدا کرسکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر روشنی کی ترسیل میں ملوث کوئی بھی ساخت جیسے کارنیا، پتلی، آنکھ کا لینس، ایکوئس ہیومر اور ویٹرس ہیومر یا پھر روشنی کو برقی ہیجان میں بدلنے کے لیے ذمہ دار ساختیں جیسے ریٹینا اور یہاں تک کہ بصری اعصاب جو ان ہیجان کی دماغ تک ترسیل کرتی ہیں اگر بے کار ہوجائیں تو بصری کمزوری پیدا ہوجاتی ہے۔ آپ نے یہ تجربہ کیا ہوگا کہ جب ہم تیز روشنی والے کمرے سے کم روشنی والے کمرے میں داخل ہوتے ہیں تو ہم چیزوں کو کچھ دیرتک صاف طور پر نہیں دیکھ پاتے ہیں۔ حالانکہ کچھ دیر کے بعد آپ کم روشنی والے کمرے میں بھی دیکھنے لگتے ہیں۔ آنکھ کی پتلی ایک متغیر اپرچر کی طرح کام کرتی ہے جس کا سائز آئرس کی مدد سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ جب روشنی بہت تیز ہوتی ہے تو آئرس پتلی کو سکوڑ کر کم روشنی کو آنکھ میں داخل ہونے دیتا ہے۔ جبکہ کم روشنی میں آئرس پتلی کو پھیلا دیتا ہے تا کہ زیادہ روشنی آنکھوں میں داخل ہوسکے ۔ اس لیے آئرس کے ڈھیلے ہوجانے کی وجہ سے پتلی پوری طرح کھل جاتی ہے۔
11.1.1 مطابقت کی پاور (Power of Accommodation)
مزید معلومات
بصارت کے لیے ہمارے پاس ایک کے بجائے دو آنکھیں کیوں ہوتی ہیں؟
ہمارے پاس ایک کے بجائے دو آنکھیں ہونے کے کئی فائدے ہیں اس کی وجہ سے ہم زیادہ وسیع علاقے کو دیکھ پاتے ہیں۔ ایک انسان کے پاس ایک آنکھ کے لیے تقریباً ° 150کا اُفقی بصارتی میدان ہوتا ہے اور دونوں آنکھوں کے لیے تقریباً °180کا اُفقی بصارتی میدان ہوتا ہے۔ درحقیقت دو ڈٹیکٹر کی وجہ سے دھندلی اشیا کو شناخت کرنے کی اہلیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
کچھ جانور، جو عام طور سے دوسرے جانوروں کا شکار کرتے ہیں ان میں دونوںآنکھیں سر کے دونوں طرف ہوتی ہیں جس سے انھیں زیادہ وسیع بصارتی میدان فراہم ہو جاتا ہے۔ مگر ہماری دونوں آنکھیں سر کے سامنے والے حصے میں واقع ہوتی ہیں جس سے ہمارا بصارتی میدان کم ہو جاتا ہے جو کہ اسٹیریوپسس (Stereopsis) میں معاون ہوتا ہے۔ ایک آنکھ بند کرنے پر دنیا چپٹی دوابعادی دکھائی دیتی ہے۔ دونوں آنکھیں کھلی رکھنے پر دنیا سہ ابعادی دکھائی دیتی ہے۔ چونکہ ہماری آنکھیں ایک دوسرے سے چند سینٹی میٹر کے فاصلے پر ہیں لہٰذا ہر آنکھ تھوڑی مختلف شبیہ دیکھتی ہے۔ ہمارا دماغ اضافی معلومات کااستعمال کرکے ان دونوں شبیہوں کو جوڑ کر ایک کر دیتا ہے اور ہمیں بتاتا ہے کہ چیزیں ہم سے کتنی دور یا پاس ہیں۔
11.2 نگاہ کی خامیاں اور ان کی تصحیح (Defects of Vision and their Correction)
(a) مائیوپیا (Myopia)

(b) ہائپر میٹروپیا (Hypermetropia)

(c) پرسبائیوپیا (Presbyopia)
سوالات
1۔ آنکھ کی مطابقت کی پاور کسے کہتے ہیں؟
2۔ مائیوپیا سے متاثرہ آنکھ والا شخص 1.2m فاصلہ کے بعد رکھی ہوئی اشیاکو واضح طور پر نہیں دیکھ سکتاہے۔ صحیح بصارت واپس لانے کے لیے اسے کس قسم کا تصحیحی لینس استعمال کرنے چاہیے؟
3۔ ایک عام بصارت والی انسانی آنکھ کا نزدیکی نقطہ اور دور نقطہ کیا ہوگا؟
4۔ ایک طالب علم کو سب سے پیچھے کی صف میں بیٹھ کر بلیک بورڈ کو پڑھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ بچہ کس طرح کے نقص کا شکار ہے؟ اس کی تصحیح کس طرح کی جاسکتی ہے؟
اِس پر غور کیجیے

سی – سبر
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہماری آنکھیں ہمارے مرنے کے بعد بھی زندہ رہتی ہیں؟ مرنے کے بعد اپنی آنکھیں عطیہ دے کر ہم ایک نابینا شخص کی زندگی کو روشن کرسکتے ہیں۔
اس وقت ترقی پذیر دنیا میں تقریباً 35 ملین انسان نابینا ہیں، اور ان میں سے زیادہ تر ٹھیک ہوسکتے ہیں۔ کارنیائی اندھے پن کے شکار تقریباً 4.5 ملین لوگوں کا علاج عطیہ کی گئی آنکھوں کی کورنیائی منتقلیکےذریعہ کیا جاسکتاہے۔ اِن 4.5 ملین میں سے ٪6 بچے ہیں جن کی عمر 12 سال سے کم ہے۔ اس لیے اگر ہمیں بصارت کا تحفہ ملا ہے تو کیوں نہ ہم اسے ایسے لوگوں کو دے کر جائیں جن کے پاس یہ نہیں ہے؟ آنکھیں عطیہ کرتے وقت وہ کون سی باتیں ہیں جنھیں ہمیں اپنے ذہن میں رکھناچاہیے؟
• آنکھوں کا عطیہ دینے والے افراد کسی بھی عمر اور جنس کے ہوسکتے ہیں۔ وہ لوگ جو چشمے پہنتے ہیں یا جن کا موتیا بند کا آپریشن ہوچکا ہو وہ بھی آنکھیں عطیہ دے سکتے ہیں۔ ایسے لوگ جنھیں ذیابیطس (Diabetese) ہے یا ہائپرٹینشن ہے یا پھر دمے کے مریض ہیں یا جنھیں کوئی چھوت کی بیماری نہیں ہے وہ بھی آنکھیں عطیہ دے سکتے ہیں۔
• آنکھیں موت کے 4-6 گھنٹوں کے اندر نکال لینی چاہئیں۔ اپنے نزدیک کے آئی بینک کو اطلاع کردینا چاہیے۔
• آئی بینک کی ٹیم متوفیگھر پر یا ہسپتال میں اس کی آنکھیں نکال لیتی ہے۔
• آنکھوں کو نکالنے میں صرف 10-15منٹ کا وقت لگتاہے۔ یہ بے حد آسان عمل ہے اور اس سے کسی طرح کی بد شکلی نہیں پیدا ہوتی۔
• وہ لوگ جو AIDS، ہیپیٹائٹس Bیا C، ریبیز، شدید لیوکیمیا، ٹٹنس، کالرا، دماغی بخار یا انسیفیلائٹس کے شکار ہوں یا جن کی موت ان بیماریوں کی وجہ سے ہوئی ہو آنکھیں عطیہ نہیں کرسکتے۔
آئی بینک عطیہ کی گئی آنکھیں جمع کرتاہے ان کی جانچ اور تقسیم کرتا ہے۔ سبھی عطیہ کی گئی آنکھوں کی جانچ کے لیے سخت طبی معیار کا استعمال کیا جاتاہے۔ عطیہ کی گئی وہ آنکھیں جو منتقلی کے لیے صحیح نہیں پائی جاتیں انہیں بیش قیمتی ریسرچ اور میڈیکل ایجوکیشن میں استعمال کیا جاتاہے۔ آنکھیں عطیہ دینے والے اور لینے والے دونوں کی شناخت مخفی رکھی جاتی ہے۔
ایک جوڑی آنکھیں چار کارنیائی نابینا لوگوں کو بصارت دے سکتی ہیں۔
11.3 پرزم کے ذریعہ روشنی کا انعطاف (Refraction of Light Through a Prism)
سرگرمی 11.1
• ایک ڈرائنگ بورڈ پر ڈرائنگ پنوں کی مدد سے سفید کاغذ کی شیٹ لگائیے۔
• اس کے اوپر کانچ کے پرزم کو اس طرح رکھیے کہ وہ مثلث نما اساس پر رہے۔ پرزم کے چاروں طرف پینسل کی مدد سے لائن کھینچیے۔
• ایک سیدھی لائن PE کھینچیے جو پرزم کی انعطافی سطح ABپر جھکی ہوئی ہو۔
• لائن PE کے نقطہ Pاور Q پر دو پنیں لگائیے جیساکہ شکل 11.4 میں دکھایاگیاہے۔
• P اور Q پر لگائی گئی پنوں کی شبیہ کو دوسرے رخ ACکے ذریعہ دیکھیے۔
• نقطہ R اور S پر دو اور پنیں اس طرح لگائیے کہ R اور S پر موجود پنیں اور P اور Q پر لگی پنوں کی شبیہ ایک ہی خط مستقیم پر موجود ہوں۔
• پنوں اور گلاس پرزم کو ہٹا لیجیے۔
• لائن PE پرزم کی سرحد کے نقطہ E پر ملتی ہے (شکل 11.4دیکھیے)۔
اسی طرح نقطہ R اور S کو ملائیے اور اسے آگے بڑھائیے۔ ان لائنوں کو پرزم کی سرحد E اور F پر بالترتیب ملنے دیجیے۔ E اور F کو ملائیے۔
• پرزم کے نقطوں E اور F پر بالترتیب انعطافی سطحوں ABاور AC پر عمود کھینچیے۔
• زاویہ وقوع
، انعطاف کے زاویے
اور نمود کے زاویہ
کو درج کیجیے۔ جیسا کہ شکل 11.4 میں دکھایا گیاہے۔

= PE وقوع شعاع = Ði زاویۂ وقوع
= EFمنعطف شعاع = Ðrزاویۂ انعطاف
= FS نمودی شعاع = Ðeنمودی زاویہ
= ÐA زاویۂ پرزم =ÐD زاویۂ انحراف
شکل 11.4 ایک مثلث نما گلاس پرزم کے ذریعہ ہونے والا روشنی کا انعطاف
11.4 گلاس پرزم کے ذریعہ سفید روشنی کا انکسار(Dispersion of White Light by a Glass Prism)
سرگرمی 11.2
• گتّے کی ایک موٹی شیٹ لیجیے اور اس کے بیچ میں ایک چھوٹا سوراخ یا پھر ایک پتلا شگاف بنائیے۔
• سورج کی روشنی کو پتلے شگاف پر پڑنے دیجیے۔ اسی سے سفید روشنی کا ایک پتلا بیم حاصل ہوتا ہے۔
• اب ایک گلاس پرزم لیجیے اور شگاف سے آنے والی روشنی کو اس کے ایک رخ پر گرنے دیجیے جیسا کہ شکل 11.5 میں دکھایا گیاہے۔
• پرزم کو دھیرے دھیرے اس وقت گھمائیے جب تک کہ اس میں سے آنے والی روشنی نزدیک کے پردہ پر نہ پہنچ جایے۔
• آپ نے کیا مشاہدہ کیا؟ آپ ایک خوبصورت رنگوں کی پٹّی حاصل کریں گے۔ ایسا کیوں ہوا؟




11.5 فضائی انعطاف (Atmospheric Refraction)
تاروں کا ٹمٹمانا (Twinkling of Stars)

شکل 11.9
فضائی انعطاف کی وجہ سے تارے کا ظاہری مقام
سورج کا پہلے طلوع اور دیر سے غروب ہونا (Advance sunrise and delayed sunset)

شکل 11.10
طلوع آفتاب اور غروب آفتاب فضائی انعطاف کا اثر
11.6 روشنی کا انتشار (Scattering of Light)
11.6.1 ٹنڈل اثر (Tyndall Effect)
11.6.2 صاف آسمان کا رنگ نیلا کیوں ہوتاہے؟
(Why is the Colour of the clear sky blue?)
11.6.3 طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت سورج
(Colour of the sun at sunrise and sunset)
سرگرمی 11.3
٭ سفید روشنی کے ایک طاقتور ذریعہ (s) کو ایک مرکوزی لینس (L1) کے فوکس پر رکھیے۔ یہ لینس روشنی کا ایک متوازی بیم فراہم کرتاہے۔
٭ روشنی کے بیم کو شیشہ کے ایک ایسے شفاف ٹینک (T) ہوکر گزرنے دیجیے۔
٭ روشنی کے بیم کو گتے کے بورڈ کے اندر بنے گول چھید (C) سے ہوکر گزرنے دیجیے۔ ایک دوسرے مرکوزی لینس (L2) کا استعمال کرکے پردہ (MN)پر دائری سوراخ کی واضح شبیہہ حاصل کیجیے، جیسا کہ شکل 11.11 میں دکھایا گیاہے۔
٭ تقریباً 200g سوڈیم تھایو سلفیٹ (ہائپو) کو ٹینک میں لیے گئے تقریباً 2L صاف پانی میں گھولیے۔ پانی میں تقریباً 1 سے 2 ملی لیٹر مرتکز سلفیورک تیزاب ملائیے۔ آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟

شکل 11.11
کولائڈی محلول میں روشنی کے انتشار کا مشاہدہ کرنے کے لیے آلات کی ترتیب

شکل 11.12
طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت سورج کا لال ہونا
آپ نے کیا سیکھا
• آنکھ کے ذریعہ اپنی فوکل لمبائی کو ترتیب دے کر نزدیک اور دور کی اشیاکو فوکس کرنے کی صلاحیت آنکھ کی مطابقتی پاور کہلاتی ہے۔
n وہ کمترین فاصلہ جہاں سے آنکھ اشیاکو واضح اور بغیر تنائو کے دیکھ سکتی ہے اسے آنکھ کا نزدیک نقطہ یا واضح بصارت کا کمترین فاصلہ کہتے ہیں۔ ایک عام بصارت والے بالغ فرد کے لیے یہ تقریباً 25cmہوتا ہے۔
• بصارت کے عام انعطافی نقص مائیوپیا، ہائپرمیٹروپیا اور پرسبائیوپیا ہیں۔ مائیوپیا (قریب نظری۔دور موجود اشیاکی شبیہہ کا ریٹینا کے آگے فوکس ہونا) کی تصحیح مناسب پاورکے مقعر لینس کے استعمال سے کی جاتی ہے۔ ہائپرمیٹروپیا (بعید نظری۔ نزدیک موجود اشیاکی شبیہہ ریٹینا سے دور فوکس ہوتی ہے) کی تصحیح مناسب پاور کے محدب لینس کے استعمال سے ہوتی ہے۔ بڑھاپے میں آنکھیں اپنی مطابقت کی پاور(Power of accomnodation) کھو دیتی ہیں۔
• سفید روشنی کا اپنے اجزائے ترکیبی رنگوں میں تقسیم ہوانکسار کہلاتا ہے۔
• آسمان کا نیلا رنگ نیز طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت سورج کے لال ہوجانے کی وجہ روشنی کا انتشارہے۔
مشقیں
1۔ انسان کی آنکھ، اپنے لینس کی فوکل لمبائی کو ترتیب میں لا کر مختلف فاصلوں پر موجود اشیاکو فوکس کرسکتی ہے۔اس کی وجہ ہے:
(a) پرسبائیوپیا
(b) مطابقت
(c) قریب نظری
(d) دور نظری
2۔ انسانی آنکھ کسی شیے کی شبیہ بناتی ہے:
(a) کورنیاپر
(b) آئرس پر
(c) پتلی پر
(d) ریٹینا پر
3۔ عام بصارت والے بالغ فرد کی واضح بصارت کا کم ترین فاصلہ تقریباًہے۔
a) 25cm (b) 2.5 cm (c) 25 cm (d) 2.5 cm)
4۔ آنکھ کے لینس کی فوکل لمبائی میں تبدیلی مندرجہ ذیل میں سے کس کی حرکت کی وجہ سے ہوتی ہے۔
(a) پتلی (b) ریٹینا (c) سیلیری عضلات (d) آئرس
5۔ ایک شخص کو اپنی دور کی بصارت کی تصحیح کے لیے -5.5 ڈائیوپٹر پاور کا لینس چاہیے۔ اپنی نزدیک کی بصارت کی تصحیح کے لیے اسے +1.5ڈائیوپیٹر کا لینس چاہیے۔ (i) دور نظری اور (ii) بعید نظری کی تصحیح کے لیے استعمال ہونے والے لینسوں کی فوکل لمبائی کتنی ہونی چاہیے۔
6۔ مائیوپیا سے متاثر شخص کا دور نقطہ اس کی آنکھ کے سامنے 80cmکے فاصلے پر ہے۔ اس نقص کی تصحیح کے لیے استعمال ہونے والے لینس کی نوعیت اور پاور کیا ہونی چاہیے۔
7۔ ہائپرمیٹروپیا کی تصحیح کو دکھانے کے لیے ایک شکل بنائیے۔ ہائپرمیٹروپیا سے متاثرہ آنکھ کا نزدیکی نقطہ 1mہے۔ اس نقص کی تصحیح کے لیے استعمال ہونے والے لینس کی پاور کیا ہوگی؟فرض کیجیے کہ عام آنکھ کا نزدیکی نقطہ 25cmہے۔
8۔ ایک صحت مند آنکھ 25cmسے کم فاصلے پر موجود شئے کو کیوں نہیں دیکھ پاتی ہے؟
9۔ جب ہم آنکھ سے شئے کا فاصلہ بڑھادیتے ہیںتو آنکھ میں شبیہہ کے فاصلے پر کیا اثر پڑتاہے؟
10۔ تارے کیوں ٹمٹماتے ہیں؟
11۔ سیارے کیوں نہیں ٹمٹماتے، سمجھائیے۔
12۔ صبح سویرے سورج لال کیوں نظر آتاہے؟
13۔ ایک خلا باز (Astronaute) کو آسمان نیلے رنگ کے بجائے سیاہ کیوں دکھائی دیتا ہے؟