Skip to content
Science Chapter-13

باب 13

برقی رو کے مقناطیسی اثرات Pic 1Capture13

(Magnetic Effects of Electric Current)

پچھلے باب ’برق‘میں ہم نے برقی رو کے حرارتی اثرات کا مطالعہ کیا۔ برقی رو کے دوسرے اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟ ہم جانتے ہیں کہ ایک کرنٹ بردار مقناطیس کی طرح کام کرتا ہے۔ آئیے اسے دیکھنے کے لیے ہم مندرجہ ذیل سرگرمی کرتے ہیں۔

picture 1
شکل 13.1
ایک دھاتی موصل سے برقی رو کو گزارنے پرقطب نما (کمپاس) کی سوئی میں انفراج پیدا ہوجاتاہے

سرگرمی 13.1

ایک سیدھا اور موٹا تانبہ کا تار لیجیے اور اسے ایک برقی سرکٹ میں نقطہ Xاور Yکے درمیان رکھیے، جیسا کہ شکل 13.1 میں دکھایا گیا ہے۔
اس تانبے کے تار کے نزدیک ایک چھوٹے سے قطب نما (کمپاس )کو رکھیے۔ اس کی سوئی کے مقام کو دیکھیے۔
پلگ میں کنجی ڈال کر سرکٹ سے کرنٹ کو گزاریے۔
قطب نما (کمپاس) کی سوئی کے مقام میں آنے والے فرق کا مشاہدہ کیجیے۔


ہم دیکھتے ہیں کہ سوئی میں انفراج (Deflection)ہوجاتا ہے۔ اس کا کیا مطلب؟اس کا مطلب ہے کہ تانبے کے تار سے ہوکر جانے والی برقی رو نے ایک مقناطیسی اثر پیدا کیا ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ بجلی اور مقناطیسیت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ تو پھر اس کے برعکس حرکت پذیر مقناطیس کے ممکنہ برقی اثر کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟ اس باب میں ہم مقناطیسی میدانوں اور برقی مقناطیسی اثرات کا مطالعہ کریں گے۔ ہم برقی مقناطیسوں نیز برقی موٹروں اور برقی جنریٹروں کا بھی مطالعہ کریں گے۔ جن میں برقی رو کا مقناطیسی اثراور مقناطیسوں کا برقی اثر شامل ہے۔

ہینس کرسٹیّن اور سٹیڈ (1777-1851) 

ہینس کرسٹیّن اور سٹیڈ 19ویں صدی کے بڑے سائنسدانوںمیں سے ایک تھے انھوںنے برقی مقناطیسیت (Electromagnetism)کو سمجھانے میں بہت اہم رول ادا کیا۔ 1820 میں انھوں نے اچانک یہ دریافت کیا کہ جب ایکقطب نما کو کرنٹ بردار دھاتی تارکے نزدیک رکھا جاتا ہے تو اس کی سوئی منفرج ہوجاتی ہے۔ اس مشاہدہ کے ذریعہ اور سٹیڈ نے یہ دکھایا کہ برق اور مقناطیسیت ایک دوسرے سے وابستہ مظہر ہیں۔ اس کی کھوج نے آگے چل کر ریڈیو، ٹیلی ویژن اور فائبر آپٹکس جیسی تکنیکوں کو فروغ دیا۔ مقناطیسی میدان کی قوت کی اکائی کو ان کے اعزاز میں اورسٹیڈ نام دیا گیا ہے۔

picture 2

13.1 مقناطیسی میدان اور میدانی خطوط (Magnetic Field and Field Lines)

ہم اس حقیقت سے واقف ہیں کہ کمپاس کو ایک چھڑ مقناطیس کے نزدیک لایا جاتا ہے تو اس کی سوئی میں انفراج پیدا ہوجاتا ہے۔ حقیقت میں کمپاس کی سوئی ایک چھوٹی چھڑ مقناطیس ہے۔ کمپاس کی سوئی کے سرے تقریباً شمال اور جنوب سمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ وہ سرا جس کا رخ شمال کی جانب ہوتا ہے، اسے شمالی قطب کہتے ہیں۔ دوسرا سرا جس کا رخ جنوب کی جانب ہوتا ہے جنوبی قطب کہتے ہیں۔ مختلف سرگرمیوں کے ذریعہ ہم نے دیکھا ہے کہ ایک جیسے قطب ایک دوسرے سے دور بھاگتے ہیں، جب کہ الگ الگ قطب ایک دوسرے کی طرف کشش رکھتے ہیں۔

سوالات

ایک کمپاس کی سوئی کو چھڑ مقناطیس کے نزدیک لانے پر اس میں انفراج کیوں پیدا ہوجاتاہے؟


سرگرمی 13.2 

  • ایک سفید کاغذ کی شیٹ کو گوند کے استعمال سے ڈرائٹنگ بورڈ پر چپکائیے۔
  • اس کے مرکز میں ایک چھڑ مقناطیس رکھیے۔
  • چھڑ مقناطیس کے چاروں طرف لوہے کے برادے کویکساں طور پرچھڑکیے (شکل13.2)۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے نمک دانی کا استعمال کرسکتے ہیں۔
  • اب بورڈ کو دھیرے دھیرے تھپتھپائیے۔
  • آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟


picture 3
شکل 13.2
چھڑ مقناطیس کے نزدیک موجود لوہے کا برادہ میدانی خطوط کے چاروں طرف اکٹھا ہوجاتا ہے
لوہے کا برادا اپنے آپ شکل13.2 میں دکھایا گیا انداز اختیار کرلیتا ہے۔ لوہے کا برادا اس طرح کا انداز کیوں اختیار کرلیتاہے؟ یہ نمونہ کس چیز کا مظاہرہ کرتا ہے؟ مقناطیس اپنے اطراف کے خطے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس وجہ سے لوہے کا برادا ایک طاقت کو محسوس کرتا ہے۔ اس قوت کی وجہ سے لوہے کا برادہ اس طرح کا انداز اختیار کرلیتا ہے۔ مقناطیس کے اطراف کاوہ خطہ جہاں مقناطیسی قوت کو محسوس کیاجاسکتا ہے، اسے مقناطیسی میدان(Magnetic Field) کہتے ہیں۔ لوہے کا برادا مقناطیس کے اطراف جن خطوط کی شکل اختیار کرتا ہے وہ مقناطیسی میدان خطوط کہلاتے ہیں۔
کیا چھڑ مقناطیس کے چاروں طرف مقناطیسی میدان خطوط حاصل کرنے کے دوسرے طریقے بھی ہیں؟ ہاں، آپ خود بھی چھڑ مقناطیس کے میدان خطوط کھینچ سکتے ہیں۔


سرگرمی 13.3

  • ایک چھوٹا قطب نما(کمپاس )اور چھڑ مقناطیس لیجیے۔
  • کاغذ کی شیٹ کو ڈرائنگ بورڈ پر چپکائیے اور اس پر چھڑ مقناطیس کو رکھیے۔
  • مقناطیس کے چاروں طرف نشان بنائیے۔ 
  • کمپاس کو مقناطیس کے شمالی قطب کے نزدیک رکھیے۔ وہ کس طرح کاطرز عمل ظاہرکرتا ہے؟ سوئی کا جنوبی قطب مقناطیس کے شمالی قطب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کمپاس کے شمالی قطب کو مقناطیس کے شمالی قطب سے دورہٹادیا جاتا ہے۔
  • سوئی کے دونوں سروں کے مقامات کی نشاندہی کیجیے۔
  • اب سوئی کو ایک نئے مقام پر اس طرح گھمائیے کہ جنوبی قطب وہ جگہ حاصل کر لے جس پر پہلے شمالی قطب  تھا۔
  • اس طرح سے قدم بہ قدم آگے بڑھیے جب تک کہ آپ مقناطیس کے جنوبی قطب تک نہ پہنچ جائیں جیسا کہ شکل 13.3 میں دکھایا گیا ہے۔
  • ایک منحنی بناتے ہوئے کاغذ پربنے ہوئے نقطوںکو جوڑیے۔ یہ منحنی (Curve)میدانی خط کی نمائندگی کرتا ہے۔
  • اوپر دیے ہوئے طریقے کو دہرائیے اور جتنی ہوسکے لائنیں بنائیے۔ آپ کو ہمیشہ شکل 13.4 میں دکھایا گیا نمونہ حاصل ہوگا۔ یہ خطوط مقناطیس کے چاروں طرف موجود مقناطیسی میدان کو ظاہر کرتے ہیں۔انھیں مقناطیسی میدان خطوط کہا جاتا ہے۔
  • جب آپ اسے میدانی خط کے ساتھ حرکت کراتے ہیںتوکمپاس کی سوئی میں انفراج کا مشاہدہ کیجیے۔ جیسے جیسے سوئی کو قطب کے نزدیک لے جایا جاتا ہے انفراج بڑھتا جاتا ہے۔

picture 4
شکل 13.3
قطب نماکمپاس سوئی کی مدد سے مقناطیسی میدان خط بنانا۔
picture 5
شکل 13.4
چھڑ مقناطیس کے چاروں طرف میدانی خطوط۔

مقناطیسی میدان ایک ایسی مقدار ہے جس میں سمت اورقدر دونوں ہوتے ہیں مقناطیسی میدان کی سمت ایسی لی جاتی ہے جس سمت میں کمپاس کی سوئی کا شمالی قطب اندر کی طرف گھوم جائے۔ اس لیے روایتی طور پر یہ اس طرح لی جاتی ہے کہ میدانی خطوط شمالی قطب سے نکل کر جنوبی قطب سے مل جاتے ہیں (شکل 13.4 میں میدانی خطوط پر بنے ہوئے تیر کے نشانوں پر غور کیجیے)۔مقناطیس کے اندر،میدانی خطوط کی سمت جنوبی قطب سے شمالی قطب کی طرف ہوتی ہے۔ اسی لیے مقناطیسی میدانی خطوط بند منحنی ہوتے ہیں۔
مقناطیسی میدان کی نسبتی طاقت، کومیدان خطوط کی قربت کی ڈگری کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے۔ جہاں بہت زیادہ میدانی خطوط ہیں وہاں کسی دوسرے مقناطیس کے قطب پر زیادہ قوت کام کرتی ہے یعنی وہاں میدان زیادہ طاقتور ہے(دیکھیے شکل 13.4)۔
کوئی بھی دو میدانی خطوط ایک دوسرے کوقطع نہیں کرتے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ نقطہ تقاطع پر کمپاس کی سوئی دومختلف سمتوں میں اشارہ کرے گی، جو کہ ممکن نہیں ہے۔

13.2 کرنٹ بردار موصل کی وجہ سے مقناطیسی میدان

(Magentic field Due to a Current-carrying conductor)

سرگرمی 13.1 میں ہم نے دیکھا کہ دھات کے موصل میں موجود برقی رو اس کے چاروں طرف مقناطیسی میدان پیدا کرتی ہے۔ پیدا شدہ میدان کی سمت کا پتہ لگانے کے لیے آئیے اس سرگرمی کو مندرجہ ذیل طریقے سے دہراتےہیں۔

سرگرمی 13.4

ایک لمبااور سیدھا تانبے کا تار، 1.5Vکے دو یا تین سیل او رپلگ کنجی لیجیے۔ ان سبھی کو آپس میں سلسلہ وار ترتیب میں منسلک کیجیے جیسا کہ شکل 13.5 (a) میں دکھایا گیا ہے۔
سیدھے تار کو قطب نما کے اوپر متوازی رکھیے۔
سرکٹ میں کنجی کو پلگ میں لگائیے۔
سوئی کے شمالی قطب پر انفراج کی سمت کا مشاہدہ کیجیے۔ اگر کرنٹ شمال سے جنوب کی طرف بہہ رہا ہے، جیسا کہ شکل 13.5 (a) میں دکھایا گیا ہے، تو کمپاس کی سوئی کا شمالی قطب مشرق کی طرف گھوم جائے گا۔
سرکٹ میں سیل کنکشن کو بدل دیجیے جیسا کہ شکل 13.5 (b) میں دکھایا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے تانبے کے تار میںکرنٹ کی سمت تبدیل ہوجائے گی جو کہ جنوب سے شمال کی طرف ہے۔
سوئی کے انفراج کی سمت میں تبدیلی کا مشاہدہ کیجیے۔ آپ دیکھیں گے کہ سوئی الٹی سمت میں گھومتی ہے، جو کہ مغرب کی طرف ہے (شکل 13.5 (b))۔ اس کا مطلب ہے کہ برقی کرنٹ کے ذریعہ پیدا ہونے والے مقناطیسی میدان کی سمت بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔

picture 6
شکل 13.5 ایک سادہ برقی سرکٹ جس میں ایک سیدھے تانبہ کے تار کو قطب نما کے اوپر متوازی رکھا گیا ہے۔ جب کرنٹ کی سمت کو تبدیل کر دیا جاتا ہے تو سوئی میں انفراج کی سمت بھی تبدیل ہوجاتی ہے۔

13.2.1 سیدھے موصل میں کرنٹ کی وجہ سے مقناطیسی میدان

(Magnetic Field due to a Current through a straight Conductor)

ایک موصل سے ہوکر بہنے والے کرنٹ کے ذریعہ پیدا ہونے والے مقناطیسی میدان کے پیٹرن کا تعین کون کرتا ہے؟ کیا یہ پیٹرن موصل کی شکل پر منحصر ہوتا ہے؟ ہم اسے ایک سرگرمی کے ذریعہ معلوم کرسکتے ہیں۔
سب سے پہلے ہم کرنٹ بردار سیدھے موصل کے چاروں طرف موجود مقناطیسی میدان کے ڈیزائن پر غور کرتے ہیں۔

سرگرمی 13.5

  • ایک بیٹری (12V)، ایک متغیر مزاحمت (یا ایک ریوسٹیٹ)، ایک امیٹر (0-5A) ، ایک پلک کنجی اور ایک لمبا موٹا سیدھا تانبہ کا تار لیجیے۔
  • موٹے تار کو مستطیلی کارڈ بورڈ کے مرکز میں مستوی کے عمودی پیوست کیجیے۔ دھیان رکھیے کہ کارڈ بورڈ ایک ہی جگہ پر قائم رہے اسے اپنی جگہ سے اوپر نیچے نہیں کھسکنا چاہیے۔
  • شکل 13.6 (a)  کے مطابق تانبے کے تار کوXاورYنقطوں کے درمیان سلسلہ وار ترتیب میں جوڑیے جس میں بیٹری، ایک پلگ اور کنجی ہوں۔
  • یکساں طو رپر پورے کارڈ بورڈ پر لوہے کا کچھ برادہ چھڑکیے ( اس کے لیے آپ نمک چھڑکنے والے برتن کا استعمال کرسکتے ہیں۔)
  • ریوسٹیٹ کے متغیر کو متعینہ مقام پر رکھیے اور امیٹر سے ہوکر گزرنے والے کرنٹ کو نوٹ کیجیے۔
  • کنجی کو بند کیجیے تاکہ تار سے کرنٹ بہہ سکے۔ اس بات کو یقینی بنائیے کہ X اور Y نقطوںکے درمیان رکھا ہوا تانبے کا تارعمودی حالت میں رہے۔
  • کارڈ بورڈ کو کئی مرتبہ دھیرے دھیرے تھپتھپائیے۔ لوہے کے برادے کے نمونے کا مشاہدہ کیجیے۔ آپ یہ دیکھیں گے کہ لوہے کا برادہ خود بخود تار کے گرد ہم مرکز دائروں کی شکل میںاکٹھا ہوجاتا ہے (شکل 13.6)۔
  • یہ ہم مرکز دائرے کیا ظاہر کرتے ہیں؟ یہ مقناطیسی میدان خطوط کو ظاہر کرتے ہیں۔
  • مقناطیسی میدان کی سمت کا پتہ کیسے لگایا جاتا ہے؟ دائرے کے اوپر ایک نقطہ  (فرض کیجیے p) پر کمپاس رکھیے۔ سوئی کی سمت کا مشاہدہ کیجیے۔ قطب نما کی سوئی کے شمالی قطب کی سمت سیدھے تارکے pنقطہ پر برقی کرنٹ کے ذریعہ بننے والے میدانی خطوط کی سمت بتاتی ہے۔ سمت کو ایک تیر کے ذریعہ دکھائیے۔
  • اگر سیدھے تانبے کے تار کے ذریعہ آنے والے کرنٹ کی سمت کو تبدیل کردیا جائے توکیا مقناطیسی میدانی خطوط کی سمت الٹی ہوجاتی ہے؟ پتہ کیجیے۔

picture 7
(a)
picture 8
شکل 13.6
(a)ہم مرکز دائروں کا نمونہ جو مقناطیسی میدان کے ان میدانی خطوط کو ظاہر کرتا ہے جو ایک سیدھے ایصالی تار کے چاروں طرف بنتے ہیں۔ دائرے کے اندر موجود تیر میدانی خطوط کی سمت کو دکھاتے ہیں۔(b) حاصل شدہ نمونے کی نزدیکی تصویر۔
ایک دیے ہوئے نقطہ پر رکھے گئے قطب نما کی سوئی کے انفراج پر کیا اثر پڑتا ہے اگر تانبے کے تار میں کرنٹ کی سمت تبدیل ہو جائے؟ اسے دیکھنے کے لیے تار میں کرنٹ کی سمت کو تبدیل کر دیجیے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سوئی کا انفراج بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک دیے ہوئے نقطہ پر پیدا ہونے والے مقناطیسی میدان کی قدر میں اس وقت اضافہ ہوجاتا ہے جب تار میں بہنے والے کرنٹ کی قدر کو بڑھا دیاجاتا ہے۔
اگرقطب نما کو تانبے کے تار سے ہٹا دیا جاتا ہے اور تار میں بہنے والا کرنٹ و ہی رہے تو قطب نما کی سوئی کے انفراج پر کیا اثر پڑتا ہے؟ اسے دیکھنے کے لیے، اب قطب نما( کمپاس )کو ایصالی تار سے سب سے دور والے نقطہ پر رکھیے (فرض کیجیے نقطہ Qپر)۔ آپ کن تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں؟ ہم دیکھتے ہیں کہ سوئی میں انفراج کم ہو جاتا ہے۔ اس طرح جیسے جیسے موصل سے دور جاتے ہیں موصل میں دیے ہوئے کرنٹ کے ذریعہ پیدا ہونے والامقناطیسی میدان گھٹتا جاتا ہے ۔ شکل 13.6سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جیسے جیسے ہم کرنٹ بردار موصول سے دور ہوجاتے جاتے ہیں میدانی خطوط کو ظاہر کرنے والے ہم مرکز دائرے وسیع ہوتے جاتے ہیں۔

13.2.2 دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کاکلیہ (Right-Hand Thumb Rule)

ایک کرنٹ بردارموصل سے وابستہ مقناطیسی میدان کی سمت پتہ کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے۔
فرض کیجیے آپ اپنے دائیں ہاتھ میں ایک کرنٹ بردار سیدھے موصل کو اس طرح پکڑے ہوئے ہیں کہ آپ کا انگوٹھا کرنٹ کی سمت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تب موصل کے گردلپٹی ہوئی انگلیاں مقناطیسی میدان کے میدانی خطوط کی سمت کا اظہار کریں گی جیسا کہ شکل 13.7میں دکھایا گیا ہے۔ اسے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کا کلیہ کہتے ہیں۔*
Pic8 Capture13
شکل 13.7
دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کا کلیہ

مثال 13.1

ایک اُفقی پاور لائن میں کرنٹ مشرق سے مغرب کی طرف بہتا ہے۔ اس کے ٹھیک اوپر اور نیچے موجود نقطوں پر مقناطیسی میدان کی سمت کیا ہوگی؟

حل

کرنٹ مشرق۔ مغرب کی سمت میں ہے۔ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے کلیہ کا استعمال کرنے پر ہم پاتے ہیں کہ تار کے نیچے موجود نقطہ پر مقناطیسی میدان کی سمت شمال سے جنوب کی طرف ہوگی۔ تار کے ٹھیک اوپر موجود نقطہ کے مقناطیسی میدان کی سمت جنوب سے شمال کی طرف ہوگی۔

سوالات

ایک چھڑ مقناطیس کے چاروں طرف مقناطیسی میدان بنائیے۔
مقناطیسی میدانی خطوط کی خصوصیات کی فہرست بنائیے۔
دو مقناطیسی میدانی خطوط ایک دوسرے کو قطع کیوں نہیں کرتے؟
* یہ کلیہ میکسویل کا کارک اسکریو کلیہ بھی کہلاتا ہے۔ اگر یہ سوچیں کہ ہم کس کارک اسکریو کو برقی رو کی سمت میں آگے بڑھارہے ہیں تو کارک اسکریو کے گھومنے کی سمت مقناطیسی میدان کی سمت ہوگی۔
Pic9 Capture13
شکل 13.8
کرنٹ بردار دائری لوپ کے ذریعہ پیدا ہونے والے میدان کے مقناطیسی میدان خطوط

13.2.3 دائری لوپ سے ہوکر بہنے والا کرنٹ کے ذریعہ پیدا ہونے والا مقناطیسی میدان

(Magnetic Field due to a Current through a circular loop)

اب تک ہم نے کرنٹ بردار سیدھے تار کے اطراف پیدا ہونے والے مقناطیسی میدانی خطوط کے پیٹرن کا مشاہدہ کیاہے۔ فرض کیجیے اس سیدھے تار کو ایک دائری لوپ کی شکل میں موڑ دیا جائے اور اس کے ذریعہ کرنٹ گزارا جائے تو مقناطیسی میدان کے خطوط کیسے دکھائی دیں گے؟ ہم جانتے ہیں کہ ایک سیدھے تار کے ذریعہ پیدا ہونے والا مقناطیسی میدان اس سے فاصلہ کے معکوس پر منحصر ہوتا ہے۔ اسی طرح جیسے جیسے ہم تار سے دور ہوتے جائیں گے کرنٹ بردار دائری لوپ کے ہر نقطہ کے چاروں طرف موجود مقناطیسی میدان کوظاہر کرنے والے ہم مرکز دائرے اور زیادہ بڑے ہوتے جائیں گے (شکل 13.8)۔ جب ہم دائری لوپ کے مرکز تک پہنچتے ہیں،ان بڑے دائروں کے قوس سیدھے خطوں کی طرح ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ کرنٹ بردار تار کا ہر نقطہ مقناطیسی میدان کو پیدا کرتا ہے جو لوپ کے مرکز میں سیدھی لائن کی طرح ظاہر ہوتا ہے۔ سیدھے ہاتھ کے کلیہ کو لگانے پر، اس بات کی جانچ آسانی سے کی جاسکتی ہے کہ تار کا ہر حصہ لوپ کے اندر ایک ہی سمت میں موجود مقناطیسی میدان خطوط میں تعاون کرتا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ ایک دیے ہوئے نقطہ پر کرنٹ بردار تار کے ذریعہ پیدا ہونے والا مقناطیسی میدان اس سے گزرنے والے کرنٹ پر براہ راست منحصر ہوتا ہے۔ اس لیے اگر ایک دائری کوائل جس میں nپھیرے ہیں تو پیدا ہونے والا میدان واحد پھیرے کے ذریعہ پیدا ہونے والے میدان سے nگنا بڑا ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر دائری پھیرے میں کرنٹ ایک ہی سمت میں ہے، اور ہر پھیرے کی وجہ سے پیدا ہونے والا میدان جمع ہوتاجاتا ہے۔
Pic10 Capture13
شکل 13.10
کرنٹ بردار سولی نوئڈ کے اطراف اور اس سے ہو کر جانے والے مقناطیسی میدان کے میدانی خطوط

سرگرمی 13.6

ایک مستطیلی کارڈ بورڈ لیجیے جس میں دو سوراخ ہوں۔ ان میں ایک دائری کوائل کو داخل کیجیے جس میں بہت سارے پھیرے ہوں ، یہ کارڈ بورڈ کے مستوی کے عمودی رہنے چاہئیں۔
کوائل کے سروں کو سلسلہ وار ترتیب میں ایک بیٹری، کنجی اور ریواسٹیٹ سے جوڑیے جیسا کہ شکل 13.9میں دکھایا گیا ہے۔
کارڈ بورڈ پر یکساں طو رپر لوہے کا برادا چھڑکیے۔
کارڈ بورڈ کو دھیرے دھیرے تھپتھپائیے، کارڈ بورڈ پر لوہے کے برادے کے ذریعہ بننے والے نمونہ پر غور کیجیے۔


13.2.4 سولی نوئڈ میں کرنٹ کے ذریعہ پیدا ہونے والا مقناطیسی میدان

(Magnetic Field due to a Current in a Solenoid)

ایک ایسی کوائل جسے محجوز تانبہ کے تار کو اسطوانی شکل میں لپیٹ کر بنایا گیا ہو سولی نوئڈکہلاتی ہے۔ایک کرنٹ بردار سولی نوئڈ کے چاروں طرف موجود مقناطیسی میدان کا موازنہ چھڑ مقناطیس (شکل 13.4) کے چاروں طرف کے مقناطیسی میدان سے کیجیے۔ کیا وہ ایک جیسے نظر آتے ہیں؟ ہاں یہ ایک جیسے ہیں۔ حتٰی حتیٰ کہ سولی نوئڈ (Solenoid) کا ایک سرا مقناطیسی شمال قطب، اور دوسرا جنوبی قطب کی طرح برتاؤ کرتا ہے۔ سولی نوئڈکے اندر میدانی خطوط متوازی سیدھی لائنوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔ یہ اشارہ کرتا ہے کہ سولی نوئڈ کے اندر سبھی نقطوں پر مقناطیسی میدان برابر ہوتے ہیں۔ یعنی سولی نوئڈ کے اندر میدان یکساں ہوتا ہے۔
Pic11 Capture13
شکل 13.11
ایک کرنٹ بردار سولی نوئڈ اپنے اندر موجوداسٹیل کی چھڑمیں مقناطیسیت پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جو برقی مقناطیس کہلاتا ہے۔
سولی نوئڈ کے اندر پیدا ہونے والے شدید مقناطیسی میدان کا استعمال مقناطیسی مادوں جیسے ملائم لوہے کے ٹکڑے میں اسے کوائل کے اندر رکھ کرمقناطیسیت پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔(شکل 13.11)۔ اس طرح حاصل ہونے والے مقناطیس کو برقی مقناطیس (Electromagnet)کہتے ہیں۔

سوالات

ایک دائری تار کے لوپ پر غور کیجیے جو میز کے مستوی پر ہے۔ گھڑی کی سمت میں اس میں سے کرنٹ گزرائیے۔ دائیں ہاتھ کے کلیہ کا استعمال کرکے لوپ کے اندر او رباہر مقناطیسی میدان کا پتہ لگائیے۔
کسی دی ہوئی جگہ پر مقناطیسی میدان یکساں ہے۔ اسے دکھانے کے لیے ڈائیگرام بنائیے۔
صحیح جواب کا انتخاب کیجیے
ایک کرنٹ بردار لمبے سیدھے سولی نوئڈ کے اندر مقناطیسی میدان ہوگا
(a) صفر۔
(b) جیسے جیسے ہم سرے کی طرف بڑھیں گے کم ہوتا جائے گا۔
(c) جیسے جیسے ہم سرے کی طرف بڑھیں گے بڑھے گا۔
(d) سبھی نقطوں پر یکساں رہے گا۔



13.3 مقناطیسی میدان میں کرنٹ بردار موصل پر لگنے والی قوت

(Force on a Current-Carrying Coductor in a Magnetic Field)

ہم نے پڑھا کہ ایک موصل سے گزرنے والا برقی کرنٹ مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے۔ اس طرح سے پیدا ہونے والا میدان موصل کے آس پاس رکھے ہوئے مقناطیس پر ایک قوت لگاتا ہے۔ فرانسیسی سائنس داں آندرے میری ایمپیر (1775-1836)نے یہ بتایا کہ مقناطیس بھی کرنٹ بردار موصل پر مساوی اور برعکس قوت لگائے گا۔ اس قوت کو مندرجہ ذیل سرگرمی کے ذریعہ ظاہر کرسکتے ہیں۔

سرگرمی 13.7

ایک چھوٹی ایلیومینیم کی چھڑ AB (تقریباً 5 cm) لیجیے۔ دو جوڑنے والے تاروں کی مدد سے اسے اسٹینڈ پر افقی طورپر لگائیے جیسا کہ شکل 13.12میں ہے۔
ایک طاقت ورنعل نما مقناطیس کواس طرح رکھیے کہ چھڑ دونوں قطبین کے درمیان آجائے جب کہ مقناطیسی میدان کی سمت اوپر کی طرف ہو۔اس کے لیے مقناطیس کے شمال قطب کو ایلومینیم چھڑ کے ٹھیک نیچے اور جنوب قطب کو ٹھیک اوپررکھیے۔
الیو مینیم کی چھڑ کو بیٹری، کنجی اور ریواسٹیسٹ سے سلسلہ وار ترتیب میں جوڑیے۔
اب ایلومینیم کی چھڑ کے سروں B سے Aکی طرف کرنٹ گزرایے۔
آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟ چھڑ بائیں طرف منتقل ہوتی ہے۔ آپ غور کریں گے کہ چھڑ میں انفراج پیدا ہوجاتاہے۔
چھڑ میں بہہ رہے کرنٹ کی سمت کو تبدیل کیجیے اور دیکھیے کہ اس کی منتقلی کی سمت پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اب یہ دائیں طرف ہوجاتی ہے۔ چھڑ منتقل کیوں ہوتی ہے؟
Pic12 Capture13
شکل 13.12:
کرنٹ بردار چھڑ AB، اپنی لمبائی اور مقناطیسی میدان کے عمودی ایک قوت محسوس کرتی ہے۔آسانی کے لیے یہاں مقناطیس کے سہارے کو نہیں دکھایا گیا ہے۔
اوپر کی سرگرمی میں چھڑ کی منتقلی یہ بتاتی ہے کہ کرنٹ بردار ایلومینیم کی چھڑ پراس وقت قوت لگائی جاتی ہے جب اسے مقناطیسی میدان میں رکھا جاتاہے۔ یہ اس بات کو بھی بتاتی ہے کہ قوت کی سمت اس وقت تبدیل ہوجاتی ہے جب موصل میں کرنٹ کی سمت کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ اب مقناطیس کے دونوں قطبین کو آپس میں بدل کر میدان کی سمت کو عرضی طورپر نیچے کی طرف کیجیے۔ ایک بار پھر سے یہ مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ کرنٹ بردار چھڑ پر لگنے والی قوت کی سمت بھی تبدیل ہوجاتی ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ موصل پر لگنے والی قوت کی سمت، کرنٹ کی سمت اور مقناطیسی میدان کی سمت پر منحصر ہوتی ہے۔ تجربات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ چھڑ کی منتقلی سب سے زیادہ اس وقت ہوتی ہے جب کرنٹ کی سمت، مقناطیسی میدان کی سمت سے زاویہ قائمہ پر ہوتی ہے۔ اس طرح کے حالات میں ہم ایک سادہ کلیہ کے استعمال سے موصل پر لگنے والی قوت کی سمت کو نکال سکتے ہیں۔
Pic13 Capture13
سرگرمی 13.7 میں ہم نے دیکھا کہ کرنٹ کی سمت میدان اور مقناطیسی میدان ایک دوسرے کے عمودی ہیںاور پایا کہ قوت ان دونوں کے عمودی ہے۔ یہ تین سمتیں ایک سادہ کلیہ کے ذریعہ واضح کی جاسکتی ہیں جسے فلیمنگ کا بائیں ہاتھ کا کلیہ کہتے ہیں۔ اس کلیہ کے مطابق، اپنے بائیں ہاتھ کے انگوٹھے، پہلی انگلی اور بیچ کی انگلی کو اس طرح پھیلائیں کہ وہ خود بہ خود ایک دوسرے کے عمودی ہوجائیں (شکل 13.13)۔ اگر پہلی انگلی مقناطیسی میدان کی سمت میں اور دوسری انگلی کرنٹ کی سمت میں اشارہ کرتی ہے تو انگوٹھا موصل پراثرانداز ہونے والی قوت یا اس کی حرکت کی سمت میں اشارہ کرتا ہے۔
وہ آلات جن میںکرنٹ بردار موصل اور مقناطیسی میدان استعمال کیے جاتے ہیں وہ ہیں، برقی موٹر، برقی جنریٹر، لائوڈ اسپیکر، مائکروفون اور برق پیمائشی آلات۔ آئندہ سیکشنوں میں ہم برقی موٹروں اور جنریٹر کے بارے میں پڑھیں گے۔

مثال 13.2

ایک الیکٹران کسی مقناطیسی میدان میں زاویہ قائمہ پر داخل ہوتا ہے، جیسا کہ شکل 13.14میں دکھایا گیا ہے۔ الیکٹران پر کام کرنے والی قوت کی سمت ہوگی۔
(a) داہنی طرف (b) بائیں طرف
(c) ورق سے باہرکی طرف (d) ورق سے اندرکی طرف 
                                                                                                                                                            picture 9

حل

صحیح جواب (d)ہے۔ قوت کی سمت، مقناطیسی میدان اور کرنٹ کی سمت کے عمودی ہوتی ہے جیسا کہ فلیمنگ کے بائیں ہاتھ کے کلیہ سے واضح ہے ۔ یاد کیجیے کہ کرنٹ کی سمت کو الیکٹرانوں کی حرکت کی معکوس سمت میں لیا جاتا ہے۔ اس لیے قوت ورق کے اندر کی طرف لگے گی۔


سوالات

مقناطیسی میدان میں پروٹان کی آزادانہ حرکت کرنے کے دوران مندرجہ ذیل میں سے اس کی کون سی خصوصیت تبدیل ہوسکتی ہے؟ (ایک سے زیادہ صحیح جواب ہوسکتے ہیں)
(a) کمیت (b) چال (c) رفتار (d) تحرک
سرگرمی 13.7میں چھڑ ABکے متحرک ہونے پر کیا اثر پڑے گا اگر (i)چھڑ AB کا کرنٹ بڑھا دیا جائے، (ii) ایک طاقتور نعل نما مقناطیس کااستعمال کیا جائے اور (iii)چھڑ ABکی لمبائی بڑھادی جائے؟
ایک مثبت چارج والا ذرّہ (الفا ذرّہ) جو مغرب کی طرف حرکت کررہا ہے، ایک مقناطیسی میدان کے ذریعہ شمال کی طرف منفرج ہوجاتا ہے۔ مقناطیسی میدان کی سمت ہوگی۔
(a) جنوب کی طرف (b) مشرق کی طرف
(c) نیچے کی طرف (d) اوپر کی طرف

مزید معلومات

ادویات میں مقناطیسیت (Megnetism in Medicine)

برقی رو ہمیشہ مقناطیسی میدان پیدا کرتی ہے۔ یہاں تک کہ کمزور آینی کرنٹ جو ہمارے جسم کے عصبی خلیوں میں متحرک رہتے ہیں مقناطیسی میدان پیدا کرتے ہیں۔ جب ہم کسی چیز کو چھوتے ہیں تو ہمارے اعصاب(Nerves) برقی ہیجان کو ان عضلات تک لے جاتے ہیں جنھیں ہمیں استعمال کرنا ہے۔ یہ ہیجان عارضی مقناطیسی میدان پیداکرتے ہیں۔ یہ میدان بہت کمزور ہوتے ہیں اس کی شدت زمین کے مقناطیسی میدان کے ایک کروڑویں حصہ کے برابرہوتی ہے۔انسان کے جسم دل اور دماغ دو ایسے اعضاہیں جہاں اس مقناطیسی میدان کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان کے جسم کے اندر موجود مقناطیسی میدان جسم کے مختلف حصوں کی شبیہ حاصل کرنے کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ایسا میگنیٹک ریزونینس امیجنگ (MRI) نام کی تکنیک کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ یہ شبیہیں (Images) بیماریوں کی پہچان میں مدد کرتی ہیں۔ اس طرح مقناطیسیت کو ادویات میں اہمیت حاصل ہے۔


13.4  برقی موٹر (Electric Motor) 

برقی موٹر ایک گردشی آلہ ہے جو برقی توانائی کو میکانیکی توانائی میں تبدیل کردیتا ہے۔ اس کا استعمال برقی پنکھوں، ریفریجریٹر، مکسر کپڑا دھونے کی مشینوں، کمپیوٹروں، MP3پلیئر وغیرہ میں ہوتاہے ۔ کیا آپ  جانتے ہیں کہ برقی موٹر کس طرح کام کرتاہیں؟
ایک برقی موٹر (جیسا کہ شکل  13.15میں دکھایا گیا ہے) میں ایک مستطیلی کوائل  ABCDہوتی ہے جومحجوز تانبے کے تار کی بنی ہوتی ہے۔ کوائل کو مقناطیسی میدان کے دو قطبین کے درمیان اس طرح رکھا جاتا ہے کہ بازو AB اور CD مقناطیسی میدان کی سمت کے عمودی ہوں۔ کوائل کے سرے ایک اسپلٹ رنگ کے دونصف حصوں pاورQسے جڑے ہوتے ہیں۔ ان حصوں کی اندرونی سطح محجوز ہوتی ہیں اور ایک دھری سے منسلک رہتی ہیں۔ بیرونی ایصالی کنارے، PاورQبالترتیب، دوساکن برشوں Xاور Yسے متصل رہتے ہیںجیسا کہ شکل 13.15میں دکھایا گیا ہے۔
picture 10
شکل 13.15 
ایک سادہ برقی موٹر

کوائل ABCD میں کرنٹ ماخذ بیٹری سے ایصالی برش Xکے ذریعہ داخل ہوتا ہے اور Y برش کے ذریعہ واپس بیٹری میں چلاجاتا ہے۔ غور کیجیے کہ کوائل کے AB بازومیں کرنٹ A سے B کی طرف بہتا ہے۔ اورCDبازومیں C سے Dکی طرف یعنی ABبازوکے کرنٹ کی سمت کے برعکس مقناطیسی میدان میں کرنٹ بردار موصل پر لگنے والی قوت کی سمت کے لیے فلیمنگ کے بائیں ہاتھ کا کلیہ استعمال کرنے پر (شکل 13.13 دیکھیے) ہم پاتے ہیں کہ ABبازو پر اثر انداز ہونے والی قوت اسے نیچے کی طرف کھینچتی ہے جب کہ CDبازو پر اثر انداز ہونے والی قوت اسے اوپر کی طرف دھکیلتی ہے۔ اس طرح کوائل اور دُھریO، ایک محور کے اوپر گھومنے کے لیے آزاد ہوجاتے ہیں، اور گھڑی کی الٹی سمت میں گھومتے ہیں۔ نصف گردش کے بعد Qبرش Xکے رابطہ میں اور Pبرش Yکے رابطہ میں آجاتا ہے۔ اس لیے کوائل میں بہنے والے کرنٹ کی سمت تبدیل ہوجاتی ہے اوریہ DCBA راستے پر بہنے لگتا ہے۔ ایک آلہ جو سرکٹ میں کرنٹ کے بہائو کی سمت کو تبدیل کر دیتا ہے کمیوٹیٹر(Commutator) کہلاتا ہے۔ برقی موٹروں میں اسپلٹ رنگ کمیوٹیٹر کے طو رپر کام کرتاہے۔ کرنٹ کی سمت تبدیل ہوجانے سے دونوں بازوئوںیعنی AB اور CDپر اثر انداز ہونے والی قوت کی سمت بھی تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس طرح کوائل کا بازوAB جو پہلے نیچے کی طرف تھا اب اوپر کی طرف حرکت کرے گا اور بازوCDجو پہلے اوپر تھا اب نیچے کی طرف حرکت کرے گا۔ اس طرح کوائل اسی سمت میں نصف مرتبہ گھومے گی۔ ہر نصف گردش کے بعد کرنٹ کی سمت بھی تبدیل ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے کوائل اور دھری کی حرکت مستقل بنی رہتی ہے۔
تجارتی موٹر میں (i)مستقل مقناطیس کی جگہ برقی مقناطیس(ii) کرنٹ بردارکوائل کے ایصالی تار میں بہت زیادہ تعدادمیںپھیرے (iii) ایک ملائم لوہے کا کور (core) جس پر کوائل لپٹی ہے، استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ ملائم لوہے کی کور جس پر کوائل لپٹی ہے اور کوائل دونوں کو مجموعی طور پر آرمیچر (Armature)کہتے ہیں۔ یہ موٹر کی قوت کو بڑھاتاہے۔


سوالات

فلیمنگ کے بائیں ہاتھ کے کلیہ کو بتائیے؟
برقی موٹر کا کیا اصول ہے؟
برقی موٹر میںاسپلٹ رِنگ کا کیاکام ہے؟

13.5 برقی مقناطیسی امالیت (Electro Magnetic Induction)

ہم نے دیکھا ہے کہ جب کو کرنٹ بردار موصل مقناطیسی میدان میں اس طرح رکھا جاتا ہے کہ کرنٹ کا رخ مقناطیسی میدان کے عمودی ہو تو، یہ ایک قوت کو محسوس کرتا ہے۔ یہ قوت موصل کوحرکت میںلے آتی ہے۔ اب ایک حالت کا تصور کیجیے جس میں ایک موصل مقناطیسی میدان کے اندر حرکت پذیرہو یا مقناطیسی میدان کسی مستقل موصل کے آس پاس تبدیل ہو رہا ہو۔ کیا ہوگا؟ اس کا مطالعہ سب سے پہلے ایک برطانوی ماہر طبیعات مائکل فیراڈے نے کیا۔ 1831ء میں فیراڈے نے ایک بہت بڑی کامیابی حاصل کی اور یہ دریافت کیا کہ کس طرح حرکت پذیر مقناطیس کا استعمال کرکے برقی کرنٹ پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اس اثر کا مشاہدہ کرنے کے لیے آئیے مندرجہ ذیل سرگرمی انجام دیتے ہیں۔

سرگرمی 13.8

ایک تار ABکی کوائل لیجیے جس میں بہت سارے پھیریں ہوں۔
کوائل کے سروں کو ایک گیلوینو میٹر سے جوڑدیجیے۔ جیسا کہ شکل 13.6 میں دکھایا گیا ہے۔
ایک مضبوط چھڑ مقناطیس لیجیے اور اس کے شمالی قطب کو کوائل کے Bسرے کی طرف حرکت کرائیے۔ کیا گیلوینو میٹر کی سوئی میں کوئی تبدیلی نظر آتی ہے۔
گیلوینو میٹر کی سوئی میں ایک فوری انفراج ہوتا ہے، مان لیجیے دائیں جانب۔ یہ کوائل AB میں کرنٹ کی موجودگی کو بتاتا ہے۔ جیسے ہی مقناطیس کی حرکت کوروک دیا جاتا ہے انفراج صفر ہوجاتا ہے۔
اب مقناطیس کے شمالی قطب کو کوائل سے دور ہٹائیے۔ اب گیلوینو میٹرمیں بائیں جانب انفراج ہوتا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب کرنٹ پہلے کے مقابلہ دوسری سمت میں بہنے لگاہے۔
◊مقناطیس کو کوائل کے قریب کسی نقطہ پر ساکن کردیجیے۔ اس کا شمالی قطب کوائل کے Bسرے کی طرف ہو۔ جب کوائل کو مقناطیس کے شمالی قطب کی طرف حرکت کرائی جاتی ہے تو گیلوینو میٹر کی سوئی دائیں جانب منفرج ہوتی۔ ہے
اسی طرح جب کوائل کو دور ہٹایا جاتا ہے توسوئی بائیں جانب حرکت کرتی ہے۔
  • جب کوائل کو مقناطیس کے مقابلہ ساکن رکھا جاتا ہے تو گیلوینو میٹر کا انفراج صفر ہوجاتا ہے۔ اس سرگرمی سے آپ کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔
Pic16 Capture13
شکل13.17
 جب کوائل 1-میں کرنٹ کو تبدیل کیا جاتا ہے تو کوائل 2-میں کرنٹ کی امالیت ہوتی ہے۔

گیلوینو میٹر ایک ایسا آلہ ہے جو کسی سرکٹ میں کرنٹ کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔(اسکیل کا مرکز) جب تک اس سے ہوکر صفر کرنٹ بہتا ہے پوائنٹر صفر پر بنا رہتا ہے ۔یہ یا تو صفر کے بائیں یا دائیں جانب منفرج ہو سکتا ہے جو اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ کرنٹ کی سمت کیا ہے۔
picture 14


آپ اس بات کی بھی جانچ کرسکتے ہیں کہ اگر آپ مقناطیس کے جنوبی قطب کو کوائل کے سرے B کی طرف حرکت دیتے ہیں تو، گیلوینو میٹر میں انفراج پہلے والے معاملہ کے بالکل برعکس ہوگا۔ جب کوائل اور مقناطیس دونوں ساکن ہوتے ہیں، گیلونیو میٹر کی کوائل میں کوئی انفراج نہیں ہوتاہے۔ اس سرگرمی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مقناطیس کی حرکت، ایک امالی مضمرفرق پیدا کرتی ہے، جو سرکٹ میں ایک امالی برقی کرنٹ پیدا کرتی ہے۔

مائکل فیراڈے (1791-1867) (Michal Faraday) 


مائکل فیراڈے ایک تجرباتی ماہر طبیعیات تھے۔انہوں نے کوئی رسمی تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ ابتدائی برسوں میں انھوں نے ایک جلد ساز کی دکان میں کام کیا۔ جو کتاب بائنڈنگ کے لیے آتی تھی اس کو وہ پڑھا کرتے تھے۔ اس طرح سے فیراڈے کو سائنس میں دلچسپی پیدا ہوگئی۔ انھیں رایل انسٹی ٹیوٹ کے، ہمفری ڈیوی کا ایک عوامی لیکچر سننے کا موقع ملا۔ انھوں نے ڈیوی کے لیکچر کا ایک نوٹ یاد کیا اور اسے ڈیوی کو بھیجا۔ جلدہی وہ رائل انسٹی ٹیوٹ ڈیو ی کی تجربہ گاہ میں ایک اسسٹینٹ (Assistant)  مقررہو گئے۔ فیراڈے نے کئی بڑی کھوجیںکیں جن میں برقی مقناطیسی امالیت اور برق پاشیدگی کا قانون شامل ہے۔ کئی یونیورسٹیوں نے انھیں اعزازی ڈگریاں دیں لیکن انھوں نے انھیں واپس کردیا۔ فیراڈے کو اعزاز سے زیادہ سائنسی کام سے محبت تھی۔
picture 11



آئیے اب سرگرمی 13.8کو دوسرے طریقے سے انجام دیں جس میں حرکت پذیر مقناطیس کی جگہ پر کرنٹ بردار کوائل کا استعمال کیا جاتا ہے اور کوائل میں بہنے والے کرنٹ کوتبدیل کیا جاسکتا ہے۔

سرگرمی 13.9

  • کاپر کے تار کی دو مختلف کوائلیں لیجیے جن میں پھیروں کی بہت زیادہ  تعداد ہو  (مان لیجیے بالترتیب 50 اور 100 پھیرے)۔ ان کو شکل 13.17 کی طرح ایک اسطوانی  رول کے اوپر چڑھائیے۔ (آپ اس کام کے لیے ایک موٹا پیپررول کا استعمال کرسکتے ہیں)۔
  • کوائل 1-کو جس میں زیادہ پھیرے ہیں، سلسلہ وار ترتیب میں ایک بیٹری اور ایک پلگ کنجی سے جوڑیے۔ دوسری کوائل2-کو ایک گیلوینو میٹر کے ساتھ جوڑیے جیسا کہ دکھایا گیا ہے
  • پلگ کو کنجی میں لگائیے۔ گیلوینو میٹر کا مشاہدہ کیجیے۔ کیا اس کی سوئی میں کوئی انفراج  (Deflection) نظر آتاہے؟ آپ مشاہدہ کریں گے کہ گیلوینو میٹر کی سوئی یکایک ایک طرف کود جاتی ہے اور فوراً اسی رفتار سے واپس صفر پر آجاتی 
  • ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کوائل 2-میں ایک لمحہ کے لیے کرنٹ پیدا ہوتاہے۔
  • کوائل 1- کو بیٹری سے الگ کردیجیے۔ آپ مشاہدہ کریں گے کہ سوئی میں ایک لمحہ کے لیے حرکت پیدا ہوتی ہے، لیکن برعکس سمت میں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کوائل 2-میں اب کرنٹ کا بہائو برعکس سمت میں ہے۔

picture 12
شکل13.17
 جب کوائل 1-میں کرنٹ کو تبدیل کیا جاتا ہے تو کوائل 2-میں کرنٹ کی امالیت ہوتی ہے۔

اس سرگرمی میں ہم یہ مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ جیسے ہی کوائل 1- میں کرنٹ کی قدر مستقل یا صفر پر پہنچتی ہے، کوائل2-میں گیلوینو میٹر کوئی انفراج نہیں دکھاتا۔
ان مشاہدات سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ جب کوائل 1- سے ہوکر بہنے والا کرنٹ تبدیل ہورہا ہے (شروع ہورہا ہے یا رک رہا ہے) تو کوائل 2-میں ایک مضمر فرق (Potential Difference) پیدا ہوتا ہے۔ کوائل 1-ابتدائی کوائل اور کوائل 2-ثانوی کوائل کہلاتی ہے۔ جیسے ہی پہلی کوائل میں کرنٹ تبدیل ہوتا ہے، اس سے منسلک مقناطیسی میدان بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سے ثانوی کوائل کے چاروں طرف مقناطیسی میدان خطوط بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔
اس لیے ثانوی کوائل سے منسلک مقناطیسی میدان خطوط میں تبدیلی کی وجہ اس میں امالی برقی کرنٹ ہے۔ وہ عمل جس کے ذریعہ کسی موصل میں متغیر مقناطیسی میدان دوسرے موصل میں کرنٹ کی امالیت کرتا ہے، اسے برقی مقناطیسی امالیت کہتے ہیں۔عملی طور پر ہم کسی کوائل میں کرنٹ کی امالیت یا تو اسے ایک مقناطیسی میدان میں حرکت دے کر یا اس کے اطراف کے مقناطیسی میدان کو تبدیل کرکے کرتے ہیں۔ زیادہ تر حالتوں میں کوائل کو مقناطیسی میدان میں حرکت کرانا آسان ہوتاہے۔
امالی کرنٹ اس وقت سب سے زیادہ ہوتا ہے جب کوائل کی حرکت کی سمت مقناطیسی میدان کے ساتھ زاویہ قائمہ پر ہوتی ہے۔ اس حالت میں ہم لوگ امالی کرنٹ کی سمت جاننے کے لیے ایک آسان کلیہ کا استعمال کرسکتے ہیں۔ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے،شہادت کی انگلی اوردرمیان کی انگلی کو اس طرح پھیلائیے کہ یہ ایک دوسرے کے عمودی ہوں، جیسا کہ شکل 13.18میں دکھایا گیا ہے۔ اگر شہادت کی انگلی مقناطیسی میدان کی سمت کو دکھاتی ہے اور انگوٹھا موصل کی حرکت کی سمت، تو درمیانی انگلی امالی کرنٹ کی سمت کو دکھائے گی۔ اس سادہ کلیہ کو فلیمنگ کے دائیں ہاتھ کا کلیہ (Fleming's Right-hand Rule) کہتے ہیں۔

picture 13
شکل13.18
فلیمنگ کے دائیں ہاتھ کا کلیہ

سوال

کسی کوائل میں کرنٹ کی امالیت کرنے کے لیے مختلف طریقوں کی وضاحت کیجیے؟

13.6 برقی جنریٹر (Electric Generater)

برقی مقناطیسی امالیت کے مظہر کی بنیادپر، جن تجربات کا ہن نے مطالعہ کیا ہے ان میں پیدا ہونے والے امالی کرنٹ کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔اس اصول کا استعمال کرکے گھر اور کار خانوں کے لیے بڑے پیمانہ پر بجلی بھی پیدا کی جاتی ہے۔
Pic21 Capture13
ایک برقی جنریٹر میں میکانیکی توانائی کے استعمال سے موصل کو ایک مقناطیسی میدان میں گھمایا جاتا ہے جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔
برقی جنریٹر، جیسا کہ شکل 13.19 میں دکھایا گیا ہے، ایک گردشی مستطیل نما کوائل ABCD پر مشتمل ہوتا ہے جو مستقل مقناطیس کے دونوں قطب کے درمیان رکھی ہوتا ہے۔ اس کوائل کے دونوں سرے دو چھلوں R1اور R2 سے جڑے ہوتے ہیں۔ دونوں چھلوں کے اندرونی حصے محجوز ہوتے ہیں۔ دو ساکن ایصالی برش B1اور B2 بالترتیب R1 اور R2 کے اوپر الگ الگ دبا کر رکھے ہوتے ہیں۔ دونوں چھلےR1 اورR2 اندرونی طو رپر ایک دھر سے جڑے ہوتے ہیں۔ دھری کو باہر سے میکانیکی طورپر گھمایا جاسکتا ہے تاکہ مقناطیسی میدان کے اندر کی کوائل گردش کرسکے۔ دونوں برشوں کے باہری سرے دیے گئے باہری سرکٹ میں کرنٹ کے بہائو کو ظاہر کرنے کے لیے گیلوینو میٹر سے جڑے ہوتے ہیں۔
دونوں چھلوں سے منسلک دھری کواس طرح گھمایا جاتا ہے کہ مستقل مقناطیں کے ذریعہ پیدا کیے گئے مقناطیسی میدان میں بازو AB اوپر اٹھتا ہے اور بازو CD نیچے آتا ہے۔ مان لیجیے کہ کوائل ABCD کو شکل 13.19 میں دکھائی گئی ترتیب میں گھڑی کی سمت میں گھمایا جاتا ہے۔ فلیمنگ کے دائیں ہاتھ کے کلیہ کا استعمال کرکے، امالی کرنٹ ان بازؤں میں ABاورCD کی سمت میں ہے۔ اس طرح سے امالی کرنٹ ABCD سمت میں بہتا ہے۔ اگر کوائل میں پھیروں کی تعداد زیادہ ہوتو ہر پھیرے میں پیدا ہونے والا کرنٹ یکجا ہو کر کوائل میں بہت زیادہ کرنٹ کی تشکیل کرتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ باہر سرکٹ میں کرنٹ کا بہائو B2 سے B1 کی جانب ہے۔
آدھی گردش کے بعد، بازو CD اوپر اٹھنا شروع ہوتا ہے اور بازو AB نیچے کی طرف آتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں دونوں بازوؤں میں امالی کرنٹ کی سمت تبدیل ہوجاتی ہے، اور یہ رخ DCBA میں کل کرنٹ کی امالیت کرتی ہے۔ باہری سرکٹ میں کرنٹ اب B1 سے B2کی طرف بہتا ہے۔ اس طرح سے ہر نصف گردش کے بعد کرنٹ کی قطبیت متعلقہ بازو میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس طرح کا کرنٹ جو یکساں وقفہ کے بعد اپنی سمت کو تبدیل کرلیتا ہے اسے متبادل کرنٹ (AC) کہتے ہیں۔ یہ آلہACجنریٹر کہلاتا ہے۔
ڈائریکٹ کرنٹ (DC، جو وقت کے ساتھ اپنی سمت کو تبدیل نہیں کرتا) حاصل کرنے کے لیے ایک اسپلٹ۔ رنگ (Split-ring)قسم کے کو میوٹیٹر کا استعمال ضروری ہے۔ اس انتظام میں، ایک برش میدان میں اوپر کی طرف حرکت کرنے والی بازو کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتا ہے، جب کہ دوسرا نیچے والے بازوکے رابطے میں رہتا ہے، ہم نے برقی موٹر کے معاملہ میں اسپلٹ۔رنگ کو میوٹیٹر کے کام کو دیکھا ہے (شکل13.15دیکھیے)۔ اس طرح اس سے یک سمتی کرنٹ پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ جنریٹر اسی لیے DCجینریٹر کہلاتا ہے۔
راست اور متبادل کرنٹ میں فرق یہ ہے کہ DCہمیشہ ایک ہی سمت میں بہتا ہے جب کہ ACاپنی سمت کو کسی خاص وقفہ کے بعد تبدیل کرلیتا ہے۔ زیادہ تر پاور اسٹیشن جو آج کل تیار ہورہیہیں وہ AC پیدا کرتے ہیں۔ ہندوستان میں ACاپنی سمت ہر 1/100سیکنڈمیں تبدیل کرتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ACکی سرعت 50HZہوتی ہے۔ DC کے مقابلے AC کا یہ فائدہ ہے کہ برقی پاور کو زیادہ فاصلوں تک زیادہ نقصان کے بغیرلے جایا جاسکتا ہے۔

سوالات

برقی جنریٹر کا اصول بتائیے۔
ڈائریکٹ (راست) کرنٹ کے کچھ ذرائع کے نام بتائیے۔
کون سے ذرائع متبادل کرنٹ پیدا کرتے ہیں؟
صحیح جو اب کا انتخاب کیجیے۔
کاپر کی ایک مستطیلی کوائل کو ایک مقناطیسی میدان میں گھمایا جاتا ہے۔ امالی کرنٹ کی سمت میں کتنے چکروں کے بعد تبدیلی آتی ہے؟
(a) دو (b) ایک
(c) نصف (d) ایک چوتھائی

13.7 گھریلو برقی سرکٹ (Domestic Electric Circuits)

ہم اپنے گھروں میں بجلی کی سپلائی ایک مین سپلائی کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں جو یا تو اوورہیڈ بجلی کے کھمبوں کے ذریعہ یا زمین کے اندر کیبل کے ذریعہ لائی جاتی ہے۔ ایک تار جو عموماً سرخ رنگ کے حاجز سے ڈھکا ہوتا ہے اسے لائیو(مثبت) تارکہتے ہیں۔ دوسرا تار جو کالے رنگ کے حاجز سے(Insulation) ڈھکا رہتا ہے اسے نیو ٹرل تار یا منفی تار کہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ان دونوں تاروں کے درمیان کا مضمر فرق 220Vہے۔
گھر کے میٹربورڈ میں، یہ تار مین فیوز سے ہوتے ہوئے ایک برقی میٹرمیں جاتے ہیں۔ مین سوئچ کے ذریعہ یہ گھر میں لائن وائر سے جڑے رہتے ہیں۔ یہ تار گھر کے اندر الگ الگ سرکٹ میں بجلی کی سپلائی کرتے ہیں۔ اس کے لیے اکثر دو علاحدہ سرکٹ استعمال میں لائے جاتے ہیں، ایک سرکٹ I5Aکرنٹ ریٹنگ کے زیادہ پاور ریٹنگ والے آلات مثلاً گیزر، ایر کولر وغیرہ کے لیے ہوتا ہے دوسرا سرکٹ بلب، پنکھا وغیرہ جیسے 5A کرنٹ ریٹنگ والے آلات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ارتھ کا تار ہرے رنگ کے حاجز سے ڈھکا ہوتا ہے اور زمین کے اندرپیوست ایک دھاتی پلیٹ سے منسلک ہوتا ہے۔ یہ ایک حفاظتی تدبیر کے طور پر استعمال کیا جاتاہے، خاص طور سے ان آلات کے لیے جو دھات کے بنے ہوتے ہیں جیسے پریس، ٹوسٹر، پنکھا، ریفریجریٹر وغیرہ۔ دھاتی جسم ارتھ وایر سے جڑا رہتا ہے جو کرنٹ کے لیے کم، مزاحمت کا ایصالی راستہ فراہم کرتا ہے۔ اس طرح سے اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اگر آلات کے دھاتی جسم سے برقی رو کا رسائو ہو جائے تو اس کا مضمر زمین کے جیسا بنا رہے اور استعمال کرنے والے کو بجلی کا جھٹکا نہیں لگے۔
شکل13.20 میں ایک عام گھریلو سرکٹ کا ڈائیگرام دکھایا گیا ہے۔ ہر علاحدہ سرکٹ میں مختلف آلات زندہ اورنیوٹرل تار سے ہوکر جوڑے جاسکتے ہیں۔ ہرایک آلے میں کرنٹ کے بہاؤ کو آن یا آف کرنے کے لیے علاحدہ سوئچہوتا ہے ہر ایک آلہ کو برابر مضمر فرق مہیا کرانے کے لیے انھیں ایک دوسرے کے متوازی جوڑا جاتا ہے۔
Pic22 Capture13
شکل 13.20 ایک عام گھریلو سرکٹ کا ڈائیگرام

برقی فیوز سبھی گھریلو سرکٹ کا ایک اہم جزو ہے۔ ہم فیوز کے اصول اور کام کرنے کے طریقہ کا مطالعہ گزشتہ باب میں کر چکے ہیں (دیکھیے سیکشن 12.7)۔ فیوزکسی سرکٹ میں آلات اور سرکٹ کو اوور لوڈنگ کے نقصان سے بچاتا ہے۔ اوورلوڈنگ اسی وقت ہوسکتی ہے جب لائیو تار اور نیوٹرل تار ایک دوسرے کے رابطے میں آجاتے ہیں۔ یہ تب ہوتا ہے جب تار کا حجز خراب ہوجاتا ہے یا پھر آلات میں کوئی خرابی ہوتی ہے )اس صورت میں، سرکٹ کے اندر کرنٹ اچانک بڑھ جاتا ہے۔ اسے شارٹ سرکٹنگ (Short-ciruiting) کہاجاتا ہے۔برقی فیوز کا استعمال برقی سرکٹ اور آلات کو نقصان سے بچاتا ہے چونکہ یہ اچانک بہت زیادہ برقی کرنٹ کے بہاؤکو روکتا ہے۔ فیوز میں جول ہیٹنگ (Joule heating) ہوتی ہے وہ اسے پگھلا کر برقی سرکٹ کو توڑ دیتی ہے۔ اچانک وولٹیج کی سپلائی کے بڑھ جانے سے بھی اوور لوڈنگ (Overloading) ہوتی ہے۔ کبھی کبھی بہت سارے برقی آلات کو ایک ساتھ جوڑ دینے پر بھی اوورلوڈنگ ہوجاتی ہے۔

سوالات

برقی سرکٹ اور آلات میں استعمال کیے جانے والی دو حفاظتی تدابیربتائیے۔
ایک 2kW برقی اوون ایک گھریلو برقی سرکٹ (220V)میں استعمال کی جاتی ہے جس کی کرنٹ ریٹنگ 5Aہے۔ آپ کس نتیجہ کی توقع کرتے ہیں؟ وضاحت کیجیے۔
گھریلو برقی سرکٹ کو اوورلوڈنگ سے بچانے کے لیے کیا احتیاط برتنی چاہیے؟

آپ نے کیا سیکھا

کمپاس سوائی ایک چھوٹا مقناطیس ہوتا ہے۔ اس کا ایک سرا شمال کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے شمالی قطب کہتے ہیں اور دوسرا سرا جنوب کی طرف اشارہ کرتا ہے اسے جنوبی قطب کہتے ہیں۔
کسی مقناطیس کے چاروں طرف ایک مقناطیسی میدان ہوتا ہے جس میں اس مقناطیس کی قوت کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔
کسی مقناطیسی میدان کو ظاہر کرنے کے لیے مقناطیسی میدان خطو ط کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مقناطیسی میدان خط وہ راستہ ہے جس کی سمت میں کوئی مفروضی آزاد شمالی قطب حرکت کرنے کا رجحان رکھتا ہے۔ مقناطیسی میدان کے کسی نقطہ پر میدان کی سمت اس نقطہ پر رکھے ہوئے شمالی قطب کی حرکت کی سمت کے ذریعہ ظاہر کی جاتی ہے جس جگہ مقناطیسی میدان قوی ہوتا ہے وہاں میدان خطوط ایک دوسرے کے نزدیک نظر آتے ہیں۔
کسی برقی رو کے حمال دھاتی تار سے ایک مقناطیسی میدان وابستہ ہوتا ہے۔ تار کے چاروں طرف میدان خطوط متعدد ہم مرکز دائروں کی شکل میں ہوتے ہیں جن کی سمت کا تعین دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے کلیہ کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔
برقی مقناطیس میں ملائم لوہے کی کور ہوتی ہے جس کے چاروں طرف برقی محجوز تانبہ کے تار کی کوائل لپٹی رہتی ہے۔
ایک برقی رو کا حمال موصل جب کسی مقناطیسی میدان میں رکھا جاتا ہے تو یہ ایک قوت محسوس کرتا ہے۔ اگر مقناطیسی میدان اور برقی رو کی سمت ایک دوسرے کے عمودی ہوں توموصل پر لگنے والی قوت کی سمت ان دونوں سمتوں کے عمودی ہوتی ہے، جسے فلیمنگ کے بائیں ہاتھ کے کلیہ کے ذریعہ حاصل کیاجاسکتا ہے۔ برقی موٹر ایک ایسا آلہ ہے جو برقی توانائی کو میکانیکی توانائی میں تبدیل کردیتا ہے۔
برقی مقناطیسی امالیت ایک ایسا مظہر ہے جس میں کسی کوائل میں، جو کسی ایسے میدان میں واقع ہے جہاں وقت کے ساتھ مقناطیسی میدان تبدیل ہوتا ہے، ایک امالی برق رو پیدا ہوتی ہے۔ مقناطیسی پیدان میںتبدیلی کسی مقناطیس اور اس کے نزدیک واقع کسی کوائل کے درمیان نسبتی حرکت کی وجہ سے ہوسکتی ہے۔ اگر کوائل کسی برقی رو کے حمال موصل کے نزدیک رکھی ہے تو کوائل سے وابستہ مقناطیسی میدان یا تو موصل میں گزرنے وای برقی رو میں فرق کی وجہ سے ہوسکتا ہے یا موصل اور کوائل کے درمیان نسبتی حرکت کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ امالی برقی رو کی سمت کا تعین فلیمنگ کے دائیں ہاتھ کے کلیہ کی مدد سے کیا جاسکتا ہے۔
برقی جنریٹر میکانیکی توانائی کو برقی توانائی میں تبدیل کردیتا ہے۔ یہ برقی مقناطیسی امالیت کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔
ہم اپنے گھروں میں ACبرقی پاور 220Vپر حاصل کرتے ہیں جس کی سرعت 50Hzہے۔ سپلائی کا ایک تار سرخ رنگ کے برقی حاجز پر مشتمل ہوتا ہے جسے زندہ تار کہتے ہیں۔ دوسرے تار پر سیارہ رنگ کا برقی حاجز موجود ہوتا ہے جسے نیوٹرل تار کہتے ہیں۔ ان دونوں تاروں کے درمیان 220Vکا مضمر فرق ہوتا ہے۔ تیسرا تار ارتھ وائر کہلاتا ہے جس کے اوپر ہرے رنگ کا حاجز موجود ہوتا ہے۔ یہ تار زمین کے اندر گہرائی میں دبی ہوئی دھاتی پلیٹ سے منسلک ہوتا ہے۔ یہ ایک حفاظتی طریقہ ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ دھاتی جسم میں اگر برقی رو کا رسائو ہوتا ہے تو استعمال کرنے والے شخص کو بجلی کا جھٹکا نہ لگے۔
برقی سرکٹ میں اوور لوڈنگ اور شارٹ سرکٹنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصان سے محفوظ رہنے کے لیے سب سے اہم آلہ فیوز ہے۔

مشقیں

مندرجہ ذیل میں سے کون کسی لمبی سیدھی تار کے قریب مقناطیسی میدان کی صحیح طریقہ سے وضاحت کرتا ہے۔
(a) میدان خطوط جو تار کے عمودی ہوتے ہیں ۔
(b) میدان خطوط جو تار کے متوازی ہوتے ہیں ۔
(c) تار سے نمود ہونے والے میدان خطوط جو کہ محوری ہوتے ہیں۔
(d) مقناطیسی میدان کے ہم مرکز خطوط کامرکز تار ہوتا ہے۔
برقی مقناطیسی امالیت کا مظہر ۔
(a) کسی جسم کو چارج کرنے کا عمل ہے۔
(b) کوائل میں بہہ رہے کرنٹ کی وجہ سے مقناطیسی میدان پیدا کرنے کا عمل ہے۔
(c) کسی مقناطیس اور ایک کوائل کے درمیان نسبتی حرکت کی وجہ سے کوائل میں امالی کرنٹ پیدا کرنے کا عمل ہے۔
(d) ایک برقی موٹر کی کوائل کو گھمانے کا عمل ہے۔
برقی کرنٹ پیدا کرنے والے آلہ کا نام ہے۔
(a) جنریٹر (c) امیٹر
(c) گیلوینو میٹر (d) موٹر
AC جنریٹر اور DC جنریٹر کے درمیان کا اہم فرق یہ ہے کہ
(a) AC جنریٹر میں ایک برقی مقناطیس ہوتا ہے جبکہ DC جنریٹر میں مستقل مقناطیس ہوتا ہے۔
(b) DC جنریٹر بہت زیادہ وولٹیج پیدا کرتا ہے۔
(c) AC جنریٹر بہت زیادہ وولٹیج پیدا کرتا ہے۔
(d) AC جنریٹر میں ایک سلپ رنگ ہوتی ہے جبکہ DC جنریٹر میں ایک کمیوٹیٹر ہوتا ہے۔
شارٹ سرکٹ کے وقت سرکٹ میں کرنٹ
(a) بہت زیادہ گھٹ جاتا ہے۔
(b) تبدیل نہیں ہوتاہے۔
(c) بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
(d) لگاتار بدلتا رہتا ہے۔
مندرجہ ذیل بیانات میں کون صحیح اور کون غلط ہیں۔
(a) برقی موٹر میکانیکی توانائی کو برقی توانائی میں تبدیلی کرتی ہے۔
(b) برقی جنریٹر برقی مقناطیسی امالیت کے اصول پر کام کرتا ہے۔
(c) کسی لمبی دائری کوائل (جس کے اندر کرنٹ بہہ رہا ہو)کے مرکز پر مقناطیسی میدان سیدھے متوازی خطوط کی شکل میں ہوگا۔
(d) ہرے انسولیشن والا تار برقی سپلائی کا زندہ تار ہوتاہے۔
مقناطیسی میدان کے کم از کم تین ذرائع بتائیے۔
ایک سولینائڈ مقناطیس کی طرح کیسے برتائو کرتا ہے؟ کیا آپ چھڑ مقناطیس کی مدد سے کرنٹ لے جارہے سولی نائڈ کے شمالی اور جنوبی قطب کا پتہ لگا سکتے ہیں؟ وضاحت کیجیے۔
کسی مقناطیسی میدان میں رکھے ہوئے برقی رو کے حمال موصل پر لگنے والی قوت کب سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
10۔ تصور کیجیے آپ ایک چیمبر میں اپنی پیٹھ دیوار سے لگاکر بیٹھے ہیں۔ ایک الیکٹران بیم آپ کے پیچھے کی دیوار سے آپ کے سامنے والی دیوار کی طرف افقی حرکت کر رہا ہے اور آپ کے دائیں جانب موجود قوی مقناطیسی میدان کے ذریعہ منفرج ہوجاتا ہے۔ مقناطیسی میدان کی سمت کیا ہے؟
11۔ برقی موٹر کا لیبل شدہ ڈائی گرام بنائیے اوراس کا اصول نیز کام کرنے کا طریقہ بیان کیجیے۔ برقی موٹر میں اسپلٹ رنگ کا کیا کام ہے؟
12۔ کچھ ایسے آلات کا نام بتائیے جن میں برقی موٹروں کا استعمال ہوتا ہے۔
13۔ ایک محجوز کاپر کے تارکی کوائل ایک گیلوینو میٹر سے منسلکہے۔ کیا ہوگا جب ایک چھڑ مقناطیس کو
(a) کوائل کے اندر داخل کیا جاتا ہے۔
(b) کوائل کے اندر سے واپس نکال لیا جاتا ہے۔
(c) کوائل کے اندر جامد حالت میں رکھا جاتا ہے۔
14۔ دو دائری کوائل A اور B ایک دوسرے کے قریب رکھی ہوئی ہیں۔ اگر کوائل A کا کرنٹ تبدیل کردیاجائے تو کیا کوائل Bمیں کرنٹ کی امالیت ہوگی؟ وجہ بتائیے۔
15۔ مندرجہ ذیل کی سمت کا تعین کرنے کے لیے کلیہ بیان کیجیے۔ سیدھے موصل کے اطراف پیدا ہونے والا مقناطیسی میدان (ii) اپنے عمودی مقناطیسی میدان میں رکھے ہوئے ایک برقی رو کے حمال سیدھے موصل پر اثر انداز ہونے والی قوت (iii) مقناطیس میدان میں گردش کی وجہ سے امالی کرنٹ۔
16۔ ایک لیبل شدہ ڈائی گرام بناکر برقی جنریٹر کے اصول اور کام کرنے کے طریقہ کی وضاحت کیجیے۔ برشوں کا کیا کام ہے؟
17 ۔ کوئی برقی سرکٹ شارٹ کب ہوتا ہے؟
18۔ ارتھ وایر کا کیا کام ہے؟ دھاتی آلات کو ارتھ کرنا کیوں ضروری ہے؟