Skip to content
Science Chapter-14

باب 14


Pic1 Capture14توانائی کے ذرائع

(Sources of Energy)

درجہ IX میں ہم نے مطالعہ کیا کہ طبیعی یا کیمیائی عملوں کے دوران کل توانائی برقرار رہتی ہے۔ پھر کیوں ہم توانائی کے بحران کے بارے میں اتنا سنتے رہتے ہیں؟ اگر توانائی کو نہ تو پیدا کیا جاسکتا ہے نہ ہی ضائع کیا جاسکتا ہے، تو ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں! ہم توانائی کے ذرائع کے بارے میں بنا سوچے بے شمار سرگرمیاں کرسکیں گے!
یہ پہیلی حل کی جاسکتی ہے اگر ہم وہ ساری باتیں یادکریں جو ہم نے توانائی کے بارے میں پڑھی ہیں۔ توانائی مختلف شکلوں میں ہوتی ہے اور ایک شکل کو دوسری شکل میں بدلا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ہم ایک پلیٹ کو اونچائی سے گرائیں تو پلیٹ کی مضمر توانائی اس کے زمین سے ٹکرانے پر زیادہ ترصوتی توانائی میں بدل جاتی ہے۔ اگر ہم ایک مو م بتی جلاتے ہیں تویہ عمل بے حد حرارت زا ہے جس میں جلنے پر موم کی کیمیائی توانائی حرارتی توانائی اور نوری توانائی میں بدل جاتی ہے۔ مو م بتی جلانے پر اور کون کون سی چیزیں حاصل ہوتی ہیں؟
کسی بھی طبیعی یا کیمیائی عمل کے دوران کل توانائی ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہے اگر ہم ایک جلتی ہوئی موم بتی پر دوبارہ غور کریں تو کیا ہم کسی بھی طرح تعامل کے دوران پیدا ہوئی حرارت اور روشنی کے ساتھ دوسرے ماحصلات کو پھر سے موم کی شکل میں کیمیائی توانائی کو دوبارہ حاصل کر لاسکتے ہیں؟
آئیے ہم ایک دوسری مثال پر غور کریں۔ ہم 100ml پانی لیتے ہیں جس کا درجۂ حرارت( 348K 75°C) ہے اور اسے ایک کمرے میں چھوڑدیتے ہیں جہاں کا درجۂ حرارت (298K25°C)ہے۔ کچھ دیر کے بعدکیا ہوگا؟ کیا کوئی ایسا راستہ ہے جس سے ہم ماحول میں منتقل ہوچکی ساری حرارت کو پھر سے جمع کرسکیں اور ٹھنڈے ہوچکے پانی کو پھر سے گرم کرسکیں؟
اس قسم کی کسی بھی مثال میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ استعمال کے قابل توانائی آس پاس کم استعمال کے قابل توانائی میں منتشر ہوجاتی ہے۔ اس لیے توانائی کا کوئی بھی ماخذ جسے ہم استعمال میں لاتے ہیں کسی کام کو کرنے میں خرچ ہو جاتاہے اور دوبارہ استعمال نہیں ہوسکتا۔

14.1 توانائی کا اچھا ذریعہ کیا ہے؟

 (What is a good source of energy?)

توانائی کا اچھا ذریعہ کسے کہا جاسکتا ہے؟ ہم اپنی روز مرّہ زندگی میں مختلف ذرائع سے توانائی حاصل کرکے اس کا استعمال کام کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اپنی ریل گاڑیوں کو چلانے کے لیے ہم ڈیزل کا استعمال کرتے ہیں۔ سڑکوں کے لیمپ جلانے کے لیے ہم بجلی کا استعمال کرتے ہیں۔ یا پھر اپنے عضلات میں موجود توانائی کا استعمال کرکے ہم سائیکل چلاتے ہیں اور اسکول جاتے ہیں۔

سرگرمی14.1

توانائی کی ایسی چار شکلوں کی فہرست بنائیے جن کا استعمال آپ صبح اٹھنے کے بعد سے اسکول پہنچنے تک کرتے ہیں۔
توانائی کی یہ مختلف شکلیں ہمیں کہاں سے ملتی ہیں؟
کیا ہم انھیں توانائی کا ذریعہ کہہ سکتے ہیں؟ کیوں یا کیوں نہیں؟


جسمانی کاموں کو کرنے کے لیے عضلاتی توانائی، مختلف برقی آلات کو چلانے کے لیے برقی توانائی، کھانا بنانے یاکوئی گاڑی چلانے کے لیے کیمیائی توانائی، یہ سبھی کسی نہ کسی ماخذ سے آتی ہیں۔ ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ توانائی کو قابل استعمال شکل میں حاصل کرنے کے لیے درکار ماخذ کا انتخاب کس طرح کیا جاتا ہے۔

سرگرمی 14.2

اس متعدد متبادلات پر غور کیجیے جو کھانا بنانے کے لیے ایندھن کا انتخاب کرتے وقت ہمارے پاس ہوتے ہیں۔
کسی ایندھن کو اچھے ایندھن کے زمرے میں رکھتے وقت آپ کن معیارات پر غور کریں گے۔
کیا آپ کا انتخاب کچھ مختلف ہوتا، اگر آپ رہتے۔
(a) ایک جنگل میں؟
(b) کسی دور دراز پہاڑی گاؤں یا چھوٹے جزیرہ پر؟
(c) نئی دہلی میں؟
(d) پانچ صدی پہلے ؟
ہر معاملے میں عوامل ایک دوسرے سے کس طرح مختلف ہیں؟

اوپر دی ہوئی دونوں سرگرمیوں سے گزرنے کے بعد ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کسی کام کو کرنے کے لیے ہم جس مخصوص توانائی کے ماخذ یا ایندھن کا انتخاب کرتے ہیں وہ مختلف عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایندھن کا انتخاب کرتے وقت ہمیں اپنے آپ سے مندرجہ ذیل سوالات پوچھنے چاہئیں۔
(i) جلنے پر وہ کتنی حرارت خارج کرتاہے؟
(ii) کیا وہ بہت زیادہ دھواں پیدا کرتا ہے؟
(iii) کیا وہ آسانی سے دستیاب ہو جاتاہے؟
کیا آپ ایندھن کے بارے میں پوچھے جانے والے مزید تین سوالوں کے بارے میںسوچ سکتے ہیں؟ آج کل کھانا بنانے کے لیے موجود ایندھنوں کی دی گئی فہرست میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے وقت وہ کون سے عوامل ہیں جو ہمارے انتخاب پر اثر ڈالتے ہیں ۔ کیا ایندھن کا انتخاب،کیے جانے والے کام پر بھی منحصر ہوتا ہے؟ مثال کے طور پر کیا ہم سردی کے موسم میں کھانا بنانے اور کمرہ گرم کرنے کے لیے علاحدہ علاحدہ ایندھن کا انتخاب کرتے ہیں؟
اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ توانائی کا ایک اچھاماخذ وہ ہوگاجو

جو فی اکائی حجم یا کمیت زیادہ کام کرسکے۔
جو آسانی سے حاصل ہوسکتا ہو۔
جس کی ذخیرہ اندوزی اور نقل و حمل آسان ہو۔
اور غالباً سب سے اہم بات یہ کہ وہ کفایتی ہو۔

سوالات

توانائی کا اچھا ذریعہ کیا ہے؟
ایک اچھا ایندھن کیا ہے؟
اگر آپ کو اپنا کھانا گرم کرنے کے لیے توانائی کا کوئی ذریعہ استعمال کرنا ہو تو آپ کس کا استعمال کریں گے اور کیوں؟

14.2 توانائی کے روایتی ماخذ

 (Conventional sources of energy)

14.2.1 رکازی ایندھن (Fossil Fuels)

قدیم زمانے میں لکڑی حرارتی توانائی کا سبب عام ذریعہ تھی۔ بہتے ہوئے پانی اورہوا کی توانائی بھی کچھ سرگرمیوں میں استعمال ہوتی تھی۔ کیا آپ اس میں سے کچھ استعمال کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟ توانائی کے ماخذ کے طور پر کوئلے کے استعمال نے صنعتی انقلاب کو ممکن بنایا۔ بڑھتے ہوئے صنعتی نظام کی وجہ سے پوری دنیا میں معیار زندگی بہتر ہوا ہے۔ اس نے عالمی توانائی کی مانگ کو بھی بے تحاشہ بڑھا دیا ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ زیادہ تررکازی ایندھنوںجیسے کوئلہ اور پیٹرولیم سے پوری ہوتی ہے۔ ہم نے ٹیکنالوجی کو بھی توانائی کے ان ہی ذرائع کا استعمال کرنے کے لیے فروغ دیاہے۔
لیکن یہ ایندھن لاکھوں سال پہلے بنے تھے اور یہ محدودوسائل ہیں۔ رکازی ایندھن توانائی کے ناقابل تجدید (non-renewable) ذرائع ہیں، اس لیے ہمیں ان کا تحفظ کرنا چاہیے۔ اگر ہم ان ذرائع کو اس طرح تیز رفتارکے ساتھ استعمال کریں گے تو جلد ہی ہمارے پاس توانائی کی قلت ہوجائے گی، اس سے بچنے کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کیے گئے۔ لیکن اپنی زیادہ تر توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہم اب بھی زیادہ  تر رکازی ایندھنوں پر ہی منحصر ہیں (شکل 14.1)۔
رکازی ایندھنوں کو جلانے کے دوسرے نقصانات بھی ہیں۔ درجہ IXمیں ہم نے کوئلے اور پیٹرولیم کے ماحصلات کو جلانے سے پیدا ہونے والی ہوائی آلودگی کے بارے میں پڑھا ہے۔ رکازی ایندھنوں کو جلانے سے خارج ہونے والے کاربن، نائٹروجن اور سلفر کے آکسائڈ تیزابی آکسائڈ ہوتے ہیں۔ یہ تیزابی بارش کی وجہ بنتے ہیں جو ہمارے آبی اور مٹی کے  وسائل پر اثر ڈالتی ہے۔ ہوائی آلودگی کے مسئلہ کے ساتھ ساتھ، کاربن ڈائی آکسائڈ جیسی گیسوں کی وجہ سے ہونے والے گرین ہائوس اثر کو بھی یاد کیجیے۔
کوئلہ 
پیٹرولیم اور قدرتی گیس
آبی تونائی
نیوکلیائی
ہوا

picture 1
شکل 14.1
پائی چارٹ: ہندوستان میں ہماری ضرورتوں کے لیے توانائی کے اہم ذرائع کو دکھاتاہوا۔

اس پر غور کیجیے

اگر ہمیں برقی سپلائی نہ ملے توہماری زندگیاں کس طرح بدل جائیں گی؟
کسی ملک میں ہر فرد کو برقی توانائی کی فراہمی اس ملک کی ترقی کی پیمائش کا پیرامیٹر ہے۔

احتراق کی صلاحیت کو بڑھا کر اور اطراف میں اور نقصان دہ گیسوں اور راکھ کے اخراج کو کم کرنے کی تکنیکیں استعمال کرکے رکازی ایندھنوں کے جلانے سے ہونے والی آلودگی کو کچھ حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ رکازی ایندھنوں کا استعمال گیس چولہوں اور گاڑیوں کے علاوہ، بجلی پیدا کرنے والے اہم ایندھن کے طورپر بھی ہوتا ہے، آئیے اب ہم اپنی کلاس میں چھوٹا سا پلانٹ بناکراس سے بجلی پیدا کریں اور دیکھیں کہ اپنی سب سے پسندیدہ توانائی پیدا کرنے کے لیے کیا کیا کرناپڑتاہے۔

سرگرمی 14.3

ایک ٹیبل ٹینس کی بال لیجیے اور اس میں تین جھریاں بنائیے۔
دھات کی چادر سے نصف(Ø) دائری پنکھڑیاں کاٹیے اور انھیں بال کی جھریوں میں لگائیے۔
دھات کا ایک سیدھا تار لے کر اسے گیندکے مرکزسے گذاریے اور تار کو دھری کے طور پر استعمال کرکے کسی سخت سہارے کی مدد سے فکس کردیجیے۔ اس بات کو یقینی بنائیے کہ گیند دھری پر آزادی کے ساتھ گھوم سکے۔
اب اس میں سائکل ڈائنمو جوڑ دیجیے۔
ایک بلب کو سلسلہ وار ترتیب میں جوڑیے۔
پانی کی دھار یا پریشر کوکر میں پیدا ہونے والی بھاپ کو ان پنکھڑیوں کے اوپر چھوڑیے (شکل 14.2)۔ آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟

بھاپ کا پائپ
ڈائمو
دھات کی چادر میں 
نصب کی ہوئی ٹینس بال
حرارت
پریشر کوکر
Pic3 Capture14

شکل 14.2 حرارتی بجلی کی پیداوار کے عمل کو دکھانے والا ماڈل

بجلی پیدا کرنے کے لیے یہ ہمارا ٹربائن ہے۔ سادہ ترین ٹربائنوں میں ایک گھومتا ہوا حصہ ہوتا ہے جسے روٹربلیڈ اسمبلی کہتے ہیں۔ گھومتا ہوا سیال بلیڈوں پر کام کرتا ہے اور انہیں گھما دیتا ہے اور روٹر کو توانائی دیتا ہے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ بنیادی طور پر پنکھے کو گھمانے کے لیے ہمیں روٹر بلیڈ کی ضرورت ہوتی ہے جس کی رفتار ایسی ہونی چاہیے کہ وہ ڈائنمو کی شافٹ کو گھما سکے اور میکانکی توانائی کو برقی توانائی میں تبدیل کرسکے۔ یہ توانائی کی وہ شکل ہے جو آج ایک ضرورت بن گئی ہے۔ ڈائنمو کی شافٹ کو گھمانے کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں لیکن کس طریقہ کا استعمال کیا جائے یہ وسائل کی دستیابی پر منحصر ہے۔ مندرجہ ذیل سیکشنوں میں ہم یہ دیکھیں گے کہ ٹربائن کو گھماکر بجلی پیدا کرنے کے لیے توانائی کے مختلف ذرائع کا کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔

14.2.2 تھرمل پاور پلانٹ(Thermal Power Plant)

بجلی گھروں میں روزانہ بڑی مقدار میں رکازی ایندھنوں کو جلا کر پانی گرم کرکے بھاپ بنائی جاتی ہے۔ یہ بھاپ ٹربائنوں کوچلاتی ہے جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔یکساں فاصلے کے لیے کوئلے اور پیٹرولیم کی نقل وحمل کے مقابلہ میں بجلی کی ترسیل زیادہ اثر آفریں ہوتی ہے۔ اس لیے زیادہ تر حرارتی بجلی گھروں کو کوئلے اور تیل کے ذخائر کے نزدیک لگایاجاتا ہے۔ یہاں تھرمل پاور پلانٹ اصطلاح کا استعمال اس لیے کیاگیا ہے کیونکہ ایندھن کو حرارتی توانائی پیدا کرنے کے لیے جلایا جاتا ہے یہاں تھرمل پاور پلانٹ اصطلاح کا استعمال اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ ایدھن کوحرارتی توانائی پیدا کے لیے جلایا جاتا ہے جسے برقی توانائی میں تبدیل کردیا جاتاہے۔

14.2.3 ہائڈرو پاور پلانٹ (Hydro Power Plants)

توانائی کا دوسرا روایتی ذریعہ بہتے پانی کی حرکی توانائی یا پھر اونچائی پر موجود پانی کی بالقوۃ(Potential) توانائی تھا۔ ہائڈرو پاور پلانٹ گرتے ہوئے پانی کی بالقوہ توانائی کو بجلی میں تبدیل کردیتے ہیں۔ کیونکہ ایسے بہت کم پانی کے جھرنے ہیں جنہیں بالقوہ توانائی کے ذریعہ کی طرح استعمال کیا جاسکتاہے، اس لیے ہائڈرو پاور پلانٹ کو ڈیم سے وابستہ کیاگیاہے۔ پچھلی صدی میں دنیا بھر میں بے شمار ڈیم بنائے گئے جیسا کہ شکل 14.1 میں دیکھا جاسکتا ہے کہ، ہندوستان میں ہماری توانائی کی کل ضرورت کا ایک چوتھائی حصہ آبی برقی پلانٹ سے پورا ہوتا ہے۔
آبی بجلی پیدا کرنے کے لیے، ندی پر اونچے ڈیم بنائے جاتے ہیں تاکہ پانی کے بہائو کو روکا جاسکے اور اس طرح سے پانی کا بڑا ذخیرہ جمع ہوسکے۔ پانی کی سطح بڑھ جاتی ہے اور اس عمل میں بہتے ہوئے پانی کی حرکی توانائی، بالقوہ توانائی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ ڈیم میں اونچائی پر موجود پانی کو پائپوں کے ذریعہ ڈیم کی تلی میں موجود ٹربائن تک لایا جاتاہے (شکل 14.3)۔ چونکہ پانی کے ذخائر بارش سے دوبارہ بھر جاتے ہیں (آبی برقی پاور توانائی کاقابل تجدیر ذریعہ ہے) اس لیے ہمیں ان آبی برقی توانائی کے ذرائع کے ختم ہوجانے کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے جیسا کہ رکازی ایندھنوں کے معاملے میں ہے کہ وہ ایک نہ ایک دن ضرور ختم ہوجائیں گے۔
لیکن بڑے ڈیم کی تعمیر میں کئی پریشانیاں آتی ہیں۔ ڈیم صرف کچھ محدود جگہوں پرہی بنائے جاسکتے ہیں، خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں۔کاشت کی زمین اور انسانی آبادی کے بڑے علاقے ڈیم کی تعمیر کی وجہ سے پانی میں ڈوب جاتے ہیں اور برباد ہوجاتے ہیں۔ ڈیم کے پانی میں ڈوب کر بڑے بڑے ماحولی نظام ضائع ہوجاتے ہیں۔ پانی میں ڈوبی ہوئی نباتات غیر ہوا باش حالات میں سڑ کر میتھین گیس پیدا کرتی ہے جو ایک گرین ہاؤس گیس ہے۔ اس کی وجہ سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی تسلی بخش باز آباد کاری کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ان مسائل کی وجہ سے ہی گنگا ندی پرٹہری ڈیم اور نرمدا ندی پر سردار سروور پروجیکٹ کی مخالفت کی جارہی ہے۔
برقی لائنیں
ذخیرہ
ندی
سلوئی گیٹ
ٹربائن
بجلی گھر جنریٹر
picture 2
شکل 14.3 ایک آبی برقی پلانٹ کی تصویر

14.2.4 توانائی کے روایتی ذرائع کو استعمال کرنے کے لیے تکنیکی سدھار

(Improvements in the technology for using conventional sources of energy)

حیاتیاتی مادہ(Bio-mass)

ہم نے پہلے یہ ذکر کیا ہے کہ لکڑی کا استعمال ایندھن کی شکل میں بہت زمانے سے ہوتا آرہا ہے۔ اگر ہم اس بات کو یقینی بنالیں کہ مناسب تعداد میں پیڑ لگائے جاتے رہیں گے تو جلانے کی لکڑی کی مسلسل فراہمی ممکن ہوسکتی ہے۔ آپ گائے کے گوبر کے اُپلوں کے ایندھن کی شکل میں استعمال سے واقف ہوں گے۔ ہندوستان میں مویشیوں کی بڑی آبادی ہونے کی بنا پر یہ ہمارے لیے ایندھن کا ایک مستحکم ذریعہ ہوسکتا ہے۔ چونکہ یہ ایندھن نباتات اور حیوانات کا ماحصل ہے اس لیے ان کے ذرائع کوحیاتیاتی مادہ (Bio-mass) کہا جاتاہے۔ جلانے پریہ ایندھن زیادہ حرارت پیدا نہیں کرتے اور جلانے کے دوران ان سے بہت زیادہ دھواں بھی نکلتا ہے۔ اس لیے ان ایندھنوں کی کارکردگی میں سدھارلانے کے لیے کچھ تکنیکی معلومات (technological inputs) کی ضرورت ہے۔ جب لکڑی کو آکسیجن کی محدود مقدار میں جلایا جاتاہے تو اس میں موجود پانی اورطیران پذیر چیزیں باہر نکل جاتی ہیں اور چار کول باقی رہ جاتا ہے۔ چارکول بغیر لو کے جلتا ہے، اس میں نسبتاً کم دھواں نکلتا ہے اور اس میں زیادہ حرارت پیدا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
اسی طرح گائے کا گوبر، مختلف نباتاتی اشیا جیسے فصل کے باقیات، سبزیوں کے باقیات اور سیویج آکسیجن کی غیر موجودگی میں تحلیل ہو کربایو گیس(Biogas) بناتے ہیں۔ چونکہ ابتدائی شئے خصوصاً گائے کا گوبر ہے، اس لیے اسے عام طور پر ’گوبر گیس‘ کے نام سے جانا جاتاہے۔ بایو گیس ایک پلانٹ میں تیار کی جاتی ہے جسے شکل 14.4 میں دکھایا گیا ہے۔
اس پلانٹ کی گنبد جیسی ساخت ہوتی ہے جسے اینٹوںسے بنایا جاتا ہے۔ گائے کے گوبر اور پانی کے آمیزہ کو ایک ٹینک میں ملایا جاتا ہے جہاں سے اسے ڈائی جیسٹر میں داخل کرادیتے ہیں۔ ڈائی جیسٹر ایک بندچیمبرہوتا ہے جہاں آکسیجن نہیں ہوتی۔ غیر ہواباش خرد عضویے جنھیں آکسیجن کی ضرورت نہیں ہوتی گائے کے گوبر کی سلری کے پیچیدہ اجزا کی تحلیل کردیتے ہیں یا انہیں توڑ دیتے ہیں۔ تحلیل کے عمل کو مکمل ہونے میں کچھ دن لگتے ہیں اور تحلیل کا عمل پورا ہونے کے بعد میتھین، کاربن ڈائی آکسائڈ، ہائڈروجن اور ہائڈروجن سلفائڈ جیسی گیسیں پیدا ہوتی ہیں۔ بایو گیس کو ڈائی جیسٹر کے اوپر موجود گیس کو ٹینک میں جمع کرلیا جاتاہے یہاں سے بایو گیس کو استعمال کے لیے پائپوں کے ذریعہ باہر نکال لیا جاتا ہے ۔
گیس نکاسی 
کھاد
فرٹیلائزر
نکاسی
ڈائی جیسٹر 
مٹی
گیس ٹینک
مٹی رقیق گوبر
picture 3
شکل 14.4 بایوگیس پلانٹ کا ڈائی گرام

بایو گیس ایک بہترین ایندھن ہے کیونکہ اس میں تقریباً 75% میتھین ہوتی ہے۔ یہ بغیر دھوئیں کے جلتی ہے نیز لکڑی، چارکول اور کوئلے کی طرح جلنے پر راکھ بھی نہیں پیدا کرتی۔ اس کی حرارتی صلاحیت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ بایو گیس روشنی کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ بایو گیس پلانٹ میں باقی بچی سلری کو وقتاً فوقتاً باہر نکالتے رہتے ہیں۔ اور یہ ایک بہترین کھاد (manure) کی طرح استعمال ہوتی ہے۔ اس میں نائٹروجن اور فاسفورس کی اچھی مقدار ہوتی ہے۔اس طرح حیاتیاتی فضلہ اور سیوج کے استعمال سے بایو گیس بنانا توانائی اور کھاد کی فراہمی کے علاوہ فضلے کو تلف کرنے کا ایک محفوظ ا ور کارگر طریقہ بھی ہے ۔ حیاتیاتی مادہ توانائی کا قابل تجدید ذریعہ ہے۔ کیا آپ کی بھی یہی رائے ہے؟

ہوائی توانائی (Wind Energy)

ہم نے درجہ IX میں پڑھا کہ کس طرح سورج کے اشعاع کی وجہ سے زمین اور آبی ذخائر کا گرم ہونا ہوائوں میں حرکت کرتا ہے اور ہوائوں کے چلنے کا سبب بنتا ہے۔ ہوا کی یہ حرکی توانائی کام کرنے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔ ماضی میںیہ توانائی ہوائی چکیوں کے ذریعہ میکانیکی کام کرنے میں استعمال کی جاتی تھی۔ مثال کے طور پر پانی کھینچنے والے پمپ میں ہوائی چکی کی گردشی حرکت کا استعمال کنوئوں سے پانی کھینچنے کے لیے ہوتا تھا۔ آج ہوائی توانائی کا استعمال بجلی بنانے کے لیے بھی ہوتا ہے۔ ایک ہوائی چکی کی ساخت بڑے بجلی کے پنکھے کی طرح ہوتی ہے جو ایک ٹھوس سہارے کی مدد سے کچھ اونچائی پر سیدھا کھڑا کردیا جاتاہے (شکل14.5)۔
بجلی پیدا کرنے کے لیے ہوائی چکی کی گردشی حرکت کا استعمال برقی جنریٹر کے ٹربائن کو گھمانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ایک واحد ہوائی چکی کی توانائی بہت کم ہوتی ہے اور اسے صنعتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے بہت ساری ہوائی چکیوں کو ایک بڑے علاقہ میںنصب کیا جاتاہے، جسے ونڈ انرجی فارم (Wind Energy Farm)  کہتے ہیں۔فارم میں موجود ہر ایک ہوائی چکی سے برآمد توانائی کو ایک ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے جس سے تجارتی پیمانے پر بجلی پیدا کی جاسکے۔
picture 4
شکل 14.5 ہوائی چکی
ہوائی توانائی قابلِ تجدید توانائی کا ایک ماحول دوست اور کارگر ذریعہ ہے۔ بجلی کی پیداوار کے لیے اس میں کسی طرح کے بہت زیادہ خرچ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ لیکن ہوائی توانائی کے استعمال کی کئی حدود ہیں۔ سب سے پہلی تو یہ کہ ہوائی توانائی کے فارم ان ہی جگہوں پر لگائے جاسکتے ہیں جہاں سال کے بیش تر حصہ میں ہوائیں چلتی ہوں۔

کیا آپ جانتے ہیں

ڈنمارک کو ہواؤں کا دیش کہا جاتا ہے۔ ان کی25%سے زیادہ بجلی کی ضرورت کوبہت بڑی بڑی ہوائی چکیوں کے نیٹ ورک کے ذریعہ پورا کیا جاتاہے۔ کل پیداوار کے لحاظ سے جرمنی سب سے آگے ہے، جبکہ ہندوستان بجلی پیدا کرنے کے لیے ہوائی توانائی کا استعمال کرنے والوں میں پانچویں نمبر پر ہے۔ ایسا اندازہ ہے کہ اگر ہندوستان اپنی پوری قوت سے ہوائی توانائی کا استعمال کرے تو تقریباً 45,000MW برقی پاور پیدا کی جاسکتی ہے۔ سب سے بڑا ونڈ انرجی فارم کنیاکماری (جو تمل ناڈو میں ہے) لگایا گیاہے یہ 380MW بجلی پیدا کرتا ہے۔

ہوا کی رفتار بھی 15Km/h سے زیادہ ہونی چاہیے تاکہ ٹربائن کی مطلوبہ رفتار کو قائم رکھا جاسکے۔ اس کے علاوہ، کچھ بیک اپ کی بھی سہولت (مثلاً سٹوریج سیل) ہونی چاہیے تاکہ اس وقت جب ہوا نہ چل رہی ہو توانائی کی ضرورت کو پورا کیاجاسکے۔ ہوائی توانائی کے فارم تیار کرنے کے لیے زمین کا بڑا علاقہ درکار ہوتاہے۔ 1MW کے جنریٹر کے فارم کے لیے تقریباً 2ہیکٹیر زمین چاہیے۔ فارم قائم کرنے کی ابتدائی لاگت بھی کافی زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، چونکہ ٹاور اور پنکھے بارش، سورج، آندھی اور طوفان وغیرہ جیسے قدرتی نظاموں کے رابطے میں رہتے ہیں اس لیے انہیں بڑے پیمانے پر رکھ رکھائو کیـ ضرورت ہوتی ہے۔

سوالات

رکازی ایندھن کے کیا نقصانات ہیں؟
ہم توانائی کے متبادل ذرائع کیوںتلاش کر رہے ہیں؟
ہماری سہولت کے لیے ہوائی اور آبی توانائی کے روایتی استعمال میں کس طرح سدھارلایا گیاہے؟

14.3 توانائی کے متبادل یا غیر روایتی ذرائع

(Alternative or non-conventional sources of energy)

تکنیکی ترقی کے ساتھ ہماری توانائی کی ضرورت دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔ ہمارا طرزِ زندگی بھی بدل رہا ہے ہم اپنے کاموں کو پورا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مشینوں کا استعمال کر رہے ہیں۔جیسے جیسے صنعت کاری ہورہی ہے ہماری بنیادی ضرورتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔

سرگرمی 14.4

اپنے دادا دادی یا دیگر بزرگ افراد سے مندرجہ ذیل معلومات حاصل کیجیے۔
(a) وہ اسکول کیسے جاتے تھے؟
(b) جب وہ چھوٹے تھے تو وہ اپنی روز مرّہ کی ضرورتوں کے لیے پانی کیسے حاصل کرتے تھے ؟
(c) تفریح کے کون سے ذرائع کا استعمال کرتے تھے؟
مذکورہ بالا سوالوں کے جوابات کا موازنہ آپ اپنے آپ سے کیجیے کہ آپ یہ سارے کام کیسے کرتے ہیں۔
کیا ان میں کوئی فرق ہے؟ اگر ہاں تو کس حالت میںبیرونی مآخذ سے زیادہ توانائی کا استعمال ہوتا ہے؟



چونکہ ہماری توانائی کی مانگ بڑھ رہی ہے، اس لیے ہم زیادہ سے زیادہ توانائی کے ذرائع کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہم دستیاب یا معلوم توانائی کے ذرائع کو زیادہ کارگر طریقے سے استعمال کرنے کی تکنیکیں تیار کر رہے ہیں اور ساتھ ہی نئے توانائی کے ذرائع بھی تلاش کیے جارہے ہیں۔ کسی نئے توانائی کے ذریعہ کو استعمال کرنے کے لیے اس سے وابستہ خصوصی آلات کو بھی بنانا پڑتا ہے۔ آئیے اب ہم توانائی کے کچھ جدید ذرائع پر نظر ڈالیں جن سے ہم تکنیکیں ڈیزائن کرکے توانائی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اسے ذخیرہ کرکے بھی رکھنا چاہتے ہیں۔

اس پر غور کیجیے

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنے آباء واجداد کی طرح رہنا شروع کردیں تو ہم توانائی اور ماحولیاتی نظام کا تحفظ کر پائیں گے۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ یہ خیال کارآمد ہوگا؟

14.3.1 شمسی توانائی (Solar Energy)

سورج تقریباً 5بلین سال سے لگاتار موجودہ شرح سے زبردست مقدار میں توانائی کا اشعاع کررہا ہے اورآئندہ 5بلین سال تک ایسا کرنا جاری رکھے گا۔ شمسی توانائی کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہی زمین کے کردہ باد کی باہری سطح تک پہنچ پاتا ہے۔ اس کا تقریباً آدھا حصہ کرہ باد سے گزرتے وقت جذب کرلیا جاتاہے اور باقی ماندہ حصہ ہی زمین کی سطح تک پہنچ پاتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں

یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہندوستان میں سال کے زیادہ تر وقفہ میں شمسی توانائی حاصل ہوتیہے۔ یہ حساب لگایا گیا ہے کہ ہر سال ہندوستان 5000 ٹریلین kWh سے بھی زیادہ توانائی حاصل کرتا ہے۔ جب آسمان صاف ہوتا ہے تو یومیہ اوسط 4سے7کلو واٹ گھنٹہ فی مربع میٹر (4-7 kwh/m2) رہتا ہے۔زمین کی اس فضا کے بیرونی حصے پر جو عمودی طور پر سورج کی شعاعوں کے سامنے ہے سورج اور زمین کے درمیان کے اوسط فاصلہ پر فی اکائی رقبہ پر پہنچے والی سورج کی توانائی کو شمسی مستقلہ(Solar Constant) کہتے ہیں۔ حساب لگایا گیا ہے کہ یہ تقریباً 1.4KJ فی سیکنڈ فی مربع میٹر یا 1.4KW/m2 ہوتا ہے۔

سرگرمی 14.5

دو مخروطی فلاسک لیجیے، ایک پر سفید اور دوسرے پر سیاہ پینٹ کیجیے۔دونوں کو پانی سے بھردیجیے۔
مخروطی فلاسک کو آدھے سے ایک گھنٹے کے لیے براہِ راست سورج کی روشنی میں رکھ دیجیے۔
مخروطی فلاسک کو چھوئیں۔ کون سافلاسک زیادہ گرم ہے، آپ دونوں مخروطی فلاسک میں موجود پانی کے درجۂ حرارت کو تھرما میٹر کی مدد سے بھی ناپ سکتے ہیں۔
کیا آپ کچھ ایسے طریقوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جن میں اس عمل کے ذریعہ حاصل ہونے والی توانائی کو اپنے روز مرّہ کے کام میں لایا جاسکتاہے۔
ایک جیسے حالات میں سفید یا پھر انعکاسی سطح کے مقابلے میں سیاہ سطح زیادہ گرمی جذب کرتی ہے۔سولر کوکر (شکل14.6) سولر واٹر ہیٹر میں اسی خصوصیت کا استعمال ہوتا ہے ۔ کچھ سولر کوکروں میں آئینوں کے استعمال سے سورج کی روشنی کو فوکس کرکے زیادہ حرارت حاصل کی جاتی ہے۔ شمسی کوکر کو ایک شیشہ کی پلیٹ سے ڈھک دیا جاتا ہے۔ یاد کیجیے کہ ہم نے گرین ہائوس اثر کا مطالعہ کیا تھا۔ کیا اس بات سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ شیشہ کی پلیٹ کیوں استعمال کی جاتی ہے۔

سرگرمی 14.6

  • سولر کوکر اور یاسولر واٹر ہیٹر کی ساخت اور کارکردگی کا مطالعہ کیجیے، خاص طور سے اس بات پر غور کیجیے کہ اسے کس طرح سے محفوظ کیا گیاہے تاکہ زیادہ سے زیادہ حرارت کے انجذاب کو یقینی بنایا جاسکے۔
  •  کم قیمت کے سامان کا استعمال کرتے ہوئے ایک شمسی کوکر یا واٹر ہیٹر بنائیے اور چیک کیجیے کہ آپ کے بنائے ہوئے آلہ میں کتنا درجۂ حرارت حاصل کیا گیا۔
  • بتائیے کہ شمسی کوکر یا شمسی واٹر ہیٹر کو استعمال کرنے کے کیا فوائدہیں اوراس میں کیا خامیاں ہیں۔

آئینہ
منعکس شمسی اشعاع
شیشہ کی پلیٹ
picture 5
شکل 14.6  ایک شمسی کوکر
یہ آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ آلات دن میں کچھ ہی وقت کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ شمسی توانائی کے استعمال کی یہ خامی شمسی سیلوں کے استعمال کے ذریعہ دور کر لی گئی۔ سیل، شمسی توانائی کو بجلی میں تبدیل کردیتے ہیں۔ ایک مثالی سیل 0.5-1V کا وولٹیج پیدا کرسکتا ہے اور جب وہ سورج کے سامنے ہوتا ہے تو تقریباً 0.7wبجلی پیدا کرسکتا ہے۔ بڑی تعداد میں شمسی سیل ایک ترتیب میں جوڑ دیے جاتے ہیں جسے شمسی سیل پینل کہتے ہیں (شکل 14.7) جو کہ روزمرّہ کے استعمال کے لیے کافی بجلی پیدا کرسکتے ہیں۔
شمسی سیلوں سے وابستہ خاص خوبیاں یہ ہیں کہ ان میں کسی قسم کے حرکی حصے نہیں ہوتے، رکھ رکھائو کی بھی بہت کم ضرورت پڑتی ہے اور فوکس کرنے والے آلے کے بغیر بھی یہ تسلی بخش طور پر کام کرتے ہیں۔ دوسری خوبی یہ ہے کہ انہیں دور دراز (remote) اور ناقابلِ رسائی بستیوں یا بہت بکھری ہوئی آبادی والے علاقوں میں لگایا جاسکتا ہے جہاں بجلی کی لائن بچھانا مہنگا اور تجارتی اعتبار سے مفید نہیں ہے ۔
شمسی سیل پینل

picture 6
شکل 14.7 
ایک شمسی سیل پینل
سلیکون، جسے شمسی سیل بنانے کے لیے استعمال کیا جاتاہے قدرتی ماحول میںبڑی مقدارمیں ملتا ہے لیکن شمسی سیلوں میں استعمال ہونے والے مخصوص قسم کے سلیکون کی دستیابی محدود ہے۔اس کی مینوفیکچرنگ میں خرچ زیادہ آتا ہے، پینل میں سیلوں کو آپس میں جوڑنے کے لیے استعمال ہونے والی چاندی خرچ کو اور بڑھا دیتی ہے۔ لیکن زیادہ قیمت اور کم صلاحیت کے باوجود شمسی سیلوں کو کئی سائنسی اور تکنیکی کاموں میں استعمال کیا جاتاہے۔مصنوعی اور خلائی تحقیقات مارس اربڑ جیسے مریخ مدار (Mars orbiters) اسپیس پراب میں شمسی سیلوں کا استعمال توانائی کے اہم ماخذ کے طور پر کیاجاتا ہے۔ ریڈیو یا وائر لیس ترسیلی نظام یادور دراز علاقوں کے TV ریلے اسٹیشن بھی شمسی سیل پینلوں کا استعمال کرتے ہیں۔
ٹریفک سگنلوں، کیلکولیٹروں اور کچھ کھلونوں میں شمسی سیل لگائے جاتے ہیں۔ شمسی سیل پینلوں کو خاص طور سے ڈیزائن کی گئی جھکی ہوئی چھتوں کے سروں پر نصب کیا جاتاہے تاکہ زیادہ شمسی توانائی اس پر واقع ہوسکے۔ شمس سیلوں کا گھریلو استعمال اس کی زیادہ قیمت کی وجہ سے محدود ہے۔

14.3.2 سمندر سے توانائی (Energy from the Sea)

مدوجزری توانائی (Tidal Energy)

گردش کرتی ہوئی زمین پر خاص طور سے چاندکی کشش ثقل کی وجہ سے سمندر میں پانی کی سطح اٹھتی اور گرتی رہتی ہے۔ اگر آپ سمندر کے نزدیک رہتے ہیں یا کبھی سمندر کے نزدیک کسی جگہ پر گھومنے جائیں تو مشاہدہ کرنے کی کوشش کیجیے کہ کس طرح سمندر کی سطح دن کے دوران بدل جاتی ہے۔ یہ مظہر مدوجزر کہلاتا ہے اور سمندر کی سطح میں یہ بدلاؤ مدوجزری توانائی عطا کرتاہے۔ مدوجزری توانائی کو استعمال کرنے کے لیے سمندر کے تنگ دہانے کے اوپر ڈیم بنا یا جاتاہے۔ ڈیم کے مہانے پر ایک ٹربائن لگادیا جاتا ہے جو کہ مدوجزری توانائی کو بجلی میں تبدیل کردیتا ہے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ، وہ جگہیں جہاں ایسے ڈیم بنائے جاسکتے ہیں بہت محدود ہیں۔

لہروں کی توانائی (Wave Energy)

اسی طرح بڑی بڑی لہروں کی حرکی توانائی کو جو سمندر کے کنارے موجود ہوتی ہیں استعمال کرکے ایسے ہی طریقہ سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ یہ لہریں سمندر کے اوپر سے بہنے والی تیز ہواؤں کی وجہ سے بنتی ہیں۔ لہروں کی توانائی صرف ان جگہوں پر کارآمد ہے جہاں پر لہریں بہت مضبوط ہوں۔ بہت سی مشینیں اور کل پرزے ایسے تیار کیے گئے ہیں جن کا استعمال کرکے ٹربائن کو گھمایا جاسکے اور بجلی پیدا کی جاسکے۔

سمندر کی حرارتی توانائی (Ocean Thermal Energy)

سمندر کی سطح کا پانی سورج کے ذریعہ گرم ہو جاتا ہے جب کہ گہرا پانی نسبتاً ٹھنڈا ہوتا ہے۔توانائی حاصل کرنے کے لیے سمندری حرارت کو توانائی میں بدلنے والے(Ocean thermal energy conversion plants) پلانٹ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ پلانٹ اسی وقت کام کرسکتے ہیں جب سطح کے پانی اور تقریباً 2Km کی گہرائی میں موجود پانی کے درجۂ حرارت کا فرق 293K (20°C) یا زیادہ ہو۔ گرم سطحی پانی کوامونیا جیسے ایک طیران پذیر سیال کو ابالنے کے لیے استعمال کیا جاتاہے۔ سیال کے بخارات پھر جنریٹر کے ٹربائن کو چلانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ سمندر کی گہرائی سے ٹھنڈے پانی کو کھینچ کر ابخرات کی دوبارہ سیال میں تکثیف کرلی جاتی ہے۔
سمندر کی بالقوہ توانائی (جیسے مدوجزری توانائی، لہروں کی توانائی اور سمندری حرارتی توانائی) بڑے پیمانے پر موجود ہے لیکن ان کا مؤثر تجارتی استعمال ذرا مشکل ہے۔

14.3.3 ارضی حرارتی توانائی (Geothermal energy)

ارضیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے قشرارض کی گہرائیوں میں تشکیل پانے والی پگھلی چٹانیں اوپر کی طرف کو چلتی ہیں اور کچھ جگہوں پر آکر پھنس جاتی ہیں جنھیں ’ہاٹ اسپاٹ‘ کہتے ہیں۔ جب زمین کے اندر کا پانی ہاٹ اسپاٹ کے لمس میں آتا ہے تو بھاپ کی تشکیل ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ان علاقوں کا پانی سطح پر باہر نکلنے کا راستہ تلاش کر لیتا ہے۔ایسے راستوں کو ’ہاٹ اسپرنگ‘ کہتے ہیں۔ پتھروں میں پھنسی ہوئی بھاپ کو ایک پائپ کے ذریعہ ٹربائن تک لے جایا جاتاہے اور بجلی بنانے میں استعمال کیا جاتاہے۔پیداوار کی قیمت تو زیادہ نہیں ہوتی، لیکن ایسی بہت کم کارآمد جگہیں ہیں جہاں سے اس توانائی کا تجارتی طور پر استعمال کیا جاسکتا ہو۔ نیوزی لینڈ اور ا مریکہ میں ارضی حرارتی توانائی پر منحصر کئی پاور پلانٹ کام کر رہے ہیں۔

14.3.4 نیوکلیائی توانائی (Nuclear Energy)

نیوکلیائی انشقاق جیسے توانائی کے مآخذ میں نیوکلیائی توانائی کس طرح پیدا ہوتی ہے؟ نیوکلیائی انشقاق (Nuclear fission) کے عمل میں ایک بھاری ایٹم (جیسے یورینیم، پلیوٹونیم یا تھوریم) کے نیوکلیس پر جب کم توانائی کے نیوٹران کی بمباری کرائی جاتی ہے تو اسے یہ ہلکے نیوکلیائی میں توڑ دیتے ہیں۔ایسا کرنے پر اگر اصل نیوکلیس (Original Nucleas)کی کمیت انفرادی ماحصلات کے حاصل جمع سے تھوڑی سی بھی زیادہ ہو تو بہت بڑی مقدار میں توانائی حاصل ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر یورینیم کے ایک ایٹم کے انشقاق کے نتیجے میں پیدا ہونے والی توانائی کوئلے کے کاربن کے ایک ایٹم کے احتراق سے پیدا ہونے والی توانائی کاایک کروڑ گنا ہوتاہے۔ برقی توانائی تشکیل کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے نیوکلیائی ری ایکٹر میں اس طرح کا نیوکلیائی ’ایندھن‘ ان میں خود چلنے والے انشقاقی زنجیری تعامل کا حصہ ہو سکتا ہے جو ایک کنٹرول شرح پر توانائی خارج کرتا ہے۔ حاصل ہوئی توانائی کو بھاپ بنانے اور پھر آگے چل کر بجلی پیدا کرنے میں یہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں

نیوکلیائی انشقاق میں اصل نیوکلیس اور پروڈکٹ نیوکلیائی کے درمیان کمیت کا فرق، Dm، توانائی E میں مشہور مساوات E = Dm c2 کے ذریعہ تبدیل ہوتا ہے۔
اسے پہلی بار البرٹ آئنسٹائن نے 1905 میں ثابت کیا تھا۔جہاں c خلا میں روشنی کی رفتار ہے۔ نیوکلیائی سائنس میں توانائی کو اکثر الیکٹران وولٹ (eV) اکائی میں ظاہر کیا جاتاہے(l eV = 1.602 × 10–19 joules) اوپردی گئی مساوات سے اس بات کی جانچ کرنا آسان ہے کہ 1ایٹمی کمیت اکائی (u) تقریباً 931 میگا الیکٹران وولٹ (MeV) توانائی کے برابرہوتی ہے۔ تارا پور (مہاراشٹر)، رانا پرتاپ ساگر (راجستھان)، کلپکّم (تامل ناڈو)، نرورا (یوپی)، ککرا پار (گجرات) اور کیگا (کرناٹک) میں موجود نیوکلیائی ری ایکٹر کی صلاحیت ہمارے ملک کی کل بجلی کی پیداوار کے 3%سے بھی کم ہے۔ صنعتی نظام والے کئی ممالک اپنی بجلی کی ضرورت کا 30% نیوکلیر ری ایکٹروں سے پورا کررہے ہیں۔

نیوکلیر پاور کی پیداوار کا سب سے بڑا خطرہ ایندھن کے رکھنے اور استعمال شدہ ایندھن کے اسٹوریج یا ڈسپوزل کا ہے۔ یورینیم استعمال کے بعد بھی نقصان دہ ذرات (اشعاع) کی شکل میں ضائع ہوتا رہتا ہے۔ نیوکلیر کچرے کا نا عاقبت اندیشذخیرہ اور تالاف ماحولی آلودگی پیدا کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نیوکلیائی اشعاع کے ناگہانی رساؤ کا بھی خطرہ رہتا ہے۔ نیوکلیائی پاور پلانٹ کو لگانے میں آنے والا زیادہ خرچ، ماحولیاتی آلودگی کا خطرہ اور یورینیم کی محدود فراہمی نیوکلیائی توانائی کے بڑے پیمانے پر استعمال میں اہم رکاوٹیں ہیں۔
نیوکلیائی پاور اسٹیشنوں کی ڈیزائن کیے جانے سے پہلے نیوکلیائی توانائی کا استعمال تباہ کن مقاصد میں ہوتا تھا ۔ ایک نیوکلیائی ہتھیار میں ہونے والے انشقاقی زنجیری تعامل کا بنیادی اصول کنٹرول شدہ نیوکلیائی ری ایکٹر کے اصول کی طرح ہی ہے ، مگر یہ دونوں آلات مختلف طریقوں سے بنائے گئے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں

نیوکلیائی گداخت (Nuclear Fusion)

موجودہ دور کے سبھی نیوکلیائی ری ایکٹر کی بنیاد نیوکلیائی انشقاق پر مبنی ہے لیکن نیوکلیائی توانائی کو پیدا کرنے کا ایک زیادہ محفوظ عمل بھی ہے جسے نیوکلیائی گداخت کہتے ہیں۔گداخت کا مطلب ہوتا ہے ہلکے نیو کلیائی کوجوڑ کر بھاری نیوکلیس بنانا، ہائڈروجن یا ہائڈروجن کے آئی سوٹوپس کا ہیلیم کی تشکیل کرنا سب سے عام نیوکلیائی گداخت ہے۔ اس طرح 2H + 2H ® 3He (+ n) یہ توانائی کی بہت زیادہ مقدار خارج کرتا ہے۔ آئنسٹائن کی مساوات کے مطابق ماحصل کی کمیت انفرادی نیوکلیائی کی کمیتوں کے حاصل جمع سے تھوڑا کم ہوتی ہے۔
اسی طرح کے نیوکلیائی گداخت سورج اور دوسرے تاروںمیں توانائی کا ذریعہ ہیں۔نیوکلیائی (ایٹم کے مرکزوں)کے گداخت کے لیے کافی توانائی لگتی ہے۔ اس عمل کے لیے انتہائی حالات ضروری ہیں جیسے کروڑوں ڈگری درجۂ حرارت اورکروڑوں پاسکل دبائو۔
ہائڈروجن بم حرارتی نیوکلیر (thermonuclear) گداخت تعامل پر مبنی ہے۔ ایک نیوکلیائی بم جس کی بنیاد یورینیم یا پلوٹونیم کے انشقاق پر ہوتی ہے ہائڈروجن بم کے کور میں واقع ہوتا ہے۔ نیوکلیائی بم ایسے مادّہ میں مضبوطی سے جمع رہتا ہے جس میں ڈیوٹیریم اور لیتھیم موجود ہوتا ہے۔ جب نیوکلیائی بم (جس کی بنیاد انشقاق ہے) پھٹتا ہے، تو اس مادّہ کی حرارت کچھ مائکرو سیکنڈ میں 107K تک بڑھ جاتی ہے۔ زیادہ ہلکے مرکزوں کے گداخت کے لیے کافی حرارت پیدا ہوجاتی ہے اور بے پناہ توانائی خارج ہوتی ہے۔

سرگرمی 14.7

کلاس میں اس سوال پربحث کیجیے کہ حیاتیاتی مادہ، ہوا ئی اور سمندری حرارتی توانائی کے لیے توانائی کا بنیادی ذریعہ کیا ہے۔
کیا اس حساب سے ارضی حرارتی توانائی اور نیوکلیائی توانائی مختلف ہیں، کیوں؟
آپ آبی اور لہروں کی توانائی کو کس زمرے میں رکھیں گے؟

سوالات

شمسی کوکر میں استعمال کرنے کے لیے کس قسم کا آئینہ سب سے بہتر ہوگا۔ مقعر،محدب یا مسطح، کیوں؟
سمندر سے حاصل کی جانے والی توانائی کی کیا حدود ہیں؟
ارضی حرارتی توانائی کیا ہے؟
نیوکلیائی توانائی کے کیا فوائد ہیں؟

14.4 ماحولیاتی نتائج (Environmental consequences)

گذشتہ سیکشنوں میں ہم نے توانائی کے مختلف ذرائع کے بارے میں پڑھا۔ کسی بھی توانائی کے ذریعہ کا استعمال ماحول میں کسی نہ کسی طرح سے خلل پیدا کرتا ہے۔ کسی دی ہوئی حالت میں ذریعہ کا چناؤ کچھ چیزوں پر منحصر ہوتا ہے جیسے ذریعہ سے توانائی حاصل کرنے میں ہونے والی آسانی،اس سے توانائی حاصل کرنے میں آنے والا خرچ، موجودہ تکنیک کی صلاحیت اور ذریعہ کو استعمال کرنے کی وجہ سے ماحول کو ہونے والا نقصان۔ جب ہم CNG جیسے ’صاف‘ ایندھنوں کے بارے میں بات کرتے ہیں تو یہ کہنا زیادہ منا سب ہوگا کہ یہ ذریعہ کسی بھی دوسرے ذریعے سے زیادہ صاف ہے۔ ہم یہ پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ رکازی ایندھن جلانے سے ہوا آلودہ ہو جاتی ہے۔ کچھ معاملات میں شمسی سیل جیسی تکنیکوں کا استعمال آلودگی سے مبرا ہوسکتا ہے، مگر ان آلات کے مجموعی استعمال سے ماحول کو کچھ نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ ایسی تحقیقات چل رہی ہیں جس سے لمبے وقت تک استعمال ہونے والے ایسے آلات بنائے جاسکیں جو تا زندگی کم نقصان پہنچائیں۔

سرگرمی 14.8

توانائی کے مختلف ذرائع کے بارے میں معلومات اکٹھا کیجیے اور یہ بھی معلوم کیجیے کہ یہ کس طرح ماحول پر اثر ڈالتے ہیں۔
ہرذریعہ کے فوائد اور نقصانات پر بحث کیجیے اور اس حساب سے سب سے اچھے توانائی کے ذریعہ کا انتخاب کیجیے۔

سوالات

کیا توانائی کا کوئی ذریعہ آلودگی سے مبرا ہوسکتا ہے؟ کیوں یا کیوں نہیں؟
ہائڈروجن کو راکٹ کے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتاہے۔ کیا آپ اسے CNG سے صاف ایندھن مان سکتے ہیں؟ کیوں یا کیوں نہیں؟

14.5 ہمارے لیے توانائی کا کوئی ماخذ کب تک باقی رہے گا؟

(How long will an Energy source last us?)

ہم نے اس سے پہلے دیکھا ہے کہ ہم زیادہ دنوں تک رکازی ایندھنوں پر منحصر نہیں رہ سکتے۔ ایسے ذرائع جو کسی دن ختم ہوجائیں گے وہ ختم ہو جانے والے(exhaustible) ماخذ یا توانائی کے ناقابلِ تجدید ذرائع کہلاتے ہیں۔ دوسری طرف اگر ہم حیاتیاتی مادہ کا رکھ رکھاؤ کر سکیں جیسے جلانے کی لکڑی کے لیے کاٹے جانے والے پیڑوں کی جگہ دوسرے پیڑ لگانا، تو ہم ایک مخصوص شرح پرتوانائی کی لگاتارفراہمی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ توانائی کے ایسے ذرائع جنھیں دوبارہ پیدا کیا جاسکتا ہے انہیں توانائی کے قابل تجدید ذرائع کہتے ہیں۔
قابل تجدید توانائی ہمارے قدرتی ماحول میںموجود ہوتی ہے، یہ لگاتار اور توانائی کے مسلسل اور تکراری دھاروں کی شکل میں ہوسکتی ہے، یا پھر ایسے بڑے بڑے زمین دوز ذخیروں کی شکل میں ہوسکتی ہے جہاں سے اسے بہت کم استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہاں سے استعمال کے قابل توانائی کا حصول نہیں ہوپاتا۔

سرگرمی 14.9

مندرجہ ذیل دوموضوعات پر کلاس میں بحث کیجیے۔
(a) ایسا اندازہ ہے کہ ہمارے پاس کوئلے کا اتنا ذخیرہ ہے کہ وہ اگلے دو سو سالوں کے لیے کافی ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس صورت میں ہمیں کوئلے کے ذخائر کے ختم ہونے کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت ہے؟ کیوں یا کیوں نہیں؟
(b) ایسا اندازہ ہے کہ سورج اگلے پانچ بلین سالوں تک باقی رہے گا۔ کیا ہمیں شمسی توانائی کے ختم ہوجانے کے بارے میں فکر کرنا چاہیے؟ کیوں یا کیوں نہیں؟
بحث کی بنا پر یہ فیصلہ کیجیے کہ توانائی کے کس ذریعہ کو ماننا چاہیے۔ (i) ختم ہوجانے والے (ii) ختم نہ ہونے والے (iii) قابل تجدید اور (iv) ناقابلِ تجدید ہر ایک کے لیے وجوہات پیش کیجیے۔

سوالات

توانائی کے ایسے دو ذرائع کے نام بتائیے جنھیں آپ قابلِ تجدید مانتے ہیں۔ اپنے جواب کی وجہ بتائیے۔
ختم ہو جانے والے توانائی کے دو ذرائع کے نام بتائیے اور اپنے جواب کی وجہ بتائیے۔

آپ نے کیا سیکھا

ہمارے معیارِ زندگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہماری توانائی کی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے۔
اپنی توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہم توانائی کے استعمال کو موثر بنانے اور توانائی کے نئے ذرائع کا استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہمیں توانائی کے نئے ذرائع تلاش کرنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ رکازی ایندھن جیسے توانائی کے روایتی ذرائع کے جلد ہی ختم ہوجانے کا اندیشہ ہے۔
توانائی کے حصول میں آسانی، توانائی کی قیمت، اس کو ا ستعمال کرنے کے لیے موجود تکنیکی صلاحیت اور ا س ذریعے کے استعمال سے ماحول پر پڑنے والے اثرات ایسے عوامل ہیں جو توانائی کے ہمارے انتخاب پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
بہت سے ذرائع بنیادی طور پر اپنی توانائی سورج سے حاصل کرتے ہیں۔

مشقیں

ایک سولر واٹر ہیٹر سے گرم پانی کب حاصل نہیں کرسکتے۔
(a) دھوپ والے دن میں (b) بادل والے دن میں
(c) گرم دن میں (d) جس دن ہوا چل رہی ہو
ان میں سے کون بایوماس توانائی کے ذریعہ کی مثال نہیں ہے ؟
(a) لکڑی (b) گوبرگیس
(c) نیوکلیائی توانائی (d) کوئلہ
زیادہ تر توانائی کے ذرائع جو ہم استعمال کرتے ہیں شمسی توانائی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں سے کون بنیادی طور پر شمسی توانائی سے حاصل نہیں ہوتا؟
(a) ارضی حرارتی توانائی (b) ہوائی توانائی
(c) نیوکلیائی توانائی (d) حیاتیاتی مادہ (بایو ماس)
رکازی ایندھن اور سورج کا براہِ راست توانائی کے ذریعے کی حیثیت سے موازنہ اور مقابلہ کیجیے۔
حیاتیاتی مادہ اور آبی بجلی کا توانائی کے ذریعے کی شکل میں ایک دوسرے سے موازنہ اور مقابلہ کیجیے۔
مندرجہ ذیل سے توانائی حاصل کرنے کی کیا حدود ہیں؟
(a) ہوا؟<(b) لہریں؟ (c) مدوجزر (tides)؟
کس بنیاد پر آپ توانائی کے ذرائع کی درجہ بندی کریں گے
(a) قابل تجدید اور ناقابل تجدید
(b) ختم ہونے والے اور نہ ختم ہونے والے
کیاد یے ہوئے متبادلات (a) اور (b) ایک جیسے ہیں؟
ایک مثالی توانائی کے ذریعہ کی کیا خصوصیات ہوتی ہیں؟
ایک شمسی کوکر کو استعمال کرنے کے کیا فوائد اور کیا نقصان ہیں؟ کیا ایسی بھی جگہیں ہیں جہاں شمسی کوکروں کا مح
دود استعمال ہوسکتا ہے۔
10۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے کیا ماحولیاتی نتائج برآمد ہوتے ہیں؟ توانائی کے خرچ کو کم کرنے کے لیے کچھ مشورے دیجیے۔