باب 15
ہمارا ماحول
(Our Environment)
ہم نے لفظ ’ماحول‘ ٹیلی ویژن، اخبارات اور آس پاس موجود انسانوں کی زبان سے استعمال ہوتے ہوئے اکثر سنا ہے۔ ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ ’ماحول‘وہ نہیں ہے جو پہلے تھا؛ دوسرے کہتے ہیں کہ ہمیں ایک صحت مند ماحول میں کام کرنا چاہیے؛ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک اکثر ماحولیاتیاتی مسائل سے متعلق عالمی کانفرنس کرتے رہتے ہیں۔ اس باب میں ہم پڑھیں گے کہ ماحول کے تمام عوامل ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح باہمی عمل کرتے ہیں اور ماحول پر کیسا اثر ڈالتے ہیں۔ درجہ IXمیں آپ نے دیکھا کہ کس طرح مختلف مادّے ماحول میں الگ الگ حیاتیاتی ارضی اور کیمیائی طورپر (Biogeo chemical Cycles)اپنے دور پورے کرتے رہتے ہیں۔ ان ادوار میں لازمی مغذیات(Nutrients) جیسے نائٹروجن (N)،
کاربن (C)، آکسیجن (O)اور پانی، ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ آئیے اب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی سرگرمیاں ان ادوار پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔
15.1 کیا ہوتاہے جب ہم اپنے فضلے کو ماحول میں ملادیتے ہیں؟
(What happens when we add our waste to the environment)
اپنی روزمرّہ کی سرگرمیوں میں ہم بہت سارا ایسا مادّہ پیدا کرتے ہیں جسے پھینکنا پڑتا ہے۔ اس کچرے میں کیا کیا چیزیں ہوتی ہیںجب ہم انھیں پھینک دیتے ہیں توکیا ہوتا ہے ؟ اِس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے آئیے ہم ایک سرگرمی کرتے ہیں۔
سرگرمی15.1
◊ اپنے گھروں سے بے کار مادّہ کو جمع کیجیے۔ اس میں ایک دن میں پیدا ہونے والا تمام کچرا ہونا چاہیے، جیسے باورچی خانے کاکچرا (سڑا ہوا کھانا، سبزیوں کے چھلکے، استعمال شدہ چائے کی پتیاں، دودھ کے خالی پیکٹ اور خالی ڈبّے)، بے کار کاغذ، دوا کی خالی بوتلیں/اسٹرپ/چیونگم کے پیکٹ، پھٹے پرانے کپڑے اور ٹوٹے ہوئے جوتے چپّل وغیرہ۔
◊ اس سامان کو اپنے اسکول کے باغیچہ میں ایک گڑھے میں ڈال دیجیے، اگر جگہ نہ ہو تو آپ اسے کسی پرانی بالٹی یاگملے میں رکھ کر اسے 15cm موٹی مٹی کی پرت سے ڈھک دیں۔
◊ اس مادّہ کو نم رکھیے اور 15دن کے وقفہ سے اس کا مشاہدہ کیجیے۔
◊ وہ کون سے مادّے ہیں جن میں کافی وقت گزرنے کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں آتی؟
◊ وہ کون سے مادّے ہیں جن کی شکل اور ساخت میں تبدیلی آچکی ہے؟
◊ جو مادے تبدیل ہوچکے ہیں ان میں سے کون سے مادے تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں؟
اس سے پہلے ’اعمال زندگی‘ والے باب میں ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ جو کھانا ہم کھاتے ہیں وہ بہت سارے انزائموں کی مدد سے ہمارے جسم میں ہضم ہوجاتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایک ہی انزائم ہماری غذا کے ہر ایک جزو کو کیوں نہیں ہضم کرپاتا۔ انزائم اپنے افعال کے اعتبار سے کارکردگی میں مخصوص ہوتے ہیں۔ ایک مخصوص شے کو توڑنے کے لیے ایک مخصوص انزائم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے اگر ہم کوئلہ کھاتے ہیں تو ہمیں کوئی توانائی نہیں ملے گی؟ اسی وجہ سے انسان کی بنائی ہوئی پلاسٹک جیسی بہت سی چیزیں بیکٹیریا اور دوسرے مردہ خوروں کی سرگرمی سے تحلیل نہیں ہوپائیں گی۔ اس قسم کی ایشاپر گرمی اور دبائو جیسے طبیعی اعمال کا اثر تو ہوتا ہے لیکن ماحول کے مخصوص حالات میں رہنے کی وجہ سے یہ لمبے عرصے تک باقی رہتی ہیں۔
وہ اشیا جو حیاتیاتی اعمال کے اثر سے ٹوٹ جاتی ہیں انھیں حیاتیاتی تنزل پذیر (Biodegradable) کہتے ہیں۔ آپ نے جن اشیاء کو دبایاتھا ان میں سے کتنی حیاتیاتی تنزل پذیر ہیں؟ جو اشیااس طرح تحلیل نہیں ہوتی ہیں ان کو حیاتیاتی غیر تنزل پذیر کہا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر ماحول میں لمبے عرصہ تک اپنی اصل حالت میں موجود رہ سکتی ہیں اور ماحولیاتی نظام (Eco-System) کے تمام عوامل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
سرگرمی 15.2
- ◊ انٹرنیٹ یا لائبریری کی مدد سے حیاتی تنزل پذیر اور غیر حیاتیاتی تنزل پذیر (non-biodegradable) اشیا کے بارے میں مزید جانکاری حاصل کیجیے۔
◊ تمام غیر حیاتیاتی تنزل پذیر اشیاء ہمارے ماحول میں کب تک بچی رہ سکتی ہیں۔
◊ آج کل کچھ نئی قسم کے پلاسٹک دستیاب ہیں جن کے بارے میں کہا جاتاہے کہ وہ حیاتیاتی طور پر تنزیل پذیر ہیں اس قسم کی اشیاء کے بارے میں اورجانکاری حاصل کیجیے اور یہ بھی معلوم کیجیے کہ وہ ماحول کو نقصان پہنچاتی ہیں یا نہیں۔
سوالات
1۔ کچھ اشیا حیاتیاتی تنزل پذیر اور کچھ غیر حیاتی تنزل پذیر کیوں ہوتی ہیں؟
2۔ کوئی دو طریقے بتائیے جن سے حیاتیاتی تنزل پذیر اشیا ماحول پر اثر ڈال سکتی ہیں؟
3۔ کوئی دو طریقے بتائیے جن سے غیر حیاتیاتی تنزل پذیر اشیا ماحول پر اثر ڈال سکتی ہیں؟
15.2 ماحولیاتی نظام— اس کے اجزا کیا ہیں؟
(Eco-system what are its components)
سبھی عضویے جیسے نباتات، حیوانات، خرد عضویے (microorganisms) نیز انسان اور ساتھ ہی طبیعی ماحول ایک دوسرے کے ساتھ باہمی عمل کرتے ہیں اور قدرتی ماحول میں ایک توازن بنائے رکھتے ہیں۔ کسی خطّہ میں باہمی عمل کرنے والے سبھی عضویے، ماحول کے بے جان اجزا کے ساتھ مل کر ماحولیاتی نظام کی تشکیل کرتے ہیں۔ اِس طرح ایک ماحولیاتی نظام کے حیاتیاتی عوامل میں زندہ عضویے اور غیر حیاتیاتی عوامل میں درجۂ حرارت، بارش، ہوا، مٹی اور معدنیات جیسے طبیعی عوامل شامل ہیں۔
مثال کے طور پر، اگر آپ ایک باغ میں جائیںتو آپ کو مختلف قسم کے پودے جیسے گھاس، پیڑ؛ گلاب؛چنبیلی، سورج مکھی جیسے پھول دار پودے اور مینڈک، کیڑے اور چڑیوں جیسے حیوانات نظر آئیں گے۔ یہ سبھی زندہ عضویے ایک دوسرے کے ساتھ باہمی عمل کرتے ہیں اور ان کے اندر نمو، تولید اور دوسری سرگرمیاں ماحولیاتی نظام کے غیر حیاتیاتی عوامل سے متاثر ہوتی ہیں۔ اس لیے باغیچہ ایک ماحولیاتی نظام ہوتا ہے۔ دوسری طرح کے ماحولیاتی نظام میں جنگل، تالاب اور جھیلیں وغیرہ شامل ہیں۔ یہ سبھی قدرتی ماحولیاتی نظام ہیں جبکہ باغیچے اور کھیت انسان کے ذریعے بنائے ہوئے (مصنوعی) ماحولیاتی نظام ہیں۔
سرگرمی 5.3
◊ آپ نے ایکویریم (Aquarium) ضرور دیکھا ہوگا۔ آئیے ہم اس کو بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
◊ ایکویریم بناتے وقت ہمیں کن باتوں کو دھیان میں رکھنا چاہیے؟ مچھلی کو تیرنے کے لیے خالی جگہ (یہ ایک بڑا جار بھی ہوسکتا ہے)، پانی، آکسیجن اور غذا چاہیے۔
◊ ہم آکسیجن کو ایک آکسیجن پمپ کے ذریعہ فراہم کرسکتے ہیں اور مچھلی کا کھانا بازار میں آسانی سے مل جاتاہے۔
◊ اگر ہم اس میں کچھ آبی پودے اور جانور بھی شامل کرلیں تو یہ خود— باقی رہنے والا (Self-Sustained) نظام بن جائے گا۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایسا کیسے ہوتا ہے؟ ایکویریم (Aquarium) انسان کے ذریعہ بنائے گئے ماحولیاتی نظام کی ایک مثال ہے۔
◊ کیا ہم ایکویریم کو بنانے کے بعد اس طرح چھوڑ سکتے ہیں؟ اسے کبھی کبھی صاف کرنے کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟ کیا ہمیں تالابوں اور جھرنوں کو بھی اسی طرح صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے؟ کیوں یا کیوں نہیں؟
ہم نے پچھلے درجوں میں دیکھا ہے کہ عضویوں کو پروڈیوسر (Producers)، صارفین(Consumers) اور تحلیل گر (Decomposers) تین زمروںمیں تقسیم کیاگیا ہے۔ اس تقسیم کی بنیاد یہ ہے کہ وہ اپنے ماحول سے کس طرح غذا حاصل کرتے ہیں۔آئیے دیکھیں کہ اس خود—باقی رہنے والے نظام سے ہم نے کیا سیکھا۔ کون سے عضویے کلوروفل کی موجودگی میں سورج کی اشعائی توانائی استعمال کر کے غیر نامیاتی مرکبات سیشکر اور اسٹارچ جیسے نامیاتی مرکبات کی تالیف کرسکتے ہیں؟سبھی ہرے پودے اور کچھ نیلی ہری الگی (Algae) جو ضیائی تالیف (Photosynthesis) کے ذریعہ اپنی غذا خود بناسکتے ہیں اسی زمرے میں آتے ہیں۔
عضویے اپنی بقا کے لیے براہ راست بالواسطہ طور پر پروڈیوسر(Producers) پر منحصر ہوتے ہیں؟ یہ عضویے جو تالیف شدہ غذا کو پروڈیوسر سے براہِ راست حاصل کرتے ہیں یا دوسرے صارفوں کو کھاکر حاصل کرتے ہیں صارفین (Consumers) کہلاتے ہیں۔ صارفوں کو مختلف درجوں جیسے نباتات خور (Herbivores)،گوشت خور (Carnivores)، ہمہ خور (Omnivore)اور طفیلیہ (Parasites)میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کیا آپ ان صارفوں کے ہر زمرہ کی مثالیں دے سکتے ہیں؟
n ایک ایسی حالت پرغور کیجیے جس میں آپ نے ایکویریم کو صاف نہیں کیاہے اور کچھ مچھلیاں اور پودے مر گئے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے جب ایک عضویہ مرجاتاہے تو کیا ہوتا ہے؟ خورد عضویے جیسے بیکٹیریا اور پھپھوند ان عضویوں کے مرے ہوئے باقیات اور فضلہ کو تحلیل کر دیتے ہیں۔ یہ خورد عضویہ تحلیل گر (decomposers) ہیں کیونکہ یہ پیچیدہ نامیاتی اشیا کو سادہ نامیاتی اشیا میں تحلیل کر دیتے ہیں جو کہ واپس مٹی میں چلی جاتی ہیںاور ایک بار پھر پودے انھیں استعمال کرلیتے ہیں۔ اِن کی غیر موجودگی میں فضلہ، مردہ جانوروں اور مردہ پودوں کا کیا ہوگا؟تو کیا مٹی کا احیا (Replemishment) ہوپائے گا؟
سرگرمی15.4
n کیا ایکویریم بناتے وقت آپ نے اس بات کا خیال رکھا تھا کہ اس میں کوئی ایسا آبی جانور نہ شامل کریں جو دوسروں کو کھا سکتا ہو؟ ایسا نہ کرنے پر کیا ہوسکتاہے؟
n گروپ بنائیے اوربحث کیجیے کہ اوپر دیے گئے عضویوں کے گروپ کس طرح ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔
n آبی عضویوں کے نام اُس ترتیب میں لکھئے جس میں ایک دوسرے کو کھانے والوں کی کم سے کم تین مراحل پرمشتمل زنجیر بن جائے۔�
--------------- ------------------- ----------------- زنجیر بن جائے
n کیا آپ عضویوں کے کسی گروپ کی ابتدائی اہمیت کو تسلیم کریں گے؟ کیوں یا کیوں نہیں؟
15.2.1
غذائی زنجیر اور جال
(Food Chains and Webs)
سرگرمی 15.4 میں ہم نے عضویوں کا ایک سلسلہ بنایا ہے جو ایک دوسرے کو کھاتے ہیں۔ یہ سلسلہ یا عضویے جو کہ تمام حیاتیاتی سطحوں میں حصہ لیتے ہیں ایک غذائی زنجیر بناتے ہیں۔
غذائی زنجیر کا ہر مرحلہ ایک تغذئی درجہ (Trophic Level) کی تشکیل کرتاہے۔ خود پروروں (Autotrophs) یا غذا پیدا کرنے والوں کا پہلا درجہ۔ وہ سورج کی توانائی کی تثبیت کرکے اسے نباتات خوروں یا صارفوں کے لیے فراہم کرتے ہیں۔ نباتات خور یا ابتدائی صارف دوسرے درجے کی تشکیل کرتے ہیں چھوٹے گوشت خور یا ثانوی صارف تیسرے درجے کی تشکیل کرتے ہیں اور اس طرح بڑے گوشت خو ر یا تیسرے درجے کے صارف چوتھے تغذئی درجے کی تشکیل کرتے ہیں۔

شکل15.1
قدرتی ماحول میں غذائی زنجیر (a)جنگلات میں (b)گھاس کے میدانوں میں(c)ایک تالاب میں
تیسرے درجہ کے صارف
ثانوی صارف
ابتدائی صارف
غذا پیدا کرنے والے

شکل 15.2
تغذئی درجہ
ہم جانتے ہیں کہ جو کھانا ہم کھاتے ہیں وہ ایندھن کی طرح کام کرتا ہے اور ہمارے جسم کو توانائی عطا کرتاہے۔ اس طرح ماحول کے تمام اجزا کے درمیان باہمی عمل سے نظام کے ایک جزو سے دوسرے جزو کی طرف توانائی کا دوران ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں کہ خود پرور سورج کی روشنی سے حاصل ہونے والی توانائی کو جذب کرکے کیمیائی توانائی میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہ توانائی ہی حیاتیاتی دنیا کی تمام سرگرمیوں کو سہارا دیتی ہے۔ خود پرورشی عضویوں سے یہ توانائی نباتات خوروں اور تحلیل گروں میں چلی جاتی ہے۔ حالانکہ، اس سے پہلے ’توانائی کے ذرائع‘ والے باب میں ہم نے دیکھا کہ جب توانائی کی ایک شکل دوسری شکل میں تبدیل ہوتی ہے توکچھ توانائی ماحول میں ایسی شکل میں کھو جاتی ہے جسے دوبارہ استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ماحول کے مختلف اجزا کے درمیان توانائی کے دوران کا مطالعہ وسیع پیمانے پر کیا گیا اور یہ پتہ چلا کہ
◊ زمینی ماحولیاتی نظام (Terrestrial ecosystem) میں موجود ہرے پودے اپنی پتیوں پر پڑنے والی سورج کی روشنی کی توانائی کا تقریباً 1% جذب کرپاتے ہیں اور اسے غذائی توانائی میں تبدیل کردیتے ہیں۔
◊ جب ہرے پودوں کو ابتدائی صارف کھاتے ہیں تو توانائی کا ایک بڑا حصہ حرارت کی شکل میں ماحول میں کھوجاتاہے، اس میں سے کچھ مقدار ہاضمہ میں اور کچھ کام کرنے میں استعمال ہو جاتی ہے باقی بچی ہوئی مقدار نمو اور تولید میں صرف ہوجاتی ہے۔ کھائی گئی غذا کااوسطً 10% ہی جسم کے لیے دستیاب ہوپاتاہے اور صارفوں کے اگلے درجے کو فراہم ہوپاتاہے۔
اس لیے 10% کو ہر ایک مرحلے میں موجود نامیاتی مادّہ کی اس اوسط قدر کے طور پرمانا جاسکتاہے جو کہ صارفوں کے اگلے درجہ تک پہنچتی ہے۔
n کیونکہ صارفوں کے اگلے درجہ کو بہت کم توانائی فراہم ہوتی ہے لہٰذا غذائی زنجیریں عام طور سے صرف تین یا چار مراحل پر ہی مشتمل ہیں۔ ہر مرحلہ میں ضائع ہونے والی توانائی کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ چارتغذئی درجوں کے بعد استعمال میں آنے والی توانائی بہت کم بچتی ہے۔
n عام طور سے نچلے غذائی درجوں میں زیادہ تعداد میں فرد ہوتے ہیں، سب سے زیادہ تعداد غذا پیدا کرنے والوں کی ہوتی ہے۔
n غذائی زنجیروں کی لمبائی اور پیچیدگی بہت زیادہ متنوع ہوتی ہے۔ ہرایک عضویہ کو عام طور سے دو یا دو سے زیادہ قسم کے عضویے کھا جاتے ہیں جس کے بعد انھیں بھی کئی دوسرے عضویوں کے ذریعہ کھا لیا جاتا ہے۔ اس لیے غذائی زنجیروں کی سیدھی لائنوں کے بجائے اس رشتہ کو ہم ایک شاخ دار لائنوں کے سلسلہ کے طور پر دکھا سکتے ہیں اسے غذائی جال (food web) کہتے ہیں(شکل 15.3)۔

شکل 15.3 غذائی جال جس میں کئی غذائی زنجیریں شامل ہیں
توانائی کے دوران والی تصویر (شکل 15.4) سے دو چیزیں واضح ہوجاتی ہیں۔ پہلی چیز یہ کہ توانائی کا دوران یک سمتی ہوتا ہے۔ وہ توانائی جو خود پروروں کے ذریعہ جذب کی جاتی ہے وہ سورج میں واپس نہیں آتی اور جو توانائی نباتات خوردوں کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے وہ خود پروروں تک واپس نہیں آتی۔ جیسے جیسے یہ تمام مختلف تغذئی درجوں میں بتدریج آگے بڑھتی ہے پہلے درجوں کو واپس فراہم نہیں ہوتی۔
کچھ انفراریڈ اشعاع فضا سے ہوکر گزر جاتا ہے، اور کچھ گرین ہائوس گیسوں کے سالمات کے ذریعہ جذب ہوجاتا ہے اور ہرسمت میں واپس خارج کردیا جاتا ہے۔ اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ زمین کی سطح اور کرہ باد گرم ہوجاتا ہے۔
کچھ شمسی اشعاع زمین اور کرہ باد کے ذریعہ منعکس ہوجاتا ہے۔
زمین کی سطح سے انفراریڈ اشعاع خارج ہوتا ہے۔
شمسی اشعاع صاف کردہ باد سے ہوکر گزرتا ہے۔
زیادہ تر اشعاع کو زمین کی سطح جذب کرلیتی ہے اور اس طرح یہ گرم ہوجاتی ہے۔

غذائی زنجیر کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ غذائی زنجیر کے ذریعہ کچھ کیمیکلز ان جانے میں ہمارے جسم میں داخل ہوجاتے ہیں۔ آپ نے درجہ IX میں مطالعہ کیا ہے کہ کس طرح پانی آلودہ ہوجاتاہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ فصلوں کو بیماریوں اور کیڑوں (Pests) سے بچانے کے لیے کیڑے مار دوائیں اور دیگر کیمکلز بہت زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ یہ کیمکلز یا تو مٹی میں مل جاتے ہیں یا آبی جسام میں بہہ جاتے ہیں۔ مٹی سے یہ پانی اور دوسرے معدنیات کے ساتھ پودوں کے ذریعہ جذب کرلیے جاتے ہیں، اور پانی کے اجسام سے یہ آبی پودوں اور جانوروں میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس طریقہ سے یہ غذائی زنجیر میں داخل ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ کیمیائی اشیا تنزل پذیر نہیں ہوتیں اس لیے یہ ایک تغذئی درجے میں اکٹھا ہوتے رہتے ہیں۔ کیونکہ انسان غذائی زنجیر کے سب سے اونچے درجہ پر ہیں، اس لیے اِن کیمیائی اشیا کا سب سے زیادہ ارتکاز ہمارے جسموں میں ہوتاہے۔ اس مظہر کو حیاتیاتی تکبیر (Biological magnification)کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری غذائی اشیاء جیسے گیہوں اور چاول، سبزیاں، پھل اور یہاں تک کہ گوشت میں بھی الگ الگ مقدار میںکیڑے ماردوائوںکے باقیات موجود ہوتے ہیں۔ انھیں بار بار پانی سے دھوکر یا کسی دوسرے طریقے سے علیٰحدہ نہیں کیا جاسکتا۔
سرگرمی 15.5
◊ آج کل اخباروں میںتیار شدہ غذائی سامان میں کیڑے ماردوائوں کی موجودگی کے بارے میں رپورٹیں آرہی ہیں اور کچھ ریاستوں نے تو ان کے استعمال پر پابندی بھی لگا دی ہے۔ ان پر پابندی کے بارے میں گروپوں میں بحث کیجیے۔
◊ آپ کے خیال میں ان غذائی مادوں میںکیڑے ماردوائوں کا ذریعہ کیا ہے؟ کیا کیڑے ماردوائیں ان ذرائع سے ہمارے جسموں میں دوسرے غذائی مادوں کے ذریعہ بھی پہنچ سکتیہیں۔
◊ کیڑے ماردوائیں ہمارے جسم میں نہ جائیں یا کم سے کم جائیں اس کے لیے کون کون سے طریقے استعمال کیے جاسکتے ہیں ۔
سوالات
1۔ تغذئی درجے کیا ہوتے ہیں؟ ایک غذائی زنجیر کی مثال دیجیے اوراس میں مختلف تغذئی درجوں کو بیان کیجیے۔
2۔ ماحولیاتی نظام میں تحلیل گروں کا کیا رول ہے؟
15.3 ہماری سرگرمیاں ماحول کو کس طرح متاثر کرتی ہیں؟
(How do our activities affect the environment)
ہم ماحولیاتی نظام کالازمی حصہ ہیں۔ ماحول میں ہونے والی تبدیلی کا ہم پر اثر پڑتا ہے اور ہماری سرگرمیاں ہمارے اطراف کے ماحول کو تبدیل کردیتی ہیں۔ اس سے پہلے درجہ IX میں ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح ہماری سرگرمیاں ماحول کو آلودہ کردیتی ہیں۔ اِس بارے میں ہم ماحول سے متعلق دو مسئلوںپر تفصیل سے غور کریں گے یہ دو مسئلے ہیں اوزون پرت کا پتلا ہونا اور فضلہ کا اتلاف۔
15.3.1 اوزون پرت اوریہ کس طرح پتلی ہوتی جا رہی ہے۔
(Ozone layer and how it is getting depleted)
اوزون(O3) کا سالمہ آکسیجن کے تین ایٹموں سے بنا ہوتا ہے، O2جسے ہم عام طور سے آکسیجن کہتے ہیں ہر ایک ہواباش جاندارکے لیے بے حد ضروری ہے۔ اوزون ایک جان لیوا زہر ہے۔ حالانکہ کرہ باد کی بہت اونچی سطح پر اوزون ایک اہم کام انجام دیتی ہے۔ یہ سورج سے آنے والی الٹرا وائلٹ (UV) شعاعوں سے سطح زمین کی حفاظت کرتی ہے۔ یہ اشعاع عضویوں کے لیے بے حد نقصان دہ ہے۔ مثال کے طور پر یہ انسانوں میں جلد کا کینسر پیدا کردیتی ہیں۔
اوزون کرہ باد کی بالائی پرتوں میں آکسیجن (O2) کے سالمات پر UV اشعاع کے تعامل کا ماحصل ہے۔ زیادہ توانائی والا UV اشعاع کچھ سالماتی آکسیجن (O2)کو توڑ کر اسے آزاد آکسیجن کے ایٹموں (O) میں تبدیل کردیتا ہے۔ یہ ایٹم پھر سالماتی آکسیجن کے ساتھ جڑ کر اوزون بناتے ہیں۔ جیسا کہ ذیل میں دکھایا گیاہے۔

کرہ باد میں اوزون کی مقدار 1980 سے بہت تیزی سے کم ہونے لگی۔ اس کمی کا تعلق کلوروفلو رو کاربن (CFCs) جیسے کچھ تالیفی کیمیائی اشیا (Synthetic Chemical) سے ہے ان کا استعمال ریفریجریشن میں اور آگ بجھانے کے لیے کیا جاتا ہے،1987 میں، اقوام متحدہ ماحولیاتی پروگرام (United Nations Environment Programme) میں یہ معاہدہ کیا گیا کہCFC کی پیداوار کو 1986 کی سطح تک ہی محدود رکھا جائے۔
سرگرمی 15.6
◊ لائبریری، انٹرنیٹ، اخبارات کی رپورٹوں کی مدد سے اوزون پرت کے خاتمہ کے لیے ذمہ دار کمیائی اشیاکا پتہ لگائیے۔
◊ پتہ کیجیے کہ ان کیمیائی اشیاکے اخراج کو کنٹرول کرنے کے لیے بنائے گئے اصول وضوابط اوزون پرت کے نقصان کو کم کرنے میں کتنے کامیاب رہے ہیں۔کیا حالیہ برسوںمیں اوزون پرت کے سوراخ کے سائز میں تبدیلی آئی ہے؟
15.3.2 ہمارے ذریعہ پیدا کیے گئے فضلہ کا انتظام (Managing the Garbage we produce)
ہم کسی بھی شہر میں جائیں، وہاں ہمیں جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر ضرور ملیں گے۔ ہم کسی بھی تفریحی مقام پر گھومنے جائیں ہمیں ہر طرف کھانے کے خالی ڈبے ا ور پیکنگ وغیرہ بکھرے ہوئے نظر آئیں گے۔ اس سے پہلے کے درجوں میں ہم نے اس کچرے اور فضلے کے بارے میں بحث کی ہے جسے ہم پیدا کرتے ہیں ۔ آئیے اس مسئلہ پر ذرا سنجیدگی سے غور کرتے ہیں۔
سرگرمی 15.7
◊ پتہ کیجیے کہ گھروں میں پیدا ہونے والے اس فضلہ کا کیا ہوتا ہے ۔ کیا اس فضلہ کو جمع کرنے کا کوئی نظام موجود ہے؟
◊ پتہ کیجیے کہ مقامی اداروں (پنچایت، میونسپل کارپوریشن، اور ریزیڈینس ویلفیر ایسوسی ایشن(RWA) کے ذریعہ فضلہ کا تصفیہ کس طرح کیا جاتا ہے۔ کیا حیاتیاتی تنزل پذیر اور غیر حیاتیاتی تنزل پذیرفضلہ کے الگ ا لگ علاج کا کوئی انتظام ہے یا نہیں؟
سرگرمی 15.8
◊ ایک دن میں گھر کے اندر کتناکچرا پیدا ہوتا ہے؟ حساب لگائیے۔
◊ اس میں سے کتنا کچرا حیاتیاتی تنزل پذیر ہے؟
◊ کلاس روم میں ایک دن میں کتناکچرا پیدا ہوتا ہے۔ حساب لگائیے۔
◊ اس میں سے کتنا کچرا حیاتیاتی تنزل پذیر ہے؟
◊ اس فضلہ سے نپٹنے کیطریقے بتائیے۔
سرگرمی 15.9
◊ پتہ کیجیے کہ آپ کے علاقے میں سیویج کا ٹریٹمنٹ (Treatment)کس طرح ہوتا ہے۔کیا کوئی ایسا طریقہ ہے جس سے ہم اس بات کو یقینی بنا سکیں کہ مقامی پانی کے ذرائع غیرعلاج شدہ فضلہ کی وجہ سے آلودہ نہ ہوں؟
◊ پتہ کیجیے کہ آپ کے علاقہ میں مقامی کارخانے اپنے فضلہ کا تصفیہ کس طرح کرتے ہیں۔کوئی ایسا طریقہ کار ہے جس سے ہم اس بات کو یقینی بناسکیں کہ مٹی اور پانی فضلہ کی وجہ سے آلودہ نہ ہوں؟
ہمارے طرز زندگی میں سدھار کے نتیجہ میںفضلہ کی بڑی مقدار پیدا ہوتی ہے۔ طرز عمل میں تبدیلیاں بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں، ہم قابل تلف (Disposable) چیزوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے لگے ہیں۔پیکنگ کے طریقوں میں تبدیلیوں کی وجہ سے ہمارا زیادہ تر فضلہ غیرحیاتیاتی تنزل پذیر ہوتا جارہا ہے۔ ہمارے ماحول پر ان کے اثرات کے متعلق آپ کیا سوچتے ہیں؟
اس پر غور کیجیے
ریل گاڑیوں میں قابلِ تلف پیالیاں(Disposable cups in trains)
اگر آپ اپنے والدین سے دریافت کریں گے تو غالباً انھیں یاد ہوگا کہ ایسا بھی ایک وقت تھا جب ریل گاڑیوں میں چائے پلاسٹک کی پیالیوں میں دی جاتی تھی جنھیں چائے والے کو واپس کردیا جاتا تھا۔ قابل تلف(Disposable) پیالیوں کی شروعات صفائی اور صحت کے نقطہ نظر سے ایک اچھا قدم مانا گیا۔ اس وقت شاید کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ روز انہ ان لاکھوں پیالیوں کے تلف ہونے کی وجہ سے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ کچھ وقت پہلے مٹی کی بنی قابلِ تلف پیالیوں)کلہڑ( کو بدل کے طور پر استعمال کرنے کا مشورہ پیش کیا گیا۔ لیکن کچھ غور و فکر سے ظاہر ہوا کہ ان کلہڑوں کو بڑے پیمانے پر بنانے میں مٹی کی اوپری زرخیز پرت برباد ہوگی۔ اب کاغذ کی ڈسپوزیبل پیالیاں استعمال کی جارہی ہیں۔آپ کے خیال میں ڈسپوزیبل پلاسٹک کپ کے مقابلے کاغذ کے ڈسپوزیبل کپ کے استعمال کے کیا فائدے ہیں۔
سرگرمی 15.10
◊ انٹرنیٹ اور لائبریری کی مدد سے پتہ لگائیے کہ الیکٹرانک سازوسامان کے تصفیہ کے دوران کون سے نقصان دہ مادّے سے نپٹنے کی ضرورت پڑے گی۔ یہ مادّے ماحول کو کس طرح متاثر کرتے ہیں؟
◊معلوم کیجیے کہ پلاسٹک کس طرح دوبارہ استعمال میں لایا جاتا ہے۔ کیا دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کا عمل ماحول پر کوئی اثر ڈالتاہے؟
سوالات
1۔ اوزون کیا ہے اور یہ کس طرح ماحولیاتیاتی نظام کو متاثر کرتی ہے؟
2۔ کچرے کے تصفیہ کے مسئلہ کو کم کرنے میں آپ کیا مدد کرسکتے ہیں؟ کوئی دو طریقے بتائیے۔
آپ نے کیا سیکھا
◊ کسی ماحولیاتی نظام کے مختلف اجزا ایک دوسرے پر منحصر ہوتے ہیں۔
◊ پروڈیوسر (Producers) سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرکے اسے ماحولیاتی نظام کے سبھی اجزا کو مہیا کرتے ہیں۔
◊ ایک تغذئی درجہ سے دوسرے تغذئی درجہ میں جانے پر توانائی کا نقصان ہوتا ہے، یہ زیاں تغذئی زنجیر میںتغذئی درجوں کی تعداد کو محدود کردیتا ہے۔
◊ انسانی سرگرمیاں ماحول پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
◊ CFCجیسے کیمیکلز کے استعمال سے اوزون کی پرت کو خطرہ لاحق ہے۔ چونکہ اوزون پرت سورج سے آنے والی الٹراوائلٹ شعاعوں سے حفاظت فراہم کرتی ہے،یہ شعاعیں ماحول کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
◊ ہم جو فضلہ پیدا کرتے ہیں وہ حیاتیاتی تنزل پذیریا غیر حیاتیاتی تنزل پذیر ہوسکتاہے۔
◊ ہمارے ذریعہ پیدا کیے گئے فضلہ کے اتلاف سے شدید ماحولیاتی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔
مشقیں
1۔ مندرجہ ذیل میں سے کس گروپ میں صرف حیاتیاتی تنزل پذیر چیزیں ہیں؟
(a) گھاس، پھول اور چمڑا
(b) گھاس، لکڑی اور پلاسٹک
(c) پھلوں کے چھلکے، کیک اور نیبو کا رس
(d) کیک، لکڑی اور گھاس
2۔ ان میں سے کون غذائی زنجیر کی تشکیل کرتاہے؟
(a) گھاس، گیہوں اور آم
(b) گھاس، بکری اور آدمی
(c) بکری، گائے اور ہاتھی
(d) گھاس، مچھلی اور بکری
3۔ ان میں سے کون ساعمل ماحول دوست ہے؟
(a) خریداری کے دوران سامان رکھنے کے لیے کپڑے کا بیگ استعمال کرنا۔
(b) جب ضرورت نہ ہو تو پنکھوں اور بلب کے سوئچ بند رکھنا۔
(c) اسکول تک اپنی والدہ کے اسکوٹر سے جانے کے بجائے پیدل جانا۔
(d) مذکورہ بالا سبھی۔
4۔ کیا ہوگا اگر ہم کسی تغذئی درجہ کے سبھی عضویوں کو ختم کردیں۔
5۔ کیا کسی تغذئی درجہ کے سبھی عضویوں کو ہٹا دینے کا اثر دوسرے تغذئی درجوں جیسا ہی ہوگا؟ کیا ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچائے بغیر کسی تغذئی درجہ کے سبھی عضویوں کو ہٹا یا جاسکتاہے؟
6۔ حیاتیاتی تکبیر کیا ہے؟ کیا اس تکبیر کے درجے ماحولیاتی نظام کے مختلف درجوں پر مختلف ہوںگے؟
7۔ ہمارے ذریعہ پیدا کیے گئے غیر حیاتی تنزل پذیر فضلہ سے کیا مسئلے پیدا ہوسکتے ہیں؟
8۔ اگر ہمارے ذریعہ پیدا ہونے والا تمام فضلہ حیاتی تنزل پذیر ہو، تو کیا اس کا ماحول پر کوئی اثر نہیں پڑے گا؟
9۔ اوزون پرت میں نقصان پریشانی کی وجہ کیوں ہے؟ اس نقصان کو کم کرنے کے لیے کیا اقدام اٹھائے جا رہے ہیں؟
