Skip to content
Science Chapter-16

باب 16

قدرتی وسائل کا پائیدار انتظام

(Sustainable Management of Natural Resources)


’فطرت سے ہم آہنگ ہو کر جینا‘ ہمارے لیے کچھ نہیں نہیں ہے۔ پائے دار طرز زندگی ہمیشہ سے ہندوستانی ثقافت اور  روایات کا اٹوٹ حصّہ رہا ہے۔ یہ طرز زندگی ہمارے پائندہ رواجوں اور روایات ، رسومات ، فن اور دست کاری، تیہواروں، خوراک، عقائد، ریت و رسم اور لوک روایات سے اٹوٹ طور پر منسلک ہے۔ ہمارے اندر یہ فلسفہ نقش ہے کہ ’’ساری فطری دنیا کو ہم آہنگی میں رہنا چاہیے‘‘ اس فلسفے کا عکس سنسکرت کے مشہور قول ’’ واسودھیو کٹمبکم‘‘ میں نظر آتا ہے جس کے معنی ’مہااپنیشد‘ میں درج ہے جو کہ شاید قدیم ہندوستانی کتاب ’اتھروید‘ کا حصّہ ہے۔
 نویں جماعت میں ہم لوگوں نے مٹی، ہوا اور پانی جیسے کچھ قدرتی وسائل کے بارے میں پڑھا ہے اور سیکھا ہے کہ مختلف اجزا قدرتی ماحول میں کسی طرح بار بار گردش کرتے ہیں۔ پچھلے باب میں ہم نے ان وسائل کی آلودگی کے بارے میں بھی سیکھا ہے جو ہماری سرگرمیوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس باب میں ہم کچھ وسائل اور ان کے استعمال کے طریقہ پر غورکریں گے۔ ہم یہ بھی غورکریں گے کہ ان وسائل کا استعمال کس طرح کیاجائے تاکہ ان وسائل کی بقا ہوسکے اورہم  اپنے ماحول کا تحفظ بھی کرسکیں۔ ہم جنگلات،جنگلاتی زندگی پانی، کوئلہ اور پیٹرولیم جیسے قدرتی وسائل پر غور کریں گے اور دیکھیں گے کہ پائدار ترقی (Sustainable Development) کے لیے ان وسائل کا انتظام کس طرح کیا جائے اور اس کے متعلق فیصلہ کرنے میںکون کون مسائل درپیش ہیں۔
ہم اکثر وبیشر ماحولیاتی مسائل کے بارے میں سنتے یا پڑھتے ہیں۔ یہ عموماً عالمی سطح کے مسائل ہیں اور کسی طرح کی تبدیلی میں ہم اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتے ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین اور ضوابط موجود ہیں ساتھ ہی ہمارے ملک میں بھی قومی اور بین الاقوامی تنظیمیں ہیں جو ہمارے ماحول کے تحفظ کے لیے کام کررہی ہیں۔

سرگرمی16.1

کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج کو کنٹرول کرنے کے لیے تئیں بین الاقوامی معیار کے بارے میں پتہ لگائیے۔
ان معیاروں کو حاصل کرنے کے لیے ہم کس طرح تعاون کرسکتے ہیں اس پر کلاس میں بحث کیجیے۔

سرگرمی16.2
ایسی بہت سی تنظیمیں ہیں جو ہمارے ماحول کے تئیں بیداری پھیلانے کا کام کررہی ہیںوہ ان سرگرمیوں کوبھی بڑھاوا دیتی ہیں جس سے  ہمارے ماحول اور قدرتی وسائل کے تحفظ میں مدد ملتی ہے اپنے آس پاس، گائوں یا شہر میں کام کررہی ہیں اس طرح کی تنظیموں  کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔
معلوم کیجیے کہ آپ کس طرح اس کام میں مدد کرسکتے ہیں۔

بغیر سوچے سمجھے وسائل کے لگاتار استعمال کی وجہ سے سامنے آنے والے مسائل کے بارے میں بیداری، ہمارے معاشرہ کا ایک نیا مظہرہے۔ جب ایک بار یہ بیداری بڑھتی ہے تو اکثروبیشتر کچھ قدم بھی اٹھائے جاتے ہیں۔ آپ نے گنگا ایکشن پلان کے بارے میں ضرور سنا ہوگا۔ کئی کروڑ کا یہ پراجیکٹ 1985 میں اس لیے عمل میں آیا

Pic1 Capture16

کیا آپ جانتے ہیں؟

گنگا کی آلودگی (Plolution of the Ganga) 

گنگا ندی، ہمالیہ کی گنگوتری سے خلیج بنگال کے گنگا ساگر تک 2500کلو میٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ اتر پردیش، بہار اور مغربی بنگال کے 100 سے زائد شہروں سے کوڑاکچرا اس میں پھینکنے کی وجہ سے یہ ایک نالہ میں تبدیل ہورہی ہے۔ غیرعلاج شدہ گندا پانی بڑے پیمانہ پر روزانہ گنگا میں بہایا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ، ان آلودگیوں کے بارے میں سوچیے جو انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہوتی ہیں جیسے نہانا، کپڑے دھونا، راکھ یا بنا جلی لاشوں کو بہانا۔ مزید برآں، گنگا کو آلودگی کی صنعتوں یا کارخانوں سے نکلنے والے اخراج نے اس قدر بڑھا دیا ہے کہ اس کی سمیت سے ندی کے بڑے حصہ میں مچھلیاں مرنے لگیں۔نمامی گنگے پروگرام ایک مربوط تحفظاتی مشن ہے جسے جون2014میں مرکزی حکومت کی جانب سے فلیگ شب پروگرام کے طور پر منظور کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کو شروع کرنے کے دو مقاصد ہیں— پہلا آلودگی کی مؤثر روک تھام اور دوسری قومی ندی گنگا کا تحفظ اور احیا۔ قومی مشن برائے صاف گنگا اس پروگرام کا ماخذ ادارہ ہے جواکتوبر 2016میں قائم کیا گیا تھا۔

کیونکہ گنگا کی پانی کی کوالٹی بہت خراب ہوچکی تھی (شکل 16.1 دیکھیے)۔ کولی فارم (Coliforma) ایسے جراثیموں کا گروپ ہے جو انسانی آنت میں پائے جاتے ہیں اور پانی میں ان کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ، بیماری پیدا کرنے والے خورد عضویوں نے پانی کو آلودہ کردیا ہے۔
جیسا کہ آپ کو علم ہے کچھ ایسے عوامل ہیں جن سے آلودگی کی مقدار اور آلودگی کی کوالٹی دونوں کی پیمائش کی جاسکتی ہے۔ کچھ آلودگر(Pollutants)ایسے ہیں جو بہت کم مقدار میں بھی نقصان دہ ہوسکتے ہیںان کی پیمائش کے لیے اعلیٰ قسم کے  آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ہم نے باب 2میں پڑھاہے کہ انڈیکٹیر کا استعمال کرکے ہم پانی کی  pHناپ سکتے ہیں۔

سرگرمی 16.3

لٹمس کاغذ یا یونیورسل انڈیکیٹر کی مدد سے اپنے گھر میں سپلائی ہونے والے پانی کیpH معلوم کیجیے۔
مقامی پانی کے ذرائع مثلاً تالاب، ندی، جھیل، جھرنے وغیرہ کے پانی کی pH بھی معلوم کیجیے۔
کیا اپنے مشاہدات کی بنیاد پر آپ بتا سکتے ہیں کہ پانی آلودہ ہے یا نہیں؟

ہمیں مسئلہ کی سنگینی کو دیکھ کر ناامید ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ایسی کئی چیزیں ہیں جن کے ذریعہ ہم حالات میں تبدیلی لاسکتے ہیں۔ آپ نے ماحول کو بچانے کے لیے پانچ Rکے بارے میں ضرور سنا ہوگا۔ انکار (Refuse)، کم کرنا(Reduce)، اوردوبارہ استعمال) (Reuse مقصد نو(Repurpose)، ری سائیکل(Recycle) ۔ ان سے کیا مراد ہے؟

انکار (Refuse): اس سے مراد یہ ہے کہ جن چیزوں کو آپ کی ضرورت نہیں ہے اور اگر لوگ اسے آپ کو دیں تو آپ  انکار کردیں۔ اُن مصنوعات کو خریدنے سے انکار کریں جو آپ، آپ کے خاندان اور ماحول کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ان پلاسٹک بیگ کے لیے ناکردیں جنھیں صرف ایک بار استعمال کیا جاتا ہے۔ 
کم کرنا (Reduce):  اس سے مراد ہے کہ آپ کم استعمال کرتے ہیں۔ آپ بنا ضرورت استعمال ہورہے بلب اور پنکھوں کو بند کرکے بجلی بچا سکتے ہیں۔ آپ پانی کی ٹونٹیوں کے رسائو کو ٹھیک کرا کر اور صحیح استعمال کے ذریعہ پانی بچا سکتے ہیں۔ آپ غذا برباد نہیں کرتے۔ کیا آپ کچھ اور چیزوں کے نام بتا سکتے ہیں جن کا استعمال کم کیا جاسکتا ہے؟
دوبارہ استعمال (Reuse): یہ ری سائکل کے مقابلہ زیادہ بہتر طریقہ ہے کیونکہ اس میں توانائی خرچ نہیں ہوتی جب کہ ری سائکل میں کچھ نہ کچھ توانائی خرچ ہوتی ہے۔ دوبارہ استعمال (Reuse) کے طریقے میں آپ چیزوں کو صرف بار بار استعمال کرتے ہیں۔ استعمال شدہ لفافوں کو پھینکنے کے بجائے آپ اسے پلٹ کر دوبارہ استعمال کرسکتے ہیں۔ پلاسٹک کی بوتلیں جن میں آپ مختلف طرح کی کھانے کی چیزیں خریدتے ہیں جیسے جیم یا اچار وغیرہ، باورچی خانہ میں مختلف چیزوں کو رکھنے کے لیے ان بوتلوں کا استعمال ہوسکتا ہے۔ اورکون کون سی چیزیں ہیں جن کا ہم دوبارہ استعمال کرسکتے ہیں۔
انکار (Refuse): اس سے مراد یہ ہے کہ جن چیزوں کو آپ کی ضرورت نہیں ہے اور اگر لوگ اسے آپ کو دیں تو آپ  انکار کردیں۔ اُن مصنوعات کو خریدنے سے انکار کریں جو آپ، آپ کے خاندان اور ماحول کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ان پلاسٹک بیگ کے لیے ناکردیں جنھیں صرف ایک بار استعمال کیا جاتا ہے۔ 
کم کرنا (Reduce):  اس سے مراد ہے کہ آپ کم استعمال کرتے ہیں۔ آپ بنا ضرورت استعمال ہورہے بلب اور پنکھوں کو بند کرکے بجلی بچا سکتے ہیں۔ آپ پانی کی ٹونٹیوں کے رسائو کو ٹھیک کرا کر اور صحیح استعمال کے ذریعہ پانی بچا سکتے ہیں۔ آپ غذا برباد نہیں کرتے۔ کیا آپ کچھ اور چیزوں کے نام بتا سکتے ہیں جن کا استعمال کم کیا جاسکتا ہے؟
دوبارہ استعمال (Reuse): یہ ری سائکل کے مقابلہ زیادہ بہتر طریقہ ہے کیونکہ اس میں توانائی خرچ نہیں ہوتی جب کہ ری سائکل میں کچھ نہ کچھ توانائی خرچ ہوتی ہے۔ دوبارہ استعمال (Reuse) کے طریقے میں آپ چیزوں کو صرف بار بار استعمال کرتے ہیں۔ استعمال شدہ لفافوں کو پھینکنے کے بجائے آپ اسے پلٹ کر دوبارہ استعمال کرسکتے ہیں۔ پلاسٹک کی بوتلیں جن میں آپ مختلف طرح کی کھانے کی چیزیں خریدتے ہیں جیسے جیم یا اچار وغیرہ، باورچی خانہ میں مختلف چیزوں کو رکھنے کے لیے ان بوتلوں کا استعمال ہوسکتا ہے۔ اورکون کون سی چیزیں ہیں جن کا ہم دوبارہ استعمال کرسکتے ہیں۔
مقصد نو (Repurpose) : اس سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی چیز اپنے اصل استعمال کے لائق نہیں رہے تو اسے پھینکنے کے بجائے غور کیجیے کہ اس کا کوئی اور مصرف نکالا جاسکے اور اسے کسی دوسرے مفید مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ مثال کے طور چینی مٹی کے پیالوں میں اگر بال پڑ جائیں یا کسی برتن کا ہینڈل ٹوٹ جائے تو انھیںپھینکنے کے بجائے پودے اگانے یا پرندوں کو دانا پانی دینے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ 
ری سائیکل (Recycle): اس سے مراد یہ ہے کہ آپ پلاسٹک، کاغذ، شیشہ اور دھاتی سامان جمع کرتے ہیں اور ضرورت کی چیزیں بنانے کے لیے اسے دوبارہ استعمال کرتے ہیں۔ ری سائکل (Recycle)  کے لیے سب سے پہلے بے کار چیزوں (Wastes) کو دو حصوں میں الگ کیا جاتا ہے۔ ایک وہ اشیا جن کا پھر سے استعمال ہوسکتا ہے اور دوسری وہ جن کا دوبارہ استعمال نہیں ہوسکتا۔ کیا آپ کے گائوں، قصبہ یا شہر میں ان اشیا کو ری سائکل کرنے کا کوئی طریقہ ہے؟
روز مرہ کی ضروریات اور سرگرمیوں کے متعلق فیصلہ کرتے وقت ہم ماحول—موافق فیصلہ (Environment-Freindly decisions) لے سکتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہمارے فیصلے کس طرح ماحول کو متاثر کرتے ہیں، یہ اثرات فوری، یا طویل مدتی یا وسیع ہوسکتے ہیں۔ پائدار ترقی (Sustainable Development) کا تصور اس قسم کی ترقی کو بڑھاوا دیتا ہے جس میں مستقبل کی نسلوں کی  ضرورتوں کے لیے وسائل کے تحفظ کے ساتھ ساتھ موجودہ انسان کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کیا جاسکے۔ معاشی ترقی ماحولیاتی ترقی کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ اس طرح سے پائدار ترقی زندگی کے ہر پہلو کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ افراد اپنے ماحول کی سماجی— معاشی اور ماحولیاتی حالتوں کوبدلنے کے سلسلے میں کیا سوچتے ہیں اور کیا ہر فرد اپنے موجودہ قدرتی وسائل کے استعمال میں کسی قسم کی تبدیلی کے لیے تیار ہے یا نہیں۔

سرگرمی 16.4

کیا آپ نے کچھ برسوں کے بعد کسی گائوں یا قصبہ یا شہر کا سفر کیا ہے؟ اگر ہاں تو کیا آپ نے نئی سڑکوں اور، نئے مکانات پر غور کیا جو آپ کی غیر موجودگی میں بنے ہوں۔ انھیں بنانے کے لیے سامان کہاں سے آتا ہے؟
کوشش کرکے ان اشیا کی ایک فہرست بنائیے اور ان کے ممکنہ ذرائع کے نام لکھیے۔
آپ نے جو فہرست تیار کی ہے اس پر اپنے دوستوں کے ساتھ بحث کیجیے۔ کیا آپ کوئی ایسا طریقہ  بتا سکتے ہیں جس کے ذریعہ ان اشیا کے استعمال کو کم کیا جاسکے؟

16.1  ہمیں اپنے وسائل کے انتظام کی کیا ضرورت ہے؟

(Why do we need to manage our Resources?) 

صرف سڑکیں یا عمارت نہیں بلکہ وہ ساری چیزیں جن کا ہم لوگ استعمال کرتے ہیں غذا، کپڑے، کتابیں، کھلونے، لکڑی کے سامان، اوزار اور گاڑیاں—زمین پر موجودہ وسائل سے حاصل کی جاتی ہیں۔صرف ایک ہی چیز ایسی ہے جسے ہم باہر سے حاصل کرتے ہیں اور وہ ہے توانائی جو سورج سے حاصل ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ توانائی بھی جاندار عضویوں اور دوسرے مختلف طبیعی اور کیمیائی عملوں کے ذریعہ زمین پر پراسس کی جاتی ہے اور پھر ہم اس کو استعمال کرتے ہیں۔
ہمیں ان وسائل کو ہوشیاری کے ساتھ استعمال کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟ کیونکہ یہ لامحدود نہیں ہیں۔ اور طبی سہولیات میں سدھار کی وجہ سے انسانی آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اسی کے بقدر ان سبھی وسائل کی مانگ بھی بے تحاشہ بڑھتی جارہی ہے۔ قدرتی وسائل کے انتظام کی ضرورت اس لیے پڑتی ہے کہ ان وسائل کو لمبے عرصے تک استعمال کیا جاسکے اور آنے والی نسلوں کو ان کی کمی محسوس نہ ہو۔ چھوٹی موٹی غیر ضروری چیزوں کے لیے ان وسائل کو ضائع نہ کیا جائے جن سے بہت کم وقت کے لیے فائدہ حاصل ہوتا ہو۔ ان کا انتظام اس لیے بھی ضروری ہے کہ ان کا استعمال سبھی لوگ برابری کے ساتھ کرسکیں نہ کہ وہ جو امرا اور قوت والے ہیں اور عہدے والے ہیں صرف وہ استعمال کریں اور بقیہ لوگوں کو مہیا نہ ہوسکے۔
ان وسائل کے استعمال کے وقت دوسری اہم بات جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ان کے استعمال سے ماحول کو کوئی نقصان نہیں ہونا چاہیے یا انھیں حاصل کرتے وقت ماحول کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہونا چاہیے۔ مثال کے طو رپر کان کنی آلودگی کا سبب ہے کیونکہ ہر ایک ٹن دھات کے استخراج پر دھات کے میل کی بڑی مقدار باہر نکلتی ہے جو ماحول کو آلودہ کرتی ہے۔ اس لیے پائدار قدرتی وسائل کا انتظام اس بات کامتقاضی ہے کہ ہم لوگ ان فضلات (wastage)کے محفوظ خاتمہ یا انتظام وانصرام کا منصوبہ بھی بنائیں۔
ہمارے ملک میں فطرت کے تحفظ کی طویل روایات اور ثقافت کے مقابلے میں پائیدار ترقی سے متعلق موجودہ عالمی تشویش ایک نیا تصور ہے۔ ماقبل تاریخ ہندوستان میں تحفظ اور پائیدار انتظام کے اصول مستحکم بنیادوں پر قائم تھے۔ ہمارا قدیم ادب اس قسم کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے جہاں فطرت کے تئیں انسانی اقدار اور حساسیت کی بھرپور تعریف کی گئی ہے اور پائیدار کے اصول بہترین طریقے سے کارفرما تھے۔

سرگرمی 16.5

ا پنی روز مرہ زندگی میں فطرت کے تحفظ کے مختلف روایتی طور طریقوں کا مشاہدہ کیجیے۔ اپنے دوستوں کے ساتھ اس پر گفتگو کیجیے۔ اس پر ایک رپورٹ تیار کرکے جمع کیجیے۔ 


ہندوستانی متون مثلاً اپنیشد اور اسمرتی میںجنگلات کے استعمال اور انتظام کے بارے میں بہت سی تفصیلات موجود ہیں اور ان میں پائیداری کو مضمر خیال کے طور پر اُجاگر کیا گیا ہے۔1997 میں دیوی چند کے ذریعہ تصنیف دی گئی کتاب’’اتھرووید- دی سنسکرت ٹیکسٹ ود انگلش ٹرانسلیشن‘‘ نامی کتاب میں اتھرووید کے شلوک کا ترجمہ اس طرح ہے-
اے زمین ، برف سے ڈھکی، تیری پہاڑیاں اور جنگلات بہت خوشگوار ہیں۔ مختلف رنگوں والی استوار اور محفوظ زمین، میں اس زمین پر کھڑا ہوں۔ میں شکست ، قتل اور زخمی ہونے سے محفوظ کھڑا ہوں۔
اتھرووید کے دوسرے شلوک میں استعمال اور احیا کے اصول بتائے گئے ہیں جو اس طرح ہیں۔
میں تجھ سے جو کچھ بھی کھود کر حاصل کرتا ہوں اس کا احیا بہت جلد ہوجاتا ہے۔ ہم تیرے اہم مسکن اور دل کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔

ویدک عہد میں جنگلاتی نباتات کے پیداواری اور تحفظاتی دونوں پہلوئوں پر زور دیا جاتا تھا۔ ویدک عہد کے اواخر میں زراعت ایک اہم معاشی سرگرمی کے طور پر ابھری۔ یہ وہ وقت تھا جب ثقافتی منظرنامے جیسے مقدس جنگلات ، کنج، مقدس گلیارے اور مختلف قسم کی موروثی جنگلات رسوم کا ارتقا ہوا جو ویدک عہد کے بعد تک جاری رہا۔ اسی کے ساتھ ساتھ متنوع موروثی جنگلاتی رسم و رواج، قدرت اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے ذرائع کے طور پر سماجی رسم وراج ، روایات اور مذہبی رسوم کے ساتھ گھل مل گئے۔

سوالات

زیادہ ماحول موافق ہونے کے لیے آپ اپنی عادتوں میں کون کون سی تبدیلیاں لاسکتے ہیں؟
مختصر مدتی مقاصد کے لیے وسائل کا استعمال کرنے کے کیا فائدے ہوسکتے ہیں؟
یہ فوائد ان فوائد سے کس طرح مختلف ہوں گے جن کے تحت ہم لوگ وسائل کا انتظام اور استعمال طویل مدتی مقصد کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں؟
آپ کیوں ایسا سوچتے ہیں کہ وسائل کی تقسیم مساوی ہونی چاہیے ؟ وسائل کی مساوی تقسیم کے خلاف کون کون سی   طاقتیں کام کرسکتی ہیں؟

16.2 

 جنگلات اور جنگلاتی زندگی

 (Forests and Wild life) 

جنگلات حیاتیاتی تنوع (Biodiversity)کے اہم ترین مقامات ہیں۔ کسی علاقہ کی حیاتیاتی گوناگونی کی ایک پیمائش اس علاقہ میں پائی جانے والی انواع کی تعداد ہے۔ حالانکہ زندگی کی مختلف اشکال (بیکٹیریا، فرن، پھپھوند، پھول دار پودے، نیمیٹوڈ، کیڑے، پرندے، ریپٹائلز، وغیرہ وغیرہ) کی رینج بھی اہم ہیں۔ تحفظ کا ایک اہم مقصد اس حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کو بچانے کی کوشش ہے جو ہمیں وراثت میں ملی ہے۔ تجربات اور فیلڈ اسٹڈیز سے پتہ چلتا  ہے کہ اس کو نقصان پہنچنے سے ماحولیاتی توازن کو نقصان ہوسکتا ہے۔

16.2.1

  متعلقہ فریق

 (Stake Holders) 

سرگرمی 16.6 

جنگل کی ان پیداواروں کی فہرست بنائیے جن کا آپ استعمال کرتے ہیں۔
آپ کے خیال میں جنگل کے قریب رہنے والے لوگ کن چیزوں کااستعمال کرتے ہوں گے؟
آپ کے خیال میں جنگل میں رہنے والا شخص کیا استعمال کرے گا؟
اپنی کلاس کے بچوں کے ساتھ بحث کیجیے کہ یہ ضروریات کس طرح ایک دوسرے سے مختلف ہیں یا ان میں کوئی فرق نہیں ہیں اور ان کی وجوہات کیا ہیں؟


ہم سبھی مختلف جنگلاتی پیداوار کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن جنگل کی پیداوار پر ہمارے انحصار میں فرق ہے۔ ہم میں سے کچھ لوگوںکے پاس متبادل ذرائع ہیں اور کچھ کے پاس نہیں۔ جب ہم لوگ جنگلات کے تحفظ کی بات کرتے ہیںتو ہمیں اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کے دعوے دار کون ہیں۔
(i) وہ لوگ جو جنگل میں یا اس کے آس پاس رہتے ہیں اور اپنی زندگی کے مختلف پہلوئوں کے لیے جنگل کی پیداوار پر منحصرہوتے ہیں (دیکھیے شکل 16.2)۔
(ii) سرکار کا شعبہ جنگلات (Forest Department) جو جنگل کی زمین کا مالک ہوتا ہے اور جنگل سے حاصل ہونے والے وسائل کو کنٹرول کرتا ہے۔
(iii) صنعت کار—تیندو پتے سے بیڑی بنانے والے سے لے کر کاغذکے کارخانوں کے مالک تک۔ جو مختلف جنگلی پیداوار کا استعمال کرتے ہیں لیکن کسی ایک علاقہ کے جنگلات پرانحصار نہیں کرتے۔
(iv) جنگلاتی زندگی (Wild life) اور قدرتی ماحول سے رغبت رکھنے والے افراد جو قدرتی ماحول اور اس کی قدیمی شکل کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ 
آئیے دیکھیں کہ ان میں سے ہر ایک جماعت جنگل سے کیا حاصل کرتی ہے یا کیا چاہتی ہے۔ مقامی لوگوں کو بڑی مقدار میںجلانے کی لکڑی، عمارتی لکڑی اور گھاس پھوس کی ضرورت ہوتی ہے۔ بانس کا استعمال جھونپڑی بنانے اور ٹوکری تیاری کرنے میں کیا جاتا ہے جو سامان وغیرہ رکھنے کے کام آتی ہے۔ کھیتی ، مچھلی پکڑنے اور شکار کرنے کے اوزار زیادہ تر لکڑی کے بنے ہوتے ہیں۔جنگل مچھلی پکڑنے اور شکار کرنے کی عمدہ جگہیں بھی ہیں۔ پھل،پھلیاں اور دوائیں حاصل کرنے کے علاوہ جنگل جانوروں کی چراگاہ کے طور پر بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان جنگلوں سے مویشیوں کے لیے چارہ بھی اکٹھا کیا جاتا ہے۔
Pic2 Capture16
شکل 16.2
جنگلاتی زندگی کا ایک منظر
تو آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر اس طرح سے جنگلوں کا استعمال ہوگا تو ایک نہ ایک دن یہ ختم ہوجائیں گے؟ آپ کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انگریزوں کے ہندوستان آنے اور جنگلوں پر ان کے قبضہ سے پہلے صدیوں سے انسان ان جنگلات میں رہتے آئے ہیں۔ انھوں نے ایسا طریقہ اختیار کیا تھا کہ وسائل کا استعمال پائیدار طریقہ سے ہو۔ انگریزوں کے ذریعہ ان جنگلات کو اپنے قبضہ میںلینے کے بعد ان لوگوں نے یہاں کے باشندوں کو ایک محدود علاقے میں رہنے پر مجبور کردیا نیز جنگلات اور اس کے وسائل کا بے رحمی سے استعمال صرف اپنے فائدہ کے لیے کیا۔ آزادی کے بعد شعبہ جنگلات نے ان جنگلات کو اپنے قبضہ میں تو لیا لیکن ان کے انتظام ایسے کیے جس میں مقامی معلومات اور مقامی ضرورتوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔ اس لیے جنگل کے بڑے بڑے علاقے پائین، ساگوان یا یوکے لپٹس جیسے ایک ہی قسم کے درختوں والے جنگلات میں تبدیل ہوگئے۔ ان پیڑوں کولگانے کے لیے بڑے بڑے علاقوں سے نباتات ختم کردی گئی۔اس کی وجہ سے علاقہ کے حیاتیاتی تنوع کو زبردست نقصان پہنچا۔ صرف اتنا ہی نہیں، مقامی لوگوں کی مختلف ضروریات جیسے چارے کے لیے پتیاں، دوائوں کے لیے بوٹیاں، پھل اور کسیلی غذائیں اس طرح کے جنگل سے پوری  نہیں ہوسکتیں۔ اس طرح کے پیڑوں کا لگانا صنعتوں کے لیے فائدہ مند ہے تاکہ مخصوص پیداوار حاصل کی جاسکے اور ساتھ ہی ساتھ یہ شعبہ جنگلات کی آمدنی کاایک بہترین ذریعہ بھی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ کتنی صنعتیں جنگل کی پیداوار پر منحصر ہیں، عمارتی لکڑی، کاغذ،لاکھ اور کھیل کے سامان یہ سبھی جنگل کی پیداوار پر منحصرہیں۔

سرگرمی 16.7

جنگل کی دو پیداواروں کے نام بتائیے جو کسی صنعت کی بنیاد ہوں۔
بحث کیجیے کہ کیا یہ صنعت لمبے عرصے کے لیے پائیدار ہے۔ یاہمیں ان ماحصلات کی کھپت کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے؟

صنعتیں جنگلات کو اپنی فیکٹریوں کے لیے کچے مال کا صرف ایک ذریعہ سمجھتی ہیں۔ ذاتی مفادات کے پیش نظر لوگوں کا بڑا گروپ حکومت سے انھیںکم سے کم قیمت پر حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ چونکہ حکومت تک ان صنعتوں کی رسائی مقامی لوگوں کے مقابلہ بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے یہ کسی مخصوص علاقہ کے جنگلات کی پائداری میں دلچسپی نہیں رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک علاقہ کے ساگوان کے سارے پیڑوں کو کاٹنے کے بعد وہ کسی دوسرے علاقہ کے جنگل سے ساگوان حاصل کرلیں گے جو وہاں سے کافی دور ہوگا۔ان لوگوں کو اس بات کی فکر نہیں ہوگی کہ ہر علاقہ کے جنگلات کی پیداوار آنے والی نسلوں کے لیے بھی باقی رہنی چاہیے۔ آپ کے خیال میں مقامی لوگوں کے اسی قسم کے کردار کو کون سی چیز روک سکتی ہے؟
آخر میں، ان افراد کا ذکر کرتے ہیں جو قدرتی ماحول اور جنگلاتی زندگی سے رغبت رکھتے ہیں لیکن جنگلوں پر کسی بھی طرح انحصار نہیں کرتے ہیں لیکن جنگلات کے انتظام میں ان کی حصہ داری ہوتی ہے۔ جنگلاتی زندگی کے تحفظ کی ابتدا بڑے جانوروں مثلاً شیر، باگھ، ہاتھی اور گینڈے سے ہوئی۔ اب وہ لوگ مکمل حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ لیکن کیا ہمیں ایسے لوگوں کواہمیت نہیں دینی چاہیے جو جنگلاتی نظام کا حصہ بن گئے ہیں؟ بہت ساری ایسی مثالیں ہیں جن میں مقامی لوگوں کو روایتی طریقوں سے جنگلات کا تحفظ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر—راجستھان کا بشنوئی فرقہ جس کے لیے جنگل اور جنگلاتی زندگی کی حفاظت ایک مذہبی عقیدہ بن گیاہے۔ حال ہی میں حکومت ہند نے جنگلاتی زندگی کے تحفظ کے لیے امرتا دیوی بشنوئی کی یاد میں ’’امرتا دیوی بشنوئی،نیشنل ایوارڈ قائم کیا ہے۔ امرتا دیوی بشنوئی نے 1731 میں363 دوسرے لوگوں کے ہمراہ راجستھان کے جودھ پور کے ایک گائوں کھیجرالی میں ’’کھیجری ،پیڑوں کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کردی تھی۔
Pic3 Capture16
کھیر درخت
تحقیقی مطالعہ سے پتہ چلتا ہے ہے کہ جنگلی علاقہ کے روایتی استعمال کے خلاف تعصب یا جانبداری    بے بنیادہے۔ یہاں ایک مثال پیش ہے۔ عظیم ہمالیہ نیشنل پارک کے ریزرو حلقہ کے اندر الپائین گھاس کے میدان ہیں جسے گرمی میں بھیڑوںنے کھا لیا خانہ بدوش گڈریئے گھاٹیوں سے اپنی بھیڑوں کے جھنڈ کو گرمی میں اوپر کی جانب لے جاتے ہیں۔ جب یہ نیشنل پارک بنایا گیاتھا، تو یہ روایت بندکردی گئی۔ اب یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ پہلے تو یہ گھاس بہت لمبی ہوجاتی ہے اور پھر زمین پر گر جاتی ہے اورنئی گھاس کی نمو رک جاتی ہے۔
محفوظ علاقوں کا انتظام، مقامی لوگوں کودور رکھ کر، طاقت کے استعمال سے لمبے وقت کے لیے شاید ممکن نہیں ہے۔ کسی بھی طرح سے، جنگلوں کو ہونے والے نقصانات کے لیے صرف مقامی لوگوں کو ذمہ دار نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کے لیے صنعتی ضرورتوں اور ترقیاتی منصوبوںجیسے سڑکیں، عمارتیں یا باندھ کے لیے جنگلات کی کٹائی (Deforestation) کو نظر انداز نہیں کرسکتے ان محفوظ علاقوں (Reserves) میں سیاحوں کے ذریعہ یا ان کی سہولیات کے لیے کیے گئے انتظامات سے جو نقصان ہوتے ہیں اس کا بھی دھیان رکھنا چاہیے۔
ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ جنگلاتی زندگی میں انسانی عمل دخل نے ہمیشہ نقصان پہنچایا ہے۔ جنگل کے وسائل کا استعمال اس طرح کرنے کی ضرورت ہے جو ماحول اور ترقی دونوں کے حق میں ہو۔ دوسرے لفظوں میں جب ماحول کا تحفظ کیاجائے گا تو اس کے منظم استعمال کا فائدہ مقامی لوگوں کو ملنا چاہیے یہ لامرکزیت کا ایسا نظام ہے جس میں معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ بھی جاری رہے گا ۔ہم جس قسم کی معاشی اور سماجی ترقی چاہتے ہیں اس سے ہی بالآخر یہ طے ہوگا کہ ماحول کا تحفظ ہورہا ہے یا وہ برباد ہورہاہے۔ ماحول کو کبھی بھی پودوں اور جانوروں کاصرف سجاوٹی مجموعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ ایک بہت پیچیدہ ہستی ہے جو ہمارے استعمال کے لیے بے شمار قدرتی وسائل فراہم کرتی ہے۔ ہمیں ان وسائل کو اپنی معاشی اور سماجی ترقی نیز مادی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے بڑی ہوشیاری سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

16.2.2

جنگلات کا انتظام

(Management of Forest) 

ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیامذکورہ بالا تمام فریقوں کے مقاصد جنگلات کے انتظام سے متعلق ایک جیسے ہیں۔جنگل کے وسائل اکثر وبیشتر بازار قیمت سے کم پر صنعت کاروں کو مہیا کرائے جاتے ہیں۔ جب کہ مقامی لوگوں کو بالکل نہیں دیئے جاتے ہیں۔ چپکو تحریک (Hug the trees Movement) مقامی باشندوں کو جنگلات سے دورکرنے کی پالیسی کا ہی نتیجہ ہے۔ اس تحریک کی شروعات 1970کی دہائی میں ، ہمالیہ کے اونچے پہاڑی سلسلے میں گڑھوال کے رینی گائوں میں پیش آنے والے  ایک واقعہ سے ہوئی تھی۔ یہ تنازعہ لکڑی کے ایک ٹھیکیدار اور مقامی لوگوںکے درمیان شروع ہوا تھا  جسے گائوں کے قریب کے جنگل سے پیڑ کاٹنے کی اجازت دے دی گئی تھی، ایک دن جب گائوں کے مرد موجودنہ تھے تو ٹھیکیدار کے مزدور جنگل میں پیڑ کاٹنے کی غرض سے داخل ہوگئے۔ گائوں کی عورتیں بالکل بے خوف ہوکر جنگل میںپہنچیں اور پیڑوں سے بغل گیر ہوگئیں اور اس طرح پیڑوں کوکٹنے سے بچا لیا۔ بالآخرٹھیکیدار کو واپس لوٹنا پڑا۔
قدرتی وسائل پر کنٹرول کی اس مسابقت میں قابل احیا ان وسائل کا تحفظ مخفی ہے۔ اسی مقصد سے ان کے استعمال کے طریقے پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ لکڑی کے ٹھیکیدار نے اس علاقے کے تمام درختوں کو کاٹ کر گرا دیا ہوتا اور علاقہ ہمیشہ کے لیے بے شجر ہوجاتا۔ مقامی لوگ درختوں کے اوپر چڑھ کر چند شاخیں اور پتیاں ہی کاٹتے ہیں جس سے وقت کے ساتھ ساتھ ان کا دوبارہ احیا بھی ہوتا رہتا ہے۔ چپکو تحریک، بہت تیزی سے کئی کمیونٹی میں پھیل گئی اور ذرائع ابلاغ نے بھی اس میں تعاون کیا اور سرکار کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ جنگلات کس کے ہیں اور جنگلاتی وسائل کے استعمال کے سلسلے میں ترجیحات کو متعین کرنے کے لیے دوبارہ غور کرنے پر مجبورکردیا۔ تجربہ نے لوگوں کو سکھا دیا ہے کہ جنگلات کی بربادی سے صرف جنگلات کی دستیابی ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ مٹی کی کوالٹی اور آبی ذرائع بھی متاثر ہوتے ہیں۔ مقامی لوگوں کی حصہ داری سے جنگلات کے انتظام کو یقینا زیادہ کارگر بنایا جاسکتا ہے۔

جنگلات کے انتظام میں عوام کی شمولیت کی ایک مثال

 (An Example of People' Pparticipation in the Management of Forests): 

مغربی بنگال کے شعبہ جنگلات کو  1992ء میں صوبہ کے جنوب مغربی اضلاع میںبرباد ہوچکے سال کے جنگلات کو پھر سے جلا بخشنے میں اپنے منصوبے کے ناکام ہونے کی وجوہات معلوم ہوئیں۔ پولیس کے انتظامات اورنگرانی کرنے والوں کے روایتی طریقہ نے عوام کو انتظامیہ سے دور کردیا۔ اس کے نتیجہ میں گائوں کے لوگوں اور ان کے درمیان اکثر وبیشتر ٹکرائو ہوتا رہا۔ جنگل اور زمین سے متعلق تنازعوں نے نکسیلوں کی زیر قیادت متشدد تحریک کو اور بھی ہوا دی۔
چنانچہ شعبہ نے اپنے طریقۂ کار کو بدلا، مدنا پور ضلع کے ارا بری جنگل سے ایک منصوبے کی شروعات کی۔ یہاں ایک فاریسٹ آفیسر اے ۔کے۔ بنرجی نے گائوں کے لوگوں کو اپنے منصوبے میں شامل کیا اور ان کے تعاون سے 1272ہیکڑ زمین پر پھیلے سال کے جنگل کو محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ اس کے عوض میں گائوں والوں کو ریشم کی کاشت اور کٹائی میں روزگار ملااور پیدا ہونے والی  فصل کا 25فیصد انھیں دیا گیا اور بہت ہی کم قیمت پر جلانے کے لیے  لکڑی اور جانوروں کے لیے چارہ جمع کرنے کی اجازت دی گئی۔ مقامی لوگوں کی دلچسپ اور فعا ل شمولیت کی وجہ سے ارابری کے سال کے جنگل میں رونق لوٹ آئی اور 1983تک یہ جنگل 12.5کروڑ کی مالیت کا بن گیا۔

سرگرمی 16.8

مندرجہ ذیل سے جنگلوں کو ہونے والے نقصانات پر بحث کیجیے۔
(a) نیشنل پارکوں میں سیاحوں کے لیے آرام گاہوں کی تعمیر۔
(b) نیشنل پارکوں میں پالتو جانوروں کو چرانا۔
(c) سیاحوںکاپلاسٹک کی بوتلیں اور ڈبے وغیرہ پھینک کرنیشنل پارکوں کو گندا کرنا۔

سوالات

ہم لوگوں کو جنگلات اورجنگلاتی زندگی کا تحفظ کیوں کرنا چاہیے؟
جنگلوں کے تحفظ کے لیے کچھ مشورے دیجیے؟

16.3 

 سبھی کے لیے پانی

 (Water for All) 


سرگرمی 16.9

مہاراشٹر میں ایک واٹر تھیم پارک (water theme park)کے اطراف میں بسے گائوں پانی کی شدید قلت سے دوچار ہیں۔ بحث کیجیے کہ کیا یہ دستیاب پانی کا مناسب استعمال ہے۔


پانی زمین پرہر قسم کی زندگی کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ ہم نے درجہ نہم میں پانی کے وسائل، آبی دور اور پانی کو گندا کرنے والے عناصر میں انسان کے عمل دخل کا مطالعہ کیا ہے۔ انسانی مداخلت مختلف علاقوں میں پانی کی دستیابی کو بھی متاثر کرتی ہے۔

سرگرمی 16.10

اٹلس کی مدد سے ہندوستان میں بارش کے پیٹرن کا مطالعہ کیجیے۔
ان علاقوں کی شناخت کیجیے جہاں پانی کی بہتات ہے یا کہ جہاں پانی کی کمی ہے۔

مذکورہ بالا سرگرمی کے بعد، آپ کو یہ جان کر بہت تعجب ہوگا کہ پانی کی کمی والے علاقوں اور بہت زیادہ غریب علاقوں میں گہرا تعلق ہے۔
بارش کے پیٹرن کا مطالعہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں پانی کی دستیابی کی مکمل سچائی کو ظاہر نہیں کرتا۔ ہندوستان میں بارش بڑے پیمانہ پر مانسون کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ زیادہ تر بارش سال کے کچھ ہی مہینوں میں ہوتی ہے۔ قدرت کے عطا کیے ہوئے مانسون کے باوجود زمین کے اندر پانی کی دستیابی کو قائم رکھنے میں ناکامی کی بڑی وجہ نباتات کی کمی، زیادہ پانی کی کھپت والی فصلیں صنعتوں کے کچرے سے ہونے والی آلودگی نیز شہری کچرے کی آلودگی وغیرہ ہیں۔ قدیم زمانے سے آب پاشی کے لیے باندھ، تالاب اور نہروں کا استعمال ہمارے ملک کے مختلف حصوں میں ہوتا رہا ہے۔ یہ عموماً مقامی مداخلت تھی جو مقامی لوگ منظم طور پر انجام دیتے تھے۔ اس طرح کہ دونوںیعنی کاشت کاری اور روز مرہ کی بنیادی ضرورتوں کوتمام سال پورا کیاجاسکے اور صدیوں کے تجربات کی  بنیاد پر ایسی فصلیں اگائی جاتی تھیں جن میں پانی کا کم سے کم استعمال ہو اور دستیاب پانی سے مکمل کام انجام دیا جاسکے۔ آب پاشی کے ان نظاموں کا رکھ رکھائو بھی مقامی لوگوں کے ہاتھ میں تھا۔
برطانوی نظام کی آمد نے دوسری چیزوں کی طرح اس نظام کو بھی تبدیل کردیا۔ بڑے پیمانے کے پراجیکٹ — بڑے باندھ اور نہریں جو کافی دوری تک پھیلی ہوئی تھیں، سب سے پہلے برطانوی حکومت کے ذریعہ عمل میں آئیں اور پھر آزاد ہندوستان کی ہماری سرکار نے اسی جذبہ سے انھیں آگے بڑھایا۔ ان سبھی بڑے پروجیکٹوں(Mega Project) کی وجہ سے سینچائی کا مقامی طریقہ نظر انداز کردیا گیا اور سرکار نے پھر بڑھ چڑھ کر ان نظاموں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اس طرح پانی کے مقامی ذرائع سے مقامی لوگوں کا کنٹرول ختم ہو گیا۔

مزید معلومات

ہماچل پردیش میں کولھس (Kulhs in Himachla Pradesh) 

ہماچل پردیش کے کچھ حصوں میں چار سو سال قبل نہر کے ذریعہآب پاشی کی ا یک مقامی تنظیم عمل میں آئی تھی جسے کولھس (Kulhs) کہتے ہیں۔ جھرنوں کے پانی کو انسان کے ذریعہ بنائے گئے راستوں میں چھوڑدیاجاتا تھاجو پانی کو پہاڑی گائوں میں لے جاتا تھا۔ کولھس میں بہتے پانی کاانتظام سبھی گائووں کے درمیان ایک مشترک معاہدہ کے ذریعہ ہوتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فصل لگانے کے زمانہ میں پانی کا استعمال سب سے پہلے اس گائوں کے ذریعہ ہوتا تھا جو کولھس کے ذریعہ سے سب سے دور تھا اور نزدیک والے گائوں اس کا استعمال بعد میں کرتے تھے۔ یہ کولھس کا انتظام دو یا تین لوگوں کے ذریعہ ہوتا تھا جسے گائوں والے محنتانہ دیتے تھے۔آب پاشی کے علاوہ، کولھس کے پانی کا رسائو مٹی میں بھی ہوتا تھا اور ا س سے چشموں کی سیرائی بھی ہوتی تھی جب کولھس کومحکمۂ آب پاشی نے اپنے ہاتھ میں لے لیا تو یہ ناکارہ ہوگئے اور پانی کی آپسی تقسیم کا پرانا نظام بھی ختم ہوگیا۔


16.3.1

باندھ

 (Dams) 

ہمیں باندھ بنانے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ بڑے باندھوں میں صرف آب پاشی کے لیے ہی کافی پانی جمع نہیں رہتا بلکہ اس سے بجلی بھی پیدا کی جاتی ہے جیسا کہ ہم نے پچھلے باب میں بحث کی تھی۔ ان باندھوں سے نکلنے والی نہروں کے نظام پانی کو طویل فاصلوں  تک لے جاسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ، اندرا گاندھی نہرنے راجستھان کے ایک بڑے علاقہ میں ہریالی لانے کا کام کیا۔ حالانکہ، پانی کے ناقص انتظام کی وجہ سے اس کے فائدے چند لوگوں تک ہی محدود ہوگئے۔ پانی کی تقسیم مساوی نہیں ہے، اس لیے پانی کے ذرائع کے نزدیک رہنے والے لوگ گنا اور چاول جیسی فصلیںاگاتے ہیں جن کو پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے جب کہ وہ لوگ جو ذرائع سے دور رہتے ہیں انھیں پانی مناسب مقدار میں نہیں ملتااور وہ یہ فصلیں نہیں اگا سکتے۔ایک طرف تو وہ دکھی لوگ ہیں جن سے باندھ کے فائدوں سے متعلق وعدے کیے گیے لیکن انھیں ملاکچھ نہیں اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو باندھ اور اس کی نہروں کے جال کی تعمیر کی وجہ سے بے گھر ہوگئے۔
پچھلے باب میں ہم لوگوں نے ان وجوہات پر بحث کی جن کی وجہ سے بڑے باندھوں کے بنانے کی مخالفت کی جاتی ہے جیسے گنگا ندی پر ٹیہری باندھ۔ آپ نے نرمدا بچائو تحریک کے بارے میں ضرور سنا ہوگا جس میں شامل  لوگوں نے نرمدا ندی پر بنے سردار سروور باندھ کی اونچائی بڑھانے کی مخالفت تھی۔ بڑے باندھوں کے متعلق تنقیدخاص طور سے  تین مسائل کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے-
(i) اس میں سب سے اہم، سماجی مسائل ہیں کیونکہ کسانوں اور قبائیلوں کی ایک بڑی تعداد بے گھر ہوجاتی ہے اور انھیں معاوضہ بھی نہیں ملتا۔
(ii) معاشی مسائل ، کیونکہ اس میں عوام کا بہت زیادہ روپیہ پیسہ خرچ ہوتا ہے اور اس لحاظ سے فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
(iii) تیسرے ماحولیاتی مسائل ہیں کیونکہ باندھوں کی تعمیر سے بڑے پیمانہ پر جنگلات برباد ہوجاتے ہیں حیاتی تنوع کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔
مختلف ترقیاتی پراجیکٹ کی وجہ سے جو لوگ منتقل کیے جاتے ہیں ان میں زیادہ تر غریب قبائلی لوگ ہوتے ہیں جنھیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا اوریہ لوگ اپنی زمینوں اور جنگلوں سے بغیر کسی معاوضہ کے نکال دیے جاتے ہیں۔ 1970کی دہائی میں بنے تاوا باندھ کی وجہ سے جو لوگ ہٹائے گئے تھے انھیں آج بھی وہ فائدے حاصل نہیں ہوپائے  جن کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔

16.3.2 

 واٹر ہارویسٹنگ

 (Water Harvesting) 

واٹر شیڈ انتظام (Watershed Management)  مٹی اور پانی کے تحفظ کے سائنسی طریقے پر زور دیتا ہے تاکہ حیاتیاتی مادہ کی پیداوار میں اضافہ ہو۔اس کا اہم مقصد زمین اور پانی کے پرائمری وسائل کا فروغ تاکہ سیکنڈری وسائل پودوں اور جانوروں کی پیداوار اس انداز سے ہوسکے کہ ماحولیاتی توازن خراب نہ ہو۔ وائرشیڈ انتظام نہ صرف واٹر شیڈ سے کمیونٹی کی آمدنی اور پیداوار میں اضافہ ہوتاہے بلکہ یہ سیلاب اور قحط کو بھی کم کرتا ہے نیزنچلے باندھ اور پانی کے ذخائر کی زندگی کو بھی بڑھاتا ہے۔ مختلف تنظیموں کے س عمل سے زمین کے اندر پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے اور ندیوں کو بھی نئی زندگی ملی ہے۔ واٹر ہارویسٹنگ کے  قدیم نظاموں کو باندھ جیسے بڑے بڑے پروجیکٹوں کے متبادل کے طو رپر پھر سے زندہ کرنے کی کوششوں میں مصروف۔ یہ کمیونٹی ملک کی زمین پرگرنے والی پانی کی ہر بوند کی حفاظت کرنے کے لیے ہرایک دیسی طریقے کو ا پنانا چاہتی ہیں مثلاً چھوٹے چھوٹے گڑھے اور جھیلیں کھودنا، سادہ واٹر شیڈ سسٹم رکھنا، مٹی کے چھوٹے چھوٹے باندھ بنانا، خندق یا گڑھا تیار کرنا، بالو اور چونا پتھر کے آبی ذخائرتیار کرنا، چھت کے اوپر پانی جمع کرنے والی اکائیاںبنانا۔اس عمل سے زمین کے اندر پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے اور ندیوں کو بھی نئی زندگی ملی ہے۔
ہندوستان میں آبی ذخیرہ اندوزی کا تصور کافی پرانا ہے۔ راجستھان میں خادن، ٹینک اور ندیاں، مہاراشٹر میں 
تال، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش میں بوندھی، بہار میں اہارس او رپائنس، ہماچل پردیش میں کولھس، جموں کے کانڈی علاقہ میں پونڈ اور تمل ناڈو میں ایری (تالاب)، کیرالہ میں سرنگم اور کرناٹکا میں کٹاکچھ قدیم پانی کی ذخیرہ اندوزی کے طریقے
 ہیں۔ پانی کی ذخیرہ اندوزی کی یہ شکلیں اب بھی استعمال میں ہیں (مثال کے طور پر شکل 16.3دیکھیے)۔ پانی کی ذخیرہ اندوزی کی یہ تکنیکیں زیادہ تر مقامی ہوتی ہیں اور ان کے فوائد بھی مقامی ہوتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے ہاتھوں میں ان مقامی 
پانی کے ذرائع کا انتظام بد انتظامی اور ضرورت سے زیادہ استحصال کو کم کرتا ہے یا ختم کرتا ہے۔

ہزاروں قحط زدہ گاؤں کو بچانے کے لیے ہماری ابتدائی تکنیک ہندوستانی ’’آبی انسان‘‘ کی مدد کر رہی ہے۔ ان سے ہندوستان کے خشک علاقوں کے ایک حصہ میں دیہاتی لوگوں کی زندگی گذارنے کے طریقے میں تبدیلی آتی ہے۔
ڈاکٹر راجندر سنگھ کی دودہائی کی کوششوں سے راجستھان میں آبی ذخائر کے لیے8600 جوہدوں اور ددیگر ڈھانچوں کی تعمیر ہوئی اورصوبے کے تقریباً1000 گاؤں میں پانی کو واپس لایا گیا ہے۔ سال 2015 میں انھیں اسٹاک ہوم واٹر پرائز سے نوازا گیاہے۔ کسی شخص کو کرۂ ارض کے مکینوں کے لیے آبی وسائل کے تحفظ میں تعاون کے لیے دیا جانے والا یہ سب سے معزز ایوارڈ ہے۔

چھچھلا کنواں
خادن بنڈ
خادن یا فصل کا علاقہ
آبگیر علاقہ
کھاری علاقہ
رسPic5 Capture16
شکل 16.3 واٹر ہارویسٹنگ کا روایتی نظام۔ خادن نظام کا ایک تصوری خاکہ
ہموار علاقوں میں واٹر ہارویسٹنگ کے لیے بنائے گئے ڈھانچے زیادہ ترہلالی شکل کے مٹی کے پشتے ہوتے ہیں یا پھر کنکریٹ اور اینٹ پتھر کے بنے’’پانی روک ڈیم‘‘ ہوتے ہیں جو چھوٹے ہوتے ہیں اور زیادہ اونچے نہیں ہوتے یہموسمی بارش کے پانی کو رو
ک لیتے ہیں۔ ان ڈھانچوں کے پیچھے مانسون کی بارش تالاب کو بھر دیتی ہے۔ صرف بڑے ڈھانچے پورے سال پانی کو جمع رکھ پاتے ہیں زیادہ تر ڈھانچے مانسون کے بعد 6مہینہ یا اس کے پہلے ہی خشک ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ ان کا اصل مقصد سطحی پانی کو جمع کرنا نہیں ہے بلکہ سطح کے نیچے گرائونڈ واٹرکو جلا بخشنا ہے۔ سطح زمین کے اندر پانی جمع کرنے کے کئی فائدے ہیں۔ یہ بھاپ بن کر نہیں اڑتابلکہ زمین کے اندر پھیل کر کنویں کو ریچارج کرتے ہیں۔ اور بڑے حلقہ میں نباتات کونمی مہیا کراتیہیں۔ اس کے علاوہ یہ مچھروں کی تولید کے مواقع فراہم نہیں کرتا کیونکہ گڑھوں، حوضوں اور مصنوعی جھیلوں میں ٹھہرے ہوئے پانی کے اندر مچھروں کو تولید ہوتی ہے۔ زمین کی سطح کے اندر کا پانی انسانی اور حیوانی فضلہ کے ذریعہ آلودہ بھی نہیں ہوتا۔

سوالات

اپنے علاقہ میں واٹر ہارویسٹنگ (Water-harvesting)کے روایتی نظام کا پتہ لگائیے۔
مذکورہ بالا نظام کا موازنہ پہاڑی یا میدانی یا پٹھاری علاقہ کے ممکنہ نظام سے کیجیے۔
اپنے علاقہ میں آبی ذرائع کی معلومات حاصل کیجیے۔ پانی کے ان ذرائع سے کیا علاقہ کے ہر آدمی کو پانی مل پاتا ہے؟

16.4

 کوئلہ اور پیٹرولیم

 (Coal and Petroleum) 

ہم نے جنگلات، جنگلاتی زندگی اور پانی جیسے وسائل کے پائدار استعمال اور تحفظ سے جڑے کچھ مسائل کا مطالعہ کیا۔ اگر ہم ان وسائل کا استعمال پائدار طریقہ سے کریں تو یہ ہماری ضرورتوں کو ہمیشہ پورا کرسکتے ہیں۔ اب ہم ایک دوسرے اہم وسیلے کی طرف آتے ہیں یہ وسیلہ ہے رکازی ایندھن (Fossil Fuels) یعنی کوئلہ اور پیٹرولیم جو ہمارے لیے توانائی کا اہم ذریعہ ہے۔ صنعتی انقلاب کے بعد سے ہم اپنی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اور بڑی تعداد میں مختلف چیزیں بنانے کے لیے ہم بڑی مقدار میں توانائی کا استعمال کر رہے ہیں۔ توانائی کی یہ ضرورتیں زیادہ تر کوئلہ اور پیٹرولیم سے پوری ہوتی ہیں۔
توانائی کے ان ذرائع کا انتظام ان ذرائع سے تھوڑا مختلف ہے جن پر ہم پہلے گفتگو کرچکے ہیں۔کوئلہ اور پیٹرولیم کروڑوں سال پہلے بائیو ماس کے تحلیل ہونے سے بنے تھے اور اس لیے یہ وہ وسائل ہیں جو مستقبل میں ختم ضرورہوں گے چاہے انھیں ہم کتنی ہی ہوشیاری سے کیوں نہ خرچ کریں۔ اور تب ہمیں توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ کوئلہ اورپیٹرول کے موجودہ ذخائر کب تک چلیں گے۔ اس سلسلہ میں کئی اندازے لگائے گئے ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق اگر پیٹرولیم کو موجودہ شرح سے ہی خرچ کیا جاتا رہاتو اگلے 40سالوں میں پیٹرولیم کا خزانہ ختم ہوجائے گا اور اگلے 200سالوں میں کوئلہ کے وسائل ختم ہوجائیں گے۔
توانائی کے دیگر وسائل کی تلاش صرف اس وجہ سے نہیں ہے کہ کوئلہ اور پٹرولیم ہمارے استعمال کی چیزیں ہیں۔ کوئلہ اور پیٹرولیم بائیوماس سے بنے ہیں، اسی لیے ان میں کاربن کے علاوہ ہائڈروجن، نائٹروجن اور سلفر بھی ہیں۔ جب یہ جلتے ہیں تو کاربن ڈائی آکسائڈ، پانی، نائٹروجن کے آکسائڈ اور سلفر کے آکسائڈ بنتے ہیں۔جب ہوا (آکسیجن) کی ناکافی مقدار میں احتراق (Combustion) ہوتا ہے توکاربن ڈائی آکسائڈکی جگہ کاربن مونو آکسائڈ بنتی ہے۔ نائٹروجن اور سلفر کے آکسائڈ اور کاربن مونو آکسائڈ اونچے ارتکاز پر زہریلے ہوتے ہیں نیز کاربن ڈائی آکسائڈ ایک گرین ہائوس گیس ہے۔ کوئلہ اور پیٹرولیم پر دوسری طرح سے نظر ڈالی جائے تویہ کاربن کے کافی بڑے ذخائر ہیں اور اگر یہ سبھی کاربن ڈائی آکسائڈ میں تبدیل ہوجائیں تو یہ آب وہوا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدارکوکافی بڑھا دیں گے جس سے گلوبل وارمنگ (Global Warming) میں اضافہ ہوجائے گا۔ اس لیے ہمیں ان وسائل کو صحیح طورپر استعمال کرنا چاہیے۔

سرگرمی 16.11

کوئلہ کا استعمال تھرمل پاوراسٹیشنوں (Thermal power Stations) میں ہوتا ہے اور پیٹرول، ڈیزل جیسے پیٹرولیم کے ماحصلات کا استعمال نقل وحمل کے ذرائع جیسے موٹر گاڑیوں، پانی کے جہازوں اور ہوائی جہازوں میں ہوتاہے۔اب برقی آلات اور جدید ذرائع نقل وحمل کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں ہے۔ اس لیے کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ کوئلہ اورپیٹرولیم کا ہمارا خرچ کن طریقوں سے کم کیا جاسکتاہے۔


ہماری زندگی میں سادگی پسندی توانائی کے خرچ میں فرق لا سکتے ہیں۔ مندرجہ ذیل کے نسبتی فوائد، نقصانات اور ماحول—دوست پہلوئوں پر غور کیجیے۔
(i) بس کا سفر، خوداپنی گاڑی کا استعمال یا پیدل چلنایاسائیکل چلانا۔
(ii) اپنے گھروں میں بلب یا فلوریسینٹ ٹیوب کا استعمال
(iii) لفٹ یا سیڑھی کا استعمال
(iv) جاڑے کے دنوں میں ایک اضافی سویٹر پہننا یاہیٹر،سگڑی وغیرہ جیسے آلات کا استعمال۔
کوئلہ اور پیٹرولیم کا انتظام، ہماری مشینوں کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ایندھن نقل وحمل کے لیے اندرونی احتراقی انجن میں عام طور سے استعمال کیا جاتا ہے۔ حال کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ان انجنوںمیں مکمل احتراق کے ذریعہ انجن کی صلاحیت کو بڑھایا جاسکتا ہے اور آلودگی کم کی جاسکتی ہے۔

سرگرمی 16.12

گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں کے لیے آپ نے یورو1-اور یورو II-نارمس کا نام(Euro, Euro II Norms ضرور سنا ہوگا۔ معلوم کیجیے کہ یہ نارمس کس طرح آلودگی کم کرنے کا کام انجام دیتے ہیں۔

16.5  

 قدرتی وسائل کے انتظام کا ایک مختصرجائزہ 

 (An Overview of Natural Resource Management)

قدرتی وسائل کا پائدار انتظام مشکل کام ہے۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم ان تمام لوگوں کے مفادات کا خیال رکھیں جو اس سے وابستہ ہیں۔ ہمیں یہ قبول کرنا چاہیے کہ لوگ اپنی دلچسپی کی ترجیحات کے مطابق ہی اس سلسلے میں کوشش کریں گے۔ لیکن یہ احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے مفاد پرستانہ اغراض سے اکثر لوگوں کے دکھوںمیں اضافہ ہوگااور ہمارے ماحول کی مکمل بربادی دھیرے دھیرے بڑھتی جائے گی۔ اصول وقانون سے آگے بڑھ کر ہمیں اپنی ضرورتوں کوانفرادی اور اجتماعی طورپر کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ترقی کے فوائدموجودہ اور آنے والی نسلوں تک پہنچیں۔

آپ نے کیا سیکھا

ہمیں جنگلات، جنگلاتی زندگی، پانی، کوئلہ اور پیٹرولیم جیسے وسائل کو پائدار طریقہ سے استعمال کرنا چاہیے۔
ہم ماحول پر پڑنے والے دبائو کوانگریزی مقولےRefuse،Reduce ، Reuse،Repurpose اورRecycle  کا اپنی زندگی میں ایمانداری سے استعمال کرکے کم کرسکتے ہیں۔Refuse کا مطلب ہے انکار کرو،Reduceکا مطلب ہے استعمال کم کرو،Reuse کا مطلب ہے دوبارہ استعمال کر و،Repurpose کا مطلب ہے کوئی چیز جب اپنے اصل استعمال کے لائق نہیں رہے تو اسے دوسرے کسی مفید مقصد کے لیے استعمال کرواور Recycleکا مطلب ہے کہ دوری گردش کے ذریعہ اس چیز کو پھر سے قابل استعمال بنائو۔
جنگلات کے انتظام میںان لوگوں کی بھی شمولیت ہونی چاہیے۔ جن کے جنگلات سے مفادات وابستہ ہیں۔
باندھوں کی تعمیر کرکے پانی کے وسائل کو استعمال کرنے میں کچھ سماجی، معاشی اور ماحولیاتی پہلو بھی وابستہ ہیں۔ بڑے باندھوں کے متبادل موجود ہیں۔ یہ مقامی نوعیت کے ہیں اور ان کے ذریعہ ایسے مواقع فراہم ہوسکتے ہیں کہ مقامی لوگ اپنے مقامی وسائل کا خود انتظام کریں۔
چونکہ ایندھن، کوئلہ اور پیٹرولیم بالآخر ختم ہوجائیں گے۔ اور چونکہ یہ ماحول کو آلودہ کرتے ہیںاس لیے ہمیں ان وسائل کا احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔

مشقیں

ماحول موافق ہونے کے لیے آپ اپنے گھروں میں کیا تبدیلیاں تجویز کریں گے؟
کیا آپ اپنے اسکول میں کسی ایسی تبدیلی کا مشورہ دے سکتے ہیںجس سے یہ ماحول دوست ہوجائے۔
اس باب میں ہم نے دیکھا کہ جنگلات اور جنگلاتی زندگی کے چارفریقین ہیں۔ ان میں سے کن کے پاس جنگل کی پیداوارکے انتظام کی ذمہ داری ہونی چاہیے؟ آپ ایسا کیوں سوچتے ہیں؟
ایک فرد کی حیثیت سے آپ مندرجہ ذیل کے انتظامات میں کس طرح تعاون کرسکتے ہیں یافرق لاسکتے ہیں۔
(i) جنگلات اور جنگلاتی زندگی (ii) آبی وسائل (iii) کوئلہ اور پیٹرولیم
ایک فرد کی حیثیت سے آپ کس طرح مختلف قدرتی وسائل کے اپنے خرچ کو کم کرسکتے ہیں؟
ایسی پانچ چیزوں کے نام لکھیے جو آپ نے گذشتہ ہفتہ مندرجہ ذیل کے لیے انجام دیں۔
(a) اپنے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے۔
(b) اپنے قدرتی وسائل پر دبائو بڑھانے کے لیے۔
اس باب میں اٹھائے گئے امور کی بنیاد پر آپ اپنی زندگی میں وسائل کے پائدار استعمال کے لیے کون سی تبدیلیاں شامل کریں گے؟