Skip to content
Sabrang  Chapter-1

پطرس بخاری

(1898 – 1958)

اصل نام سیّد احمد شاہ بخاری تھا۔اردو ادب میں پطرس کے قلمی نام سے مشہور ہوئے۔انگریزی میں ایم۔اے کرنے کے بعد گور نمنٹ کالج، لاہور میں انگریزی کے استاد مقرّر ہوئے۔بعد میں آل انڈیا ریڈیو   سے وابستہ ہو گئے اور یہاں کئی برس تک ڈائریکٹر جنرل رہے۔
پطرس بخاری نے اگرچہ کم لکھا لیکن شہرت بہت حاصل کی۔ پطرس کے مزاحیہ مضامین کا مجموعہ’مضامینِ پطرس‘ کُل دس مضامین پر مشتمل ہے، مگر اس مختصر کتاب میں قہقہوں کی دنیا آباد ہے۔ انھوں نے انگریزی ادب کے مطالعے سے فائدہ اٹھایا۔ان کی تحریروں پر انگریزی طرز کی گہری چھاپ ہے۔ ان کی عبارت میں شوخی، شگفتگی،روانی اور بے ساختہ پن نمایاں ہے۔ سیدھی سادی باتوں سے مزاح پیدا کرنا،لفظوں کے اُلٹ پھیر سے جملے چُست کرنا اور خود کومذاق کا موضوع بنا کر اپنے اوپر ہنسنا ان کا خاص انداز ہے۔ وہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی سچّائیوں پر نظر رکھتے ہیں اور اپنے پڑھنے والوں کو خوب ہنساتے ہیں۔ اُن کی ظرافت نہایت خوش گوارا ثر چھوڑتی ہے۔

سنیما کا عشق

اوّل تو خدا کے فضل سے ہم سنیما   کبھی وقت پر نہیں پہنچ سکے۔ اِس میں میری سُستی کو ذرا دخل نہیں۔ یہ سب قصور ہمارے دوست مرزا صاحب کا ہے۔
جب سنیما جانے کاارادہ ہو، ہفتہ بھر پہلے سے انھیں کہہ رکھتا ہوں کہ کیوں بھئی مرزا، اگلی جمعرات چلوگے نا! میری مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ پہلے سے تیار رہیں اور اپنی تمام مصروفیتیں کچھ اس ڈھب سے ترتیب  
1
دے لیں کہ جمعرات کے دن ان کے کام میں کوئی ہرج واقع نہ ہو لیکن وہ جواب میں عجب قدرِنا شناسی سے فرماتے ہیں:
’’ارے بھئی چلیں گے کیوں نہیں؟ کیا ہم انسان نہیں؟ ہمیں تفریح کی ضرورت نہیں ہوتی؟ اور پھر کبھی ہم نے تم سے آج تک ایسی بے مروّتی بھی برتی ہے کہ تم نے چلنے کو کہا ہو اور ہم نے تمھارا ساتھ نہ دیاہو؟‘‘
ان کی تقریر سن کر میں کھِسیانا سا ہوجاتا ہوں۔ کچھ دیر چپ رہتا ہوں اور پھر دبی زبان سے کہتا ہوں:
’’بھئی اب کے ہوسکا تو وقت پر پہنچیں گے۔ ٹھیک ہے نا!‘‘
میری یہ بات عام طور پر ٹال دی جاتی ہے کیوں کہ اس سے ان کا ضمیر کچھ تھوڑا سا بیدار ہوجاتاہے۔ خیر میں بھی بہت زور نہیں دیتا۔ صِرف اُن کو بات سمجھانے کے لیے اتنا کہہ دیتا ہوں:
’’کیوں بھئی! سنیماآج کل چھے بجے شروع ہوتاہے نا؟‘‘
مرزا صاحب عجب معصومیت کے انداز میں جواب دیتے ہیں:
’’بھئی! یہ ہمیں معلوم نہیں۔‘‘
’’میرا خیال ہے چھے ہی بجے شروع ہوتاہے۔‘‘
’’اب تمھارے خیال کی تو کوئی سَنَدنہیں۔‘‘
’’نہیں مجھے یقین ہے۔ چھے بجے شروع ہوتا ہے۔‘‘
’’تمھیں یقین ہے تو میرا دماغ کیوں مفت میں چاٹ رہے ہو؟‘‘
اس کے بعد آپ ہی کہیے میں کیابولوں؟
خیر جناب ، جمعرات کے دن چار بجے ہی ان کے مکان کو روانہ ہوجاتا ہوں۔اس خیال سے کہ جلدی جلدی انھیں تیار کراکے وقت پر پہنچ جائیں۔ دولت خانے پر پہنچتا ہوں توآدم نہ آدم زاد۔ مردانے کے سب کمروںمیں گھوم جاتا ہوں۔ ہر کھڑکی میں سے جھانکتاہوں، ہر شِگاف میں سے آوازیں دیتا  
2
ہوں لیکن کہیں سے رسید نہیں ملتی۔ آخر تنگ آکر ان کے کمرے میں بیٹھ جاتاہوں۔ وہاں دس پندرہ منٹ سیٹیاں بجاتا رہتا ہوں۔ دس پندرہ منٹ پنسل سے بلاٹنگ پیپر پر تصویریں بناتا رہتا ہوں۔باہر ڈیوڑھی میں نکل کر اِدھر اُدھر جھانکتا ہوں۔وہاں بدستور ہوٗ کا عالم دیکھ کر کمرے میں واپس آجاتا ہوں اور اخبار پڑھنا شروع کردیتاہوں۔ ہرکالم کے بعد مرزا صاحب کو ایک آواز دے لیتا ہوں۔ اس اُمیّد پر کہ شاید ساتھ کے کمرے میں یا عین اوپر کے کمرے میں تشریف لے آئے ہوں۔ سورہے تھے تو ممکن ہے جاگ اٹھے ہوں یا نہارہے تھے تو شاید غسل خانے سے باہر نکل آئے ہوں لیکن میری آواز مکان کی وسعتوں میں سے گونج کر واپس آجاتی ہے۔ آخر کار ساڑھے پانچ بجے کے قریب زنانے سے تشریف لاتے ہیں۔ میں اپنے کھولتے ہوئے خون کو قابو میں لاکر متانت اور اخلاق کو بڑی مشکل سے مدِّنظر رکھ کر پوچھتاہوں:
’’کیوں حضرت ! آپ اندرہی تھے؟‘‘
’’ہاں اندر ہی تھا۔‘‘
’’میری آواز آپ نے نہیں سُنی؟‘‘
’’اچھّایہ تم تھے؟ میں سمجھا کوئی اور ہے۔‘‘
آنکھیں بند کرکے سر کو پیچھے ڈال لیتا ہوں اور دانت پیس کر غصّے کو پی جاتا ہوں اور پھر کانپتے ہوئے ہونٹوں سے پوچھتا ہوں:
’’تو اچھا آپ چلیں گے یا نہیں؟‘‘
’’وہ کہاں؟‘‘
’’ارے بندۂ خدا، آج سنیما نہیں جانا؟‘‘
’’ہاں سنیما۔ سنیما ( یہ کہہ کر وہ کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں) ٹھیک ہے۔سنیما، میں بھی سوچ رہا تھا کہ کوئی نہ کوئی بات ضرور ایسی ہے جو مجھے یاد نہیں آرہی ہے۔ اچھا ہوا تم نے یاد دلادیا، ورنہ مجھے رات بھر الجھن رہتی۔‘‘
’’تو چلو پھر اب چلیں؟‘‘
’’ہاں وہ تو چلیں گے ہی۔ میں سوچ رہا تھا آج ذرا کپڑے بدل لیتے۔ خدا جانے دھوبی کمبخت کپڑے بھی لایا ہے یا نہیں۔ یا راِن دھوبیوں کا تو کوئی انتظام کرو۔‘‘
پھر یہ کہہ کر اندر تشریف لے جاتے ہیں کہ اچھا کپڑے پہن آؤں۔
مرزا صاحب کے کپڑے پہننے کاعمل اس قدر طویل ہے کہ اگر میرا اختیار ہوتا تو قانون کی روٗ سے انھیں کبھی کپڑے اتارنے ہی نہ دیتا۔ آدھے گھنٹے کے بعد وہ کپڑے پہنے ہوئے تشریف لاتے ہیں۔ ایک پان مُنہ میں، دوسرا ہاتھ میں ۔ میں بھی اٹھ کھڑا ہوتاہوں۔ دروازے تک پہنچ کر مڑکے جو دیکھتا ہوں تو مرزا صاحب غائب۔ پھر اندرآجاتاہوں۔ مرزا صاحب کسی کونے میں کھڑے کچھ کُرید کر رہے ہوتے ہیں۔
’’ارے بھئی چلو۔‘‘
’’چل تو رہاہوںیار۔ آخر اتنی بھی کیا آفت ہے؟‘‘
’’اور یہ تم کرکیا رہے ہو؟‘‘
’’پان کے لیے ذرا تمباکو لے رہاتھا۔‘‘
تمام راستے مرزا صاحب چہل قدمی فرماتے جاتے ہیں۔ میں ہردو تین لمحے کے بعد اپنے آپ کو ان سے چار پانچ قدم آگے پاتاہوں۔ کچھ دیر ٹھہر جاتاہوں۔ وہ ساتھ آملتے ہیں تو پھر چلنا شروع کردیتا ہوں۔ پھرآگے نکل جاتا ہوں۔ پھر ٹھہر جاتاہوں۔غرض یہ کہ گو چلتا دُگنی تِگنی رفتار سے ہوں لیکن پہنچتا ان کے ساتھ ہی ہوں۔
ٹکٹ لے کر اندر داخل ہوتے ہیں تو اندھیرا گُھپ۔ بہتیر ا آنکھیں جھپکتاہوں، کچھ سُجھائی نہیں دیتا۔ ادھر سے کوئی آواز دیتا ہے، ’’یہ دروازہ بند کردوجی۔‘‘یا اللہ اب کہاں جاؤں؟ رستہ، کرسی، دیوار، آدمی کچھ بھی تو نظر نہیں آتا۔ ایک قدم بڑھاتا ہوں تو سر اُن بالٹیوں سے جا ٹکراتا ہے جو آگ بجھانے کے لیے دیوار پر لٹکی رہتی ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد
3
  تاریکی میں کچھ دُھندلے سے نقش دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جہاں ذرا سا تاریک سا دھبّا دکھائی دے جائے وہاں سمجھتا ہوں کرسی خالی ہوگی۔خمیدہ پُشت ہوکر اس کارُخ کرتاہوں۔ اِس کے پاؤں کو پھاند ، اُس کے ٹخنوں کو ٹھکرا، خواتین کے گھٹنوں سے دامن بچاکر، آخرکار کسی کی گود میں جابیٹھتا ہوں۔ وہاں سے نکال دیا جاتاہوں اور لوگوں کے دھکّوں کی مدد سے کسی خالی کرسی تک جا پہنچتا ہوں۔ مرزا صاحب سے کہتا ہوں ’’میں نہ بَکتا تھا کہ جلدی چلو۔خواہ مخواہ میں ہم کو رسوا کروایانا۔ گدھا کہیں کا!‘‘اس شگفتہ بیانی کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ساتھ کی کرسی پر جوحضرت بیٹھے ہیں اور جن کو میں مخاطب کررہا ہوں وہ مرزا نہیں کوئی بزرگ ہیں۔
اب تماشے کی طرف متوجّہ ہوتا ہوں اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ فلم کون سی ہے؟ اس کی کہانی کیا ہے؟ اور کہاں تک پہنچ چکی ہے؟اس انتظار میں رہتا ہوں کہ کچھ لکھا ہوا سامنے آئے ، تومعاملہ کھُلے کہ اتنی دیر میں سامنے کی کرسی پر بیٹھے ہوئے حضرت ایک وسیع اور فراخ انگڑائی لیتے ہیں جس کے دوران میں کم ازکم دو تین سو فٹ فلم گزرجاتی ہے۔ جب انگڑائی کو لپیٹ لیتے ہیں تو پھر سر کھُجانا شروع کرتے ہیں اور اس عمل کے بعد ہاتھ کو سر سے نہیں ہٹاتے بلکہ بازو کوویسے ہی خَمیدہ رکھے رہتے ہیں۔ میں مجبوراً سر کو نیچا کرکے چا ئے دانی کے اس دستے کے بیچ میں سے اپنی نظر کے لیے راستہ نکال لیتا ہوں اور اپنے بیٹھنے کے انداز سے بالکل ایسا معلوم ہوتا ہوں کہ جیسے ٹکٹ خریدے بغیر اندر گھس آیاہوں اور چوروں کی طرح بیٹھا ہواہوں۔ تھوڑی دیر بعد انھیں کرسی کی نَشِست پر کوئی مچھّر یا پسِّو محسوس ہوتاہے۔ چنانچہ وہ دائیں طرف سے ذرا اونچے ہوکربائیں طرف کو جھک جاتے ہیں۔ میں مصیبت کا مارادوسری طرف جُھک جاتاہوں۔ ایک دو لمحے کے بعد وہی مچھّر دوسری طرف ہجرت کرجاتا ہے۔ چنانچہ ہم دونوں پھر سے پینترا بدل لیتے ہیں۔ غرض یہ کہ یہ دل لگی یوں ہی جاری رہتی ہے۔ وہ دائیں تو میں بائیں، وہ بائیں تو میں دائیں۔ ان کو کیا معلوم کہ اندھیرے میں کیا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ دل یہی چاہتا ہے کہ اگلے درجے کا ٹکٹ لے کر ان کے آگے جا بیٹھوں اور کہوں کہ لے بیٹا! دیکھوں تو اَب توٗ کیسے فلم دیکھتاہے؟
پیچھے سے مرزا صاحب کی آواز آتی ہے ’’یار! تم سے نچلا نہیں بیٹھا جاتا۔ اب جو ہمیں ساتھ لائے ہو تو فلم تو دیکھنے دو۔‘‘اس کے بعد غُصّے میں آکر آنکھیں بند کرلیتاہوں ۔ دل میں کہتاہوں ایسی کی تیسی اس فلم کی ۔ سوسو قسمیں کھاتا ہوں کہ پھر کبھی نہ آؤں گا اور اگرآیا بھی تو اس کمبخت مرزا سے ذکر تک نہ کروں گا۔ پانچ چھے گھنٹے پہلے سے آجاؤں گا۔ اوپر کے درجے میں سب سے اگلی قطار میں بیٹھوں گا۔ تمام وقت اپنی نَشِست پر اُچھلتا رہوں گا۔ بہت بڑے طُرّے والی پگڑی پہن کر آئوں گا۔ اپنے اوور کوٹ کو دو چھڑیوں پر پھیلاکر لٹکادوں گا۔ بہر حال مرزا کے پاس تک نہ پھٹکوں گا۔
لیکن اس کمبخت دل کو کیاکروں؟ اگلے ہفتے پھر کسی اچھی فلم کا اشتہار دیکھ پاتا ہوں تو سب سے پہلے مرزا کے ہاں جاتا ہوں اور گفتگو پھروہیں سے شروع ہوتی ہے کہ ’’کیوں بھئی مرزا!اگلی جمعرات سنیما چلوگے نا؟‘‘
(پطرس بخاری)
4

مشق

معنی یاد کیجیے:

قدر ناشناسی         :   نا   قدری، کسی لائق نہ سمجھنا، کوئی اہمیت نہ دینا
بے مروّتی :   کسی کے لیے دل میں جگہ نہ ہونا ، لحاظ نہ کرنا
ضمیر بیدار ہونا :        احساس جاگنا                  
سَنَد   :       ثبوت           
آدم نہ آدم زاد   :   جہاں کوئی نہ ہو     
شِگاف    :   جِھری ، دراڑ        
رسید نہ ملنا :  جواب نہ ملنا     
بدستور   : ٹھیک اُسی طرح     
عین        :ٹھیک ،بالکل         
متانت : سنجیدگی     
طویل        :  لمبا         
چہل قدمی فر مانا :آہستہ آہستہ چلنا                    
نشست   : بیٹھنے کی جگہ         
خواہ مخواہ    : بلاوجہ                     
کھِسیانا :  جُھنجلانا               
معصو میت                  :بھولاپن         
دولت خانہ          :گھر ، دوسرے کے گھر کے لیے بولتے ہیں               
ہوٗ کا عالَم    :   سنّاٹا        
وُسعت   : پھیلاؤ   
مدِّ نظر رکھنا      :   نظر کے سامنے رکھنا، لحاظ رکھنا        
قانون کی روٗسے :    قانون کے مطابق         
مخاطب کرنا          :  خطاب کرنا،توجہ دلانا            
ہِجْرت کر جانا            :   ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جانا                 
اخلاق   :  اچھا عمل، اچھا سلوک  
خمیدہ    :جھُکا ہوا           
پُشت      :   پیٹھ              
شگفتہ بیانی             :   دل چسپ گفتگو، بات چیت کا خوب صورت انداز                        
وسیع   اور فراخ    :   لمبا چوڑا           
قطار             :   لائن                       

سوچیے اور بتائیے:

1. مصنِّف ایک ہفتہ پہلے سے ہی سنیما کا پروگرام کیوں بناتا تھا؟  
2. مرزا صاحب کے انتظار سے تنگ آکرمصنِّف نے کیاکیا؟
3. سنیما ہال میں پہنچ کرمصنِّف پر کیا گزری؟      
4. غصّے میں   پطرس نے کیا قسم کھائی   ؟
5. پطرس   کی قسم کا کیا انجام ہوا؟