Skip to content
Sabrang  Chapter-2
Capture

لیو ٹالسٹائی

( 1828 - 1910)

ٹالسٹائی کا شمار دنیا کے مشہور ادیبوں میں ہوتا ہے ۔ روسی ادب میں بحیثیت ناول نگار ان کا قد بہت بلند ہے ۔ ٹالسٹائی روس کے ایک رئیس گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد تیئس سال کی عمر میں ر وسی فوج میں بھرتی ہو گئے اور کریمین جنگ میں حصّہ لیا ۔ اسی عرصے میں انھوں نے اپنا پہلا ناول ’’ بچپن ‘‘ لکھا جسے ادبی حلقے میں کافی سراہا گیا ۔ اس طرح اپنے پہلے ناول سے ٹالسٹائی کا شمار معروف ادیبوں میں ہونے لگا ۔ اپنے باغیانہ خیالات کے لیے انھیں عتاب کا شکار بھی ہونا پڑا ۔
ٹالسٹائی نے متعدّ د ناول ، کہانیاں اور ڈرامے لکھے ۔ ان کے ناول ’جنگ اور امن‘ اور ’ انّا کرینینا‘ کو عالمی ادب میں شاہکار کا درجہ حاصل ہے ۔ ٹالسٹائی کو روسی سماج اور تہذیب کا مصوِّر کہا جاتا ہے۔ انھوں نے روسی معاشرے کے جاگیردارانہ نظا م کی تلخ حقیقتوں کو اپنے ناولوں میں بڑی فنکاری کے ساتھ نمایاں کیا ہے ۔ان کے ناول اور کہانیاں حقیقت نگاری کا بہترین نمونہ ہیں۔ ان کی تحریروں میں اصلاحی پہلو نمایاں ہے ۔

دو گز زمین

بہت دن ہوٗئے، روٗس کے ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔اس کا نام تھانچوم۔ نچوم کو اس بات کا غم کھائے جاتا تھا کہ وہ ایک بڑی زمین کا مالک نہیں ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے پاس اتنی زمین ہو کہ کوئی کسان اس کی برابری نہ کرسکے۔ اسی گاؤں میں ایک بوڑھی عورت رہتی تھی جو کافی زمین کی مالک تھی۔ اُس نے اپنی زمین بیچنے کا ارادہ کیا۔ گاؤں کے بہت سے لوگوں نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق زمین کے چھوٹے بڑے ٹکڑے خرید لیے۔ نچوم بھی زمین خریدنا چاہتا تھامگر اس کے پاس رقم کم تھی۔ آخرزمین کی مالکہ اس پرراضی ہوگئی کہ بقیہ رقم وہ سال بھر بعد ادا کرے۔ اس طرح نچوم نے بھی تھوڑی سی زمین خرید لی۔ اب اس کے پاس پہلے سے زیادہ زمین تھی، مگر اس کے دل کو اطمینان نہ تھا۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ وہ ایک بڑا زمین داربنے۔
ایک دن نچوم اپنے صحن میں بیٹھا تھا کہ ایک مسافر ادھر سے گزرا۔ نچوم نے اسے آوازدی اور پوچھا کہ آپ کہاں سے آرہے ہیں۔ مسافر نے بتایا کہ میں والگا ندی کے اس پار ایک زمین دیکھ کر آرہا ہوں۔ وہاں ایک نئی بستی بسائی جارہی ہے اور لوگوں کو مفت زمین دی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی چاہے تو زیادہ زمین خرید بھی سکتاہے۔ نچوم کے تو دل کی مُرا د بَر آئی۔ وہ اپنی زمین اور مکان بیچ کر وہاں چلا گیا اور سرکار سے ملنے والی زمین کے علاوہ مزید زمین خریدکر ایک بڑی زمین کا مالک ہوگیا۔ اُس نے گاؤں کی بوڑھی عورت کو بقایارقم بھی اداکردی۔
2
نئی جگہ پر نچوم کی دوستی نئے لوگوں سے ہوئی۔ ان میں سے کئی ایسے تھے جن کے پاس نچوم سے زیادہ زمین تھی۔ چنانچہ اُسے اپنی زمین پھر چھوٹی لگنے لگی۔ ایک دن ایک تاجر سے نچوم کی ملاقات ہوئی۔ وہ تاجر مختلف علاقوں میں جاجاکر اپنا مال بیچتا تھا۔ اُ س نے نچوم کو بتایا: ’’یہاں سے دور باشکروں کے علاقے میں زمین بہت سستی ہے۔ باشکروں کے پاس زمین بے حساب ہے، مگر وہ کھیتی باڑی کرنا نہیں جانتے۔ مویشی پالتے ہیں اس لیے زمین بہت سستے داموں میں بیچ دیتے ہیں۔ یہ لوگ سیدھے سادے ہیں۔ اگر ان کے لیے تحفے لے جائو تو وہ اور خوش ہوجائیں گے۔‘‘
3
یہ سُن کر نچوم کی باچھیں کھِل گئیں اور وہ وہاں کے لیے روانہ ہوگیا۔ اس نے بہت سے تحفے تحائف خریدے اور ایک نوکر کو ساتھ لے کر باشکروں کے علاقے کی طرف چل پڑا۔ سات دن اور سات رات کا سفر کرنے کے بعد ان کی گھوڑا گاڑی باشکروں کے علاقے میں پہنچ گئی۔ تحفے پاکر باشکر بہت خوش ہوئے اور نچوم کا شکریہ ادا کرکے پوچھا: ’’ہم آپ کی کیا خدمت کرسکتے ہیں؟‘‘
’’میں آپ کی کچھ زمین خریدنا چاہتاہوں۔ ‘‘نچوم نے کہا۔
’’ہمارے پاس بہت زمین ہے۔ آپ جتنی اور جدھر کی چاہیں پسند کرلیں۔‘‘ ایک لمبے قد کا نوجوان جو کھال کی ٹوپی پہنے ہوئے تھا، بولا۔ یہ باشکروں کا سردار تھا۔
’’زمین کی قیمت؟‘‘ نچوم نے سوال کیا۔
’’ایک دن کے ایک ہزار رُوبل!‘‘ سردار نے جواب دیا۔
’’میں سمجھانہیں۔‘‘نچوم نے کہا۔
’’ مطلب یہ کہ ایک دن جتنی زمین کے اطراف آپ چکّر لگالیں گے وہ ایک ہزار رُوبل میں آپ کی ہوجائے گی۔‘‘ سردار نے جواب دیا۔
’’ ایک دن میں تو آدمی بہت بڑی زمین کے گِرد چکّر لگا سکتاہے۔‘‘ نچوم نے خوش ہوکر کہا۔
سردار نے جواب دیا: ’’جی ہاں! مگر شرط یہ ہے کہ جس جگہ سے آپ سورج نکلتے ہی چلنا شروع کردیں گے، اُسی جگہ سورج ڈوبنے سے پہلے آپ کو پہنچنا ہوگا۔ اگر آپ پہنچ گئے تو جتنا بڑا چکّر آپ لگالیں گے اس کے اندر کی ساری زمین آپ کی ہوگی اور نہ پہنچ پائے تو نہ ہی زمین ملے گی اور نہ ہی آپ کی رقم واپس ہوگی۔‘‘
بھلا نچوم کو اس میں کیا اعتراض ہوسکتاتھا۔اُس نے فوراً یہ شرط مان لی۔ رات زیادہ ہوچکی تھی۔ نچوم سونے کے لیے چلاگیا۔ سورج کی پہلی کِرن کے ساتھ اس کو اپنا سفر شروع کرناتھا۔ اس نے جلدی سے ملازم کو جگایا، تیزی سے تیار ہوا اور فوراً سردار کی جھونپڑی میں پہنچ گیا۔
سب باشکر وہاں پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔ ناشتہ کرکے سورج نکلنے سے پہلے ہی ٹیلے پر جمع ہوگئے۔ نچوم کو یہیں سے اپنا سفر شروع کرنا تھا۔ سردار نے اس سے ایک ہزار روبل لے کر اپنی ٹوپی میں ڈالے اور پھر ٹوپی زمین پر رکھ دی۔
نچوم نے پہلے سے طے کرلیا تھا کہ مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کی طرف چلنا شروع کردے گا،دوپہر سے پہلے بائیں کو گھوم جائے گا اور چکّر لگاتا ہوا شام سے پہلے لوَٹ کر ٹیلے پرپہنچ جائے گا۔
4
چنانچہ اُدھر سورج نے مشرق سے جھانکا اور ادھر نچوم نے اپنا پہلا قدم اٹھایا۔ اس کے پیچھے پیچھے کئی باشکر زمین میں کھوٗنٹیاں گاڑتے چلے آرہے تھے۔ تقریباً پانچ میٖل تک وہ ایک ہی رفتار سے چلتا رہا۔ نہ بہت تیز نہ بہت آہستہ۔ اتنی دور چلنے کے بعد اس کے جسم میں گرمی آگئی۔ اس نے اپنی واسکٹ کے بٹن کھول دیے اور ذرا تیز چلنے لگا۔ کوئی پانچ میل اور چلنے کے بعد اسے تھکن محسوس ہونے لگی۔ سورج بھی اب کافی اوپر آگیاتھا اور اس کی کرنیں آنکھوں میں چبھنے لگی تھیں۔ نچوم نے سوچا کہ کوئی پانچ میل سیدھا چلنے کے بعد وہ بائیں طرف مڑ جائے گا اور سورج کے اوپر آتے ہی واپسی کا سفر شروع کردے گا۔ مگر وہ جتنا آگے بڑھتا جاتاتھا، اتنی ہی ہریالی اور اُونچی گھاس اسے نظر آتی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ آگے کی زمین زیادہ زرخیز ہے۔ وہ لالچ میں آکر بڑھتا گیا اور بائیں طرف مڑنا ہی بھول گیا۔
نچوم جتنا آگے بڑھتا جاتا تھا، اتنی ہی اچھی زمین اس کے پیروں تَلے آتی جاتی تھی اور زیادہ سے زیادہ زمین حاصل کرنے کی اس کی ہَوَس بڑھتی جاتی تھی۔ چنانچہ وہ اپنی رفتار اور بھی بڑھا دیتاتھا۔ اچانک اس کی نظر اپنے سائے پر پڑی جو اس کے ساتھ ساتھ دوڑ رہاتھا۔ اس کا مطلب تھا کہ سورج مغرب کی طرف ڈھل چکا تھا، لیکن وہ واپس مڑنے کے بجائے بائیں طرف بڑھتا چلا جارہا تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ اب ٹیلے کی طرف مڑنا چاہیے مگر زمین کے لالچ نے اسے مڑنے نہ دیا اور وہ آگے بڑھتا ہی گیا۔
سورج ڈوبنے میں اب زیادہ دیر نہ تھی مگر اب تک اسے ٹیلہ دکھائی نہیں دے رہاتھا۔ اُس کی سانس لوہار کی دھونکنی کی طرح چل رہی تھی۔ حلْق میں پیاس سے کانٹے پڑگئے تھے۔ تھکن سے دم نکل رہاتھا۔ مگر وہ دوڑتا گیا، دوڑتا گیا۔ ڈوبتے سورج کی کرنیں اس کی آنکھوں میں چبھنے لگیں اور سامنے کا منظر دھندلا سا ہوگیا۔
اب اسے ٹیلہ نظر آنے لگا تھا۔ سورج ٹیلے کے پیچھے چلا گیاتھا۔وہ اُس ٹیلے پر کھڑے ہوئے لوگوں کے دھندلے سایے دیکھ سکتا تھا۔ وہ لوگ ہاتھ ہلاہلاکر اُسے بلا رہے تھے لیکن اُن کی آوازیں اس کے کانوں میں نہیں پہنچ رہی تھیں، کیوں کہ ابھی کافی فاصلہ باقی تھا۔
نچوم نے اپنی رفتار اور بھی تیز کردی۔ جیسے جیسے ٹیلہ نزدیک آتا گیا اُس کی جدوجہد بھی تیز ہوتی گئی لیکن اب پیر اُس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ ان سے خون رِسنے لگا تھا۔ کانوںمیں سیٹیاں سی بجنے لگی تھیں۔ دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ دَم پھولنے لگاتھا اور جسم پسینے میں شرابور تھا، مگر وہ رُک نہیں سکتاتھا۔ اُسے ایک بہت بڑیزمین کا مالک جو بنناتھا۔
کسی نہ کسی طرح وہ ٹیلے کے قریب پہنچ گیا۔ لوگ اُس کی ہمّت بڑھارہے تھے۔ ’’اور تیز اور تیز!‘‘ کی آوازیں اس کے کانوں میں گونجنے لگیں۔ وہ ٹیلے پر چڑھنے لگا۔ سردار کی ٹوپی اسے صاف دکھائی دے رہی تھی۔ پھر وہ جان توڑ کر دوڑنے لگا لیکن تیزی سے ٹیلے پر چڑھنا آسان نہ تھا۔ وہ بار بار ٹھوکریں کھا رہا تھا، اُدھر سورج کی کرنیں ٹوپی کے کناروں کو چھو رہی تھیں۔اچانک نچوم زبردست ٹھوکر کھا کر گرپڑا۔ گرتے گرتے بھی اپنا ہاتھ ٹوپی کی طرف بڑھایا، مگر وہ اس کی انگلیوں سے اب بھی کچھ دور ہی تھی۔
سورج ڈوبنے کے ساتھ ساتھ نچوم کی زندگی کا آفتاب بھی ہمیشہ کے لیے غُروب ہوگیا۔ اس کے دل کی حرکت بند ہوچکی تھی۔ سردارکی ٹوپی اور نچوم کے بیچ دوگز کا فاصلہ باقی رہ گیا تھا۔ اسی جگہ پر قبر کھود کر نچوم کو دفنادیاگیا۔
ہرانسان کی طرح نچوم کے حصِّے میں بھی دو گز زمین ہی آئی۔
(ٹالسٹائی) 
5

مشق

معنی یاد کیجیے:

رَقْم :      روپیے پیسے    
بقیہ        :       باقی ، بچا ہوا           
زمین دار  :      زمین کا مالک
صحن        :         آنگن
مُراد بر آنا (محاورہ)   :       تمنّا پوری ہونا، مقصد پورا ہونا
تاجر  :       تجارت کرنے والا، بیوپاری             
مزید        :        زیادہ،اور
مویشی      :      وہ پالتو جانور  جن سے کھیتی باڑی کے کاموں میں مدد لی جاتی ہے 
باچھیں کھِلنا (محاورہ)        :      خوش ہو جانا    
تحائف     :      تحفہ کی جمع
اطراف     :       طرف کی جمع     
رُوبل       :       روسی سکّہ
مشرق      :      وہ سمت جدھر سے سورج نکلتا ہے، پورب 
زرخیز        :       اُپجاؤ، زیادہ فصل پیدا کرنے والی زمین           
ہَوس      :      لالچ      
مغرب     :      وہ سمت جدھر سورج ڈوبتا ہے،پچھم
دھونکنی  : چمڑے سے بنی مَشک جو ہوا دے کر آگ تیز کرنے کے کام آتی ہے
جِدّو جہد          :      کوشش      
شرابور     :      بھیگا ہوا    
آفتاب     :       سورج     
غروب     :      ڈوبنا
فاصلہ       :      دوری     

سوچیے اور بتائیے:

1. نچوم کی کیاخواہش تھی؟     
2. تاجر نے نچوم کو کیا مشورہ دیا؟      
3. باشکروں کے سردار نے زمین فروخت کرنے کی کیا شرط رکھی؟       
4. نچوم شرط کے مطابق وقت پر واپس کیوں نہیں پہنچ سکا؟     
5. نچوم کا کیا انجام ہوا؟                
6. ’دو گز زمین‘سے کیا مراد ہے؟