Skip to content
Sabrang  Chapter-3
krishn chandr

کرشن چندر

(1914 – 1977)

کرشن چندر وزیر آباد، ضلع گجراں والا،پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پونچھ،(جمّوں کشمیر) میں ہوئی۔ 1930  کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے لا ہور گئے۔ 1934 میں پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم۔اے کیا۔ آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوئے پھر ممبئی کی فلمی دنیا سے منسلک ہو کر آخر وقت تک ممبئی ہی میں رہے اور وہیں انتقال ہوا۔ترقی پسند تحریک سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ پریم چند کے بعد جن افسانہ نگاروں نے غیر معمولی شہرت حاصل کی، اُن میں ایک اہم نام کرشن چندر کا بھی ہے۔
کرشن چندر بنیادی طور پر افسانہ نگار تھے لیکن انھوں نے ناول، ڈرامے،رپورتاژ اور مضامین بھی لکھے ہیں۔
ان کی مقبولیت کا سبب ان کی حقیقت پسندی، رومانیت اور خوب صورت اندازِ بیان ہے۔’یوکلپٹس کی ڈالی‘ ، ’مہا لکشمی کا پُل‘ ’اَن داتا‘ ان کے اہم افسانوی مجموعے ہیں۔
ان کے ناولوں میں ’شکست‘،’جب کھیت جاگے‘  اور’آسمان روشن ہے‘کے علاوہ ’ایک گدھے کی سرگزشت‘کو خاص مقبولیت حاصل ہوئی۔

مینڈک کی گرفتاری

مدّت کے بعد آج جھیل کے کنارے پر بھی خوشیوں بھری رات آئی تھی۔آج دراصل بڑا مینڈک بڑے محل سے چھوٹ کر آیا تھا اس لیے اس کی بیوی پُکھراج نے اور اُس کے تین بیٹوں ٹمپو، جمپو اور پھونپونے جھیل کے سارے مینڈکوں کی ضیافت کی تھی۔سبھی طرح کے مینڈک آئے تھے اور اُچھل اُچھل کر بڑے مینڈک سے، جس کا نام زرد پوش تھا، گلے مل رہے تھے۔
دعوت کے بعد سارے مینڈک آلتی پالتی مارے ایک دائرے کی صورت میں زرد پوش کے گِرد بیٹھ گئے اور اس سے بڑے محل کی باتیں پوچھنے لگے۔کیونکہ اب تک کوئی مینڈک اس بڑے محل کے اندر نہیں جا سکا تھا۔سب سے پہلے جھیل کے بہت بوڑھے مینڈک نے سوال کیا۔
1
’’جب تم محل کے اندر گئے تو تم نے کیا دیکھا؟‘‘۔زرد پوش نے کہا۔’’دادا یہ غلط ہے کہ میں خود محل کے اندر گیا،میں دراصل یونہی سنگ مرمر کی سیڑھوں پر لیٹا دھوپ سینک رہا تھا کیونکہ دھوپ تیز تھی اور سنگِ مرمر کا فرش ٹھنڈا تھا۔اس لیے میں آنکھیں بند کیے زندگی کے مزے لے رہا تھا اتنے میں مجھے معلوم ہوا گویا کسی نے مجھے اپنی مُٹھّی میں اُچک لیا۔ میں نے اپنی نیند سے چُندھیائی ہوئی آنکھیں حیرت سے کھولیں تو اپنے آپ کو بڑے محل کے راجا کے سب سے چھوٹے لڑکے کی مٹھی میں پایا۔اس نے میرے جسم کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا،لیکن میرا  مُنہ اس کی مٹھی سے باہر تھا۔ اس لیے میں محل کے دالان ، برآمدے، کھلے وسیع کمرے، قالین سب دیکھ سکتا تھا۔‘‘
2
’’قالین کیا ہوتا ہے؟‘‘۔ ٹمپو نے پوچھا۔
زرد پوش نے کہا۔’’بیٹے قالین وہ لوگ فرش پر بچھاتے ہیں، بڑا نرم اور گدگدا ہوتا ہے۔‘‘
ٹمپو نے پوچھا۔’’کیا قالین ہماری جھیل کے کیچڑ سے بھی نرم اور ملائم ہوتا ہے؟‘‘
زرد پوش نے کہا۔’’ارے بیٹے یہ وحشی قوم ہماری کیچڑ ایسی نرم قالین سات سو سال میں بھی نہیں بنا سکتی مگر ہاں ویسے قالین بُرا نہیں ہوتا اور مجھے تو اُس کا رنگ بہت پسند آیا۔ہماری کیچڑ میں تو ایک ہی رنگ ہوتا ہے۔مگر اُس قالین میں طرح طرح کے رنگ تھے۔جھیل کے پھولوں کی طرح خوش رنگ اور چہکتے ہوئے، ہمیں اپنی کیچڑ کا رنگ بہت پسند ہے۔مجھے وہ قالین اور دوسرے بہت سے رنگوں والے قالین بہت پسند آئے مگر یہ تو بعد کی بات ہے میں بتا رہا تھا، کہ جب وہ لڑکا دیوان خانے میں لے گیا۔جہاں ہمّت سنگھ اور اس کی رانی اور تین بڑے لڑکے اور آٹھ دس صاحب بیٹھے تھے وہ مجھے مُٹھّی میں دابے دابے چپکے سے ایک جگہ بیٹھ گیا اور پھر جب وہ لوگ اپنی باتوں میں مشغول ہو گئے تو اس نے چُپکے سے مجھے رانی کی گود میں چھوڑ دیا۔ پھر میں نے جو وہاں سے تین گز کی چھلانگ لگائی ہے تو سارے دیوان خانے میں ہَلّا ہو گیا۔راجا ہمّت سنگھ ڈر کے مارے زمین پر گِر پڑے۔ہاہاہا یہ لوگ ہماری قوم سے کتنا ڈرتے ہیں۔‘‘
بہت سے مینڈک ہنسنے لگے۔بھورانے سر اٹھا کے کہا۔ ’’میں جانتا ہوں آدمی اُوپر سے بہادر بنتا ہے اندر سے بڑا کمزور ہوتا ہے اور پانی میں تو اس کی جان نکلتی ہے۔ ارے یہ کیا کھاکے مینڈک کا مقابلہ کرے گا۔‘‘
3
زرد پوش نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ’’ اس کے بعد جو ہڑبونگ مچی ہے اس کا اندازہ ہی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ بیس تیس آدمی میرے آگے پیچھے دوڑ رہے تھے مگر میں کسی کے قابو میں نہ آتا اور راجا ہمّت سنگھ اپنی کرسی پر بیٹھے بیٹھے چلّا رہے تھے۔ ارے نہیں چھوڑنا جانے نہ پائے کہ میں نے چھلانگ لگائی اور ان کے سر پر بیٹھ گیا۔ تو راجا صاحب وہاں سے اُٹھ کے بھاگے۔میں نے وہاں سے دوسری چھلانگ لگائی اور دوسرے کمرے میں پہنچ گیا مگر یہاں آکر آخر راجا کے چھوٹے لڑکے نے اندر سے دروازہ بند کر لیا اور مجھے پکڑ لیا مگر میں نے بھی بچّہ جی کو خوب خوب پریشان کیا، ایسے تھوڑا ہی قابو میں آتا تھا۔‘‘
’’شاباش شاباش‘‘ بہت سے مینڈک ایک دَم چلّائے۔پُکھراج غرور سے اپنے خاوند کی طرف دیکھنے لگی۔ ’’پھر کیا ہوا۔‘‘ بھورانے پوچھا۔
4
’’پھر مجھے اس شریر لڑکے نے اپنی مُٹھّی سے ایک ٹوکری میں بند کر دیا جس میں مَیں پھُدک پھُدک کے رہ گیا۔ ٹوکری بہت مضبوط تھی اور اس میں دو سوراخ تھے وہ اتنے بڑے نہیں تھے کہ میں ان میں سے باہر نکل سکتا۔‘‘
’’تم اس میں کتنے دن قید رہے۔‘‘دادا نے پوچھا۔
’’دس دن اور دس راتیں۔لیکن راتیں بہت پریشان کرتی تھیں۔ جب لڑکا اپنے کمرے کی کھڑی کھول دیتا تھا تو جھیل سے آپ لوگوں کے ٹرّانے کی آواز آتی تھی تو میرے دِل کی کیا حالت ہوتی تھی ،یہ میں اِس وقت نہیں بتا سکتا۔‘‘
پُکھراج کی گول گول معصوم آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
کالے سر جس مینڈک کانام تھا،وہ جھیل کا سب سے عالم مینڈک تھا۔اس نے پوچھا۔
’’بھائی زرد پوش انسانوں کی زبان کے بارے میں تم کیا کہتے ہو۔‘‘
’’محترم بزرگ‘‘۔زردپوش نے اُداسی سے سر جُھکا کے کہا ’’انسانوں کی ایک زبان نہیں ہوتی اُن کی دوزبانیں ہوتی ہیں۔‘‘
’’دو زبانیں!‘‘ کالے سر نے حیرت سے آنکھیں کھول کر کہا۔’’یہ ناممکن ہے۔ دُنیا میں ہر ایک قوم کی ایک ہی زبان ہوتی ہے، صرف ایک زبان۔‘‘
’’مگر انسانوں کی دو زبانیں ہوتی ہیں ایک تو وہ جسے وہ بولتے ہیں دوسری وہ جسے وہ دل میں رکھتے ہیں اور اکثر وہ لفظ ،جو دل میں ہوتا ہے کبھی زبان پر نہیں آتا۔اکثر جو مُنہ کی زبان ہوتی ہے وہ دِل کی زبان کے خلاف ہوتی ہے۔‘‘
’’وہ کیسے؟ میں سمجھا نہیں بھائی۔‘‘
’’محتر م بزرگ۔‘‘ زرد پوش نے تشریح کرتے ہوئے بتایا۔’’چھوٹے راج کمار کی ماں نے اس سے کہا توٗ اس بے چارے مینڈک کو چھوڑ دے۔ راج کمار نے کہا ہاں ماں میں اسے ابھی چھوڑ دیتا ہوں۔اس کے بعد اس نے مجھے آزاد نہیں کیا بلکہ ایک ٹوکری سے دوسری ٹوکری میں ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں منتقل کر دیا۔‘‘
5
’’دوسری بات‘‘۔
’’راجا جی نے میرے سامنے ایک کسان سے کہا جا ہم تیرا لگان معاف کر دیتے ہیں۔‘‘
’’اس کے بعد جب وہ کسان چلا گیا تو انھوں نے منشی سے کہا ! جا اس کسان کی زمین قُرق کرالے۔‘‘
’’اس لیے محترم بزرگ میں سمجھتا ہوں کہ انسانوں کی دو زبانیں ہوتی ہیں اور وہ جو ایک زبان سے کہتے ہیں اسے دوسری زبان سے کاٹ دیتے ہیں اور پھر اس کا نام تہذیب رکھ دیتے ہیں۔‘‘
کالے سر نے کہا۔’’ شکر ہے ہم مینڈکوں کو صرف ایک زبان آتی ہے۔‘‘
’’خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔‘‘ بہت سے مینڈکوں نے ٹرّا کے کہا۔ دادا نے پوچھا۔ ’’اچھا یہ تو بتاؤ تم اس جہنم سے کیسے نکلے‘‘
زرد پوش نے مسکراکے کہا۔ ’’آہستہ آہستہ میں چھوٹے راج کمار سے مانوس ہوتا گیا کیونکہ وہ مجھے روز کھانے کھلاتا تھا۔ قدرتی بات تھی اس لیے اب مجھے اس کے جسم سے گِھن بھی نہ آنے لگی تھی۔نہ اب اس کے جسم کی بو مجھے ناگوار معلوم ہوتی تھی نہ اب مجھے اس کی ہتھیلی سے کراہت محسوس ہوتی تھی۔ میں اکثراب اس کے کمرے میں پھُدکتارہتا اور کمرے سے باہر نہ جاتا۔راج کمار مجھ سے باتیں کرتا رہتا اور میں ٹرّاکے یا کبھی خاموش رہ کے اس کی باتیں سُنتا رہتا۔پھر راج کمار مجھے اپنے ساتھ باہر بھی لانے لگا۔ ایک بار جب ہم دونوں ہی تالاب پر نہار ہے تھے تو رانی نے ہمیں دیکھ لیا اور وہ جو مجھے دیکھ کر چیخی ہے،جو چیخی ہے،جو چیخی ہے بس آسمان سر پر اٹھا لیا۔تو صاحب اس رانی نے میرے پیچھے دو چار نوکر لگا دیے اور میں جو تالاب سے اُچھل کر بھاگا ہوں تو محل کے صحن کو پھاند تا ہوا برآمدوں میں سے جست لگاتا ہوا باہر باغیچے میں آگیا۔آگے راستہ صاف تھا اور یہ تو تم جانتے ہو کہ دوڑنے میں، بھاگنے میں، چھلانگ لگانے میں، تیرنے میں انسان کبھی مینڈک کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔‘‘
’’نہ گانے میں؟ گانے کے متعلق تمھارا کیا خیال ہے۔‘‘ زرافہ جو خود گانے کی بڑی ماہر تھی، سوال کرنے لگی۔
’’گانے کی بات چھوڑ دو۔ یہ آدمی تو ایسے بے سُرے ہوتے ہیں کہ ساز کے بغیر گاہی نہیں سکتے۔گانا تو اب صرف مینڈکوں تک رہ گیا۔اس آرٹ کے ہم ہی وارث رہ گئے ہیں۔‘‘
’’بے شک بے شک۔‘‘ بہت سے مینڈک یکدم بول اُٹھے اور گانے لگے۔
’’ہم مینڈک ہیں، ہم مینڈک ہیں، ہم مینڈک ہیں‘‘
جب یہ ٹرّاہٹ ختم ہوئی تو چند لمحوں کے لیے مجلس میں سنّاٹا رہا۔ آخر میں دادا نے سوال کیا۔
’’اور سب باتیں تو سُن چکے۔ اب ایک بات پوچھنی ہے۔ یہ امتیاز جو تم مینڈک اور انسان میں بھی دیکھ چکے ہو، تمھارا کیا خیال ہے انسان بڑا ہے یا مینڈک؟‘‘
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد زرد پوش نے اپنا جُھکا ہوا سر اُٹھا کے کہا۔’’انسان‘‘
’’وہ کیسے؟‘‘
زرد پوش بولا۔ ’’میں نے اپنی حکایت کا آخری حصّہ تو سُنا یا ہی نہیں، جب میں باغیچے میں پہنچ گیا تب تک بہت سے نوکر دَم چھوڑ چکے تھے۔ مجھے پکڑنے کی آس چھوڑ چکے تھے۔ مگر ایک سب سے چھوٹا راج کمار جو مجھ سے اس قدر مانوس ہو گیا تھا اب بھی میرے پیچھے پیچھے بھاگتا آتا تھا۔ وہ باغیچے سے لے کے ڈھلوان تک اور پھر ڈھلوان سے لے کے کیچڑ تک اور کیچڑ سے نیچے جھیل کے کنارے میرے پیچھے پیچھے بھاگتا ہوا آیااور جب میں نے دھڑام سے جھیل میں چھلانگ لگائی اس وقت بھی وہ پانی کے کنارے اپنی دونوں باہیں پھیلائے مجھ سے ملتجیانہ انداز میں کہہ رہا تھا۔ آجاؤ،واپس آجاؤ، میرے پیارے مینڈک، میں اب تم کو کبھی ناراض نہیں کروں گا، میں تم کو بہت پیار کروں گا اور جس وقت وہ یہ کہہ رہا تھا اس وقت اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس لیے انسان مینڈک سے بڑا ہے کیونکہ انسان رو سکتا ہے اور مینڈک رو نہیں سکتا۔ انسان اپنی تمام بُری حرکتوں، بے وفائیوں ،بدلگامیوں کے باوجود رو سکتا ہے اور مینڈک رو نہیں سکتا۔اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ انسان مینڈک سے بڑا ہے۔‘‘
(کرشن چندر)

6

مشق

معنی یاد کیجیے:

ضیافت :     دعوت
گویا : جیسے
وحشی :    جنگلی، غیر مہذّب    
کلام :   بات
ہڑبونگ :       ہنگامہ، افراتفری
خاوند :    شوہر
منتقل :    ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا
قُرق کرنا :      ضبط کر لینا      
مانوس ہونا  :      گُھل مل جانا              
کراہت :       ناگواری
آسمان سر پر اُٹھانا(محاورہ) : بہت زیادہ شور مچانا
جَسْت        :     چھلانگ
وارِث :     حق دار
ساز :   باجا
مجلس :    محفل
امتیاز :    فرق
حِکایت :      ایسی کہانی جس میں نصیحت شامل ہو   
دَم چھوڑنا(محاورہ) :    ہمّت ہارنا  
ملتجیانہ :    التجا کے ساتھ، عاجزی کے ساتھ
بدلگامی :     بے قابو، وہ حرکتیں جن سے روکنا مشکل ہو   

سوچیے اور بتائیے:

1. مینڈک محل کے اندر کیسے پہنچا؟    
2. مینڈک کی وجہ سے محل میں کیا ہنگامہ ہوا؟ 
3. مینڈک نے اپنے ساتھیوں کو انسان کی زبان کے بارے میں کیا بتایا؟
4. محل کے تالاب میں مینڈک کو دیکھ کر رانی نے کیا کیا؟     
5. انسان کو مینڈک سے بڑا کیوں بتایا گیا ہے؟