
کرنل شفیق الرّحمن
(1920 - 2000)
شفیق الرحمن کا پورا نام راؤ شفیق الرحمن تھا۔ وہ ضلع روہتک، ہریانہ میں پیدا ہوئے۔ان کے والد کا نام راؤ عبدالرحمن تھا۔ہائی اسکول پاس کرنے کے بعد انھوں نے لاہور کے میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔1941میں انڈین میڈیکل سروس میں بطور ڈاکٹر مقرّر ہوئے۔ بعد میں ترقّی کرکے کرنل ہو گئے۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد اکادمی ادبیاتِ پاکستان کے صدر رہے۔
شفیق الرحمن کا شمار اردو کے معروف مزاح نگاروں میں ہوتا ہے۔ان کی تحریریں شگفتہ اور رواں ہوتی ہیں۔ہلکی پھلکی باتیں،نو عمر لڑکے لڑکیوں کی نادانیاں اور حماقتیں ان کے خاص موضوعات ہیں۔شفیق الرحمن اپنے مزاحیہ مضامین میں افسانوی تکنیک کو بڑی خوبی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ ان مضامین میں جابجا لطیفوں کو اس طرح شامل کیا گیا ہے جیسے وہ لطیفے نہیں اسی واقعے کا حصّہ ہیں۔
’کرنیں‘،’شگوفے‘،’لہریں‘،’حماقتیں‘،’مزید حماقتیں‘،’دریچے‘ وغیرہ ان کے مزاحیہ مضامین کے مجموعے ہیں۔
اَنکل فرینکی
سالانہ امتحان اِس قَدر کٹھن اور طویل تھا کہ ختم ہونے میں نہ آتا تھا۔جس دن امتحان ختم ہوا، میں نے بستر باندھا۔ہوش آیا تو گُلمر گ میں تھا۔ ایک ہوٹل میں ٹھہرا۔ اِدھر اُدھر دیکھا تو ایک بھی مانوس چہرہ نظر نہ آیا۔بڑی مایوسی ہوئی۔مجھے ان دنوں کرکٹ کا نیا نیا کَلرملا تھا۔اس لیے بلیز ر پہننے کا اتنا شوق تھا کہ میں اور کوئی کوٹ پہنتا ہی نہیں تھا۔صبح صبح بلیز ر پہن کر نکل جاتا اور سارادن اِدھر اُدھر پھرتا رہتا ۔ شام کو آتا،بلیزر اُتارکر سو جاتا۔
گلمرگ میں ایک روز دیکھتا کیا ہوں کہ بالکل سامنے پتھّر پر ایک پُختہ عمر کا شخص بیٹھا ہے۔ اس کے منہ میں لمبا سا پائپ تھا اور ہاتھ میں مچھلیاں پکڑنے کی بنسی ۔اس کے چہرے پر بَلا کی تازگی اور شگفتگی تھی۔مسکراہٹ تھی کہ پھوٹی پڑتی تھی۔اس کے ہاتھ میں تتلیاں پکڑنے کا جال،گردن میں کیمرہ اور تھیلا تھا۔اس نے میرا بلیزر دیکھا۔

’’یہ کرکٹ کا کلر تمھیں کب ملا؟‘‘
’’چند مہینے ہوئے‘‘۔
’’تب تو تم بہت اچھے کھلاڑی ہوگے۔بولر ہویا بیٹسمین؟‘‘
’’بولر ہوں‘‘۔
’’سِلو ہو یا فاسٹ؟‘‘
’’فاسٹ‘‘۔
میں نے کلر جیتنے کی ساری داستان سنائی۔ اس نے بڑی دل چسپی سے سب کچھ سنا۔
’’مجھے بھی کرکٹ کا خبط ہے، لیکن کبھی اسے سیکھ نہ سکا۔ مجھے بولنگ سیکھنے کا تو بے حد شوق ہے۔ کیا تم سکھا دوگے؟‘‘
میں نے اس کی طرف دیکھا،بھلا اِس عمر میں بولنگ سیکھنے کا کیا فائدہ؟ لیکن بڑی سنجیدگی سے اس نے دوبارہ یہی سوال کیا۔
’’آپ کو تھوڑی بہت توآتی ہوگی؟‘‘
’’نہیں بالکل نہیں آتی،لیکن سکھاؤ گے تو بہت جلد سیکھ جاؤں گا۔ میرے پاس چند بَلّے اور گیندیں ہیں۔ جال اور وکٹیں یہاں نہ مل سکیں تو سری نگر سے منگا لیں گے‘‘۔
ہم دیر تک باتیں کرتے رہے۔اس نے بتایا کہ وہ آسٹر یلیا سے یہاں گلمرگ میں اکیلا آیا ہے۔اسے کرکٹ کا نہایت شوق ہے۔ اس نے انگلینڈ اور آسٹر یلیا کے بڑے بڑے کرکٹ میچ دیکھے ہیں۔ کئی مشہور کھلا ڑیوں کو جانتا بھی ہے۔میں نے بریڈ مین اور لِلِی کے متعلق بے شمار سوالات کیے۔ پھر میں نے ہندوستانی کھلاڑیوں کی باتیں سنائیں۔

اگلے روز ہم اِکٹھّے سیر کو گئے۔دن بھر کرکٹ کی باتیں ہوتی رہیں۔ہماری عمروں میں اس قدر نمایاں فرق تھا پھر بھی ہم اتنی جلدی بے تکلّف ہو گئے۔شام کو ان کی چھوٹی سی کوٹھی میں چائے پی گئی۔ سامنے ایک باغیچہ اور میدان تھا۔ اس میں ہم نے جگہ منتخب کر لی۔ دیر تک زمین ہموار کرتے رہے۔میں نے ان کا نام پوچھا۔نام بتا کر کہا’’میرے دوست مجھے فرینکی کہتے ہیں۔تم بھی فرینکی کہا کرو۔
میں سوچنے لگا کہ فرینکی تو کوئی ہم عمر دوست ہو سکتا ہے۔یہ مجھ سے بڑے ہیں۔ مجھے ان کا ادب کرنا چاہیے ۔آخر طے ہوا کہ میں اُنھیں انکل فرینکی کہا کروں۔
ہم نے دو دن صَرف کرکے کرکٹ کھیلنے کے لیے موزوں جگہ بنالی۔جال لگایا،وکٹیں گاڑیں۔سبق شروع ہوئے۔ میں نے گیند پکڑنے کا طریقہ بتایا۔قدم گن کر دکھائے۔بازو گھما کر گیند پھینک کر دکھائی۔جب وہ اچھی طرح سمجھ گئے ،تب ان سے کہا کہ اب آپ پھینکیے ۔میں بَلّا لے کر وکٹوں کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ان کی پہلی گیندیں جال سے باہر نکل گئیں۔کئی میرے سر کے اوپر سے گزر گئیں۔ مجھے ان کے اسٹائل پر بڑی ہنسی آئی۔یہ تو شاید ہی سیکھ سکیں۔

کئی دن تک یہی ہوتا رہا۔ حتّٰی کہ میں بالکل نااُمید ہو گیا۔ لیکن ان کا جوش و خروش بد ستور تھا۔ وہ الٹی سیدھی گیندیں پھینک کر قہقہے لگاتے، ہنستے ہنستے ان کا چہرہ گلابی ہو جاتا۔ وہ بے حد زندہ دل تھے۔ حالاں کہ ان کی عمر ایسی تھی کہ انھیں کم گو ہوجانا چاہیے تھا لیکن نہ جانے کیوں ان کی ایک ایک حرکت میں بچپناتھا۔ بات بات میں شوخی تھی، زندگی تھی۔ہر روز ہم اکٹھّے باہر جاتے، در ختوں پر چڑھتے،پرندوں کے گھونسلوں سے رنگین انڈے اور پَر چُراتے، تتلیوں کا تعاقُب کرتے، خود رَو پھول توڑتے،بھاگ بھاگ کربے حال ہو جاتے۔
شام کو کرکٹ شروع ہوتی۔ میں گیند پھینکنے کی قسمیں بتاتا کہ کس موقع پر کیسی گیند پھینکنی چاہیے۔اس کے بعد وہ عجیب اوٗٹ پٹانگ گیندیں پھینکنی شروع کرتے اور میں بھی ہنس ہنس کر دوہرا ہو جاتا۔
ایک شام کو فرینکی نے بتایا کہ نمائش دیکھنے سری نگر چلیں گے۔ ہم دونوں سری نگر گئے۔ ڈل میں ہائوس بوٹ اور ایک چھوٹی سی کشتی بھی لی گئی۔ دن ڈھل چکا تھا۔ساری وادی پر پیلی سی خوش گوار دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ہم سڑکوں پر نکل آئے۔ سامنے گلّی ڈنڈا ہو رہا تھا۔ انھوں نے پوچھا’’ یہ کون سا کھیل ہے؟‘‘

میں نے تفصیل بتائی ۔بولے’’نہایت دل چسپ کھیل ہے‘‘۔
لڑکوں نے ہمیں کھیل میں شریک کر لیا۔ دیر تک گُلی ڈنڈا کھیلا ۔فرینکی بڑے اچھے کھلاڑی ثابت ہوئے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ کرکٹ سے بہت ملتا ہے۔
سری نگر سے واپسی کا پروگرام بنا۔گُلمرگ پہنچ کر فرینکی نے ایسے زور و شور سے کرکٹ کھیلنا شروع کیا کہ ساری کسر نکل گئی۔وہ بڑی محنت سے سبق سیکھتے ۔بڑی کوشش سے سبق یاد کرتے ۔سہ پہر سے شام تک بولنگ کرتے۔ ان کا کھیل پہلے سے کچھ کچھ بہتر ہو تا جا رہا تھا۔

ایک روز وہ میرے پاس بیٹھ گئے۔ انھوں نے بڑی میٹھی میٹھی باتیں کیں۔ان کے مسکراتے ہوئے چہرے پر ایسی شفقت تھی جیسے میں ان کا برسوں پرانا رفیق ہوں،ہماری عمروں میں کوئی فرق نہیں ہے اور ہم دونوں ہم عمر لڑکے ہیں۔ اس دن شام کو خوب بولنگ ہوئی۔ اب وہ سیدھی گیندیں پھینکنے لگے تھے۔ کبھی کبھار بریک بھی کرا لیتے تھے۔ ایک دفعہ انھوں نے مجھے آوٹ بھی کر دیا۔
رات میں روشنی کے سامنے انھوں نے ہاتھوں کے سائے سے جانور اور پرندے بنائے۔ تتلی،خرگوش، کُتّا، بطخ۔میں نے بھی سیکھے۔ سایوں سایوں کی آپس میں جھوٹ موٹ کی لڑائیاں بھی ہوئیں۔
جب میں وہاں سے چلا تو مجھے چھو ڑنے سری نگر تک آئے۔ انھوں نے مجھے اپنی تصویر دی جس پر لکھا تھا’’بے بی کے لیے، انکل فرینکی کی طرف سے‘‘۔
علی الصّبح مجھے روانہ ہونا تھا۔وہ رات ہم نے ڈَل کے کنارے ٹہل کر گزاری،خوب باتیں کیں۔ انھوں نے مجھے اپنی زندگی کے قصّے سنائے پھر بولے:
’’کہنے کو تو میری عمر کافی ہے اور میں زندگی کا بیش تر حِصّہ گزار چکا ہوں لیکن مجھے یوں محسوس ہو تا ہے جیسے میں نے زندگی ابھی ابھی شروع کی ہے۔مجھے دنیا کی نفیس ترین چیزوں سے محبت ہے۔ ایک مخلص دو ست میرے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ میں صرف خلوص پرزندہ ہوں۔ یہی میری زندگی کا سر مایہ ہے۔
چلتے وقت میں نے وعدہ کیا کہ میں کبھی غمگین نہیں ہوں گا۔ ہمیشہ مسکراتا رہوں گا۔ کالج پہنچ کر میں نے ان کی باتیں دوستوں کو سنائیں۔ان کے خط آتے رہے۔ کشمیر سے وہ کہیں اور جا رہے تھے۔
ایک روز کرکٹ میچ تھا۔ بلیزر کی جیب میں ان کی تصویر تھی۔ میں نے کھلاڑیوں کو دکھائی۔ان میں سے چند تو چونک پڑے۔
’’یہ تمھارے دوست کیسے بنے؟‘‘
میں نے انھیں بتایا کہ میں انھیں بولنگ سکھایا کرتا تھا۔ بڑی محنت کے بعد وہ اس قابل ہو گئے تھے کہ سیدھی گیند پھینک سکیں۔

’’بولنگ سکھاتے تھے؟ ان کو؟‘‘
’’ہاں!‘‘
’’جانتے ہو یہ کون ہیں؟آسٹر یلیا کے مشہورو معروف بولر جو اپنے وقت میں دنیا کے بہترین بولر رہ چکے ہیں‘‘۔
لیکن مجھے یقین نہیں آیا۔پھر انھوں نے ایک کرکٹ کی کتاب میں فرینکی کی تصویر دکھائی۔
’’لیکن میں نے سچ مچ انھیں بولنگ سکھائی تھی‘‘۔
میرا خوب مذاق اُڑا۔ اس وقت میری سمجھ میں کچھ نہ آیا لیکن بعد میں سمجھا۔اِس پُررونق جگہ میں جس طرح میں تنہا اور اُداس تھا اسی طرح شاید فرینکی بھی تنہا اور اُداس تھے۔ شروع شروع میں کرکٹ ہی ایسا موضوع مل سکا جو ہم دونوں میں مشترک تھا۔ بعد میں پتا چلا کہ ہمارے نظریے، ہمارے خیالات ،ہمارے مشاغل یکساں تھے۔ ہمارے دل ہم عمر تھے۔
( شفیق الرحمٰن)
مشق
معنی یاد کیجیے:
کَلَر : کھلا ڑیوں کو ملنے والے مخصوص رنگ
پُختہ : پکّا
شگفتگی : ترو تازگی، شادابی
خبط : جنون کی حد تک شوق
نمایاں : صاف، ظاہر
ہموار : برابر
صَرف : خرچ
موزوٗں : مناسب
حتّٰی کہ : یہاں تک کہ
بدستور : ہمیشہ کی طرح
کم گو : کم بولنے والا
شوخی : چُلبُلا پَن
تعاقُب کرنا : پیچھا کرنا
خود رَو : اپنے آپ اُگنے والا
کسر نکلنا : کمی پوری ہونا
شفقت : محبت،مہربانی
رفیق : دوست
علی الصّبح : صبح سویرے
بیش تر : زیادہ تر
نفیس ترین : سب سے عمدہ، نہایت ہی اچھا
مخلص : خلوص والا، بے غرض
سرمایہ : دولت
معروف : مشہور
مشترک : مِلا جُلا
یکساں : ایک جیسا
مشاغل : مشغلہ کی جمع، مصروفیت
ہم عمر : ایک ہی عمر کے
سوچیے اور بتائیے:
1۔ مصنّف تمام دن بلیزر کیوں پہنے رہتا تھا؟
2۔ فرینکی سے مصنّف کی دوستی کس طرح ہوئی؟
3۔ انکل فرینکی نے بولنگ کس طرح سیکھی ؟
4۔ کرکٹ کے علاوہ انکل فرینکی کی اور کیا سرگرمیاں تھیں؟
5۔ انکل فرینکی نے ’اپنی زندگی کا سرمایہ‘ کسے بتایا؟
6۔ مصنّف کے دوستوں نے اُس کا مذاق کیوں اُڑایا؟