
پریم چند
(1880 - 1936)
پریم چند بنارس کے قریب ایک گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصلی نام دھنپت رائے تھا۔ابتدا میں نواب رائے کے قلمی نام سے افسانے لکھے۔بعد میں پریم چند کے نام سے مشہور ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسے میں ہوئی ۔ اردو اور فارسی پڑھنے کے بعد انٹرنس کا امتحان پاس کیااورسرکاری ملازمت اختیار کرلی۔تعلیم کاسلسلہ جاری رکھا اور بی ۔ اے کی ڈگری حاصل کی ۔
پریم چند کا شمار اردو کےصفِ اوّل کے افسانہ اور ناول نگاروں میں ہوتا ہے ۔ ان کی تحریروں میں دیہاتی زندگی کے تمام پہلو اپنے مسائل کے ساتھ نظر آتے ہیں ۔
’پریم پچیسی ‘،’ پریم بتیسی ‘، ’واردات‘،’نجات‘اور’زادِراہ‘ پریم چند کے افسانوں کےخاص مجموعے ہیں۔ ان کے ناولوں میں ’بازارِ حسن‘،’ گوشۂ عافیت‘، ’چوگان ہستی‘ اور’ میدانِ عمل ‘خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ’گئودان‘ پریم چند کا شاہ کارناول ہے۔پریم چند کے یہاں وطن کی محبت اور سماج کی اصلاح کا جذبہ نمایاں ہے ۔ ان کا اسلوب سادہ ،سلیس اور پُراثر ہے۔
پوٗس کی رات
ہلکو نے آکراپنی بیوی سے کہا۔ ’’شہنا آیاہے۔ لاؤ جو روپیے رکھے ہیں اسے دے دو۔ کسی طرح گردن تو چھوٗٹے۔‘‘
مُنّی بہو جھاڑو لگارہی تھی، پیچھے پھر کر بولی۔ ’’تین ہی تو روپیے ہیں۔دے دوں توکمبل کہاں سے آئے گا؟ ماگھ پوس کی رات کھیت میں کیسے کٹے گی۔ اُس سے کہہ دو کہ فصل پر روپے دے دیں گے، ابھی نہیں ہے۔‘‘
ہلکوتھوڑی دیر تک چُپ کھڑارہا اور اپنے دل میں سوچتا رہا پوٗس سر پر آگیا ۔ بغیر کمبل کے کھیت میں رات کو وہ کسی طرح سو نہیں سکتا۔ مگر شہنا مانے گا نہیں۔ گُھڑکیاں دے گا گالیاں سنائے گا۔ بَلاسے جاڑوں مریں گے، یہ بَلا تو سر سے ٹل جائے گی۔ یہ سوچتا ہُوا وہ اپنا بھاری جِسم لیے ہوئے (جو اس کے نام کو غلط ثابت کررہاتھا) اپنی بیوی کے پاس گیا اور خوشامد کرکے بولا۔ ’’لا، دے دے۔ گردن تو کسی طرح سے بچے۔ کمبل کے لیے کوئی دوسری تدبیر سوچوں گا۔‘‘

مُنّی اس کے پاس سے دور ہٹ گئی اور آنکھیں ٹیڑھی کرتی ہوئی بولی۔ ’’ کرچکے دوسری تدبیر۔ ذرا سُنوں کون سی تدبیر کروگے؟ کون کمبل خیرات میں دے دے گا؟ نہ جانے کتنا روپیہ باقی ہے جو کسی طرح ادا ہی نہیں ہوتا۔ مَیں کہتی ہوں تم کھیتی کیوں نہیں چھوڑدیتے۔ مرمرکر کام کرو، پیداوار ہو تو اس سے قرضہ ادا کرو۔ چلو چُھٹّی ہوئی۔قرضہ ادا کرنے کے لیے تو ہم پیدا ہی ہوئے ہیں۔ ایسی کھیتی سے باز آئے۔ میں روپیے نہ دوں گی۔ نہ دوں گی۔‘‘
ہلکورنجیدہ ہوکربولا۔ ’’تو کیا گالیاں کھاؤں؟‘‘
مُنّی نے کہا۔ ’’گالی کیوں دے گا؟ کیا اس کا راج ہے؟‘‘ مگر یہ کہنے کے ساتھ ہی اس کی تنی ہوئی بھویں ڈھیلی پڑگئیں– ہلکو کی بات میں جو دِل ہلادینے والی صداقت تھی، معلوم ہوتا تھاکہ وہ اس کی جانب ٹکٹکی باندھے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ اُس نے طاق پر سے روپیے اُٹھائے اور لاکر ہلکو کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ پھر بولی ’’تم اب کی کھیتی چھوڑدو۔ مزدوری میں سُکھ سے ایک روٹی توکھانے کو ملے گی۔ کسی کی دھونس تو نہ رہے گی۔ اچھّی کھیتی ہے، مزدوری کرکے لاؤ – وہ بھی اس میں جھونک دو۔ اُس پر سے دھونس!‘‘
ہلکو نے روپیے لیے اور اس طرح باہر چلا کہ معلوم ہوتا تھا وہ اپنا کلیجہ نکال کر دینے جارہا ہے۔ اس نے ایک ایک پیسہ کاٹ کر تین روپیے کمبل کے لیے جمع کیے تھے ، وہ آج نکلے جارہے ہیں۔ ایک ایک قدم کے ساتھ اس کا دماغ اپنی ناداری کے بوجھ سے دبا جارہاتھا۔
پوس کی اندھیری رات۔ آسمان پر تارے بھی ٹھِٹھُرتے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ ہلکو اپنے کھیت کے کنارے اُوکھ کے پتّوں کی ایک چھتری کے نیچے بانس کے کھٹولے پر اپنی پُرانی گاڑھے کی چادر اوڑھے ہوئے کانپ رہاتھا۔ کھٹولے کے نیچے اُس کا ساتھی کُتّا ’’جبرا‘‘ پیٹ میں مُنہ ڈالے سردی سے کوٗں کوٗں کررہاتھا۔ دو میں سے ایک کو بھی نیند نہ آتی تھی۔
ہلکو نے گُھٹنوں کو گردن میں چِمٹاتے ہوئے کہا۔ ’’کیوں جبرا ،جاڑا لگتاہے؟ کہاتوتھا گھر میں پَیال پر لیٹ رہ۔ تو یہاں کیالینے آیاتھا؟ اب کھاسردی، مَیں کیاکروں؟ جانتا تھا میں حلوہ پوری کھانے آرہاہوں۔ دوڑتے ہوئے آگے چلے آئے۔ اب روؤ اپنی نانی کے نام کو۔‘‘ جبرا نے لیٹے ہوئے دُم ہلائی اور ایک انگڑائی لے کر چُپ ہوگیا۔ شاید وہ یہ سمجھ گیا تھا کہ اس کی کوٗں کوٗں کی آواز سے اس کے مالک کو نیند نہیں آرہی ہے۔

ہلکو نے ہاتھ نکال کر جبرا کی ٹھنڈی پیٹھ سہلاتے ہوئے کہا ’’کَل سے میرے ساتھ نہ آنا، نہیں تو ٹھنڈے ہوجاؤگے۔ یہ پچَھوا ہَوا نہ جانے کہاں سے برف لیے آرہی ہے۔یہ کھیتی کا مزہ ہے۔ اور ایک ایک بھاگوان ایسے پڑے ہیں جن کے پاس اگر جاڑا جائے تو گرمی سے گھبراکر بھاگے۔ موٹے گدّے، لحاف، کمبل، مجال ہے کہ جاڑے کا گُزر ہوجائے۔ تقدیر کی خُوبی ہے مزدوری ہم کریں، مزہ دوسرے لوٹیں۔‘‘
جبرا نے اُس کی جانب محبت بھری نگاہوں سے دیکھا۔ ہلکو نے کہا ۔’’آج اور جاڑاکھالے ۔کل سے مَیں یہاں پیال بچھادوں گا۔اس میں گھُس کر بیٹھنا جاڑانہ لگے گا۔‘‘
جبرا نے اگلے پنجے اس کے گھٹنوں پر رکھ دیے اور اس کے مُنہ کے پاس اپنا مُنہ لے گیا۔ ہلکو کو اس کی گرم سانس لگی۔ ہلکو پھر لیٹا اور یہ طے کرلیا کہ چاہے جو کچھ ہو اب کی سوجاؤں گا۔ لیکن ایک لمحے میں اُس کا کلیجہ کانپنے لگا۔ کبھی اِس کروٹ لیٹا، کبھی اُس کروٹ۔ جاڑا کسی بھوت کی مانند اِس کی چھاتی کو دبائے ہوئے تھا۔
جب کسی طرح نہ رہا گیا۔ تو اس نے جبرا کو دھیرے سے اٹھایا اور اس کے سر کو تھپ تھپاکر اسے اپنی گود میں سُلالیا۔ کُتّے کے جسم سے معلوم نہیں کیسی بدبو آرہی تھی، پر اسے اپنی گود سے چمٹاتے ہوئے ایسا سُکھ معلوم ہوتا تھا جو اِدھر مہینوں سے اسے نہ ملا تھا۔ جبرا شاید یہ خیال کررہا تھا کہ بہشت یہی ہے اور ہلکو کی رُوح اِتنی پاک تھی کہ اُس کو کُتّے سے بالکل نفرت نہ تھی۔ وہ اپنی غریبی سے پریشان تھاجس کی وجہ سے وہ اِس حالت کو پہنچ گیا تھا۔ ایسی انوکھی دوستی نے اُس کی روح کے سب دروازے کھول دیے تھے اور اس کا ایک ایک ذرّہ حقیقی روشنی سے منوّر ہوگیا تھا۔ اِسی اثنا میں جبرا نے کسی جانور کی آہٹ پائی۔ اس کے مالک کی اس خاص روٗحانیت نے اس کے دِل میں ایک جدید طاقت پیدا کردی تھی جو ہَوا کے ٹھنڈے جھونکوں کو بھی ناچیز سمجھ رہی تھی۔ وہ جھپٹ کر اٹھا اور چھپّری سے باہر آکر بھونکنے لگا۔ہلکو نے اسے کئی مرتبہ پُچکار کر بُلایا پر وہ اس کے پاس نہ آیا۔ کھیت میں چاروں طرف دوڑ دوڑ کر بھونکتا رہا۔ ایک لمحے کے لیے آبھی جاتا تو فوراً ہی پھر دوڑتا۔ فرض کی ادائیگی نے اسے بے چین کررکھّاتھا۔
ایک گھنٹہ گُزرگیا۔ سردی بڑھنے لگی۔ ہلکو اُٹھ بیٹھا اور دونوں گھُٹنوں کو چھاتی سے ملاکر سرکو چُھپالیا۔ پھر بھی سردی کم نہ ہوئی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سارا خون مُنجمد ہوگیاہے۔ اُس نے اُٹھ کر آسمان کی جانب دیکھا۔ ابھی کتنی رات باقی ہے۔ وہ سات ستارے جو قُطب کے گِرد گھومتے ہیں، ابھی اپنا نِصف دَورہ بھی ختم نہیں کر چکے۔جب وہ اُوپر آجائیں گے تو کہیں سویرا ہوگا۔ ابھی ایک گھڑی سے زیادہ رات باقی ہے۔

ہلکو کے کھیت سے تھوڑی دور کے فاصلے پر ایک باغ تھا۔ پَت جھڑ شروع ہوگئی تھی ۔ باغ میں پتّوں کا ڈھیر لگا ہُواتھا۔ ہلکو نے سوچا چل کر پتیّاں بٹوروٗں اور اُن کو جَلاکر خوب تاپوٗں۔ رات کوکوئی مجھے پتّیاں بٹورتے دیکھے تو سمجھے کہ کوئی بھوت ہے۔ کون جانے کوئی جانور ہی چھُپا بیٹھا ہو، مگر اب تو بیٹھے نہیں رہاجاتا۔
اس نے پاس کے ارہر کے کھیت میں جاکر کئی پودے اکھاڑے اور اس کا ایک جھاڑو بناکر ہاتھ میں سُلگتا ہوا اُپلا لیے باغ کی طرف چلا۔ جبرا نے اسے جاتے دیکھا تو پاس آیا اور دُم ہِلانے لگا۔
ہلکونے کہا۔ ’’اب تو نہیں رہاجاتا۔ جبروٗ چلو، باغ میں پتّیاں بٹور کر تاپیں۔ ٹاٹھے ہوجائیں گے تو پھر آکر سوئیں گے۔ ابھی تو رات بہت ہے۔‘‘
جبرا نے کوٗں کوٗں کرتے ہوئے اپنے مالک کی رائے سے موافقت ظاہر کی اور آگے آگے باغ کی جانب چلا۔ باغ میں گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ درختوں سے شبنم کی بوندیں ٹَپ ٹَپ ٹپک رہی تھیں۔ یکایک ایک جھونکا مہندی کے پھولوں کی خوشبو لیے ہوئے آیا۔
ہلکونے کہا۔ ’’کیسی اچھی مہک آئی جبرا ! تمھاری ناک میں بھی کچھ خوشبو آرہی ہے؟‘‘
جبرا کو کہیں زمین پر ایک ہڈّی پڑی مل گئی تھی وہ اسے چُوس رہاتھا۔ ہلکو نے آگ زمین پر رکھ دی۔ اور پتّیاں بٹورنے لگا۔ تھوڑی دیر میں پتّیوں کا ایک ڈھیر لگ گیا۔ ہاتھ ٹھِٹھرتے جاتے تھے۔ ننگے پاؤں گَلے جاتے تھے۔ اور وہ پتّیوں کا پہاڑ کھڑا کررہا تھا۔ اسی الاؤ میں وہ سردی کو جلاکر خاک کردے گا۔
تھوڑی دیر میں الاؤ جل اُٹھا۔ اس کی لَو اُوپر والے درخت کی پتّیوں کو چُھوچُھوکر بھاگنے لگی۔ اس متزلزل روشنی میں باغ کے عالی شان درخت ایسے معلوم ہوتے تھے کہ وہ اس لا انتہا اندھیرے کو اپنی گردن پر سنبھالے ہوں۔ تاریکی کے اِس اتھاہ سمندر میں یہ روشنی ایک ناؤ کے مانند معلوم ہوتی تھی۔
ہلکو الاؤ کے سامنے بیٹھا ہُوا آگ تاپ رہاتھا۔ ایک منٹ میں اُس نے اپنی چادر بغل میں دبالی اور دونوں پاؤں پھیلادیے، گویا وہ سردی کو للکار کر کہہ رہاتھا – ’’تیرے جی میں جو آئے وہ کر‘‘— سردی کی اس بے پایاں طاقت پر فتح پاکر وہ خوشی کو چھُپا نہ سکتا تھا۔
اُس نے جبرا سے کہا۔ ’’کیوں جبرا! اب تو ٹھنڈ نہیں لگ رہی ہے؟‘‘
جبرا نے کوٗں کوٗں کرکے گویا کہا۔ ’’اب کیاٹھنڈ لگتی ہی رہے گی۔‘‘
’’پہلے یہ تدبیر نہیں سُوجھی۔ نہیں اتنی ٹھنڈ کیوں کھاتے۔‘‘
جبرا نے دُم ہلائی۔
’’اچھّاآئو اِس الائو کو کوٗد کر پارکریں۔ دیکھیں کون نکل جاتاہے۔‘‘
’’اگر جل گئے بچّہ تو مَیں دوا نہ کروں گا۔‘‘
جبرا نے خوف زدہ نگاہوں سے الاؤکی جانب دیکھا۔
’’مُنّی سے کَل یہ نہ جَڑ دینا کہ رات خوب ٹھنڈ لگی اور تاپ تاپ کر رات کاٹی۔ ورنہ لڑائی کرے گی۔‘‘
یہ کہتا ہُوا وہ اُچھلا اَور اُس الاؤ کے اُوپر سے صاف نکل گیا۔ پیروں میں ذرا سی لَپَٹ گئی پر وہ کوئی بات نہ تھی۔ جبرا الائو کے گِرد گھوم کر اُس کے پاس آکھڑا ہُوا۔
ہلکو نے کہا۔ ’’چلوچلو اُس کی سہی نہیں۔ اُوپر سے کود کر آئو۔‘‘
وہ پھر کودا اور الائو کے اُس پار آگیا۔
پتّیاں جل چُکی تھیں۔ باغیچے میں پھر اندھیرا چھاگیا تھا۔ راکھ کے نیچے کچھ کچھ آگ باقی تھی جو ہَوا کا جھونکا آنے پر ذرا جاگ اٹھتی تھی پر ایک لمحہ میں پھر آنکھیں بند کرلیتی تھی۔
ہلکو نے پھر چادر اوڑھ لی اور گرم راکھ کے پاس بیٹھا ہُوا ایک گیت گُنگُنا نے لگا۔ اُس کے جسم میں گرمی آگئی تھی پر جوٗں جوٗں سردی بڑھتی جاتی تھی اسے سُستی دبائے لیتی تھی۔
دفعتاً جبرا زور سے بھونک کر کھیت کی طرف بھاگا۔ ہلکو کو ایسا معلوم ہُوا کہ جانوروں کا ایک غول اس کے کھیت میں آیا۔ شاید نیل گایوں کا جُھنڈ تھا۔ اُن کے کوٗدنے اور دوڑنے کی آوازیں صاف کان میں آرہی تھیں۔ پھر ایسا معلوم ہوا کہ وہ کھیت میں چررہی ہیں۔
اُس نے دل میں کہا۔ ’’نہیں، جبرا کے ہوتے ہوئے کوئی جانور کھیت میں نہیں آسکتا۔ نوچ ہی ڈالے ۔ مجھے وہم ہورہا ہے۔ کہاں! اب تو کچھ سُنائی نہیں دیتا۔ مجھے بھی کیسا دھوکا ہُوا !‘‘
اُس نے زور سے آواز لگائی۔ ’’جبرا!جبرا !‘‘
جبرا بھونکتارہا۔ اُس کے پاس نہ آیا۔
جانوروں کے چرنے کی آواز چَرچَر سنائی دینے لگی۔ ہلکو اب اپنے کو فریب نہ دے سکا۔ مگر اُسے اِس وقت اپنی جگہ سے ہِلنا زہر معلوم ہوتا تھا۔ کیسا گرمایا ہُوا مزے سے بیٹھا تھا۔ اِس جاڑے پالے میں کھیت میں جانا، جانوروں کو بھگانا، ان کا تعاقب کرنا اُسے پہاڑ معلوم ہوتا تھا۔ اپنی جگہ سے نہ ہِلا۔ بیٹھے بیٹھے جانوروں کو بھگانے کے لیے چلّانے لگا۔
’’لِہو،لِہو، ہو، ہو،ہاہا —‘‘
مگر جبرا پھر بھونک اُٹھا۔ اگر جانور بھاگ جاتے تو وہ اب تک لَوٹ آیا ہوتا۔ نہیں بھاگے۔ ابھی تک چر رہے ہیں۔ شاید وہ سب بھی سمجھ رہے ہیں کہ اس سردی میں کون بیدھا ہے جو اُن کے پیچھے دوڑے گا۔ فصل تیار ہے۔ کیسی اچھّی کھیتی تھی۔ سارا گاؤں دیکھ دیکھ کر جلتا تھا۔ اُسے یہ ابھاگے تباہ کیے ڈالتے ہیں!
اب ہلکو سے نہ رہا گیا۔ وہ پکّا ارادہ کرکے اُٹھا اور دو تین قدم چلا۔ پھر یکایک ہَوا کا ایسا ٹھنڈا، چبھنے والا، بچّھو کے ڈنک کا سا جھونکا لگا کہ وہ پھربُجھتے ہوئے الاؤ کے پاس آبیٹھا اور راکھ کو کُرید کُرید کر اپنے ٹھنڈے جسم کو گرمانے لگا۔
جبرا اپنا گلا پھاڑے ڈالتا تھا۔ نیل گائیں کھیت کا صفایا کیے ڈالتی تھیں اور ہلکو گرم راکھ کے پاس بے حِس بیٹھا ہُوا تھا۔ افسردگی نے اُسے چاروں طرف سے رسّی کی طرح جکڑ رکھاتھا۔
آخر وہیں چادر اوڑھ کرسوگیا۔

سویرے جب اُس کی نیند کھلی تودیکھا چاروں طرف دھوپ پھیل گئی ہے اور مُنّی کھڑی کہہ رہی ہے۔ ’’کیا آج سوتے ہی رہوگے۔ تم یہاں میٹھی نیند سو رہے ہو اور اُدھر سارا کھیت چَوپٹ ہوگیا۔‘‘ سارے کھیت کا ستیاناس ہوگیا۔ بھَلا کوئی ایسا بھی سوتا ہے۔ تمھارے یہاں مَنڈیا ڈالنے سے کیا ہُوا؟
ہلکو نے بات بنائی۔ ’’مَیں مرتے مرتے بچا، تجھے اپنے کھیت کی پڑی ہے۔ پیٹ میں ایسا درد اُٹھا تھا کہ میں ہی جانتاہوں۔‘‘
دونوں پھر کھیت کے ڈانڈ پرآئے۔ دیکھا کھیت میں ایک پودے کا نام نہیں اور جبرا مَنڈیا کے نیچے چِت پڑا ہے گویا بدن میں جان ہی نہیں ہے۔
دونوں کھیت کی طرف دیکھ رہے تھے۔ مُنّی کے چہرے پر اُداسی چھائی ہوئی تھی، پر ہلکو خوش تھا۔
مُنّی نے فکرمند ہوکر کہا۔ ’’اب مجوری کرکے مال گُجاری دینی پڑے گی۔‘‘
ہلکو نے مستانہ انداز سے کہا۔ ’’رات کو ٹھنڈ میں یہاں سونا تو نہ پڑے گا۔‘‘
’’میں اس کھیت کا لگان نہ دوں گی۔ کہے دیتی ہوں۔ جینے کے لیے کھیتی کرتے ہیں۔ مرنے کے لیے نہیں کرتے- ‘‘
’’جبرا ابھی تک سویا ہُوا ہے۔ اِتنا تو کبھی نہ سوتا تھا۔‘‘
’’آج جاکر سہنا سے کہہ دے کھیت جانور چرگئے۔ ہم ایک پیسہ نہ دیں گے ۔‘‘
’’رات بڑے گجب کی سردی تھی۔‘‘
’’میں کیا کہتی ہوں۔ تم کیا سنتے ہو۔‘‘
’’تو، گالی کھِلانے کی بات کہہ رہی ہے۔ سہنا کو اِن باتوں سے کیا سروکار۔ تمھارا کھیت چاہے جانور کھائیں، چاہے آگ لگ جائے، چاہے اَولے پڑجائیں، اسے تو اپنی مال گُجاری چاہیے۔‘‘
’’تو چھوڑ دو کھیتی۔ میں ایسی کھیتی سے باز آئی۔‘‘
ہلکو نے مایوسانہ انداز سے کہا۔ ’’جی میں تو میرے بھی یہی آتا ہے کہ کھیتی باڑی چھوڑدوں۔ مُنّی تجھ سے سچ کہتا ہوں مگر مجوری کا کھیال کرتا ہوں تو جی گھبرا اٹھتا ہے، کسان کا بیٹا ہوکر اب مجوری نہ کروں گا۔ چاہے کتنی ہی دُرگت ہوجائے۔ کھیتی کا مرجاد نہ بگاڑوں۔‘‘
’’جبرا! جبرا! کیا سوتا ہی رہے گا؟ چل گھر چلیں۔‘‘
(پریم چند)
مشق
معنی یاد کیجیے:
گردن چھوٹنا (محاورہ) : چھٹکارا پانا
ماگھ ،پوس : ہندوستانی کیلنڈر کے وہ مہینے جن میں بہت سردی پڑتی ہے
گھُڑکیاں دینا : بُرا بھلا کہنا، ڈانٹ ڈپٹ کرنا
بَلا سر سے ٹلنا (محاورہ) : مصیبت دور ہونا
تدبیر : طریقہ
باز آنا (محاورہ) : بچنا
رنجیدہ : اُداس
طاق : دیوار میں بنا ہوا خانہ
ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا(محاورہ) : لگاتار دیکھنا
ناداری : غریبی
اوٗکھ : گنّا
پَیال : پھوس،دھان کا سو کھاڈنٹھل
مجال : ہمّت، حوصلہ
مانند : طرح
مُنوّر : روشن ، چمک دار
اَثنا : بیچ، دوران
روحانیت : روح سے متعلق
منجمد ہونا : جم جانا
قُطْبْ : شمال میں ایک روشن ستارہ
نِصف : آدھا
ٹانٹے ہو جانا : طاقت آنا، جان آجانا
اِتّفاق کرنا : ماننا
لا انتہا : جس کی کو ئی حد نہ ہو
اَتھاہ : گہرا
بے پایاں : بہت زیادہ،بے حد
فَتْح : جیت
دفعتاً : اچانک
غول : جھُنڈ،ٹولی
افسردگی : اُداسی
مَنڈ یا : کھیت میں بنا ہوا چھپّر
سوچیے اور بتائیے:
1. ’ مُنّی‘ نے ہلکو سے کھیتی چھوڑنے کے لیے کیوں کہا؟
2. پوٗس کی اندھیری رات میں ہلکو اور جبرے کی کیا حالت تھی؟
3. ہلکو نے سردی سے بچنے کے لیے کیا تدبیر کی؟
4. کھیت میں اچانک کیا واقعہ پیش آیا؟
5. سارے کھیت کا ستیاناس ہو جانے کے باوجود ہلکو نے کیا فیصلہ کیا؟