Skip to content
Sabrang  Chapter-6

mushtaq ahmad yusufi

مشتاق احمد یوسفی


(1923)


مشتاق احمد یوسفی ٹونک،راجستھان میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔تقسیمِ وطن کے بعد پاکستان منتقل ہو گئے۔وہ ہمارے دَور کے مشہور طنزو مزاح نگار ہیں۔ ان کے مزاحیہ مضامین اپنے دل چسپ اندازِ بیان کی وجہ سے بہت مقبول ہیں۔ وہ الفاظ سے مزاح پیدا کرنے کے فن میں بڑی مہارت رکھتے ہیں۔ان کی ظرافت میں طنز کی گہرائی ہے ۔ اپنے اس طنز کو انھوں نے ’میٹھی مار ‘کا نام دیا ہے ۔بات میں بات پیدا کرنے کے علاوہ اشعار اور مصرعوں کے برمحل اور بر جستہ استعمال سے ہنسنے ہنسانے کا سلیقہ انھیں خوب آتا ہے۔
مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں میں ایسی اپنائیت ہوتی ہے کہ قاری بلاتکلُّف اُن کے قہقہوں میں شریک ہو جاتا ہے۔مگر وہ صرف ہنساتے نہیں ہمارے فکر و شعور کو بھی بیدار کرتے ہیں۔ مشتاق احمد یوسفی الفاظ کے مزاج داں ہیں۔لہجے کے اُتار چڑھاؤ اور نزاکتوں سے بھی خوب کام لیتے ہیں۔’چراغ تلے‘، ’خاکم بہ دہن‘، ’زرگزشت‘ اور’ آبِ گُم‘ ان کی معروف کتابیں ہیں۔
زیرِ نظر مضمون میں یوسفی نے کھانا پکانے کے ہنر کو ایک ’فن‘ قرار دیا ہے۔انھوں نے مزاح کے طور پر ’’فنونِ لطیفہ‘‘ میں لفظی ردّوبدل کرکے ’جنونِ لطیفہ‘ کر دیا ہے۔


جنونِ لطیفہ


بڑا مبارک ہوتا ہے وہ دن جب کوئی نیا باورچی گھر میں آئے اور اس سے بھی زیادہ مبارک دن جب وہ چلا جائے۔ اطمینان کا سانس لینا بقولِ شاعر، صرف دو ہی موقعوں پر نصیب ہوتاہے: 
اِک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد
خود کام کرنا بہت آسان ہے مگر دوسروں سے کام لینا نہایت دشوار ہے۔ اب اسے ہماری نااہلی کہیے یا کچھ اور کہ کوئی خانساماں ایک ہفتے سے زیادہ نہیں ٹِکتا۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ ہنڈیا اگر شبراتی نے چڑھائی تو بگھار رمضانی نے دیا، اور دال بُلاقی خاں نے۔
مقصد اُن باورچیوں کا تعارف کراناہے جن کی خدمت کرنے کا شَرَف ہمیں حاصل ہوچکاہے۔ اگر ہمارے لہجے میں کہیں تلخی آجائے تو معاف فرمائیں۔
کچھ دن ہوئے ایک مڈل فیل خانساماں ملازمت کی تلاش میں آنکلا اور آتے ہی ہمارا نام اور پیشہ پوچھا۔ پھر سابق خانسامائوں کے پتے دریافت کیے اور یہ کہ آخری خانساماں نے ملازمت کیوں چھوڑی؟باتوں باتوں میں یہ بھی کہ ہم ہفتے میں کتنی دفعہ باہر مَدعو ہوتے ہیں اور باورچی خانے میں چینی کے برتنوں کے ٹوٹنے کی آواز سے ہمارے اعصاب اور اخلاق پر کیا اثر مرتّب ہوتا ہے۔
ہمیں یوں محسوس ہونے لگا جیسے وہ ہم میں و ہی خوبیاں تلاش کررہا ہے جو ہم اُس میں ڈھونڈرہے تھے۔ یہ آنکھ مچولی ختم ہوئی اور کام کے اوقات کا سوال آیا تو ہم نے کہاکہ اصولاً ہم محنتی آدمی پسند کرتے ہیں۔ خود بیگم صاحبہ صبح پانچ بجے سے رات کے دس بجے تک گھر کے کام میں لگی رہتی ہیں۔ کہنے لگے، صاحب ان کی بات چھوڑیے وہ تو گھر کی مالک ہیں، میں تو نوکر ہوں۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے یہ وضاحت بھی کردی کہ برتن نہیں مانجھوں گا، جھاڑونہیں دوں گا، ایش ٹرے صاف نہیں کروں گا، میز نہیں لگاؤں گا،دعوتوں میں ہاتھ نہیں دھلاؤں گا۔ ہم نے گھبراکر پوچھا ’’پھر کیا کروگے؟‘‘
’’یہ تو آپ بتائیے۔ کام آپ کو لینا ہے، میں تو تابع دار ہوں۔‘‘
جب سب باتیں طے ہوگئیں تو ہم نے ڈرتے ڈرتے کہا: بھئی سودا سلف لانے کے لیے فی الحال کوئی علیحدہ نوکر نہیں ہے اس لیے کچھ دن تمھیں سودا بھی لانا پڑے گا۔ تنخواہ طے کرلو ۔ فرمایا : ’’جناب تنخواہ کی فکر نہ کیجیے۔ پڑھا لکھا آدمی ہوں۔ کم تنخواہ میں بھی خوش رہوں گا۔‘‘ ’’پھربھی؟ ‘‘، کہنے لگے! ’’پچہتّر روپے ماہوار ہوگی۔ لیکن اگر سودا بھی لانا پڑا تو چالیس روپے۔‘‘
ان کے بعد ایک ڈھنگ کا باورچی آیا مگر بے حد دماغ دار معلوم ہوتا تھا۔ ہم نے اس کا پانی اتارنے کی غرض سے پوچھا: ’’مُغلئی اور انگریزی کھانے آتے ہیں؟ ‘‘۔’’ہرقسم کا کھانا پکاسکتاہوں۔حضورکا کس علاقے سے تعلق تھا؟ ‘‘ہم نے صحیح صحیح بتادیا۔جھوٗم ہی تو گئے ۔کہنے لگے: ’’میں بھی ایک سال اُدھر کاٹ چکا ہوں۔ وہاں کے باجرے کی کھچڑی کی تو دوٗردوٗر تک دُھوم ہے۔‘‘ لہٰذا اُنھوں نے کہا: ’’میں نے بارہ سال انگریزوں کی جوتیاں سیدھی کی ہیں اس لیے اُکڑوں بیٹھ کر چولھا نہیں جھونکوں گا۔‘‘ مجبوراً کھڑے ہوکر پکانے کا چولھا بنوایا۔

1


ان کے بعد جو خانساماں آیا،اس نے کہا ’’میں چپاتیاں بیٹھ کر پکاؤں گامگر بُرادے کی انگیٹھی پر ۔‘‘ چنانچہ لوہے کی انگیٹھی بنوائی۔ تیسرے کے لیے چکنی مٹّی کا چولھا بنوانا پڑا۔ چوتھے کے مطالبے پر مِٹّی کے تیل سے جلنے والا چولھاخریدا اور پانچواں خانساماں اتنے سارے چولھے دیکھ کر ہی بھاگ گیا۔ اُس ظالم کا نام یاد نہیں آرہا۔ البتّہ صورت اور خَدوخال اب تک یاد ہیں۔ وہ اپنے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا نہیں کھاتا تھا۔ آخر ایک دن ہم سے نہ دیکھاگیا اور ہم نے سختی سے ٹوکا کہ گھر کا کھانا کیوں نہیں کھاتے؟ تنک کر بولا ’’صاحب ہاتھ بیچا ہے زبان نہیں۔‘‘ اس نے نہایت مختصر الفاظ میں یہ واضح کردیا کہ اگر اسے اپنے ہاتھ کا پکاہوا کھانے پر مجبور کیا تو فوراً استعفیٰ دے دے گا۔ اُس کے اِس رویّے سے ہمیں شُبہ ہونے لگا کہ وہ واقعی خراب کھانا پکاتا ہے۔ 
گزشتہ سال ہمارے حال پر رحم کھاکر ایک کرم فرمانے ایک تجربہ کار باورچی بھیجا جو ہر علاقے کے کھانے پکانا جانتا تھا ۔ہم نے کہا: ’’بھئی اور سب تو ٹھیک ہے مگر سات مہینے میں دس ملازمتیں چھوڑ چکے ہو، یہ کیا بات ہے؟‘‘ کہنے لگے:  ’’صاحب! آج کل وفادار مالک کہاں ملتا ہے؟‘‘ اس کی بدولت ہر خطّے بلکہ ہر تحصیل کے کھانے کی خوبیاں دستر خوان پر سمٹ کر آگئیں۔ مثلاً دوپہر کے کھانے پر دیکھا کہ شوربے میں کیری ہچکولے لے رہی ہے اور سالن اس قدر تُرش ہے کہ آنکھیں بند ہوجائیں اور اگر بند ہوں تو پَٹ سے کھُل جائیں۔
ایک اور باورچی کا قِصّہ بھی سن لیجیے، جس کو ہم سب آغا کہاکرتے تھے۔ جس دن سے انھوں نے باورچی خانہ سنبھالا، گھر میں حکیم ڈاکٹروں کی ریل پیل ہونے لگی۔یوں بھی ان کا پکایا ہوا کھانا دیکھ کر سر(اپنا) پیٹنے کو جی چاہتاہے لیکن کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ان کو کیوں کر رخصت کیاجائے۔ ایک دن بولے: ’’تم روزروز بیمار ہوتا اے۔۔۔۔۔۔۔اس سے ہمارے قبیلے میں بڑی رسوائی ہوتی ہے اور ہمارا خانہ خراب ہوجاتاہے۔‘‘ اس کے بعد انھوں نے کہا سنا معاف کرایا اور بغیر تنخواہ لیے چل دیے۔ ایسی ہی ایک دعوت کا ذکر ہے جس میں چند اَحباب مدعوتھے۔ نئے خانساماں نے جوقورمہ پکایا اس میں شوربے کا یہ عالَم تھا کہ ناک پکڑ کر غوطہ لگائیں تو شاید کوئی بوٹی ہاتھ آجائے ۔ اِکّا دُکّا کہیں نظر آبھی جاتی تو کچھ اس طرح کہ: 
صاف چُھپتی بھی نہیں سامنے آتی بھی نہیں
جناب نے مشورہ دیا کہ ریفریجریٹر خرید لو ، روز روز کی جھِک جھِک سے نجات مل جائے گی۔ ایک دن لذیذ کھانا پکوالو، اور ہفتے بھر ٹھاٹ سے کھاؤاور کھلاؤ۔ قسطوں پر ریفریجریٹر خریدنے کے بعد ہمیں واقعی بڑا فرق محسوس ہوا اور وہ فرق یہ ہے کہ پہلے جو بدمزہ کھانا صرف ایک ہی وقت کھاتے تھے اب اسے ہفتے بھر کھانا پڑتاہے۔

(مشتاق احمد یوسفی)

2


مشق


معنی یاد کیجیے:

بقولِ شاعر :      شاعر کے کہنے کے مطابق      
نا اہلی :   نالائقی    
خانساماں :    باورچی
شَرَف عزت، فخر  
تلخی :      کڑواہٹ        
سابق :       پچھلا    
مدعو ہونا :    بلایا جانا     
اعصاب :   رگ پٹھّے   
تابع دار : حکم ماننے والا
سوداسلف بازار سے خریدی جا نے والی مختلف چیزیں    
دماغ دار : گھمنڈی، تیز دماغ والا
پانی اتارنا ( محاورہ) :    غرور کم کرنا        
جوتیاں سیدھی کرنا(محاورہ) :   خدمت کرنا  
مطالبہ :      مانگ ،درخواست         
خدو خال  چہرہ مہرہ    
اِستعفیٰ دینا :   نوکری چھوڑنا 
گزشتہ :      گزرا ہوا، پچھلا          
کرم فرما :   مہربان     
خِطّہ :    علاقہ 
تُرش :    کھٹّا      
ریل پیل بہت زیادہ آمد و رفت
رُخصت چھٹّی 
رسوائی :   بے عزّتی           
احباب :    دوست    
غوطہ :    ڈُبکی      

سوچیے اور بتائیے:

1. مصنّف کو اطمینان کاسانس لینا کب نصیب ہوتا ہے؟ 
2. مصنّف نے مڈل فیل خانساماں کی کیا خصوصیات بیان کی ہیں؟
3. ’’ہاتھ بیچا ہے زبان نہیں۔‘‘خانساماں نے یہ کیوں کہا؟
4. مصنّف نے ایک تجربہ کار باورچی کے تُرش کھانوں سے متعلّق کیا کہاہے؟   
5. ریفریجریٹر خریدنے کے بعد مصنّف کو کیا فرق محسوس ہوا؟