Skip to content
Sabrang  Chapter-7

ibraheem yusuf

ابراہیم یوسف


(1921 - 2001) 


اصل نام محمد ابراہیم خاں، قلمی نام ابراہیم یوسف تھا۔ بھوپال کے ایک معزز پٹھان خاندان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی اور ثانوی تعلیم بھوپال میں اور اعلیٰ تعلیم اندور میں حاصل کی ۔ زمانۂ طالب علمی سے ہی افسانہ لکھ کر ادبی زندگی کا آغاز کیا۔ محکمۂ تعلیمات حکومت مدھیہ پردیش سے وابستہ رہے اور پرنسپل کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔
ان کا اصل میدان ڈرامانگاری ہے۔ ان کے ڈراموں کے سات مجموعے شائع ہوچکے ہیں جن میں ’سوکھے درخت‘، ’دھوئیں کے آنچل‘، ’پانچ چھے ڈرامے‘ اہم ہیں۔ ایک ناول ’آبلے اور منزلیں‘ شائع ہوا۔ ڈرامے کے فن اور تاریخ پر ان کی گہری نظر تھی اور اس سے متعلق کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ انھوں نے ڈیڑھ سو سے زیادہ اردو یک بابی ڈرامے تحریر کیے ہیں۔ ان کے بعض ڈرامے بھوپال، اندور اور ممبئی میں اسٹیج کیے جاچکے ہیں۔
ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں مدھیہ پردیش حکومت کا ’اقبال سمان‘ ’میر تقی میرؔ ایوارڈ‘ اور ایوانِ غالب کا ’غالب ایوارڈ‘ دیا جاچکا ہے۔ 


ٹیپو سلطان



1

[پردہ اُٹھتا ہے]


سلطان کے محل سے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹا سا خیمہ جس کے سامنے کچھ کرسیاں پڑی ہیں۔ ایک کرسی پر ٹیپو سلطان ، باقی پر سلطان کے کچھ افسر بیٹھے ہیں۔کچھ سپاہی پہرے پر کھڑے ہیں۔سلطان کسی کا انتظار کر رہا ہے۔ سلطان نظریں اٹھا کر سب لوگوں کی طرف دیکھتا ہے۔

 میر صادق :         (کھڑے ہو کر)اعلیٰ حضرت میر قمرالدّین دشمن کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔     
سلطان    :        انھوں نے دشمن کو راستے میں نہیں روکا، ان کی طرف سے ہمارا شک جائز ہے۔
 میر صادق :       شہزادہ فتح حیدر کے ساتھ بھی ایک بڑی فوج ہے۔ جوں ہی دشمن کی پشت پر آئیں گے ہم موت کے فرشتے بن کر دشمن پر ٹوٹ پڑیں گے۔  

لالی : (نفرت سے میر صادق کو دیکھ کر) اگر قلعے کی حفاظت ہمارے سُپرد کرنے کی تجویز اعلیٰ حضرت کو پسند نہیں تو پھر بہتر ہے کہ ہم سب فرانسیسیوں کو پکڑ کر انگریزوں کے حوالے کر دیں۔ وہ ہمارے نکل جانے پر صُلْح کی بات کریں گے، انھیں ہم سے ہی دشمنی ہے۔      

2

سلطان :      آپ اپنا وطن چھوڑ کر ہمارے بلانے پر یہاں آئے ہیں۔قَسَم ہے وحدہٗ لاشریک کی اگر پوری سلطنت بھی تباہ ہو جائے تب بھی ہم ایسا نہیں کریں گے۔

[ایک چوبدار داخل ہو کر]

چوبدار :  سلطان کا اقبال بلند ہو! (سلطان نظریں اٹھا کر چوبدار کو دیکھتا ہے)ایک برہمن نجومی اِسی وقت بار یابی چاہتا ہے۔
سلطان : اجازت ہے۔(چوبدار واپس چلا جاتا ہے سلطان،لالی اور سیپو کی طرف دیکھ کر)اگر ہم کو آپ جیسے چار وفادار مل جاتے تو خدا کی قسم ہم ہندوستانیوں کو فِرنگیوں کی غلامی سے بچالیتے۔ (کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد)سیپو، لالی یہ بہت نازک وقت ہے، ہمیں چوبیس گھنٹے مورچوں پر ہو شیار رہنا چاہیے۔   
لالی : ہم مقدّس کنواری کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ جان دے دیں گے مگر غدّاری اور بے وفائی نہیں کریں گے۔(لالی اور سیپو سلام کرتے ہیں اور تیز تیز قدموں سے چلے جاتے ہیں۔اُسی وقت چوبدار کے ساتھ نجومی آتا ہے اور جُھک کر سلام کرتا ہے)
نجومی : مہاراج کی جے ہو۔ (کچھ دیر رک کر) میری جوتش وِدّیا بتاتی ہے کہ آج کا دن اَن داتا کے لیے اَشُبھ ہے۔ 
سلطان (کچھ خاموش رہ کر پُورنیّا کی طرف دیکھ کر)پٹّن کے سنّیاسی کو ایک ہاتھی، ایک تھیلا تِل اور دو سو روپے فوراً دے دیے جائیں۔      
پورنیا : سلطان کا حکم سر آنکھوں پر، فوراً تعمیل کی جائے گی۔       
سلطان  دیگر بر ہمنوں کو نوّے نوّے روپے،ایک سیاہ بیل، بکری، کپڑے اور تِل دینے کا انتظامکیا جائے۔

3


پورنیا : ابھی تعمیل کی جاتی ہے۔
سلطان (نجومی کی طرف دیکھ کر)یہ منحوس دن گزر جانے پر تمھارا سلطان تمھیں مالا مال کر دے گا۔

[نجومی جھُک کر سلام کرتا ہے اور چلا جاتا ہے]

بدرالزّماں :    اِن لوگوں نے حالات کو دیکھ کر مبارک اور منحوس دن بھی بنا لیے ہیں۔     
سلطان : یہ لوگ اپنے سلطان سے محبت کرتے ہیں اور ان کی محبت کی ہم قدر کرتے ہیں۔ (کچھ دیر خاموش رہ کر) آپ حضرات نے لالی اور سیپو کی تجویز کو سُنا۔ ہم آپ کی رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں۔     
میر صادق :    اعلیٰ حضرت! انگریز اور فرانسیسی ایک ہیں۔اُن پر کیوں کر بھر وسہ کیا جا  سکتا ہے۔    

4

سلطان :    ہم قسم کھا کر کیے گئے وعدے پر اُسی طرح ایمان لے آتے ہیں جیسے ہمارا ایمان خدائے بزرگ اور برتر پر ہے۔ (سب سلام کر کے چلے جاتے ہیں۔ چو بدار کی  طرف دیکھ کر) شہزادہ عبدالخالق اور شہزادہ معزالدّین کو فوراً بلایا جائے۔           

 (چوبدار سلام کرکے جاتا ہے کہ سیّد غفّار آتا ہے)

سیّد غفّار :     اعلیٰ حضرت! فرنگی فوج میں ایسی ہلچل دیکھی جا رہی ہے کہ جیسے حملہ  ہونے والا ہے۔       
سلطان :        دن میں حملہ ہوگا؟ (کچھ دیر سوچ کر) آپ مورچے پر مُستعد رہیے،ہم نے خاص طور پر آپ کی وفاداری کے باعث اس مورچے کی ذمّے داری آپ کو سونپی ہے۔
سیّد غفّار :      (جو شیلے لہجے میں)اگر حضرت حکم فرمائیں تو غدّاروں کے سَر ابھی قدموں میں لاکر ڈال دوں۔     

5

سلطان :     (ٹھنڈی سانس بھر کر)جن غدّاروں کو ہم نے سانپ کی طرح دودھ پلا کر پالا ہے، ان کی بے وفائی کی انتہا بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔(دونوں شہزادے آتے ہیں اور سلام کرکے کھڑے ہو جاتے ہیں،سیّد غفّار سلام کرکے چلا جاتا ہے،سلطان شہزادوں سے)ہم نے آپ کو بے حد اہم خدمات انجام دینے کے لیے بلایا ہے۔  
مُعزِالدّین :         (سیٖنہ پُھلا کر)جن کی رگوں میں حیدری خون دوڑ رہا ہے وہ اہم خدمات انجام دینے کے لیے ہی پیداہوئے ہیں۔         
سلطان :    آپ حیدر علی کے پوتے اور ٹیپو کی اولاد ہیں۔ ان دونوں نے مشکلات سے گھبرانا نہیں سیکھا۔           
معزالدّین :      شیر کی اولاد گیدڑ نہیں ہو سکتی۔حکم فرمائیے ،اس تلوار کے لیے کون سی  خدمت ہے؟          
سلطان :    (مسکراکر )فی الحال ہم آپ کو حرم سَرا اور محل کی حفاظت کی ذمّے داری سونپتے ہیں۔

[معزالدّین سلام کرکے چلا جاتا ہے۔]

عبدالخالق :      (افسر دہ لہجے میں)آج شہزادہ معزالدین ہم سے بازی لے گئے۔ 
سلطان :    (مسکراکر)لیکن ہم اس سے بھی اہم خدمت آپ کے سپردکریں گے۔        

[اسی وقت ایک سپاہی آتا ہے اور سلام کرکے]

سپاہی :    میں حضرت کو یہ بُری خبر سنانے کے لیے معافی چاہتا ہوں کہ سیّد غفّار دشمن کی گولی سے مارے گئے۔           
سلطان :    مارے نہیں گئے،شہید ہو گئے۔اِنّا لِلہ وَ اِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن(سپاہی سے)اُس جگہ پر نشان لگا دیا جائے۔          
(سپاہی سلام کرکے چلا جاتا ہے کھانا لگایا جاتا ہے۔سلطان لقمہ اٹھاتا ہے کہ ایک سپاہی راجا خاں دوڑا ہوا آتا ہے۔)      
راجا خاں :     سلطان! فرنگی فوج دیوار کے شگاف سے اندر داخل ہوگئی ہے۔           
سلطان :       (ہاتھ سے لقمہ رکھتے ہوئے)سلطانی فوج نے اسے روکا نہیں!         
راجا خاں :         دیوان پور نیا نے تنخواہ تقسیم کرنے کے لیے ساری فوج کو مسجد اعلیٰ کے پاس  بلا             لیا ہے۔ وہاں ایک بھی سپاہی نہیں ہے۔              
سلطان :     (پاس رکھی ہوئی بندوق اٹھا کر) جن لوگوں نے یہ غدّاری کی ہے ان کی اولاد         ایک ایک دانے کو ترسے گی۔         
راجا خاں :       حضرت سلطان کا مورچہ پر جانا مناسب نہیں ہے۔      
سلطان :   گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے شیر کی ایک دِن کی زندگی بہتر ہے۔(اور تیز تیزقدموں سے چلا جاتا ہے)راجا خاں بھی پیچھے پیچھے دوڑتا ہے۔ ایک دو سپاہی شہزادہعبدالخالق کے پاس کھڑے رہ جاتے ہیں۔ ایک نوجوان لڑکی غصّے میںبھری ہوئی آتی ہے۔     
لڑکی : شہزادے! میں ایک برہمن لڑکی ہوں،وطن پر فداہونے کے لیے مجھے ایک تلوارچاہیے۔جب محل کی بیگمات وطن پر فدا ہورہی ہیں تو میں بھی پیچھے نہیںرہوں گی۔             
(ایک سپاہی کی تلوار لے کردوڑتی ہوئی چلی جاتی ہے)   
عبدالخالق :    جس ملک میں ایسی بہادر لڑکیاں ہوں وہاں (ایک سپاہی دوڑتا ہوا آتا ہے          عبدالخالق اسے دیکھ کر)،کوئی خبر؟       
سپاہی : سلطان نے فرنگی فوج کے ٹِڈّی دَل کو ڈوڈی دروازے کے پاس روک لیا ہے۔مگر     کُمک کی فوری ضرورت ہے۔   
عبدالخالق :   مسجدِ اعلیٰ کے پاس جس قدر فوج ہے اس کو فوراً حضرت سلطان کی مدد          کے لیے بھیج دیا جائے۔       
سپاہی : مگر دیوان پورنیا نے ان سے ہتھیار چھین لیے ہیں۔         
عبدالخالق :    اسلحہ خانۂ سلطانی سے فوراً ہتھیا ر دے دیے جائیں (سپاہی سلام کرکے چلا        جاتا ہے۔احمد خاں سپاہی ننگی تلوار غصّے سے ہاتھ میں لیے آتا ہے۔شہزادہ اس      طرف دیکھتا ہے۔)       
احمد خاں :   غدّار،نمک حرام میر صادق نے ڈوڈی دروازہ بند کر ادیا ہے کہ حضرت    سلطان اس دروازے سے واپس قلعے میں نہ آسکیں۔     
عبدالخالق :   (کچھ سوچ کر)فوج کو حکم دیا جائے کہ وہ کچّی فصیل سے نکلنے کے لیے بڑے     دروازے کو استعمال کرے اور حضرت سلطان کو مدد پہنچائے۔ (احمد خاں غصّے میں بھاگتا   ہوا جاتا ہے عبدالخالق ٹہلنے لگتا ہے۔)   

[ایک سپاہی دوڑتا ہوا آتا ہے عبدالخالق کو سلام کرکے]

سپاہی :    احمد خاں نے میر صادق کو قتل کر دیا۔ حضرت سلطان دست بدست جنگ کرتے        ہوئے بڑے دروازے تک پیچھے ہٹ آئے ہیں لیکن تین طرف سے دشمن سے     گھر گئے ہیں۔ قیامت کا رَن پڑ رہا ہے۔ 
عبدالخالق :         (افسردہ لہجے میں)کاش! حضرت سلطان ہمیں ایک اہم خدمت سپردنہ کرتے   اور اس وقت ہم ان پراپنی جان قربان کر سکتے۔         
6

سپاہی : شہزادے بہادر! آپ چند جاں نثاروں کے ساتھ قلعہ خالی کر دیں اور شہزادہ فتح             حیدر کے پاس پہنچ کر جنگ جاری رکھیں۔      
عبدالخالق :    (غصّے سے)آج تک یہ نہیں سُنا کہ کوئی شیر مقابلے سے مُنہ موڑ کر فرار ہو گیا ہو۔(بے چینی سے ٹہلنے لگتا ہے، پھر ٹھنڈی سانس بھر کر)اگر آج ہم ہار گئے تو پھر کوئی مسلمان کسی پور نیا کی حفاظت نہیں کرے گا اور نہ کوئی برہمن لڑکی کسی ٹیپو سلطان پر جان نثار کرنے کو بے تاب ہوگی۔

[بے چینی سے ٹہلنے لگتا ہے۔ ایک سپاہی زخموں سے چور آتا ہے۔]

سپاہی : منحوس خبر یہ ہے کہ (گِر پڑتا ہے)عبدالخالق کو دیکھ کر پھر آنکھیں کھول کر۔      شہزادے! حضرت سلطان شہید ہوگئے اور میں حقِ نمک ادا نہ کر سکا۔
     (اس کی گردن ایک طرف ڈھلک جاتی ہے۔ عبدالخالق آہستہ سے اُسے لٹا کر اور        کھڑے ہو کر)      
عبدالخالق :     اِنّا لِلہ وَ اِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔   

[پردہ گرتا ہے]



مشق


معنی یاد کیجیے:

اعلیٰ حضرت : بڑے مرتبے والا(احترام کے طور پر بولتے ہیں)         
پُشت پیٹھ،پیچھے  
دشمن پر ٹوٹ پڑنا(محاورہ) :      ایک ساتھ حملہ کرنا   
سُپرد کرنا        :      حوالے کرنا            
تجویز رائے،مشورہ       
صُلح : میل ملاپ
وحدہٗ لا شریک :    وہ اکیلا جس کا کوئی شریک نہیں، مُراد اللہ تعالیٰ 
اقبال بلند ہونا(محاورہ) مرتبہ بلند ہونا
سلطنت :    شاہی حکومت   
چو بدار :   دربار میں آواز لگانے والا
مورچہ :    جنگ کا میدان
نجومی :   ستاروں کی چال دیکھ کر آگے کا حال بتانے والا
باریابی :    خدمت میں حاضری ،ملاقات   
مُقدّس کنواری     :   حضرت مریم کی طرف اشارہ ہے               
اَشُبھ :   نامبارک
تعمیل کرنا :     پورا کرنا، عمل کرنا
بزرگ وبرتر :     بڑا  
مُستعِد :      تیّار  
حرم سَرا :      شاہی بیگمات وخواتین کے رہنے کی جگہ  
اِنّا لِلہ وَ اِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن :     بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹنا ہے
            (کسی پریشانی کے موقع پر بولا جانے والا کلمہ)   
ٹِڈّی دَل :     بہت بڑی تعداد 
کُمک فوجی مدد   
اسلحہ خانہ :     ہتھیار رکھنے کی جگہ     
فصیل :   قلعہ اور شہر کے گرد بنائی گئی دیوار  
دست بدست ہاتھوں ہاتھ 
قیامت کا رَن پڑنا (محاورہ) :     زبردست جنگ ہو نا     
فرار ہونا :     بھاگ جانا      

سوچیے اور بتائیے:

ٹیپو سلطان کا پور ا نام کیا تھا؟
ٹیپو سلطان انگریزوں سے پوری زندگی کیوں لڑتا رہا؟  
لالی نے ٹیپو سلطان کو اپنی وفاداری کا یقین کس طرح دلایا؟   
ٹیپو سلطان نے شہزادہ مُعِزالدّین کو کیا خدمت سپرد کی؟
’’گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔‘‘اس جملے کا کیا مطلب ہے؟
میر صادق اور پور نیاکون تھے؟ انھوں نے ٹیپو سلطان سے کیا غدّاری کی؟