Skip to content
Sabrang  Chapter-8

qazi abdul ghaffar

قاضی عبدالغفّار


(1890 - 1956)


قاضی عبد الغفّار مراد آباد میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم مقامی اسکولوں میں حاصل کی ۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ گئے جہاں ان کا ادبی اور سیاسی شعور پروان چڑھا ۔ صحافت میں ان کی گہری دل چسپی تھی۔ ابتدامیں وہ مولانا محمد علی جوہرؔ کے مدد گار کی حیثیت سے ان کے اخبار ’ہمدرد ‘ (دہلی)سے وابستہ ہوئے۔ کچھ عرصے بعد کولکاتا چلے گئے ۔ وہاں سے روزنامہ ’ جمہور‘ پھر حیدرآباد سے ’ پیغام‘ نکالا۔ 
 ’ لیلیٰ کے خطوط’اور ’ مجنوں کی ڈائری ‘ ان کی اہم کتابیں ہیں۔ ’ آثارِجمال الدّین‘ ،’ حیاتِ اجمل‘ اور ’یادگارِ ابوالکلام آزاد‘ ان کی لکھی ہوئی مشہور سوانح عُمریاں ہیں۔ انھوں نے ایک عرصے تک انجمن ترقی اردو (ہند) کے سکر یٹری کی خدمت انجام دی اور  انجمن کے ترجمان ’ ہماری زبان‘ کے مدیر بھی رہے ۔

حکیم اجمل خاں


hakeem ajmal khan


حکیم اجمل خاں 1863 میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ وہ دہلی شہر کے نہایت ہی مشہور حکیم تھے۔ ان کی شہرت پورے ہندوستان میں پھیلی ہوئی تھی۔ حکیم اجمل خاں بڑے باکمال انسان تھے۔ ان کی ذہانت کا یہ عالَم تھا کہ بہت کم عمری میں انھوں نے قرآن حِفظ کرلیا۔ عربی اور فارسی کی تعلیم گھر پر ہی مکمّل کرلی۔ بچپن ہی سے کُتب بینی کا شوق تھا۔ گھنٹوں کتابیں پڑھتے رہتے،  کھانے پینے کا بھی ہوش نہ رہتا۔ ان کے اس شوق کو دیکھ کر اُن کے والد پیار سے انھیں  مُلّا پکارتے تھے۔ انھیں ورزش کا بھی شوق تھا۔ گھر ہی اکھاڑا تھا جہاں وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ورزش کیا کرتے تھے۔
حکیم اجمل خاں خاندانی حکیم تھے۔ ان کے والد حکیم محمود خاں نے طبِّ یونانی کو زندہ رکھنے کے لیے دہلی میں ایک طِبّیہ مدرسہ جاری کیاتھا جس میں یونانی طریقہ ٔ علاج کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اُن کے انتقال کے بعد مدرسے کی ذمّے داری حکیم اجمل خاں پر آگئی۔ انھوں نے اِس کی ترقّی کے لیے بڑی محنت اور جدّوجہد کی اور اسے مدرسے سے کالج بنادیا۔ اِس میں انھوں نے عورتوں کی تعلیم کے لیے علیحدہ شُعبہ بھی قائم کیا۔ حکیم صاحب نے کالج کے لیے اپنا ذاتی دواخانہ اور تمام اِملاک وَقْف کردی اور اپنے خاندان والوں کے لیے کچھ نہ چھوڑا۔ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں دواخانے اور جائدداد سے دو لاکھ روپے سالانہ آمدنی ہوتی تھی۔ یہ پوری رقم طِبّیہ کالج پرصَرف ہوتی تھی۔ یہ اُن کے ایثار کی اَدنیٰ مثال ہے۔
حکیم صاحب کو تعلیم سے بے حد لگاؤ تھا۔ وہ اکثر کہاکرتے تھے کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقّی نہیں کرسکتی۔ مسلمانوں میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے انھوں نے سرسیّدکا پورا ساتھ دیا۔ حکیم صاحب کو اپنے وطن سے بے حد محبت تھی۔ وہ ملک کوآزاد دیکھنا چاہتے تھے۔ انھوں نے انگریزی حکومت کے ظلم و جَبر اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی اور قومی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔ انھوں نے عدم تعاوُن کی تحریک میں گاندھی جی کا ساتھ دیا۔ ان کی قومی خدمات  کے سبب انھیں کانگریس کا صدر بنایا گیاجو ہندوستانیوں کے لیے اس زمانے میں سب سے بڑا اعزاز تھا۔ عدم تعاون کی تحریک کے نتیجے میں مولانا محمد علی جوہرؔ ، ڈاکٹر مختار احمد انصاری اور حکیم اجمل خاں کی کوششوں سے علی گڑھ میں ایک قومی دَرس گاہ ’جامعہ ملّیہ اسلامیہ‘ کے نام سے قائم ہوئی۔ بعد میں یہ درس گاہ دہلی منتقل ہوگئی۔ حکیم صاحب اس درس گاہ کے پہلے امیرِ جامعہ منتخَب ہوئے اور آخر دم تک اس عُہدے پر فائز رہے۔


1

حکیم صاحب کو ہندو مسلم اِتّحاد بڑا عزیز تھا۔ جہاں کہیں ان دونوں فِرقوں کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوتا حکیم صاحب اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وہاں پہنچ جاتے اور جب تک دونوں میں صلح صفائی نہ ہوجاتی وہاں سے واپس نہ آتے۔ وہ بڑے  حوصلہ مند اور باہمّت انسان تھے۔ سامنے کھڑی ہوئی موت کے مقابلے میں بھی اپنے چہرے پر شِکن نہ آنے دیتے۔
ایک بار شمالی ہند میں زبردست زلزلہ آیا۔ صبح کے وقت حکیم صاحب اپنے مَطَب میں مصروف تھے۔ جب زلزلے کے پَے درپَے جھٹکے محسوس ہوئے تو مریض اور حاضرین سراسیمہ اُٹھ کر بھاگے لیکن آدھے منٹ کے بعد جب لوگوں کو ہوش آیا تو انھوں نے دیکھا کہ حکیم صاحب بَدَستور اپنی جگہ بیٹھے ہیں۔ ان کے اِس ضبط وتحمّل نے بھاگنے والوں کو شرمادیا اورمَطَب کا کام ایک منٹ میں اس طرح جاری ہوگیا گویا کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
غیرت اور خودداری کا یہ حال تھا کہ انتہائی انکسار کے باوجود جب عزّتِ نَفْس کا سوال آتا تو موم جیسی نرمی، فولاد کی طرح سخت ہوجاتی۔ ایک دفعہ رام پور سے تشریف لارہے تھے اور مرادآباد اسٹیشن پر ٹرین میں اوّل درجے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ بستر بچھایا جاچکاتھا۔ ابھی لیٹے نہ تھے کہ اس اوّل درجے کے ڈبّے میں ایک فرنگی تشریف لائے۔ وہ ایک ہندوستانی کو فرسٹ کلاس میں بیٹھے ہوئے دیکھ کر چِیں بہ جَبیِں ہوئے۔ جس برتھ پر حکیم صاحب کا بستر لگا ہوا تھا اس پر وہ خود قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے آتے ہی حکم دیا ’’اُدھر جائیے گا۔‘‘ وہ بار بار کہتے رہے لیکن حکیم صاحب خاموش رہے اور ٹَس سے مَس نہ ہوئے کیوں کہ اُن کے پاس فرسٹ کلاس کا ٹکٹ تھا۔ اتنے میں انگریز کا ملازم سامان لے کر داخل ہوااور جب دیکھا کہ صاحب بگڑرہے ہیں تو آہستہ سے اُن کو بتایا کہ یہ دہلی کے مشہور ومعروف حکیم صاحب ہیں جن کا چرچا سارے ہندوستان میں ہے۔ یہ سن کر صاحب نے فوراً اپنا رویّہ بدل دیااور کہنے لگے ’’حکیم صاحب! معاف فرمائیے۔ میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا۔ میں بیمار ہوں اور داہنی کروَٹ سو نہیں سکتا۔ اس لیے آپ کے برتھ پر سونا چاہتا تھا۔‘‘
حکیم صاحب نے فرمایا ’’آپ نے گفتگو کا یہ طریقہ پہلے ہی کیوں نہ اختیار کیا۔ یہ معلوم کرکے کہ میں اجمل خاں ہوں آپ میرے ساتھ اخلاق بَرَت رہے ہیں۔ مگر یہ دیکھ کر کہ میں ہندوستانی ہوں، آپ نے اخلاق کے ساتھ گفتگو کرنے کی ضرورت نہ سمجھی۔ اب میں یہ جگہ آپ کوہرگز نہ دوں گا۔‘‘

2

حکیم صاحب کی زندگی رئیسانہ تھی۔ اُن کی ٹکّر کا ہندوستان میں کوئی حکیم نہ تھا۔ نوابوں اور راجاؤں سےماہوار ہزاروں کی رقمیں بندھی ہوئی تھیں۔ دہلی سے باہر جانے کی روزانہ ایک ہزارروپے فیس مقرّر تھی۔ لیکن اللہ نے انھیں ایک دردمند دل دیاتھا۔ وہ فقیرانہ طبیعت رکھتے تھے۔ دولت کی محبت ان کے دل میں جگہ نہ پاسکی۔ اُن کی نظر میں امیر غریب سب برابر تھے۔ وہ جو کچھ کماتے تھے اپنے عزیزوں اور غریبوں کی مدد اور قومی کاموں میں اُٹھادیتے تھے۔ غریبوں سے کوئی فیس نہ لیتے تھے بلکہ انھیں دوائیں بھی مفت دیتے تھے۔ انھیں طبِّی اور قومی خدمات کی وجہ سے ’’مَسیحُ المُلک ‘‘ کے نام سے شہرت نصیب ہوئی۔

3

حکیم صاحب غریبوں اور ضرورت مندوں کا ہمیشہ خیال رکھتے تھے۔ کتنی ہی بیواؤں اور یتیموں کے ماہانہ وَظائف مُقرّر تھے۔ دینے کا انداز ایسا ہوتا تھا کہ ایک ہاتھ سے دیتے تو دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہوتی اور لینے والابھی شرمندہ نہ ہوتا۔
قومی مدرسوں اور طرح طرح کے چھوٹے بڑے قومی کاموں کو بھی ان کی ذات سے مدد ملتی تھی۔ آخری زمانے میں وہ اپنا زیادہ وقت جامعہ مِلّیہ اسلامیہ کے کاموں میں لگاتے تھے۔ جامعہ کے اِخراجات کا ایک بڑا حصّہ اکثر اپنی جیب سے ادا کرتے تھے اور دیکھنے والوں کو کبھی اِس کی خبر نہ ہوتی تھی کہ جامعہ بغیر چندے اور عَطیات کے کیوں کر چلائی جا رہی ہے۔ حکیم صاحب چونسٹھ برس کی عمر میں19 دسمبر 1927 کو جہانِ فانی سے کوٗچ کرگئے۔ آج حکیم اجمل خاں ہم میں نہیں ہیں لیکن اُن کے کارنامے رہتی دنیا تک ان کی یاد دلاتے رہیں گے۔

(قاضی عبدالغفّار)

مشق



معنی یاد کیجیے:

باکمال : کمال والا
ذہانت : سوجھ بوجھ
عالَم :       حال   
حِفظ کرنا :   زبانی یادکرنا  
کتب بینی :    کتابیں پڑھنا  
طبِّ یونانی :     علاج کا یونانی طریقہ    
شعبہ : محکمہ ،حصّہ 
املاک : مِلک کی جمع، جائداد 
وقف کرنا :     لوگوں کی بھلائی کے لیے اپنی جائداد دے دینا  
ایثار :      قربانی   
ادنیٰ :      معمولی  
فروغ :       ترقّی، بڑھاوا     
جبر :     زور زبر دستی   
عدم تعاون :      ساتھ نہ دینا    
اعزاز :       رُتبہ ،عزّت     
درس گاہ :    تعلیم کی جگہ،تعلیمی ادارہ
منتقل ہونا :     ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا  
امیرِ جامعہ :    چانسلر   
اتّحاد :    مل جل کر رہنا    
مطب ڈاکٹر یا حکیم کے بیٹھنے کی جگہ،کلینک
پَے در پَے :     ایک کے بعد ایک ، لگاتار        
سراسیمہ :   گھبرایاہوا، ڈرا ہوا      
ضبط وتحمّل :     صبر اور برداشت        
انکسار : خاک ساری، خود کو چھوٹا سمجھنا،عاجزی
عِزّتِ نَفْس         :   خود کی عزّت، خودداری    
چیں بہ جبیں ہونا(محاورہ) :        ناراض ہونا
ٹَس سے مَس نہ ہونا (محاورہ) :     اپنی جگہ سے بالکل نہ ہلنا
فقیرانہ طبیعت   :      سادہ طبیعت     
وظائف :     وظیفہ کی جمع، مدد کے لیے دی جانے والی رقم     
مسیح الملک :     ملک کا مسیحا، بیماروں کو اچھّا کرنے والا 
عطیات : عطیہ کی جمع، چندہ   
جہانِ فانی :   ختم ہونے والی دنیا     
کوٗچ کرنا روانہ ہونا    

سوچیے اور بتائیے:

1. حکیم اجمل خاں نے  طبیّہ مدرسے کی ترقّی کے لیے کیا کام کیے؟      
2. تعلیم کے بارے میں  حکیم اجمل خاں  کا کیا خیال تھا؟        
3. جامعہ ملّیہ اسلامیہ کے نام سے قومی درس گاہ کہاں اور کن لوگوں کی کوششوں سے قائم        ہوئی تھی؟
4. ہندومسلم اتّحاد کے لیے حکیم صاحب نے کیا خدمات انجام دیں؟       
5. ریل کے سفرمیں حکیم صاحب کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟   
6. حکیم صاحب غریبوں کی مدد کس طرح  کرتے تھے؟