
چلیے ذرا سنبھل کر!!
’’ صبیح ! آج یہ پھول اس قدر مرجھایا ہوا کیوں ہے ؟ تمھاری صباحت کیا ہوئی ؟ ہم نے تو تمھیں ہمیشہ چہکتے ہی دیکھا ہے ۔ ارے یہ کیا ! تمھاری آنکھوں میں یہ آنسو کیسے ؟‘‘صبیح کے دوستوں نے آج اسکول میں اسے رنجیدہ دیکھ کربے ساختہ کہا۔ صبیح محو ِ حیرت تھا اور کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکل رہا تھا ۔ وہ سب کو حیران پریشان نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ ’’کچھ تو کہو آخر بات کیا ہے؟ ‘‘دوستوں نے اسے پھر چہکانے کی کوشش کی، مگر یہ چاند نہ جانے غم کے کن بادلوں میں کھو گیا تھا ۔ سب تھک ہار کے بیٹھ رہے ۔ اسی دوران گھنٹہ بجا ۔ کلاس میں اردو کے استاد داخل ہوئے ۔ تدریسی فضا سازی اور مختصر تمہید و تعارف کے بعد استاد نے اعلان کیا کہ آج ہم خواجہ میر دردؔ کی غزل کا مطالعہ کریں گے۔ استاد جب اس شعر پر پہنچے ؎
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

صبیح نے اس شعر کو بآواز بلند دہرایا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔ بس اب تو کلاس کی فضا ہی بدل گئی ۔ استاد صبیح کے قریب آئے اور اسے سنبھالنے کی کوشش کی ۔ سر! یہ زندگی کس قدر انمول ہے ، مگر ہم اسے کس بے قدری کے ساتھ ضائع کردیتے ہیں ۔ سر! اس وقت آپ نے بہت ہی عمدہ شعر پڑھا ۔
اب صبیح کی آنکھوں میں صبح کی مانند چمک تھی اور چہرے پر دمک ۔ اس نے اب اپنی ا س کیفیت کا راز کھولنے کی کوشش کی جس نے اسے بے حال کر رکھا تھا ۔ وہ گزشتہ تین دن سے اسکول نہیں آیا تھااور آتا بھی کیسے ؟ اس کے پیارے چچا جان اچانک ایک حادثے میں جان گنوا بیٹھے تھے ۔ صبیح نے ہمت کرکے کچھ بتانے کی کوشش کی۔ ’’ میرے چچا جان بڑے شوخ اور چنچل مزاج اور لاپروا قسم کے آدمی تھے ۔ وہ کسی خطرے کی پروا نہیں کرتے تھے ۔ گاڑی بہت اچھی چلاتے مگر احتیاط سے کام نہیں لیتے تھے۔ میرے والد صاحب نے انھیں کئی بار ٹوکا مگر وہ باز نہ آئے ۔ بس ہنس کر ٹال دیتے ۔


کئی بار ایسا اتفاق ہوا کہ ہم ان کے ساتھ کسی چوراہے پر کھڑے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہری بتی (Green Light)ہو، انھوں نے جلد بازی میں اپنی گاڑی بڑھا دی اور بس یہ جا وہ جا ۔ کئی بار ان کے چالان بھی ہوئے مگر عقل نہ آئی ۔ پچھلے ہفتے اچانک ایک ایسا ہی حادثہ پیش آیا ۔ وہ صبح نو بجے گھر سے اپنے دفتر کے لیے نکلے ۔ رات بھر بارش کی وجہ سے سڑکوں کی حالت بہت خراب تھی ۔ جگہ جگہ پانی بھرا تھا ۔ کوئی گڑھا یا نالا تک نظر نہیں آتا تھا ۔ ہر طرف جام لگا تھا ۔ اب یہاں سے کیسے نکلیں ؟ خیر خدا خدا کرکے انھوں نے کئی راستے بدلے مگر ہر طرف یہی صورتِ حال تھی اِدھر وہ جام میں پھنسے رہے اُدھر آفس پہنچنے کی جلدی ۔ انھوں نے اپنی گاڑی کو رنگ روڈ (Ring Road)کی طرف موڑ دیا ۔پھر جلد بازی میں ایک چوراہے پر وہی غلطی کی جو وہ اکثر کیا کرتے تھے۔ مگر آج ان کی شوخی کام نہ آئی۔ دائیں جانب سے ایک ٹرک آرہا تھا بس ان کی گاڑی ٹرک سے ٹکرا گئی ۔ نتیجہ سامنے تھا ۔ دو دن تک وہ زندگی موت کی کشمکش میں رہے مگر پرسوں اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔ یہ کہہ کر صبیح رونے لگا۔ کلاس کے سبھی طالب علموں اور استاد پر اس حادثے کا گہرا اثر ہوا ۔ استاد نے بھی گہرے افسوس کا اظہار کیا اور طلبا کو بتایا کہ آج کی تیز رفتار زندگی ، سڑکوں پر ہر طرف دوڑتی ، آسمان سے باتیں کرتی گاڑیاں ؛ ان سے نکلتا دھواں اور لوگو ںکی جلد بازی نے ہماری زندگی کا چین و سکون ختم کردیا ہے ۔ اس کے ذمّے دار ہم خود ہیں۔ ذرا بتاؤ چوراہے پر جگہ جگہ روشنی کے یہ سِگنل (Signals)کس لیے بنے ہیں؟ سرخ بتی سے پہلے ہمیں پیلی بتّی پر ہی رک جانا چاہیے۔ جب تک لال بتّی رہے ہمیں اپنی جگہ رہنا چاہیے۔ جب ہری بتی (Green Light)روشن ہو، اسی وقت آگے بڑھنا چاہیے ۔ سڑک پر اگر ہم پیدل چل رہے ہوں تو دائیں بائیں کا خیال بھی ضرور رکھنا چاہیے۔ ہمیں ہمیشہ سڑک پر اپنی بائیں جانب چلنا چاہیے ۔ چلتے وقت نظر اور ذہن دونوں کو چوکنّا رکھنا چاہیے۔زیبرا کراسنگ (Zebra Crossing) کا صحیح استعمال کرنا چاہیے۔ یہ احتیاطی تدابیر ہیں۔ ہمیں ٹریفک کے قوانین (Traffic Rules)پر ہر حال میں عمل کرنا چاہیے۔

تیز رفتار ترقی کے اس دور میں ہر طرح کی سہولیات موجود ہیں۔ دن بہ دن بڑھتے ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت نئی نئی سڑکیں بنواتی ہے۔ سڑکوں کو چوڑا کرتی ہے۔ فلائی اوور ز (Fly Overs)بناتی ہے اور تو اور دہلی میں میٹرو ٹرین(Metro Trains)کا بھی جال بچھ گیا ہے ۔مگر یہ سب ذرائع کچھ ہی وقت میں بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں، جب سڑکوں پر موٹر گاڑیوں کی تعداد مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہر طرف ٹریفک جام ہوتا ہے ۔ یہ دیکھ کر مزید حیرت ہوتی ہے کہ نہایت قیمتی اور کشادہ ایر کنڈیشن گاڑی میں بس ایک شخص تن تنہا سفر کر رہا ہے ۔پٹرول ڈیزل کی مستقل بڑھتی قیمتوں کو دیکھیے اور گاڑیوں کی اس بڑھتی تعداد کو ، ان سے نکلتے ہوئے دھویں اور آلودگی کو دیکھیے، جو نہ جانے کتنے لوگوں کو بیماریوں کی آغوش میں لے لیتا ہے۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ دفتری اوقاتمیں صرف خصوصی گاڑیوں کا ہی انتظام ہو جن کا کام مختلف مقامات سے لوگوں کو ان کے مقررہ مقام تک پہنچانا ہو۔ حالاں کہ کچھ ایسی بسیں ہیں جنھیں چارٹیڈ بس (Charted Buses)کہا جاتا ہے مگر اس طرح کی سہولیات کو زیادہ سے زیادہ ہونا چاہیے ۔ ہمیں کوشش کرنا چاہیے کہ نجی گاڑیوں کا استعمال صرف ذاتی اوقات میں اور بس ضرورت کے تحت ہی ہو۔ اس طرح زمین پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی اور معاشی نقطۂ نظر سے بھی کچھ فوائد حاصل ہو سکیں گے۔

صبح کا وقت عام طور پر اسکول کے طلبا کے لیے مخصوص ہے۔ جدھر دیکھیے اسکول کے طالب علموں کا سمندر امڈ تا دکھائی دیتا ہے۔ سڑکوں پر صبح کے وقت اگر عام گاڑیوں پر کسی نہ کسی طور پر روک ہو تاکہ طلبا بر وقت اور پوری حفاظت کے ساتھ اسکول پہنچ سکیں۔
مختلف چوراہوں پر اکثر دستِ سوال دراز کرنے والوں اور مختلف قسم کی روزمرہ کی اشیا کی فروخت کرنے والے بھی ٹریفک کے مسائل پیدا کرتے ہیں اور کبھی کبھی تو اس وجہ سے حادثے بھی پیش آتے ہیں۔ اس کے علاوہ غلط قسم کی اشیا کی فروخت کو بھی بڑھاوا ملتا ہے ۔ ایک ذمّے دار شہری کے طور پر ہماری ذمّے داری ہے کہ ہم سڑکوں پر اس قسم کی نقلی اشیا کے فروخت کرنے والوں سے بچیں۔


ملک کی دولت اور جانداروں کی حفاظت بھی ہمارا فرض ہے۔ مگر سڑکوں پر مختلف قسم کے جانوروں گائے ، بیل وغیرہ کو لوگ کھلا چھوڑ دیتے ہیں اور وہ بڑے اطمینان و سکون کے ساتھ سڑکوں پر دندناتے پھر تے ہیں۔ بعض حادثات ان کی وجہ سے بھی رو نما ہوتے ہیں۔ ہمارے ذمّے داروں کو اس طرف بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
آج کی کلا س کا گھنٹہ بس استاد کی ان ہی اہم باتوں کی نذر ہو گیا ۔ شعر کی تشریح تو نہ ہو سکی مگر زندگی کے بہت سے مسائل کی تشریح ضرور ہو گئی ۔ طلبا نے بہت لطف لیا اور عہد کیا کہ وہ آج کی ان اہم باتوں کو یاد رکھیں گے اور اس سے یہ سبق ضرور لیں گے کہ زندگی ایک امانت ہے اور ا س امانت کی جہاں تک ہو سکے حفاظت ضروری ہے۔ یہ ہماری محض ذاتی ذمّے داری ہی نہیں بلکہ اخلاقی و سماجی فرض بھی ہے۔
مشق
معنی یاد کیجیے:
صبیح : گورا، خوب صورت
رنجیدہ : غم گین
صباحت : گورا پن
بے ساختہ : اچانک، بے ارادہ
محو حیرت : حیرت زدہ
فضا : ماحول
انمول : قیمتی
شوخ : تیز، چنچل
آغوش : گود، بغل
حدود : حد کی جمع، حدیں
دستِ سوال دراز کرنا(محاورہ) : مانگنے کے لیے ہاتھ بڑھانا
اشیا : شے کی جمع، چیزیں
سوچیے اور بتائیے:
1۔ صبیح کے دوستوں نے اسے رنجیدہ دیکھ کر کیا کہا؟
2۔ خواجہ میر درد کا وہ شعر لکھیے جسے صبیح نے دہرایا؟
3۔ ٹریفک کے کن قوانین پر عمل کرنا بے حد ضروری ہے؟
4۔ بڑھتے ہوئے ٹریفک کنٹرول کے لیے حکومتِ ہند نے کیا تدابیر کی ہیں؟
5۔ نجی گاڑیوں کا استعمال صرف ذاتی اوقات میں کرنے سے کیا فائدہ حاصل ہوگا؟