ہندوستان میں زمین کے متفرق زمینی خدّو خال ہیں۔ جیسے: پہاڑ، پٹھار(سطحِ مرتفع)، میدان اور جزیرے۔ تقریباً 43فیصد زمین پر میدان ہیں جو زراعت اور صنعتوں کے لیے سہولیات مہیاکرتے ہیں۔ پہاڑوں کے تحت کل رقبہ کے 30 فی صد علاقے میں ہے۔ جوندیوں کی سالانہ روانی کی ضمانت دیتے ہیں۔ سیاحت اور دیگر ماحولی پہلوؤں کے لیے سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔ لگ بھگ 27فیصد خطّہ سطح مرتفع ہے۔ یہ علاقہ معدنیات، رکازی ایندھن (Fossil Fuels) اور جنگلات سے بھرپورہے۔
میدان
پہاڑ
سطح مرتفع
شکل 1:3: ہندوستان :مختلف اہم زمینی خدوخال کے تحت زمین
زمین کا استعمال
زمینی وسائل مندرجہ ذیل مقاصد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں:
1۔ جنگلات
2۔ وہ زمین جو کھیتی کے لیے دستیاب نہیں ہے۔
(a) بیکار اور بنجر زمین
(b) غیر کاشتکاری کاموں کے لیے استعمال کی جانے والی زمین جیسے: عمارتیں، سڑکیں، کارخانے وغیرہ بنانے کا کام۔
3۔ دیگر غیر مزروعہ زمین (بنجر زمین کے علاوہ)
(a) مستقل چراگاہیں اور سبزہ زار
(b) متفرق باغات کے تحت زمین (جس کو خالص بوئے ہوئے علاقے میں شامل نہ کیا گیا ہو)
(c) زراعت کے قابل بیکار زمین (پانچ زرعی سال سے کاشت کیے بغیر پڑی زمین)
4۔ خالی یا غیر مزروعہ زمینیں
(a) موجودہ افتادہ زمین (ایک یا ایک سے کم سال سے غیر مزروعہ زمین)
(b) غیر مزروعہ زمین کے علاوہ زمین (1سے5زرعی سال سے غیر کاشت شدہ زمین)
5۔ خالص بویا گیا علاقہ
ایک سال میں کئی بار بویا گیا علاقہ۔ ا س کو ’’کُل کاشت کا علاقہ‘‘(Gross Cropped Area)بھی کہتے ہیں۔
ہندوستان میں زمین کے استعمال کا نمونہ اورانداز
زمین کس استعمال میں آئے گی؟ یہ دونوں یعنی طبعی اسباب جیسے زمینی خدّوخال، آب وہوا، مٹّی کے اقسام اور انسانی اسباب جیسے آبادی کی کثافت، تکنیکی لیاقت اور تمدن اور روایات وغیرہ پر منحصر ہے۔
ہندوستان کا کُل جغرافیائی علاقہ 3.28 ملین مربع کلو میٹر ہے۔ تاہم، زمینی استعمال کے دستیاب اعدادوشمار کل علاقہ کا 93فیصد دستیاب ہیں کیوں کہ زمینی استعمال کی مکمل رپورٹ آسام کو چھوڑ کر تمام شمال مشرقی ریاستوں کی مرتب نہیں ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ جموں اور کشمیر کے کچھ علاقے جو پاکستان اور چین کے قبضہ میں ہیں،ان کا سروے نہیں کیا گیاہے۔
سرگرمی
دونوں پائی چارٹوں (شکل 1.4) کا جوزمین کے استعمال کو بتاتے ہیں، موازنہ کیجیے اور یہ معلوم کیجیے کہ 1960-61 اور 2014-15 کے درمیانی عرصے میں خالص بوئے گئے علاقے اور جنگلات کے تحت زمین میں بہت کم تبدیلی کیوں ہوئی ہے؟
مستقل چراگاہوں کی زمین بھی گھٹی ہے۔ ہم کس طرح اپنے مویشیوں کی اتنی بڑی تعداد کو اس چراگاہی زمین سے خوراک مہیا کرسکتے ہیں اور اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے؟ دیگر افتادہ زمین زیادہ تر یا تو پسماندہ ہے یا اُس پر کاشت کی لاگت بہت زیادہ ہے۔ اس لیے یہ زمینیں دو یا تین سالوں میں ایک یا دو بار کاشت کی جاتی ہیں اور اگر ان کو خالص بوئے ہوئے علاقہ میں شامل کیا جائے تو خالص بوئے گئے علاقہ کے کل رقبہ کا تناسب 54فیصد بنتا ہے۔
خالص بوئے ہوئے علاقہ کی شکل (Pattern) ایک ریاست سے دوسری ریاست میں علاحدہ علاحدہ ہے۔ یہ پنجاب اور ہریانہ میں کل رقبہ کا 80فیصد سے زائد ہے جب کہ اروناچل پردیش، میزورم، منی پور اور انڈمان نکوبار جزائر میں 10فیصد سے بھی کم ہے۔
ان ریاستوں میں خالص بوئے گئے رقبہ کی اتنی کمی کے اسباب معلوم کریں۔
زمین کے عام استعمال کے زمرے 15- 2014
بتایا گیا رقبی 100فیصد
قابل کاشت بنجر زمین
غیر مزروعہ کے علاوہ دیگر غیر مزروعہ زمین
فی الحال غیر مزروعہ
خالص زیر کاشت
زمین کے عام استعمال کے زمرے 61- 1960
جنگلات
بنجر اور بے کار زمین
غیر زراعتی استعمال کا رقبہ
مستقل چراگاہیں اور سبزہ زار
متفرق زیر استعمال رقبہ: درخت اور باغات
شکل1.4
ماخذ: ڈائریکٹریٹ آف اکنومکس اینڈ اسٹیٹسٹکس، وزارت زراعت،2017
جنگلات کا رقبہ ہمارے ملک میں جغرافیائی رقبے کا 33فیصد کے اس مطلوبہ رقبہ سے کافی کم ہے جیسا کہ نیشنل فارسٹ پالیسی (1952) میں چاہا گیا تھا۔توازن کو قائم رکھنے کے لیے لازمی سمجھا گیا تھا کروڑوں لوگوں کی روزی‘ جو ان جنگلات کے کنارے رہتے ہیں، اس پر منحصرہے۔ زمین کاوہ حصہ بنجر کہلاتا ہے جسے غیر زرعی استعمال میں لایا جائے۔ بیکار زمین میں پتھریلے علاقے، پانی کی قلت والے علاقے اور ریگستان آتے ہیں اور غیر زرعی کاموں میں استعمال آنے والی زمین میں بستیاں، سڑکیں، ریلوے لائن اور صنعت کے تحت رقبہ آتا ہے۔ زمین کا لگاتار ایک لمبے عرصے کے لیے استعمال اس کو تحفظ اور منظم استعمال کیے بغیر زمین کوخستہ حال بناتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سماج اور ماحول پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
زمین کی خستہ حالی اور گراوٹ اور تحفظ کے طریقے
ہم نے ماضی کی نسلوں کے ساتھ زمین کے استعمال میں شرکت کی ہے اور آنے والی نسلوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنا ہوگا۔ ہماری غذا، رہائش اور پوشاک کی 95فیصد بنیادی ضروریات زمین سے پوری ہوتی ہیں۔ انسانی سرگرمیاں نہ صرف زمین کی پسماندگی کے لیے ذمّہ دار ہیں بلکہ زمین کو نقصان پہنچانے والی قدرتی طاقتوں کی رفتار بھی انھوں نے تیز کردی ہے۔
کچھ انسانی سرگرمیوں نے جیسے جنگلات کا صفایا، ضرورت سے زیادہ چَرائی، کان کنی اورپتھر نکالنے کی وجہ سے بھی زمین کی یہ حالت ہوئی ہے۔
کانوں کی جگہ کو جب معدنیات نکالنے کا کام مکمل ہوجانے پر چھوڑ دیا جاتا ہے تو اپنے پیچھے گہرے داغ آور ضرورت سے زائد بوجھ کے نشانات چھوڑ جاتی ہیں۔ جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور اڈیشہ جیسی ریاستوں میں کان کنی سے ہونے والے جنگلات کے صفائے کے سبب زمین کی حالت میں بری طرح گراوٹ آئی ہے۔گجرات، راجستھان، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر میں ضرور ت سے زائد چَرائی زمین کی پسماندگی کے خاص اسباب میں سے ایک ہے۔ پنجاب، ہریانہ اور مغربی اتّرپردیش میں ضرورت سے زیادہ آب پاشی سے ہونے والے پانی کے جماؤ کی وجہ سے مٹی کی بڑھی نمکینیت اور الکلیت زمین کی پسماندگی کی ذمہ دار ہے۔ معدنیات جیسے: چونے کے پتھر کو سیمنٹ بنانے کے لیے اورکیلسائٹ اور سوپ اسٹون کو چینی کے برتن بنانے کے لیے پیسنے سے کرّہ ہوائی میں زبردست گردپیدا ہوتی ہے۔ اس کے زمین کے سطح پر جمع ہونے سے پانی کا زمین میں سرایت کرنے کا عمل دھیما ہوجاتا ہے۔ حال کے سالوں میں صنعت وحرفت سے خارج ہونے والا بیکار کیمیائی مادّہ (Effluents) ملک کے بہت سے حصّوں میں زمین اور پانی کی آلودگی ایک اہم سبب بن گیا ہے۔
زمینی پسماندگی کے مسئلے کو حل کرنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ لگاتار درخت لگاتے رہنا اور منظم چَرائی کسی حد تک مدد کرسکتے ہیں۔ رکاوٹ کے لیے پیڑ پودوں کی قطاریں لگانا، ضرورت سے زیادہ چرائی کو قابو میں رکھنا، ریتیلے ٹیلوں کو ساکن بنانے کے لیے کانٹے دار جھاڑ یاں لگانا— زمینی پسماندگی کو روکنے کے کچھ طریقے ہیں۔ بیکار اور بنجر پڑی زمین کا مناسب انتظام، کان کُنی پر قابو، صنعت وحرفت سے خارج ہونے والے زہریلے مادوں کو مناسب طریقوں سے کم سے کم نقصان دہ بناکر نجات حاصل کرنا— ذیلی شہری علاقوں میں زمین اور پانی کی آلودگی کو کم کرسکتا ہے۔
مٹی ایک وسیلہ کے طور پر
مٹی اعادہ کیے جاسکنے والا ایک اہم قدرتی وسیلہ ہے۔ یہ پودوں کی افزائش کا ذریعہ ہے۔ یہ زمین پر کروڑوں سال سے رہنے والے مختلف جانداروںکو سہارا دیتی ہے۔ مٹی ایک زندہ نظام ہے۔ چند سینٹی میٹر گہری مٹی کے بننے میں کروڑوں برس لگ جاتے ہیں۔
سب سے اوپر کی مٹی
مٹی کے نیچے کی فرسودہ چٹانیں اور گاد کی چکنی مٹی
زیر زمین فرسودہ چٹانی مادہ
غیر فرسودہ اصلی چٹان
شکل 1.5: مٹی کی ساخت کا تفصیلی خاکہ
لاکھوں سال لگ جاتے ہیں، مٹی کی تشکیل میں(بننے میں) زمینی خدوخال، اصل یا اساسی چٹان، آب وہوا، نباتات اور دیگرزندہ چیزیں اور وقت اہم اجزا ہیں۔ قدرت کی مختلف طاقتیں جیسے درجۂ حرارت میں تبدیلی، رواں پانی کا عمل، ہوا اور برفانی دریا اور تحلیل کرنے والے (گلانے سڑانے والے) جرثومے مٹی کی تشکیل میں معاون ہیں۔ مٹی میں ہونے والی کیمیائی اور نامیاتی تبدیلیاں بہت ہی اہم ہوتی ہیں۔ مٹی میں نامیاتی (Humus)اور غیر نامیاتی دونوں مادّے ہوتے ہیں۔ (شکل1.5)
در جۂ حرارت کی تبدیلیاں، ہوا، گلیشیر، پانی کا بہاؤ، سڑانے اور گلانے والی اشیا کا عمل وغیرہ قدرتی قوتیں زمین کی تشکیل میں کام کرتی ہیں۔ مٹی کی تشکیل کے ذمہ دار اجزا — رنگ، گہرائی، بناوٹ، عمر، کیمیائی اور طبیعی خصوصیات وغیرہ ہیں۔ہندوستان کی مٹیوں کو مختلف اقسام میں بانٹا گیا ہے۔
مٹیوں کی درجہ بندی
ہندوستان میں مختلف قسم کے خدّوخال، زمین کی بناوٹ، آب وہوائی خطّے اور نباتات کی قِسمیں پائی جاتی ہیں۔ ان سب کے نتیجہ میں مٹی کی مختلف اقسام یہاں پائی جاتی ہیں۔
سیلابی مٹیاں
یہ سب سے زیادہ پائی جانے والی اور سب سے اہم مٹی ہے۔ حقیقت میں سارے شمالی میدان اسی مٹّی کے بنے ہوئے ہیں۔ یہ مٹیاں ہمالیہ کے تین دریائی نظاموں —سندھ، گنگا اور بَرہم پترا کے ذریعہ جمع کی گئی ہیں۔ یہ مٹیاں، راجستھان اور گجرات تک ایک تنگ گزرگاہ کے طور پر پھیلی ہوئی ہیں۔ سیلابی مٹی، مشرقی ساحلی میدانوں خاص طور سے مہاندی، گوداوری، کرشنا اور کاویری ندیوں کے ڈیلٹاؤں میں بھی پائی جاتی ہے۔
شکل 1.6: سیلابی مٹی
سیلابی مٹی میں ریگ، چکنی مٹّی اور گاد مختلف تناسب میں پائی جاتی ہے۔ ہم جیسے جیسے ندیوں کی وادی کے اندر کی طرف بڑھتے ہیں، ویسے ویسے مٹّی کے ذرّات بڑے سائز کے ہوتے جاتے ہیں۔ ندیوں کے اوپری حصے میں جہاں وہ میدان میں اترتی ہیں مٹّیاں موٹی یا کھردرے ذرّات والی ہوتی جاتی ہیں۔ اس طرح کی مٹیاں گودی میدانوں میں عام طورپر پائی جاتی ہیں۔ جیسے: دُوآرس، چوس اور ترائی۔
ذرّوں کی جسامت یا اجزا کے علاوہ مٹیاں اپنی عمر کے لحاظ سے بھی تقسیم کی جاسکتی ہیں۔سیلابی مٹیاں عمر کے لحاظ سے قدیم سیلابی (بانگر) اور جدید سیلابی مٹیاں (کھادر) میں تقسیم کی جاسکتی ہیں۔ بانگر مٹی میں کنکر کی مقدار کھادر مٹی کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ کھادر میں مہین ذرات اور زر خیزی بانگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ سیلابی مٹّیاں بہت زرخیز ہوتی ہیں۔ اِن میں زیادہ تر پوٹاش، فاسفورک ایسڈ اور چونا مناسب مقدار میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ گنّے، دھان، گیہوں و دیگر اناجوں اور دالوں کے لیے خاص طور سے موزوں ہیں۔ اپنی اعلیٰ زرخیزی کی وجہ سے ایسی مٹّی کے علاقوں میں خوب کاشت ہوتی ہے اور یہ گھنے آبادی والے ہوتے ہیں۔ یہ مٹیاں مقابلتاً خشک علاقوں میں زیادہ القلی ہوتی ہیں اور مناسب ذریعۂ علاج اور آب پاشی کے ذریعہ لائق پیداوار بنائی جاسکتی ہیں۔
شکل 1.7: کالی مٹی
کالی مٹی
یہ مٹیاں رنگ میں کالی ہوتی ہیں اور ان کو ’’ریگُر مٹّیاں‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ کالی مٹی، کپاس اُگانے کے لیے بہت موزوں ہوتی ہے اوریہ ’’کالی کپاس کی مٹی‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ مانا جاتا ہے کہ ان کی تشکیل میں آب وہوائی حالات کے ساتھ اساسی چٹانی مادّہ کا اہم کردار ہے۔ اس قسم کی مٹیاں دکن ٹریپ (Basalt)کے علاقے کی خاص مٹیاں ہیں جو شمال مغربی دکن کی سطحِ مرتفع سے پھیلی ہوئی ہیں اور یہ لاورا کے پہاڑ سے بنی ہیں۔ یہ جنوب مشرقی سمت میں گوداوری اور کرشنا کی وادیوں تک پھیلے ہوئے اور لاوا کی۔ یہ مٹیاں مہاراشٹر، سوراشٹر،مالو، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ اور تمل ناڈو کے پہاڑیوں والے علاقوں اور جنوب مشرقی سمت میں گوداوری اور کرشنا کی وادیوں کے ساتھ ساتھ پھیلی ہوئی ہیں۔
کالی مٹیاں حدر درجہ باریک یعنی چکنے مادے سے بنی ہوئی ہوتی ہیں۔ اپنے اندر نمی قائم رکھنے کے لیے یہ بہت مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں مٹی کے غذائی اجزا بڑی مقدار میں ہوتے ہیں، جیسے کیلیشیم کاربونیٹ، میگنیشیم، پوٹاش اور چونا۔ عام طور پر ایسی مٹی میں فاسفورس بہت کم ہوتا ہے۔ گرم موسم میں یہ پھٹ جاتی ہے اور اس میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ اس سے مٹی کے اندر ہوا پہنچنے میں مدد ملتی ہے۔ گیلی کالی مٹیاں چپچپی ہوتی ہیں اور اگر پہلی بوچھار کے فوراً بعد ان کی جتائی نہ کی جائے یا مانسون سے پہلے کے دنوں میں انھیں جوتا نہ جائے تو ان پر کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
ہندوستان: مٹی کی اھم قسمیں
سرخ اور زرد مٹیاں
سرخ یعنی لال مٹی شفاف آتشی چٹانوں پر بنتی ہے۔ جن علاقوں میں پائی جاتی ہے وہ ہیں سطح مرتفع دکّن کے مشرقی اور وہ جنوبی حصے جہاں بارش کم ہوتی ہے۔ سرخ اور زرد مٹیاں اڈیشہ، چھتیس گڑھ، وسطی گنگا کے میدانوں کے جنوبی حصوں میں اور مغربی گھاٹوں کے پیڈ مونٹ خطے میں ہوتی ہیں۔ ان کا رنگ تغیر پذیر اور شفاف چٹانوں کے اندر لوہے کے منتشر ہوکر پھیلنے کی وجہ سے سرخ ہوتا ہے۔ پانی میں ملنے کے بعد یہ زرد یا پیلی نظر آتی ہیں۔
لیٹرائٹ مٹیاں
لیٹرائٹ لاطینی زبان کے ایک لفظ لیٹر (Later) سے لیا گیا ہے جس کے معنی اینٹ کے ہوتے ہیں۔ لیٹرائٹ مٹی خشک و تر موسم والے ٹراپیکی اور نیم ٹراپیکیم آب و ہوا میں نشو ونما پاتی ہے۔ یہ مٹی بہت بارش سے ہوئی زبردست لیچنگ کا نتیجہ ہوتی ہے۔ لیٹرائٹ قسم کی مٹی بیشتر عمیق سے عمیق تر،
شکل1.8: لیٹرائٹ مٹی
ایسڈ یک (pH<6.0) ، عام طور پر پودوں میں تغذیہ کی کمی اور زیادہ تر جنوبی ریاستوں مہاراشٹر کے مغربی گھاٹ کے علاقوں، اڈیشا، مغربی بنگال کے کچھ علاقوں اور شمالی مشرقی خطوں میں پائی جاتی ہے۔ مٹی ایسے علاقوں میں ہوتی ہے جہاں کی آب و ہوا شدید گرمی اور آب و ہوا کی وجہ سے بہت زیادہ خشک ہوتی ہے۔
اگر اس کو محفوظ رکھنے کے مناسب طریقے اختیار کیے جائیں تو یہ مٹی چائے اور کافی کی کاشت کے لیے بہت کار آمد ہے خاض طور پر کرناٹک، کیرل اور تامل ناڈو میں۔ تمل ناڈو، آندھرا پردیش اور کیرل میں سرخ لیٹرائٹ مٹی کاجو اور اسی طرح کی دیگر فصلوں کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
خشک و بنجر مٹیاں
رنگ کے اعتبار سے ریگستانی مٹیاں لال سے کتھئی تک ہوتی ہیں۔ عام طور پر ان میں ریگ یا ریت زیادہ ہوتی ہے اور فطرت کے اعتبار سے یہ نمکین (Saline) ہوتی ہیں۔ کچھ علاقوں میں نمک کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ پانی کو خشک کرنے کے بعد ان سے کھانے کا نمک حاصل کیا جاتا ہے۔ خشک آب وہوا، اونچے درجۂ حرارت کی وجہ سے ان علاقوں میں تبخیرکا عمل تیز ہوتاہے۔ اس وجہ سے ان مٹیوں میں ہیومس اور نمی کی کمی ہوتی ہے۔ اس مٹی کی نچلی تہہ میں کنکر ہوتا ہے کیونکہ وہ نیچے کی طرف چونے کی مقدار میں بڑھتی جاتی ہے۔ نچلی افق میں کنکر کی تہہ ہونے کی وجہ سے پانی کا رِساؤرکتا ہے۔ مناسب آب پاشی کے بعد یہ مٹیاں کاشت کے لائق بن جاتی ہیں جیسا کہ مغربی راجستھان میں دیکھا گیا ہے۔
شکل 1.9: خشک وبنجر مٹی
جنگلاتی مٹّیاں
یہ مٹّیاں ان پہاڑی اورکوہستانی علاقوں میں پائی جاتی ہیں جہاں بارانی جنگلات ہوتے ہیں۔ ان مٹیوں کی بناوٹ اس کو ہستانی ماحول کے بدلنے کے ساتھ بدلتی ہے جہاں یہ بنتی ہیں۔ یہ وادی کے پہلوؤں پر مٹیار اور گاؤ ہوتی ہیں اور بالائی ڈھالوں پر یہ موٹے دانے کی ہوتی ہیں۔ ہمالیہ کے برف سے ڈھکے علاقوں میں یہ عریاں کاری کا شکار ہوجاتی ہیں اور ان میں ہیومس کی مقدار کم ہوتی ہے۔ وادیوں کے نچلے حصے میں خاص طور پر یہ ندیوں کے سیڑھی نما ڈھالوں پر یہ کافی زرخیز ہوتی ہیں۔
مٹی کا کٹاؤاور اُس کا تحفظ
مٹی کی تہہ کی عریاں کاری اور بعدمیں اس کا بہہ جانا مٹی کا کٹاؤ (Soil Erosion)کہلاتا ہے۔ مٹی بننے اور کٹنے کے عمل ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ عام طور پر ان دونوں میں توازن ہوتاہے۔ کبھی کبھی یہ توازن انسانی سرگرمیوںجیسے: شجر کشی، ضرور ت سے زیادہ چَرائی، عمارت سازی اور کان کُنی وغیرہ سے بگڑ جاتا ہے جب کہ قدرتی طاقتیں جیسے ہوا،گلیشیئراور پانی، مٹی کو کاٹتے ہیں۔ رواں پانی چکنی مٹی کو کاٹ کر گہرے پانی بہنے کے راستے بناتا ہے جو’’نالیاں‘‘ کہلاتی ہیں۔ یہ زمین کاشت کے لیے موزوں نہیں رہتی ہے اور خراب زمین (Bad Land) کہلاتی ہے۔ چنبل کے بیسن میں اس طرح کی زمینوں کو گہری گھاٹیاں (Ravines) کہتے ہیں۔ کبھی کبھی پانی ایک چادر کی طرح ڈھلواں زمین سے نیچے اتر کر بہتا ہے۔ ایسی صورت میں مٹی کا اوپر کا حصہ بہہ جاتا ہے اسے چادرنما مٹی کاکٹاؤ (Sheet Erosion) کہتے ہیں۔
شکل1.10: مٹی کا کٹاو
شکل 1.11: نالیوں کا کٹاو
رواں ہوا یا ڈھلوان زمین کی ’’ڈھلی مٹی‘‘ (Wind Erosion)کو بہا لے جاتی ہے جسے ’’ہوائی کٹاؤ‘‘ کہتے ہیں۔ کاشتکار کے غلط طریقوں سے بھی مٹی کا کٹاؤ ہوتا ہے۔ غلط طریقے کی جتائی یعنی ڈھال کے اوپر سے نیچے کی طرف کرنے سے پانی کی تیز روانی سے گہری نالیاں بن جاتی ہیں جس کے نتیجے میں مٹی کا کٹائو ہوتا ہے۔
خطوط ارتفاع کے ساتھ جُتائی کرنے سے پانی کی روانی ڈھالوں پر دھیمی پڑ جاتی ہے۔ اس کو ’’خط ارتفائی جتائی‘‘(Contour Ploughing)کہتے ہیں۔ ڈھالوں کو کاٹ کر سیڑھی نما بھی بنایا جاسکتا ہے۔ اس طرح سیڑھیوں پر کاشت کرنے سے مٹی کا کٹاؤ کمزور پڑ جاتا ہے۔ مغربی اور وسطی ہمالیہ میں سیڑھی نما کھیتوں کی کاشت کافی ترقی یافتہ ہے۔ بڑے بڑے کھیتوں کو چوڑی پٹیوں میں کاٹ لیا جاتاہے۔ گھاس اگنے والی پٹیاں فصلیں اگانے والی پٹیوں کے درمیان چھوڑ دی جاتی ہیں۔ اس سے ہوا کی تند روانی کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس طریقے کو ’’پٹیوں کی کاشت‘‘ (Strip Cropping) کہتے ہیں۔ حفاظت کے لیے پیڑوں کی قطار لگانا بھی اسی طرح کاکام کرتا ہے۔ اس طرح کی پیڑوں کی قطاریں ’’حفاظتی پٹیاں‘‘(Shelter Belts) کہلاتی ہیں۔ اس طرح کی حفاظتی پٹیوں سے مغربی ہندوستان میںریگ کے تودوں کو ساکن رکھنے اور ریگستان کو بڑھنے سے روکنے میں بہت مدد ملی ہے۔