Skip to content
Aasri Hindustan Chapter-1


1

وسائل اور ترقی

(RESOURCES AND DEVELOPMENT)


کیا آپ اُن اشیا کو پہچان سکتے ہیں اور اُن کے نام بتا سکتے ہیں، جن سے ہماری دیہی اور شہری زندگی آرام دہ بنتی ہے؟ ان اشیا کی ایک فہرست بنائیے۔ اُن مادّوں کو بتائیے جن سے یہ تیار کی جاتی ہیں۔


طبعی قدرت

انسان

ادارے

ٹکنالوجی

CH  1  5017    1
شکل1.1: قدرت، ٹکنالوجی اور اداروں کے درمیان باہمی رشتے

ہمارے ماحول میں پائی جانے والی وہ تمام اشیا جو ہماری ضروریات کو پورا کرتی ہیں اورجوتکنیکی اعتبار سے قابل حصول ہیں، معاشی اعتبار سے ممکن ہیں اور تمدنی لحاظ سے قابل قبول ہیں، ’’وسائل‘‘ کہلاتی ہیں۔ ہمارے ماحول میں پائی جانے والی اشیا کو تبدیل کرنے والا عمل قدرت، ٹکنالوجی اور اداروں کا انحصار باہمی ہم آہنگی پر ہوتا ہے۔ انسان ٹکنالوجی کے ذریعہ قدرت پہ عمل کرتے ہیں اور معاشی ترقی کو تیز رو کرنے کے لیے ادارے قائم کرتے ہیں۔
کیا بہت سے لوگوں کی طرح آپ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ وسائل قدرت کے مفت تحفے ہیں؟ ایسا نہیں ہے۔ وسائل انسانی عمل کی سرگرمی ہیں۔ انسان خود وسائل کا ایک لازمی جزو ہیں۔ وہ ہمارے ماحول میں پائے جانے والے مادّوں کو وسائل میں بدلتے ہیں اور اُن کا استعمال کرتے ہیں۔ اِن وسائل کو مندرجہ ذیل طریقوں سے منقسم کیا جاسکتا ہے:
(a) ابتدا کی بنیاد پر—نامیاتی، غیر نامیاتی
(b) خاتمے کی بنیاد پر—تجدید کیے جانے کے لائق، تجدید نہ کیے جانے کے لائق
(c) ملکیت کی بنیاد پر—ذاتی، مقامی، قومی اور بین الاقوامی
(d) ترقی کے لحاظ سے—امکانی، تکمیل شدہ اسٹاک اور ذخائر

وسائل
انسانی قدرتی
کمیت اور کیفیت
ڈھانچے اور ادارے
ناقابل تجدید قابل تجدید 
غیر احیائی جیسے رکاز اور ایندھن وغیرہ
احیائی جیسے دھاتیں
نامیاتی
جنگلاتی زندگی
قدرتی نباتات ( جنگل)
مسلسل یارواں جیسے ہوا، پانی
CH  1  5017    2

سرگرمی:

وسائل کے ہردرجہ میں سے کوئی دو وسائل کی شناخت کیجیے۔

وسائل کے اقسام

ابتدا کی بنیاد پر

نامیاتی وسائل:یہ نامیاتی کرّہ سے حاصل ہوتے ہیں اور حیات رکھتے ہیں جیسے: انسان، نباتات اورحیوانات، مچھلیاں اور پالتو جانور۔
غیر نامیاتی وسائل: وہ تمام اشیا جو غیر جاندار مادہ سے بنی ہوتی ہیں غیر نامیاتی وسائل کہلاتی ہیں۔ مثال کے طور پر چٹانیں اور دھاتیں۔
خاتمہ کی بنیاد پر
تجدید کے لائق وسائل: تمام وسائل جن کی تجدید ہوسکتی ہے یا وہ کسی طبعی، کیمیائی یا میکانیکی عمل سے دوبارہ پیدا کیے جاسکتے ہیں ’’تجدید کے لائق وسائل‘‘ (Renewable Resources) کہے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر— شمسی اور مادّی توانائی، پانی، جنگلات اور جنگلاتی زندگی وغیرہ۔ یہ وسائل مزید مسلسل یا رواں وسائل میں بھی بانٹے جاسکتے ہیں۔ (شکل 1.2)
تجدید نہ کیے جاسکنے والے وسائل: یہ وسائل طبقات الارضی وقت کے پیمانے پر بہت لمبے عرصے میں بنتے ہیں۔ معدنیات اور رکازی (Fossil) ایندھن ایسے وسائل کی مثالیں ہیں۔ ان وسائل کو بننے میں لاکھوں سال لگتے ہیں۔ ان وسائل میں سے کچھ جیسے دھاتوں کا احیا(Recycle) کیا جاسکتا ہے۔ اور کچھ جیسے رکازی ایندھنوں کا احیاممکن نہیں ہے اور وہ استعمال کرتے ہی ختم ہوجاتے ہیں۔

ملکیت کی بنیادپر

ذاتی وسائل:یہ وہ وسائل ہیں جو کسی فردِ واحد کی ذاتی ملکیت ہیں۔ بہت سے کسانوں کی ملکیت کھیت ہوتے ہیں جو حکومت انھیں لگان کے عوض دیتی ہے۔ گائوں میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کی ملکیت زمین ہوتی ہے اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے پاس زمین نہیں ہوتی ہے۔ شہری لوگوںکی ملکیت میں پلاٹ، مکان اور دوسری ملکیت ہوتی ہے۔ باغات، چراگاہیں، تالاب،کنویں وغیرہ وسائل کی ذاتی ملکیت کی کچھ مثالیں ہیں۔ آپ کے گھر والوں کی ملکیت میں جو وسائل ہیں ان کی فہرست بنائیے۔

مقامی آبادی کی ملکیت کے وسائل:

یہ وہ وسائل ہیں جو مقامی آبادی کے ہرفرد کی ملکیت ہیں۔ گاؤں میں دیہی شاملات (چراگاہیں،قبرستان، گاؤں کے تالاب وغیرہ) شہروں میں عوامی پارک، پکنک منانے کے مقامات، کھیلوں کے میدان وغیرہ حقیقت میں وہاں رہنے والے سبھی لوگوں کی دسترس میں ہوتے ہیں۔

قومی وسائل:

ایک لحاظ سے سبھی وسائل قومی وسائل ہوتے ہیں۔ ملک کو یہ قانونی طاقت حاصل ہے کہ وہ عوامی بھلائی کے لیے ذاتی وسائل بھی حاصل کرسکتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ سڑکیں، نہریں، ریلوے لوگوں کی ذاتی ملکیت پر بنائی جاتی ہیں۔ شہری ترقی کی اتھارٹیوں کو حکومت یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ زمین حاصل کریں۔ تمام معدنی و آبی وسائل، جنگلات و جنگلاتی وسائل، ملکی حدود کے اندر زمین اور ساحل سے 12بحری میل (22.2کلو میٹر) تک سمندر اور اس میں آنے والے تمام وسائل قومی ملکیت میں آتے ہیں۔

بین الاقوامی وسائل:

کچھ وسائل ایسے ہیں جن کی دیکھ بھال بین الاقوامی ادارے کرتے ہیں۔ ساحل سے 200کلو میٹر کے خصوصی معاشی خطّے (Exclusive Economic Zone)کے بعد کے کھلے سمندر کے تمام وسائل کسی ملک کی ملکیت نہیں ہوتے ہیں اور اُن کو کوئی ملک بغیر بین الاقوامی اداروں کی مرضی کے استعمال نہیں کرسکتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کو بحر ہند کے فرش سے خصوصی معاشی خطے 
( Exclusive Economic Zone ) ky) کے پار مینگنیز نکالنے کا حق
ملا ہوا ہے؟ کچھ اور ایسے وسائل کو پہچانیے جو بین الاقوامی ملکیت ہیں۔

CH  1  5017    3

امکانی وسائل:

یہ وہ وسائل ہیں جو کسی علاقے میں پائے جاتے ہیں لیکن ابھی تک استعمال میں نہیں لائے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ مغربی ہندوستان میں خاص طور سے راجستھان اور گجرات — ہوائی اور شمسی توانائی کی ترقی کا بے حد امکان ہے لیکن ان کی ابھی تک ٹھیک طریقے سے ترقی نہیں ہوئی ہے۔

ترقی یافتہ وسائل:یہ ترقی کے وہ وسائل ہیں جن کا جائزہ لیا جاچکا ہے اور اُن کی کمیت اور کیفیت کا اندازہ لگاکے استعمال کے لیے متعین کی جاچکی ہے۔وسائل کی ترقی کا انحصار تکنالوجی اور قابل عمل ہونے پر ہوتاہے۔

ذخیرہ (Stock):

 اِن وسائل میں ماحول میں پائے جانے والی وہ معدنیات آتی ہیں جو انسانی ضروریات کو تو پورا کرنے کا امکان رکھتی ہیں لیکن انسان اُن تک پہنچنے کی تکنیک نہیں رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر پانی دو جلنے والی گیسوں آکسیجن اور ہائیڈروجن کا مرکب ہے جو توانائی کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہیں۔ لیکن ان کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کی ہمارے پاس تکنیک نہیں ہے۔ اس لیے اُن کو ہم ’’محفوظ وسائل‘‘ سمجھ سکتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس ان کا ذخیرہ ہے۔

محفوظات (Reserve):

محفوظات وسائل ہی کا ایک حصہ ہیں جن کو موجودہ تکنیکی معلومات کے ذریعہ استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ لیکن جن کے استعمال کی ابھی شروعات نہیں ہوئی ہے۔ یہ مستقبل میں ہونے والی ضروریات کے لیے استعمال میں لائی جاسکتی ہیں۔ دریائی پانی بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوسکتا ہے لیکن فی الحال یہ ایک محدود پیمانے پر ہورہا ہے۔ اس طرح باندھوں، جنگلات وغیرہ میں پایا جانے والا پانی فاضل ہے جو مستقبل میں استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کو بحرِ ہند کے فرش سے خصوصی معاشی خطّے (Exclusive Economic Zone) کے پار مینگنیز نکالنے کا حق ملا ہوا ہے؟ کچھ اور ایسے وسائل کو پہچا نیے جو بین الاقوامی ملکیت ہیں۔

امکانی وسائل:

یہ وہ وسائل ہیں جو کسی علاقے میں پائے جاتے ہیں لیکن ابھی تک استعمال میں نہیں لائے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ مغربی ہندوستان میں خاص طور سے راجستھان اور گجرات — ہوائی اور شمسی توانائی کی ترقی کا بے حد امکان ہے لیکن ان کی ابھی تک ٹھیک طریقے سے ترقی نہیں ہوئی ہے۔

ترقی یافتہ وسائل:

یہ ترقی کے وہ وسائل ہیں جن کا جائزہ لیا جاچکا ہے اور اُن کی کمیت اور کیفیت کا اندازہ لگاکے استعمال کے لیے متعین کی جاچکی ہے۔وسائل کی ترقی کا انحصار تکنالوجی اور قابل عمل ہونے پر ہوتاہے۔

ذخیرہ (Stock):

 اِن وسائل میں ماحول میں پائے جانے والی وہ معدنیات آتی ہیں جو انسانی ضروریات کو تو پورا کرنے کا امکان رکھتی ہیں لیکن انسان اُن تک پہنچنے کی تکنیک نہیں رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر پانی دو جلنے والی گیسوں آکسیجن اور ہائیڈروجن کا مرکب ہے جو توانائی کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہیں۔ لیکن ان کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کی ہمارے پاس تکنیک نہیںہے۔ اس لیے اُن کو ہم ’’محفوظ وسائل‘‘ سمجھ سکتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس ان کا ذخیرہ ہے۔

محفوظات (Reserve):

محفوظات وسائل ہی کا ایک حصہ ہیں جن کو موجودہ تکنیکی معلومات کے ذریعہ استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ لیکن جن کے استعمال کی ابھی شروعات نہیں ہوئی ہے۔ یہ مستقبل میں ہونے والی ضروریات کے لیے استعمال میں لائی جاسکتی ہیں۔ دریائی پانی بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوسکتا ہے لیکن فی الحال یہ ایک محدود پیمانے پر ہورہا ہے۔ اس طرح باندھوں، جنگلات وغیرہ میں پایا جانے والا پانی فاضل ہے جو مستقبل میں استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

سرگرمی

آپ اپنے پڑوس میں پائے جانے والے ذخیرہ کردہ اور محفوظ اسٹاک وسائل کی ایک فہرست بنائیں۔

وسائل کی ترقی

انسانوں کے زندہ رہنے اور معیارِ زندگی کو قائم رکھنے کے لیے وسائل بہت اہم ہیں۔ پہلے وسائل قدرت کے مفت تحفے سمجھے جاتے تھے۔ اس کانتیجہ یہ نکلا کہ انسانوں نے وسائل کا اندھا دھند استعمال شروع کردیا۔ اس کے نتیجے میں مندرجہ ذیل پریشانیاں پیدا ہوئیں:
چند لوگوں کے لالچ کو تسکین دینے کے لیے وسائل صَرف ہوگئے یااُن میں کمی آگئی۔
وسائل چند ہاتھوں میں جمع ہوگئے جس کے نتیجے میں معاشرہ دو طبقوں میں بٹ گیا۔ یعنی جن کے پاس کچھ ہے اور جن کے پاس کچھ نہیں ہے گویا امیروں میں اور غریبوں کے درمیان۔
بنا سمجھے بوجھے وسائل کے استعمال کے نتیجے میں ماحولی بحران پیدا ہوئے جیسے دنیا میں بڑھتی گرمی، اوزون پرت کا کم ہونا، ماحول کی آلودگی اور زمین کی خستہ حالی۔

سرگرمی

1۔تصوّر کیجیے کہ اگر ایک دن تیل کی سپلائی ختم ہوجاتی ہے تو یہ ہماری زندگی کے طور طریقوں کو کس طرح متاثر کرے گی؟
2۔اپنی بستی یا گاؤں کے لوگوں کا گھریلو یا کاشت کاری کے کچرہ کے احیا کیے جانے کے تئیں روییّ کو جاننے کے لیے جائزے کا منصوبہ تیار کیجیے۔
(a)  جن وسائل کو استعمال کرتے ہیں اُن کے بارے میں وہ کیا سوچتے ہیں؟
(b)  اُن کا کچرہ اور اُس کے استعمال کے بارے میں کیا خیال ہے؟
   (c)اپنے اخذ کیے گئے نتائج کا خاکہ بنائیے یا اسے تصویری شکل میں پیش کیجیے
معیار زندگی کو طویل عرصے کے لیے برقرار رکھنے اور دنیا میں امن بحال رکھنے کے لیے وسائل کی مساوی تقسیم انتہائی ضروری بن گئی ہے۔اگر چند لوگوں اور کچھ ممالک اسی طرح وسائل کو کم کرتے رہے تو ہماری دنیا کا مستقبل خطرے میں پڑجائے گا۔
لہٰذا وسائل کی منصوبہ بندی حیات کی تمام شکلوں کے قابل برقراری وجود کے لیے لازمی ہے۔

قابل برقراری ترقی

قابل برقراری معاشی ترقی کے معنیٰ ہیں ایک ایسی ترقی جو ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر کی جائے۔ اور آج کی ترقی کو مستقبل کی نسلوں کی ضروریا ت کے ساتھ سمجھوتہ نہ کرنا چاہیے یعنی آنے والی نسلوں پر مضر اثر نہ پڑے۔


ریوڈی جینیر وارضی چوٹی مذاکرہ 1992

جون 1992میں ایک سو سے زائد ممالک کے سربراہ برازیل کے شہر ریوڈی جینیرو میں پہلے ’’بین الاقوامی ارتھ سمّٹ‘‘ کے لیے اکٹھا ہوئے۔ اس سمّٹ کو بلانے کا مقصد ماحول کی حفاظت اور سماجی ومعاشی ترقی جیسے فوری مسائل کو خطاب کرنا تھا۔ وہاں موجود رہنماؤں نے کُرّوی آب و ہوا کے معاہدے (Declaration on Global Climatc Change) اور حیاتیاتی اختلاف (Biological Diversity) کے اعلان پر دستخط کیے۔ ریوکنونشن نے عالمی جنگلات کے اصولوں کی تصدیق کی اور اکیسویں صدی میں قابل برقراری ترقی کو حاصل کرنے کے لیے ایجنڈا 21کو قبول کیا۔

ایجنڈا 21

یہ بین الاقوامی ایجنڈ ا21رہنمائوں کا اعلان ہے جو انھوں نے 1992 میں ریوڈی جنیرو، (برازیل میں) اقوام متحدہ کی ماحول اورترقی کانفرنس (UNCED)میں کیا۔ اس کا مقصد ساری دنیا میں پائیدار ترقی حاصل کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا ایجنڈا ہے جس کے تحت باہمی اشتراک باہمی ضروریات اورباہمی فرائض کے ذریعہ ماحول کے نقصان، غریبی اور بیماری سے لڑنا ہے۔ایجنڈا 21کا ایک بڑا مقصد ہے کہ ہر مقامی حکومت اپنا مقامی ایجنڈا تیار کرے۔

وسائل کی منصوبہ بندی


وسائل کے معقول و محتاط استعمال کے لیے منصوبہ بندی ایک بڑی حد تک ہمہ گیر حکمت عملی ہے۔ ہندوستان جیسے ملک میںجہاں وسائل کی دستیابی میں بہت زیادہ تفریق ہے، اس کی بہت اہمیت ہے۔ کچھ علاقے ہیں جہاں کسی ایک وسیلے کی بہتات ہے لیکن دیگر کچھ وسائل کی سخت کمی ہے۔ یہاں کچھ علاقے ایسے ہیں جو وسائل میں خود کفیل ہیں جب کہ کچھ اور علاقے ایسے ہیں جہاں اہم وسائل کی سخت کمی ہے۔ مثال کے طور پر جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ اورمدھیہ پردیش ایسی ریاستیں ہیں جو معدنیات اور کوئلہ کے ذخائر کے اعتبار سے بھر پور ہیں۔ اروناچل پردیش میں آبی وسائل بہت زیادہ ہیں لیکن بنیادی ڈھانچے کی یہاں کمی ہے۔ راجستھان کی ریاست کو شمسی اور ہوا کا قدرتی عطیہ ملا ہوا ہے لیکن وہاں آبی وسائل کا فقدان ہے۔ لدّاخ کا برفیلا ریگستان ملک کے دوسرے حصوں سے منقطع ہے۔ یہ تمدّنی وراثت کے لحاظ سے مالا مال ہے لیکن یہاں پانی، بنیادی ڈھانچہ اور کچھ اہم معدنیات کی قلت ہے۔ یہ حالات ہمارے ملک میں قومی، ریاستی، علاقائی اور مقامی سطح پر وسائل کی متوازن منصوبہ بندی کو ضروری بناتے ہیں۔

سرگرمی

اپنی ریاست میں پائے جانے والے وسائل کی فہرست بنائیے اور اُن وسائل کی نشاندہی کیجیے جو اہم ہیں لیکن جن کی آپ کی ریاست میں قلت ہے۔

ہندوستان میں وسائل کی منصوبہ بندی

وسائل کی منصوبہ بندی ایک پیچیدہ عمل ہے جس کے تحت (1) ملک کے سارے علاقوں کے وسائل کی نشاندہی کرنا اور اُن کی تفصیلی فہرست تیار کرنا۔ اس کا سروے کرنا، نقشے بنانا، وسائل کا کیفیتی اور مقداری اندازہ لگانا اور اُن کی پیمائش کرنا۔ (2) وسائل کی ترقی کے لیے بنائے گئے منصوبوںکو عملی جامہ پہنانے کے لیے مناسب ٹکنالوجی، مہارت اور اداروں کا قیام (3) وسائل کی ترقی کے منصوبوں اور قومی ترقی کے مجموعی منصوبوں میں مطابقت پیدا کرنا۔
ہندوستان میں آزادی کے بعد پہلے پنج سالہ منصوبہ ہی سے وسائل کی منصوبہ بندی کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے بھر پور کوشش کی گئی ہے۔

معلوم کیجیے

آپ کے اطراف میں مقامی آبادی کے اشتراک سے آبادی یا گاؤں پنچایت یا وارڈ کی سطح پر کن وسائل کی ترقی کی جارہی ہے؟ 
کسی بھی علاقہ کی ترقی کے لیے ایک ضروری شرط وسائل کی فراہمی ہے، لیکن ٹکنالوجی اور اداروں کی مناسب تبدیلی کا فقدان اس عمل میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں بہت سے علاقے ہیں جہاں وسائل کی افراط ہے لیکن یہ معاشی طور پر پسماندہ علاقوں میں شامل کیے جاتے ہیں۔ برخلاف اس کے کچھ ایسے علاقے ہیں جو وسائل کے لحاظ سے کمزور ہیں لیکن معاشی طورپر ترقی یافتہ ہیں۔

کیا آپ کچھ ایسے علاقوں کے نام بتا سکتے ہیں جہاں وسائل کی افراط ہے لیکن وہ معاشی لحاظ سے پسماندہ ہیں اور کچھ ایسے علاقوں کے نام جو وسائلی لحاظ ہیں؟ ایسے حالات کی وجوہات بتائیں۔سے کمزور لیکن معاشی طور پرترقی یافتہ 

استعماریت کی تاریخ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نوآبادیات کے وسائل ہی غیر ملکی حملہ آوروں کے لیے کشش کا خاص باعث تھے۔ ابتدا میں نوآبادکاری کرنے والے ملکوں کی اعلیٰ
 ٹکنالوجی نے ہی نو آبادیوں کے وسائل استعماریت اور اُن پر اپنی برتری قائم رکھنے میں مدد کی۔ اس لیے وسائل جب ہی ترقی میں معاون ثابت ہوتے ہیں جب اُن کے حصول کے لیے اداروں میں مناسب تبدیلی ہوتی ہے۔ ہندوستان نے آبادکاری کے مختلف ادوار میں اس کا تجربہ کیا ہے۔ اس لیے ہندوستان میں ترقی بالعموم اور وسائل کی ترقی بالخصوص صرف وسائل کی فراہمی پر ہی منحصر نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ ہی ٹکنالوجی، انسانی وسائل کی کیفیت اور تاریخی تجربوں پر بھی انحصار کرتی ہے۔

وسائل کا تحفظ: 

ترقی کے کام کے لیے وسائل ضروری ہیں۔ لیکن وسائل کا غیر معقول صَرف اور استعمال اور ضرورت سے زیادہ استعمال، سماجی، معاشی اور ماحولی مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے وسائل کا تحفظ (Conservation) مختلف سطحوں پر ضروری ہے۔ ماضی میں یہ رہنماؤں اور مفکرین کی تشویش کا سبب بنا رہا ہے۔ مثال کے طو رپر گاندھی جی وسائل کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے میں حق بجانب تھے۔ اُن کے الفاظ میں ’’ ہر ایک کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے یہاں کافی ہے اور کسی کے لالچ کے لیے کچھ نہیں۔‘‘ ان کے نزدیک بین الاقوامی سطح پر وسائل کی قلّت کا خاص سبب افراد کی لالچ اور خود غرضی اور جدیدٹکنالوجی کی استحصالی فطرت ہیں۔ وہ کثیر پیداوار کے مخالف تھے اور اس کی جگہ چاہتے تھے کہ پیداوار میں عوام کی بڑی تعداد شامل ہو۔
Club of Rome (کلب آف روم) نے 1968 میں پہلی بار ایک منظم طریقے وسائل کے تحفظ (Conservation) کی وکالت کی۔ اس کے بعد 1974 میں شُماچر نے اپنی کتاب "Small is Beutiful" یعنی چھوٹی چیز خوب صورت ہوتی ہے، میں گاندھی جی کے فلسفے کو ایک بارپھر پیش کیا۔ بین الاقوامی سطح پر وسائل کے تحفظ کے خیال کو معنی خیز تعاون برنٹلینڈ کمیشن رپورٹ نے 1987 میں دیا۔ اس رپورٹ نے قابل برقراری (Sustainable Development) کے خیال سے متعارف کرایا اور وسائل کی ترقی کے لیے اس کی ایک ذریعہ کی حیثیت سے وکالت کی۔بعد میں اس رپورٹ کو ایک کتاب "Our Common Future" (یا ہمارا مشترکہ مستقبل) کی صورت میں شائع کیا گیا۔ اس طرح کا ایک اور تعاون اس خیال کو 1992 میں ریوڈی جینیرو،برازیل میں ہونے والے ارتھ سمّٹ سے ملا۔

زمین کے وسائل

ہم زمین پر رہتے ہیں، زمین پر معاشی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں اور اس کا مختلف طریقوں سے استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح زمین قدرت کا ایک غیر معمولی اہم وسیلہ ہے۔ یہ قدرتی نباتات، جنگلی زندگی، انسانی زندگی، معاشی سرگرمیوں، رسل و وسائل اور ابلاغی نظاموں کو سہارا دیتی ہے۔ تاہم زمین ایک محدود وسعت کا اثاثہ ہے۔اس لیے یہ ضروری ہے کہ دستیاب زمین کا مختلف مقاصد کے لیے استعمال سوچی سمجھی اور محتاط منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جائے۔
ہندوستان میں زمین کے متفرق زمینی خدّو خال ہیں۔ جیسے: پہاڑ، پٹھار(سطحِ مرتفع)، میدان اور جزیرے۔ تقریباً 43فیصد زمین پر میدان ہیں جو زراعت اور صنعتوں کے لیے سہولیات مہیاکرتے ہیں۔ پہاڑوں کے تحت کل رقبہ کے 30 فی صد علاقے میں ہے۔ جوندیوں کی سالانہ روانی کی ضمانت دیتے ہیں۔ سیاحت اور دیگر ماحولی پہلوؤں کے لیے سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔ لگ بھگ 27فیصد خطّہ سطح مرتفع ہے۔ یہ علاقہ معدنیات، رکازی ایندھن (Fossil Fuels) اور جنگلات سے بھرپورہے۔
میدان
پہاڑ
سطح مرتفع
CH  1  5017    4

شکل 1:3: ہندوستان :مختلف اہم زمینی خدوخال کے تحت زمین

زمین کا استعمال

زمینی وسائل مندرجہ ذیل مقاصد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں:
جنگلات
وہ زمین جو کھیتی کے لیے دستیاب نہیں ہے۔
(a) بیکار اور بنجر زمین
(b) غیر کاشتکاری کاموں کے لیے استعمال کی جانے والی زمین جیسے: عمارتیں، سڑکیں، کارخانے وغیرہ بنانے کا کام۔
دیگر غیر مزروعہ  زمین (بنجر زمین کے علاوہ)
(a) مستقل چراگاہیں اور سبزہ زار
(b) متفرق باغات کے تحت زمین (جس کو خالص بوئے ہوئے علاقے میں شامل نہ کیا گیا ہو)
(c) زراعت کے قابل بیکار زمین (پانچ زرعی سال سے کاشت کیے بغیر پڑی زمین)
خالی یا غیر مزروعہ  زمینیں
(a) موجودہ افتادہ زمین (ایک یا ایک سے کم سال سے غیر مزروعہ  زمین)
(b) غیر مزروعہ زمین کے علاوہ زمین (1سے5زرعی سال سے غیر کاشت شدہ زمین)
خالص بویا گیا علاقہ
ایک سال میں کئی بار بویا گیا علاقہ۔ ا س کو ’’کُل کاشت کا علاقہ‘‘(Gross Cropped Area)بھی کہتے ہیں۔

ہندوستان میں زمین کے استعمال کا نمونہ اورانداز

زمین کس استعمال میں آئے گی؟ یہ دونوں یعنی طبعی اسباب جیسے زمینی خدّوخال، آب وہوا، مٹّی کے اقسام اور انسانی اسباب جیسے آبادی کی کثافت، تکنیکی لیاقت اور تمدن اور روایات وغیرہ پر منحصر ہے۔
ہندوستان کا کُل جغرافیائی علاقہ 3.28 ملین مربع کلو میٹر ہے۔ تاہم، زمینی استعمال کے دستیاب اعدادوشمار کل علاقہ کا 93فیصد دستیاب ہیں کیوں کہ زمینی استعمال کی مکمل رپورٹ آسام کو چھوڑ کر تمام شمال مشرقی ریاستوں کی مرتب نہیں ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ جموں اور کشمیر کے کچھ علاقے جو پاکستان اور چین کے قبضہ میں ہیں،ان کا سروے نہیں کیا گیاہے۔

سرگرمی

دونوں پائی چارٹوں (شکل 1.4) کا جوزمین کے استعمال کو بتاتے ہیں، موازنہ کیجیے اور یہ معلوم کیجیے کہ 1960-61 اور 2014-15 کے درمیانی عرصے میں خالص بوئے گئے علاقے اور جنگلات کے تحت زمین میں بہت کم تبدیلی کیوں ہوئی ہے؟

مستقل چراگاہوں کی زمین بھی گھٹی ہے۔ ہم کس طرح اپنے مویشیوں کی اتنی بڑی تعداد کو اس چراگاہی زمین سے خوراک مہیا کرسکتے ہیں اور اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے؟ دیگر افتادہ زمین زیادہ تر یا تو پسماندہ ہے  یا اُس پر کاشت کی لاگت بہت زیادہ ہے۔ اس لیے یہ زمینیں دو یا تین سالوں میں ایک یا دو بار کاشت کی جاتی ہیں اور اگر ان کو خالص بوئے ہوئے علاقہ میں شامل کیا جائے تو خالص بوئے گئے علاقہ کے کل رقبہ کا تناسب 54فیصد بنتا ہے۔
خالص بوئے ہوئے علاقہ کی شکل (Pattern) ایک ریاست سے دوسری ریاست میں علاحدہ علاحدہ ہے۔ یہ پنجاب اور ہریانہ میں کل رقبہ کا 80فیصد سے زائد ہے جب کہ اروناچل پردیش، میزورم، منی پور اور انڈمان نکوبار جزائر میں 10فیصد سے بھی کم ہے۔
ان ریاستوں میں خالص بوئے گئے رقبہ کی اتنی کمی کے اسباب معلوم کریں۔

زمین کے عام استعمال کے زمرے 15- 2014

بتایا گیا رقبی 100فیصد
قابل کاشت بنجر زمین
غیر مزروعہ کے علاوہ دیگر غیر مزروعہ زمین
فی الحال غیر مزروعہ
خالص زیر کاشت

زمین کے عام استعمال کے زمرے 61- 1960

جنگلات
بنجر اور بے کار زمین
غیر زراعتی استعمال کا رقبہ
مستقل چراگاہیں اور سبزہ زار
متفرق زیر استعمال رقبہ: درخت اور باغات




CH  1  5017    5
شکل1.4
ماخذ: ڈائریکٹریٹ آف اکنومکس اینڈ اسٹیٹسٹکس، وزارت زراعت،2017

جنگلات کا رقبہ ہمارے ملک میں جغرافیائی رقبے کا 33فیصد کے اس مطلوبہ رقبہ سے کافی کم ہے جیسا کہ نیشنل فارسٹ پالیسی (1952) میں چاہا گیا تھا۔توازن کو قائم رکھنے کے لیے لازمی سمجھا گیا تھا کروڑوں لوگوں کی روزی‘ جو ان جنگلات کے کنارے رہتے ہیں، اس پر منحصرہے۔ زمین کاوہ حصہ بنجر کہلاتا ہے جسے غیر زرعی استعمال میں لایا جائے۔ بیکار زمین میں پتھریلے علاقے، پانی کی قلت والے علاقے اور ریگستان آتے ہیں اور غیر زرعی کاموں میں استعمال آنے والی زمین میں بستیاں، سڑکیں، ریلوے لائن اور صنعت کے تحت رقبہ آتا ہے۔ زمین کا لگاتار ایک لمبے عرصے کے لیے استعمال اس کو تحفظ اور منظم استعمال کیے بغیر زمین کوخستہ حال بناتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سماج اور ماحول پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

زمین کی خستہ حالی اور گراوٹ اور تحفظ کے طریقے

ہم نے ماضی کی نسلوں کے ساتھ زمین کے استعمال میں شرکت کی ہے اور آنے والی نسلوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنا ہوگا۔ ہماری غذا، رہائش اور پوشاک کی 95فیصد بنیادی ضروریات زمین سے پوری ہوتی ہیں۔ انسانی سرگرمیاں نہ صرف زمین کی پسماندگی کے لیے ذمّہ دار ہیں بلکہ زمین کو نقصان پہنچانے والی قدرتی طاقتوں کی رفتار بھی انھوں نے تیز کردی ہے۔
کچھ انسانی سرگرمیوں نے جیسے جنگلات کا صفایا، ضرورت سے زیادہ چَرائی، کان کنی اورپتھر نکالنے کی وجہ سے بھی زمین کی یہ حالت ہوئی ہے۔
کانوں کی جگہ کو جب معدنیات نکالنے کا کام مکمل ہوجانے پر چھوڑ دیا جاتا ہے تو اپنے پیچھے گہرے داغ آور ضرورت سے زائد بوجھ کے نشانات چھوڑ جاتی ہیں۔ جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور اڈیشہ جیسی ریاستوں میں کان کنی سے ہونے والے جنگلات کے صفائے کے سبب زمین کی حالت میں بری طرح گراوٹ آئی ہے۔گجرات، راجستھان، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر میں ضرور ت سے زائد چَرائی زمین کی پسماندگی کے خاص اسباب میں سے ایک ہے۔ پنجاب، ہریانہ اور مغربی اتّرپردیش میں ضرورت سے زیادہ آب پاشی سے ہونے والے پانی کے جماؤ کی وجہ سے مٹی کی بڑھی نمکینیت اور الکلیت زمین کی پسماندگی کی ذمہ دار ہے۔ معدنیات جیسے: چونے کے پتھر کو سیمنٹ بنانے کے لیے اورکیلسائٹ اور سوپ اسٹون کو چینی کے برتن بنانے کے لیے پیسنے سے کرّہ ہوائی میں زبردست گردپیدا ہوتی ہے۔ اس کے زمین کے سطح پر جمع ہونے سے پانی کا زمین میں سرایت کرنے کا عمل دھیما ہوجاتا ہے۔ حال کے سالوں میں صنعت وحرفت سے خارج ہونے والا بیکار کیمیائی مادّہ (Effluents) ملک کے بہت سے حصّوں میں زمین اور پانی کی آلودگی ایک اہم سبب بن گیا ہے۔
زمینی پسماندگی کے مسئلے کو حل کرنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ لگاتار درخت لگاتے رہنا اور منظم چَرائی کسی حد تک مدد کرسکتے ہیں۔ رکاوٹ کے لیے پیڑ پودوں کی قطاریں لگانا، ضرورت سے زیادہ چرائی کو قابو میں رکھنا، ریتیلے ٹیلوں کو ساکن بنانے کے لیے کانٹے دار جھاڑ یاں لگانا— زمینی پسماندگی کو روکنے کے کچھ طریقے ہیں۔ بیکار اور بنجر پڑی زمین کا مناسب انتظام، کان کُنی پر قابو، صنعت وحرفت سے خارج ہونے والے زہریلے مادوں کو مناسب طریقوں سے کم سے کم نقصان دہ بناکر نجات حاصل کرنا— ذیلی شہری علاقوں میں زمین اور پانی کی آلودگی کو کم کرسکتا ہے۔

مٹی ایک وسیلہ کے طور پر

مٹی اعادہ کیے جاسکنے والا ایک اہم قدرتی وسیلہ ہے۔ یہ پودوں کی افزائش کا ذریعہ ہے۔ یہ زمین پر کروڑوں سال سے رہنے والے مختلف جانداروںکو سہارا دیتی ہے۔ مٹی ایک زندہ نظام ہے۔ چند سینٹی میٹر گہری مٹی کے بننے میں کروڑوں برس لگ جاتے ہیں۔

سب سے اوپر کی مٹی
مٹی کے نیچے کی فرسودہ چٹانیں اور گاد کی چکنی مٹی

زیر زمین فرسودہ چٹانی مادہ

غیر فرسودہ اصلی چٹان 
CH  1  5017    6
CH  1  5017    7

شکل 1.5: مٹی کی ساخت کا تفصیلی خاکہ

لاکھوں سال لگ جاتے ہیں، مٹی کی تشکیل میں(بننے میں) زمینی خدوخال، اصل یا اساسی چٹان، آب وہوا، نباتات اور دیگرزندہ چیزیں اور وقت اہم اجزا ہیں۔ قدرت کی مختلف طاقتیں جیسے درجۂ حرارت میں تبدیلی، رواں پانی کا عمل، ہوا اور برفانی دریا اور تحلیل کرنے والے (گلانے سڑانے والے) جرثومے مٹی کی تشکیل میں معاون ہیں۔ مٹی میں ہونے والی کیمیائی اور نامیاتی تبدیلیاں بہت ہی اہم ہوتی ہیں۔ مٹی میں نامیاتی (Humus)اور غیر نامیاتی دونوں مادّے ہوتے ہیں۔ (شکل1.5)

در جۂ حرارت کی تبدیلیاں، ہوا، گلیشیر، پانی کا بہاؤ، سڑانے اور گلانے والی اشیا کا عمل وغیرہ قدرتی قوتیں زمین کی تشکیل میں کام کرتی ہیں۔ مٹی کی تشکیل کے ذمہ دار اجزا — رنگ، گہرائی، بناوٹ، عمر، کیمیائی اور طبیعی خصوصیات وغیرہ ہیں۔ہندوستان کی مٹیوں کو مختلف اقسام میں بانٹا  گیا ہے۔
مٹیوں کی درجہ بندی
ہندوستان میں مختلف قسم کے خدّوخال، زمین کی بناوٹ، آب وہوائی خطّے اور نباتات کی قِسمیں پائی جاتی ہیں۔ ان سب کے نتیجہ میں مٹی کی مختلف اقسام یہاں پائی جاتی ہیں۔

سیلابی مٹیاں

یہ سب سے زیادہ پائی جانے والی اور سب سے اہم مٹی ہے۔ حقیقت میں سارے شمالی میدان اسی مٹّی کے بنے ہوئے ہیں۔ یہ مٹیاں ہمالیہ کے تین دریائی نظاموں —سندھ، گنگا اور بَرہم پترا کے ذریعہ جمع کی گئی ہیں۔ یہ مٹیاں، راجستھان اور گجرات تک ایک تنگ گزرگاہ کے طور پر پھیلی ہوئی ہیں۔ سیلابی مٹی، مشرقی ساحلی میدانوں خاص طور سے مہاندی، گوداوری، کرشنا اور کاویری ندیوں کے ڈیلٹاؤں میں بھی پائی جاتی ہے۔
شکل 1.6: سیلابی مٹی
CH  1  5017    8
سیلابی مٹی میں ریگ، چکنی مٹّی اور گاد مختلف تناسب میں پائی جاتی ہے۔ ہم جیسے جیسے ندیوں کی وادی کے اندر کی طرف بڑھتے ہیں، ویسے ویسے مٹّی کے ذرّات بڑے سائز کے ہوتے جاتے ہیں۔ ندیوں کے اوپری حصے میں جہاں وہ میدان میں اترتی ہیں مٹّیاں موٹی یا کھردرے ذرّات والی ہوتی جاتی ہیں۔ اس طرح کی مٹیاں گودی میدانوں میں عام طورپر پائی جاتی ہیں۔ جیسے: دُوآرس، چوس اور ترائی۔
ذرّوں کی جسامت یا اجزا کے علاوہ مٹیاں اپنی عمر کے لحاظ سے بھی تقسیم کی جاسکتی ہیں۔سیلابی مٹیاں عمر کے لحاظ سے قدیم  سیلابی (بانگر) اور جدید سیلابی مٹیاں (کھادر) میں تقسیم کی جاسکتی ہیں۔ بانگر مٹی میں کنکر کی مقدار کھادر مٹی کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ کھادر میں مہین ذرات اور زر خیزی بانگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ سیلابی مٹّیاں بہت زرخیز ہوتی ہیں۔ اِن میں زیادہ تر پوٹاش، فاسفورک ایسڈ اور چونا مناسب مقدار میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ گنّے، دھان، گیہوں و دیگر اناجوں اور دالوں کے لیے خاص طور سے موزوں ہیں۔ اپنی اعلیٰ زرخیزی کی وجہ سے ایسی مٹّی کے علاقوں میں خوب کاشت ہوتی ہے اور یہ گھنے آبادی والے ہوتے ہیں۔ یہ مٹیاں مقابلتاً خشک علاقوں میں زیادہ القلی ہوتی ہیں اور مناسب ذریعۂ علاج اور آب پاشی کے ذریعہ  لائق پیداوار بنائی جاسکتی ہیں۔

شکل 1.7: کالی مٹی
CH  1  5017    9

کالی مٹی

یہ مٹیاں رنگ میں کالی ہوتی ہیں اور ان کو ’’ریگُر مٹّیاں‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ کالی مٹی، کپاس اُگانے کے لیے بہت موزوں ہوتی ہے اوریہ ’’کالی کپاس کی مٹی‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ مانا جاتا ہے کہ ان کی تشکیل میں آب وہوائی حالات کے ساتھ اساسی چٹانی مادّہ کا اہم کردار ہے۔ اس قسم کی مٹیاں دکن ٹریپ (Basalt)کے علاقے کی خاص مٹیاں ہیں جو شمال مغربی دکن کی سطحِ مرتفع سے پھیلی ہوئی ہیں اور یہ لاورا کے پہاڑ سے بنی ہیں۔ یہ جنوب مشرقی سمت میں گوداوری اور کرشنا کی وادیوں تک پھیلے ہوئے اور لاوا کی۔ یہ مٹیاں مہاراشٹر، سوراشٹر،مالو، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ اور تمل ناڈو کے پہاڑیوں والے علاقوں اور جنوب مشرقی سمت میں گوداوری اور کرشنا کی وادیوں کے ساتھ ساتھ پھیلی ہوئی ہیں۔
کالی مٹیاں حدر درجہ باریک یعنی چکنے مادے سے بنی ہوئی ہوتی ہیں۔ اپنے اندر نمی قائم رکھنے کے لیے یہ بہت مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں مٹی کے غذائی اجزا بڑی مقدار میں ہوتے ہیں، جیسے کیلیشیم کاربونیٹ، میگنیشیم، پوٹاش اور چونا۔ عام طور پر ایسی مٹی میں فاسفورس بہت کم ہوتا ہے۔ گرم موسم میں یہ پھٹ جاتی ہے اور اس میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ اس سے مٹی کے اندر ہوا پہنچنے میں مدد ملتی ہے۔ گیلی کالی مٹیاں چپچپی ہوتی ہیں اور اگر پہلی بوچھار کے فوراً بعد ان کی جتائی نہ کی جائے یا مانسون سے پہلے کے دنوں میں انھیں جوتا نہ جائے تو ان پر کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
CH  1  5017    10
ہندوستان: مٹی کی اھم قسمیں

سرخ اور زرد مٹیاں

سرخ یعنی لال مٹی شفاف آتشی چٹانوں پر بنتی ہے۔ جن علاقوں میں پائی جاتی ہے وہ ہیں سطح مرتفع دکّن کے مشرقی اور وہ جنوبی حصے جہاں بارش کم ہوتی ہے۔ سرخ اور زرد مٹیاں اڈیشہ، چھتیس گڑھ، وسطی گنگا کے میدانوں کے جنوبی حصوں میں اور مغربی گھاٹوں کے پیڈ مونٹ خطے میں ہوتی ہیں۔ ان کا رنگ تغیر پذیر اور شفاف چٹانوں کے اندر لوہے کے منتشر ہوکر پھیلنے کی وجہ سے سرخ ہوتا ہے۔ پانی میں ملنے کے بعد یہ زرد یا پیلی نظر آتی ہیں۔

لیٹرائٹ مٹیاں

لیٹرائٹ لاطینی زبان کے ایک لفظ لیٹر (Later) سے لیا گیا ہے جس کے معنی اینٹ کے ہوتے ہیں۔ لیٹرائٹ مٹی خشک و تر موسم والے ٹراپیکی اور نیم ٹراپیکیم آب و ہوا میں نشو ونما پاتی ہے۔ یہ مٹی بہت بارش سے ہوئی زبردست  لیچنگ کا نتیجہ ہوتی ہے۔ لیٹرائٹ قسم کی مٹی بیشتر عمیق سے عمیق تر،

شکل1.8: لیٹرائٹ مٹی
CH  1  5017    11
 ایسڈ یک (pH<6.0) ، عام طور پر پودوں میں تغذیہ کی کمی اور زیادہ تر جنوبی ریاستوں مہاراشٹر کے مغربی گھاٹ کے علاقوں، اڈیشا، مغربی بنگال کے کچھ علاقوں اور شمالی مشرقی خطوں میں پائی جاتی ہے۔ مٹی ایسے علاقوں میں ہوتی ہے جہاں کی آب و ہوا شدید گرمی اور آب و ہوا کی وجہ سے بہت زیادہ خشک ہوتی ہے۔
اگر اس کو محفوظ رکھنے کے مناسب طریقے اختیار کیے جائیں تو یہ مٹی چائے اور کافی کی کاشت کے لیے بہت کار آمد ہے خاض طور پر کرناٹک، کیرل اور تامل ناڈو میں۔ تمل ناڈو، آندھرا پردیش اور کیرل میں سرخ لیٹرائٹ مٹی کاجو اور اسی طرح کی دیگر فصلوں کے لیے زیادہ موزوں ہے۔

خشک و بنجر مٹیاں

رنگ کے اعتبار سے ریگستانی مٹیاں لال سے کتھئی تک ہوتی ہیں۔ عام طور پر ان میں ریگ یا ریت زیادہ ہوتی ہے اور فطرت کے اعتبار سے یہ نمکین (Saline) ہوتی ہیں۔ کچھ علاقوں میں نمک کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ پانی کو خشک کرنے کے بعد ان سے کھانے کا نمک حاصل کیا جاتا ہے۔ خشک آب وہوا، اونچے درجۂ حرارت کی وجہ سے ان علاقوں میں تبخیرکا عمل تیز ہوتاہے۔ اس وجہ سے ان مٹیوں میں ہیومس اور نمی کی کمی ہوتی ہے۔ اس مٹی کی نچلی تہہ میں کنکر ہوتا ہے کیونکہ وہ نیچے کی طرف چونے کی مقدار میں بڑھتی جاتی ہے۔ نچلی افق میں کنکر کی تہہ ہونے کی وجہ سے پانی کا رِساؤرکتا ہے۔ مناسب آب پاشی کے بعد یہ مٹیاں کاشت کے لائق بن جاتی ہیں جیسا کہ مغربی راجستھان میں دیکھا گیا ہے۔

شکل 1.9: خشک وبنجر مٹی
CH  1  5017    12

جنگلاتی مٹّیاں

یہ مٹّیاں ان پہاڑی اورکوہستانی علاقوں میں پائی جاتی ہیں جہاں بارانی جنگلات ہوتے ہیں۔ ان مٹیوں کی بناوٹ اس کو ہستانی ماحول کے بدلنے کے ساتھ بدلتی ہے جہاں یہ بنتی ہیں۔ یہ وادی کے پہلوؤں پر مٹیار اور گاؤ ہوتی ہیں اور بالائی ڈھالوں پر یہ موٹے دانے کی ہوتی ہیں۔ ہمالیہ کے برف سے ڈھکے علاقوں میں یہ عریاں کاری کا شکار ہوجاتی ہیں اور ان میں ہیومس کی مقدار کم ہوتی ہے۔ وادیوں کے نچلے حصے میں خاص طور پر یہ ندیوں کے سیڑھی نما ڈھالوں پر یہ کافی زرخیز ہوتی ہیں۔ 

مٹی کا کٹاؤاور اُس کا تحفظ

مٹی کی تہہ کی عریاں کاری اور بعدمیں اس کا بہہ جانا مٹی کا کٹاؤ (Soil Erosion)کہلاتا ہے۔ مٹی بننے اور کٹنے کے عمل ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ عام طور پر ان دونوں میں توازن ہوتاہے۔ کبھی کبھی یہ توازن انسانی سرگرمیوںجیسے: شجر کشی، ضرور ت سے زیادہ چَرائی، عمارت سازی اور کان کُنی وغیرہ سے بگڑ جاتا ہے جب کہ قدرتی طاقتیں جیسے ہوا،گلیشیئراور پانی، مٹی کو کاٹتے ہیں۔ رواں پانی چکنی مٹی کو کاٹ کر گہرے پانی بہنے کے راستے بناتا ہے جو’’نالیاں‘‘ کہلاتی ہیں۔ یہ زمین کاشت کے لیے موزوں نہیں رہتی ہے اور خراب زمین (Bad Land) کہلاتی ہے۔ چنبل کے بیسن میں اس طرح کی زمینوں کو گہری گھاٹیاں (Ravines) کہتے ہیں۔ کبھی کبھی پانی ایک چادر کی طرح ڈھلواں زمین سے نیچے اتر کر بہتا ہے۔ ایسی صورت میں مٹی کا اوپر کا حصہ بہہ جاتا ہے اسے چادرنما مٹی کاکٹاؤ (Sheet Erosion) کہتے ہیں۔
شکل1.10: مٹی کا کٹاو
CH  1  5017    13

CH  1  5017    14
شکل 1.11: نالیوں کا کٹاو
 رواں ہوا یا ڈھلوان زمین کی ’’ڈھلی مٹی‘‘ (Wind Erosion)کو بہا لے جاتی ہے جسے ’’ہوائی کٹاؤ‘‘ کہتے ہیں۔ کاشتکار کے غلط طریقوں سے بھی مٹی کا کٹاؤ ہوتا ہے۔ غلط طریقے کی جتائی یعنی ڈھال کے اوپر سے نیچے کی طرف کرنے سے پانی کی تیز روانی سے گہری نالیاں بن جاتی ہیں جس کے نتیجے میں مٹی کا کٹائو ہوتا ہے۔
خطوط ارتفاع کے ساتھ جُتائی کرنے سے پانی کی روانی ڈھالوں پر دھیمی پڑ جاتی ہے۔ اس کو ’’خط ارتفائی جتائی‘‘(Contour Ploughing)کہتے ہیں۔ ڈھالوں کو کاٹ کر سیڑھی نما بھی بنایا جاسکتا ہے۔ اس طرح سیڑھیوں پر کاشت کرنے سے مٹی کا کٹاؤ کمزور پڑ جاتا ہے۔ مغربی اور وسطی ہمالیہ میں سیڑھی نما کھیتوں کی کاشت کافی ترقی یافتہ ہے۔ بڑے بڑے کھیتوں کو چوڑی پٹیوں میں کاٹ لیا جاتاہے۔ گھاس اگنے والی پٹیاں فصلیں اگانے والی پٹیوں کے درمیان چھوڑ دی جاتی ہیں۔ اس سے ہوا کی تند روانی کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس طریقے کو ’’پٹیوں کی کاشت‘‘ (Strip Cropping) کہتے ہیں۔ حفاظت کے لیے پیڑوں کی قطار لگانا بھی اسی طرح کاکام کرتا ہے۔ اس طرح کی پیڑوں کی قطاریں ’’حفاظتی پٹیاں‘‘(Shelter Belts) کہلاتی ہیں۔ اس طرح کی حفاظتی پٹیوں سے مغربی ہندوستان میںریگ کے تودوں کو ساکن رکھنے اور ریگستان کو بڑھنے سے روکنے میں بہت مدد ملی ہے۔

ہندوستانی ماحول کی حالت

سکھو ماجری گاؤں اورجھبوا ضلع نے یہ ثابت کردیا ہے کہ زمین کی پسماندگی کو ختم کرکے ازسرِنَو اچھی حالت میں بحال کرنا ممکن ہے۔ سکھو ماجری میںپیڑوں کی گنجائش 1976 میں 13 فی ہکٹیئر سے بڑھ کر 1992 میں 1272 ہوگئی۔
ماحول کا احیا معاشی بہتری کی طرف لے جاتا ہے۔ بہتر وسائل کی فراہمی، بہتر زراعت او رجانوروں کی دیکھ بھال کے نتیجہ میں آمدنی بڑھتی ہے۔ سکھوماجری میں اوسط سالانہ گھریلو آمدنی 1979 سے 1984 کے درمیان 10,000 سے 15,000 روپے تھی۔
ہکٹیئر ماحول کے احیا کے لیے لوگوں کو سنبھالنا اور انتظام وانصرام کا ہونا اشد ضروری ہے۔ مدھیہ پردیش میں عوام کوا نتظام سونپنے سے 2.9 ہکٹیئر پر زمین یا1فیصد ہندوستان کا رقبہ واٹر شیڈ انتظام کے تحت ہرا بھرا بنایا جارہا ہے۔
CH  1  5017    15

مشقیں 

گوناگوں انتخاب کے سوالات
(i) ذیل میں دی گئی اقسام میں خام لوہا کس قسم کا وسیلہ ہے؟
(a) قابل تجدید (b) نامیاتی
(c) روانی (d) نا قابلِ تجدید 
(ii) مدّوجزر ذیل میں دی گئی کس وسیلہ کی قِسم میں آتا ہے؟
(a) احیا کے لائق (b) نسان کا بنایا ہوا
(c) غیر نامیاتی (d) جسے دوبارہ قابل استعمال نہ بنایا جاسکے۔
(iii) پنجاب میں ذیل میں دیے گئے اسباب میںسے زمین کی خستہ حالی کا کون سا خاص سبب ہے؟
(a) حد سے زیادہ کاشتکاری (b) ضرورت سے زائد آب پاشی
(c) جنگلات کا صفایا (d) ضرورت سے زائد چرائی
(iv) مندرجہ ذیل ریاستوں میں سے کس ریاست میں سیڑھی نما کھیتوں میںکاشت ہوتی ہے؟
(a) پنجاب (b) اترپردیش کے میدان
(c) ہریانہ (d) اترانچل
(v) ذیل میں دی گئی کس ریاست میں کالی مٹی کثرت سے پائی جاتی ہے؟
(a) جموں وکشمیر (b) مہاراشٹر
(c) راجستھان (d) جھارکھنڈ
ذیل میں دیے گئے سوالات کے جوابات لگ بھگ 30الفاظ میں دیجیے۔
(i) ایسی تین ریاستوں کے نام بتائیں جہاں کالی مٹی ملتی ہے اور اس میں فصل اگائی جاتی ہے۔
(ii) مشرقی ساحل کے دریائی ڈیلٹاؤں میں کس قسم کی مٹی پائی جاتی ہے؟اس قسم کی مٹی کی تین اہم خصوصیات بتائیں۔
(iii) پہاڑی علاقوں میں مٹی کے کٹاؤ کو روکنے کے لیے کیا قدم اٹھائے جاسکتے ہیں؟
(iv) نامیاتی اور غیر نامیاتی وسائل کیا ہیں؟ کچھ مثالیں دیں۔
ذیل کے سوالات کے جوابات لگ بھگ 120الفاظ میں دیں۔
(i) ہندوستان میں زمین کے استعمال کے انداز یا ڈھنگ کی وضاحت کریں اور بتائیں کہ 1960-61 کے بعدسے جنگلات کا رقبہ کیوں نہیں بڑھا؟
(ii) تکنیکی اور معاشی ترقی نے وسائل کے زیادہ استعمال کو کس طرح بڑھایا؟

پروجیکٹ یا عملی کام

اپنے مقامی علاقہ میں وسائل کے صَرف اور تحفظ کو دکھانے کے لیے ایک پروجیکٹ بنائیں۔
آپ کے اسکول میں استعمال ہونے والے وسائل کی حفاظت کس طرح کی جائے۔ اس پر کلاس میں مباحثہ کیجیے۔
تصور کیجیے کہ اگر تیل کی فراہمی ختم ہوجاتی ہے تو یہ ہمارے رہن سہن کے طریقوں کو کس طرح متاثر کرے گی؟
معمہ کا سوال: اس معمہ کو افقی اور عمودی سمتوں میں پوشیدہ الفاظ کو تلاش کرتے ہوئے حل کیجیے ( معمہ انگریزی الفاظ سے بھریں)

S Q P S O T B L A C K
F G N N D G V A B G J
G A R A E H J T Z N G
S F E T I M K E O N K
F F C Q D I M R E S D
O O P X R N E I N Z T
B R R U J E D T M I D
R E S O U R C E F O C
O S L V J A R M T P S
M T D A L L U V I A L
S A M I D S P A S X S
U T I O B A F Z D T E
A I L L N X M T L Y G
P O N A B M H V R J E
J N F L D W R L C H W


CH  1  5017    16
(i) قدرتی عطیات زمین، پانی، نباتات اور معدنیات کی شکل میں۔
(ii) ناقابل تجدید وسیلہ کی ایک قسم۔
(iii) اپنے اندر بڑی مقدار میں پانی روک رکھنے کی استعداد رکھنے والی مٹی۔
(iv) مانسونی آب وہوا کی بہت زیادہ عریانی زدہ مٹی۔
(v) مٹی کا کٹاؤ روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر درخت لگانا۔
(vi) ہندوستان کے عظیم میدان ان مٹیوں سے بنے ہیں۔