Skip to content
Aasri Hindustan Chapter-2

2

جنگل اورجنگلاتی زندگی کےوسائل

(FOREST AND WSILDLIFE RESOURCES)

نرک! میرے خدا! تم لیپچا (Lepchas)کی دنیا میں نغمہ کے خالق ہو

اے نرک!میرے خدا! مجھے خود کو تمہارے لیے وقف کرنے دو

مجھے اس نغمہ کو پانی کے چشموں، دریاؤں، پہاڑوں، جنگلوں، کیڑوں مکوڑوں اور جانوروں سے حاصل کرنے دو

مجھے اپنے نغمہ کو میٹھی ادا یعنی ہو ا میں لینے دو اور اسے اپنے قدموں پر ڈالنے دو

 مآخذ: مغربی بنگال کے شمالی حصّے کا لیپچا لوک گیت

ہم اس سیّارۂ یعنی کرّہ ارض میں دوسرے لاکھوں جانداروں کے ساتھ حصہ دار ہیں۔ معمولی درجہ کے جانداروں اور جراثیم، کائی اور برگدسے لے کر بیکٹریا، لیچپن (Lepchen)، ہاتھیوں اور نیلی ویل مچھلیوں تک۔ یہ تمام باشندے جو یہاں ایک ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں ان میں نمایاں حیاتیاتی فرق پایا جاتا ہے۔ ہم انسان جملہ تمام جانداروں کے بشمول ماحولیاتی نظام کا ایک پیچیدہ جال بنتے ہیں جس کا ہم صرف ایک حصہ ہیں اور اپنے وجود کے لیے اس نظام پر بہت زیادہ منحصر ہیں۔ مثال کے طور پر— پیڑ پودے، جانور اور معمولی جاندار ہوا کے معیار کو بڑھاتے ہیں جس میں ہم سانس لیتے ہیں، پانی جسے ہم پیتے ہیں اور مٹّی جو ہمارے لیے غذا فراہم کرتی ہے جس کے بغیر ہمارا گزارا ممکن نہیں ہے۔ ماحولیاتی نظام میں جنگلات کا کلیدی کردار ہے کیونکہ یہ ان تمام بنیادی اشیا ضرورت پیدا کرتے ہیں جن پر دوسرے تمام جاندار منحصر ہیں۔

جنگلاتی جانداروں اور بنا کر پیدا کی گئی انواع میں حیاتیاتی تنوّع بہت ہے۔ جنگلاتی زندگی یا حیوانات میں جو شکل وشباہت اور عمل میں مختلف ہونے کے باوجودانحصار باہمی کے کثیر جال سے ایک نظام میںباہم مربوط ہے۔

ہندوستان میں نباتات اور حیوانات

اگر آپ اپنے گِردو پیش کو دیکھیں تو آپ پائیں گے کہ آپ کے علاقہ میں کچھ جانور اور پیڑ پودے نمایاں ہیں۔دراصل ہندوستان اپنے حیاتیاتی تنوّع کی وسیع فہرست کے معاملہ میں دنیا کا متموّل ترین ملک ہے۔ دنیا میں جانداروں کی اقسام (Species) کی کل تعداد کا تقریباً 8فیصد یہاں ہے(تخمینہ 1.6ملین)۔ یہ غالباً اب تک کی دریافت کا دوسرا یا تیسرا نمبر ہے۔ آپ نے ہندوستان میں جنگلاتی زندگی کے وسائل اور جنگل کی مختلف اقسام کے بارے میں تفصیل سے مطالعہ کیا ہے۔ غالباً آپ نے ہماری روزمرہ کی زندگی میں ان وسائل کی اہمیت کو ضرور سمجھ لیا۔ یہ مختلف النّوع نباتات اور حیوانات ہماری روزمرّہ کی زندگی سے اس قدر باہم مربوط ہیں کہ بالآخر ہمارے ماحول کو متاثر کرنے کی وجہ سے اس پر بڑا دبائو رہتا ہے۔

سرگرمی 

اپنے علاقہ میں رائج قصے،کہانیوں کو معلوم کریں جو انسانوں اور قدرت کے مابین باہمی تعلق کے بارے میں ہیں۔

بعض تخمینے بتاتے ہیں کہ ہندوستان کی کم ازکم 10فیصد مندرج جنگلاتی نباتات اور اس کے 20فیصد دودھ پلانے والے جانورخطرے کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان میں بہتوں کی درجہ بندی اب ’’تشویش ناک‘‘ کی حیثیت سے کردی گئی ہے جو ناپید ہونے کے کنارے ہیں۔ مثال کے طو رپر —چیتا،گلابی مرغابی، کوہستانی بٹیر، جنگلی اُلّو اور پودے مثلاً Madhuca Insignis (مہوہ کی ایک جنگلی قسم) اور Hubbardia heptaneuron (گھاس کی ایک نوع)۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی کو یہ علم نہیں کہ پہلے ہی کتنی انواع (Species)ختم ہوچکے ہیں۔ آج ہم صرف ان بڑے اور نمایاں جانوروں اور پیڑ پودوں کی بات کرتے ہیں جو ناپید ہوچکی ہیں لیکن چھوٹے جانوروں مثلاً کیڑے مکوڑے اورپودوں کی زندگی کاکیا ہوگا۔

غائب ہوتے جنگلات

ہندوستان میں شجر کُشی کی حالت بہت زیادہ پریشان کُن ہے۔ ملک میں ایک اندازہ کے مطابق جنگل 79.42 ملین ہیکٹیئر کے علاقہ پرپھیلے ہوئے جو کہ کل جغرافیائی علاقہ کا  24.16فیصد ہے۔ (گھنا جنگل 12.2 فیصد، کھلا (Open) جنگل 9.14 فیصد اور چمرنگ 0.14 فیصد)۔ اسٹیٹ آف فاریسٹ رپورٹ کے مطابق (2015) گھنے جنگل کے پھیلاؤ میں2013سے اب تک 37758 مربع کلو میٹر کا اضافہ ہوا ہے۔ تاہم جنگل کے پھیلاؤ میں یہ واضح اضافہ تحفظاتی اقدامات مختلف ایجنسیوں کی مداخلت اور  شجر کاری کی بنا پر ہوا ہے۔

شکل 2.1

CH  2  5017    1

  اب ہمیں موجود نباتات اور حیوانوںکی انواع (Species)کی مختلف اقسام کی درجہ بندی کو سمجھنا چاہیے۔ عالمی تنظیم برائے تحفظِ قدرت اور قدرتی وسائل (International Union for Conservation of Nature and Natural Resources (IUCN)) کی بنیاد پر ہم اس کی مندرجہ ذیل تقسیم کرسکتے ہیں—

عام انواع((Normal Species):

 وہ انواع جن کی آبادی کی سطح کو ان کی بقا کے لیے عام خیال کیا جارہا ہے۔ جیسے مویشی، سال (Sal)، صنوبر (چیڑ)، کُترنے والا جانور (مثلاً چوہا) وغیرہ۔

زیر خطرہ (Endangered Species): 

یہ وہ نوع یا جنس ہیں جن کے ناپید ہوجانے کا خطرہ ہے اگر وہ منفی عوامل جو ان انواع کی آبادی کو روٗبہ زوال کرنے کا سبب ہیں، مستقل فعّال رہیں تو ان کا باقی رہنا مشکل ہے۔ اس قسم کی جنس کی مثال چیتل، جنگلی ہرن، کچھوا، ہندی جنگلی گدھا، گینڈا، سنگائی (منی پوری ہرن)وغیرہ۔

غیر محفوظ جنس یا انواع (Vulnerable Species):

 یہ وہ قسمیں ہیں جس کی آبادی گھٹ چکی ہے۔ مستقبل قریب میں منفی عوامل اگر مستقل کام کرتے رہے تو یہ ایک خطرناک مرحلہ میں پہنچ سکتی ہے۔ اس نوع کی مثال میں نیلی بھیڑ، ایشیائی ہاتھی، گنگا کی ڈولفن مچھلی وغیرہ ہیں۔

کمیاب جنس یا نوع (Rare Species):

چھوٹی آبادی والے جنس خطرناک یا غیر محفوظ مرحلہ میں داخل ہوسکتے ہیں اگر منفی عوامل مستقل طور پر انھیں متاثر کرتے رہے۔ اس قسم میں بطور مثال: ہمالیائی بھوٗرے بھالوٗ، ایشیائی جنگلی سانڈ، صحرائی لومڑی اوربوقرن چڑیاوغیرہ شامل ہیں۔

علاقائی یا مقامی جنس (Endemic Species):

اس قسم کی جنس کچھ مخصوص علاقے میں پائے جاتے ہیں جو عموماً یا قدرتی یا جغرافیائی بندشوں سے کٹے یا الگ تھلگ ہوتے ہیں۔ اس جنس کی مثال میں انڈمانی مُرغابی، نکوبار ی کبوتر، انڈمانی جنگلی سؤر، اروناچل پردیش کا متُھن وغیرہ۔

ناپیدا یا نایاب جنس (Extinct Species): 

یہ جنس وہ ہیں جن کامعلوم علاقے پر پایا جانا متوقع ہے، پر تلاش کرنے پر نہیں ملتے ہیں۔یہ جنس ممکن ہے مقامی علاقے، ملک، برّاعظم یا پورے صفحۂ ہستی یاکرۂ ارض سے ہی ناپیدا ہوگئے ہوں۔ اس جنس کی مثال میں ایشیائی چیتا، گلابی کلغی والی بطخ وغیرہ ہیں۔

ایشیائی چیتا: کہاں چلے گئے یہ؟

زمین پر دودھ پلانے والا دنیا کا سب سے تیز رفتار چیتا (Acinonyx Jubantus) ایک بے مثل حیوان ہے اور بلّی کی 


شکل 2.2: چند ناپید، کمیاب اور زیر خطرہ اقسام

CH  2  5017    2

نسل سے تعلق رکھنے والا ایک مخصوص قسم کا جانور ہے۔ اس کی رفتار فی گھنٹہ 112کلو میٹر ہے۔ چیتا پر عموماً تیندوا (Leopard) ہونے کا غلط گمان گزرتا ہے۔ اس کی امتیازی علامت ناک کے دونوں کنارے پر پھیلی ایک لمبی آنسو کے قطرے کی شکل کی لائنیں ہیں جو اس کی دونوں آنکھوں کے کونے سے گزرتی ہوئی اس کے منہ تک پھیلی ہیں۔ بیسویں صدی سے قبل وسیع پیمانے پر پورے افریقہ اور ایشیا میں پایا جاتا تھا۔ آج ایشیائی چیتا دستیاب علاقے کی کمی اور شکارکی وجہ سے تقریباً ناپیدہوچکا ہے۔بہت سال قبل 1952 میں ہندوستان میں اس جنس (Species) کے ناپید ہونے کا اعلان کردیا گیا تھا۔ 

وہ کیا منفی عوامل ہیں جو نباتات اور حیوانات کے اس قدر خوفناک حد تک خاتمہ کے لیے ذمہ دار ہیں؟

اگر آپ اپنے ارد گرد دیکھیں، تو آپ پائیں گے کہ ہم کس طرح بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر جنگلات اور جنگلاتی زندگی لکڑی، جانوروں کی کھال، پتّے، ربڑ، ادویہ، خضاب، کھانا، ایندھن، چارہ، کھاد وغیرہ کو حاصل کرنے کے لیے بطور وسائل استعمال کررہے ہیں۔ اس لیے جنگلات اور جنگلاتی زندگی میں سخت کمی کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ ہندستان کے جنگلوں کا سب سے بڑا نقصان نو آبادیاتی عہد میں ریلوے کو وسعت دینے، زراعت، کاروباری، سائنسی، جنگل بانی اورکان کُنی کی سرگرمیوں کے سبب ہوا۔ حتی کی آزادی کے بعد مستقل زرعی وسعت بھی جنگلاتی وسائل میں خاتمہ کا ایک اہم ترین سبب ہے۔فاریسٹ سروے آف انڈیا کے مطابق 1951 اور 1980کے درمیان پورے ہندوستان میں جنگل کے 26,200مربع کلو میٹر علاقے کو کاشت کی زمین میں تبدیل کردیا۔ قبائلی علاقے کے ایک بڑے حصہ کوخصوصاً شمال مشرقی اوروسطی ہندوستان میں شجرکُشی کی گئی یا انتقالی زراعت (جھوم) جس میں درخت کاٹ اور جلاکر کھیتی کے لیے زمین حاصل کی جاتی ہے) کے ذریعے وہاں کی زمین کو خستہ حال بنادیا گیا اور اس علاقہ کی اہمیت کو گھٹا دیا گیا۔

کیا جنگلات کے ضمن میں نو آبادیاتی پالیسیوں کو مورد الزام ٹھہرایا جاسکتا ہے؟

ماحولیات کے کچھ سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے بہت سے علاقوں میں چند پسندیدہ نسل کے درخت لگانے کا کام ایک ستم ظریفانہ اصلاح ’’مالا مال کرنے والی شجرکاری‘‘ کے تحت کیا گیا جس میں ایک تجارتی طور پرقیمتی قسم کے پودے تو بڑے پیمانہ پر لگادیے گئے ہیں لیکن دوسری انواع واقسام کو ختم کردیا گیا۔ مثال کے طور پر جنوبی ہندوستان میں صرف ساگوان کے درخت لگانے کی وجہ سے وہاں کے قدرتی جنگلوں کو نقصان پہنچا ہے اور ہمالیہ کے کوہستان میں چیٹر کے درخت اگانے کی بنا پر وہاں کے شاہ بلوط اور پھول دارروڈوڈینڈرون کے جنگلات ختم ہوگئے ہیں۔

بڑے پیمانے پر ترقیاتی پروجیکٹوں نے بھی جنگلات کے خاتمہ میں اہم کردار نبھایا ہے۔ 1951کے بعد سے دریائی وادیوں کے منصوبوں کے لیے 5,000مربع کلو میٹر سے زیادہ جنگلات کا صفایا کیاگیا ہے۔ جنگلات کو ختم  کرنے یا کاٹنے کا عمل تقریباً مختلف پروجیکٹوں مثلاً: مدھیہ پردیش کا نرمدا ساگر پروجیکٹ کے ساتھ ہنوز جاری ہے جو تقریباً 40,000 ایکڑ جنگل پر محیط ہوگا۔ جنگل کو ختم کرنے کے عمل کے ساتھ کان کُنی بھی ایک اہم سبب ہے۔ Buxa Tiger Reserve کو مغربی بنگال میں جاری ڈولومائٹ(ایک قسم کی چٹان) کی کان کُنی سے شدید خطرہ لاحق ہے۔ اس نے بہت سارے انواعِ حیوانی کے قدرتی علاقہ کو درہم برہم کردیاہے اور بہتوں کی آمدورفت (ہجرت) کے راستے بشمول دیوقامت ہندی ہاتھی کو مسدوٗد کردیا ہے۔ 

بہت سارے منتظمینِ جنگلات اور ماحولیات کے سرگرم کارکنوں کا خیال ہے کہ جنگلاتی وسائل کے خاتمہ میں کمی کے پیچھے کارفرما زبردست منفی عوامل میں چارہ اور ایندھن کی لکڑی کا استعمال ہے۔ ممکن ہے ان کے دلائل میں چند حقائق مضمر ہوں۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلّم ہے کہ چارہ اور ایندھن کی مانگ کا ایک معتد بہ حصہ مکمل پیڑ کو کاٹ کر گرانے کے بجائے اس کی شاخوں اور ڈالیوں سے پورا ہوجاتا ہے۔ جنگل کا ماحولیاتی نظام ملک کی متعدد گراں قدر جنگلاتی اشیا، جیسے پینے کا پانی اوردوسرے وسائل جو تیزی سے پھیلتی صنعتی شہری معیشت کو پورا کرتے ہیں، کے لیے رکھنے کی محفوظ جگہ ہے۔ اس طرح یہ محفوظ علاقے مختلف لوگوں کے لیے مختلف معنی رکھتے ہیں اور اختلاف کے لیے ہموار زمین فراہم ہوتی ہے۔

مشکلوں میں گھرا ہمالیائی ایٗو

(ایک سدا بہار صنوبری درخت) ہمالیائی ایٗو(Taxus Wallachiana) ہماچل پردیش اور اروناچل پردیش کے مختلف حصوں میں پایا جانے والاادویاتی پیڑ ہے۔چھال، ٹہنیوں اور اس درخت کی جڑوں سے کشید کیا ہوا ایک کیمیائی مرکّب ہے جو Taxolکہلاتا ہے۔ اسے کچھ قسم کے کینسروں کے علاج کے لیے ایک مفید دوا کے بطور استعمال کیا جاچکا ہے۔ جو آج پوری دنیا میں کینسر مخالف دوا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوا ہے۔ کثرتِ استحصال (ضرورت سے زیادہ استعمال) کی بنا پر اس اس کو زبردست خطرہ لاحق ہے۔ پچھلے ایک دہائی میں ہماچل پردیش اور اروناچل پردیش کے مختلف حصوں میں ہزاروں ایٗو درخت سوکھ چکے ہیں۔

جانوروں کے قدرتی رہائشی علاقے کی بربادی، جائز اور ناجائز شکار، ناجائز استعمال ، ماحولیاتی آلودگی، زہردینا اور جنگل میں آگ زنی ایسے عناصر ہیں جو ہندوستان کی حیاتیاتی تنوع کو روبہ زوال کرنے کی قیادت کی ہے۔ ماحولیاتی بربادی کی دوسرے اہم وجوہات غیر مساویانہ سہولیات، وسائل کا غیرمنصفانہ تصرف اورماحولیاتی فلاح وبہبود کے لیے گوناگوں ذمہ داری کا متحمل ہونا وغیرہ ہیں۔ تیسری دنیا میں آبادی کی کثرت کو اکثر وبیشتر ماحولیاتی انحطاط کا سبب بتایا جاتا ہے۔ تاہم ایک اوسط امریکی ایک اوسط سومالی باشندے سے 40گنا زیادہ چیزوں کا استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح ہندوستانی سماج کا پانچ فیصد طبقۂ امرا غالباً زیادہ ماحولیاتی بربادی کا ارتکاب کرتاہے۔ کیوں کہ وہ 25فیصد غربا کے مقابلہ زیادہ رقم خرچ کرتا ہے۔ اول الذکر ماحولیاتی فلاح وبہبود کے لیے اپنے آپ کو بہت کم ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کون کیا، کہاں سے اورکتنا صرف کررہا ہے؟

کیا آپ جانتے ہیں؟

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہندوستان کے نصف قدرتی جنگلات کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ اس کا ایک تہائی ترائی کا علاقہ سوکھ چکا ہے۔ ہموار زمین پردستیاب پانی کا 70فیصدی حصہ آلودہ ہے۔ اس کے 40فیصد چمرنگ مٹ چکے ہیں اور مسلسل صیدوشکار،جنگلی حیوانوں اور کاروباری نقطۂ نظر سے قیمتی پودوں کی تجارت کی وجہ سے ہزاروں انواعِ حیاتیاتی اور نباتاتی خاتمہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

سرگرمی 

کیا آپ نے کسی ایسی سرگرمی کو محسوس کیا جو آپ کے ارد گرد حیاتیاتی تنوع کے نقصان کا باعث ہو؟ اس پر ایک نوٹ لکھیے اور اس سے بچنے کی چند تدابیر بھی تجویز کیجیے۔

جنگلات اور جنگلاتی زندگی کی تباہی صرف ایک حیاتیاتی مسئلہ نہیں ہے۔ حیاتیاتی نقصان، ثقافتی تنوع کے نقصان سے باہم مربوط ہے۔ ایسے مضرات بتدریج بہت ساری ملکی اور دوسری جنگل پر مبنی کمیونٹی کو ختم کردیتے ہیں جو کھانا، پانی، دوا، کلچر اور روحانیت وغیرہ کے لیے براہ راست جنگل اور جنگلاتی زندگی کے مختلف لوازمات پر منحصر ہیں۔ بہت سے معاشروں میں کمزور طبقہ کے مردوں کے بالمقابل خواتین اس سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ بہت سے سماجوں میں عورتیں ایندھن، چارہ، پانی اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کو حاصل کرنے کی اہم ذمہ داری اٹھاتی ہیں۔ یہ وسائل جتنی تیزی سے ختم ہورہے ہیں عورتوں کی چاکری میں اتنا ہی اضافہ ہورہا ہے۔ بسا اوقات انھیں ان وسائل کو حاصل کرنے کے لیے 10کلو میٹر سے بھی زیادہ پیدل چلنا پڑتا ہے۔

قبائلی لڑکیاں وادی خاموش کے نزدیک مکھائی کے مقام پر بانس کی پودے نرسری میں لگا رہی ہیں۔

عورتیں پتیوں کا کوڑا کرکٹ اکٹھا کرتے ہوئے۔

قبائلی عورتیں جنگل کی چھوٹی موٹی پیداوار فروخت کر رہی ہیں۔


CH  2  5017    3

 اس قدر بڑھے ہوئے کام کی کثرت کی وجہ سے یہ چیزیں عورتوں کے لیے زبردست صحت کے مسائل، گھر اور بچوں سے پہلو تہی کا سبب بنتی ہیں جو عموماً زبردست سماجی الجھاؤ پیدا کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ یہ انحطاط مثلاً بھیانک قحط یا جنگل کے تباہی کے موجب سیلاب وغیرہ کا بالواسطہ اثر غریبوں اور ناداروں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اس صورت حال میں غربت ماحولیاتی تباہی کا ایک بلاواسطہ نتیجہ ہے۔ لہٰذا جنگل اور جنگلاتی زندگی اس براعظم میں معیارزندگی اور ماحولیات کے لیے ناگزیر اہمیت کا حامل ہے۔ اشد ضرورت ہے کہ جنگل اور جنگلاتی زندگی کو محفوظ رکھنے کی تدابیر اختیارکی جائیں۔

ہندوستان میں جنگل اور جنگلاتی زندگی کا تحفظ

جنگل بانی اور جنگلاتی زندگی کی آبادی میں تیزی سے گراوٹ کے تناظر میں تحفظ ناگزیر ہوگیا ہے۔ لیکن ہمارے لیے اپنے جنگلات اور جنگلاتی زندگی کا تحفظ کیوں ـ ضروری ہے؟ تحفظ ماحولیاتی تنوع اور ہماری زندگی کے معاون نظام مثلاً پانی، ہوا اور مٹی وغیرہ کو محفوظ رکھتا ہے۔ حیاتیاتی اقسام کی بہتر نشو ونما اور تولید (Breeding) کے لیے یہ نباتات اور جانوروں کی تناسلی تنوع کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر کاشتکاری میں ہم ابھی تک فصل کی روایتی اقسام پر منحصر ہیں۔ ماہی گیری میں بھی ہمارا انحصار بیشتر آبی حیاتی تنوع کی دیکھ ریکھ پر ہوتا ہے۔

1960اور 1970کی دہائی میں ماہر تحفظات نے جنگلاتی زندگی کے بچائو کے لیے ایک قومی پروگرام کا مطالبہ کیاتھا۔جانوروں کے لیے قدرتی علاقے کو محفوظ کرنے کے مختلف طریقوں کے ساتھ1972میں انڈین وائلڈ لائف (تحفظ) ایکٹ کا نفاذ عمل میں آیا۔ محفوظ کردہ انواع حیاتیاتی کی ایک کُل ہند فہرست شائع کی گئی۔ اس پروگرام کا مقصد شکار پر پابندی، جانوروں کے قدرتی علاقے کو قانونی تحفظ فراہم کرنے اور جنگلاتی زندگی میں کاروبار پر پابندی کے ذریعہ ایسی بقیہ انواع حیاتیاتی اور نباتاتی آبادی کو محفوظ کرنا تھا جن کو خطرہ لاحق تھا۔ نتیجہ کے طو رپر مرکزی کی پناہ گاہیں اور ریاستی حکومتوں نے قومی باغات اور جنگلاتی زندگی (Wildlife Sancthuaries) قائم کیں، جس کا مطالعہ آپ پہلے ہی کرچکے ہیں۔مرکزی حکومت نے چند مخصوص جانوروں کے تحفظ کے لیے متعدد پروجیکٹ کا اعلان بھی کیا، جنھیں سخت خطرہ لاحق تھا۔ ان میں شیر، یک سنگھا گینڈا، کشمیری ہرن یاHangul، تین قسم کے مگر مچھ—تازہ پانی میںرہنے والا مگر مچھ، کھارے پانی کا مگرمچھ اور گھڑیال، ایشیائی شیر وغیرہ۔ ابھی حال ہی میں ہندوستانی ہاتھی، کالے ہرن (Chinkara)، ہندوستانی حُباری (Godawan) اور برف میں رہنے والے تیندوے وغیرہ کو پورے ملک میں مکمل یا جُزوی قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ اور ان کے شکار اور  تجارت کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

پروجیکٹ ٹائیگر

حیوانی دائرہ میں شیر جنگلاتی انواع حیوانی کا ایک اہم ترین جانور ہے۔ 1973 میں حکام نے اس حقیقت کو بخوبی سمجھ لیا۔ شیر کی آبادی اس صدی کے خاتمہ تک اندازاً55,000سے گھٹ سے 1,827رہ جائے گی۔ شیر کی آبادی کو لاحق اہم خطرات مختلف قسم کے ہیں۔مثال کے طور پر کاروباری غرض سے شکار کرنا، جانوروں کے قدرتی علاقے کا محدود ہوتے جانا، شکار پر مبنی انواع حیوانی کا خاتمہ، انسانی آبادی میں اضافہ وغیرہ۔ شیرکی کھال کی تجارت اور خاص طور پر ایشیائی ممالک میں روایتی دوائوں میں ان کی ہڈی کے استعمال نے شیر کی آبادی کو خاتمہ کے دہانے پر لاچھوڑا ہے۔ ہندوستان اور نیپال چوں کہ دنیا میں بس رہے شیر کی دوتہائی آبادی کو قدرتی رہائشی علاقہ فراہم کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ دونوں ممالک ناجائز طو رپر شکار کرنے اور غیر قانونی کاروبارکے لیے اہم ہدف بن گئے ہیں۔

پروجیکٹ ٹائیگر (Project Tiger)کا قیام 1973 میں عمل میں آیاجو دنیا کے اچھے تشہیر کردہ پراجیکٹوں میں سے ایک تھا۔ تحفظیا تحفیظِ شیر کو نہ صرف باکس میں گھرے انواع حیوانی کو محفوظ رکھنے کی ایک کوشش سمجھا گیا بلکہ اسے قابل ذکر وسیع حیاتیاتی اقسام کو محفوظ رکھنے کی حیثیت سے یکساں طور پر اہم خیال کیا گیا۔اترا کھنڈ کاکاربٹ قومی پارک،مغربی بنگال کا سندر بن قومی پارک، مدھیہ پردیش کا بندھو گڑھ قومی پارک، راجستھان کی سر سکا جنگلی جانوروں کی پناہ گاہ، آسام کا مانس ٹائیگر ریزرو اور کیرل میں واقع پیریّار ٹائیگر ریزرو وغیرہ ہندوستان میں شیروں کے لیے چند محفوظ مقامات ہیں۔


شکل 2.4: کازی رنگا قومی پارک میں گینڈا اور ہرن۔

CH  2  5017    4

پروجیکٹ برائے تحفظ اب حیاتیاتی تنوع کے چند اجزا پر روشنی ڈالنے کے بجائے حیاتیاتی تنوع کا مکمل احاطہ کررہا ہے۔حفاظتی تدابیر کے لیے اب زیادہ موثر تلاش وتحقیق موجود ہے، کیڑے مکوڑے بتدریج منصوبہ برائے تحفظ میں جگہ پانے لگے ہیں۔ 1980اور 1986 کے وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت ایک اعلان نامے کے مطابق سیکڑوں تتلیوں، پتنگے، بھنورے اور ایک کابلی مکھی کو محفوظ انواع کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ 1991 میں پہلی مرتبہ نباتات کو شاملِ فہرست کیا گیا جس کی ابتدا چھ انواع سے ہوتی ہے۔

سرگرمی 

جنگلاتی جانداروں کے محفوظ مقامات اور ہندوستان کے قومی پارک پر مزید معلومات اکٹھا کیجیے اور ہندوستان کے نقشے پر ان کے محلِ وقوع کی نشاندہی کیجیے۔

جنگلات کی قسمیں اور جنگلاتی زندگی کے وسائل

اگر ہم اپنے وسیع جنگل اور جنگلاتی زندگی کے وسائل کو محفوظ کرنا چاہیں تو ان کی دیکھ بھال، ان پر قابو رکھنا اور انھیں باقاعدہ طو رپر چلانا قدرے مشکل کام ہے۔ ہندوستان کے بیشتر جنگل اور جنگلاتی زندگی کے وسائل یا تو نجی ملکیت ہیں یا انھیں حکومت شعبۂ جنگلات کی مدد سے یا دوسرے سرکاری شعبے چلاتے ہیں۔ انھیں مندرجہ ذیل درجوںمیں منقسم کیا جاتا ہے۔

(i) مخصوص کردہ جنگلات (Reserved Forests):

 کل جنگلاتی زمین کے نصف سے زائد حصے کو مخصوص جنگلات کا درجہ دیا گیا ہے۔ جہاں تک جنگل کے تحفظ اور جنگلاتی زندگی کے وسائل کا تعلق ہے تو مخصوص جنگلات کو نہایت گراں قدر خیال کیا جاتا ہے۔

(ii) محفوظ کردہ جنگلات (Protected Forests):

 محکمۂ جنگلات (فاریسٹ ڈپارٹمنٹ) نے تقریباً کل جنگل کے ایک تہائی علاقے کو محفوظ جنگلات کی حیثیت دی ہے۔ جنگل کی اس زمین کو مزید کسی نقصان یا ناپیدگی سے محفوظ کر لیا گیاہے۔

(iii) غیردرجہ بند جنگلات (Unclassed Forests) :

یہ وہ جنگلات او راراضی ہیں جن کا تعلق بیک وقت نجی افراد، سماج اور حکومت سے ہے۔

مخصوص اور محفوظ جنگلات کو مستقل جنگلاتی جائداد کی حیثیت سے بھی جاناجاتا ہے جو عمارتی لکڑی(Timber)اور جنگل کی دیگر اشیا کے حاصل کرنے میںکام آتے ہیں اور جن کا استعمال حفاظتی مقصد سے بھی کیا جاتا ہے۔ مستقل جنگلات کے تحت مدھیہ پردیش کے پاس سب سے بڑا علاقہ ہے جو جنگل کے مجموعی علاقے کے 75فیصد پر مشتمل ہے۔ جموں اور کشمیر، آندھرا پردیش، اترانچل، کیرل، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور مدھیہ پردیش کے پاس اس کے مجموعی جنگلاتی حصے کا ایک بڑا علاقہ مخصوص جنگلات کا ہے، جب کہ بہار، ہریانہ، پنجاب، ہماچل پردیش، اڑیسہ اورراجستھان کا ایک خاطر خواہ علاقہ محفوظ جنگلات کے زمرے میں آتا ہے۔شمالی ہندوستان کی ساری ریاستوں اور گجرات کے بعض حصوں کے پاس اپنے جنگلات کا ایک بڑا فیصد غیر درجہ بندجنگلات  ہیں جن کا انتظام وانصرام مقامی لوگوں کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔


گھڑیال موت کے دہانے پر

کیا آپ مندرجہ بالا مسائل کی وجوہات بتا سکتے ہیں؟

CH  2  5017    5

کمیونٹی اور تحفظ

تحفظ کی تدابیر اپنے ملک میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ ہندوستان میں جنگلات بعض روایتی قسم کے فرقوں کا سرکاری مسکن بھی ہے۔ہندوستان کے بعض علاقوں میں مقامی باشندے حکومتی حکام کے ساتھ مل کر ان قدرتی علاقوں کے تحفظ کے لیے کوشاں رہتے ہیں کیوں کہ انھیں پتہ ہے کہ صرف یہی ان کے ذریعہ معاش کا تحفظ کرسکتا ہے۔ سرسکا ٹائیگر ریزرو( راجستھان) میں گاؤں والوں نے وائلڈ لائف پروٹکشن ایکٹ کے ذریعہ کان کُنی کی نشاندہی کے خلاف صف آرائی کی۔ بہت سارے علاقوں میں گاؤں کے باشندے، بذاتِ خود قدرتی علاقوں کا تحفظ کرتے ہیں اورحکومت کی دخل اندازی کو واضح طور پر قبول نہیں کرتے۔ راجستھان کے ضلع الور پانچ گاؤں کے باشندوں نے 1,200 ہکٹیئر جنگل کو بھیرودیو دا کو Sonchuri کے نام سے وقف کررکھا ہے جہاں کا نظم وقانون خود ان کا ہے جس کے مطابق شکار کی اجازت نہیں ہے اور کسی بھی بیرونی مداخلت کے خلاف جنگلاتی زندگی کو تحفظ حاصل ہے۔

مقدس درختوں کے جھنڈ —متنوع اور کمیاب انواع کا ایک خزانہ

فطرت کی عبادت کرناقدیم ترین قبائلی عقیدہ ہے جو اس مفروضہ پر مبنی ہے کہ قدرت کی تمام مخلوقات کی حفاظت کی جانی چاہیے۔ اس قسم کے عقائد نے بہت سے غیر مستعمل جنگلات کو قدیم طرز پر محفوظ کیا ہے۔ جو مقدس بن دیوی دیوتا کہلاتے ہیں۔ جنگل کے ان حصوں یا بڑے جنگلات کو مقامی آبادی نے چھوا تک نہیں ہے۔ ان کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑممنوع ہے۔

چندمخصوص سماجوں میں چند خاص قسموں کے پیڑوں کا احترام کیا جاتا ہے جنھیں لوگوں نے نہ معلوم کب سے محفوظ کررکھا ہے۔ چھوٹا ناگپور علاقے کا مُنڈا اور سنتھال طبقہ مہوا اور کدم کے پیڑ کی پوجا کرتے ہیں۔ اڑیسہ اور بہار کے آدی باسی ا ملی اور شادی بیاہ کے موقعوں پر آم کے پیڑوں کی پرستش کرتے ہیں۔ ہم میں سے بہت سارے لوگ پیپل اور برگد کے درختو ںکو متبرک سمجھتے ہیں۔

ہندوستانی سماج گوناگوں تہذیب کا مرکب ہے جن میں سے ہرایک کے پاس قدرت اور اس کی مخلوقات کے تحفظ کے اپنے  جداگانہ روایتی طریقے ہیں۔ اکثرچشموں، پہاڑی بوٹیوں، نباتات اور جانوروں کو مقدس اور متبرک مانا جاتا ہے جنھیں پورا تحفظ فراہم کیا گیاہے۔ آپ بہت سارے مندروں کے گردو نواح میں بندروں اور لنگوروں کی فوجیں پائیں گے۔ انھیں روزانہ غذا فراہم کی جاتی ہے اور انھیں مندر کے پرستاروں کا ایک جز سمجھا جاتا ہے۔ راجستھان کے بشنوئی گائوں کے قُرب وجوار میں کالے ہرنوں کے گروہ، نیل گائے اورمور وغیرہ کو سماج کے اٹوٹ جز کی حیثیت سے دیکھا جاسکتا ہے اور انھیں کوئی زک نہیں پہنچا سکتا۔

سرگرمی 

کسی ایسے عملی قدم پر ایک مختصر مضمون تحریر کیجیے جس کا آپ نے بغورمشاہدہ کیا ہو اور جس پر اپنی روز مرہ کی زندگی میں عمل کیا ہو۔ جو آپ کے گرد ماحولیات کو باقی اور محفوظ رکھتا ہو۔

ہمالیائی علاقوں میں مقبول چپکو (Chipko)تحریک نے نہ صرف کامیابی سے مختلف علاقوں میں جنگل کو کاٹ کر ختم کیے جانے کے خلاف مزاحمت کی بلکہ یہ بھی کردکھایا ہے کہ مختلف دیسی انواع کی شجرکاری بڑی کامیاب رہی ہے۔ بچاؤ کے روایتی طور طریقوں کو زندہ کرنے کی کوشش یا ماحولیاتی کاشت کے نئے طریقوں کو ترقی دینے کا عمل اب تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ٹہری (Tehri) میں کسانوں اور شہریوں کی جماعت مثلاً: بیج بچاؤ تحریک اور نودانیا (Navdanya) نے یہ ثابت کردیا کہ مصنوعی کیمیاوی مادہ کے استعمال کے بغیر متنوع فصلوں کی پیداوارکا ایک خاطر خواہ معیار ممکن ہے جس میں کاروباری طورپر زندہ رہ پانے کی صلاحیت بھی ہے۔

ہندوستان میں جوائنٹ فاریسٹ مینجمنٹ یعنی جنگلات کا مشترکہ انتظام (JFM) پروگرام زوال یافتہ جنگلوں کی باز آوری اور ان کے انتظام وانصرام میں مقامی طبقوں کو مصروف کرنے کی عمدہ مثال پیش کرتا ہے۔ 1988 سے اس پروگرام کا عملی نفاذ ہوچکا ہے جب کہ ریاست اڑیسہ نے جوائنٹ فاریسٹ مینجمنٹ کی پہلی قرارداد کو منظوری دی ہے۔ JFMکا انحصار مقامی (گائوں) سطح پر اداروں کے قیام اور تشکیل پر ہے جو زیادہ تر خستہ حال جنگلوں کو فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ چلائے گئے تحفظاتی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ بدلے میں ان طبقوں کے لوگوں کو فوائد کا حق دیا گیا ہے۔ یہ فوائد مثال کے طور پرعمارتی لکڑی کے علاوہ دیگر جنگلاتی اشیا اور کامیاب تحفظ کی وجہ سے ٹمبر کی کھیتی میں حصہ داری وغیرہ  ہیں۔

ماحولیاتی بربادی اور ہندوستان میں اس کی دوبارہ تعمیر— ان دونوں اثر آفریں پہلوؤں سے یہ واضح سبق ملتا ہے کہ مقامی طبقوں کو ہر جگہ قدرتی وسائل کے نظم ونسق جیسی سرگرمی میں ضرور مصروف کیا جانا چاہیے۔ لیکن ہنوز فیصلہ سازی میں مقامی طبقوں کو مرکزی حیثیت دینے سے پہلے ایک لمبی مسافت طے کرنی ہے۔صرف ان معاشی اور ترقیاتی سرگرمیوں کی ذمہ داری لیجیے جو عوام پر مرکوز، ماحولیاتی دوست اور معاشی طورپر نفع بخش ہیں۔

’’درخت لامحدود مہربانیوں اور فیض رسانی کا ایک انوکھاوجود ہے جو اپنی زندگی کے لیے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتا۔ یہ اپنی سرگرمیِ حیات کی پیداوار کو فیاضانہ وسعت دیتا ہے۔ یہ تمام جانداروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے، حتی کہ اس لکڑہارے کوبھی سایہ دیتا ہے جو اسے کاٹ ڈالتا ہے۔‘‘

گوتم بدھ (ق۔م487)   


مشقیں 

کثیر اختیاراتی سوالات

(i) قدرتی نباتات اور حیوانات کے خاتمہ کے لیے مندرجہ ذیل میں سے کون سی وجہ غیرمعقول ہے؟

(a) زراعتی توسیع

(b) بڑے پیمانہ کے ترقیاتی منصوبے

(c) چرانا اور ایندھن کی لکڑی اکٹھا کرنا

(d) تیزی سے بڑھتی صنعت کاری اور شہر کاری

(ii) مندرجہ ذیل تحفظاتی تدابیر میں سے براہ راست کس میں کمیونٹی کا عمل دخل نہیں ہے؟

(a) جنگلات کا مشترکہ انتظام (b) بیج بچاؤ تحریک

(c) چپکوتحریک (d) جنگلی جانوروں کی پناہ گاہ  کی حد بندی

مندرجہ ذیل جانوروں کو ان کے وجود کے زمرے کے حساب سے باہم مربوط کیجیے۔

حیوانات وجودیاتی سطح
کالا ہرن
ایشیائی ہاتھی
انڈمانی جنگلی سور
ہمالیائی بھورا بھالو
گلابی کلغی والا بطخ
ناپید
کمیاب
خطرہ میں محصور 
غیر محفوظ
علاقائی بیماری


مندرجہ ذیل کو باہم ایک دوسرے سے ملائیے۔

مخصوص جنگلات 
محفوظ جنگلات
غیر درجہ بند جنگلات
یہ وہ جنگلات اور آراضی ہیں جن کاتعلق بیک وقت نجی افراد، سماج اور حکومت سے ہے۔ 
جہاں تک جنگل کے تحفظ اور جنگلاتی زندگی کے وسائل کا تعلق ہے تو مخصوص جنگلات کو نہایت گراں قدر خیال کیا جاتا ہے۔
جنگل کی اس زمین کو مزید کسی نقصان سے محفوظ محفوظ کر لیا گیا ہے۔


مندرجہ ذیل سوالات کا جواب 30لفظوں میں تحریر کیجیے؟

(i) حیاتیاتی تنوع کیا ہے؟ انسانی زندگی میں حیاتیاتی تنوع کی اہمیت کیا ہے؟

(ii) انسانی سرگرمیوں نے قدرتی نباتات اور جنگلی حیوانات کے خاتمہ کو کس طرح متاثر کیا ہے؟

120لفظوں میں مندرجہ ذیل سوالوں کا جواب لکھیے۔

(i) بتائیے کس طرح ہندوستان میں مختلف طبقوں نے جنگلوں اور جنگلاتی زندگی کو باقی رکھا ہے اور اسے محفوظ کیا ہے؟

(ii) جنگل اور جنگلاتی زندگی کو محفوظ کرنے کی چند عملی کوششوں پر ایک نوٹ لکھیے۔