Skip to content
Aasri Hindustan Chapter-3

3

آبی وسائل

(WATER  RESOURCES)

CH  3  5017    1

ارے پنکی! کیا تم نے اڈیشہ کے سیلاب کے بارے میں ٹیوی پر وہ ڈراونی رپورٹ دیکھی؟ بخدا اس نے دہشت پیدا کردیہے۔ اس نے تو اپنی راہ میں آنے والی ہر چیز کو تباہ کر دیا ہے اور بہا کر لے گیا ہے۔

ہاں چنٹو! میں نے وہ رپورٹ دیکھی ہے ریکھا۔ یہ کیا حیرت کی بات نہییں کہ پانی زندگی دے بھی سکتا ہے اور اسی طرح زنسگی لے بھی سکتا ہے؟ ہم پانی کے بغیر کیسے رہ پائیں گے؟ ہمیں ہینے کے لیے، کھانا پکانے کے لیے، کپڑے دھونے کے لیے اور اپنی صفائی کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرے والد مجھے بتا رہے تھے کہ ان کی فیکٹری میں لوگوں کو مختلف کاموں کے لیے بڑی مقدار میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیا تمہیں معلوم تھا کہ انہیں مشینیں ٹھنڈا کرنے کے لیے بھی پانی کی ضرورت ہوتی ہے؟ در اصل یہ فیکٹری پن بجلی کے پلانٹ ( Hydle Power plant ) کے ذریعہ سپلائی کیے گیے پانی سے چلتی ہے ۔ اب میں یہ سمجھ سکتی ہوں کہ ہم انسانوں نے صدیوں تک ندیوں اور دوسرے پانی کے ذرائع، مثلاً جھرنوں، تالابوں اور نخلستانوں کے کناروں کو بسنے کے لیے کیوں چنا۔


آپ بخوبی جانتے ہیں کہ زمین کی تین چوتھائی سطح پانی سے ڈھکی ہوئی ہے، لیکن اس کا تھوڑا حصہ ہی استعمال کرنے کے لائق میٹھا پانی ہے۔ یہ میٹھا پانی بیشتر سطح پر بہتے پانی یا زمیں دوز پانی کی شکل میں دستیاب ہے اور مسلسل آبیاتی دور (Hydrological Cycle)کے ذریعہ تازہ اور شفاف ہوتا رہتا ہے۔ تمام آبی وسائل اسی آبیاتی دور سے ہوکر گزرتے ہیں۔ چنانچہ اسی سبب پانی تجدید ہونے والے وسائل کے زمرے آتاہے۔

آپ کو حیرت ہوسکتی ہے کہ اگر دنیا کی تین چوتھائی سطح پانی سے ڈھکی ہوئی ہے اور پانی ایک قابل تجدید چیز ہے، توپھر ایسا کیوں ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک اور علاقے پانی کی کمی سے دوچار ہیں؟ پھر ایسی پیشین گوئی کیوں کی گئی ہے کہ 2025 تک تقریباً دو ارب آبادی پوری طرح سے پانی کی کمی کا شکار ہوگی؟

پانی کی کمی اور پانی کے تحفظ اور انتظام کی ضرورت

پانی کی بہتات اورقابل تجدید ہونے کی صورت میں یہ مشکل معلوم ہوتا ہے کہ ہم پانی کی کمی سے دوچار ہوں گے۔ ہم جب بھی پانی کی کمی کی بات کرتے ہیں تو فوری طو رپر اسے ان علاقوں سے جوڑتے ہیں۔ جہاں بارش کم ہوتی ہے یا جو علاقے خشک سالی سے دوچار ہوتے رہتے ہیں۔ فی الفور ہمارے تصور میں راجستھان کے ریگستان کی شکل گھومنے لگتی ہے، جہاں عورتیں اپنے سر پر کئی مٹکے چابکدستی سے رکھتے ہوئے پانی کے حصول کے لیے سفر طے کرتی ہیں۔ یہ درست ہے، لیکن آبی وسائل کی دستیابی میں وقت اور مقام کے ساتھ فرق آتا ہے، جو خاص طور سے موسم میں تبدیلی اور سالانہ بارش کی وجہ سے متاثر ہوتا ہے۔ لیکن پانی کی کمی زیادہ تر بے جا اور ضرورت سے زیادہ استعمال اور سماج کے مختلف طبقوں میں غیر منصفانہ تقسیم کے سبب ہوتی ہے۔

پھر پانی کی کمی ہونے کا امکان کہاں ہے؟ جیساکہ آپ نے آبیاتی دور کے متعلق پڑھا ہے کہ میٹھا پانی راست طور پرترسیب (Precipitation)، سطح پر بہتے ہوئے اور زمیں دوز پانی سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی علاقہ یا خطہ آبی وسائل کے بہتات کے باوجود پانی کی کمی سے دوچار ہوسکتا ہے؟ ہمارے کئی شہر اس کی مثال ہیں۔ اس لیے پانی کی کمی ممکنہ طور پر روز افزوں آبادی اور اس کے نتیجہ میں بڑھتی مانگ اس کی غیر مساویانہ دسترس کا نتیجہ ہے۔ بڑی آبادی کو گھریلو ضرورتوں کے ساتھ ساتھ زیادہ غذا کی پیداوارکے لیے بھی زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ، زیادہ اناج کی پیداوار کے لیے آبی وسائل کا افراطی طورپر استعمال کیاجاتا ہے ۔ اس وقت زراعت کے میدان میں ایسے انقلاب کی ضرورت ہے جہاں پر خشک مزاحم فصلیں وجود میں لائی جا سکیں اور خشک زراعتی تکنیک کا استعمال کیا جا سکے۔ آپ نے متعدد ٹیلی ویژن اشتہاروں میں دیکھا ہوگا کہ بیشتر کسانوں کے پاس اپناکنواں یا ٹیب ویل ہوتا ہے، جس سے وہ اپنے کھیتوں کی سنچائی کرتے ہیں، تاکہ ان کی پیداوار بڑھے، لیکن کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ اس کاانجام کیا ہوگا؟ اس سے زمیں دوز پانی کی سطح گر سکتی ہے، جو پانی کی دستیابی اور غذائی تحفظ کو منفی طو رپر متاثر کرسکتی ہے۔

CH  3  5017    2

شکل 3.1: پانی کی کمی


ہر جگہ پانی پانی، لیکن پینے کو قطرہ بھی میسر نہیں : شدید بارش کے بعد کلکتہ میں ایک لڑکا پینے کا پانی جمع کر رہا ہے۔ پوری رات مسلسل بارش کے سبب اس سے ملحقہ اضلاع میں بھی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ یہ بارش ریکارڈ 180 ملی میٹر تک ہوئی اور وسیع علاقہ میں سیلاب آگیا اور ٹریفک زندگی پوری طرح متاثر ہوگئی۔

کشمیر کے زلزلہ سے محفوظ رہ گئی ایک خاتون ، تباہ شدہ برف سے ڈھکے گاوں میں پانی لے جاتے ہوئے۔


آزادی کے بعد ہندوستان میںمحدود مگر زور دار صنعت کاری اور شہر کاری (Urbanisation) ہوئی ہے، جس نے ہمارے لیے وسیع مواقع فراہم کیے ہیں۔ آج بڑے صنعتی گھرانے کثیر الممالک کمپنیوں (MNCs) کی طرح عام ہیں۔ صنعتوں کی تعداد میں اس روز افزوں اضافہ کے سبب موجود میٹھے آبی وسائل پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ صنعتوں کو بڑی مقدار میں پانی کے استعمال کے علاوہ، انھیں چلانے کے لیے توانائی کی ضرورت بھی درپیش رہتی ہے۔ اس توانائی کا بیشتر حصہ پانی کی قوت سے پیدا کی جانے والی بجلی سے حاصل ہوتا ہے۔ آج ہندوستان میںکل توانائی کا تقریباً 22 فیصد حصہ ہائڈوالیکٹرک پاور سے ملتا ہے۔ ساتھ ہی بڑی اور گھنی آبادیوں والے شہری مقامات کی تیزی سے بڑھتی تعداد اور شہری طرز ِ زندگی نے نہ صرف پانی اور توانائی کی مانگ کو بڑھایا ہے، بلکہ اس مشکل کو کافی پیچیدہ بنادیا ہے۔ اگر آپ شہروں کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور کالونیوں پر نگاہ ڈالیں، تو آپ پائیں گے کہ ان میں بیشتر کے پاس اپنی گراؤنڈ واٹر پمپنگ مشینیں ہوتی ہیں، جن سے وہ اپنی ضرورت پوری کرسکیں۔ تعجب کی بات نہیں ہے کہ ہم پاتے ہیں کہ کمزور آبی وسائل کابھی افراط سے استعمال کیا جارہا ہے، جس سے ان شہروں میں پانی کی سخت کمی کی صورت حال پیداہوگئی ہے۔

ابھی تک ہم نے پانی کی کمی کے مقداری (Quantitative) پہلو پر توجہ دی ہے۔ اب ہمیں دوسری صورت حال کا بھی جائزہ لینا چاہیے جہاں لوگوں کی ضروریات کو پوری کرنے کے لیے پانی وافر مقدار میں دستیاب ہے، لیکن لوگ پھر بھی پانی کی کمی سے دوچار ہیں۔ یہ کمی پانی کے گھٹیا معیار کے سبب ہوسکتی ہے۔ اب لوگوں میں اندیشہ بڑھنے لگا ہے کہ اگر لوگوں کی ضرورت کو پوری کرنے کے لیے وافر مقدار میں پانی موجود ہو تب بھی امکان ہے کہ یہ گھریلو یا صنعتی فضلات کھیتوں میں مستعمل کیمیائی کیڑے مار دواؤں اور کیمیائی کھاد کے سبب آلودہ ہوچکا ہو اور انسانی استعمال کے لیے خطرناک ہوچکا ہو۔

ہندوستان کی ندیاں خصوصاً چھوٹی ندیاں زہریلی دھاراؤں میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ یہاں تک کہ گنگا اور جمنا جیسی بڑی ندیاں بھی صاف و شفاف نہیں رہ گئی ہیں۔ ہندوستان کی ندیوں پریہ حملہ —آبادی کی افزائش، مدنیت اور صنعت کاری کے سبب بہت شدید اورروز افزوں ہوتا جارہاہے—چنانچہ یہ پورا نظام حیات خطرہ کی زد میں ہے۔

ماخذ: ,The Citizen's Fifth Report, CSE  

1999(شہریوں کی پانچویں رپورٹ1999)

آپ کو اب تک احساس ہوچکا ہوگا کہ وقت کی سب سے اہم ضرورت اپنے آبی وسائل کا تحفظ اور انتظام ہے، تاکہ ہم اپنے آپ کو مضرِ صحت عناصر کومحفوظ رکھ سکیں۔ خوراک کے معاملہ میں خودکفیل بن سکیں، اپنی روزی روٹی حاصل کرسکیں، دوسرے کارآمد کام انجام دے سکیں اور ساتھ ہی اپنے قدرتی ماحولیاتی نظام کو بھی تباہی سے بچا سکیں۔ آبی وسائل کا بے دریغ استعمال اور بد انتظامی اسے تباہ کردے گی۔ اس کے نتیجہ میں ماحولیاتی قضیّہ پیدا ہوجائے گا، جو ہماری زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

عملی کام 

اپنے روز مرّہ زندگی کی روشنی میں پانی کی حفاظت سے متعلق ایک مختصر تجویز تیارکریں۔

 کثیر المقاصد ندی پروجیکٹ اور آبی وسائل کا متحدہ انتظام

لیکن ہم پانی کا تحفظ اور انتظام کیسے کریں؟ آرکیو لوجیکل اور تاریخی اسناد شاہد ہیں کہ ہم قدیم زمانے سے ہی آب پاشی آبی تعمیرات (Hydraulic Structures) مثلاً پتھر کے ٹکڑوں سے بنے باندھ، آبی ذخائر یا جھیلیں،آب پاشی کے لیے پشتے اور نہریں بناتے رہے۔ یہ تعجب کی بات نہیں کہ ہم نے جدید دور میں بھی اس روایت کو زندہ رکھتے ہوئے اپنے بیشتر ندیوں کے طاسوں (Basin)پر باندھ بنائے ہیں۔

قدیم ہندوستان میں آبی تعمیرات

پہلی صدی قبل مسیح میں الٰہ آبادکے قریب سرینگویراپورا میں گنگا ندی کے سیلاب کے پانی کو با ترتیب کرنے کے لیے اعلیٰ درجہ کے واٹر ہارویسٹنگ سسٹم (Water Harvesting System)تھا۔

چندر گپت موریہ کے عہد میں بڑی تعداد میں باندھ، جھیلیں اورآب پاشی، کے ذرائع تعمیر کیے گئے۔

اعلیٰ درجہ کے آب پاشی نظام کے آثار کلنگ (اڑیسہ)، ناگارجن کونڈا (آندھرا پردیش)، بنّور (کرناٹک)، کولا پور (مہاراشٹر) وغیرہ میں ملے ہیں۔

گیارہویں صدی میں اپنے عہد کی سب سے بڑی جھیلوں میں سے ایک مصنوعی بھوپال جھیل بنائی گئی۔

چودھویں صدی میں دہلی کے حوض خاص میں التمش نے ایک تالاب کھدوایا، جس سے سری فورٹ کے علاقے میں پانی سپلائی کیا جاتا تھا۔

ماخذ: Dying Wisdom, CSE, 1997

CH  3  5017    3

شکل 3.2: ھیرا کڈ باندھ

ڈیم یا باندھ کیا ہوتے ہیں او رپانی کے تحفظ اور نظم ونسق میں یہ کس طرح ہماری مدد کرتے ہیں؟ روایتی طور پر ندیوں اور بارش کے پانی کو روک کر رکھنے اور کھیتوں کی سینچائی کے مقصد سے باندھ بنائے جاتے تھے۔ آج یہ باندھ صرف سینچائی کے لیے نہیں بلکہ برقی توانائی پیدا کرنے، گھریلو اور صنعتی استعمال کے لیے پانی سپلائی کرنے، سیلاب کے کنٹرول، تفریح، داخلی جہاز رانی اور مچھلی کی پیداوار کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ چنانچہ اب باندھ کو کثیر المقاصد پروجیکٹ کہا جاتا ہے، جہاں مختلف استعمال کے لیے روک کر رکھے گئے پانی کو ایک دوسرے سے جوڑدیا جاتا ہے۔مثلاً ستلج بیاس ندی بیسن میں بھاکرا ننگل پروجیکٹ کا پانی ہائیڈل پاور کی پیداوار کے ساتھ سینچائی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح، مہاندی بیسن سے وابستہ ہیرا کڈ پروجیکٹ میں پانی کا تحفظ اور سیلابی حفاظت دونوں ہم آہنگ ہیں۔

ڈیم یا باندھ بہتے ہوئے پانی کے سامنے ایک رکاوٹ ہوتا ہے، جو بہاؤ کو روکتا ہے، بہاؤکے رخ کو بدل دیتا ہے یا سُست کردیتا ہے۔اکثر مصنوعی جھیل یا مخزن بن جاتا ہے۔ ’’ڈیم ‘‘ایک تعمیر سے بڑھ کر ایک مخزن ہوتا ہے۔ تمام ڈیم میںایک حصہ ہوتا ہے، جسے مخرجی پشتہ (Spillway or Weir)کہاجاتا ہے، جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ پانی وقفہ کے ساتھ یا مسلسل بہے۔ ڈیم کی بناوٹ ممکنہ مقصد یا اونچائی کے لحاظ سے تقسیم کی جاتی ہے۔ بناوٹ یا تعمیر میں استعمال اشیا کے لحاظ سے یہ لکڑی سے تیار کردہ باندھ (Timber Dams)، پشتہ والے باندھ (Embankement Dams) یاسیمنٹ اور مسالہ سے تیار کردہ ڈیم (Masonry Dams)کہلاتے ہیں اور ان کی بھی کئی ذیلی اقسام ہوتی ہیں۔ اونچائی کے لحاظ سے بڑے ڈیم اور اہم ڈیم (Major Dams) یا پھر چھوٹا ڈیم، میانہ قدڈیم یا اونچا ڈیم میں منقسم ہوتے ہیں۔

آزادی کے بعد متحدہ آبی وسائل کے انتظام کے نقطۂ نظر سے شروع کیے گئے کثیر المقاصد پروجیکٹس کا ہدف یہ تھا کہ یہ ملک کو ترقی اور پیش رفت کی طرف گامزن کریں گے اور سامراجی عہد کی معذوریوں سے نجات دلائیں گے۔ جواہرلال نہرو نے فخریہ طورپر ان باندھوں کو ’’جدید ہندوستان کے مندر‘‘ کہا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ کاشت کاری اور گاؤں کی معیشت کوتیز رفتار صنعت کاری اور شہری معیشت سے جوڑدیں گے۔

عملی کام 

باندھ بنانے اور آب پاشی کے کاموں کے لیے کسی بھی روایتی طریقۂ کارکے بارے میں مزید معلومات فراہم کریں۔

ہم نے اساڑھ میں فصلیں بوئی ہیں

ہم بھدرا میں بھادوں لائیں گے

سیلاب سے دامودر چڑھ آیا ہے

اور کشتیاں اس پہ نہیں چل سکتیں

آہ! دامودر، ہم تمہارے پاؤں پڑتے ہیں

سیلاب کو تھوڑا کم کردو

بھادو ایک سال بعد آئے 

تاکہ کشتیاں تمہاری سطح پر چل سکیں

(دامودر گھاٹی کے علاقے میں یہ مقبول بھادو گیت لوگوں کو درپیش مشکلات کا ترجمان ہے جس میں دامودر ندی کے سیلاب کے بارے میں ذکر ہے جو ’دکھ کی ندی‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔)

حالیہ برسوں میں کثیر المقاصد پروجیکٹس اور بڑے باندھ متعدد وجوہات کے سبب جانچ پڑتال اور مخالفت کی زد میں آئے ہیں۔ ندیوں پر باندھ بنانے اور رکاوٹ پیدا کرنے کی وجہ سے ندیوں کا فطری بہاؤ متاثر ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں رسوب (Sediment)کے جماؤ میں کمی آجاتی ہے اور مصنوعی جھیلوں کی تہہ میں اس کا بے جا جماؤ ہوجاتا ہے، جس سے ندیوں میں چٹانی تہہ بن جاتی ہے جو آبی حیات کے لیے کم موزوں ہوتی ہے۔ باندھ ندیوںکو بانٹتے بھی ہیں، جس سے آبی جاندار (Acquatic Fame) یعنی مچھلیوں وغیرہ کو نقلِ مکانی اور خاص طور سے انڈے دینے میں مشکل آتی ہے۔ جو مصنوعی جھیلیں سیلاب کے میدانوں پر بنائی جاتی ہیں، وہ وہاں موجود نباتات اور مٹی کو ڈبو دیتے ہیں اوروہ ایک مدت کے بعد سڑنے لگتی ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

گجرات کی نرمدا ندی پر سردار سروور باندھ بنایا گیا ہے۔یہ ہندوستان میں آبی وسائل کے متعلق سب سے بڑا قدم ہے جو ملک کی چار ریاستوں مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، گجرات اور راجستھان کو محیط ہے۔سردار سروور پروجیکٹ خشک علاقوں اور ریگستانی علاقوں کے علاوہ گجرات کے 9490گاؤں، 173 قصبات اور راجستھان کے 124گاؤں کی ضروریات کو پورا کریگا۔

ان کثیر المقاصد منصوبوں اور بڑے باندھوں کی وجہ سے کئی نئی سماجی تحریکیں مثلاً ’’نرمدا بچاؤ آندولن ‘‘ اور ’’ٹہری ڈیم آندولن‘‘ وغیرہ شروع ہوئے ہیں۔ ان منصوبوں کی مخالفت کی اصل وجہ بڑے پیمانے پر مقامی لوگوں کی نقل ہے۔ مقامی لوگوں کو اکثر وبیشتر اپنی زمینوں، روزی روزگار اور وسائل پر محدود کنٹرول سے ملک کے بڑے فائدہ کے حق میں ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ اس لیے، اگر اس نوع کے منصوبوں سے مقامی لوگوںکو فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے تو پھر وہ کون ہیں جو اس سے مستفید ہورہے ہیں؟ شاید زمیندار، بڑے کسان، صنعت کار اور کچھ شہری مراکز۔ گاؤں کے کسی بے زمین کسان کو ہی لے لیں۔ کیا واقعی اس نوع کے کسی منصوبہ سے اس کو فائدہ ہوتا ہے؟

’’نرمدا بچاؤ آندولن‘‘ یا ’’تحفظِ نرمدا تحریک‘‘ ایک غیر سرکاری آرگنائزیشن (NGO)ہے، جس نے قبائلی لوگوں، کسانوں، ماہرین ماحولیات (Environmentalists)اور انسانی حقوق کے کارندوں کو گجرات میں نرمدا ندی پر سردار سرور ڈیم بنانے کے خلاف تحریک چلائی ہے۔ اس نے اصلاً ماحولیاتی مسائل پر توجہ دلائی ہے کہ ڈیم کے پانی میں وہاں کے تمام درخت غرقاب ہوجائیں گے۔ حالیہ دنوں میں اس نے نادار شہریوں خاص طور سے مہاجرین کے مسائل پر توجہ مرکوز کی ہے تاکہ انھیں حکومت کی طرف سے دوبارہ آباد کرنے کے لیے پوری سہولیات فراہم کی جائیں۔

لوگوں نے یہ سوچ کر کہ ان کی تکالیف رائیگاں نہیں جائیں گی—نقلِ مکانی کے لیے راضی ہوگئے کہ ان سے آب پاشی والی زمینوں اور مناسب فصلوں کا وعدہ کیا گیا تھا۔ چنانچہ زمیندار کے بیشتر پسماندگان نے ہم سے کہا کہ انھوں نے ملک کے وسیع مفاد کی خاطر ان تمام تکالیف کو برداشت کیا۔ لیکن اب تیس برسوں تک بھٹکنے کے تلخ تجربہ کے بعد بھی کھانے کو محتاج ہیں۔ اس لیے وہ پوچھتے ہیں کہ ’’کیاہم لوگ ہی ملک کے لیے قربانی دینے کے لیے بنائے گئے ہیں۔‘‘

ما خذ: ایس شرما کے ا لفاظS. Sharma quoted

In the Belly of the River: Tribal conflicts over development in Narmada Valley, A. Baviskar, 1995

آب پاشی نے فصل اگانے کے طریقۂ کار کو کئی علاقوں میں بالکل تبدیل کردیا ہے، جہاں کسان زیادہ آب پاشی کی زراعت اور تجارتی فصلوں کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔ ماحولیات پر اس کے بڑے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثلاً مٹی کا کھارا پن۔ ساتھ ہی اس نے سماجی منظر نامہ کو بھی تبدیل کردیا ہے یعنی زیادہ تر زمینداروں اور بے زمین غریب کسانوں میں فرق بڑھتا جارہا ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ڈیم نے دو مختلف گروہوں کے مابین ایک ہی آبی وسیلہ کے مختلف استعمال کے پیش نظر ٹکرائو پیداکیا ہے۔ گجرات میں سابر متی بیسن کے کسانوں نے خاص طورسے خشک سالی کے وقت شہری علاقوں میں پانی کی سپلائی کو لے کر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ فساد جیسی حالت پیدا کردی۔ کثیرالمقاصد منصوبوںکی لاگت اور فوائد کی تقسیم کو لے کرریاستوں کے درمیان تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ کرشناگوداوری تنازعہ، کرناٹک اور آندھرا پردیش حکومتوںکے ذریعہ اٹھائے گئے اعتراضات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے؟ یہ کوئنا کے مقام پر مہاراشٹر حکومت کی جانب سے کثیرالمقاصد منصوبہ کے تحت زیادہ پانی چھوڑنے کے تعلق سے ہے۔ اس سے ندی کے بہاؤ میں سستی آجائے گی، جو زراعت اور صنعت پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔


سرگرمی 

بین ریاستی آبی تنازعوں کی ایک فہرست تیار کریں۔


ان منصوبوں کے بارے میں بیشتر اعتراضات اس وجہ سے اٹھے  کہ یہ جن مقاصد کے لیے بنائے گئے تھے، ان کی تکمیل میں ناکام رہے۔ اس کے برعکس، جوباندھ سیلاب روکنے کے لیے بنائے گئے انھیں کی وجہ سے مصنوعی جھیلوں میں مٹی کے جمائو سے باڑھ کی صورت حال پیدا ہوئی۔ علاو بریں، بڑے ڈیم شدید بارش کے وقت سیلاب روکنے میں اکثر وبیشتر ناکام رہے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا یا پڑھا ہوگا کہ شدید بارش کے زمانے میں ڈیم سے پانی چھوڑنے کے سبب کس طرح 2006میں مہاراشٹر اور گجرات میں سیلاب کی شدت میں اضافہ ہوگیا تھا۔ سیلابوں کے سبب نہ صرف جانی اور مالی نقصانات ہوئے بلکہ بڑے پیمانے پر مٹی کا کٹاؤ بھی ہوا تھا۔ تہہ نشینی (Sedimentation) کا مطلب یہ بھی ہے کہ باڑھ کے میدان گاد (Silt)سے محروم ہوجاتے ہیں جو ایک فطری کھاد ہے۔ اس طرح زمین کی زبوں حالی (Degradation) میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ کثیرالمقاصد منصوبوں کے لیے زیر زمین پانی کا وافر استعمال زلزلوں، پانی کے سبب پیدا ہونے والی بیماریوں اور وباؤں اور آلودگی کا سبب بنتا ہے۔

 ہندوستان: یہم ندیاں اور باندھCH  3  5017    4

بارش کے پانی کو جمع کرکے رکھنا

کئی لوگوںکا یہ خیال تھا کہ متذکرہ نقصانات اور بڑھتے ہوئے احتجاج کے پیش نظر سماجی، اقتصادی اور ماحولیاتی نقطۂ نظر سے ان کثیرالمقاصد منصوبوں کی جگہ واٹر ہارویسٹنگ سسٹم ایک مفید نعم البدل ہوسکتا ہے۔ قدیم ہندوستان میں، مصنوعی آبی تعمیرات کے ساتھ ساتھ غیر معمولی واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کا بھی رواج تھا۔ لوگوںکو بارش کے نظام، مٹی کے اقسام اور باش کے پانی کے وسیع اور ترقی یافتہ طریقۂ کار زمین دوز پانی، ندی کے پانی اور سیلاب کے پانی اور ان کے ماحولیاتی تقاضوںاور اپنی ضرورتوں کے بارے میں گہری معلومات تھیں۔ پہاڑی اور کوہستانی علاقوں میں لوگوں کے زراعت کے لیے پانی کا راستہ بدلنے کے لیے رودباد یعنی(Channel)بناتے تھے مغربی ہمالیہ میں گُل، یا کل بنا رکھے تھے۔ خاص طور سے راجستھان میں ’’چھت پر بارش کا جماؤ‘‘ کر کے پینے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بنگال کے باڑھ کے میدانوں میں لوگوں نے سیلابی رودبار (Inundation Channel) بناکر آب پاشی کے لیے استعمال کیاکرتے تھے ۔ ریگستانی اور نیم ریگستانی علاقوں میں زراعتی زمینیں بارش کے پانی جمع کرنے والی تعمیرات میں تبدیل کردی جاتی تھیں جس سے جیسلمیر کے ’’کھادِن‘‘ اور راجستھان کے دوسرے مقامات کے ’’جوہڑ‘‘ جیسی مٹیوں کو مرطوب کرنے اور ان میں نمی پیدا کرنے میں مدد ملتی تھی۔

CH  3  5017    5

ملک کے ایسے علاقوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کیجیے جو آسانی سے سیلاب کا شکار ہوجاتے ہیں۔

CH  3  5017    6


کیا آپ

ایک واٹر ہارویسٹر ہیں؟

اس مانسون میں بارش کے قطروں کے شمار میں ہمارا ہاتھ ہٹائیں۔
شکل 3.3

( a ) ہینڈ پمپ کے ذریعہ رہچارج
( b )غیر کار آمد کھودے کنویں کے ذریعہ ریچارج
شکل 3.4: چھت پر بارش کے پانی کی ھارویسٹن
چھت کا پانی PVC پائپ استعمال کر کے جمع کیا جاتا ہے۔
ریت اور اینٹ کے ذریعہ صفائی کی جاتی ہے۔
زمین دوز پائپ سے پانی نکال کر فوری استعمال کے لیے حوض میں جمع کرلیا جاتا ہے۔
اضافی پانی حوض سے لے کر کنویں میں پہنچایا جاتسا ہے۔
کنویں کا پانی زمین دوز پانی کو ریچارج کرتا ہے۔
کنویں سے پانی لیں۔

ایک گل بعد میں گاوں کے تالاب کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جیسا کہ اوپر کازا گاوں میں موجود ہے۔ اس سے جب بھی ضرورت ہوتی ہے چھوڑا جاتا ہے۔ 

شکل 3.5: بارش کے پانی کو جمع کرنے کا روایتی طریقئہ کار

راجستھان کے ریگستانی اور نیم ریگستانی علاقوں، خاص طورسے بیکانیر، فالودی اور بارمیر میں تقریباً تمام گھروں میں پینے کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض یا ’’ٹنکا‘‘ موجود ہوتے تھے۔یہ گڈھے ایک بڑے کمرہ کے برابر بھی ہوسکتے تھے۔ فالودی کے ایک گھر میں ایک ایسا ہی گڈھا 6.1 میٹر گہرا، 4.27میٹر لمبا اور2.44میٹر چوڑا تھا۔ یہ گڈھے چھت پر بارش کے پانی کے ہارویسٹنگ سسٹم کا حصہ ہوتے تھے، جو خاص گھر یا صحن میں بنا ہوتا تھا۔ یہ ایک پائپ کے ذریعہ گھر کے ڈھلوان والی چھت سے جڑے ہوتے تھے۔ اس طرح چھت سے بارش کا پانی پائپ کے ذریعہ ان زیر زمین ’’ٹنکا‘‘ میں جمع ہوجاتا تھا۔ بارش کی پہلی کھیپ کا پانی عا م طور پر جمع نہیں کیا جاتا تھا، کیوںکہ اس سے چھت اور پائپ دھلتے تھے۔ اس کے بعد بارش کا پانی جمع کرلیا جاتا تھا۔

بارش کا پانی ان گڈھوں میں آئندہ بارش تک جمع کرلیا جاتا ہے، کیوں کہ یہی پینے کے لیے سب سے معتبر پانی ہوتا ہے، خصوصاً گرمیوں میں جب تمام دیگر ذرائع خشک ہوجاتے ہیں۔ بارش کا پانی یا پلار پانی، جیسا کہ ان علاقوں میں کہاجاتا ہے، قدرتی پانی کی خالص ترین شکل مانا جاتا ہے۔ کئی گھران گڈھوں کے کنارے زمیں دوز کمرے بنائے جاتے تھے تاکہ موسم گرما کی حدّت سے بچا جاسکے کیوں کہ یہ کمرہ کو ٹھنڈا رکھتے تھے۔


دلچسپ حقیقت

چھت پر بارش کے پانی کی ہارویسٹنگ شیلانگم(میگھالیہ) میں سب سے عام طریقہ ہے۔ یہ اس لیے دلچسپ ہے، کیوں کہ شیلانگ سے 55کلو میٹر کی مسافت پر چیرا پونجی اور موسِن رام واقع ہیں، جہاں دنیا میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ریاست کی راجدھانی شیلانگ پانی کی کمی سے دوچار رہتی ہے۔ تقریباً اس شہر کے ہر گھر کے چھت پر بارش کے پانی کا ہارویسٹنگ سسٹم موجود ہے۔ تقریباً 15:25 فیصد گھریلو ضرورت کا پانی اسی چھت کے واٹر ہارویسٹنگ کے ذریعہ آتاہے۔

سرگرمی

اپنے علاقے یا اس کے آس پاس موجودہ بارش کے پانی کی ہارویسٹنگ سسٹم کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔

افسوس کی بات ہے کہ آج مغربی راجستھان میں چھت پر بارش کے پانی کی ہارویسٹنگ سسٹم کا رواج زوال پذیر ہے کیوں کہ دائمی اندرا گاندھی نہر کے ذریعہ کافی پانی دستیاب ہے۔اگر چہ آج بھی کئی گھرانے ان گڈھوں کا اہتمام کرتے ہیں،کیوں کہ انھیں نل کے پانی کا مزہ پسند نہیں ہے۔ خوش قسمتی سے،دیہی اور شہری ہندوستان کے مختلف حصوں میں چھت کے ذریعہ بارش کے پانی کی ہارویسٹنگ کا طریقۂ کار پانی کے تحفظ اور جمع کرنے کے لیے کامیابی کے ساتھ بروئے کار لایا جاتاہے۔ میسور(کرناٹک) کے ایک پسماندہ دور دراز گاؤں گینڈا تھور میں گاؤں والوں نے پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اپنے گھرکی چھتوں پر بارش کے پانی کے ہارویسٹنگ سسٹم لگائے ہیں۔ تقریباً دوسو گھروں میں یہ سسٹم لگایا گیا ہے اور اس گاؤں نے بارش کے پانی کے لحاظ سے آسودہ حال ہونے کا نایاب مقام حاصل کیا ہے۔

CH  3  5017   7

چھت پر ہارویسٹنگ تھار علاقہ کے ہر شہر اور گاوں میں عام تھی۔ بارش کا پانی

جو ڈھلوانی چھتوں پر گرتا ہے، اسے ایک پائپ کے ذریعہ زمین دوز ٹنکا 

( زیر زمین مدوّر سوراخ ) میں بچایا جاتا ہے، جو اصل گھر میں یا صحن میں بنا ہوتا ہے۔

اوپر کی شکل سے ظاہر ہے کہ پروسی کے گھر سے پمپ کے ذریعے پانی لیا جا رہا ہے۔

یہاں پڑوسی کی چھت بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

اس شکل میں ایک سوراخ دکھایا گیا ہے ، جس کے ذریعہ بارش کا پانی زمین دٹنکا میں پانی 

پہنچتا ہے۔


CH  3  5017   8

اچھی طرح سمجھنے کے لیے شکل 3.6 دیکھیں کہ کس چھت پر بارش کے پانی کو جمع کرنے کا سسٹم بنایاگیا ہے۔ گینڈا تھور میں 1000ملی میٹر سالانہ بارش ہوتی ہے اور یہاں 80فیصد جمع اندوزی کی صلاحیت اور تقریباً 10فیلنگ (Filling) ہیں۔ ہر گھر سالانہ 50,000 لیٹر پانی جمع اور استعمال کرسکتا ہے۔ 20گھر وںسے سالانہ کل بارش کے پانی کی ہارویسٹنگ کی مقدار 100,000لیٹر ہے۔

 تمل ناڈو ہندوستان میں پہلاایسا صوبہ ہے، جس نے چھت پر بارش کے پانی کے ہارویسٹنگ سسٹم کو صوبہ کے ہر گھر کے لیے لازمی قرار دیا ہے۔ اس احکام کو نہ ماننے والوں کے لیے یہاں قانونی طریقے بھی وضع کیے گئے ہیں۔

سرگرمی

اس بارے میں معلومات اکٹھی کیجیے کہ صنعتیں کس طرح ہمارے آبی وسائل کو آلودہ کررہی ہیں۔

اپنے محلہ میں پانی پر جھگڑے کے ایک منظر کو اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ ڈرامہ کی شکل میں پیش کیجیے۔

مشقیں 

کثیر اختیاری سوالات
(i) درج ذیل معلومات کی بنیاد پر ایسی دوصورتوں کی درجہ بندی کیجیے جہاں پانی کی قلت ہے اور جہاںنہیں ہے۔
(a) وافر یعنی بہت زیادہ بارش کا خطہ
(b) ایسا خطہ جہاں بہت بارش ہوتی ہے اور جہاں کی آبادی بھی زیادہ ہے
(c) ایسا علاقہ جہاں بہت بارش ہوتی ہے لیکن وہاں کا پانی بہت آلودہ ہے
(d) ایسا علاقہ جہاں کم بارش ہوتی ہے اور جہاں کی آبادی بھی کم ہے
(ii) مندرجہ ذیل میں سے کون سا ایک بیان کثیر المقاصد دریائی منصوبوں کی تائید میں دلیل نہیں ہے؟
(a) کثیر المقاصد پروجیکٹ ایسے علاقوں میں پانی پہنچاتے ہیں جہاں پانی کی قلت ہوتی ہے
(b) کثیر مقصدی پانی کے بہاؤکو ٹھیک کرکے سیلابوں پر قابو پانے میں مددگار ہوتے ہیں
(c) کثیر مقصدی منصوبوں کی وجہ سے لوگ بڑی تعداد میں اجڑ جاتے ہیں اور اپنی روزی روٹی گنوادیتے ہیں
(d) کثیرالمقاصد پراجیکٹ ہماری صنعتوں اور گھروں کے لیے بجلی پیدا کرتے ہیں
(iii) ذیل میں کچھ غلط بیانات دیئے گئے ہیں ان کی غلطیوں کو پہچانیے اور دوبارہ درست کرکے لکھیے۔
(a) گھنی آبادی اور شہری طرز زندگی والے شہروں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے آبی وسائل کے صحیح اور مناسب استفادہ میں مدد ملی ہے۔
(b) دریاؤں پر بند تعمیر کرنے اور انھیں قابوں میں رکھنے سے دریاؤں کا قدرتی بہاؤاور ان کی تلچھٹ کا بہاؤ متاثر نہیں ہوتا۔
(c) گجرات میں سابر متی کے دہانے پر رہنے والے کسان اس وقت برہم نہیں ہوئے تھے جب شہری علاقوں کو خاص طو رپر خشک سالی کے دوران، پانی کی فراہمی کے لیے زیادہ فوقیت دی گئی تھی۔
(d) آج راجستھان میں چھتوں پر بارش کا پانی اکٹھا کرنے کا طریقہ مقبول ہوچکا ہے باوجودیہ کہ راجستھان نہر کی وجہ سے بہت پانی دستیاب ہے۔

مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً تیس، تیس الفاظ میں دیجیے۔
(i) تشریح کیجیے کہ پانی ایک قابل تجدید وسیلہ کیسے بن جاتا ہے۔
(ii) پانی کی قلت کا مطلب کیا ہے اور اس کے اہم اسباب کیا ہیں؟
(iii) کثیرالمقاصد دریائی منصوبوں کے فوائد اور نقصانات کا موازنہ کیجیے۔
مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب تقریباً 120 الفاظ میں دیجیے۔
(i) راجستھان کے نیم بنجر علاقوں میں بارش کا پانی کس طرح جمع کیا جاتا ہے؟ بحث کیجیے۔
(ii) بیان کیجیے کہ بارش کا پانی جمع کرنے کے روایتی طریقوں کے جدید ڈھنگ پانی کو اکٹھا کرنے اورمحفوظ رکھنے کے لیے کس طرح استعمال کیے جارہے ہیں۔