زراعت
(AGRICULTURE)
ہندوستان ایک اہم زراعتی ملک ہے۔ اس کی دو تہائی آبادی زرعی سرگرمیوںمیں منہمک ہے۔ کاشتکاری ایک ایسی اولین سرگرمی ہے جو ہمارے استعمال کی بیشتر غذائیں پیدا کرتی ہے۔ کھانے کے غلہ کے علاوہ یہ مختلف صنعتوں کے لیے خام مال بھی پیدا کرتی ہے۔
کیا آپ ان صنعتوں کا نام بتائیں گے جو زرعی خام مال پر مبنی ہیں؟
مزید برآں، چند زرعی اشیا مثلاً چائے، کافی مسالے وغیرہ بھی دوسرے ممالک کو بھیجی جاتی ہیں۔
کھیتی باڑی کی قسمیں
ہمارے ملک میں کاشتکاری ایک قدیم ترین معاشی سرگرمی ہے۔ حالیہ سالوں میں کاشتکاری کے طور طریقوں میں قابل ذکر تبدیلی آئی ہے جو طبیعی ماحول کی خصوصیات اور تکنیکی اعتبار سے سماجی و ثقافتی چلن پر منحصر کرتی ہے۔ کاشتکاری خورد و نوش سے لے کر کاروباری نوعیت تک بدلتی رہتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہندوستان کے مختلف حصوں میں مندرجہ ذیل قسم کے زرعی نظام رائج ہیں۔
دقیانوسی گزارے لائق کاشت کاری
(Primitive Subsistence Farming)
اس قسم کی کاشت کاری ہندوستان کے بعض علاقوں میں اب بھی رائج ہے۔ قدیم اوزار مثلاً کھدائی کی لکڑی اور کنبہ یا بستی کے لوگ مزدوری کی مدد سے کی جاتی ہے۔ اس طرح کی پرانی طرز کی کاشتکاری زمین کے چھوٹے ٹکڑوں پر کی جاتی ہے۔ کاشتکاری موسم، مٹی کی فطری زرخیزی اور فصلوں کی نشوونما کے لیے دیگر ماحولی حالات کی موزونیت پر منحصر کرتی ہے۔
یہ ایک نوع کی ’کاٹو اور جلاؤ‘ (Slash and burn)قسم کی کھیتی باڑی ہے۔ کسان زمین کے ایک خطے کو صاف کرتے ہیں اور اپنے اہل خاندان کی معاش کے لیے غلہ اور دوسری غذائی فصلیں پیدا کرتے ہیں۔ جب مٹی کی زرخیزی میں کمی آجاتی ہے تو کسان وہاں سے منتقل ہوکر کاشت کے لیے نئی زمین کو صاف کرتے ہیں۔ اس قسم کی منتقلی قدرت کو فطری طریقوں سے مٹی کی زرخیزی کو دوبارہ ابھرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس نوع کی کاشتکاری میں زمین کی اُپج یا پیداواریت میں بہت کمی آجاتی ہے کیوں کہ کسان کھاد اور دوسری جدید اشیا اور سامان کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔ ایسی کاشتکاری کو ملک کے متعدد مقامات پر مختلف ناموں سے جانا جاتاہے۔
کیا آپ اس قسم کی کچھ کاشتکاریوں کے نام بتا سکتے ہیں؟
شمال مشرقی ریاستوں مثلاً: آسام، میگھالیہ، میزورم، ناگا لینڈ میں اسے جھمنگ (Jhumming) کہا جاتاہے۔ منی پور میں پاملو، چھتیس گڑھ ضلع بستر اورجزائرانڈمان اور نکوبار میں ’’دیپا‘‘ (Dipa)کے نام سے جانا جاتاہے۔
جھمنگ (Jhumming): کاٹو اور جلاؤ (Slash and Burn) کاشتکاری کو میکسکو اور وسطی امریکہ میں ملپا(Milpa)، Venezuela میں Conuco، برازیل میں Roca، سنٹرل افریقہ میں Masole، انڈونیشیا میں Ladang اور ویتنام میں Ray کہتے ہیں۔
ہندوستان میں کاشت کی اس قدیم شکل کو ہندوستان کے مدھیہ پردیش میں بیوار (Bewar)یا دہیہ(Dahiya)، آندھرا پردیش میں پینڈا (Penda) پاڈو (Podu)، اڑیسہ میں پاما ڈابی (Pama Dabi) یا کومان (Koman) یا برنگا (Bringa)، مغربی گھاٹ میں کماری (Kumari)، جنوب مشرقی راجستھان میں Waltre یا Valre، ہمالیائی علاقہ میں Khil، جھارکھنڈ میں Kuruwa اور شمال مشرقی علاقوں میں جھمنگ کہا جاتاہے۔
شکل 4.1: گیہوں کی کاشت
رنجھا اپنے اہل خانہ کے ساتھ آسام کے دور افتادہ ڈیفو علاقے کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتی تھی ۔کاشت کی خاطر اپنے گھر والوں کو زمین کے ایک ٹکڑے کو صاف کرتے، فصلیں کاٹتے اور انھیں جلاتے ہوئے دیکھ کر وہ بڑی خوش ہوتی تھی۔ کسی نزدیکی تالاب سے بنی بانس سے بنی نالی کی مدد سے کھیتوں کی سینچائی میں وہ اکثر و بیشتر ان کا ہاتھ بٹاتی ہے۔ اسے آس پاس کا ماحول پسند ہے اور وہ زیادہ دنوں تک جب تک ممکن ہے وہاں رہنا چاہتی ہے، لیکن اس معصوم لڑکی کو یہ پتہ نہیں کہ زمین کی زرخیزی کب ختم ہوجائے گی۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ دوسرے موسم میں اس کے گھر والے ایک تازہ قطعۂ زمین کی تلاش میں نکل پڑیں گے۔
کیا آپ کاشت کاری کی اس قسم کا نام بتائیں گے جن میں رنجھا کے گھر والے مصروف ہیں؟
کیا آپ ان چند فصلوں کی فہرست بنا سکتے ہیں جو اس نوع کی کھیتی میں پروان چڑھتی ہیں۔
کم جگہ پر زوردار گزارے لائق کاشتکاری
اس قسم کی کھیتی کا رواج گھنی آبادی والے علاقے میں ہے جہاں زمین پر زیادہ بار ہے۔ یہ ایک قسم کی مزدوروں کی بنیاد پر کاشت کی پیداوار میں اضافہ کرنے والی کھیتی باڑی ہے جہاں کثیر پیداوار کی حصولیابی کے لیے کیمیاوی مادّوں کی بڑی مقدار استعمال کی جاتی ہیں۔ اور کم زمین پر زیادہ کاشت کی جاتی ہے۔
کیا آپ ہندوستان کی چند ایسی ریاستوں کے نام بتائیں گے جہاں اس قسم کی کھیتی کا رواج ہے؟
گرچہ ’حقِ وراثت‘ نے جو بعد کی نسل میں زمین کی تقسیم کی رہنما ہے، زمین پر قبضہ کے اختیار کو غیر منطقی کردیا ہے۔ ذریعۂ معاش کا متبادل نہ ہونے کے سبب کسان محدود زمین سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے میں لگے ہیں۔ اس طرح کاشت کی زمین پر زبردست دباؤ بنا ہوا ہے۔
کاروباری کھیتی (Commercial Farming)
اس قسم کی کھیتی کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں جدید افزائشی مادے مثلاً: اعلیٰ قسم کی فصل دینے والے مختلف النوع بیج (HYV) زیادہ پیداوار دینے والی قسم(High Yielding Variety) کیمیاوی کھاد، کثیر پیداوار کی حصولیابی کے لیے تباہ کن اور مہلک کیڑے مار دوا کا استعمال ہوتا ہے۔ کاشتکاری کی کاروباری حیثیت ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر ہریانہ اور پنجاب میں چاول ایک کاروباری فصل ہے جبکہ اڑیسہ میں یہ معاش کا بنیادی ذریعہ ہے اور وجود و بقا کا ضامن ہے۔
کیا آپ ان فصلوں کی چند مثالیں دے سکتے ہیں جو کسی علاقے میں تو کاروباری حیثیت رکھتی ہیں جبکہ دوسرے علاقے میں اس پر انسانی وجود و بقاکا انحصار ہے؟
شجرکاری یا باغ لگانا بھی ایک قسم کی کاروباری کھیتی ہے۔ اس قسم کی کھیتی میں ایک ہی فصل ایک بڑے احاطے پر اگائی جاتی ہے۔ شجر کاری صنعت اور کاشت کا ملا جلا روپ ہے۔مہاجر مزدوروںکی مدد اور ایک اچھے خاصے سرمایہ کی لاگت سے شجر کاری زمین کے ایک بڑے حصے کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ تمام پیداوار متعلقہ کارخانوں میں بطور خام مال استعمال ہوتی ہے۔
ہندوستان میں چائے، کافی، ربڑ، گنا، کیلا وغیرہ اہم پیداواری فصلیں ہیں۔ آسام اور شمالی بنگال میں چائے، کرناٹک میں کافی —چند اہم باغاتی فصلیں ہیں جو ان ریاستوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ پیداوار چوں کہ مارکیٹ کی خاطر کی جاتی ہے لہٰذا نقل و حمل اور مواصلات کا ایک عمدہ جال (Network) کھیتی باڑی کے ان علاقوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ اس طرح مارکیٹ ان فصلوں کی ترقی میں ایک نمایاں کردار نبھاتا ہے۔
شکل 4.2: ہندوستان کے جنوبی علاقے میں کیلے کے باغات
شکل 4.3: شمال مشرق میں بانس کے باغات
فصلوں کے اگانے کے نمونے یا طریقے (Cropping Pattern)
آپ ہندوستان میں طبیعی تنوّع اور ثقافتی کثرت کا مطالعہ کرچکے ہیں۔ یہ تمام چیزیں بھی زراعتی کاموں اور ہندوستان میں فصلوں کے اگانے کے طور طریقے میں جھلکتی ہیں۔ مختلف النوع غذا اور ریشہ دار فصلیں، ترکاریاں اور پھل، مسالے وغیرہ ملک میں پیدا ہونے والی چند اہم فصلیں ہیں۔ فصلوں کی بوائی کے ہندوستان میں تین موسم ہیں۔ ربیع، خریف اور زائد
ربیع فصلیں جاڑے میں اکتوبر سے دسمبر تک بوئی جاتی ہیں اور گرمی میں اپریل سے جون تک کاٹی جاتی ہیں۔ چند اہم ربیع فصلوں میں گیہوں، باجرا، مٹر، چنا اور سرسوں وغیرہ ہیں۔ یہ فصلیں ہندوستان کے بڑے حصوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ شمال اور شمال مغربی علاقے جیسے پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش اور کشمیر، اترانچل اور اتر پردیش—گیہوں اور دوسری ربیع فصلوں کی پیداوار کے لیے اہم ہیں۔ مغربی معتدل گرداب کی وجہ سے موسم سرما میں بارش کی موجودگی ان فصلوں کو کامیاب ہونے میں مدد دیتی ہے۔ تاہم پنجاب، ہریانہ، مغربی یوپی اور راجستھان کے حصوں میں سبز انقلاب (Green Revolution) کی کامیابی مذکورہ بالاربیع فصلوں کی پیداوار میں ایک اہم عنصر رہاہے۔
خریف کی فصلوں کی بوائی ملک کے مختلف حصوں میں موسم بارانی یعنی برسات کے آنے پر شروع ہوجاتی ہے اور انھیں ستمبر اکتوبر میں کاٹا جاتاہے۔ اس موسم میں پیدا ہونے والی اہم فصلیں ہیں —دھان، مکئی، جوار، باجرا، اَرہر، مونگ، اُڑد، کاٹن، جوٹ، مونگ پھلی اور سویابین وغیرہ۔ چاول کی پیداوار کرنے والے چند اہم ترین خطے ہیں— آسام، مغربی بنگال، اڑیسہ، آندھرا پردیش،تلنگانہ، تمل ناڈو، کیرل اور مہاراشٹر کے ساحل علاقے۔ اترپردیش اور بہار سمیت بطور خاص (کونکن ساحلی علاقے) وغیرہ حال میں دھان پنجاب اور ہریانہ کی اہم فصل بن چکا ہے۔ آسام، مغربی بنگال اور اڈیشہ جیسی ریاستوں میں دھان کی سال میں تین فصلیں ہوتی ہیں۔ یہ Aman ،Aus اور Boro ہیں۔
ربیع اور خریف موسم کے درمیان گرمیوں میں ایک قلیل مدتی موسم ہوتا ہے جو زائد (Zaid)موسم کے نام سے جانا جاتاہے۔ زائد موسم میں پیدا کی جانے والی فصلوں میں تربوز، خربوزہ،کھیرا، سبزیاں اور جانوروں کا چارہ وغیرہ شامل ہے۔ گنے کو بڑھنے یا تیارہونے میں تقریباً ایک سال لگ جاتاہے۔
اہم فصلیں
ملک کے مختلف حصوں میں غذائی اور غیر غذائی مختلف النوع فصلیں پیدا ہوتی ہیں۔جو مٹی، آب و ہوا اور کھیتی باڑی کے مروجہ روایتی طور طریقے پر منحصر ہوتی ہیں۔ ہندوستان میں پیدا ہونے والی اہم فصلیں چاول، گیہوں، باجرہ، دالیں، چائے، گنا، تیل کا بیج، کپاس اور جوٹ وغیرہ ہیں۔
چاول:
یہ ہندوستان میں لوگوں کی اکثریت کی بنیادی اور خاص غذائی فصل ہے۔ ہمارا ملک دنیا میں چین کے بعد چاول پیدا کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ خریف فصل کو اعلیٰ درجہ کی حرارت (25ڈگری سے زیادہ)اور سالانہ 100cm سے زیادہ بارش کے ساتھ اعلیٰ نمی درکار ہوتی ہے۔ کم بارش ہونے والے علاقوں میں یہ سینچائی کی مدد سے پھلتی پھولتی ہے۔
چاول شمال اور شمال مشرقی ہندوستان کے ہموار ساحلی اور ڈیلٹا علاقوں میں پیدا ہوتا ہے۔ سینچائی نہروں اور ٹیوب ویل کے گھنے جال (Network) کے فروغ نے چاول کی پیداوار کو ان علاقوں مثلاً: پنجاب، ہریانہ اور مغربی اترپردیش اور راجستھان کے کچھ حصوں میں بھی ممکن بنادیا ہے جہاں بارش کم ہوتی ہے۔
شکل 4.4(a): چاول کی کاشت
شکل 4.4(b): چاول کھیت میں کٹنے کے لیے تیار ہے
گیہوں: یہ دوسری اہم ترین اناج کی فصل ہے۔ ملک کے شمال اور شمال مغربی حصوں میں یہ اہم غذائی فصل ہے۔ اس ربیع فصل کو بڑھتے وقت ٹھنڈے موسم اور پکنے کے وقت تیز دھوپ کی ضرورت پڑتی ہے۔ فصل کے بڑھنے کے درمیانی موسم میں اسے پچاس سے پچھتر سینٹی میٹر سالانہ بارش کی ضرورت ہوتی ہے۔ ملک میں دو اہم گیہوں کے پیداواری حصّے ہیں: شمال مغرب میں گنگا ستلج کے میدان اور دکن میں کالی پٹی والے علاقے۔ گیہوں پیدا کرنے والی اہم ریاستیں پنجاب، ہریانہ، اترپردیش، مدھیہ پردیش ، بہار اور راجستھان ہیں۔
شکل 4.5: گیہوں کی کاشت
باجرہ: جوار، باجرہ اور راگی —ہندوستان میں پیدا ہونے والی باجرہ کی اہم قسمیں ہیں۔ گرچہ انھیں موٹے اناج کی حیثیت سے جانا جاتاہے۔ مگر ان میں بہت اعلیٰ غذا ئیت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر راگی میں بہت زیادہ لوہا، کیلشیم دیگر قلیل غذائی عناصر اور بھوسا پایا جاتاہے۔
ہندوستان:چاول کی تقسیم
پیداوار اور علاقے کے اعتبار سے جوار تیسری اہم ترین غذائی فصل ہے۔ یہ ایک بارانی فصل ہے جو زیادہ ترنم علاقوں میں پیدا ہوتی ہے جہاں سینچائی کی ضرورت شاذونادر ہی پڑتی ہے۔ مہاراشٹر ،کرناٹک، آندھرا پردیش اور مدھیہ پردیش جوار پیدا کرنے والی بڑی ریاستیں ہیں۔
باجرہ کی کھیتی ریتیلی مٹی اور کالی اُتھلی مٹی پر اچھی ہوتی ہے۔ راجستھان ،اترپردیش، مہاراشٹر، گجرات اور ہریانہ سب سے زیادہ باجرہ پیدا کرنے والی ریاستیں ہیں۔ راگی خشک علاقوں کی فصل ہے اور اس کی اچھی پیداوار لال، کالی، ریتیلی، نباتاتی کھاد والی اور اوپری کالی مٹی پر ہوتی ہے۔
شکل 4.6: باجرہ کی کاشت
کرناٹک،تمل ناڈو،ہماچل پردیش، اترانچل، سکّم، جھارکھنڈ اور اروناچل پردیش راگی پیدا کرنے والی اہم ریاستیں ہیں۔
مکا: یہ ایک ایسی فصل ہے جو انسان کے کھانے اور جانوروں کے چارہ دونوں کے لیے استعمال ہوتی ہے یہ ایک خریف فصل ہے جسے 21°C سے لیکر 27°C درجہ حرارت مطلوب ہے۔ پرانی سیلابی مٹی میں اس کی افزائش اچھی ہوتی۔ جدید تکنیک جیسےHYVبیچ، کیمیاوی کھاد اور سینچائی نے مکا کی پیداوار میں اہم نمایاں اضافہ کیا ہے۔ مکا پیدا کرنے والی اہم ریاستیں کرناٹک،مدھیہ پردیش، اترپردیش،بہار، آندھرا پردیش اور تلنگانہ وغیرہ ہیں۔
شکل 4.7: مکہ کی کاشت
دالیں: ہندوستان دالیں پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور سب سے بڑاصارف بھی، ساگ، سبزی والی غذا میں یہ پروٹین کا اہم ترذریعہ ہے، ارہر، اُڑد، مونگ، مسور، مٹر اور چنا وغیرہ ہندوستان میں پیدا ہونے والی دیگر دالیں ہیں۔ کیاآپ دالوں کی ربیع کی فصلوں اورخریف فصلوں میں فرق کرسکتے ہیں ؟ دالوں کو کم رطوبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ خشک موسم میں بھی پروان چڑھتی ہیں۔ ارہر کے علاوہ یہ تمام فصلیں ہواسے نائٹروجن لیتے ہوئے مٹی کی زرخیزی کے دوبارہ حصولیابی میں مدد دیتی ہیں۔ اس لیے یہ فصلیں زیادہ تر دوسری فصلوں کے ساتھ باری باری بوئی جاتی ہیں۔ مدھیہ پردیش، راجستھان، مہاراشٹر، اترپردیش اور کرناٹک ہندوستان میں دالیں پیدا کرنے والی اہم ریاستیں ہیں۔
اناجکے علاوہ دوسری غذائی فصلیں
گنا:یہ گرم اور نیم گرم فصل ہے۔ اس کی نشوونما گرمی میں 21°Cتا 27°C درجۂ حرارت کے ساتھ مرطوب آب وہوا اور 75سنٹی میٹر سے لے کر100سنٹی میٹر کے درمیان سالانہ بارش میں اچھی طرح ہوتی ہے۔ یہ مختلف قسم کی مٹیوں پر اگائی جاسکتی ہے۔ اس کی بوائی سے لے کر کٹائی تک اسے انسانی محنت یا مزدوروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ صرف برازیل کے بعد ہندوستان گنے کا دوسرا سب سے بڑاپیدا کرنے والا ملک ہے۔ یہ چینی، گڑ،بورہ اور شکر اور راب کے حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ کثیر گنا پیدا کرنے والی ریاستوں میں —اترپردیش، مدھیہ پردیش، کرناٹک، تمل ناڈو، آندھرا پردیش، بہار، پنجاب اور ہریانہ کے نام اہم ہیں۔
ہندوستان : گیہوں کی تقسیم
یہ گرم اور نیم گرم فصل ہے۔ اس کی نشوونما گرمی میں 21°Cتا 27°C درجۂ حرارت کے ساتھ مرطوب آب وہوا اور 75سنٹی میٹر سے لے کر100سنٹی میٹر کے درمیان سالانہ بارش میں اچھی طرح ہوتی ہے۔ یہ مختلف قسم کی مٹیوں پر اگائی جاسکتی ہے۔ اس کی بوائی سے لے کر کٹائی تک اسے انسانی محنت یا مزدوروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ صرف برازیل کے بعد ہندوستان گنے کا دوسرا سب سے بڑاپیدا کرنے والا ملک ہے۔ یہ چینی، گڑ،بورہ اور شکر اور راب کے حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ کثیر گنا پیدا کرنے والی ریاستوں میں —اترپردیش، مدھیہ پردیش، کرناٹک، تمل ناڈو، آندھرا پردیش، بہار، پنجاب اور ہریانہ کے نام اہم ہیں۔
شکل 4.8 : گنے کی کاشت
تیل پیدا کرنے والے بیج یا تلہن:
2015میں دنیا میں ہندوستان چین کے بعد تلہن پیدا کرنے والادوسرا سب سے بڑا ملک تھا۔ 2015 میں کناڈا اور چین کے بعد ہندوستان دنیا میں سب سے زیادہ سرسوں کے بیچ پیدا کرنے والاملک تھا۔ مختلف النوع تلہن ملک کے قابلِ کاشت علاقہ کا تقریباً 12 فیصدی کا احاطہ کرتے ہیں۔ ہندوستان میں پیدا ہونے والے تلہنوں کے بیج میں مونگ پھلی، سرسوں، ناریل، تیل، سویابین، ارنڈی کا بیج، کاٹن بیج، سنٹی بیج اور سورج مکھی وغیرہ اہم ہیں۔ ان میں سے بیشتر اشیائے خوردنی ہیں اور کھانا پکانے کے استعمال کا ذریعہ ہیں۔ تاہم ان میں سے بعض صابن،کاسمیٹکس اور مرہم بنانے میں بطور خام شے کے بھی استعمال ہوتے ہیں۔
مونگ پھلی خریف کی فصل ہے۔ ناریل ملک میں اہم تیل کے بیج کا تقریباً نصف کے برابر پیدا ہوتا ہے۔2015-16میں راجستھان اور تمل ناڈوکے ساتھ گجرات ناریل پیدا کرنے والی سب سے بڑی ریاست ہے۔ السی اور سرسوں ربیع فصلیں ہیں۔ تیل شمالی ہند میں خریف فصل ہے اور جنوبی ہندوستان میں یہ ربیع فصل ہے۔ ارنڈی کا بیج ربیع اور خریف دونوں فصلوں میں پیدا ہوتا ہے۔
چائے:
چائے کی کاشت باغاتی زراعت کی ایک مثال ہے۔ یہ بھی ایک اہم مشروباتی فصل ہے جسے ابتدامیں ہندوستان کے اندر انگریزوں نے متعارف کرایا۔ آج بیشترچائے کے باغات ہندوستانیوں کے اپنے ہیں۔ چائے کے پودے گرم اور نیم گرم آب و ہوا میں جو گہری اور زرخیز مٹی، پانی کے اچھے بہاؤ کی جگہ اور جومٹی اور قدرتی اجزا زمین کی اوپری جو سڑے گلے پتوں یا نباتات سے بنی مٹی سے مالا مال ہو،مٹی میں پروان چڑھتے ہیں۔ چائے کی جھاڑیوں کو سال بھر گرم اور نم سردی سے آزاد ماحول یا آب و ہوا کی ضرورت پڑتی ہے۔ سالوں بھر بارش سے نرم زمین چائے کی پتیوں کے مسلسل بڑھنے کی ضمانت ہیں۔ چائے کی کاشت کو بھاری تعداد میں سستے اور ہنر یافتہ مزدوروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ چائے کی تازگی کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے تیار کرنے کی جملہ کارروائی چائے کے باغ میں ہی کی جاتی ہے۔ آسام، دارجلنگ کی پہاڑیاں، جلپائی گوڑی کے اضلاع، مغربی بنگال، تمل ناڈو اور کیرل چائے پیدا کرنے والی اہم ریاستیں ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں ہماچل پردیش، اترانچل، میگھالہ، آندھرا پردیش اور تری پورہ بھی چائے پیدا کرنے والی ریاستیں ہیں۔2015 میں چین کے بعد ہندوستان دنیا میں چائے پیدا کرنے والادوسرا بڑاملک تھا۔
کافی:
دنیا میں ہندوستانی کافی اپنی عمدہ خوبیوں کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔ Arabicaقسم جو ابتداء ًیمن سے لائی گئی تھی، ملک میں پیدا ہوتی ہے۔ کافی کی اس قسم کی پوری دنیا میں زبردست مانگ ہے۔ ابتدا میں اس کی کاشتBaba Budanپہاڑیوں پر شروع کرائی گئی تھی حتٰی کہ آج بھی اس کی کاشت مخصوص طور پر کرناٹک کی تل گری، کیرل اور تمل ناڈوتک ہی میں ہوتی ہے۔
شکل 4.9 : مونگ پھلی، سورج مکھی کا پھول اور سرسوں کٹائی کے لیے کھیتوں میں تیار ہے
ماخذ: زراعتی شماریات کی دستی کتاب، 2017، حکومت ہند،ڈائرکٹوریٹ برائے معاشیات اورشماریات
باغبانی والی فصلیں:
2015 میں ہندوستان چین کے بعد دنیا میں سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار کرنے والا دوسراسب سے بڑا ملک تھا۔ یہاں گرم خطوں اور معتدل درجۂ حرات والے پھل پیدا کیے جاتے ہیں۔ مہاراشٹر، آندھرا پردیش،تلنگانہ، اترپردیش،اور مغربی بنگال کے آم، ناگ پور اور چیراپونجی (میگھالیہ) کے سنترے، کیرل،میزورم، مہاراشٹر اور تمل ناڈو کے کیلے، اتر پردیش اور بہار کی لیچی اور امرود، میگھالیہ کے انناس، آندھرا پردیش تلنگانہ اور مہاراشٹر کے انگور، جموں اور کشمیر اور ہماچل پردیش کے سیب، ناشپاتی، خوبانی اور اخروٹ کی پوری دنیا میں زبردست مانگ ہے۔
ہندوستان مٹر، گوبھی، پیاز، بندگوبھی، ٹماٹر، بیگن اور آلو کا اہم پیدا کرنے والا ملک ہے۔
غیر غذائی فصلیں
ربڑ(Rubber):یہ ایک استوائی (Equat orial)فصل ہے لیکن بعض مخصوص حالات میں یہ گرم اور نیم گرم علاقوں میں ہی پیدا ہوتا ہے۔ اسے 200سنٹی میٹر سے زیادہ بارش اور 25cسے اوپر درجۂ حرات کے ساتھ اور مرطوب آب و ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔
ربڑ ایک اہم صنعتی خام شے ہے۔ اس کی پیداوار زیادہ ترکیرل، تمل ناڈو، کرناٹک،جزائر انڈمان اور نکوبار میگھالیہ کی گاروپہاڑیوں میں ہوتی ہے۔
شکل 4.12 : خوبانی، سیب اور انار
شکل 4.13 : سبزیوں کی کاشت—مٹر، پھول گوبھی، ٹماٹر اور بیگن
سرگرمی
ان اشیا کی فہرست تیار کیجیے جو ربڑ سے تیار ہوتی ہیں اور جنھیں ہم استعمال کرتے ہیں۔
ریشہ یافائبر کی فصلیں:
کپاں، جوٹ، سن اور قدرتی سلک — ہندوستان میں ریشہ کی یہ چار بڑی فصلیں ہیں۔ اول الذ کر تین ان فصلوں سے لی جاتی ہیں جو اس زمین میں اگائے جاتے ہیں اور چوتھی ریشم کے کیڑوں سے حاصل کی جاتی ہے جو سبز پتیوں خاص طور پرشہتوت کے درخت سے غذا حاصل کرتے ہیں۔
کپاس:ہندوستان کو روئی کی کا شت کا حقیقی گھر سمجھا جاتا ہے۔ سوتی کپڑے کی صنعت کے لیے روئی ایک بنیادی مال ہے۔2015 میں چین کے بعد ہندوستان دنیا میں کاٹن پیدا کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک تھا۔ کاٹن سطح مرتفع دکن کی سیاہ کپاس مٹی کے مختلف خشک حصوں میں پیدا ہوتی ہے۔ اسے اعلیٰ درجۂ حرارت، بلکی بارش یا سینچائی۔210گرم اور پالے سے پاک دن کھلی سورج کی روشنی نشوونما کے لیے مطلوب ہوتی ہے۔ یہ ایک خریف فصل ہے۔ اسے تیار ہونے میں چھ سے آٹھ ماہ کا عرصہ تک لگتا ہے، مہاراشٹر، گجرات، مدھیہ پردیش، کرناٹک، آندھرا پردیش،تلنگانہ، تمل ناڈو، پنجاب، ہریانہ اور اترپردیش روئی پیدا کرنے والی اہم ریاستیں ہیں۔
شکل 4.14 : کپاس کی کاشت
پٹ سن:
جوٹ کو سنہرے ریشے یا فائبر کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ پٹ سن عمدہ پانی سے سیراب سیلابی علاقے میں جہاں ہر سال نئی مٹی جمع ہوتی ہے اور فصل تیار ہونے کے وقت اسے اعلیٰ درجۂ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مغربی بنگال، بہار، آسام، اڈیشہ، اور میگھالیہ جوٹ پیداوار کی اہم ریاستیں ہیں۔ اس کا استعمال بندوق بیگ، چٹائی، رسی، قالین اور دوسری دستی مصنوعات کے بنانے کے لیے ہوتا ہے۔ بہت زیادہ مہنگا ہونے کی وجہ سے یہ مصنوعی ریشہ، پیکنگ والی اشیا مثلاً نائلون کے مقابلے اپنی مارکیٹ کھو رہا ہے۔
ٹکنالوجی اداروں سے متعلق اصلاحات
پچھلے صفحات میں اس کا تذکرہ کیا جاچکا ہے کہ ہندوستان میں کاشت کاری ہزاروں سالوں سے ہوتی آرہی ہے۔ کسی موافق ادارتی تکنیکی تبدیلی کے بغیر زمین کے دیر پا استعمال نے زرعی ترقی کی رفتار کو روکا ہے۔آب پاشی کے وسائل کی ترقی کے باوجود بیشتر کسان ملک کے بڑے حصوں میں آج بھی اپنی کھیتی باڑی کے کام کو انجام دینے کے لیے برسات اور قدرتی زرخیزی پر انحصار کرتے ہیں۔ بڑھتی آبادی کے لیے یہ ایک سنجیدہ چیلنج کی صورت حال ہے۔ زراعت 60فیصدی سے زائد آبادی کو روزی روٹی فراہم کرتی ہے، چند سنجیدہ تکنیکی اور ادارتی اصلاحات کی متقاضی ہے۔ اس طرح ملک میں آزادی کے بعد ادارتی اصلاحات کو بروئے کارلانے کے لیے زمین کی ملکیت کو مجتمع کرنا،باہمی تعاون اور زمینداری کے خاتمہ وغیرہ کو ترجیح دی گئی۔ ہمارے پہلے پنچ سالہ منصوبہ میں زمین کی اصلاح مرکز توجہ تھی۔ حق وراثت جس سے پہلے ہی زمین کی ملکیت ٹکڑوں میں بٹ چکی تھی،اجتماعی ملکیت یا مالکانہ حقوق کو یکجا کرنے کی ضرورت تھی۔
زمین کی اصلاحات کے قوانین وضع ہو چکے تھے لیکن ان کا نفاذ یا تو نہیں تھا یا اس میں سردمہری تھی۔ حکومتِ ہندنے 1960اور 1975میں زراعت کی ترقی کے لیے زرعی اصلاحات کا آغاز کیا۔ پیکیج ٹکنالوجی پر بنی سبزانقلاب اور سفید انقلاب چند وہ تدابیر تھیں جو ہندوستانی زراعت کی قسمت کو سدھارنے کے لیے شروع کی گئی تھیں لیکن یہ تدبیریں بھی چند مخصوص علاقوں کی ترقی پر مرکوز ہوکر رہ گئیں۔ اسی لیے 1980اور 1990کے درمیان ایک جامع آراضی ترقیاتی منصوبہ شروع کیا گیا جس میں ادارتی اور تکنیکی دونوں قسم کی اصلاحات شامل تھیں۔ قحط سالی، سیلاب، سائیکلون، آگ زنی اور وبائی بیماریوں کے بر خلاف فصلوں کے انشورنس کا اہتمام، دیہی بینکوں کا قیام، کو آپریٹو یا تعاون باہمی کی سوسائٹیاں اور کسانوں کو سہولت بہم پہونچانے کے لیے کم شرح پر بینک قرضے وغیرہ اس سمت میں چند اہم اقدام ہیں۔
شکل 4.15 : زراعت میں استعمال کیا جانے والا جدید ٹکنالوجی کا سازوسامان
کسان کریڈٹ کارڈ(KCC) ذاتی حادثہ اسکیم (PAIS)وغیرہ حکومتِ ہند کی طرف سے کسانوں کی بہبود کے لیے چند دوسری اسکیمیں ہیں جو کسانوں کے فائدہ کے لیے متعارف کرائی گئیں۔علاوہ ازیں ریڈیو اور ٹیلی ویثرن پر مخصوص موسم کی خبریں اور کسانوں کے لیے قیمت کا زرعی پروگرام شروع کیے گئے۔ اہم فصلوں کے لیے حکومت کم از کم اعلان بھی کرتی ہے تاکہ بچولیوں اور سٹہ بازوں کے ناجائز استحصال کو روکا جاسکے۔
بھودان۔گرام دان
مہاتما گاندھی نے ونوبا بھاوے کو اپنا روحانی وارث قرار دیا ہے۔ انھوں نے ستیہ گرہ میں بھی حصہ لیا۔ وہ گاندھی جی کے تصور گرام سوراج کے پرستار تھے۔ گاندھی جی کی شہادت کے بعد انھوں نے گاندحی جی کے پیغام کو عام کرنے کے لیے پیدل سفر شروع کیا جو تقریباً سارے ملک پر محیط تھا۔ ایک مرتبہ جب وہ آندھرا پردیش کے پوچمپلی مقام پر تقریر کر رہے تھے تو چند بے زمین کسانوں نے اپنی معاشی بہبود کے لیے ان سے کچھ زمین کا مطالبہ کیا۔ ونوبابھاوے نے ان سے فوراً زمین دینے کا وعدہ تو نہیں کیا مگر انہیں یقین دلایاکہ اگر وہ کوآپریٹیوفارمننگ چاہتے ہیں تو وہ ان کے لیے زمین کی گنجائش پر حکومت ہند سے بات کریں گے۔ دفعتاً شری رام چندر ریڈی کھڑے ہوگئے اور 80ایکڑ زمین کو 80بے زمین گائوں والوں میں بانٹ دینے کی پیشکش کی۔ اس کا نام بھودان رکھا گیا۔ بعد میں انھوں نے سفر کیا اور پورے ہندوستان میں وسیع طور پر اپنے خیالات کو متعارف کرایا۔ بعض زمینداروں اور کئی گاؤں کے مالکوں نے کچھ گاؤں ان لوگوں میں تقسیم کرنے کی پیشکش کی۔ جن کے پاس زمین نہیں تھی اسے گرام دان کہا جاتا ہے۔ تاہم بہت سارے زمین مالکوں نے سیلنگ قانون کے خوف سے اپنی زمین کے بعض حصوں کو غریب کسانوں کو دینا پسند کیا۔ ونوبا بھاوے کے ذریعہ شروع کی گئی اس بھومی دان، گرام دان تحریک کو غیر خونی انقلاب (Bloos-less Revolution) بھی کہا جاتا ہے۔
قومی معیشت، روزگار اور مجموعی پیداوار میں زراعت کا حصہ
زراعت ہندوستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی رہی ہے۔ اگرچہ 1951 سے ملک کی مجموعی پیداوار (GDP) میں اس کی حصہ داری (Share) کا میلان گرتا جارہا ہے۔ 2010-11میں تقریباً کا روزگار 52فیصد حصہ زراعتی شعبے پر محیط ہے جو ہندوستان کی نصف سے زیادہ آبادی کا ذریعہ معاش ہے۔GDP میں زراعت کا گرتا ہوا حصہ ایک سنگین مسئلہ ہے کیوں کہ زراعت میں کسی قسم کی گراوٹ اور جمود دوسرے شعبوں میں زوال کا موجب بن سکتا ہے۔جس کے اثرات سماج پر زیادہ وسیع ہوسکتے ہیں۔
ہندوستان میں زراعت کی اہمیت کے مدنظر حکومت ہند نے زراعت کو جدید بنانے کے لیے منظم کوششیں کی ہیں۔ انڈین کونسل آف ایگری کلچرل ریسرچ (ICAR)، زرعی یونیورسٹیاں، جانوروں کے علاج کی خدمات، جانوروں کی نسلی افزائش کے مراکز، باغبانی کی ترقی پر شعبۂ تحقیقات اور موسمی پیشین گوئی میں ترقی وغیرہ کو ہندوستانی زراعت میں بہتری کے لیے فوقیت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دیہی آمدورفت میں سدھار کوبھی مذکورہ مقصد کے لیے ناگزیر خیال کیا جارہا ہے۔
علمی کام
معلوم کیجیے کہ ایک ہندوستانی کسان اپنے بیٹے کو کسان کیوں نہیں بنانا چاہتا ہے؟
جدول 4.1 ہندوستان : مجموعی گھریلو پیداوار(جی ڈی پی) کی افزائش اور بڑے شعبہ جات(%میں )
| شعبے |
2013-14 |
2014-15 |
2015-16 |
زراعت صنعتیں خدمات |
4.2 5.0 7.8 |
2.0- 5.9 10.3 |
1.1 7.3 9.2 |
| جی ڈی پی |
6.6 |
7.2 |
7.6 |
ماخذ : ایکونومک سروے 2015-16
مندرجہ بالا جدول 4.1کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ جی ڈی پی کی شرح افزائش میں کئی برسوں سے اضافہ ہورہا ہے۔ لیکن یہ ملک میں روزگار کے تسلی بخش مواقع نہیں پیدا کرپارہا ہے۔ زراعت میں شرح افزائش کم ہورہی ہے جو ایک سنگین صورت حال ہے۔ آج ہندوستانی کسانوں کو بین الاقوامی مقابلہ کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔حکومت عوامی سرمایہ کاری کو کم کررہی ہے۔ کھادوں پر چھوٹ میں کمی، اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کا سبب بنی ہے۔ مزید برآں زرعی اشیا پر درآمداتی ڈیوٹی نے ملک میں زراعت کے لیے ضرر رسانی کو ثابت کردیاہے۔ کسان زراعت سے اپنا سرمایہ واپس لے رہے ہیں۔ نتیجتاً شعبۂ زراعت کے روزگار میں گراوٹ آئی ہے۔
ملک کی متعدد ریاستوں میں کسان خودکشی کیوں کر رہے ہیں؟
کسانوں کو جب اتنے سارے مسائل کا سامنا ہے اور کاشت کی زمین بھی کم ہورہی ہے تو کیا ہم زرعی شعبہ میں روزگارکے متبادل مواقع کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟
زراعت پر عالم کاری (Globalisation) کا اثر
عالم گیری یا عالم کاری کوئی نیا مظہر نہیں ہے۔ یہ نوآبادکاری کے زمانے میں بھی تھی۔ انیسویں صدی میں جب یوروپی تاجر ہندوستان آئے، اُس وقت بھی ہندوستانی مسالے دنیا کے مختلف ملکوں کو برآمد کیے جاتے تھے۔ اس سے جنوبی ہند کے کسانوں کی ان مسالوں کی فصلیں اگانے کے لیے حوصلہ افزائی ہوتی تھی۔ یہ آج تک ہندوستان سے برآمد کی جانے والی اشیا میں ایک اہم شے ہے۔
انگریزوں کے زمانے میں ہندوستان کے کپاس کے علاقے برطانوی لوگوں کے لیے باعث کشش بنے اور بالآخر برطانیہ کے کپڑا بنانے والے کارخانوں کے لیے خام مال کے طور پر کپاس کی برآمد شروع ہوگئی۔ کپاس انگلستان بھیجی جانے لگی۔ مانچیسٹر اور لیور پول کی سوتی کپڑے کی صنعت عمدہ ہندوستانی کپاس کی دستیابی کی بناپر خوش حال ہوتی گئی۔
آپ چمپارن کی تحریک کے بارے میں پڑھ چکے ہیں جو 1917 میں بہار میں شروع ہوئی۔ یہ اس لیے شروع کی گئی کیوں کہ اس علاقے کے لوگوں کو اپنی زمین پرنیل (Indigo) کی کاشت پر مجبور کیا گیا جس کی ضرورت برطانیہ میں قائم صنعتوں کے لیے تھی۔ اس بناپر یہ کسان اپنے کنبوں کے لیے غلہ پیدا نہیں کرسکتے تھے۔
عالم کاری کے تحت،بالخصوص 1990 کے بعد،ہندوستانی کسانوں کے سامنے نئے چیلنج اور مصیبتیں کھڑی ہوگئی ہیں۔ باوجوداس کے کہ ہم چاول، کپاس، ربڑ، چائے، کافی، پٹ سن اور مسالوں کے اہم پیداکار ہیں، ہماری زرعی اشیا ترقی یافتہ ملکوں کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک میں زراعت کو سرکاری اعانت اور بڑی رعایتیں حاصل ہیں۔
سرگرمی
ہندوستان میں غذائی تحفظ، اس کی ضرورت اور کوششوں پر ایک مذاکرہ کا اہتمام کیجیے۔
شکل 4.16 ساگو ان کے ریشوں پر مصنوعی مخلوطی عمل
آج ہندوستانی زراعت خود کو دوراہے پر کھڑا پاتی ہے۔ زراعت کو کامیاب اور منافع بخش بنانے کے لیے چھوٹے اور حاشیائی کسانوں کی حالت کی بہتری کے لیے مناسب زور دینے کی ضرورت ہے۔ سبز انقلاب نے بہت سے وعدے کیے تھے۔ لیکن آج یہ تنازعات اور اختلاف آراسے گھرا ہوا ہے۔ الزام یہ ہے کہ اس کی وجہ سے زمین خستہ حال ہوئی ہے کیونکہ کیمیائی کھاد کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہورہا ہے۔ پانی کے ذخائر خشک ہوچکے ہیں اور حیاتیاتی تناسب غائب ہوتا جارہا ہے۔ آج کا کلیدی لفظ ’جین‘ یا توارثی نطفہ کا انقلاب ہے جس میں نطفہ کی انجینئرنگ شامل ہے۔
جینی انجینئری کو بیجوں کی دوغلی نئی قسموں کی ایجاد میں ایک طاقتور معاون کے طور پر تسلیم کیا جاتاہے۔
کیا آپ کسی ایسے بیج کا نام بتا سکتے ہیں جس کی جین میں تبدیلی لائی گئی ہو اور جس کا استعمال ہندوستان میں بڑے پیمانے پر کیا جاتاہو۔
شکل 4.17 : کیڑے مار دواؤں کے حدسے زیادہ استعمال سے وابستہ مسائل ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں میں وسیع طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں۔
درحقیقت نامیاتی (organic) کاشتکاری آج کل بہت مقبول اور زیر استعمال ہے کیونکہ یہ کارخانوں میں بنائی جانے والی کیمیائی اشیا جیسے کیمیائی کھاد اور کیڑے مار دواؤں کے بنا کی جاتی ہے۔ اسی لیے یہ ماحول پر منفی اثرات مرتب نہیں کرتی۔
کچھ ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ بڑھتی آبادی کو دیکھتے ہوئے اگر ہندوستانی کسان چھوٹے چھوٹے کھیتوں پر غلہ اُگانے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں توان کا مستقبل تاریک ہے۔ ہندوستان کی دیہی آبادی تقریباً 833 ملین (2011)ہے جو اندازاً 250 ملین یعنی 25 کروڑ ہکٹیئر زراعتی زمین پر منحصر ہے۔ اس کا اوسط فی کسان آدھا ہکٹیئر بنتا ہے۔
ہندوستانی کسانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی فصلوں کو اناج کی علاوہ کاشتکاری سے ہٹ کر اعلیٰ قدر و قیمت کی فصلوں کی طرف توجہ کریں۔ اس سے آمدنیاں بھی بڑھیں گی اور بیک وقت ماحولی حالت کا بگڑنا بھی کم ہوجائے گا۔ کیونکہ پھلوں، جڑی بوٹیوں، پھولوں، سبزیوں اور حیاتیاتی ڈیزل کی فصلیں مثلاً جتروفا اور جوجوبا، کو گنا اور چاول کے مقابلے کم آب پاشی درکار ہوتی ہے۔ ہندوستان کی متنوع آب و ہوا کو بہت ہی اعلیٰ قیمت کی فصلیں اگانے کے لیے کام میں لایا جاسکتا ہے۔
فصلوں کے انداز میں تبدیلی جیسے اناجوں سے اعلیٰ قدر کی فصلیں اگانے کا مطلب ہوگا کہ ہندوستان کو غذا درآمد کرنا ہوگی۔ 1960 کے عشرے میں اسے ایک تباہی سمجھا جاتاتھا۔ لیکن اگر ہندوستان اناج درآمد کرے اور اعلیٰ قدروقیمت کی اشیا برآمد کرے تو یہ اٹلی، اسرائیل اور چیلی کی کامیاب معیشتوں کی پیروی ہوگی۔ یہ تینوں ملک کھیتوں (فارموں) کی پیداوار (پھل، زیتون، خاص طور پر ان کے بیج اور ان سے تیار کردہ ہلکی شراب (وائن) برآمد کرتے ہیں اور اناجوں کو درآمد کرتے یعنی غیر ملکوں سے خریدتے ہیں۔ کیا ہم یہ جوکھم اٹھانے کے لیے تیار ہیں؟ اس مسئلے پر مذاکرہ کیجیے۔
مشقیں
1۔ کثیر الاختیاراتی سوالات
(i) مندرجہ ذیل میں سے کون ایسے زرعی نظام کی وضاحت کرتا ہے کہ صرف ایک ہی فصل ایک بڑے علاقے میں پیدا ہوتی ہے؟
(a) تبدیلی زراعت
(b) شجرکاری یا نباتاتی زراعت
(c) باغبانی
(d) محدود مگر زوردار زراعت
(ii) مندرجہ ذیل میں سے ربیع فصل کون سی ہے؟
(a) چاول
(b) چنا
(c) باجرہ
(d) روئی
(iii) مندرجہ ذیل میں سے رواں سال پھل فصل کون سی ہے؟
(a) دالیں
(b) جوار
(c) باجرہ
(d) تل
2۔ مندرجہ ذیل سوالوں کا جواب 30 الفاظ میں دیجیے۔
(i) کسی ایک مشروباتی فصل کا نام بتائیے اور اس کی نشوونما کے لیے درکار جغرافیائی حالات کا تعین کیجیے۔
(ii) ہندوستان کے کسی خاص پیداوار کا نام اور علاقہ بتائیے جہاں یہ پیدا ہوتی ہے۔
(iii) کسانوں کے مفاد میں حکومت کی جانب سے تعارف کرائے گئے مختلف ادارتی اصلاحی پروگراموں کی فہرست بنائیے۔
(iv) کاشت کی زمین دن بہ دن کم ہورہی ہے۔ کیا آپ اس کے انجام کا تصور کرسکتے ہیں؟
3۔ 120 لفظوں میں مندرجہ ذیل سوالات کا جواب دیجیے۔
(i) بیان کیجیے کہ زرعی اشیا میں اضافہ کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے کیا اقدام اٹھائے گئے ہیں؟
(ii) 1947میں تقسیم ملک نے کس طرح جوٹ کی صنعت کو متاثر کیا؟
(iii) ہندوستانی زراعت پر عالم کاری کے اثر کو بیان کیجیے۔
(iv) چاول کی پیداوار کے لیے مطلوبہ ارضیاتی حالات کی توضیح کیجیے۔
پروجیکٹ ورک
1۔ کسانوں میں تعلیم کی ضرورت پر اجتماعی بحث و مباحثہ کیجیے۔
2۔ ہندوستانی نقشہ کے خاکہ پر گیہوں پیدا کرنے والے علاقوں کی نشاندہی کیجیے۔
عملی کام
مخفی جوابوں کو ڈھونڈنے کیلیے آب اپنی افقی (Horizontally) اور عمودی (Vertically) تلاش (Search) کو بروئے کار لاتے ہوئے مندرجہ ذیل معمہ (Puzzle) کو حل کیجیے۔(معمہ کو انگریزی زبان کے الفاظ سے بھریں)
| Q |
D |
H |
A |
X |
N |
V |
B |
C |
N |
X |
M |
Z |
A |
| E |
R |
V |
Z |
J |
Q |
D |
J |
R |
S |
W |
E |
D |
S |
| W |
F |
R |
M |
F |
W |
G |
F |
I |
R |
A |
H |
K |
D |
| T |
V |
S |
B |
S |
R |
H |
H |
C |
G |
R |
L |
N |
F |
| R |
B |
H |
C |
A |
Y |
T |
A |
E |
H |
W |
C |
B |
G |
| W |
N |
A |
X |
H |
P |
E |
S |
S |
A |
K |
T |
R |
H |
| T |
D |
H |
Z |
J |
R |
A |
W |
O |
J |
S |
E |
I |
J |
| Y |
E |
E |
F |
F |
O |
C |
A |
G |
E |
A |
L |
C |
K |
| I |
G |
R |
S |
S |
T |
A |
T |
M |
Y |
F |
E |
T |
L |
| U |
A |
F |
G |
J |
E |
V |
Y |
U |
O |
J |
E |
D |
P |
| P |
S |
W |
S |
T |
I |
D |
U |
S |
Q |
H |
M |
U |
O |
| O |
F |
H |
A |
E |
N |
O |
T |
T |
O |
C |
A |
O |
U |
| I |
W |
T |
D |
Q |
Q |
R |
S |
U |
L |
F |
L |
O |
Y |
| F |
B |
A |
R |
T |
K |
Y |
G |
R |
H |
A |
U |
M |
T |
| H |
W |
I |
O |
U |
S |
H |
Q |
D |
G |
D |
K |
A |
E |
| L |
S |
A |
J |
K |
M |
N |
B |
V |
X |
C |
Z |
Q |
W |
1۔ ہندوستان کی دو خاص غذائی فصلیں
2۔ یہ ہندوستان کے موسم گرما میں فصل بونے کا موسم ہے۔
3۔ دالوں جیسے ارہر، مونگ، چنا، اُڑد میں…… ہوتا ہے۔
4۔ یہ موٹااناج ہے۔
5۔ ہندوستان کے دو اہم مشروبات …… ہیں۔
6۔ چار بڑے ریشوں میں سے ایک کالی مٹی پر اُگتا ہے۔