5
معدنیات اور توانائی کے وسائل
(MINERALS AND ENERGY RESOURCES)
ہابن اپنے والد کے ساتھ ایک دور دراز گاؤں سے گوہاٹی آیا۔
اس نے دیکھا کہ لوگ ایک عجیب طرح کی سڑکوں پر چلتی پھرتی اشیا کی طرح عجیب گھروں میں داخل ہورہے ہیں۔ اس نے ایک ایساباورچی خانہ بھی دیکھا جو بے شمار گھروں کو اپنے ساتھ کھینچے جارہا تھا۔ وہ یہ منظر دیکھ کر کافی متحیرہوا۔ اپنے والد سے پوچھ بیٹھا: ’’پاپا ہمارے گھر بھی گوہاٹی کی طرح کیوں نہیں گھومتے؟‘‘
والد نے جواب دیا: ’’بیٹا یہ گھر نہیں ہے یہ تو بسیں اور ٹرینیں ہیں‘‘۔ یہ ہم لوگوں کے گھروں کی طرح اینٹ اور پتھر سے نہیں بنائے گئے ہیںانہیں بنانے میں لوہا اور المونیم جیسی دھاتوں کا استعمال ہوا ہے اور یہ بھی جان لو کہ یہ خود بخودنہیں گھومتے یہ تو انجن کے ذریعہ چلائے جاتے ہیں اور انجن کے چلنے میں توانائی کی ضرورت پڑتی ہے۔
ہم لوگ اپنی روز مرہ کی زندگی میں دھاتوں سے بنی چیزوں کو استعمال کرتے ہیں۔ کیا آپ اپنے گھر میں استعمال ہونے والی دھاتوں سے بنی ہوئی چیزوں کی ایک فہرست تیار کرسکتے ہیں ؟ یہ دھاتیں کہاں سے آتی ہیں؟
آپ نے پڑھا ہوگا کہ زمین کی اوپری پرت چٹانوں سے حاصل شدہ دھاتوں سے بنی ہے۔ مختلف قسم کی دھاتیں معدنیات سے صفائی کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہیں؟
معدنیات ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ ہمارے استعمال کی تقریباً تمام چیزیں ایک چھوٹے پن سے لے کر ایک اونچی عمارت تک یا پھر ایک بڑے جہاز تک۔ تمام چیزیں معدنیات سے بنائی جاتی ہیں۔ ریل لائن سڑکوںکا ڈامر یا تارکول، اوزاریں اور مشین بھی تو معدنیات سے بنائی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ کاریں، بسیں یہاں تک کہ جہاز بھی معدنیات سے بنائے جاتے ہیں اور توانائی کے ذریعہ چلائے جاتے ہیں۔ یہ توانائی زمین سے حاصل ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ غذائیں جو ہم لیتے ہیں، اس میں بھی معدنیات پائی جاتی ہیں۔ ترقی کے ہر مرحلے میں بنی نوع انسان نے اپنی زندگی، سجاوٹ، تیوہاروں اور دوسری مذہبی تقریبات کے لیے معدنیات کااستعمال کیا ہے۔
ٹوتھ پیسٹ اورمعدنیات سے دلکش مسکراہٹ
ٹوتھ پیسٹ آپ کے دانتوں کی صفائی کرتا ہے۔ صاف کرنے والی معدنیات جیسے سیلیکا چونا پتھر، المونیم آکسائڈ اور مختلف قسم کے فاسفیٹ معدنیات صفائی کا کام کرتے ہیں۔ فلورائڈ جو جوف کو پاٹتے ہیں وہ ایک فلورائٹ نام کے دھات سے حاصل ہوتا ہے۔ زیادہ تر ٹوتھ پیسٹ سفید ٹائیٹینیم آکسائڈ سے بنائے جاتے ہیں جو ریوٹائل، المینائٹ اور اناٹلے نام کے دھات سے حاصل کیا جاتا ہے۔ کچھ ٹوتھ پیسٹوں میں جو چمک ہوتی ہے وہ ابرق سے حاصل کی جاتی ہے۔ ٹوتھ برش اور اس کا کیسہ پلاسٹک سے بنا ہوا ہوتا ہے جو کہ پٹرولیم سے دستیاب ہوتا ہے۔ یہ تمام معدنیات کہا ںسے آتی ہیں؟ معلوم کرنے کی کوشش کیجیے۔
ذرا اور گہرائی میں جائیے اور معلوم کیجیے کہ روشنی کا بلب بنانے میں کتنی معدنیات استعمال کی جاتی ہیں؟
تمام موجودات کو معدنیات کی ضرورت ہے
زندگی کا پہیہ بغیر معدنیات کے نہیں چل سکتا۔ باوجودیہ کہ ہم اپنی والی خوراک میں کا صرف 0.3 فیصدی معدنیات استعمال کرتے ہیں؛ پھر بھی وہ اتنے اہم ہیں کہ اس کے بغیر ہم اپنی خوراک کی بقیہ 99.7 فی صد غذائوں سے مستفید نہیں ہوسکتے۔
ذرا اور گہرائی میں جائیے اور کھانے کی چیزوں پر لگے لیبلوں(Label)سے ’’غذائتی حقائق جمع کیجیے۔
معدن کیا ہے؟
ماہر ارضیات نے دھات کو اس طرح متعارف کیا ہے۔’’ دھات ایک قسم کا ایسا مادہ ہے جو قدرتی طور پر پایا جاتا ہے اور جس کی اندرونی ترکیبات کی وضاحت بھی کی جاسکتی ہے‘‘۔ معدنیات کائنات میں مختلف شکلوں میں پائی جاتی ہیں۔ یہ سخت ہیرے کی شکل میں بھی ہوجاتے ہیں۔ اور نرم و نازک ابرق کی شکل میں بھی۔اب سوال یہ ہے کہ معدنیات اتنے مختلف کیوں ہوتے ہیں؟
آپ کو چٹان کے بارے میں پہلے سے ہی واقفیت ہے۔ چٹان ایک صنف کے معدنیات کا مرکب ہوتا ہے جسے دھات کہا جاتا ہے۔ کچھ چٹانیں ایک ’’دھات‘‘ سے مرکب ہوتی ہیں جیسے: چونا پتھر۔ جبکہ زیادہ تر چٹانیں بہت سی دھاتوں سے مرکب ہوتی ہیں اور ان کا تناسب بھی مختلف ہوتا ہے۔ ابھی تک تقریباً دوہزار دھاتوں کو پہنچا نا گیا ہے لیکن صرف کچھ چٹانو ں میں ہی دھاتیں زیادہ مقدار میں پائی گئی ہیں۔
کوئی دھات جو ایک خاص قسم کے اجزا ترکیبی سے وجود میں آتی ہے تو وہ اس کا انحصاراس دھات سے ہوتا ہے جس دھات سے وہ بنی ہوتی ہے یعنی اس کی طبیعی یا کیمیائی حالت پر منحصر ہوتا ہے۔ اسی کے نتیجے میں رنگوں کا تنوع، سخت بلّوری شکل، چمک اور کثافت ظہور میں آتی ہے۔
دھاتوںپر ماہرینِ جغرافیہ اور ماہرینِ ارضیات کا مطا لعہ
ماہرین جغرافیہ دھاتوں کامطالعہ زمین کی اوپری حصہ کے طورپر کرتے ہیں اور تشکیل ارض کو بہتر طریقے سے سمجھا جاسکے۔ دھاتوں کے ذرائع کی تقسیم اور اس سے منسلک افتصادی سرگرمیاں ماہرینِ جغرافیہ کی دلچسپی کا مرکر ہوتا ہے جبکہ ماہرین ارضیات کی دلچسپی دھاتوں کی بناوٹ، ان کی عمر اور ان کی طبیعی اور کیمیاوئی ترکیبات میں ہوتی ہے۔
بہر حال، عمومی اور تجارتی مقاصد کے لیے دھاتوں کی درجہ بندی ذیل کے طریقے سے ہوسکتی ہے۔
دھات کے وقوع پذیر ہونے کی صورت
یہ دھاتیں کہا ںپائی جاتی ہیں؟
بالعموم دھاتیں خام حالت میں پائی جاتی ہیں۔ لفظ ’’خام‘‘ کا اضافہ اس لیے کیا گیا تاکہ اس بات کا علم ہوسکے کہ دھاتوں کے مجموعے میں دوسرے اجزا سے بھی ملے ہوتے ہیں۔ خام دھات کا معدنی جوہر بھی و افرار تکاز کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ یہ تجارتی طور پر مقابلہ کے قابل ہو۔ بناوٹ یا ساخت کیقسم جس میں وہ پائے جائیں اس بات کا تعین کرتی ہے کہ معدنیات کی کان کنی کتنی آسانی کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔ یہ عنصر استخراج کی قیمت کابھی تعین کرتا ہے۔ اسی لیے ہمارے لیے بناوٹ کی ان اہم اقسام کا جاننا بہت اہم ہے جس میں معدنیات پائی جاتی ہیں۔
معدنیات
توانائی معدنیات
غیر دھاتی
دھاتی
م

دھاتیں بالعموم ان شکلوں میں وقوع پذیر ہوتی ہیں:
(i) آتشیں یا تغیر پذیر چٹانوں میں معدنیات شگافوں، سوراخوں، چٹانوں، گہرائیوں اور جوڑوں میں واقع ہوسکتی ہیں۔ کم مقدار میں دھات پائے جانے کو رَگ کہا جاتاہے جب کہ بڑی مقدار کوپَرت (Lode)کہتے ہیں۔ زیادہ تر حالتوں میں معدنیات اس وقت بنتی ہیں جب وہ رقیق یا پگھلی شکل میں یا پھر گیس کی صورت میں سوراخوں کے ذریعہ زمین کی اوپری سطح پرآتی ہیں۔ یہاں آکر وہ ٹھنڈی اور سخت ہوجاتی ہیں۔ اہم فلزاتی معدنیات جیسے: ٹین،تانیہ اور سیسہ وغیرہ،رگوں اور پرتوںسے حاصل کی جاتی ہیں۔
(ii) پرت دارچٹانوں میں بہت ساری معدنیات زمین کی طبقوں یا تہوں (Layers or Beds) میں پائی جاتی ہیں۔ افقی طبقوں میں تہہ نشینی، ارتکاز یا اکٹھا سونے کی وجہ بن جاتے ہیں اورارتکاز سے ہوتا ہے کوئلہ اور خام لوہے کی کچھ شکلیں ارتکازی(یا یکجا جمع ہوجانے) کے عمل سے حاصل ہوتی ہیں او ریہ سخت حرارت اوردبائو کے نتیجہ میں ایک لمبی مدت کے بعد ہی ہوتا ہے۔ تہہ دار دھاتوں کی ایک دوسری قسم جیسم، پوٹاش، نمک اورسوڈیم وغیرہ ہے۔ یہ خاص طور سے خشک علاقوں میں تبخیری عمل کے ذریعہ تشکیل پاتے ہیں۔
(iii) معدنیات کی بناوٹ کی ایک اور شکل بھی ہے جو سطحی چٹانوں کے سڑ گل جانے اور حل ہونے والے اجزائے ترکیبی کے نکال دینے سے بنتی ہے۔ سڑی گلی باقیات کے ایک تودہ کو چھوڑادیاجاتا ہے۔ باکسائٹ اسی عمل کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے۔
(iv) کچھ دھات سیلابی مٹی اور ریت کے جمع ہونے سے بھی بنتے ہیں، جو وادیوں کی تہہ اور پہاڑوں کے دامن اور گھاٹی کی سطح کے بالو میں بہہ کر آجاتے ہیں۔ جمع ہوئے ان اجزا کو Placer Deposit کہا جاتا ہے۔ ان میں عام طور سے ایسی معدنیات ہوتی ہیں جو پانی میں تحلیل نہیں ہوتیں۔ سونا، چاندی، ٹین، پلاٹینیم ایسی دھاتوں کے زمرے میں آتے ہیں۔
(v) سمندرکے پانی میں بھی بڑی مقدار میں معدنیات موجود ہوتی ہیں۔ لیکن ان کا زیادہ تر حصہ اقتصادی ا ہمیت کا نہیں ہوتا۔ پھر بھی نمک، میگنیشیم، برومین بڑے پیمانے پر سمندرکے پانی سے حاصل ہوتے ہیں۔ سمندری تہوں میں میگنیز کے ٹکڑے بڑی مقدار میں ہوتے ہیں۔
•دلچسپ حقیقت
'Rat-Hole Mining'
چوہےکےبل سے معدنیات نکالنا۔ کیا آپ کو علم ہے کہ ہندوستان کی زیادہ تر معدنیات کو قومی ملکیت بنا دیا گیا ہے اوران کا استخراج حکومت سے اجازت کے بعد ہی ممکن ہے؟ لیکن شمالی، مشرقی ہندوستان کے علاقے میں دھاتوں پر فرد اور جماعت کی ہی ملکیت ہے۔ میگھالیہ میں کوئلہ، چونا، پتھر، اور خام لوہے کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ جُوائی اور چیرا پونجی علاقوں میں کوئلے کی کھدائی خاندان کے افراد کے ذریعہ ایک لمبی،تنگ سرنگ کے ذریعہ کی جاتی ہے، جسے
Rat Hole Mining
یا ’چوہے کے بل کی کان کنی‘ کہا جاتا ہے۔نیشنل گرین ٹریبونل نے اس قسم کی سرگرمیوں کوغیرقانونی قراردیا ہے اوریہ سفارش کی ہے کہ ایسی سرگرمیوں کوآگے انجام دیے جانے سے روک دینا چاہیے۔
ذرا اور گہرائی میں جائیے: کھلے گڈھے کی کان، پتھر کی کان اور زیر زمین ستونوں والی کان میں کیا فرق ہے؟
ہندوستان اس معنی میں بہت خوش قسمت ہے کہ یہاں مختلف قسم کے معدنی وسائل بڑی مقدار میں موجود ہیں۔ لیکن ان کی تقسیم غیر متوازن ہے۔ جزیرہ نما چٹانوں میں کچا لوہا، کوئلہ، ابرق اور دوسرے غیرآہنی دھاتوں کا ایک بڑا حصہ محفوظ ہے۔ آسام و گجرات کے جزیرہ نما کے مشرقی ومغربی بازو کی تہہ نشیں چٹانوں میں پٹرولیم کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ راجستھانی جزیرہ کا چٹانی نظام بھی اپنے اندر بہت سارے غیرآہنی دھاتوں کو محفوظ کیے ہوئے ہے۔ شمالی ہند کا سیلابی میدان معاشی ا ہمیت کی معدنیات سے قریب قریب محروم ہے۔ بڑی حدتک یہ تمام فرق ارضیاتی ساخت، عمل اوروقت میں اختلافات کی بنیاد پر ہے جس سے ان دھاتوں کی تشکیل ہوتی ہے۔
آئیے! ا ب ہم ہندوستان میں کچھ اہم معدنیات کی تقسیم کامطالعہ کرتے ہیں۔ یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ خام اشیا میں دھاتوں کا ارتکاز، آسانی سے استخراج، اور بازارکی قربت، ذخیرہ کی اقتصادی قوت کو متاثر کرنے میں اہم رول ادا کر تے ہیں۔ اس طرح مانگ کی تکمیل کے لیے بے شمار ممکن اختیارات میں سے ایک کو منتخب کرنا ہوتا ہے۔ جب یہ عمل پذیر ہوتا ہے تو معدنی ذخیرہ ’کان‘ میں تبدیل ہوجاتاہے۔
آہنی معدنیات
آہنی معدنیات کل معدنی دھاتوںکی پیداوارکی قیمت کا تین چو تھائی ہیں۔ یہ دھات کی صفائی کے کارخانے کی ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ ہندوستان اپنی اندرونی مانگوں کو پورا کرنے کے بعد آہنی معدنیات کی ایک وافر مقدار بر آمد کرتا ہے۔

شکل 5.2 : ریاستوں کے حصے کچے لوہے کی پیداوار فی صد میں
2009-2010
کچا لوہا
کچا لوہا صنعتی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی اورایک بنیادی دھات کی حیثیت رکھتا ہے۔ہندوستان عمدہ کچے لوہے کی دولت سے مالامال ہے۔ میگناٹائٹ ایک عمدہ کچالوہا ہے جس میں 70فیصد تک عمدہ اجزا شامل ہیں۔ یہ ایک شاندار مقناطیسی خاصیت رکھتا ہے جو بالخصوص برقی صنعتوں کے لیے زیادہ قیمتی ہے۔ کچا ہیماٹائٹ مقدار کے اعتبار سے ایک بہت اہم صنعتی معدن ہے۔ لیکن یہ اپنے اجزا ترکیبی کے اعتبارسے میگناٹائیٹ (50-60)کے مقابلے میں ذرا کم اہمیت کا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
کنٹر زبان میں kudreکے معنی گھوڑاہوتے ہیں۔ کرناٹک کے مغربی گھاٹ کی سب سے اونچی چوٹی گھوڑے کے چہرے جیسی معلوم ہوتی ہے اسی طرح ’بیلا ویلا‘ کی پہاڑیاں بیل کے کوبڑ جیسی دکھائی دیتی ہیں۔ اسی مناسبت سے ان کا نام بھی اسی طرح رکھاگیا ہے۔

شکل 5.3 : کچے لوہے کی کان
ہندوستان میں کچے لوہے کی خاص پٹیاں کچھ اس طرح ہیں:
• اڑیسہ – جھارکھنڈ پٹی:
اڑیسہ میں ہیماٹائٹ کے اچھے درجہ کی پٹی میور بھنج کی بادام پہاڑ کانوں کیندو جھار ضلعوں میں پائی جاتی ہے۔ اور اس سے متصل جھارکھنڈ کے سنگھ بھوم ضلع کے گووآ اور نوآمنڈی میں بھی ہیماٹائٹ خام لوہا دستیاب ہے۔
• درگ– بستر– چندرپور پٹی:
یہ چھتیس گڑھ اور مہاراشٹرمیں واقع ہیں۔ ہیماٹائٹ کی عمدہ قسم چھتیس گڑھ ضلع کے بستر میں بیلا ویلا کے پہاڑی سلسلوں میں پائے جاتے ہیں۔ پہاڑیوں کا سلسلہ ہیماٹائٹ کے عمدہ قسم کے 14 ذخیرہ کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس میں اسٹیل یعنی فولاد بنانے کے لیے درکار طبعی خصوصیتیں موجود ہیں۔ ان کانوں کے کچے لوہے وشاکھاپٹنم کے بندرگاہ کے راستے جاپان اور جنوبی کوریا کو برآمد کیے جاتے ہیں۔
• کرناٹک کا بلادی – چتردرگا – چک منگلورو– تمکورو پٹی:
میں کچے لوہے کے ذخائر موجود ہیں۔ کرناٹک کے مغربی گھاٹ میں واقع کو درمکھ کی کانیں سوفیصد برآمد کی اکائیاں ہیں۔ کو در مکھ کا ذخیرہ دنیا میں ایک بڑے ذخیرہ کی حیثیت سے جانا جاتاہے۔ کچا مال منگلورو کے نزدیک ایک بندرگاہ تک پائپ لائن کے ذریعہ منتقل کیاجاتا ہے۔
• مہاراشٹر اور گوا پٹی :
ریاست گوا وار مہاراشٹر کے رتنا گری ضلع تک محیط ہے۔ باوجود کہ یہاں کے کچے مال بہت عمدہ قسم کے نہیں ہیں پھر بھی وافر مقدار میں ان سے فائدہ ا ٹھایا جاتا ہے۔ کچا لوہا مارما گاؤ بندگارہ کے راستے برآمد کیا جاتا ہے۔
مینگنیز
مینگنیز خاص طور سے اسٹیل بنانے اور لوہا اور مینگنیز کی آمیزش میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک ٹن اسٹیل بنانے میں تقریباً 10کلومینگنیز کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کا استعمال بلیچنگ پائوڈر بنانے،کیڑے ماردوائیں اور رنگ بنانے میں بھی اس کا استعمال ہوتاہے۔

شکل 5.4 : 2009-10 میں ریاست وار مینگنیز کی پیداوار کا حصہ (فی صد)
اڈیشہ ہندوستان میں کچا مینگنیز پیدا کر نے والا ایک بڑی ریاست ہے۔ اس رہاست نے2001۔2000 میں ملک کی کل پیداوار کا ایک تہائی مینگنیز پیدا کیا ہے۔
ذرا اور کھدائی کیجیے ان نقشوں کو ایک کے اوپر کرکے رکھیے خام لوہے، مینگنیز کوئلہ ا ور لوہے وفولاد کی تقسیم دکھائی گئی ہے۔ کیا آپ کو ان میں کوئی باہمی وسط دکھائی دیتا ہے۔ کیوں؟
غیرآہنی معدنیات
ہندوستان میں غیر آ ہنی معدنیات کی پیداوار اور اس کا تحفط تشفی بخش ہے۔ بہر حال دیگر معدنیات مثلاً تانبہ، باکسائٹ، سیسہ، زنک اور سونا وغیرہ برقی،انجینئرنگ اور صفائی کی صنعتوں میں ا ہم رول ادا کرتے ہیں۔ اب ہمیں تانبا اور باکسائٹ کی تقسیم کامطالعہ کرنا چاہے۔
تانبہ
ہندوستان تانبے کی پیداوار اور اس کے ذخائر کے معاملے میں خطرناک حدتک کمی کا شکارہے۔ نرم،ورقی اور ایک اچھا کنڈکٹر یا موصل ہونے کی وجہ سے تانبے کا استعمال بجلی کے تار، الیکٹرونک اور کیمیائی صنعتوں میں ہوتاہے۔ مدھیہ پردیش کا بالا گھاٹ ہندوستان کا 52 فی صد تانبا پیدا کرتا ہے۔سنگھ بھوم جھار کھنڈ تانبے پیدا کرنے والا ایک اہم ضلع ہے۔ راجستھان کا کھیتری بھی اس سلسلے میں مشہور ہے۔

شکل 5.5 : ملانجی کھنڈ میں تانبے کی کانیں
باکسائٹ
باوجود یہ کہ باکسائٹ کااہم جزالمونیم ہوتا ہے۔ اسی سے المونیم نکالاجاتا ہے۔ باکسائٹ ایک چکنی مٹی جیسا مادہ ہوتا ہے جس سے پہلے پہلے الومنا پھر المونیم حاصل کیا جاتاہے۔ باکسائٹ اس وقت بنتا ہے جب چٹانوں کی وسیع تبدیلی کی بوسیدگی، المونیم سلکیٹ کو وافر مقدار میں پیدا کرتی ہیں۔

ہندوستان : کچے لوہے، مینگنیز، باکسائٹ اور ابرق کی تقسیم


شکل 5.7: باکسائٹ کی کان
المونیم اہم معدنیات میں سے ایک ہے کیونکہ یہ دھاتوں کی طاقت کا اتصال کرتاہے۔ بطور مثال: لوہا اسکے ساتھ مل کر بہت زیادہ چمک دیتا ہے۔ اس کے علاوہ المونیم ایک اچھا کنڈکٹر اور بہت نرم اور لچک دار بھی ہوتا ہے۔
ہندوستان میں باکسائٹ کا ذخیرہ امر کنٹک کے سطحِ مرتفع کے میدانوں میں پایا جاتا ہے۔ اسکے ساتھ ہی مائکال کی پہاڑیوں اور بلاس پور۔ کٹتی کے سطح مرنفع کے علاقوں میں بھی باکسائٹ پایا جاتا ہے۔
2016-17میں اڈیشہ ہندوستان میں سب سے زیادہ باکسائٹ پیدا کرنے والا صوبہ ہے۔ پنچ پٹ مالی کے (کور اپت ضلع) کا ذخیرہ صوبے کے مشہور باکسائٹ کا ذخیرہ مانا جاتا ہے۔
ذرا اور گہرائی میں جائیے:ہندوستان کے طبیعی نقشہ پر باکسائٹ کی کانوں کی نشان دہی کیجیے۔
•دلچسپ حقیقت
المونیم کی دریافت کے بعد فرمانروا نپولین سوم نے اپنے کپڑے پر المونیم سے بنے بٹن اورہک لگائے اور اپنے عظیم الشان مہمانوں کے لیے اس نے المونیم کے برتن میں اور کمتردرجہ کے مہمانوں کے لیے سونے اورچاندی کے برتنوں میں خوان چنوائے۔ اس واقعے کے تیس سال بعد المونیم کے برتن پیرس میں فقیروں کے لیے بہت عام ہوگئے۔
غیر آ ہنی معدنیات
ابرق ایک ایسا معدن ہے جو پتیوں یا طشتریوں کے ایک سلسلے سے بنتاہے۔ یہ بہ آسانی چادروں میں پھٹ جاتا ہے۔ یہ چادریں اتنی پتلی ہوتی ہیں کہ ابرق کی کچھ سینٹی میٹر چادروں میں ہزاروںپرتیں نکل سکتی ہیں ابرق صاف، کالا، ہرا، لال،پیلا اور بھورا ہوسکتا ہے۔ شاندار ڈائی برقی طاقت، قلیل زیاں محرک موصل، برق ہونے کی خصوصیتیں اور اونچی و ولٹج سے مزاحمت کرنے کی وجہ سے ابرق الیکٹرونک اور برقی صنعتوں میں استعمال ہونے والا ایک لازمی معدن بن گیا ہے۔
ابرق کے ذخیرے چھوٹا ناگپورسطح مرتفع کے شمالی کنارے کے علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ جھارکھنڈ کا کوڈرما،گیا، ہزاری باغ— یہ ابرق پیدا کرنے والی اہم پٹی ہے۔
راجستھان میں ابرق پیدا کرنے والا خاص علاقہ اجمیر کے پاس ہے۔ آندھر ا پردیش کا نیلورپٹی ملک میں ابرق پیدا کرنے والا اہم علاقہ ہے۔
چٹانی معدنیات
چوناپتھر کیلشیم کا ربونیٹ یاکیلشیم اور میگنیشیم کا ربونیٹ کے چٹانی مرکبات کے شمولیت سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ ارضیاتی ساخت کے تہہ نشیں چٹانوں میں پایا جاتاہے۔چونا پتھر، سیمنٹ صنعت کے لیے ایک بنیادی خام مال ہے۔ ساتھ ہی بھٹیوں میں کچے لوہے کو گلانے کے لیے بھی یہ ضروری دھات ہے۔
ذرا اور گہرائی میں جائیے:نقشوں کا مطالعہ کرکے وضاحت کیجیے کہ چھوٹا ناگپور کیوں معدنیات کی ذخیرہ گاہ ہے۔

شکل 5.8 : 17−2016 میں چونا پتھر کی پیداوار ریاستوں کے حصے کے اعتبار سے(فی صد میں)
کھدائی کے خطرے
کیا آپ نے کان کنی یاکھدائی کرنے والوں کی جاں فشانی پرکبھی حیرت کی ہے جو آپ کی زندگی کو خوشحال بناتے ہیں؟ ماحول اور کھدائی کرنے والے کی صحت پرکھدائی کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں— یہ بھی کبھی سوچا ہے؟ دھول اورزیرزمین دھوئیں جو کھدائی کرنے والوں کے سانسوں کے ذریعہ ان کے پھیپھڑوں میں جاتا ہے۔ یہ انہیں خطرناک پھیپھڑوں کی بیماری تک لے جاتے ہیں۔ کانوں کی چھتوں کے گرنے کے اندیشہ سے کوئلے کی کانوں میں آتش زدگی اور سیلاب کا خطرہ کھدائی کرنے والے کے سروں پر ہمیشہ منڈلاتارہتاہے۔ کھدائی کے سبب اس علاقے میں پانی کے ذرائع آلودہ ہوجاتے ہیں۔ فضلات کا ڈھیر زمین اور مٹی کی عمر کو کم کرتا ہے اور ندی اور تالابو ں کو آلودہ بھی۔ سخت حفاظتی اقدامات اورماحولیاتی قانون کا اجراکھدائی کو قاتل صنعت میں تبدیل ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔

معدنیات کا تحفظ
ہم سبھی صنعت وزراعت کے معدنی ذخیرے پر مکمل انحصار اور ان صنعتوں سے پیدا ہونے والی ا شیاکی بڑی قدر کرتے ہیں۔ کام کے لائق کل معدنی ذخیرہ کے پورے حجم کا ایک معمولی حصہ یعنی سطح زمین کا ایک فیصد ہمارے پاس ہے۔ ہم بڑی تیزی کے ساتھ ان معدنی وسائل کا استعمال کر رہے ہیں جن کے بننے اورجمع ہونے میں ہزاروں سال لگے ہیں۔ معدنی اشیا کی تعمیر کا ارضیاتی عمل اتنا دھیما ہے کہ اس کے پر ہونے کی شرح اس کے استعمال ہونے کی شرح کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ایک طرف معدنی وسائل محدود ہیں تو دوسری طرف تجدید کے لائق بھی نہیں ہیں۔ وافر معدنی ذخیرے سارے ملک کے لیے قیمتی ہیں لیکن یہ بہت کم ہیں۔ کچھ معدنیات کا مسلسل استخراج اخراجات میں اضافے کا سبب ہے کیوں کہ معدنی استخراج، بڑی گہرائیوں سے کرنا پڑتا ہے اور یہ اچھے قسم کا بھی نہیں ہوتا۔ معدنی وسائل کے صحیح استعمال کے لیے ایک مرکزی کوشش کی ضرورت ہے تاکہ ان ذرائع کا استعمال ایک منصوبہ بندطریقے سے ہوسکے۔ ادنیٰ قسم کی خام چیزوں کو کم قیمت پر استعمال کرنے کے لیے اعلیٰ قسم کی کی ٹیکنالوجی کو بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔ معدنیات کا دوبارہ استعمال، خارج از استعمال دھاتوں کو کام میں لانا، اور اس طرح کے دوسرے متبادل ایسے اقدامات ہیں جو ہمارے معدنی وسائل کا مستقبل تک تحفظ کرسکتے ہیں۔
ذرا اور گہرائی میں جائیے:فہرست تیار کیجیے جن میں معدنیات کی جگہ ان کے بدل استعمال کیے جارہے ہیں۔ یہ بدلی یا متبادلی اشیا کہاں سے حاصل کی جاتی ہیں؟
توانائی کے وسائل
ہر قسم کی سرگرمی کے لیے توانائی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس کی ضرورت کھانے پکانے، روشنی اور گرمی مہیاکرانے، گاڑیوں کو چلانے اور کارخانوں میں مشینوں کو چلانے وغیرہ میں بھی ہوتی ہے۔ توانائی کی درجہ بندی روایتی وغیر روایتی وسائل کے تحت کی جاسکتی ہے۔ روایتی وسائل میں ایندھن کی لکڑیاں، مویشیوں کے گوبرکے اُپلے، کوئلے، پڑولیم، قدرتی گیس اور بجلی (ہائیڈل اور تھرمل) آتے ہیں۔ غیر روایتی ذرائع کے تحت شمسی توانائی، مدّوجزر، ارضی حرارت، بایوگیس اور ایٹمی توانائی آتے ہیں۔ایندھن کی لکڑی اور مویشیوں کے گوبر دیہی علاقوں میں بہت عام ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق دیہی علاقوں میں تقریباً 70 فیصد سے زیادہ توانائی کی ضرورتیں مذکورہ دونوں ذرائع سے پوری ہوتی ہیں۔ لیکن دونوں چیزوں کے تسلسل کو باقی رکھنا جنگلی علاقے میں کمی واقع ہونے کی بنیاد پر دشوار نظرآرہا ہے۔ مزید مویشیوں کے گوبروں کے ایندھن کی شکل میں استعمال کی بھی اب حوصلہ شکنی کی جارہی ہے کیونکہ اس سے زراعت میں کھاد کی شکل میں استعمال ہونے والے امکانات متاثرہورہے ہیں۔
توانائی کے روایتی وسائل
کوئلہ۔کوئلہ ہندوستان میں معدنی ایندھن کی شکل میں وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ یہ ملک کی توانائی ضرورتوں کے لیے ایک کافی بڑا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال توانائی کی تخلیق صنعتوں، کو توانائی کی فراہمی اور گھریلو ضرورتوں کے لیے بھی ہوتا ہے۔ ہندوستان اپنی تجارتی توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اسی پر منحصر ہے۔
5.10 شکل ( a )
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ کوئلہ پودوں کے مادے کے ہزاروں سال زمین کے اندر دبے رہنے کے بعد بنتا ہے۔ اس لیے دباؤ کے درجہ پر منحصر ہونے او رگہرائی اور مدفون ہونے کے اوصاف پر انحصار رکھنے کے سبب مختلف شکلوںمیں پایا جاتاہے۔ دلدل میں سڑے ہوئے پودے سے نباتاتی کوئلہ حاصل ہوتا ہے جس کے اندر قلیل کاربن، اعلیٰ درجہ کی نمی اور جلنے کی بہت کم صلاحیت ہوتی ہے۔ لیگنائٹ ایک کم درجے بھورا کوئلہ ہے جس میں ملائمیت اعلی درجہ کی نمی کے ساتھ ہوتی ہے۔ اصل لیگنائٹ کے ذخائر نیویلی (تمل ناڈو) میں ہے جس کا استعمال بجلی پیدا کرنے میں ہوتا ہے۔ کوئلہ جو گہرائی میں دفن ہوتا ہے اور اضافی حرارت کا مستلزم اسے Bituminous coal کہاجاتا ہے۔ یہ تجارتی استعمال کے لیے سب سے اہم ہے۔آ ہنی کوئلہ اونچے درجے کا Bituminous coalہوتا ہے جو آگ کی بھٹّی میں گلانے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ انتھر اسائٹ سخت لوہے کی عمدہ قسم ہوتی ہے۔
ہندوستان: کوئلہ، تیل اور قدتی گیس کی تقسیم
کوئلہ ہندوستان دوخاص ارضیاتی زمانہ کے چٹانی سلسلہ میں واقع ہے۔ اس چٹانی سلسلہ کا نام گونڈوانہ ہے جو عمر میں دوسوملین سال سے زیادہ ہے۔ ذخیرہ جو صرف 55 ملین سال پرانا ہے۔ گونڈوانہ کوئلہ کے خاص ذرائع، جوصاف کیے گئے کوئلے ہیں، دامود ر گھاٹی میں متعین کیے گئے ہیں(مغربی بنگال،جھارکھنڈ)۔ بوکا رو، جھریا،رانی گنج— کوئلے کے مشہور علاقے ہیں۔ گوداوری مہادندی، سون اور واردھاکی وادیاں بھی کوئلے کے ذخائر سے پر ہیں۔ تیسرے درجے کا کوئلہ شمالی مشرقی ریاستوںمیگھالیہ، آسام، اروناچل پردیش اور نا گالینڈ وغیرہ میں پایا جاتاہے۔ یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ کوئلہ ایک حجم دھات ہے۔ جو استعمال کے بعد بھی اپناوزن رکھتا ہے۔ اس لیے بڑی بڑی صنعتیں اور تھرمل پاور کوئلے کی کانوں کے آس پاس ہوتے ہیں۔
پٹرولیم
پٹرولیم یا معدنی تیل ہندوستان میں کوئلے کے بعد دوسرا توانائی کا منبع ہے۔یہ روشنی اور حرارت کے لیے ایندھن اور مشنری آلات کے لیے گریس (چکنائی)اور صنعتی کل کارخانے کے لیے کچا معدنیات فراہم کرتا ہے۔ پیڑولیم ریفائنری، مصنوعی ٹیکسٹائل، کیمیائی کھاد اور کیمیائی صنعتوں کے لیے ایک ’’نوڈل انڈسڑی‘‘ کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔
ہندوستان میں زیادہ تر پٹرولیم کے وقوعات چٹانوں کی تشکیل کے Tertiary ageمیں Anticlineاور Fault trapسے جڑے ہیں۔Foldingکے علاقوں میں (Domes / Anticline)یہ وہاں واقع ہوتا ہے جہاں تیل up foldکی چوٹی میں جکڑا ہوتا ہے۔
ممبئی ہائی،گجرات اور آسام ہندوستان کے سب سے زیادہ پٹرولیم پیداکرنے والے علاقے ہیں۔ نقشے سے مغربی ہندوستان کے تین اہم میدان کو متعین کیجیے۔ انکلیشور (گجرات) کا ایک اہم پٹرولیم کا علاقہ ہے۔ آسام ہندوستان کا سب سے قدیم صوبہ ہے جو تیل پیدا کرتا آرہا ہے۔ ڈگبوئی، ناہرکٹیا اور مارن ہوگری جان —اس صوبہ کے اہم تیل کے میدان ہیں۔
قدرتی گیس
قدرتی گیس ایک اہم صاف ستھری توانائی کا وسیلہ ہے جو پیٹرولیم کے ساتھ ساتھ یا اس کے بغیر بھی پایا جاتاہے۔ یہ ایک توانائی کے ذریعہ کے طور پر استعمال کیاجاتاہے۔ ساتھ ہی پیٹروکیمکل صنعتوں کے لیے صنعتی خام مال کے طور پر استعمال ہوتاہے۔قدرتی گیس کو ایک ماحولیاتی دوست کی حیثیت سے تصور کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ اس گیس سے کاربن ڈائی آکسائڈ کی بہت کم مقدار نکلتی ہے۔ اسی لیے یہ موجود ہ صدی کا ایندھن بھی ہے۔
قدرتی گیس کا بڑا ذخیرہ کرشنا۔ گوداوری کے وادی میں ملا ہے۔ مغربی سواحل کے ساتھ ممبئی ہائی اور اس سے متعلقہ میدان کا تتمہ کیمبے کی خلیج ہے۔ انڈمان اورنکوبار کے جزیر ے بھی قدرتی گیس کے بڑے وسائل تسلیم کیے گئے ہیں۔
1700 کلومیٹر لمبا ہزیرا، بیجا پور، جگدیش پور عبور گیس پائپ لائن ممبئی ہائی اور بسینن کی اور شمال اور مغربی ہندوستان کو کیمیائی کھاد،توانائی اور صنعتی مرکبات کے ساتھ جوڑتی ہے۔ اس لائن نے ہندوستان کی گیس پیداوار کو ایک قوت فراہم کی ہے۔ بجلی اور کیمیائی صنعتیںقدرتی گیس کو سب سے زیادہ استعمال کرنے والی اکائیاں ہیں۔
رقیق ایندھن کے بدلے گاڑیوں کوچلانے کے لیے سی این جی (CNG) کااستعمال ملک میںبہت مقبول ہوتاجارہا ہے۔
بجلی
آج کی دنیا میں بجلی کا استعمال اتنا ہوگیا ہے کہ اس کا فی کس خرچ ترقی کا نشاں سمجھا جانے لگا ہے۔ بجلی عام طور سے دو طریقوں سے پیدا کی جاتی ہے۔پہلا —پانی کو ہائیڈروٹربائنوں پر تیزی سے ڈالا جاتا جس سے وہ گھومتی ہیں اور اس عمل سے ہائیڈرو بجلی پیدا ہوتی ہے۔ دیگر ایندھن جیسے کوئلہ، پڑولیم اور نیچرل گیس کوٹربائنوں پر چلا کر۔ اس عمل سے حراتی یا تھرمل بجلی پیدا ہوتی ہے۔دونوں طرح کی بجلی یکساں ہوتی ہے۔
سرگرمی
چنددریائی وادی پروجیکٹوں یا منصوبوں کے نام بتائیے اور ان دریائوں پر بنائے گئے بندوں کے نام لکھیے۔

آبی بجلی :
ہائیڈرو بجلی پانی کے تیز رفتار سے حاصل کی جاتی ہے۔ یہ قابل تجدید ذریعہ ہے۔ہندوستان، بیشمار کثیر الجہات منصوبے جیسے بھاکرانانگل، دامودر گھاٹی کا رپوریشن، کو پھیلی ہائیڈروپروجکٹ وغیر ہائیڈرو بجلی پیدا کرنے کے لیے عمل میں لاچکا ہے۔
حرارتی یا تھرمل بجلی:
تھرمل بجلی کوئلہ، پڑولیم اور نیچرل گیس وغیرہ کا استعمال کرکے پیدا کی جاتی ہے۔ تھرمل پاؤر اسٹیشن بجلی پیدا کرنے کا ناقابل تجدید ذریعہ سمجھا جاتاہے۔ ہندوستان میں تقریباً 310تھرمل پاور پلانٹس ہیں۔
اپنی ریاست کے ایک حرارتی بجلی اسٹیشن کی شناخت کیجیے اور اس میں استعمال ہونے والی ایندھن کا نام بتائیے۔
نیو کلیائی یا ایٹمی توانائی
نیوکلیائی یا ایٹمی توانائی ایٹم کی ساخت میں تبدیل کرکے پیدا کی جاتی ہے۔ جب اس طرح کی تبدیلی کیمیائی ہے تو بہت زیادہ توانائی حرارت کی شکل میں پیدا ہوتی ہے جس کا استعمال بجلی توانائی کو پیدا کرنے میں کیا جاتا ہے۔ یورینیم اور تھوریم جو کہ جھار کھنڈ اور راجستھان کے اراولی سلسلے میں پائے جاتے ہیں، اس کا استعمال ایٹمی اور نیوکلیائی توانائی پیدا کرنے کے لیے کیاجاتا ہے۔ کیرل کا موناذائٹ سینڈ بھی تھوریم سے بہت مالا مال ہے۔
چھ نیوکلیائی توانائی کے مرکزوں کی نشان دہی کیجیے اور ان ریاستوں کے نام معلوم کیجیے جہاں یہ واقع ہیں۔
توانائی کے غیر روایتی وسائل
توانائی کے بڑھتے ہوئے خرچ کے نتائج ا س طرح ملک میں سامنے آئے ہیں کہ معدنی ایندھن مثلاً کوئلہ، تیل اور گیس پر انحصار زیادہ ہوگیا ہے۔ تیل، گیس اور اس کی قلت کے امکانات نے مستقبل میں توانائی سپلائی کے تحفظ کے بارے میں غیر یقینی کو بڑھا دیا ہے۔ جس کا قومی معیشت پر ایک خطرناک عکس پڑا ہے۔اس کے علاوہ معدنی ایندھن کا بڑھتا استعمال بھی خطرناک ماحولیاتی مصیبتیں پیدا کررہا ہے۔ اس لیے اب مجبوری اور ضرورت ہے کہ قابل تجدید توانائی کے ذرائع جیسے شمسی توانائی، ہوا، مدوجزر اور بایوماس اور سڑے گلے مادے سے کام چلا یاجائے۔ اس طرح کے ذرائع ’’غیر روایتی توانائی کے ذرائع‘‘ کہے جاتے ہیں۔
ہندوستان کو وافر مقدار میں سورج کی روشنی، پانی، ہوا اور بایوماس وغیرہ قدرت سے ملا ہے۔ اس لے ہندوستان ان قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو استعمال کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر پروگرام بنا چکا ہے۔
شمسی توانائی
ہندوستان ایک گرم ملک ہے۔ اس کے پاس شمسی توانائی کو حاصل کرنے کے بہت امکانات ہیں۔ فوٹو والٹائیک ٹیکنالوجی سورج کی روشنی کو بالواسطہ طور پر بجلی میں تبدیل کردیتے ہیں۔ شمسی توانائی شہری اور دوردراز کے علاقوں میں بڑی تیزی کے ساتھ مقبول ہوتا جارہا ہے۔کچھ بڑے شمسی پلانٹ ہندوستان کے مختلف جگہوں پر واقع ہیں۔جہاں شمسی توانائی کا استعمال دودھ کے برتنوں یا ڈبوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ایسی امید ہے کہ شمسی توانائی کا استعمال دیہی عوام کے ایندھن کی لکڑی اور مویشوں کے گوبر پر انحصار کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ اور پھر یہ ماحولیاتی تحفظ اور زراعت کے لیے کھادوں کی سپلائی میں بھی اپنا تعاون دے گا۔

شکل5.11 : دودھ کی جانچ کرنے کا شمسی توانائی سے چلنے والا سازوسامان
ہوائی توانائی
ہندوستان نے ہوائی سپر پاور کا درجہ حاصل کرلیا ہے۔ہوائی توانائی کی سب سے بڑی فارموں کی تعداد تمل ناڈو میں ناگر کوئل سے مدورائی تک ہے۔ ان کے علاوہ آندھرا پردیش، کرناٹک، گجرات، کیرل مہاراشٹر اور لکشدیپ میں بھی ہوائی مل فارم ہیں۔ناگر کوائیل اور جیسلیمر ملک میں پر اثر ہوائی توانائی کے استعمال کے لیے جانے جاتے ہیں۔

شکل 5.13 : ہوائی مل ناگر کوائل
بایوگیس
جھاڑیوں، کھیتوں کا فُضلہ، جانور انسانوں کی غلاظت دیہی علاقوں میں گھریلو خرچ کے لیے بایوگیس کے پیداوار کے لیے استعمال کیا جاتاہے۔ نامیاتی اجزا کے سڑگل جانے سے گیس پیدا ہوتی ہے جس میں مٹی کے تیل اپکوں اور لکڑی کے کوئلے سے زیادہ حرارات ہوتی ہے۔ بایوگیس کے پلانٹ میونسپل، کو اپریٹیو اورانفرادی سطح پر قائم کے جا رہے ہیں۔ جو پلانٹ ہندوستانی مویشیوں کے گوبر کا استعمال کرتے ہیں انہیں ’گوبر گیس پلانٹ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ پلانٹ کسانوں کو دو طرح کے فائدے پہنچا رہے ہیں۔ پہلا فائدہ توانائی کی شکل میں اور دوسرا فائدہ بہتر قسم کی کھاد کی شکل میں۔ بایوگیس مویشیوں کے گوبر کا سب سے اچھا استعمال ہے۔یہ کھاد کی کوائلٹی کو بہتر کرتی ہے اور درختوںاور کھادوں کو ضائع ہونے سے بھی بچاتی ہے کیونکہ لکڑی اور گوبرایندھن کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیںاور اس طرح ضائع کرتے ہیں۔

شکل 5.14 : بایو گیس کا پلانٹ
سمندری اتار چڑھاؤ اور لہروں سے حاصل شدہ توانائی
بحری مدوجزر کو بھی بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بند پھاٹک باندھ پانی کی گذرگاہ پرباندھے جاتے ہیں۔ پانی کے مد کے دوران جب پانی گذرگاہ میں داخل ہوجاتا ہے تو دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ جب مد بند پھاٹک کے باہر گرتا ہے تو اس کے ذریعہ روکا ہوا پانی ایک پائپ جو اسے توانائی پید اکرنے والے ٹربائنوں کے ذریعہ پہنچاتاہے۔پھر سمندر میں واپس لے جاتا ہے۔
ہندوستان میں کچھّ کی خلیج مدوجرز کے ذریعہ توانائی حاصل کرنے کے لیے بہت موافق ہے۔ نیشنل ہائیڈرو پاور کا رپوریشن نے تقریباً 900 میگاواٹ مدوجزر کے ذریعہ توانائی حاصل کرنے کے لیے ایک پلانٹ یہاںقائم کیا ہے۔
ارضی حرارت کے ذریعہ توانائی
ارضی حرارت کے ذریعہ توانائی کا مطلب اس حرارت اور بجلی سے ہے جو زمین کے اندرونی حصہ کی حرارت کے استعمال کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے۔ زمین کے اندر تھرمل توانائی اس لیے موجود ہے کہ زمین گرم سے گرم ترہوتی جاتی ہے۔ جو ں جوں ہم اس کی گہرائی کی طرف بڑھتے ہیں۔ ارضی حرارت بتدریج زیادہ ہوتی جاتی ہے۔
اتھلی گہرائی میں بھی حرارت زیادہ ہوتی ہے۔ ان علاقوں میں زمین کا پانی چٹانوں سے حرارت جذب کرلیتا ہے اور گرم ہوجاتا ہے۔ یہ اتنا گرم ہوتا ہے کہ جب یہ زمین کی سطح پر آتا ہے تو بھاپ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یہ بھاپ ٹربائنوں کو چلانے اور بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
ہندوستان میں کئی ہزار گرم جھرنے ہیں۔ جن کا استعمال بجلی پیدا کرنے کے لیے ہوسکتا ہے۔ تجرباتی طور پر ہندوستان میں کچھ پروجیکٹ ارضی حرارت کے ذریعہ توانائی حاصل کرنے کے مقصد سے قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں ایک پارونی وادی میں جو ہماچل پردیش میں منی کرن کے نزدیک ہے، واقع ہے اوردوسرا لداخ کے پوگا وادی میں ہے۔
توانائی کے ذرائع کا تحفظ
توانائی اقتصادی ترقی کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔ قومی معیشت کاہر ایک سیکٹر زراعت، صنعت، حمل ونقل، تجارتی اور گھریلو سیکٹر کو توانائی کی درآید کی ضرورت ہے۔ اقتصادی ترقیاتی منصوبے جو آزادی کے وقت سے نافذ کیے گئے، لازمی طور سے ان میں توانائی کی مقدار میں اضافہ کو مزید جاری رکھنے پر زور دیاگیا۔ جس کے نتیجے میں توانائی کا خرچ تمام شکلوں میں ملکی سطح پربرابر بڑھتا رہاہے۔
اس پس منظر میں توانائی کی ترقی کو پائیداری کی راہ پرلانے کی فوری ضرورت ہے۔ توانائی کے تحفظ کو ترقی دینا اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو بڑھانا،دوام پذیر توانائی کو باقی رکھنے کے لائحہ عمل میں شامل ہے۔
ہندوستان ابھی پوری دنیا میںسب سے کم توانائی والے ممالک میں ہے۔ ہمیں ایک محتاط طریقۂ کار اپنانا چاہیے تاکہ محدود توانائی کے ذرائع کا استعمال دانشمندی سے کرسکیں۔ بطور مثال ہم ایک فکر مند شہری ہونے کی حیثیت سے اپنی انفرادی سواری کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرسکتے ہیں یا پھر بجلی کا سوئچ بند کر سکتے ہیں جب اس کا استعمال نہیں ہو رہا ہو یا پھر توانائی بچانے والی دوسری تدبیروں کا بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ یا توانائی کے غیر روایتی ذرائع کا بھی استعمال کرسکتے ہیں۔بالآ خریہ کہہ سکتے ہیں کہ توانائی کا بچاناہی توانائی پیدا کرنا ہے۔
مشقیں
1۔ کثیر اختیاراتی سوالات
(i) مندرجہ ذیل میں سے کون سی دھات چٹانوں کے گلنے اور سڑنے سے بنتی ہے اور ایک فرسودہ مادہ کا تودہ چھوڑ جاتی ہے؟
(a) کوئلہ (b) باکسائٹ (c) سونا (d) جستہ
(ii) جھارکھنڈ میں ’کوڈرما‘ کے مقام پر مندرجہ ذیل میں سے کون سی دھات بڑی مقدار میں پیدا ہوتی ہے؟
(a) باکسائٹ (b) ابرق (c) خام لوہا (d) تانبہ
(iii) مندرجہ ذیل میں سے کن چٹانوں کی پرتوں میں دھاتیں جمع ہوجاتی ہیں؟
(a) رسوبی چٹانیں (b) حرارت اور دبائو سے بنی چٹانیں
(c) آتش فشانی چٹانیں (d) ان میں سے کوئی نہیں
(iv) مندرجہ ذیل میں سے کون سی دھات مونا زائٹ (MONAZITE)ریت میں موجود ہوتی ہے؟
(a) تیل (b) یورینیم (c) تھوریم (d) کوئلہ
2۔ مندرجہ ذیل میں سے ہر سوال کا جواب تقریباً 30لفظوں میں دیجیے۔
(i) مندرجہ ذیل کے درمیان تقریباً 30الفاظ کے اندر امتیاز کیجیے یعنی فرق بتائیے۔
(a) آ ہنی اور غیر آ ہنی معدنیات
(b) توانائی کے روایتی اور غیر روایتی وسائل
(ii) معدن کیا ہوتی ہے؟
(iii) آتش فشانی اور پرت دار چٹانوں میں معدنیات کس طرح بن جاتی ہیں؟
(iv) ہمیں معدنی وسائل کے تحفظ کی کیا ضرورت ہے؟
3۔ مندرجہ ذیل سوالوں کے جوابات تقریباً120الفاظ میں دیجیے۔
(i) ہندوستان میں کوئلہ کی تقسیم بیان کیجیے۔
(ii) آپ کے خیال میں شمسی (سورج کی) توانائی کا مستقبل ہندوستان میں کیوں روشن ہے؟

عملی کام
مندرجہ ذیل صحیح معدن کا نام معمہ میں بھریے (نام ا نگریزی میں بھریں)
بائیں سے دا ئیں
1۔ آہنی معدن (9)
2۔ سیمنٹ کی صنعت کے لیے خام مال (9)
3۔ بہترین کچا لوہا جس میں مقناطیسی خوبیاں ہوتی ہیں(9)
4۔ سب سے عمدہ سخت کوئلہ(10)
5۔ الومینیم اس کچی دھات سے حاصل کیا جاتا ہے(7)
6۔ کھیتری کی کانیں اس دھات کے لیے مشہور ہیں (6)
7۔ تبخیر کی وجہ سے بنتی ہے۔(6)
